2019سے پہلے


نایاب حسن
تقریروں کی حد تک کانگریس کا 84؍واں پلینری سیشن کامیاب جارہاہے،راہل گاندھی نے لگ بھگ گھنٹہ بھر کی تقریر کی شروعات ہی کورواور پانڈوکے تاریخی اساطیری حوالے سے کی اور جہاں کانگریس کو سچائی کی خاطر لڑنے والی جماعت بتاتے ہوئے پانڈوقرار دیا،وہیں بی جے پی کوطاقت اور سلطنت کے لیے لڑنے والی پارٹی قرار دیتے ہوئے کورووں سے تشبیہ دی،ان کی تقریر میں اقتصادیات،خارجہ پالیسی،مودی اور امیت شاہ کی شخصیت ؛سب زیر بحث آئیں اور انھوں نے کانگریس کارکنان کے جم غفیر کے سامنے بی جے پی کی خوب خبر لی،راہل کے علاوہ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ،پی چدمبرم،ششی تھرور،آنندشرمااور نوجوت سنگھ سدھووغیرہ کی تقریریں بھی خاصی دلچسپ رہیں ،البتہ سوشل میڈیامیں سدھو اپنے پرمزاح اور شاعرانہ اندازِ تخاطب کی وجہ سے چرچے میں ہیں ،جبکہ الیکٹرانک میڈیاکے سرکاری کارندے راہل گاندھی کی تقریر کے نکات و مشمولات پر مباحثے کے لیے ٹاک شوز کیے جارہے ہیں،راہل کی تقریر کے تعلق سے وزیر دفاع نرملا سیتارمن کا ’’سمپل‘‘تاثریہ ہے کہ ان کے بول ایک شکست خوردہ سیاست داں کی بڑہیں،گویاوہ اب تک2014کی بے مثال فتح کے سحر میں گرفتارہیں اور بعدمیں جو کچھ ہوایا ابھی چند دن قبل کے یوپی،بہار کے ضمنی انتخابات کے جو نتائج سامنے آئے ،وہ ان کے لیے یا ان کی پارٹی کے لیے قابلِ اعتنانہیں ہیں۔
عام طورپر یہ سمجھا جارہاہے کہ کانگریس کا انٹرنیشنل سطح کا یہ اجلاس اگلے سال متوقع عام انتخابات کی تیاری کی تمہید ہے اوراس کے بعد کانگریس منظم طورپر آنے والے الیکشن میں کامیابی کے لیے مضبوط لائحۂ عمل اور ٹھوس منصوبہ بندی کے ساتھ سرگرمِ عمل ہوگی۔اس اجلاس میں ہندوستان کے طول و عرض کے علاوہ بیرونِ ملک مقیم کانگریسی کارکنان نے بھی شرکت کی ہے اورسب کی موجودگی میں آیندہ کا خاکہ بنناہے۔یہ ایک حقیقت ہے اوراس پر خود کانگریس ہائی کمان کی بھی توجہ ہوگی کہ زمینی سطح پر کانگریس کی پکڑ حالیہ برسوں میں لگاتار ڈھیلی پڑتی گئی ہے،جبکہ اس کے بالمقابل بی جے پی آرایس ایس کے سہارے ہی سہی ملک کے دوردراز علاقوں میں بھی اپنے قدم جمانے میں کامیاب رہی یا اس کی مسلسل کوشش کررہی ہے،اس کے نتائج بھی ہمارے سامنے آرہے ہیں کہ بعض ایسی ریاستوں میں بھی بی جے پی کوانتخابی کامیابی مل رہی ہے،جہاں برسوں سے کانگریس یا بایاں محاذ برسرِ اقتداررہاہے،کانگریس بنیادی طورپر طبقۂ اشرافیہ کی پارٹی بن گئی ہے،جہاں مڈل کلاس یااس سے نیچے کے لوگوں کابارپانا مشکل ہے،سونیاگاندھی نے اپنی سربراہی کے ابتدائی دنوں میں اس کے ڈھانچے کوبہترکیاتھا،جس کا فائدہ بھی ملا،مگر پھر بہ تدریج پارٹی اُسی شان وشوکت والے مزاج میں ڈھل گئی،اب پھرکانگریس کی مرکزی قیادت میں تبدیلی ہوئی ہے اور راہل گاندھی کو زمامِ صدارت ملی ہے،جنھوں نے الیکشنز کے بہانے ہی سہی نائب صدر رہتے ہوئے ملک کے مغرب سے لے کر مشرق اور شمال سے جنوب تک کا سفرکیا،تمام طبقات کے لوگوں سے ملے،ان کے مزاج،مسائل و مشکلات اور ان کی ضروریات و احساسات و مزاج کو سمجھا اور جاناہے،تو امید کی جانی چاہیے کہ وہ کانگریس کوحقیقی معنوں میں ایک ہمہ گیر وہمہ جہت جماعت بنانے کی کوشش کریں گے اور اندرونی طبقاتی کشمکش سے جماعت کو دور رکھیں گے۔
ایک دوسری اہم ضرورت کانگریس کی بھی اور ملک بھر کے شہریوں کی یہ ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں چند مشترکہ نکات کو بنیادبناکر ایک عظیم اتحاد کے قیام کے لیے ابھی سے کوشش کریں،اس وقت اس کے لیے ماحول بھی نہایت موزوں ہے اور گورکھپوروپھول پورکے لوک سبھاضمنی انتخاب میں ایس پی و بی ایس پی جیسی کٹر مخالف پارٹیوں نے اتحاد قائم کرکے بی جے پی کو کراری شکست سے دوچار کیاہے،جس کی وجہ سے سنجیدہ سیاسی حلقوں ،میڈیااور عوام کے مابین بھی نئے سیاسی انقلاب پر چرچاہونے لگی ہے،ابھی کل ہی این ڈی اے میں شامل لوک جن شکتی پارٹی کے سربراہ اور مرکزی وزیررام ولاس پاسوان نے پٹنہ میں پریس کانفرنس کے دوران بی جے پی کے انتہاپسندانہ نظریۂ سیاست پر کھل کر تنقید کرتے ہوئے اس کے مسلم مخالف رویے کی واضح نشان دہی کی ہے،جبکہ دوسری طرف ممبئی،شیواجی پارک میں پارٹی کارکنان کی ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ایم این ایس سربراہ راج ٹھاکرے نے بھی نہ صرف حسبِ معمول مودی اور مودی حکومت پر جم کر نشانہ سادھا؛بلکہ انھوں نے اآنے والے الیکشن میں ’’مودی مکت بھارت‘‘بنانے کا نعرہ دیتے ہوئے انھوں نے مودی کے جھوٹے وعدوں اور سرکار کی ناکامیوں پر کھل کر تنقید کی ،ساتھ ہی تمام اپوزیشن پارٹیوں سے اپیل کی کہ وہ 2019کے عام انتخابات میں ایک اتحاد قائم کرکے ملک کے لیے قطعی نقصان دہ بی جے پی کو حکومت سے بے دخل کرنے کی تیاری کریں ۔مختلف علاقائی سیاسی جماعتوں کے علاوہ خود بعض وہ جماعتیں (مثلاً شیوسینا،تیلگودیشم پارٹی)بھی بی جے پی سے نالاں ہیں،جنھوں نے 2014میں بی جے پی سے ہاتھ ملاکر این ڈی اے میں شمولیت اختیار کی تھی ۔کانگریس چوں کہ بی جے پی کے مقابلے میں واحد قومی سطح کی سیاسی جماعت ہے؛لہذااگلے عام انتخابات سے قبل سیکولر اتحاد کی تشکیل کے سلسلے میں پیش قدمی اسے ہی کرنا چاہیے،بہ ظاہر اپوزیشن کا اتحاد ہی 2019میں مودی رتھ کی راہ میں روڑابن سکتا ہے،ورنہ اگر 2014والی حالت رہی اور اپوزیشن پارٹیاں اپنے اپنے ذاتی مفادات واغراض پر اڑی رہیں،تو ایک بارپھر سیکولر ووٹوں کا انتشار ہوگا اور بی جے پی اپنے مخصوص فرقہ وارانہ ایجنڈے کوکیش کرانے میں کامیاب ہوجائے گی،جس کی تیاری میں وہ مصروف بھی ہوچکی ہے اور جہاں ایک طرف حسبِ روایت بابری مسجد۔رام جنم بھومی کا انتخابی ایشواسے ہم دست ہے،وہیں ملک کے مختلف خطوں میں مختلف حوالوں سے فرقہ وارانہ فسادات کی چنگاریاں بھڑکانے کا عمل بھی شروع کیا جاچکاہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *