مولانا سلمان ندوی کی خدمت میں چندمعروضات

نجم الہدیٰ ثانی
حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی صاحب کا ایک ویڈیو کل دیررات سنا۔ اس ویڈیومیں مولانا موصوف نے تین اہم باتیں کہی ہیں۔
پہلی بات مولانا نے یہ فرمائی ہے کہ قضیۂ بابری مسجد کے متعلق مسلم پرسنل لاء بورڈ کی طرح وہ بھی عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کا انتظارکریں گے۔
مجھے یہ سن کرغالب کا یہ شعر یاد آگیا کہ:
کی مرے قتل کے بعد اُس نے جفا سے توبہ
ہائے اُس زودپشیماں کا پشیماں ہونا!
کاش، اس مسئلے کے حل کے لئے مولانا نے جو کو ششیں پوری نیک نیتی سے کی تھیں ان کے متعلق وہ مزیدغوروفکرفرمالیتے تو ان بہت سی تلخیوں سے بچا جاسکتا تھا جو اس سلسلے میں پیدا ہوئیں۔ خاص کرآج جن دوبزرگوں کی پریشانیوں کو دیکھ کروہ اس قضیے کو اپنے ایجنڈے سے خارج کررہے ہیں کم از کم وہ ان دونوں سے ہی مشورہ کرلیتے! ایسا نہ ہوسکا اوراس کے نتیجے میں آپس میں جو پگڑیاں اچھالی گئیں اس نے کوئی اچھا منظر پیش نہیں کیا۔
دوسری بات مولانا نے یہ فرمائی ہے کہ ‘فلاحِ انسانیت بورڈ’ کے نام سے ایک ایسا بورڈ بنانے کا کام چل رہا ہے،جس میں ہندوستان کے تمام مذاہب کے ماننے والے،خاص کران کے مذہبی رہنماشامل ہوں گے۔ مولانا کے مطابق اس نوعیت کا بورڈ اس سے پہلے ملک میں کبھی نہیں بنا یا گیا ہے۔
یہ بہت ہی خوش آئند خبر ہے۔ یہ وہ محاذ ہے جو پوری طرح خالی ہے۔ اس کی ضرورت کل بھی تھی اورآج تو اس کی ضرورت ہمیشہ سے زیادہ ہے۔ ملک میں جس فرقہ واریت اوربرہمنیت کو ‘نارملائز’ کرنے کی کوششیں چل رہی ہیں اس کے لئے انھیں ہندو-مسلم مسئلہ کے بجائے ملک کی سالمیت اورامن و انصاف کی لڑائی کے وسیع ترایجنڈے سے جوڑ کر دیکھنا ہوگا۔ ہم سب کو اس قسم کی کسی بھی کوشش میں شریک ہونا چاہئے اورمولانا کی آواز میں آواز ملانا چاہئے۔
لیکن یہاں ذرارک کر مولانا محترم کی خدمت میں ایک بات عرض کرنے کوجی چاہ رہا ہے۔ مولانا کا نام ماضی میں بھی کئی بڑے کاموں اور’منچوں’ سے جڑارہاہے۔آج کل ان کی باتوں میں جو دھیماپن نظرآرہا ہے وہ کم از کم ان کا تعارف نہیں ہے۔ ان کا تعارف ایک ایسے شعلہ بیاں مقررکا رہاہے جو اپنی طلاقتِ لسانی اورجذبے کی فراوانی سے سامعین کے دلوں کو گرماتا ہے اور کچھ دیر کے لئے ہی سہی ان کو جذبۂ عمل سے سرشارکردیتا ہے۔ کسی ایک محاذپرخاموشی سے کام کرنا ، گستاخی معاف، مولانا کا تعارف نہیں ہے۔
جس مجوزہ بورڈ کے قیام کے لئے ابھی وہ سرگرم ہیں وہ بہت ریاض کا طالب ہے۔ اس میں جوش کےبجائے ہوش مندی اورعجلت کے بجائےمنصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ یہاں سرگرمیوں کی تشہیر سے زیادہ دلوں کی تسخیر کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں مولانا موصوف کو ان لوگوں کے تجربات سے فائدہ اٹھا نا چاہئے جو انفرادی یا اجتماعی سطح پراس قسم کی کوششوں میں مصروف ہیں۔مولانا چاہتے ہیں کہ ہندوستانی مسلمان بے چین نہ ہوں اوراپنا بلڈ پریشر کم کریں۔ اب کوئی بتائے تو بتائے کہ ماضی قریب تک ان بے چاروں کے ہائی بلڈپریشرمیں ان کی شعلہ بار تقریروں کا حصہ بھی ہے یانہیں؟ اورشاید،اس مرض میں مریض اورحکیم دونوں برابر شریک ہیں۔
تیسری اورآخری بات جو مولانا نے اپنے ویڈیومیں بیان فرمائی ہے،وہ مسلم پرسنل لابورڈ میں اصلاحات کی بات ہے۔ مولانا نے اس کے لئے ‘تطہیر’ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ اسے سن کرمیرا ذہن فوراً انگریزی لفظ ‘پرج’ اورکمیونسٹ ملکوں میں اس کے ہولناک نتائج کی طرف گیا۔ اس لفظ سے ان کی مراد کیا تھی وہ بھی انہوں نے واضح کردیا ہے۔ بورڈ سے ان کا مطالبہ ہے کہ وہ جناب اسد الدین اویسی صاحب، جناب کمال فاروقی صاحب، جناب قاسم رسول الیاس صاحب، اورجناب یوسف حاتم مچھالا صاحب کو بورڈ سے خارج کردیں۔یہاں انہوں نے ایک ایسا جملہ بھی کہا ہے جسے میں پوری طرح سمجھنے سے قاصرہوں۔ مولانا فرماتے ہیں” جن کا عقیدۂ رسالت اورنبوت قابلِ قبول نہیں ہے”۔ کیا یہ ان چاروں حضرات سے متعلق ہے یا صرف کسی ایک سے؟ احبا ب رہنمائی فرمائیں۔
جہاں تک بورڈ کے کام کاج اورپالیسیوں پرتعمیری تنقید کا سوال ہے، تو وہ آج ہی کیا کل بھی ضروری ہے۔ آج اگرکچھ لوگوں کی یہ شکایت ہے کہ کچھ افراد بورڈ کے مختارِ کل بن بیٹھے ہیں،تو اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہماری جماعتوں اورتنظیموں میں،الا ماشاء اللہ،اپنی سرگرمیوں کا جائزہ لے کرذمہ داران سے سوال اوران کے احتساب کا کوئی مزاج ہی نہیں۔ طرفہ تماشہ یہ ہے کہ اسے بے ادبی اوربزرگوں کی شان میں گستاخی سمجھا جاتا ہے۔ کون ہے جو اس کی اصل اوربنیادی وجہ سے واقف نہیں ہوگا ؟ اس کی وجہ وہی شخصیت پرستی کا مزمن مرض ہے جو اس طرح کے زندگی بخش عمل کو سم قاتل سمجھتا ہے۔ مولانا کی یہ بات صحیح ہے۔ مگرتعجب نہیں کہ بورڈ کے ذمہ داران یا ان کے با اثرحضرات کے کانوں پرجوں تک نہ رینگے۔
اگرغورکیجئے تو یہ ایک مضحکہ خیز صورت حال ہے۔ کیوں کہ ایک جانب بورڈ یہ دعویٰ دہراتے ہوئے تھکتا نہیں ہے کہ وہ ہندوستانی مسلمانوں کی واحد نمائندہ تنظیم ہے۔ لیکن دوسری جانب اگرکسی نے اس کے کسی فیصلے اورپالیسی کے متعلق کوئی سوال کرلیا، تووہ فوراً نکو بن جاتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک ‘وزنی’دلیل تو خود اس بورڈ کابنیادی کردار ہے جو مذہبی ہے۔ کسی مذہبی مقتدرہ سے سوال کرنے کی ہمت یوں بھی کتنے لوگوں میں ہوتی ہے؟ لیکن اس سے دلچسپ بات وہ رویہ ہے جو ان حضرات نے عوام کے ذہنوں میں راسخ کردیا ہے کہ علماکی کسی تنظیم اورجمعیت کے متعلق سوال جواب نہیں کرنا چاہئے بلکہ عوام کا کام ان کی اطاعت ہے۔ اب ظاہر ہے ان کے پاس مذہب کا علم ہےاورعلم ایک طاقت ہے۔اس طاقت کا استعمال علم سے تہی دست عوام کے خلاف خوب کیاجاتا ہے۔ بقول فراز:
نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں۔
مولانا نے جن لوگوں کو بورڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے اورجن لوگوں نے مولانا کےخلاف دشنام طرازیاں کی ہیں ان کے متعلق مولانانے یہ فرمایا ہے کہ وہ لوگ جلد از جلد توبہ کرلیں ورنہ وہ اس دنیا میں بھی خداکی پکڑ سے بچ پائیں گے اورنہ آخرت میں۔ یہی وہ بیمارذہنیت ہے، وہ علماء پرستی اورشخصیت پرستی کے انڈے بچے دیتی ہے۔ مولانا بورڈ میں جن خرابیوں کے تدارک کی بات کررہےہیں وہ اس وقت تک دورنہیں ہوسکتیں جب تک آزادانہ اظہارِرائے کی فضا قائم نہ کی جائے اوربورڈ کے ذمہ داران اورممبران کی آمد و رفت کے متعلق شفافیت قائم نہ کی جائے۔ ہاں، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مولانا کی کسی بات پرانہیں لعن طعن اوردشنام کا نشانہ بنایا جائے۔ یہ قابلِ مذمت رویہ ہے۔ خواہ اس سرکس میں ان کے مخالفین شریک ہوں یا ان کے مقلدین شرکت فرمائیں۔

One commentto مولانا سلمان ندوی کی خدمت میں چندمعروضات

  1. سعید الرحمن سعدی says:

    ماشاء اللہ
    بے لاگ تبصرہ،عمدہ تحریر
    “میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے”.
    ایک بات معلوم کرنی ہے کہ کیا صاحب تحریر کا وطنی تعلق “مدھوبنی” بہار سے ہے،جو فی الوقت کشن گنج کے ایک تعلیمی ادارے سے وابستہ ہیں؟
    در اصل اسی نام سے موسوم میرے ایک محترم استاذ بھی ہیں،جن سے فی الوقت بد قسمتی سے مربوط نہیں ہوں۔
    اگر کوئی صاحب آگاہ فرمائیں تو نوازش ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *