غالب اکادمی دہلی میں دو شعری مجموعے ــسخن دریا اور خموش لب کی تقریب رسم اجرأـ


نئی دہلی : (پریس ریلیز)
اردو شعروادب کے حوالے سے گزشتہ سنیچر کی شام کا حسن یوں دوبالہ ہو گیا جب غالب اکادمی، بستی حضرت نظام الدین، دہلی میں، دہلی کی ادبی، ثقافتی، سماجی و سا یٔنسی تنظیم، سب رنگ کے زیر اہتمام، شعروادب کی تروتازگی سے بھرپور دو دو کتابوں کی رسم رونمایٔ انجام پزیر ہوی۔ ایک شعری مجموعہ بہ عنوان سخن دریا منفرد لب و لہجہ کے شاعر، ادیب، نثر نگار، مصوّر اور ساینس داں ڈاکٹر عبیدؔالرحمٰن کا تھا تو خموش لب کے عنوان سے دوسرا شعری مجموعہ ، سعودی عرب کے شہر ریاض میں اردو شعروادب کے حوالے سے ہندوستان کا پرچم بلند کر رہے مستند و معتبر شاعر جنا ب ظفر محمود ظفرؔ کا ۔
اس تقریب کی صدار ت، دہلی یونیورسٹی کے اردو کے استاد ، مشہور و معروف ناقد اور شاعر ، محترم پروفیسر عتیق اللہ نے فرمائی جب کہ مہمان ذی وقارکے طورپر ، سابق پروفیسر جامعہ ملّیہ اسلامیہ جناب انیس الرحمٰن اور مہمان خصوصی کے طور پر جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے اردو کے استاد و مشہور فکشن نگار پروفیسر انورؔپاشا نے پروگرام کو وقار بخشا۔ اس پروگرام کی نظامت کے فرایٔض مشہور شاعر جناب شکیل جمالی نے فرمایٔ۔
پروفیسر عتیقؔ اللہ نے اپنے کلیدی صدارتی خطاب میں بہ یک وقت ان دو۔ دو شعری مجموعوں کی رسم اجرأ پر اپنی خوشی کا اظہارکرتے ہو ے ٔ سخن دریا کے شاعر ڈاکٹر عبیدؔالرحمٰن مرحوم کے طبع شدہ دوسرے مجموعوں کے حوالے سے ان کی تخلیقی جہات، ان کے لب و لہجہ کی انفرادیت ، ادب میں سایٔنس اور سایٔنس میں ادب کے امتزاج پر سیر حاصل گفتگو کی اور مرحوم کو دلی خراج عقیدت پیش کیا۔ آپ نے عبیدکے تخلیقی سرماے ٔ پر ایم فل کا کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے علاوہ آپ نے آج کے دوسرے شعری مجمو عے خموش لب میں شامل متعدد اشعار کے حوالے سے فرمایا کہ اس کے خالق ظفر محمود ظفرؔ کا کلام بھی تروتازگی سے بھرپور ہے اور تمام تر شعری محاسن کا عکاس و ترجمان ۔ زبان و بیان سلیس و سادہ لیکن براہ راست دل میں اتر جانے والا۔
پروفیسر انور پاشاؔ صاحب نے کہا کہ ادیب و شاعر کبھی مرتا نہیں ہے، بس وہ پردہ کر لیتا ہے۔ عبیدؔ نے اپنے پیچھے ایسی تخلیقات چھوڑی ہیں جو بشریت کی ترجمان ہیں اور بشریت کبھی ختم نہیں ہوتی لہذا عبیدؔ بھی ہمیشہ ہمارے درمیان زندہ رہینگے۔ خموش لب کی شاعری پر اظہار فرماتے ہوے ٔ آپ نے کہا کہ ظفر محمود نے اپنے جذبات و احساسات، زندگی کی آشوبیت اسکی قدروں اور فلسفے کو بڑی آسانی سے شعری جاما پہنایا ہے، استعارے و کناے ٔ کے بہترین استعمال کے ساتھ آپ نے بھرپور شاعری کی ہے خموش لب میں ادق بحور سے پرہیز کیا گیا ہے اور سہل ممتنہ میں گفتگو کی گئی ہے جو ایک مشکل فن ہے جس میں ظفرؔ پوری طرح کامیاب ہیں۔ ان کا سفر جاری ہے اور ہمیں امید ہے کہ آنے والے وقتوں میں ان کے قلم سے اردو شاعری کے ذخیرے میں مزید اضافہ ہوگا۔ ادارۂ سب رنگ کے سرپرست پروفیسر انیس الرحمن اپنے برادرِ خُورد عبید الرحمن کے بارے میں گفتگو کرتے ہوے ٔ اسقدر جزباتی ہو گے ٔ کے ان کے ساتھ ساری آنکھیں نم ہو گیٔں۔ آپ نے اپنے گھر، اپنے وطن کے ادبی ماحول اپنی اور عبید مرحوم کی ادبی زندگی کے آغاز سے لیکر عبید کی زندگی کے آخری ایام تک عبید کی ذات سے متعلق مختلف پہلؤں پر روشنی ڈالی ۔ آپ نے کہا کہ عبید صرف ہمارے درمیان سے جدا ہوے ٔ ہیں حقیقت یہ ہے کہ وہ ہم میں زندہ ہیں اور ہمیشہ زندہ رہینگے۔ ان کی شاعری میں موت اور سفر کا ذکر جا بجا ملتا ہے۔ ان کی یہ کتاب در اصل موت کا فلسفہ ہے جس پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ظفر محمود کی شاعری کے متعلق آپ نے فرمایاکہ ظفر کی شاعری کا سفر جاری ہے۔ کس طرح سے لفظ پیکر بنتا ہے، پیکر استعارہ اور تشبیہ کی شکل اختیار کرتا ہے ظفر اس سے بخوبی واقف ہیں۔ شاعری ہمیشہ سیکھنے کا عمل ہے ظفر نے بہت اچھی شاعری کی ہے میری دعا ہے کہ آنے والے وقتوں میں وہ اور بہتر کلام پیش کرینگے۔ سخن دریا اور خموش لب دونوں کتابوں پر جن دیگرمعزز حضرات نے اپنے تثرات اور خیالات پیش کیٔ ان میں ڈاکٹر ابرؔار رحمانی، پرفیسر شہزاد انجمؔ،پروفیسر مولٰی بخش، پروفیسر کوثرؔ مظہری،پروفیسر مشتاق صدف، جناب مشرف عالم ذوقیؔ، جناب نعمان شوقؔ، جناب اکرام الحق، محترمہ ناظمہ جبیں، ڈاکٹر خالد مبشر کے نام نامی قابل ذکر ہیں۔
علاوہ از ایں، پروگرام میں شہر کے معروف ادبأ اور شعرأ کے ساتھ ساتھ ریسرچ اسکالر و طلبأ نے بھی شرکت فرمایٔ۔ مہمانانِ رسم اجرأ کے اصرا ر پر، خموش لب کے شاعر جناب ظفر محمودؔ نے اپنے شعری کلام سے نوازا جب کے مرحوم ڈاکٹر عبیدالرحمٰن کے فرزند اسید رحمٰن نے ان کی ایک غزل کو اپنی مترنم آواز میں پیش کی۔ اخیر میں ادارۂ سب رنگ کے سیکریٹری نشرواشاعت، ڈاکٹر اختر مسعود نے تمام حاضرین کا شکریہ ادا
کرتے ہوے ٔ پروگرام کے اختتام کا اعلان کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *