سرسید کا نثری اسلوب


عبد الباری قاسمی
جدید اردو نثر کے بانی سرسید احمدخاں کانثری اسلوب انتہائی منفرد،مفید ،خطیبانہ، ناصحانہ ،مفکرانہ ، مبلغانہ سلیس اور سادہ ہے، ان سے پہلے عام طور پرمسجع، مقفیٰ ،رنگین ، پر تصنع اور پر تکلف نثر لکھنے کا رواج تھا اور ایسے ہی مرصع رقم کو باکمال انشاپرداز سمجھا جاتا تھا، مگر سرسید نے سب سے قطع نظر ایک نئی راہ نکالی اور ایک نئے انداز کے نثر کی بنیاد ڈالی ، میر امن اور دیگر قلمکاروں نے بھی ان سے پہلے سادگی اور سلاست کو اختیار کیا تھا ، مگر وہ لوگ روز مرہ کے معمولات اور داستانوں تک ہی منحصر اور محدود رہے، مگر سرسید نے علمی، ادبی ، تاریخی، تنقیدی، سیاسی ، معاشرتی، اخلاقی، اصلاحی، اور مذہبی موضوعات کو نئے نثری اسلوب میں ڈھال کرا ردو میں ایسی مثال قائم کی کہ دنیائے اردو آج بھی سرسید احمد خاں کااحسان مند ہے۔انہوں نے نہ صرف یہ کہ سادگی، سلاست، روانی ، بے تکلفی و بے ساختگی پر اکتفا کیا، بلکہ مدعا نگاری اوراستدلالی نثر کی بنیادبھی ڈالی، وہ جو بھی لکھتے ہیں تو کسی نہ کسی مقصد کے پیش نظر ہی لکھتے ہیں اور ساتھ ساتھ دلیل بھی دیتے ہیں، ان کی تحریروں میں تہہ داری ، تبلیغی و اسلامی جوش، ندرت فکر، مفکرانہ سنجیدگی، اصلاحی جذبہ اور خطیبانہ و ناصحانہ انداز جابجا دیکھا ئی دیتے ہیں ، تحریروں میں عوام و خواص سب سے خطاب کرتے ہیں کہیں ان کا انداز صحافیانہ ہوتا ہے تو کہیں خطیبانہ، ظرافت اور خوش طبعی بھی ان کی تحریروں میں نظر آتی ہے جسے ان کے مضامین ’’بحث و تکرار‘‘ اور ’’طریقۂ تناول طعام‘‘ میں دیکھا جاسکتا ہے، ان کے نثر کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کے یہاں فطری طور پر بہاؤ، سلاست اور سادگی ہے سرسید ہی پہلے وہ شخص ہیں جنہوں نے ایڈیسن وغیرہ مغربی مصنفین سے متاثر ہو کر اردو میں مضمون نگاری کی بنیاد ڈالی،اس کے علاوہ اردو میں سائنٹفک طرز تحریر کی بنیاد بھی سرسید نے ہی ڈالی، ان کے مضامین میں ایک بڑی تعداد فکر انگیز اور دقیق مضامین کی ہے۔ وہ خالص نثر لکھنے کے باوجود محاکات نگاری، تشبیہات و استعارات اورروزمرہ و محاورات کواس انداز سے نثر کا حصۃ بناتے ہیں کہ کہیں کہیں شاعری کی بو آنے لگتی ہے شبلی نعمانی نے سرسید کی انشاپردازی پر ان الفاظ میں ا ظہار خیال کیا ہے کہ ’’سرسیدکی انشا پردازی کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ ہر قسم کے مختلف مضامین پہ کچھ نہ کچھ ، بلکہ بہت کچھ لکھا ہے اور جس مضمون کو لکھا ہے اس اور جس مضمون کو لکھا ہے اس درجہ پنچادیا ہے کہ اس سے بڑھ کر ناممکن ہے‘‘ )۱)
اسلوب: اسلوب انگریزی لفظ Style کا مترادف ہے جولاطینی لفظ اسٹالس سے نکلا ہے، سنسکرت میں اسے ’’sheli‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے، اس کی اہمیت دنیا کی ہر زبان میں ہے بعض حضرات نے اسے آئینہ سے تعبیر کیا ہے ، نصیرالدین احمد خاں نے اسلوب کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے،’’ جو ہر اعتبار سے منفرد ہو، جو ادیب و شاعر کے شخصیت کی مظہر ہو، جو خارجی لسانی پہلووں کے علاوہ فن کار کے انداز بیان، انداز فکر اور انداز تخلیق کی ترجمانی کر سکے‘‘(ٗ۲)آل احمد سرور نے اس طرح تعریف کی ہے’’ واضح خیال کا موضوع الفاظ کا اظہار اسٹائل ہے یا دوسرے الفاظ میں اسٹائل کی موزوں تفصیل ہے‘‘ (۳) ڈاکٹر مشتاق احمد نے لکھنے والے ہی کی شخصیت کے انعکاس کا دوسرا نام اسلوب کو قرار دیا ہے، محقیقن کی تعریفیں کچھ بھی ہوں، مگر اتنا ضرور ہے کہ اسلوب ہی کے ذریعہ ادیب اور اس کے تخلیق کی شناخت ہوتی ہے اور ہر تخلیق کار کا مابہ الامتیاز متعین کیا جاتا ہے۔
تصانیف: سرسید کی نثری زندگی کو تین ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے پہلا دور ابتداء سے 1857ء تک، دوسرا دور 1869ء تک اور تیسرا دور 1898ء تک ہے۔
پہلے دور کی تصانیف : جامِ جم 1840ء (۲)، انتخاب الاخوین 1841ء(۳)جلاء القلوب بذکر المحبوب 1842ء (۴)تحفۂ حسن 1844ء (۵)تسہیل فی جرالثقیل 1844ء(۶) فوائد الافکار 1846ء (۷)آثارالصنادید 1846ء (۸)قول متین درابطال حرکت زمین1848ء (۹) ترجمہ فیصلہ جات صدر مشرق و صدر مغرب 1849ء (۱۰) کلمتہ الحق 1849ء (۱۱) راہ سنت اورر دبدعت 1850ء (۱۲)نمیقہ دربیان تصور شیخ 1852ء (۱۳) سلسلۃ الملوک 1853ء (۱۴) ترجمہ کیمیائے سعادت (۱۵) تاریخ ضلع بجنور 1857ء (۱۶) تصحیح آئین اکبری ۔
دوسرے دور کی تصانیف : (۱) اسباب بغاوت ہند (۲) لائل محمدنز آف انڈیا (۳) رسالہ تحقیق لفظ نصاری (۴) تاریخ فیروز شاہی (۵) تبیین ا لکلام (۶) التماس بخدمت ساکنان ہند (۷) توزک جہاں گیری (۸) رسالہ احکام طعام اہل کتاب (۹)اخبار سین ٹیفک سوسائٹی،(۱۰) تاریخ سرکش�ئ بجنور۔
تیسرے دور کی تصانیف: (ا) مسافران لندن (۲) خطبات احمدیہ (۳) تہذیب الا خلاق، (۴) ہمارے ہندوستانی مسلمان پر ریویو (۵) تفسیر القرآن (۶) النظر (۷) ترمیم فی قصہ اصحاب الکہف و الر قیم (۸) ازا لۃالعین عن ذی القرنین (۹) خلق الانسان (۱۰) الدعا والاستجابتہ (۱۱) تحریر فی اصول التفسیر (۱۲) ابطال غلامی (۱۳) تفسیر الجن والجان (۱۴) سیر ت فریدیہ (۱۵) مکتوبات۔
ادوار کے حساب سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سرسید کے خیالات 1857ء سے قبل کیا تھے اور اس کے بعد انگلستان کے سفر تک کس طرح تھے اور سفر انگلستان، یعنی 1869ء کے بعد کس طرح کے خیالات بنے، اسی حساب سے جائزہ لینا زیادہ موزوں ہوگا،اسی سے سرسید کو بہ آسانی سمجھا جا سکتا ہے۔
سرسید کا نثری اسلوب : سرسید کے نثری اسلوب پر جب بھی گفتگو ہوتی ہے تو ذہن فوراََ سادگی ، بے تکلفی، برجستگی، مدعا نویسی اور سلاست و روانی کی طرف منتقل ہو جاتا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ سرسید مرصع نگاری پر قادر نہیں تھے، بلکہ شاندار ، رنگین نثر لکھتے تھے اس کے کچھ نمونے بھی ہمیں ملتے ہیں اس کے علاوہ ان کے رسائل و کتب تمام کے نام عربی یا فارسی ہیں اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عربی و فارسی پر کیسی گرفت تھی ، یہ اسلوب انہوں نے اس لیے اختیار کیا کہ ان کی بات کہیں صدابصحرانہ ہوجائے بلکہ پڑھتے ہی قلب پر بھی اس کا اثر ہو، سرسید ہی ایسے شخص ہیں جنہوں نے سائنٹفک اور تجزیاتی اسلوب کی بنیاد ڈالی ، ان کے اسلوب کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ ان کے یہاں مضمون اور ہیئت میں آہنگی توملتی ہی ہے ساتھ ساتھ استدلالی اور منطقی بھی ہوتی ہے، اس کے علاوہ تشبیہ و استعارہ، محاکات نگاری اور روزمرہ کے محاورات بھی نظر آتے ہیں، البتہ ان کے یہاں خطیبانہ اسلوب کی مثال سب سے زیادہ ملتی ہے، اسی کے ساتھ ساتھ دردو اثر اور علمیت بھی ان کے اسلوب کا اہم حصہ ہے، انہوں نے تاریخ و جغرافیہ جیسے خشک موضوعات کو بھی اپنی تحریر کا حصہ بنا یا اور اس انداز سے اسے برتا کہ اسے بھی ادب لطیف بنا دیا،،ا ن کی سلاست و سادگی اور برجستگی کا اندازہ لگانے کے لیے ان کے مضمونُ ’امید کی خوشی‘‘ کو پڑھا جاسکتا ہے، بیان کی ایسی سادگی، شادابی، شگفتگی نظر آتی ہے جو دلوں کو موہ لیتی ہے، سرسید پہلے ایسے شخص ہیں جنہوں نے اس قدر موضوعات کو اپنی تحریر کا حصہ بنایا ، ڈاکڑ مشتاق احمد نے اس سلسلے میں لکھا ہے کہ ’’علم و ادب ، تاریخ و تنقید، سیر و تفریح،مذہب وسیاست، تہذیب ومعاشرت، عقل و حکمت، مادیت وروحانیت، مغرب ومشرق، قدیم و جدید کا کوئی ایسا گوشہ نہیں ملتا، جس پر سرسید نے قلم نہ اُٹھا یا ہو اور اسے کامیابی سے نہ برتا ہو‘‘ (۴) سرسید نے ہی سب سے پہلے تصنع وتکلف، قافیہ بندی وتراکیب کی ظاہری خوبصورتی کو ترک کر کے مطلب و مدعا پرتوجہ دیا، سرسید نے اپنے اسلوب کے متعلق خود لکھا ہے کہ ’’ہم نے انشائیہ کا ایک ایسا طرز نکالا ہے، جس میں ہر بات کوصاف صاف جیسی کہ دل میں موجود ہو، منشیانہ تکلفات سے بچ کر راست پیرایہ میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے اور لوگوں کوبھی تلقین کی ہے‘ اسی سے سرسید کے مقصد ی نثر کی تائید ہوتی اور سبق ملتا ہے کہ ادب برائے مقصد ہونا چاہیئے۔
مضمون نگاری: سرسید نے مغرب کی ایک مشہور اور مقبول صنف Essay سے متاثر ہو کر مضمون نگاری کی بنیاد رکھی، سرسید مغرب کے مشہور مصنفین ایڈیسن ،ڈرائڈن اور بیکن وغیرہ سے اس درجہ متاثر ہوئے کہ انہوں نے ان حضرات کے بہت سے مضامین کو ہی اردو کا لبادہ اوڑھا کر پیش کیااور ان کے اسلوب کو اپناتے ہوئے بہت سے مضامین قلمبند کیے جن میں خاص طور پر ’’اخلاق‘‘، تعصب، تعلیم و تربیت، ریا، کاہلی، خوشامد، بحث وتکرار ، اپنی مددآپ اور عورتوں کے حقوق وغیرہ کو شامل کیا جاسکتا ہے۔
سادگی: سرسید کے اسلوب کی اہم خصوصیات سادگی اور سلاست بھی ہے، سرسید اس سادگی سے مضمون کو الفاظ کا جامہ پہناتے ہیں کہ قاری ذرہ برابر بھی بوجھل پن اور دشواری نہیں محسوس کرتا ، بلکہ پڑھتا اور سمجھتا چلاجاتا ہے، اس کا اندازہ ان کے ایک مضمون ’’دنیا بہ امید قائم ہے‘‘ کے اقتباس سے لگایا جاسکتا ہے۔’’میرا ارادہ ہے کہ میں اس تحریر میں صرف اسی کا کچھ بیان کروں جس کو امید کہتے ہیں ہماری خوشیاں اس قدر کم و چند روزہ ہیں کہ اگر وہ قوت ہم میں نہ ہوتی جس سے انسان ان عمدہ اور دل خوش کن چیزوں کا ان کے ہونے سے پہلے مزہ اُٹھاتا ہے جن کا کبھی ہو جانا ممکن ہے، تو ہماری زندگی نہایت ہی خراب اور بدمزہ ہوتی‘‘ ( ۵)
بے تکلفی و برجستگی: سر سید کی تحریروں میں بلاکی برجستگی پائی جاتی ہے، جس موضوع پر بھی قلم اٹھاتے ہیں برجستہ تحریر کرتے چلے جاتے ہیں، کہیں بھی آورد کا احساس نہیں ہوتا، اسی بے ساختگی کی وجہ سے ان کا ادبی حسن قائم نہیں ہوسکا ہے اور انہیں اپنی ادبی حقیقت منوانا بھی نہیں تھا، بلکہ اپنی بات زیادہ سے زیادہ عوام تک پنچانا تھا، ان کی بے تکلفی اور برجستگی کو ان کے مضمون ’’امید کی خوشی ‘‘ میں بہتر طریقے سے دیکھا اور پڑھا جا سکتا ہے۔
مدعا نگاری : سرسید ایسے شخص تھے جن کی گھٹیوں میں مقصد پیوست تھی، اس لیے ان کی تحریریں بھی مقصد ی ہیں، ان کی ہر تحریر کے پس پردہ کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہوتا ہے اور ایک مصلح، ناصح، مبلغ، مدیر اور خیر خواہ کی حیثیت سے اپنی بات پیش کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ زبان کی حسن کاری اور ادب کی چاشنی پر نظریات و خیالات کی ترویج کو ترجیح دیتے ہیں اور ایسی تحریروں کو بے حیثیت گرد ا نتے ہیں جو عوام کے لیے ناقابل فہم ہوں۔
ظرافت و خوش طبعی : سرسید کی نثری تحریروں میں ظرافت و خوش طبعی کی بھی جھلک ملتی ہے، مگر وہ ظرافت سے تجاوز کر کے استہزاء اور پھکڑ پن کی حد تک نہیں پہنچتے ہیں، ان کے مضامین میں سے ’’بحث و تکرار‘‘ اور طریقۂ تناول طعام‘‘ میں ظرافت کی جھلک دیکھ سکتے ہیں اور اس کی وجہ ایک یہ بھی ہے، کہ سرسید مغربی ادبا اورخاص طور پر ایڈیسن سے بہت متاثر تھے تو سرسید کے مضامین میں ا س کی جھلک دکھنا بھی ایک فطری امر تھا۔
سنجیدگی: سرسید چوں کہ ایک مصلح اور مبلغ کی حیثیت سے اپنا فریضہ ادا کررہے تھے،اس لیے ان کی تحریروں میں غور و فکر اور متانت و سنجیدگی کا عنصر اس قدر غالب ہوجاتا ہے کہ ان کی مصلحانہ باتیں ان کی شگفتگی اور ظرافت پر غالب آجاتی ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ جب کوئی شخص کسی سلسلہ میں زیادہ فکر مند ہو تو ظرافت اس کے قریب بھی نہیں بھٹکتی ۔صداقت، اثر آفرینی اور درد و اثر اور صداقت بھی سرسید کی تحریروں کا اہم حصہ ہیں، وہ کچھ بھی لکھتے ہیں تو ان کا بنیادی مقصد اثر آفرینی ہوتا ہے، سرسید کنایات و استعارات، تشبیہات اور دیگر فنی لوازمات کا سہارا لے کر اپنی باتوں کو سچائی کے ساتھ اور یہی صداقت و خلوص ہی ان کی اثر آفرینی اور درد کی وجہ بنتا ہے کہ دل سے بات نکلتی ہے اور اثر انداز ہی نہیں ، بلکہ قلب و نظر گرفتار بھی کرتی ہے۔
روانی : سرسید کا کمال ہے کہ خشک موضوع پر بھی قلم اٹھاتے ہیں تو اسے رواں دواں کردیتے ہیں اور قاری بلا جھجک اور تردد کے پڑھتا چلا جاتا ہے حالاں کہ انہوں نے تاریخ ، فن تعمیر ، سیرت، فلسفہ ، مذہب ، قانون ، سیاست، تعلیم ، اخلاق اور وعظ جیسے مشکل ترین موضوعات پر خامہ فرسائی کی ہے اور بلاکی روانی سے سب کو حیرت و استعجاب میں مبتلا کردیا ہے۔
تعقل پسندی و استدلالی: سرسید کی ایک خاص عادت ہے کچھ بھی لکھتے ہیں تو دلیل ضرور پیش کرتے ہیں ا ور عام طور پر عقلی دلیلیں پیش کرتے ہیں تاکہ قاری بہ آسانی سمجھ سکے، بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اردو میں ا ستدلالی نثر کی بنیاد ہی سرسید احمد خاں نے ڈالی، ’’امید کی خوشی، آدم کی سرگذشت اور نادان دیندار اور دانا پرست ‘‘وغیرہ مضامین کو استدلالی نثر میں بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے۔
محاکات نگاری: محاکات نگاری کے نمونے عام طور پر شعرا کے اشعار میں ملتے ہیں ، مگر سرسید کا کمال ہے کہ نثر میں بھی شاعری کامزہ چکھا دیتے ہیں، بطور مثال ان کے مضمون ’’امید کی خوشی‘‘ سے ایک اقتباس’’ دیکھ وہ بے گناہ قیدی اندھیرے کنویں میں سات تہہ خا نوں میں بند ہے،ا س کو سورج کاسا چمکنے والا چہرہ زرد ہے، بے یارو دیا ، غیر قوم ،غیر مذہت کے لوگوں کے ہاتھو ں میں قید ہے، بڈھے باپ کا غم اس کی روح کو صدمہ پہنچاتا ہے، عزیز بھائی کی جدائی اس کے دل کو غمگین رکھتی ہے، قید خانے کی مصیبت ، اس کی تنہائی ، اس گھر کا اندھیرا اور اس پر اپنی بے گناہی خیال اس کو نہایت ہی رنجیدہ رکھتا ہے ، اس وقت کوئی اس کا ساتھی نہیں ہے، مگر اے ہمیشہ زندہ رہنے والی امید تجھ ہی میں ا س کی خوشی ہے‘‘(۶)
تمثیلی انداز: اردو ادب میں تمثیل کا سب سے عمدہ نمونہ ہمیں ’’سب رس‘‘ میں ملتا ہے، مگر سرسید اس باب میں بھی پیچھے نہیں ہیں اور ان کے مضامین میں تمثیلی انداز کے نمونے ملتے ہیں، ’’امید کی خوشی‘‘ کو عمدہ تمثیلی مضامین میں شامل کیا جاسکتا ہے’’ اے آسمانوں کی روشنی اور اے نا امیددلوں کی تسلی امید! تیریے ہی شاداب اور سرسبز باغ سے ہر ایک محنت کا پھل ملتا ہے‘‘(۷)
خطیبانہ اسلوب: سرسید کی تحریروں میں خطیبانہ اسلوب سب سے زیادہ ملتا ہے اور اس کی وجہ ظاہرہے کہ پوری قوم سے وہ خطاب کر رہے تھے تو مخاطب کا انداز پایا جاناضروری تھا، بطور مثال ایک اقتباس ’’اے میرے عزیز ہم وطنو ! جب تم کسی کے خلاف کوئی بات کہنی چاہو یا کسی کی بات کی تر دید کا ارادہ کر و تو خوش اخلاقی اور تہذیب کو ہاتھ سے مت دو‘‘ (۸)
متنوع اسلوب: سرسید کے یہاں متنوع موضوعات پائے جاتے ہیں اسی کی مناسبت سے وہ متنوع اسلوب بھی اپناتے ہیں، تاریخ لکھ رہے ہیں تو مؤرخوں کا انداز، سیرت تفسیر اور فلسفہ وغیرہ میں مفسرانہ اور عالمانہ انداز غرض ادبی، علمی ،سماجی ، سیاسی اور اخلاقی ہر قسم کے موضوعات پر موضوع کی مناسب سے اسلوب اختیار کیا ہے اس کا اندازہ ان کی تصانیف اور مضامین کو پڑھ کر لگایا جا سکتا ہے۔
ادبی خامیاں: سرسید کی نثری تحریروں میں جہاں ہمیں بے شمار خوبیاں نظر آتی ہیں وہیں چند خامیاں بھی اور اس کی بنیادی وجہ ان کامزاج ہے، وہ لکھتے وقت اس قدر جذبات میں بہہ جاتے ہیں کہ لفظوں کی خوبصورتی ، فقروں کی ہم آہنگی اور الفاظ و تراکیب کی ترتیب کو بھول جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی تحریروں میں ا دبی حسن کم ہو جاتا ہے، مولانا حالیؔ نے اس تعلق سے لکھا ہے کہ ’’کسی شخص کے گھر میں آگ لگی ہو تو وہ لوگوں کو پکارے کہ آؤ اس آگ کو بجھاؤ ، اس میں الفاظ کی ترتیب اور فقروں کی ترکیب کا خیال نہیں ہوتا کیوں کہ ان کے پاس ایک دعوت تھی اس دعوت کو دینے کے لیے انہیں جو بھی الفاظ ملے بیان کردیئے‘‘ (۹)
خلاصہ : سرسید سے قبل پر تکلف اور پر تصنع نثر لکھنے کا رواج تھا، سرسید اس سے قطع نظر سلاست و روانی ، برجستگی اور مدعا نگاری پر مشتمل ایک استدلالی نثر کی بنیاد ڈالی، جس میں خطیبانہ اسلوب پایا جاتا ہے، سرسید نے تاریخ ، فلسفہ ، اخلاق ، مذہب اور سیرت وغیرہ مختلف مضامین پر متنوع اسلوب اپناکر مضامین لکھے اور ایڈیسن وغیرہ مغربی ادیبوں سے متاثر ہو کر جدید نثر کی بنیاد ڈالی اور چالیس سے زائد رسائل وکتب تصنیف کیے، اس سے بڑھ کرا ردوکی خدمت اور کیا ہوسکتی ہے کہ انہوں نے داستان، قصہ اور کہانیوں کی روش سے ہٹ کر علوم کا اتنا بڑا ذخیرہ اردو میں شامل کر دیا کہ آج بھی دنیائے اردو سرسید احمد خاں کی احسان مند ہے اور سپاس گزار ہے، انہوں نے اپنے زمانہ کے مضمون ، ادیبوں اور شعرا کو متاثر کیا، جس کی وجہ سے ادب میں ہی ایک خاص قسم کی معقولیت ، نیاپن اور سنجیدگی پیدا ہوگئی اور اصلاحی جذبے پیش پیش نظر�آنے لگا اور ان کو رفقاء بھی محمد حسین آزاد ، شبلی، حالی اور ڈپٹی نذیر احمد وغیرہ جیسے باکمال اشخاص ملے جنہوں نے سر سید کے مشن کو تقویت پنچانے اور فروغ دینے میں ہام کردار کیا۔
حواشی (۱) مقالات شبلی جلد دوم ص۱۶،(۲) ادبی اسلوبیات ص ۹،(۳)نظر اور نظریے ص ۴۸،(۴)سرسید کی نثری خدمات ص۱۳۰،(۵)مضامین سرسید ص ۱۰۹،(۶)ایضاً ص ۱۰۴(۷) ایضاً ص۱۰۱،(۸) ایضا ص ۸۶،(۹)حیات جاوید ص ۶۴۵۔
9871523432
ڈی 29,شاہین باغ ،ابوالفضل انکلیو پارٹ ۲،جامعہ نگر اوکھلا نئی دہلی ۲۵۔
abariqasmi13@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *