سخت گیرقوانین میں ترمیم اور عوام کے خدشات

ایڈووکیٹ ابوبکرسباق سبحانی
یو اے پی اے اور این آئی اے ایکٹ میں ترمیم کے ساتھ ہی ملک میں سخت گیر قوانین کے استعمال و خدشات کو لے کر ایک تازہ بحث چھڑ گئی ہے۔ حکومت کے دلائل اور دوسری جانب کے سوالات دونوں ہی ملکی و عالمی پس منظر کا سہارا لے رہے ہیں۔ تازہ ترمیم کی روشنی میں حکومت کسی شخص کو بھی دہشت گرد تسلیم کرسکتی ہے جبکہ پہلے یہ اختیارات کسی تنظیم پر پابندی کے لیے ہی حاصل تھے، اب اگر حکومت کی منشاء ہو تو کسی فرد واحد کوبغیر کسی عدالتی کاروائی کے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے دہشت گرد قرار دے دے گی جو کہ دستور ہند کے آرٹیکل ۱۲ اور ۴۱ کے خلاف ہے جس میں دستور کے آرٹیکل ۲۲ اور کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعات کی پابندی اب این آئی اے پر نہیں ہوگی، مذکورہ شخص کو پہلے حکومت کے سامنے ایک مہینے کے اندر خود کو بے گناہ ثابت کرنا ہوگا۔ اگر حکومت اپنے موقف پر قائم رہتی ہے تو حکومت کے ذریعے ہی تشکیل کردہ ریویوو کمیٹی کے سامنے اپنی بے گناہی ثابت کرنی ہوگی جس کی کوئی متعینہ مدت طے نہیں کی گئی ہے۔ اگر ریویوو کمیٹی نے فرد واحد کے دلائل سے اتفاق نہیں کیا تو سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانا ہوگا، یہاں یہ امر بھی لائق غور ہے کہ یواے پی اے میں دہشت گردی کی تعریف بہت ہی مبہم و غیرواضح الفاظ میں کی گئی ہے جس کا دائرہ کار غیر واضح ہونے کی وجہ سے اس کا غلط استعما ل ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے۔ ماضی میں بھی صرف شک کی بنیاد پر ہی کسی بھی شخص کو نیز اس کی املاک کو ضبط کرنے کے اختیارات حاصل تھے لیکن دہشت گرد ثابت کرنے کا اختیار عدالت کو ہی تھا۔ این آئی اے کے اختیارات لامحدود کردیے گئے ہیں جو کہ پولیس و صوبائی حکومت کے اختیارات میں دخل اندازی ہے۔ پہلے این آئی اے کے لیے ضروری تھا کہ وہ لوکل پولیس تھانہ کو اطلاع دے، لوکل پولیس کو ساتھ لے کر کارروائی کرے، اور تھانہ میں کارروائی کی انٹری درج ہو۔ پولیس ریمانڈ کو ایک مہینے سے بڑھا کر این آئی اے کے لئے چھ مہینہ کردی گئی ہے جو کہ دنیا کی سب سے بڑی پولیس ریمانڈ ہے۔
اعتراضات و اشکالات بھی بے بنیادنہیں ہیں۔تنظیم کے علاوہ فردواحد کو دہشت گرد قرار دینے کے حقوق امریکی و برطانوی قوانین میں اگر موجود ہیں تو وہاں پولیس نظام عوام کے سامنے جوابدہ بھی ہے، ہمارے ملک میں سخت گیر قوانین کا استعمال اب تک اقلیتوں کو ہراساں کرنے کے لیے ہوا ہے ان حقائق کو تسلیم کرکے پوٹا اور ٹاڈا جیسے قوانین منسوخ کیے جاچکے ہیں، موجودہ ترمیم بین الاقوامی معائدے آئی سی سی پی آر اور آئی سی ایس آر کے عین مخالف ہیں جس پر ہندوستان کو عمل کرنا معاہدے کی رو سے لازم ہے۔ زمینی حقائق پر اگر نظر ڈالیں تو دہلی کی اسپیشل این آئی اے عدالتوں میں گزشتہ آٹھ اور دس سال پرانے کیس جن میں ملزمین جیل میں ہیں لیکن ابھی تک این آئی اے اسپیشل کورٹ چارج (الزام)فریم کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی جبکہ ان الزامات کو ثابت کرنے کے لیے گواہوں کی فہرست عموماً دو سو سے تین سو تک ہے۔ این آئی اے کے مقدمات میں تفتیشی افسران وایف آئی آر کرنے والے افسران کو یواے پی اے کی دفعات کا علم نہیں لیکن ملزمین ان مقدمات میں سالہاسال سے جیل و عدالت کی صعوبتیں جھیلنے پر مجبور ہیں۔ این آئی اے افسران نے اپنے مقدمات میں ملزمین کو وعدہ معاف گواہ بنانے کے رواج کو اپنے عروج تک پہنچایا ہے جو کہ کسی بھی ذی ہوش سے مخفی یا پوشیدہ نہیں ہے۔ ستم بالائے ستم یو اے پی اے کے مقدمات میں ضمانت نہیں ہوتی جبکہ مقدمات کی تکمیل میں کم از کم بیس سے پچیس سال تک کا عرصہ گزر جاتا ہے کیونکہ ضمانت کے لئے بھی ملزم کو اپنی بے گناہی ثابت کرنی لازمی ہے۔ اس طویل عرصے کے بعد اگر ملزمین باعزت بری بھی ہوجاتے ہیں تو نہ ان کو کوئی معاوضہ ملتا ہے، نہ ہی تفتیشی افسران کی کوئی جوابدہی ہوتی ہے،حتی کہ مختلف عدالتوں کی سفارشات کے بعد بھی ان افسران کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوئی ہے کیونکہ تفتیشی ایجنسیوں کو سی آر پی سی کی دفعات ۷۹۱ اور ۵۴ میں خصوصی مراعات حاصل ہیں۔
اس بات سے کسی کوہرگز اختلاف نہیں ہوسکتا ہے کہ ملک مخالف یا سماج دشمن عناصر کے خلاف سخت کارروائی یا قوانین میں سختی نہ ہو لیکن ساتھ ہی ساتھ حکومت و عدلیہ کی بھی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ قوانین کا غلط استعمال کسی بھی صورت میں ممکن نہ ہو۔ عوام کو حکومت و حکومتی اداروں کے تئیں اعتماد واطمینان ہو، اگر عوام خصوصاً اقلیتوں کے اندر عدلیہ یا نظام عدلیہ کے تئیں ایمان و بھروسہ کمزور پڑجائے تو یقینا ایک صحت مند سماج کے لیے یہ خوش آئند بات نہیں ہوسکتی ہے۔ حکومت اور عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ قوانین کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے سنجیدہ اقدامات کے ساتھ ساتھ پولیس و دیگر تفتیشی ایجنسیوں کی جوابدہی طے کرے نیز مقدمات کی تکمیل کے لیے ایک معقول مدت طے کی جائے۔ ملزم جرم ثابت ہونے تک دستور ہند کی روشنی میں صرف ملزم ہوتا ہے، جرم ثابت کرنے کی ذمہ داری سرکار کی ہوتی ہے، ملزم پر بے گناہی ثابت کرنے کی ذمہ داری عائد کرنا غیردستور ی و غیر قانونی نظریہ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *