"ساحر لدھیانوی کی شاعری کے عکس میں یومِ خواتین "


محمد عباس دھالیوال 

ہم َآٹھ مارچ  یومِ خواتین کے نام سے  مناتے ہیں. اس دن خواتین کی فلاح و بہبود اور اس کے سشتی کرن یا امپاورمنٹ کے ضمن میں ضروری اقدام اٹھانے کے تحت دنیا بھر میں مختلف پروگراموں کا انعقاد کیا جاتا ہے اور خواتین کو اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے بیدار کیا جا تا ہے. اس دن کو اہلِ اردو بھی بڑی عقیدت سے یاد کرتے ہیں کیونکہ کہ اسی  دن  ہندوستان کے مشہور و معروف نغمہ نگار اور ترقی پسند تحریک کے علمبرداروں  میں شامل  شاعر ساحر لدھیانوی کی یومِ پیدائش ہوئی .
ساحر جنکا اصل نام عبدالحئی تھا ان کا جنم 8 مارچ 1921 کو لدھیانہ میں ہوا، اور 1980 میں 59 سال کی عمر میں آپ اس جہان فانی سے ہمیشہ ہمیش کے لیے کوچ کر گئے.
بطور نغمہ نگار اور شاعر جو مقبولیت ساحر کے حصے میں آئی اس کی نظیر نہیں ملتی.ساحر نے کبھی کہا تھا کہ بمبئی کو اس کی ضرورت ہے. اس وقت اپنی بات کو عوام و خواص تک پہنچا نے کے لئے فلم کو ایک اہم  ذریعہ سمجھا جاتا ہے تھا. یہی وجہ ہے کہ ساحر نے اپنی آواز و آئیڈیالوجی کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے اس فلم کے ذریعہ کا بھرپور فائدہ اٹھایا.
ساحر کو دو فلم فیئر ایوارڈ 1964 اور 1977 کے  ساتھ سرفراز کیا گیا جبکہ ان کی فلمی و ادبی خدمات کی قدر کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے 1971 میں انھیں پدم شری  سے بھی نوازا گیا.
  یومِ خواتین کے موقع پر ساحر کے شاعری کے  انتخاب کا مقصد یہی ہے کہ ہم  ساحر کی طرف سے انکی نظموں میں اٹھائے خواتین سے وابستہ مختلف مسائل پہ غور و خوض کرتے ہوئے. ساحر کے خیالات سے آج کی جنریشن کو مختصراً معلومات فراہم کروانے کی کوشش کریں.
 عورت ذات جو کہ صدیوں سے مردانہ سماج میں مختلف طرح سے ظلم و تشدد اور استحصال کا شکار ہوتی چلی آ ئی ہے. اس کی عکاسی ساحر نے اپنی نظموں میں بہت دلیرانہ اور بے باک انداز میں کی ہے. اردو شاعری میں ساحر سے پہلے نہ اس کے بعد خواتین کو درپیش مسائل کی کسی دوسرے شاعر نے پیشکاری کی اور نہ اب کسی نے عورت کو اپنی نظموں کا موضوع بنایا، جیسے شاعر نے عورت کے مختلف کرداروں کو اپنی شاعری میں جگہ دی.
ہاں البتہ  اردو افسانے میں سعادت حسن منٹو اور راجندر سنگھ بیدی نے عورت کے دکھ درد کو ضرور اپنے مختلف کرداروں میں اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے.
لیکن شاعری میں عورت کے حوالے سے منفرد  اور بے باک لہجے میں بات کرنے والا ساحر کے علاوہ کوئی دوسرا شاعر  نظر نہیں آتا.
 یہاں قابل ذکر ہے کہ ساحر نے اپنی شاعری کے جوہر کو دیگر شعراء کی طرح عورت کی زلف کے پیچ و خم ہے کو سجانے سنوارنے پہ صرف کیا اور نہ ہی عورت کے سراپائے حسن  کی بے جا تعریف کرنے کا ذریعہ بنایا. بلکہ ساحر نے سماج کی ان عورتوں پر قلم اٹھایا ہے، جو معاشرے میں کوئی عزت یا مقام نہیں رکھتی یا جنھیں سماج کے چند ٹھیکیداروں نے بازار کی زینت بنا رکھا ہے اور جنھیں معاشرہ  اچھوت سمجھتے ہوئے ان کے بیچ جانے سے قطراتا ہے یا انھیں کھلے طور پر اپنانے سے پرہیز کرتا ہے .
 ساحر ابھی بچہ ہی تھا کہ اس کے والد نے ساحر اور اس کی ماں سے علیحدگی اختیار کی. ساحر نے اپنی ماں کے ہمراہ زندگی کے تمام نشیب و فراز کو دیکھا اور  شب و روز بہت پریشانیوں میں گزارے.
 ساحر کے تمام عمر گویا زندگی کی تلخیوں کا سامنا کرنے میں بسر ہوئی . اس نے جیسے حالات میں اپنی زندگی کاٹی اور جس طرح کے تلخ تجربات اسے پیش آئے  . ان تجربات کے حوالے سے ہی ساحر اپنی شاعری کی حقیقت بیان کر تے ہوئے کہتے ہیں کہ
دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں
جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں
اپنے ایک گیت میں جہاں مردوں کے تسلط میں عورت اپنی زندگی کے شب و روز کاٹ رہی ہے اور مرد پہ اپنا سب کچھ نچھاور کرنے کے بعد بے یار و مددگار کھڑی ہے اور ایک ماں جیسا بلند و بالا مرتبہ حاصل کرنے کے باوجود بازار کی جس طرح سے زینت بننے کے لئے مردوں نے اسے مجبور کیا اس نقشہ کس دل سوز انداز میں پیش کیا ہے کہ :
عورت نے جنم دیا مردوں کو، مردوں نے اسے بازار دیا
جب جی چاہا مسلا کچلا جب جی چاہا دھتکار دیا
مردوں کے لیے ہر ظلم روا، عورت کے لیے رونا بھی خطا
مردوں کے لیے ہر عیش کا حق، عورت کے لیے جینا بھی خطا
مردوں کے لیے لاکھوں سیجیں، عورت کے لیے بس ایک چتا
عورت نے جنم دیا مردوں کو، مردوں نے اسے بازار دیا ہے
اپنی ایک نظم ‘چکلے’ میں ساحر نے بازار حسن میں ہو رہی نیلامی، بکتے اجسام، بے بس و بے یارو مددگار خواتین کی تصویر کچھ اس انداز میں کھینچی ہے. کہ
یہ کوچے یہ نیلام گھر دلکشی کے
یہ لٹتے ہوئے کارواں زندگی کے
کہاں ہیں کہاں ہیں محافظ خودی کے
ثناء خوانِ تقدیسِ مشرق کہاں ہیں؟
یہ پر پیچ گلیاں یہ بے خواب بازار
یہ گمنام راہی یہ سکّوں کی جھنکار
یہ عصمت کے سودے یہ سودوں پہ تکرار
ثناء خوان تقدیسِ…
مدد چاہتی ہے یہ حوّا کی بیٹی
یشودھا کی ہم جنس رادھا کی بیٹی
پیغمبر کی امت، زلیخا کی بیٹی
ثناء خوان تقدیسِ …..
ساحر نے ایک گیت میں عورت کو مردوں کی طرف سے فقط جسم سمجھے جانے کے خیال کو اس انداز میں پیش کیا کہ
لوگ عورت کو فقط جسم سمجھ لیتے ہیں
روح بھی ہوتی ہے اس میں یہ کہاں سوچتے ہیں
کتنی صدیوں سے یہ وحشت کا چلن جاری ہے
کتنی صدیوں سے ہے قائم یہ گناہوں کا رواج
لوگ عورت کی ہر اک چیخ کو نغمہ سمجھے
وہ قبیلوں کا زمانہ ہو کہ شہروں کا رواج
اس کے بر عکس ایک جگہ ساحر کا بالکل الگ انداز دیکھنے کو ملتا ہے، ایک باپ جب پال پوس  اپنی بیٹی کے ہاتھ پیلے کرتے ہوئے اس کو سسرال کے لیے ودع کرتا ہے تو اس باپ کے دل سے اپنی بیٹی کے لیےکیا کیا دعائیں نکلتی ہیں اس کا اظہار ساحر کچھ یوں کرتا ہے کہ
بابل کی دعائیں لیتی جا، جا تجھ کو سکھی سنسار ملے
میکے کی کبھی نہ یاد آئے سسرال میں اتنا پیار ملے
جس گھر میں بندھے ہیں بھا گ تیرے اس گھر میں سدا تیرا راج رہے
ہونٹوں پہ ہنسی کی دھوپ کھلے، ماتھے پہ خوشی کا تاج رہے
کبھی جس کی جوت نہ ہو پھیکی، تجھے ایسا روپ سنگھار ملے
اسی طرح ایک گیت میں ایک بہن اپنے بھائی کے لیے کیسے پاکیزہ جذبات وخیالات رکھتی اس کا بیان ساحر بہت دل کش انداز میں کچھ اس طرح سے پیش کرتے ہیں کہ
میرے بھیّا، میرے چندا، میرے انمول رتن
تیرے بدلے میں زمانے کی کوئی چیز نہ لوں
تیرے سہرے کی مہکتی ہوئی لڑیوں کے لیے
ان گنت پھول امیدوں کے چنے میں نے
وہ بھی دن آئے کہ ان خوابوں کی تعبیر بنے
تیری خاطر جو حسیں خواب چنے میں نے
ساحر اپنے ایک گیت کے آخری بند میں کہتے ہیں کہ
عورت سنسار کی قسمت ہے پھر بھی تقدیر کی بیٹی ہے
اوتار پیعمبر جنتی ہے پھر بھی شیطان کی بیٹی ہے
یہ وہ بد قسمت ماں ہے جو بیٹوں کی سیج پہ لیٹی ہے
عورت نے جنم دیا مردوں کو، مردوں نے اسے بازار دیا
بے شک آج ساحر کو ہم سے جدا ہوئے 38 سال کا لمبا عرصہ گزرچکا ہے اور اس دوران دنیا نے ترقی کی بہت سی نئی نئی منزلیں طے کی ہیں، لیکن جب ہم یومِ خواتین کے پس منظر میں عورت کی حالت کو دیکھتے ہیں تو اس کے حالات میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی دیکھنے کو نہیں مل رہی ہے، جس مظلوم عورت کا ساحر نے اپنی نظموں میں ذکر کیا ہے ویسی عورتیں آج بھی ہمیں اس اپنے ارد گرد دیکھنے کو اکثر ملتی ہیں. آج بھی عورت مرد کے ظلم و تشدد کا شکار ہوتی ہے آج بھی کوئی نہ کوئی معصوم زینب حیوان نما درندوں کا لقمہ بنتی ہے. بس آخر میں یہی کہوں گا کہ
بڑھنے کو بشر چاند سے بھی آگے بڑھا ہے
یہ سوچیے کردار گھٹا ہے کہ بڑھا ہے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *