سائنس دین کا رقیب نہیں رفیق ہے

یاوررحمن
معروف سائنس داں سٹیفن ہاکنگ کی موت پر فیس بک کے مسلم ‘باشندوں’ کے درمیان بڑی عجیب سی بحث چھڑ گئی ہے۔ کوئی ہے کہ سٹیفن کی موت کو بس اک ‘کافر’ کی موت گردانتے ہوئے اس کی عاقبت کے حتمی فیصلے پر مصر ہے تو کوئی اس ‘کافر’ کو ‘افضل المومنین’ ڈکلیر کرنے میں اپنی تمام تر ذہنی صلاحیتیں خرچ کر دینے پر تلا ہے۔
وجہ صرف اتنی ہے کہ ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم رہنے والے مذہب اور سائنس کو ایک دوسرے کا رقیب بنا دیا گیا ہے۔ یہ جھگڑا علم کی تقسیم کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا۔ ہماری ملی عمر کے اسی پڑاؤ پر جب امّت محمد صل اللّه علیہ و سلم کے ذہین جیالوں نے ستاروں پر کمندیں ڈالنا شروع کیا تھا۔ انکے افکار کی دنیا اسلام کی نووارد شعاؤں سے منور ہونا شروع ہوئی تھی اور وہ ستاروں کی گزرگاہوں کی تلاش میں نکل پڑے تھے۔ انہوں نے دنیا کو بہت کم عرصے میں بہت کچھ دے دیا تھا۔
اگر اس وقت کے ‘شیوخ الاسلام’ انکی راہوں کا روڑا نہ بنتے تو شاید آج کا سٹیفین ہاکنگ بھی کوئی ‘مصطفی ٰحارث’ ہی ہوتا۔ مگر دین کے بحر بیکراں کواپنی فکرِ نارساکے کوزے میں سمیٹنے والوں نے سائنسی ایجادات کو ‘رسوم دینیہ’ کا ‘دشمن’ قرار دے کر صحیفۂ فطرت کے ان مومنین مفسرین کو کفر و الحاد کی تہمت کے ساتھ راندۂ درگاہ کر دیا،پھر جو ہونا تھا وہی ہواـ
اک حکم “اقرأ” سے تہذیب و تمدن کا قرآنی سفر شروع کرنے والی امّت محمدیہ خود مذہب کے “قاعدہ بغدادی” پر آکے ٹھہر سی گئی۔ اور آج حال یہ ہے کہ تعلیم یافتہ مسلمانوں کی غالب ترین اکثریت سائنس کے حوالے سے ایسی بے مہر ہوئی کہ ماہر فلکیات عمر خیام کو رباعیات کا محض اک شاعر بنا دیا۔
خیام کو اسکی شاعری نے کم از کم نام کی حد تک باقی رکھا، افسوس ان پر ہے جنہیں خود اپنے ‘گھر’ میں اک ‘سوکھی ہوئی یاد’ تک میسر نہیں۔ حالانکہ یہی وہ لوگ تھے جو ‘نماز سائنس’ کے اولین موذن تھے۔ اور ان ہی کی بانگ درا سے مغرب میں تسخیر و اکتشاف کی فجر طلوع ہوئی تھی۔
آج ہم مغرب سے انتہائی درجہ مرعوب ہیں تو اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم ان بانیان علم وسائنس سے یکسر نا واقف ہیں جن کا علم دین اسلام کا خادم خاص تھا نہ کہ دشمن جانی۔ مگر المیہ یہ ہے کہ آج ‘دین کے غافل’ اور ‘سائنس کے جاہل’ کی تو تو میں میں کے شور میں اصل مسائل زندہ درگور ہو رہے ہیں۔
بڑی عجیب بات ہے کہ مسلمانوں کی عام مجلسوں میں بھی جب کبھی سائنس پر بحث چلے گی، تودو متفرق کردار آپس میں دست بگریباں ہو جائیں گے ۔ ان میں ایک “مولوی” ہوگا اور دوسرا “دہریہ”۔ پھر مذہب اور سائنس کے ان دونوں نا بینا وکیلوں کے بیچ علم اور اہل علم جی بھر کے رسوا کئے جائیں گے۔ ہم سب کا آخری تجربہ ابھی جاری ہے۔
بڑی نا انصافی اور ظلم کی بات یہ ہے کہ سائنس کے بے سائنس وکلا اپنی قوم کی تمام ‘سائنسی پسماندگی’ کا ٹھیکرا فورا علماے مدارس پر پھوڑ دیتے ہیں۔ حالانکہ غیر درباری علما نے کبھی نفس سائنس کی مخالفت نہیں کی۔ خاص طور سے اس جدید عہد میں ہمیں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔ علم دین کی روایتی تعلیم پر بیشک انکا زور زیادہ رہا اور عصری علوم کو وہ اب بھی “دہریت” ہی سمجھتے ہیں۔ لیکن وہ عوامی سطح پر کبھی اس کی مخالفت نہیں کرتے۔ علما کے سلسلے میں یہ جھوٹ بھی پھیلایا جاتا ہے کہ انہوں نے عصری تعلیمی ادارے (علیگڑھ مسلم یونیورسٹی) کے قیام کی کوششوں پر سر سید خان مرحوم کے خلاف کفر کے فتوے دیے۔ حالانکہ ایسا ہرگز نہیں تھا۔ علما کا اختلاف سید صاحب کے کچھ عقائد سے متعلق تھا،تعلیم کے نقطۂ نظر سے نہیں۔
یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کے دینی تشخص کی حفاظت میں علیگڑھ اور دہلی کی جامعات نے بھی انتہائی اہم رول ادا کیا ہے۔مگر یہ انکا مقصد وجود نہیں۔ افسوس تو یہ ہےکہ دونوں معروف اور عظیم عصری درسگاہیں آج تک ‘سائنس’ کے وہ فرزند پیدا نہ کر سکیں جن کے بلند و بانگ دعووں کے ساتھ قوم کی تعلیمی پسماندگی کا رونا رویا جاتا ہے۔
بلکہ غیر متوقع طور پر دور حاضر میں طلبا ے مدارس کے اندر زبردست انقلابی تبدیلی آئ ہے اور انکی اچھی خاصی تعداد نہ صرف عصری علوم سے اپنے آپ کو مزین کر رہی ہے بلکہ بعض شعبہ ہاے زندگی میں انکی کارکردگی انتہائی لائق ستائش بھی ہے۔ لیکن ہمارا خیال ہے کہ یہ ان چیدہ فارغین مدارس کی اپنی محنتوں کا ثمرہ ہے، اس میں ہمارے ان عظیم دینی مدرسوں کا کوئی کمال نہیں ہے جو وقت کے ہزارہا مطالبوں کے باوجود اپنے نصا ب تعلیم پر اک نظر ثانی تک کے قائل نہیں۔
ہمارا صرف اتنا کہنا ہے کہ اگر سائنس اور ٹیکنالوجی سے مسلمانوں کی دوری کا الزام مذہبی علما پر عائد ہوتا ہے تو عصری تعلیم کے ‘ساہوکاروں’ کو کلین چٹ کیوں؟ اور یہ الزام ان مسلم ‘پونجی وادوں’ کے سر بھی کیوں نہیں جاتا جن کی ساری توانائی ملّت کے بے خانماں جوانوں کو جہالت اور نامرادیوں کے بھاڑ میں جھونک کر صرف اور صرف اپنے ‘ایلیٹ کمبے’ کی پرورش شکم میں صرف ہوتی ہے؟
بیشک ہمارے نزدیک عصری علوم کو ‘دنیاداری کے داغ’ سے ملقب فرمانے والے وہ ‘شکم سیر’ اور ‘نفس سیر’بڑے علما بھی قابل تنقید ہیں جو بڑے بڑے دینی مدرسوں کے مالک ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ جس لمحے مدرسے کے نادار طلبہ کو علم دین کے حصول کے لئے ‘بوریہ نشینی’ کی تلقین فرما رہے ہوتے ہیں، ٹھیک انہیں لمحوں میں انکے صاحبزادے و صاحبزادیاں اپنی منہگی کاروں میں سیر سپاٹے میں مصروف ہوتے ہیں۔ ان کے بچے مصر اور مدینہ کے ‘فارن مدرسوں’ سے ڈگریاں حاصل کرتے ہیں۔ انکا مستقبل پہلے دن سے ہی روشن ہوتا ہے کہ یہاں والد بزرگوار کی رحلت کے ساتھ ہی انکا دینی اور علمی مرتبہ و مقام مع مدرسہ و جامعہ بغیر کسی چون و چرا کے ان کے حصّے میں صد فیصد چلا جاتا ہے۔
بہر حال،اصل مسئلہ علم کی تقسیم ہے۔ وہ تقسیم جس کی دریدگی قیامت کی صبح تک رفو نہیں ہو سکتی۔ دو گروہوں میں منقسم آدم زادے علم و عرفان کے دو لخت حصّے کرکے اپنی اپنی انانیت کی سرحد پرکھڑے ہیں۔ اور دونوں کو یہ زعم ہے کہ ان کے پاس ہی پورا علم ہے۔ جبکہ سچ یہی ہے کہ آدھا علم “مولوی” کے پاس ہے اور آدھا “ملحد” کے پاس۔ دونوں اپنے اپنے گھاٹ پر کھڑے ہیں۔ درمیان میں اس بیکراں کائنات کے انگنت رازھاۓ سر بستہ آج بھی اپنی نقاب کشائی کے لئے بے چین و بیتاب ہیں۔ بات تبھی بنے گی جب درمیان سے تفریق کی یہ دیوارگریگی۔ دونوں کے باہم مل جانے سے ہی دونوں انسانیت کی اصل خدمت کے لائق ہو سکیں گے اور خلق خدا کو بھی خدائی احکامات کی حکمت سمجھ میں آئیگی۔ کیونکہ دین حکم کی تعیین کرتا ہے اور سائنس اسکی حکمتوں کو اجاگر کرتا ہے۔ سچ تو یہی ہے کہ دونوں کے باہم مل جانے کے بعد سائنس دین کا ‘رقیب روسیاہ’ نہیں رہتا بلکہ ‘رفیق سرخ رو’ بن جاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *