رباعی کا فن اور اوزان کے تجر بے

امیرحمزہ 
ریسرچ اسکالر دہلی یونیورسٹی
رباعی کا نام ذہن میں آتے ہی اس کے بہت سارے مقتضیا ت ذہن میں آنے لگتے ہیں اور تاریخ کے نشیب وفراز میں ذہن گر دش کر نے لگتا ہے۔ ذہن سب سے پہلے رباعی کے متعلق تعارف چاہتا ہے کہ رباعی کس چیز کا نا م ہے اور اس کے فنی تقاضے کیا ہیں ۔
رباعی صورت کے اعتبار سے مختصر تر ین غزل اور سیر ت کے اعتبار سے مختصر تر ین نظم ہے ۔ رباعی ساخت کے لحاظ سے پچیس تیس الفاظ سے تر کیب یافتہ چار مصر عوں پر مشتمل صنف شاعری کا نام ہے ۔ پچیس تیس الفاظ سے مر کب چار مصر عوں کے اندر ایک جہان معنی آباد ہو تا ہے ۔ اسی لیے رباعی حکماء اور صوفیا کی محبوب تر ین صنف سخن رہی ہے ۔
رباعی عربی لفظ ربع سے مشتق ہے اس کے معنی چار چار کے ہیں ۔مگرشا عر ی کی اصطلاح میں رباعی اس صنف سخن کو کہتے ہیں جوبحر ہز ج کے اخر ب اور اخر م کے چوبیس اوزان میں سے کسی بھی وزن میں چار مصر عوں پرمشتمل ہو ، جس میں مضمون، خیال،فکر اور جذبہ کو تدریجی ارتقا کے ساتھ پیش کیا گیا ہو ۔
رباعی نگار کے لیے تسلسل بیان ،الفاظ و تر اکیب کا موضو ع اور بر محل استعمال کا خیال رکھنا بہت ہی ضروری ہو تا ہے۔گویا رباعی کا فن سمندر کو کوزے میں بند کر نے کا فن ہے ۔یہی وجہ ہے کہ رباعی گو کے لیے دیگر پابندیوں کے ساتھ ساتھ منا سب ،موزوں الفاظ اور دلکش اسلوب کا خیال رکھنا نہا یت ضر وری ہوتا ہے۔کیونکہ مذکور ہ صلاحیتوں کو بروئے کار لانا اعلی درجے کی رباعی کو وجود میں لانے کے لیے بہت ہی ضر وری ہے۔
قصیدے میں جس طرح تشبیب سے فضا ہموار کی جاتی ہے اسی طرح رباعی کے پہلے اور دوسرے مصر ع میں کہی جانے والی بات کی جھلکیا ں پیش کی جاتی ہیں ۔تیسرا مصر ع اوپر کے دونوں مصر عوں کے ساتھ چو تھے مصرع کے لیے ایک تیز ضرب تیار کر تا ہے جس سے چو تھا مصرع اتنا پر اثر ہوجا تا ہے کہ وہ مصر ع دل پر ناخن زنی کر تا ہے ۔اس چوتھے مصر ع میں اتنی بر جستگی ، بے ساختگی ،اور شدت ہو نی چاہیے کہ سننے والا مسحور ہوجا ئے ۔عام طور پرکامیاب رباعیوں میں پہلے تین مصر عوں میں تجسس بر قرار رہتا ہے اور چو تھے مصر ع میں اپنی تمام تر ڈرامائیت کے ساتھ سامع کے دل میں اتر جاتاہے ۔اسی وجہ سے رباعی کا سب سے جاندا رمصر ع چوتھا مصر ع ہوتا ہے ۔
رباعی کے متعلق جیسا کہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ایک ایسی حر م ہے جس میں ایک ہی خیال جا گزیں ہوتا ہے ۔رباعی کے پہلے مصرع میں خیال کو متعارف کیا جاتا ہے دوسرے مصرع میں اس خیال کی وضاحت ہو تی ہے ۔تیسرا مصرع رابطہ ہو تا ہے جو پہلے دو مصرعوں کو چوتھے مصرع سے ملاتا ہے اور چو تھا مصرع خیال کا نقظہ عروج ہوتا ہے ۔ ایک پنچ لائن ہوتا ہے جس کی گونج تا دیر سنائی دیتی رہتی ہے ۔بقول صائب تبریزی ۔’’از رباعی مصر ع آخر زند ناخن بہ دل ‘‘۔
رباعی فنی اعتبار سے دوسری اصناف سخن سے ایک حد تک مماثل نظر آتی ہے ۔غزل ،قصیدہ اور مثنوی کی کچھ کچھ خصوصیات رباعی میں بھی پائی جاتی ہیں ۔قصیدہ اور غزل کی طرح رباعی کے پہلے دو نوں مصر عے ہم قافیہ ہوتے ہیں مگر فرق یہ ہے کہ رباعی اپنے مخصوص وزن میں اور دو شعر وں میں محدود ہوتی ہے ،جن میں ایک ہی بات کہی جاتی ہے ۔مثنوی اور رباعی میں بھی ایک طر ح کی مماثلت پائی جاتی ہے کیونکہ جس طر ح مثنوی میں تسلسل بیان اور ارتقائے خیال پایا جاتا ہے اسی طر ح رباعی میں بھی تسلسل بیان اور ارتقائے خیا ل ہوتا ہے ۔
رباعی کے اقسام
رباعی اپنی ہیئت کے اعتبار سے کئی اقسام میں پائی جاتی ہے ۔عموما رباعی میں تین ہیئتیں ہوتی ہیں ۔رباعی خصی ، غیر خصی یا مستزاد ہوتی ہے ۔ رباعی خصی وہ رباعی ہے جس کا پہلا دوسر ا اور چوتھا مصرع ہم قافیہ ہو ۔رباعی خصی مقبول تر ین رباعی کی ہیئت ہے اسکی مقبولیت کا اندازہ ہمیں اس بات سے ہوتا ہے کہ ابتدا سے لیکر موجودہ دور تک خصی رباعیاں ہی کہی گئیں ہیں ۔
غیر خصی رباعیاں وہ رباعیاں کہلاتی ہیں جن کے چاروں مصر ع ہم قافیہ ہوں ۔ غیر خصی رباعی میں وہ تاثر نہیں پیدا ہوتا جوخصی رباعیوں میں پیدا ہوتا ہے کیونکہ تیسرا مصرع ہم قافیہ ہونے کی وجہ سے وہ تاثر پیدا کرنے میں نا کا م رہتا ہے جو ایک خصی رباعی کی خصوصیت ہو تی ہے ۔خصی رباعی کا تیسرا مصرع چونکانے والی کیفیت سے پر ہوتا ہے ،جس کی وجہ سے رباعی کے تاثر میں اضافہ ہو جاتا ہے جبکہ غیر خصی رباعی کا لہجہ سپاٹ ہوتا ہے ۔
مستزاد کے لغوی معنی بڑھا یا گیا ، زیادہ کیا گیا ہے ۔ عروض کی اصطلاح میں وہ شعر جس کے ہر مصرع یا بیت کے بعد ایک ایسا ٹکڑا منسلک ہو جو اسی مصرع کے رکن اول یا رکن آخر کے برابر ہو مگر خوبی یہ ہو کہ جس مصرع یابیت کے بعد آئے کلام اور معنی میں ربط بھی رکھتا ہو اور زائد بھی ایسا ہو کہ مصرع یا بیت معنی میں اس کی محتاج نہ ہو۔
مستزاد کی دو قسمیں ہیں (۱) مستزاد الزام (۲) مستزاد عارض
مستزاد الزام وہ ہے جس میں اضافہ کر دہ فقرے اصل شعر یا مصرع کے مفہوم کو بامعنی بنانے کے لیے ضروری ہو تے ہیں ۔ مستزاد عارض وہ ہے جس میں مستزاد اصل شعر یا مصرع سے مکمل طور پر میل نہیں کھاتا بلکہ اس کے بغیر بھی کلام با معنی رہتا ہو۔
رباعی کے اوزان
رباعی کے مشہور و معروف چوبیس اوزان ہیں ، تمام اوزان بحر ہزج کے زحافات سے مستخر ج ہیں ۔سوال یہ پیداہوتا ہے کہ پھر رباعی کے بنیادی اوزان کتنے ہیں ۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ رباعی کے بنیادی اوزان دو ہیں یا چاراور تخنیق کے عمل سے یہ چوبیس اوزان ہوجاتے ہیں ۔
تخنیق کا عمل اس طر یقے سے ہوتا ہے کہ کبھی کبھی مصر ع کی تقطیع کر نے پر دو ایسے افاعیل ایک جگہ جمع ہوجا تے ہیں کہ ان کے جمع ہوجانے سے تین لگا تار متحر ک حرو ف جمع ہوجاتے ہیں ۔ان تین لگا تا ر متحر ک حرو ف میں سے بیچ والے حرف کو ساکن کر دینے کو ہی تخنیق کہتے ہیں ۔اگر ایک ہی افاعیل میں تین لگاتار حروف متحر ک جمع ہو جا ئے اور اسمیں حر ف اوسط کو ساکن کر دیا جائے تو اس کو تخنیق نہیں ’’تسکین اوسط‘‘کہا جاتا ہے ، جیسے مُفتَعِلُن میں ت، ع اور ل متحر ک ہیں اور ان تینوں میں حر ف ع اوسط ہے اس کو ساکن کر دیا تو مُفتَعْلُن (مُف، تَع،لُن) ہوگیا ۔ مُفتَعْلُن عروض میں کوئی رکن نہیں ہے اس لیے اس کو مفعولن سے بد ل دیتے ہیں ۔ مُفتَعْلُن اور مفعولن دونوں وزن میں برا بر ہیں ،اس کو تسکین اوسط کہتے ہیں تخنیق نہیں ۔
تسکین اوسط کی مثال کو سمجھ لینے کے بعد اب تخنیق کی مثا ل سمجھتے ہیں ۔اس کے لیے ’’لا حول و لا قوۃ الا با للہ ‘‘کا وزن ’’ مفعولُ ، مفاعیلُ ، مفاعیلن ، فاع ‘‘ کو لیتے ہیں ۔اس میں مفعول کا ’ل‘ متحر ک ہے پھر مفاعیلُ کی ’م ‘ اور ’ف‘ بھی متحر ک ہے ۔ یہ لگاتا ر تین متحر ک حر وف ایک رکن میں نہیں بلکہ دو رکن مفعو لُ اور مفاعیلُ میں ہے ۔ان تینوں حر وف میں بیچ والا حر ف ’م ‘ہے اس کو ساکن کر دیا ۔ اب مفعولُ کا ’ل‘ اس ’م ‘ میں مل جائیگا اور یہ مفعولم، فاعیلُ پڑھا جائیگا ۔اور یہ امر واضح ہے کہ مفعولم عروض میں کوئی رکن نہیں ہے اس لیے اس کو مفعولن سے بدل دیتے ہیں ۔اب مندر جہ بالا وزن اس طر ح ہوگیا۔ مفعولن ،فاعیل، مفاعیلن ، فاع ۔
مفعولن ،فاعیلُ، مفاعیلن ، فاع ۔اس میں دیکھیے کہ فاعیلُ کا ’ل ‘ متحر ک ہے اور مفاعیل کا ’م ‘ اور ’ف ‘ بھی متحر ک ہے ۔ گو یا یہاں بھی ان دونوں ارکان کے درمیان تین لگاتار حرو ف متحر ک ہیں ۔اب اس میں ہم بیچ والے حر ف میم کو ساکن کر دیتے ہیں ۔اب یہ فاعیلم، فاعیلن، فا ع ہوگیا یعنی پورا وزن مفعولن ، فاعیلم، فاعیلن، فا ع۔ یہاں پر دیکھیے کہ فاعیلم اور فاعیلن عر وض کے ارکان نہیں ہیں اس لیے فاعیلم کو مفعولن سے اور فاعیلن کو مفعولن سے بدل دیتے ہیں ۔ اب وز ن بن جاتا ہے مفعولن ، مفعولن، مفعولن ، فاع ۔ اسی طر یقے سے تخنیق کے عمل سے اوزان بنتے رہتے ہیں ۔
جس بات کا ذکر اوپر آیا تھا کہ تخنیق کے عمل سے دو یا چار اوزان سے رباعی کے چوبیس اوزان بن جاتے ہیں ۔ آخر وہ اوزان کون سے ہیں جن پر تخنیق کے عمل کر نے سے اوزان کی تعداد ۱۲ ہوجاتی ہے ۔ وہ دو اوزان یہ ہیں ۔
مفعول مفاعلن مفاعیلُ فعل
مفعول مفاعیلُ مفاعیلُ فعل
اصولی طور پر ان اوزان میں تخنیق کے عمل کر نے سے ۱۲ اوزان بن جاتے ہیں اور ان کا آخر ی رکن یا تو ’ فع ‘ ہوتا ہے یا ’فعل‘ ۔۱۲؍ اوزان سے ۲۴؍ اوزان بنانے کا ایک طر یقہ یہ ہے کہ فع کی جگہ فاع اور فعل کی جگہ فعول رکھ دیتے ہیں تو ان اوزان کی تعداد ۲۴ ہو جاتی ہے ۔ لیکن یہ اصولی طر یقہ نہیں کہلاتا ۔ اصولی طریقہ یہ ہے کہ مندرجہ بالا دو اوزان کے ساتھ مندرجہ ذیل دو اوزان میں بھی تخنیق کا عمل کیا جائے ۔
مفعول مفاعلن مفاعیلُ فعول
مفعول مفاعیلُ مفاعیلُ فعول
ان چاروں اوزان میں تخنیق کے عمل کر نے سے رباعی کے اوزان چوبیس ہوجاتے ہیں ۔
اس بات کا خیال عام ہے کہ جب سے رباعی کا وجو د میں آئی ہے تب سے اس کے اوزان ۲۴؍ ہی رہے ہیں اور ان اوزان کا سہرا رودکی کے سر جاتا ہے۔ اگر چہ اس بات کی کوئی ثبوت نہیں ہے مگر پھر بھی ان اوزان کو رودکی کے اوزان کہا جاتا ہے ۔پانچویں صدی ہجری سے لیکر چودہویں صدی ہجر ی تک اس کے اوزان چو بیس ہی رہے ۔لیکن چودہویں صدی ہجر ی میں مجسم عروض جنا ب علّام بھگوان چندر بھٹناگر سحر عشق آبادی نے اس میں ۱۲ اوزا ن کے اور اضافہ کیے اور رباعی کے اوزان کو انہوں نے ۳۶ ؍کر دیا ۔اضافہ شدہ اوزان رباعی کے اوزان کا ایک قاعدہ ’’وتد پئے وتد اور سبب پئے سبب‘‘ کی بنیاد پر ہی مبنی ہے ۔ لیکن جہاں تک ان اوزان کے تسلیم کرنے کی بات ہے تو ان اوزان کو پروفیسر عنوان چشتی اور زار علامی کے علاوہ کسی نے تسلیم نہیں کیا ۔یہ بات بھی ہے کہ کسی نے انکار بھی نہیں کیا ۔سحر عشق آبادی نے ۱۲؍ اوزا ن کا اضافہ کر کے ۳۶؍ اوزان کیے تھے۔ ان کے بعد انہی کے شاگر دزار علامی نے ان ۳۶؍ اوزان پر مزید ۱۸؍نئے اوزان کا اضافہ کر کے رباعی کے اوزان کی تعداد ۵۴؍ کردی اور اعلان بھی کر دیا کہ یہ آخر ی حد ہے ،اس سے زیاد ہ اوزان وضع نہیں کیے جاسکتے ۔زار علامی کے اوزان بھی رباعی کے اوزان کے قاعدے کے مطابق ہیں ۔لیکن ان اوزان کی تائید میں کہیں سے کوئی آواز بلند نہیں ہوئی ۔البتہ موجودہ وقت میں کندن لال کندن نے سحر عشق آبادی کے بارہ اوزان کو پیش کیا ہے اور انہوں نے اپنی رباعیات میں ان اوزان پر تجر بہ کیا ہے اور اپنی رباعیوں کوبھی اس وزن میں ڈھالاہے ۔
رباعی گو شعر ا کے لیے یہ ضروری نہیں کہ رباعی کا پہلا مصرع اگر اس نے ایک وزن میں کہا ہے تو بقیہ مصرع بھی اسی وزن میں ہوں بلکہ وہ ان مختلف اوزان میں سے کسی بھی وزن کا استعمال کر سکتا ہے ۔بعض شاعر وں نے اخر ب اور اخر م کے اوزان کو آپس میں ملانے پر اعتراض کیا ہے ۔ لیکن اکثر شاعر وں نے اس قسم کی پابندی کو روا نہیں رکھا ،یعنی ایک ہی رباعی میں مختلف اوزان آسکتے ہیں ۔
رباعی گو شعر اکے لیے بعض عروضیوں نے یہ پابندی بھی لگائی تھی کہ اخر ب اور اخر م کے اوزان کو تو آپس میں ملا سکتے ہیں مگر جب مصرع اول و دوم میں فعول اور فاع آگیا تو تیسرے اور چوتھے مصرع میں بھی فعول اور فاع کا لانا ضروری ہے ۔لیکن عام طور پر رباعی گو شعرا نے صرف اس بات کا خیال رکھا ہے کہ چو بیس اوزان میں سے کوئی بھی ایک وزن رباعی میں نظم کیا جاسکتاہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *