جدید ہندوستان، فرقہ پرستی، اورملی قیادت 

 
(ساتویں قسط)
نجم الہدیٰ ثانی
جدید ہندوستان میں ‘ملی قیادت’ کا پہلا سنگِ میل
مگر ملی قیادت ہے کیا؟ میرے خیال میں سیاسی اقتدار کے عہد زوال میں یا اس کے مکمل خاتمےکے بعد دانشوران قوم بالخصوص علماء کا مسلمانوں کے اجتماعی مسائل و معاملات میں نئے خطوط پر رہنمائی کے لئے منظم کوششوں کو ہم ‘ملی قیادت’ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ 18 ویں صدی کے وسط میں حضرت شاہ ولی اللہ ؒ کی مذہبی اور سیاسی سرگرمیوں سے علماء کی ملی قیادت کاپہلا دور شروع ہوا جو 19 ویں صدی کے وسط میں دیوبندنامی قصبہ میں ایک چھوٹے سے مدرسہ کے قیام پر ختم ہوتا ہے۔ 1857 میں اقتدار سے بے دخلی کے بعد مسلمانوں کے لئے سب سے بڑ ا مسئلہ یہ تھا کہ تبدیل شدہ سیاسی اور معاشرتی حالات کے تئیں انفرادی او راجتماعی سطح پر ان کا رویہ کیا ہو؟ آئندہ چار پانچ دہائیوں میں مسلم ڈسکورس تعلیم اور سماجی سدھار – میں یہاں دانستہ’اصلاح معاشرہ’ کی اصطلاح استعمال نہیں کر رہا ہوں کیونکہ اب اس کا استعمال بہت محدود مذہبی معنی میں ہوتا ہے – کے ارد گرد گھومتا رہا۔ اس دور میں علماء نے رئیر گارڈ ایکشن یا رضاکارانہ پسپائی کی پالیسی اختیار کر کے اپنی سرگرمیوں کو مذہبی تعلیم اور عوام کی فقہی اور انفرادی دینی ضرورتوں کی تکمیل تک محدود کر لیا۔ عہد وسطی ٰ کے برعکس پہلی بار عوام اور علماء میں قریبی روابط پیدا ہوئے ۔ بادشاہ اور امراء کی سرپرستی سے محرومی کے بعد مسلمان اہل ثروت اور عوام نے علماء کی معاشی ضرورتوں کا بیڑا اٹھا یا۔ روابط اور تعلقات میں ان بنیادی نوعیتوں کی تبدیلی کے بعد علماء اور عوام میں وہ مضبوط تعلق پیدا ہو گیا جس کا وجود عہد وسطیٰ میں نہیں ملتا ہے۔ اسی وجہ سے ریاستی سرپرستی سے محرومی کے باوجود علماء نے اس دور میں جو زمینی اور ٹھوس کام انجام دئے وہ اپنے اثرات کے اعتبار سے ہمہ گیر بھی تھے اور دور رس نتائج کے حامل بھی ۔
جدید تعلیم اور تہذیب کے فروغ کے لئے سر سید کی علمی اور تعلیمی کوششوں سے اعلا ذات کے مسلمانوں میں ایک ایسا متوسط طبقہ وجود میں آگیا جس نے عہد وسطیٰ کے جاگیرداروں کے خاتمےسے پیدا ہونے والے سماجی خلاء کو پر کیا۔ مگر سر سید سے فکری تعلق کے دعووں کے باوجود ملی محاذ پر یہ طبقہ ہمیشہ راسخ العقیدہ مذہبی طبقہ کی سند اور سرپرستی کا محناج اور اس کے زیر اثر رہا۔
جدید ہندوستان میں ملی قیادت کا یہ پہلا سنگ میل تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *