جدید ہندوستان، فرقہ پرستی، اورملی قیادت

(پانچویں قسط)
نجم الہدیٰ ثانی
یہاں مزید تین عوامل کا تذکرہ بھی ضروری ہے جس نے شہروں سے دور دیہات اور قصبات کی روادار اور پر امن فضاؤں کو بھی فرقہ پرستی کے زہر سے مسموم کر دیاہے۔یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ بڑے شہروں کے آرام دہ کمروں میں بیٹھےنفرت کے آڑھتیوں کو پھیرے لگانے والے انہیں گاؤوں اور چھوٹے شہروں سے ملتے ہیں۔
ہندوستان میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات بالعموم شہروں میں ہوتے ہیں ۔دیہی علاقے اس درندہ کا فطری مسکن نہیں ہے۔ مگر اب یہ ان علاقوں میں بھی آ نکلتا ہے۔اس سلسلے میں اقتدار کےعدم ارتکاز کے نظریئے کے تحت ہونے والے پنچائتوں اور کونسلوں کے انتخابات کا ہندو-مسلم تعلقات پر مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لینا بہت ٖضروری ہے۔ کیو نکہ ان مواقع پر یہ پر امن جزیرے بھی نفرت کے تھپیڑو ں کی زد میں آ جا تےہیں۔ انتخابات تو دیر سویر گزر جاتے ہیں مگر اپنے پیچھے سماجی تعلقات میں ڈھیر ساری تلخیاں چھوڑ جاتے ہیں جو بارود کا کام کرتی ہیں اور کوئی معمولی واقعہ یا حادثہ ان کے لئے چنگاری کا کام دیتا ہے۔
اسی طرح فرقہ پرستی کے نفوذ اور فرقہ وارانہ فسادات کے موقع پرالیکڑانک اور سوشل میڈیا ، بالخصوص علاقائی میڈیا، کے رول کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان ذرائع سے اگر ایک جانب معلومات اور انٹرٹینمنٹ پروسا جاتا ہے تو دوسری جانب ‘اندرونی ہندوستان’ یعنی دور افتادہ گاؤں اور قصبوں تک وہ آوازیں بھی پہونچ جاتی ہیں جو نفرت کی پرستار اور فرقہ پرستی کی علمبردار ہیں۔ اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ یہاں میڈیا کی نیت پر حملہ نہیں کیا جارہا ہے بلکہ اس بات کا تجزیہ مقصود ہے کہ اسے کس طرح فرقہ پرستی کے لئے استعمال کیا جارہا ہے یا وہ خبر رسانی کا فرض ادا کرتے کرتے کس طرح غیر شعوری طور پرفرقہ پرستوں کے کام آ جاتا ہے۔
فرقہ پرستی کے فروغ میں غربت بھی ایک اہم عامل ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ غربت اور فرقہ پرستی لازم و ملزوم ہیں اور سماج کے غریب طبقات فطرتاً تشدد پسند اور فرقہ پرست ہوتے ہیں۔ یہاں اس سے مراد یہ ہے کہ دائیں بازو کے انتہا پسندوں کو جب بھی امن عامہ میں خلل ڈالنا ہوتا ہے وہ لالچ دےکر اور دھونس جما کر غریبوں کا استعمال کرتے ہیں ۔ غربت اور بے بسی کے چکر ویوہ میں صدیوں سےپھنسے یہ مجبور لوگ جب تشدد پر آمادہ ہوتے ہیں تو یہ کسی نظریہ اور پالیسی کے تحت نہیں ہوتا بلکہ ان کے سامنے دو وقت کی روٹی اور اپنے معصوم بچوں کا بھوک سے مرجھایا چہرہ ہوتا ہے۔
جدید ہندوستان میں جمہوریت کی بظاہر چہل پہل کے باوجود فرقہ پرستی کی ‘مقبولیت ‘ کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے دیگرکئی ایشیائی اور افریقی ممالک کی طرح ہمارے ملک میں بھی جمہوریت ایک طرز زندگی ، رویے اور اگر ایک لفظ میں کہا جائے تو ایک بنیادی اخلاقی قدر کی حیثیت سے عوام کی انفرادی اور سماجی زندگی میں راسخ نہیں ہو سکی ہے ۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں جمہوریت کو صرف ایک طرز حکومت سمجھا گیا ہے جس کا تعلق خاندان، تعلیم، ادب، تربیت، ادارہ سازی، دفتر، باہمی تعلقات، مجلسی گفتگو، وغیرہ سے نہیں سمجھا جاتا ہے۔ اسی لئے نئی نسل سے یہ توقع رکھنا کہ گھر کی چار دیواری میں اپنی ماں اوربہنوں کے حقوق کی پامالی دیکھنے کے بعد جب وہ عملی زندگی میں قدم رکھے تو جمہوری اقدار اور اخلاقیات کی علمبر دار ہو ،سادہ لوحی ہوگی۔ اس لحاظ سے ہندوستانی سماج میں مذہب اور جمہوریت کی حالت بہت حد تک یکساں ہے۔ یہاں مذہبی رسوم و تقریبات انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جاتی ہیں مگر مذہبی اقداروروحانیت، جو ان کا مقصود ہے، عنقا ہے۔ اسی طرح انتخابات کو’جشن جمہوریت’ سمجھ کر بڑے جوش و خروش کے ساتھ منا یا جاتا ہے مگر جمہوری قدروں کی پاسداری کی بات دیوانے کی بڑ سمجھی جاتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *