جدید ہندوستان، فرقہ پرستی، اورملی قیادت

(دوسر قسط)
نجم الہدیٰ ثانی
آگے بڑھنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس مضمون کے مرکزی الفاظ – جدید ہندوستان، فرقہ پرستی اور ملی قیادت – کے مفہوم مختصراًواضح کردئے جائیں تاکہ آنے والے مباحث کوسمجھنے میں آسانی ہو۔
‘جدید ہندوستان ‘سے مراد 1857 کے بعد سے اب تک کا زمانہ ہے۔
فرقہ پرستی سے مراد’ حقائق کے متعلق افراط و تفریط پرمبنی وہ ذہنی و عملی رویہ ہے جس کا حامل فرد یا سماج زندگی کے مسائل اور امکانات کوکسی مخصوص سماجی اکائی یا گروہ کےمخصوص مفادات کی عینک سے دیکھتا ہے اور دیگرافراد و سماجی اکائیوں کے متعلق نفرت، شک، اور خوف کے جذبات رکھتا ہے،اور اس کا بدترین اظہارفرقہ وارانہ تشدد اور فسادات کی شکل میں ہوتا ہے۔اس رویے کی تشکیل میں بے شمار چھوٹے بڑے عوامل اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہیں مگر مذہب کا حصہ بوجوہ زیادہ ابھر کر سامنے آتا ہے’۔
ملی قیادت سے میری مراد ‘وہ تنظیمیں اورجماعتیں ہیں جن کی سرگرمیوں کا محورہندوستانی مسلمانوں کی فلاح و بہبود اور ان کے مسائل کا حل ہے’۔
اس اعتراف کے ساتھ کہ فرقہ پرستی اور ملی قیادت کی مذکورہ بالا تعریف یا وضاحت کئی وجہوں سے ناقص ہے ہم اب نفس مسئلہ کی طرف آتے ہیں کیوں کہ اس مضمون کا مقصدفی نفسہ ان الفاظ کی جامع اور مانع تعریف متعین کرنا نہیں ہے۔
جدیدہندوستان،انتخابی جمہوریت، اورفرقہ پرستی
عام طور پر ہندوستانی تاریخ میں جدید دور کا نقطہ آغاز 1857 کی جنگ آزادی کو مانا جاتا ہے۔گویا عہد وسطیٰ کی مغلیہ سلطنت اور تاج برطانیہ کے جدید ہندوستان کے مابین 1857 ایک حد فاصل ہے۔ اس کے بعد کی ایک صدی اس لحاظ سےبہت اہم ہے کہ اسی دور میں ہندوستانی قوم کےاس سیاسی اور فکری ما ہئے کی تشکیل ہوتی ہے جس کا منطقی نتیجہ آئینِ ہند کی تریب اور نفاذ کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ اس دور کے سیاسی، سماجی ، مذہبی،اور فکری معرکوں نے جدید ہندوستان اور ہندوستانی سیاسی قومیت کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ہمارے موضوع کے اعتبار سے یہ بات دلچسپ ہے کہ عہد وسطیٰ سے عہد جدید تک کے سفر میں ہندوستانی سماج میں فرقہ پرستی کے تعلق سے فکری اور عملی دونوں سطح پر ایک نمایاں تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔
مغلیہ عہد میں شاہی طرز حکومت کی وجہ سے فرقہ پرستی کو ابھر نے اور پھلنے پھولنے کا کوئی موقع نہیں ملا ۔ ایسا ممکن بھی نہیں تھا کیونکہ ملوکیت میں حکمرانوں کو اپنے اقتدار کے لئے کسی مخصوص مذہبی یا سماجی اکائی کی حمایت کی مطلق ضرورت نہیں ہوتی ہے بلکہ، جمہوریت کے برعکس، ہر کوئی ان کی خوشنودی کا طالب ہو تا ہے۔نیز اس طرز حکومت میں بغاوت اور لا قانونیت کسی صورت برداشت نہیں کی جاتی ہے اورشر پسند عناصر کی سرکوبی فی الفور کی جاتی ہے۔
اس دور میں فرقہ پرستی یا اس پر مبنی تشدد کے نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ تب فرقہ وارانہ تشدد صرف دو مذاہب کے ماننے والوں کےدرمیان تصادم سے زیادہ اس علاقے میں ریاست یا بادشاہ کے مخالفین کے لئے اشارہ ہو تا کہ ابھی بغاوت کے لئےحالات سازگار ہیں ۔ ان وجوہات سے فرقہ پرستی کی سیاسی سرپرستی عہد وسطیٰ میں ممکن تھی اور نہ مطلوب۔
انگریزوں کے دور میں بھی استبدادی طرز حکومت کی وجہ سے یہی صورتحال برقرار رہنا چاہئے تھا مگر اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کی خاطرانگریزوں نے جب بھی مناسب خیال کیا علمی اور انتظامی دونوں سطح پر ہندوؤوں اور مسلمانوں کے مابین شک و شبہ اور نفرت کو ہوا دینے کی کوشش کی۔اسی لئے عہد وسطی کے بر خلاف جدید ہندوستان میں معمولی معمولی باتوں کی وجہ سے فرقہ وارانہ تشدد معمول بن گیااور ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین شک وشبہ اور عداوت کی وہ خلیج پیدا ہو گئی جو آج تک پاٹی نہیں جا سکی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *