تاریخ اہل حدیث جنوبی ہند کے درخشاں پہلو:کیا حقیقت ،کیا فسانہ؟


کاشف شکیل
(دوسری اورآخری قسط)
مواد کیسے فراہم ہوا؟:
اولاE-Library سے کافی آسانی ہوگئی، نیز اس فن سے دلچسپی رکھنے والوں سے مسلسل میرا رابطہ رہا، بعض اہم کتابوں کا پی ڈی ایف فائل احباب کے توسط سے پہنچا، محی الدین آلوائی کی کتاب غالبا مرشد عبدالقدیر بھائی نے بھیجی تھی، ڈاکٹر عبدالرحمن فریوائی ایک بار آئے ،تو ان سے نزہۃ الخواطر کی سافٹ کاپی مانگی، جو حاصل ہوئی، فجزاہ اللہ خیرا، اسی طرح حیدرآباد کے سفر میں مولانا رفیق سلفی سے اس سلسلے میں گفتگو ہوئی، مولانا عبدالرحمن فاروقی صاحب امیر جمعیت حیدرآباد سے مولانا عبدالسلام ندوی، مولانا عبدالحی حیدرآبادی اور دیگر حیدرآبادی علما کے سلسلے میں تفصیلی گفتگو ہوئی، مولانا ابوتمیم محمدی کے سلسلے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے ان کے گھر جانا ہوا، وغیرہ۔
اسی طرح یہ مواد مختلف کتابوں بطور خاص: نذرانہ اشک، عکس حیات، مجھے یاد آنے والے، مجلہ اہل حدیث شکراوہ، چمن جامعہ کے باغبان، نقوش حیات، مخیر اعظم،تذکرہ واجدی، تذکرۃ المناظرین، مسیحا نفس، اخبار اہل حدیث امرتسر، جامعۃ المفلحات کی سالانہ میگزین، نورالایمان، صوت الحق، نوائے اسلام، حیات مسیح، اہل حدیثوں کے حق میں عدالت کا تاریخی فیصلہ نیز ابو یحیی امام خان نوشہروی، خالد حنیف صدیقی، عبدالرشید عراقی، اسحاق بھٹی، قاضی اطہر مبارکپوری، شیخ محمد اکرام، معبری،آلوائی، ڈاکٹر بہاء الدین، عطاء اللہ حنیف بھوجیانی، اسلم سیف فیروزپوری، یوسف کوکن عمری، نذیر احمد املوی، غلام رسول املوی، ڈاکٹر قیام الدین احمد، رفیع اللہ مسعود تیمی، سید عبدالحی حسنی، سید اسماعیل رائیدرگی، حبیب الرحمن اعظمی، ابو الفضل عبدالحنان، حکیم اجمل خان وغیرہم ۔غفر اللہ لہم۔ کی تحریروں سے لیا گیا ہے۔
قارئین خود سوچیں کہ اگر سارا مواد جامعی صاحب کا تھا تو فہرست مراجع ومصادر چہ معنی دارد؟!۔
ایک اہم اور ضروری بات:
یہاں یہ ذکر کردینا بہت ضروری سمجھتا ہوں کہ مذکورہ بالا صفحات کے علاوہ جو صفحات ہیں ،ان کا بھی مکمل مواد شیخ عبدالوہاب جامعی صاحب کا نہیں ہے؛بلکہ اس کا بعض حصہ ہے، مگر چونکہ ان کی جزئیات کا ذکر طویل اور ذرا پیچیدہ ہے؛اس لیے اس کو نظر انداز کیا جارہا ہے، البتہ قارئین اتنا جان لیں کہ عام طور پر جامعی صاحب کا ذاتی مواد ان کے واقعات اور مشاہدات ہیں ،جو بمشکل کتاب کا دو فیصد حصہ ہیں اور اگر بہت مبالغہ کیا جائے، تو پانچ فیصد سے تجاوز نہیں کرسکتے۔
قارئین یہاں یہ بات یاد رکھیں کہ یہ گفتگو کتاب کے مواد کے تعلق سے ہو رہی ہے، ترتیب کے تئیں نہیں، ترتیب کے سلسلے میں تفصیلی گفتگو اوپر گزر چکی ہے۔ گویا کتاب کی ترتیب تو میں نے دی ہی ہے، پلس کتاب کا مواد فراہم کرنے میں بھی الحمد للہ میرا کلیدی اور اساسی کردار رہا ہے۔
کتاب کی ترتیب کے سلسلے میں میری دلچسپی:
کتاب کے سلسلے میں میری دلچسپی بیان سے باہر ہے، ادارہ کاملازم ہوئے ایک ماہ گزر گیا، مگر میں نے تنخواہ کے سلسلے میں گفتگو تک نہیں کی، مجھے اس موضوع سے بے حد لگاؤ تھا، چونکہ ابھی میں نیا نیا فارغ ہوا تھا اور اس قسم کا عظیم الشان کام مجھے مل گیا؛ اس لیے میری خوشی دیدنی تھی اور حوصلہ آسمان پر تھا۔عموما میں صبح آٹھ نو بجے سے ترتیب میں مشغول ہوتا ، تو عشاتک یہی کام جاری رکھتا، سوائے کھانے پینے، ضروری حاجاتاور نماز کے وقفہ کے۔ میں جتنے دن رہا ،کبھی دن میں آرام نہیں کیا ،الا ماشاء اللہ، جمعہ یا یکشنبہ کسی دن بھی میں تعطیل نہیں کرتا تھا؛ بلکہ بسا اوقات میں فجر کے بعد ہی سے کام شروع کر دیتا تھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس کام کے دوران میں نے شیخ عبدالوہاب جامعی صاحب کے ادارہ کی لائبریری کو تین بار مکمل طور پر کھنگالا ہے۔
اضلاعِ کرناٹک میں دعوت اہل حدیث کی ابتدا پر میرا کام:
اسی طرح میں نے اضلاعِ کرناٹک کے مختلف علاقوں میں اہل حدیثیت کی ابتدا کیسے ہوئی؟وہاں کی جماعت کے مؤسس اور جمعیت کے بانی کون ہیں؟ وہاں کی اہم مساجد کب بنیں؟ وغیرہ پر تقریبا 70 صفحات مرتب کیے تھے۔ ارادہ یہی تھا کہ وہ قیمتی صفحات اس گرانقدر کتاب کا حصہ ہوں گے، مگر یہ دیکھ کر شدید دھچکا لگا کہ وہ اہم ترین صفحات اِس کتاب کا حصہ نہیں ہیں فالی اللہ المشتکیٰ! پتہ نہیں اس کارِ عجیب میں کیا مقاصد پنہاں ہیں؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ قیمتی صفحات اگلے ایڈیشن کی زینت بنیں،یا پھر مستقل طور سے کسی کے نام سے شایع کیے جائیں!
دراصل شخصیات پر لکھتے وقت میں اس بات کا خیال رکھتا تھا کہ کن کے ذریعہ کہاں کی جمعیت اور کون سی مسجد کی بنا پڑی؛چنانچہ اس کو الگ کاپی میں لکھ لیتا تھا، آخر میں ان تمام معلومات کو میں نے تقریبا 70 صفحات میں( King size کاپی میں بغیر سطر چھوڑے ہوئے) مرتب کیا تھا۔ اس میں میسور کے مقامات میں دعوت اہل حدیث کی ابتدا کے سلسلے میں ’’عکسِ حیات‘‘ از ڈاکٹر صبغۃ اللہ سے کافی استفادہ کیا تھا۔
ابتدا سے انتہا:
تاریخ اہل حدیث کی ترتیب کے لیے میں ’’اسلامیہ مینارٹی ایجوکیشنل اینڈ ویلفیر ٹرسٹ‘‘ کا 5 فروری 2017 کو ملازم مقررہوا، 8 تاریخ سے میں اپنے کام میں کمال تندہی سے مشغول ہوگیااور یہ سلسلہ بلا ناغہ وبلا تعطیل مسلسل جاری رہا، یہاں تک کہ 29 مارچ 2017 تک 200 سے زائد صفحات مرتب ہوگئے، جیسا کہ شیرخان صاحب سے اس وقت ہوئی مراسلت میں اس کاذکر ہے۔
کام کا یہ سلسلہ بلا انقطاع جاری رہا اور میں اپنے کام میں پوری محنت کے ساتھ لگا رہا، یہاں تک کہ جب رمضان قریب آیا، تو مولانا نے مجھ سے کہا کہ’’آپ اس مہینہ گھر نہ جائیے ،جلد ہی جب کام مکمل ہوجائے گا ،تب گھر جائیے گا‘‘؛ چنانچہ میں نے رمضان میں بھی کام کا سلسلہ جاری رکھا اورعید والدین، بھائی بہنوں اور اعزا واقارب کے ساتھ کرنے کے بجائے وہیں پردیس میں کی۔
لکھنے اورکمپوزنگ کرنے کا طریقہ:
لکھنے اورکمپوزنگ کرنے کا طریقہ یہ تھا کہ میں مرتب شدہ معلومات کاپی پر لکھتا تھا، ایک کاپی مکمل ہو جاتی، تو اس کو خلیل الرحمن محمدی کو بھیج دیا جاتا تھا ،جو کمپوزنگ کرتے تھے، جیسا کہ کتاب میں کمپوزنگ کے خانہ میں انہی کا نام ہے، یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہا، ادھر کتاب کا ایک حصہ مرتب ہوتا اور اُدھر اس کی کمپوزنگ، یہاں تک کہ کتاب کی ترتیب مکمل ہوگئی اور پروف ریڈنگ کا مرحلہ شروع ہو گیا۔
میری گھر واپسی:
ترتیب کا کام ختم ہونے کے بعد اب مجھے گھر واپس آنا تھا؛ چنانچہ 25 اگست 2017 کا بنگلور سے لکھنؤ کا میرا ٹکٹ نکالا گیا، جسے خودشیخ عبد الوہاب جامعی صاحب نے یہ کہہ کر بنوایا تھا کہ اس وقت تک پروف ریڈنگ وغیرہ کا کام بالکل مکمل ہوجائے گااور آپ کے ذمہ کوئی کام باقی نہیں رہ جائیگا؛لہذا آپ آسانی سے گھر جاسکیں گے، مگر اس متفقہ وقت موعود سے محض گیارہ روز قبل 14 اگست 2017 کو مولانا نے یوں ہی ایک چھوٹی سی بات پر اس قدر’’شیریں گفتاری‘‘ سے کام لیا کہ میرا دل اُچاٹ ہوگیا اور میں نے وہاں رہنا مناسب نہ سمجھا(واضح رہے کہ اس بحث کی مختصر سی آڈیو میرے پاس محفوظ ہے)؛ چنانچہ میں نے اس حادثہ کے دو دن بعد 16 اگست 2017 کو مولانا کا ادارہ چھوڑ دیا۔اِدھر ابھی کچھ دنوں سے میں مسلسل مولانا کو فون کر رہا ہوں، مگر وہ ریسیو نہیں کر رہے ہیں، تین بار ریسیو بھی کیا، تو بات کرنے سے انکار کردیا۔
کتاب میں موجودعرض مرتب کے ایک پیراگراف کا جائزہ اور اس پر میرا تبصرہ:
شیخ عبد الوہاب جامعی حفظہ اللہ عرض مرتب کے آخری حصہ میں فرماتے ہیں: ’’پھر ادارہ اسلامیہ ایجوکیشن ٹرسٹ ہرپن ہلی کے سابق موظف نوجوان عالم مولوی کاشف شکیل عالیاوی حفظہ اللہ ہیں، جو چند ماہ تک اس کام میں میرے معاون رہے، تقریبا بیس سال سے میرے پاس جمع شدہ علمی مواد کو نقل کرنے کی ذمہ داری احسن طریقہ سے نبھاتے رہے، لمحہ بہ لمحہ کتاب میری نگرانی میں ترتیب دی جا رہی تھی، کتاب کے مکمل ہونے میں کافی کام باقی تھا کہ وہ اس سے دستبردار ہوگئے‘‘۔
اس پیراگراف پر میرا تجزیہ نکات کی صورت میں درج ذیل ہے:
1۔ آپ کے بقول میں ادارہ کا موظف تھا ، نہ کہ آپ کا ذاتی، جیساکہ آپ نے خود واضح کیا ہے اور ادارہ عوامی ہے، جس کے مہتمم اور نگرانِ اعلی آپ ہیں۔
2۔ کاش سابق موظف کے ساتھ ساتھ آپ کھلے دل کے ساتھ پوری شفافیت سے یہ بھی بتا دیتے کہ میرا کام کیا تھا یا میں کس کام پر مامور تھا؟واضح رہے کہ میں ادارہ میں نہ مدرس تھا، نہ کچھ اور، سوائے اس کے کہ میرا کام تاریخ اہل حدیث جنوبی ہند کی ترتیب تھا۔
3۔ ’’چند ماہ تک‘‘: آپ نے اس کی وضاحت کیوں نہیں کی کہ یہ دورانیہ 5 فروری 2017 سے 14 اگست 2017 تک کا تھا۔
نیز کیا چند ماہ کہہ کر آپ میرے کام کو کم ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ اور کیا واقعتا ایسا کیا جا سکتا ہے!؟
مثلا (واضح رہے کہ یہاں کلی تشبیہ مراد نہیں ہے؛ بلکہ محض وجہِ شبہ واضح کرنا مقصود ہے) اگر کوئی شیخ الاسلام امرتسری مرحوم کی ان کتابوں کے سلسلے میں، جو انھوں نے ایک یا دو دن میں تصنیف کی ہیں، یہ کہے کہ انھوں نے اس کتاب کے لیے ایک یا دو دن کا وقت نکالا،تو کیا اس سے یہ لازم آئے گا کہ یہ کتاب ان کی تصنیف کردہ نہیں ہے،تو پھر کیا چند ماہ (چھ ماہ دس دن) میں تاریخ اہل حدیث جنوبی ہند کی ترتیب ناممکن ہے؟
خاص طور سے ایسی صورت میں جب کہ اس کے بعض مشمولات مثلا ’’روداد آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس مدراس 1918 ‘‘ شیخ الاسلام ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ ہی کے الفاظ میں منقول ہیں، جن پر جہاں میں نے ضروری سمجھا یا جن شخصیات کے بارے میں مناسب سمجھا ان کا حاشیہ میں ذکر کردیا۔
اسی طرح بعض شخصیات کے بارے میں مولانا ثناء اللہ عمری ایم اے عثمانیہ کی کتاب ’’نذرانۂ اشک‘‘ اور’’مجھے یاد آنے والے‘‘ سے کافی استفادہ کیا گیا ہے؛بلکہ چند تذکرے ان کی کتاب سے ملخصاً ذکر کیے گئے ہیں؛ چنانچہ قارئین خود اس کو ملاحظہ کرسکتے ہیں۔
مذکورہ بالا وضاحتوں کے بعد کیا یہ ماننے میں کوئی ہچکچاہٹ یا تردد باقی رہ جاتا ہے کہ سوائے چند صفحات کے یہ مکمل کتاب میں نے ہی چھ ماہ دس دن کے وقفہ میں مرتب کی ہے؟ ویسے بھی اس طرح کے کاموں میں عموما ماہ و سال اہم نہیں ہوتے ہیں؛بلکہ یہ اہم ہوتا ہے کہ کس نے کتنا کام، کیسے، اور کس حیثیت سے کیا ہے؟
4۔ آپ نے لکھا ہے:’’اس کام میں میرے معاون رہے‘‘، بظاہر اس سے آپ کی مراد یہی معلوم ہوتی ہے کہ میں کتاب کو مرتب کرنے میں آپ کا معاون رہا؛ کیونکہ جب حسبِ ٹائٹل کتاب آپ نے مرتب کی ہے اور میں آپ کا معاون رہا ہوں، تو ظاہر ہے میرا تعاون ترتیبِ کتاب ہی میں ہوگا، پھر آپ نے اپنے وضاحتی بیان میں مجھے محض ناقل کیوں گردانا؟
5۔ آپ نے لکھا ہے:’’تقریبا بیس سال سے میرے پاس جمع شدہ علمی مواد…‘‘۔ جب کہ آپ نے اپنے وضاحتی بیان میں 31 سال قبل سے مواد جمع کرنے کی بات کہی ہے، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ کے دونوں قول میں سے کونسا قول صحیح ہے 20 یا 31 ؟
اب ایک پتے کی بات بتاتا ہوں، ذرا غور سے پڑھیں ،تو یہ بیس سالہ جمع شدہ علمی مواد کی حقیقت آشکارہ ہوجائے گی:
جامعی صاحب نے خود اپنے وضاحتی بیان میں لکھا ہے کہ انھوں نے اپنی جمع شدہ تمام معلومات کو سن 2008 میں شیخ شیرخان جمیل صاحب کے توسط سے محسن ملت ڈاکٹر بہاء الدین صاحب کو بھیج دیا تھا، جس کو انھوں نے تیسری جلد میں شامل کیا ہے، جیسا کہ وضاحتی بیان میں جامعی صاحب لکھتے ہیں:’’میری فراہم کردہ تمام معلومات ڈاکٹر صاحب نے تاریخ اہل حدیث جلد سوم میں شامل کر لیں‘‘۔
یعنی اس وضاحتی بیان کے مطابق 1986 سے 2008 تک کی (مکمل 22 سال کی) جمع کردہ تمام معلومات تاریخ اہل حدیث جلد سوم میں شامل ہیں، اب یہ معلومات کتنی ہیں تاریخ اہل حدیث جلد سوم کے قارئین یا محسن ملت یا پھر شیخ شیرخان صاحب بذات خود واضح کر سکتے ہیں۔
الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا
برا نہ مانیں تو ایک بات اور عرض کردوں کہ:
چونکہ تاریخ اہل حدیث جلد سوم کے لیے آپ نے اپنا 22 سال کا جمع شدہ مواد محسن ملت ڈاکٹر بہاء الدین صاحب کو دے دیا تھا ؛اس لیے نام نہاد ضابطۂ تالیف واصولِ بحث وتحقیق کے مطابق تو جلد سوم کے ٹائٹل پر بطور مرتب آپ کا نام ہونا چاہیے، نہ کہ ڈاکٹر صاحب کا۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ڈاکٹر صاحب نے آپ کا نام ٹائٹل پر ذکر کرنے بجائے مقدمہ میں ذکر کر کے کھلی نا انصافی کردی ہے؟
6۔ آپ کا قول: ’’کو نقل کر نے کی ذمہ داری…‘‘۔ اب میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اس سے پہلے آپ نے مجھے کس چیز میں اپنا معاون قرار دیا ہے، کیا اس کا یہ مطلب لیا جائے کہ آپ بھی نقل کر رہے تھے اور میں بھی؟ تو پھر محض نقل کرنے کے لیے میری کیا ضرورت تھی؟ آپ نے تو مختلف لوگوں سے میرا تعارف ہی یہ کہہ کر کرایا تھا کہ’’یہ میرے ساتھ کاشف شکیل ہیں جو میرے اشراف میں تاریخ اہل حدیث جنوبی ہند مرتب کر رہے ہیں”، پھر یہاں ناقل کہنے کا کیا مطلب؟
7۔ آپ کا قول:’’احسن طریقے سے نبھاتے رہے‘‘،اگر میں محض ناقل تھا، تو پھر کیا اس کا یہ مطلب لیا جائے کہ میری writing بہت اچھی تھی؟ اور میں نقل کے فرائض احسن طریقے سے نبھاتا رہا۔
8۔ آپ کا قول:’’لمحہ بہ لمحہ کتاب میری نگرانی میں ترتیب دی جا رہی تھی‘‘،حقیقت سے پردہ اٹھاتی یہ وہ عبارت ہے، جس کی تاویل ممکن نہیں ہے اور یہ لا شعور کی ایسی سچائی ہے، جو شعور کو اپنے پاؤں تلے روندتے ہوئے سچائی کو نقش کالحجر کر گئی ہے اور وہ برگزیدہ بھکت ،جو جوشِ دفاع میں ہر حد کو پھلانگ گئے اور وہ بھی، جنھوں نے اسے شمال وجنوب کا مسئلہ بنا کر جاہلیت کے دروازے پر دستک دے دی، اس کا اب تک کوئی جواب نہیں دے سکے۔ ہمارے ایک محبوب نے تاویل کی کوشش کی ،تو اوندھے منہ گرے اور تحریف کی ساری سنتیں تازہ کرکے بھی بات نہ بنا سکے۔
تناقض کا ایسا شاہکار کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے، مگر اس عالم فانی میں ہر چیز کا نمونہ مل ہی جاتا ہے۔ ایک طرف صراحت کے ساتھ یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ کتاب میرے اشراف میں ترتیب دی جارہی تھی، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ مشرف آپ تھے اور مرتب کوئی اور، مگر دوسری طرف کتاب کے ٹائٹل پر مرتب کی جگہ آپ کا نام جگمگا رہا ہے اور مشرف کا کوئی پتہ نہیں! ظاہر ہے جب بقول خود آپ کی حیثیت متعین ہو گئی کہ آپ مشرف تھے، تو روئے زمین پر میرے علاوہ اور کوئی بھی اس کتاب کے مرتب ہونے کا دعویدار نہیں ہے؛ لہذا جس مجہول مرتب کا تذکرہ کیا گیا ہے ،وہ میں ہی ہوں، مزید آپ نے اس جملہ سے پہلے اور بعد ہر دو جگہ میرا ہی تذکرہ کیا ہے؛لہذا سیاق و سباق بھی اسی کا متقاضی ہے کہ میں ہی اس کا مرتب ہوں۔
9۔ آپ کا قول: ’’کتاب کے مکمل ہونے میں کافی کام باقی تھا کہ وہ اس سے دستبردار ہوگئے‘‘،پہلی بات تو یہ کہ بات واقعہ کے بالکل خلاف ہے؛ کیونکہ کتاب تقریبا مکمل ہوچکی تھی اور پروف ریڈنگ کے آخری مرحلے سے گزر رہی تھی، صرف چند تذکرے مع عرض مرتب باقی رہ گئے تھے؛ اس لیے وہ میرے مرتب کردہ نہیں ہیں۔ اس کے ناگزیر اور معقول اسباب وموانع مع تفصیل اوپر گزر چکے ہیں۔ کاش آپ قطعیت کے ساتھ نہ سہی، تقریبا ہی بتادیتے کہ وہ کتنا کام ہے، جس کی ترتیب میں نے نہیں دی ہے یا جو میرے آنے کے بعد پایۂ تکمیل کو پہنچا ہے!۔
در اصل کام کی تکمیل کے بعد ہی مجھے سفر کی اجازت ملی تھی، وگرنہ کافی کام باقی رہتا تو کبھی اس کی اجازت نہ ملتی، آخر کام ہی کے تکمیل کا تو حرص تھا ،جس کی وجہ سے آپ نے مجھے رمضان میں بھی وہیں رہنے کے لیے کہااور میں نے عید اپنے وطن میں کرنے کے بجائے وہیں کی۔دوسری بات کتاب کے مکمل ہونے سے آپ کا کیا مطلب ہے؟ نقل یاترتیب؟ ظاہر تو یہی ہے کہ ترتیب مراد ہے ؛اس لیے کہ یہ عرض مرتب ہے اور کتاب کی تکمیل ترتیب ہی سے ہوگی، نقل اور نسخ کا کام تو کمپوزر کر ہی رہے تھے، پھر خرد کا نام جنوں اور جنوں کا خرد رکھنے کی کیا ضرورت ہے؟تیسری ایک اہم بات یہ ہے کہ مواد اگر واقعی مواد ہی ہو تو اس کو نقل نہیں کیا جاتا ؛بلکہ مرتب کیا جاتا ہے۔چوتھی بات یہ ہے کہ اس جملے میں دست برداری کی بات کہی گئی ہے اور آدمی دست بردار اسی چیز سے ہوتا ہے ،جو اس کی اپنی ہو۔
10۔ آپ نے آخر میں لکھا ہے:’’کام کسی حد تک تکمیل کو پہنچ گیا اور کتابی صورت میں مرتب ہوگیا‘‘، اس سے بھی صاف یہی پتہ چلتا ہے کہ کام کی تکمیل سے کتاب کی ترتیب ہی مراد ہے۔
محترم قارئین! یہ اس کتاب کے تئیں میری وضاحت اور اس کی ترتیب وتالیف اور تکمیل میں میرے کردار اور حصے کا تفصیلی ذکر ہے، جو میں نے پوری دیانتداری اور حتی الامکان دقت نظری کے ساتھ پیش کر دی ہے۔ اب آپ انصاف کے ساتھ خود فیصلہ کریں کہ اس کتاب کا حقیقی مرتب کون ہے؟ اور اس گرانقدر کتاب سے صحیح معنوں میں میری کیا اور کتنی نسبت بنتی ہے؟
معزز قارئین کرام! آخر میں یہ وضاحت میں ضروری سمجھتا ہوں کہ ان شاء اللہ العزیز اس موضوع پر یہ میرا پہلا اور آخری مضمون ہوگا، جس میں میری پوری کوشش رہی ہے کہ میرا مکمل کام پوری دیانتداری سے آپ کے سامنے آجائے، الحمد للہ آخرت کے دن پر میرا ایمان بہت قوی ہے، وہ دن جس کی خطرناکی اور اس میں انسان کی بیچارگی کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے’’یوم تبلی السرائر فما لہ من قوۃ ولا ناصر‘‘۔ یقیناًاس دن سب کو حقیقت کا پتہ چل جائیگئے گا اور ہر مظلوم کو ظالم سے اس کا حق بھی مل جائیگئے گا۔
اللہم أرنا الحق حقا وارزقنا اتباعہ، وأرنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *