ایس ایس سی مبینہ گھوٹالہ:سیاسی لیڈروں نے سی بی آئی جانچ کاخیرمقدم کیا

نئی دہلی:6 ؍مارچ (قندیل نیوز)
مرکزی وزرا اور کانگریس ایم پی ڈاکٹر ششی تھرور، دلی اسٹیٹ بی جے پی کے صدر منوج تیواری ، نئی دہلی کی ایم پی ، محترمہ میناکشی لیکھی اور دیگر لوگوں سمیت بہت سے ممتاز لیڈوں نے کمبائنڈ گریجویٹ سطح کے امتحان (سی جی ایل ای) سے متعلق اسٹاف سلیکشن کمیشن (ایس ایس سی) معاملے کو سی بی آئی کو سونپے کے مرکزی حکومت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور اس کی ستائش کی ہے۔ انہوں نے صورتحال کو خراب ہونے سے بچانے اور اسے بحران بننے سے روکنے کے لئے حکومت کے اقدام کا بھی خیر مقدم کیا ہے۔ڈاکٹر ششی تھرور نے شمال مشرقی ریاست کی ترقی کے وزیر مملکت آزادانہ چارج، وزیراعظم کے دفتر میں وزیر مملکت اورعملے و عوامی شکایات و پنشن کے علاوہ ایٹمی توانائی اور خلا کے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ سے ملاقات کی اورا نہیں اپنی ستائش سے آگاہ کیا۔ اپنے ٹوئٹ میں انہوں نے اس سلسلہ میں کئے گئے فیصلے کے لئے سرکار کی تعریف کی اور کہا کہ مظاہرین کو جان لینا چاہئے کہ انہوں نے اپنی جنگ جیت لی ہے۔ جناب منوج تیواری نے بھی اس معاملے کو سنجیدگی اور دانشمندی کے ساتھ حل کرنے کے لئے امیدواروں کی جانب سے حکومت کا شکریہ اداکیاہے ۔میناکشی لیکھی نے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے حکومت کے غیر متوقع طورپرلیے گئے فیصلے کی تعریف کی ہے اور حکومت سے درخواست کی ہے کہ سی بی آئی کے ذریعہ انکوائری کا دائرہ وسیع ہوناچاہیے اور کوچنگ سینٹروں اور کوچنگ اداروں کے رول سمیت انتخاب کے عمل کے تمام پہلوؤں کی بھی جانچ ہونی چاہئے۔ اس دوران نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی سربراہی میں مرکزی حکومت نے نوجوانوں کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے سی بی آئی کو ان کی شکایات حوالے کرنے کی ان کی مانگ کو تسلیم کرلیا ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ کمبائنڈ گریجویٹ سطح کے امتحان 2017 کے لیے ملک بھرکے 30 لاکھ سے زیادہ امیدواروں نے 8 ہزار سے زیادہ خالی آسامیوں کے لئے درخواست دی تھی۔کمبائنڈگریجویٹ سطح کا امتحان ایس ایس سی کراتی ہے جبکہ ٹائر-ون امتحان کے بعد تقریباً ڈیڑھ لاکھ امیدواروں کو شارٹ لسٹ کیا جاتا ہے۔ ایس ایس سی کے چیئرمین کی موجودگی میں امیدواروں کے وفد کے ساتھ میٹنگ کے بعد اور وزار ت داخلہ سمیت مختلف متعلقہ ایجنسیوں کے ساتھ وسیع ترتبادلہ خیال کے بعد ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ فیصلہ کیا گیاتھا کہ اس معاملے کوسی بی آئی کے حوالے کیا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *