اردو اکادمی ,دہلی کے زیراہتمام تقریب براے سالانہ ایوارڈ 2018 کا انعقاد


تمام ایوارڈ یافتگان کی خدمات ناقابل فراموش:سسودیا
اردو اکادمی،دہلی ملک کی سب سے فعال اکادمی:شاہدمہدی

نئی دہلی :اردو اکادمی ,دہلی کے زیراہتمام تقریب براے سالانہ ایوارڈ 2018 کا انعقاد آڈیٹوریم ، دہلی سکریٹریٹ ،آئی پی ایسٹیٹ ،نئی دہلی میں ہوا ۔ اس موقع پر مہمان خصوصی منیش سسودیا کا استقبال اکادمی کے وائس چیئرمین پروفیسر شہپررسول نے گلدستہ پیش کرکے کیا ۔ اپنے استقبالیہ کلمات میں پروفیسر شہپررسول نے کہا کہ اکادمی یہ سالانہ ایوارڈ ان شخصیات کی خدمت میں پیش کرتی ہے ،جو اپنے اپنے میدان میں کارہائے نمایاں انجام دے رہے ہیں ۔ بہت ساری اکادمیاں شخصیات کو ایوارڈ سے نوازتی ہیں لیکن اردو اکادمی،دہلی شخصیات کی خدمت میں ایوارڈ پیش کرتی ہے ۔ اردو اکادمی اپنے گوناگوں اور مشہور ومعروف پروگرام کراتی ہے ۔ یہ سالانہ تقریب ایوارڈ اکادمی کا اہم پروگرام ہے ۔ اس بار نو ایوارڈ دیے جارہے ہیں ۔ اس بارایک ایوارڈ کا اضافہ کیا گیا ہے جس میں کل ہند ایوارڈ برائے فروغ اردو زبان وادب وتہذیب بھی دیا جارہا ہے۔ ہماری درخواست پر ہمارے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے ان انعامات کیساتھ تمام نذرانوں میں قابل قدر اضافہ کیا ہے ۔ اکادمی کے ذریعہ جاری اردو خواندگی مراکز کے ذریعہ لاکھوں افراد اردو سے واقف ہوچکے ہیں ، اردو سرٹیفکیٹ کورس میں دہلی کے افسران اردو پڑھتے ہیں ۔ جب بھی ہم نائب وزیر اعلی سے درخواست کرتے ہیں وہ اکادمی کے پروگراموں میں تشریف لاتے ہیں ،ان کی خصوصی دلچسپی ،سرپرستی اور دلجوئی کی وجہ سے ہی اکادمی اتنی سرگرم وفعال ہے،میں اردواکادمی کی جانب سے تمام ایوارڈ یافتگان کو مبارک باد پیش کرتاہوں اور ان کا استقبال کرتا ہوں۔
اس موقع پر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق وائس چانسلر سیدشاہد مہدی نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ منیش سسودیا جی کو دیکھنے سے ہی ایسا لگتا ہے کہ ابھی سیاست میںتوازن باقی ہے، دہلی جیسی جگہ میں اپنے کام اور عہدے کیساتھ توازن کو برقرار رکھنا آسان کام نہیں ہے ۔ دہلی اردو اکادمی ہندوستان کی سب سے اہم ،فعال اور متحرک ہے۔ دہلی کی اردو اکادمی دیگر اکادمیوں کے لیے ایک نمونہ عمل ہے ۔ اکادمی کسی کو محروم نہیں رکھتی، اسکولوں کے طلبا کے مقابلے بھی کراتی ہے اور انہیں بھی ایوارڈز دیتی ہے ، مجھے لگتا ہے کہ کچھ ستاروں کی رفتار بہت اچھی تھی جب یہ اکادمی قائم ہوئی ، میں تمام ایوارڈ یافتگان کو مبارک باد پیش کرتا ہوں ، میری دعا ہے کہ اردو اکادمی کاماضی جس طرح شاندار ہے اسی طرح اس کا مستقبل بھی تابناک ہو ۔
اس موقع پر نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے کہا کہ سیاست میں توازن اس لیے نہیں ہے کہ وہ آگے والوں کی سنتی ہے لیکن میں پیچھے والوں کی سنتاہوں ۔میں تمام ایوارڈ یافتگان کو مبارک باد پیش کرتاہوں۔ اصل میں ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہم اردو کے ذریعہ لوگوں کو کتنا خوش رکھتے ہیں ۔چوں کہ اردو محبت کی زبان ہے، اکادمی کے تمام پروگراموں کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ محبت عام ہوسکے۔ جنہیں ہم سنتے اور یو ٹیوب پر دیکھتے رہتے ہیں ان سے ہمیں اکادمی کے پروگرام میں ملنے کا موقع ملتا ہے ، ہماری کوشش ہے کہ آرٹ ,لچر اور لینگویج کے محکمہ کو مزید فعال بنایاجائے ۔
اس موقع پر اردو اکادمی کے سکریٹری ایس ایم علی نے اظہار تشکر کرتے کرتے ہوئے کہا کہ اردو اکادمی کے یہ ایوارڈز 1981 سے دیے جارہے ہیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے ۔ سب سے زیادہ مستحق جو شخصیات تھیں انہیں ہی ہم نے ایوارڈ دیے ہیں ، ہوسکتا ہے کہ اگلے سال ان ایوارڈ میں مزید اضافہ ہوجائے ۔ کل سے ہمارا پروگرام نئے پرانے چراغ شروع ہورہاہے ،جس میں نئے پرانے لوگ ایک ساتھ اپنی تخلیقات پیش کریں گے ۔ میں آپ سب کا بالخصوص نائب وزیراعلی کا شکریہ ادا کرتاہوں۔ جن شخصیات نے ایوارڈ قبول کیا ہے ان سب کابھی شکریہ۔
خیال رہے کہ اکادمی کے سالانہ تقسیم انعامات کے اس جلسے میں پروفیسر شارب ردولوی کوکل ہند بہادرشاہ ظفر ایوارڈ پیش کیا گیا جس میں دولاکھ اکیاون ہزار روپے نقد، مومینٹو، سرٹیفکیٹ اور شال شامل ہے،پروفیسر عتیق اللہ کو پنڈت برجموہن دتاتریہ کیفی ایوارڈپیش کیا گیا جس میں جس میں دولاکھ اکیاون ہزار روپے نقد، مومینٹو، سرٹیفکیٹ اور شال شامل ہے جب کہ پروفیسر وہاج الدین علوی کوایوارڈ برائے تحقیق وتنقید ،اظہار عثمانی کو ایوارڈ برائے تخلیقی نثر،ڈاکٹر جی آر کنول کو ایوارڈ برائے شاعری ،روزنامہ انقلاب کے نارتھ ایڈیٹر شکیل شمسی کو ایوارڈ برائے صحافت ،پروفیسر انیس الرحمان کوایوارڈ برا ترجمہ نگاری،رادھیکا چوپڑا کوایوارڈ برائے غزل گائیکی ،استاد احمدحسین محمد حسین کو کل ہند ایوارڈ برائے فروغ اردو زبان وادب وتہذیب پیش گیا جس میں ایک لاکھ ایک ہزار روپے نقد، مومینٹو، سرٹیفکیٹ اور شال شامل ہے۔اردو اکادمی کے سالانہ تقسیم ایوارڈ کے اس پروگرام میں روزنامہ نامہ انقلاب کے نارتھ زون کے ایڈیٹر شکیل شمسی کی کتاب تلفظ کا اجرا بھی ناء￿ نائب وزیر اعلی ، پروفیسر شارب ردولوی ، سید شاہد مہدی، پروفیسر شہپر رسول اور سکریٹری ایس ایم علی کے ہاتھوں ہوا۔ پروگرام میں محکمۂ فن ،ثقافت اور السنہ کی اسپیشل سکریٹری نیہا بنسل اور ڈپٹی سکریٹری سنجے جین اور معززین شہر کے علاوہ اردو کے معروف شعرا وادبا اور اردو اکادمی کے تمام ممبران بالخصوص فرید الحق وارثی ، فرحان بیگ ،سہیل انجم ، وسیم راشد ،کامنا پرساد موجود تھیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *