اردو اخبارات، فاروقی کی متلی اوراس متلی کے شیدائی

رحمن عباس
بھارت میں اردو زبان کی زبولی حالی کا براہ راست اثر اردو معاشرے اور ذرائع ابلاغ پر دکھائی دیتا ہے۔ زبان کی زبولی حالی کا سبب سیاسی اور معاشی دونوں ہے۔ بھارت کے وہ مسلمان جن کی مادری زبان اردو ہے ان کی معیشت نسبتاً کمزور ہے۔ اس کمزور معیشت کا سبب وہ سوتیلا سلوک ہے جس نے روزگار اورسماجی ترقی کا ہر دروازہ ایک سازش کے تحت اردو اور مسلمان، دونوں پر بند رکھا ہے۔ آزادی سے پیشتر اردو کے ساتھ جو کھیل شروع ہوا تھا وہ آج بھی جاری ہے اور اسی لیے اردو کی حالت نا گفتہ بہ ہے۔ اردو نظام تعلیم، افکار، معاشرہ اور صحافت زوال پذیر ہیں اور یہ زوال ایک سیاسی سازش کا نتیجہ ہے۔
اردو اخبار مالی دشواریوں کے ساتھ جاری ہیں اور موجودہ بھارت میں فسطائیت کے خلاف جمہوریت کی لڑائی میں انتہائی اہم اور سنجیدہ رول ادا کر رہے ہیں۔ چوں کہ اردو کی معیشت کو سازش کے طور پر تباہ کیا گیا ہے؛اس لیے اردو کے اخبار وں کی اشاعت، ترویج اور مواد کا معیار بھی متاثر ہوا ہے۔ سبھی واقف ہیں کہ اردو اخباروں کا مواد کمزورہے ، زبان وبیان کی غلطیاں عام ہیں اور بعض اخبار سطحیت کا شکار ہیں۔لیکن یہ الزام ہر اردو اخبار پر لگانا درست نہیں۔ میں روزنامہ انقلاب اور ممبئی نیوز کا قاری ہوں اور کم از کم یہ دونوں اخبار مواد اور زبان کی نسبت بہتر ہیں۔
دوسری طرف ملک کا بیشتر میڈیا، انگریزی اور ہندی نیوز چینل ، انگریزی کے کئی اخبار ہندوفسطائیت کی تبلیغ میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ ہاں اردو کے مقابلے میں ہندی اور انگریزی اخبار کے وسائل ، اشتہار، اور اشاعت کئی گنازیاہ ہے۔ جس کا سبب زبان کی سیاست ہے۔ ہندی اور انگریزی اخباروں پر سیاست ، تجارت اور حکومت کا دستِ شفقت ہے اور یہی فائدہ مقامی زبانوں کے اخباروں کو حاصل ہے۔
اردو زبان اور صحافت ایک صدی سے سیاست کے نشانے پر ہیں، اور اس سازش نے اردو معاشرے اور صحافت کو بدحالی کی دلدل میں دھکیلا ہے۔ اس بدحالی کے باوجود اردو اخبار اعتدال پسندی کا نمونہ ہیں۔ ملک کی موجودہ صورت حال کا بہت قریبی عکس اردو اخبار پیش کرتے ہیں۔مانا کہ مذہبی اور مسلکی رنگ اردو خباروں پر حاوی ہے؛لیکن یہ رنگ صرف اخباروں پر نہیں،اردو معاشرے اور ادب پر بھی حاوی ہے۔ یہ رنگ امریکہ ، برطانیہ اور مغربی ممالک کے ذرائع ابلاغ اور سیاست پر بھی حاوی ہے۔
مذکورہ پس منظر میں نقاد شمس الرحمن فاروقی نے یہ ایک غیر ذمے دارانہ بیان دیا ہے کہ اردو خبارات دیکھ کر انھیں متلی آتی ہے ۔ یہ تنقید نہیں بلکہ سطحیت ہے، گراوٹ ہے۔ اردو خباروں سے منسلک افراد کی دل آزاری ہے۔ فاروقی کی شخصیت اور ادبی خدمات کا معترف ہونے کے باوجود میں اس بیان کی مذمت کرتا ہوں۔ یہ بیان اردو زبان، صحافت اور معاشرے پر تھوکنے کی کوشش ہے۔ اردو اخبار میں اگر سو کمزوریاں ہیں تو ان کے اتنے ہی اسباب بھی ہیں ۔فاروقی آزاد ہیں کہ سخت سے سخت زبان میں وہ ان کمزوریوں اور ان کے اسبا ب کو طشت از بام کریں۔تعمیری تنقید کریں۔ سب خامیاں گنیں۔ اردو صحافیوں کو پیشہ ورانہ ذمے داریوں کی طرف متوجہ کریں یا سخت گیری کے ساتھ تنقید کر کے انھیں شرمندہ کریں لیکن فاروقی کو یہ حق کس نے دیا کہ وہ محض غریب اور نادار زبان ہونے کے سبب اس زبان پر متلی کریں ۔
فاروقی کی فکشن تنقید بہت سارے لوگوں کو ناپسند ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ فاروقی کی کتابوں پر متلی کرنے کا نعرہ لگائیں۔ میں ادب میں اختلاف کی پرزور حمایت کرتا ہوں لیکن توہین کرنے کی آزادی کو پسند نہیں کرتا۔ فاروقی کی بات درست ہے کہ اردو صحافت زبوں حالی کا شکار ہے لیکن اس کے اسباب پر فاروقی بات نہیں کریں گے کیونکہ ان کی زندگی اسٹبلشمینٹ کی وفاداری میں بسر ہوئی ہے۔ یہ بھی ان کی آزادی ہے کہ اپنے کرئیر کے لیے وہ جو چاہیں راہ اختیار کریں لیکن اردو اخباروں کو دیکھ کر اگر انھیں متلی آتی ہے تو پھر انھیں اردو اخباروں سے مکمل کنارہ کشی اختیار کر لینا چاہیے۔ اردو اخبار ،ہندستانی مسلمان ، ہندستانی دلت، ہندستانی آدی واسی اور ہندستانی جمہوریت کی طرح شکستہ اور داغ دار ہیں چنانچہ فاروقی جس اشرافیہ سے تعلق رکھتے ہیں، انھیں ان سے انسیت کیوں ہوگی۔
دوسری طرف فاروقی کے اس غیر ذمے دارانہ بیان کو اپنی پیٹھ فراہم کرنے کچھ شاعر اور ادیب یوں میدان میں آئے جیسے بی جے پی لیڈر سمبت پاترا ہندو فسطائیوں اور موب لنچنگ کے سانحات کے دفاع میں نیوز چینل پر آتا ہے۔ فاروقی کے بیان کے شیدائی، فاروقی سے وفاداری ثابت کرنے کے لیے آزاد ہیں لیکن اتنا تو سوچنا چاہیے کہ فاروقی نے تنقید کرنے کے بجائے توہین کی ہے ۔ توہین کی آزادی بہت کچھ داؤ پر لگا سکتی ہے اوراس کے لیے ابھی نہ مسلمان تیار ہے نہ اردو۔میرے بھائی ! کس نے انکار کیا کہ اردوصحافت میں ایک ہزار نو سو بارہ عیب نہیں ہیں؟ لیکن عیب تو ہندی انگریزی کے ٹی وی شوز، صحافیوں، مفکرین اور اخباروں میں بھی ہیں جو فسطائیت کی ٹرین کا ایندھن بنے بیٹھے ہیں ۔ فاروقی کو ان اخباروں اور ٹی وی شوز سے کیا جنت الفردوس کی مہک ملتی ہے۔
مجھے خوشی ہے اردو صحافت کمزور سہی؛لیکن جمہوریت اور انسانی حقوق کی لڑائی کی اہم کڑی ہے۔ اردوصحافت میں مذہب پرستی سہی لیکن اردو صحافت دوسرے مذاہب کے خلاف نہیں۔اردو صحافت میں املا اور بیان کی غلطیاں صرف اس لیے ہیں کیونکہ اردو کی معیشت کمزور ہے،ورنہ جو لوگ اردو میں نقاد بن گئے ہیں وہ اردو اخباروں میں سب ایڈیٹر ہوتے اوراغلاط دورکرتے۔ اب اگر آپ نقا د ہیں تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ آپ اردو معاشرے، صحافت اور زبان کی غربت پر متلی کرنے لگ جائیں!
(مضمون نگاراردوکے معروف فکشن نگارہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *