خواتین واطفال

now browsing by category

 

ننھی روداد

ام ھشام

میں ایک طالب علم ہوں ابھی کچھ سیکھا نہیں لیکن بہت کچھ سیکھنے کی تمنا رکھتا ہوں۔ اپنے والدین کے ہر خواب اور خواہش کو میں اپنے ننھے ہاتھوں سے تعبیر دینا چاہتا ہوں۔
آج میرے پاس سب کچھ ہے۔ ایک شاندار ائیر کنڈیشنڈ کلاس روم، ڈیجیٹل بلیک بورڈ، میرے چھوٹے سے بیگ میں ڈھیروں علمی دولت (کتابیں اور کاپیاں) بھری پڑی ہیں جن کا بوجھ میری ناتواں گردن اور پیٹھ کو ہر روز درد سے دوہرا کردیتا ہے۔
اس لیے میرے اسکول نے ایک بس بھی مہیا کرائی ہے تاکہ ہم بچے بستوں کے بوجھ سے آزاد رہیں اور ہمارے سرپرست پیسوں کے بوجھ سے۔کیونکہ تعلیمی سال شروع ہوتے ہی ہمارے سرپرستوں کی آدھی جیب یہیں تو خالی کرائی جاتی ہے اور بقیہ پیسے کن جگہوں پر نکلوائے جاتے ہیں وہ جگہیں بھی بتاوں گا بس آپ سب تھوڑا صبر رکھیں۔ چھوٹا ہوں نا اتنا سب کچھ سمجھ نہیں پاتا۔ سمجھ لوں تو بول نہیں پاتا ویسے آپ بڑے بالکل صبر نہیں کرتے۔
تو سنیے!
میرے پاس ایک ہی سبجیکٹ پر کئی کتابیں موجود ہیں۔ جیسے انگلش بال بھارتی + انگلش بال بھارتی ورک بک + انگلش بال بھارتی گرامر بک + انگلش مضمون نگاری
لیکن میں تو بہت چھوٹا ہوں میرے لیے تو ہر مضمون کی ایک ہی کتاب کافی ہے۔ اتنی ساری کتابیں دیکھ کر میں ڈر جاتا ہوں اور میرے والدین ان کتابوں کی قیمتیں دیکھ کر۔
پھر یہ کتابیں محض خریدی ہی تو جاتی ہیں سال بھر کوری رکھنے کے لیے۔ ان پر نہ میرے ٹیچرز کام کرواتے ہیں نہ میں کرنا جانتا ہوں تو سال کے آخر میں ان مہنگی کتابوں کو ردی کے بھاو بیچ کر ہم مونگ پھلی کھالیا کرتے ہیں۔ کیونکہ اگلے سال یہ کتابیں میرے چھوٹے بھائی بہنوں کے بھی کسی کام نہیں آتیں۔ وجہ یہ ہے کہ اسکول والے ہر سال اپنی نصابی کتابیں اور کتابوں کے پبلشرز بدل دیتے ہیں۔ ہر نئے تعلیمی سال پر ہمارا نصاب بدلتا رہتا ہے۔میرے پاس اساتذہ کی بھرمار ہے لیکن ایک بھی استاد ایسا نہیں ہے جو کتاب بند کرکے مجھے بڑی دلچسپی اور محبت سے پڑھاتا ہو، جو مطالعہ کو اپنا فرض سمجھتا ہو، جو مجھے کتاب پر جھک کر رٹّا لگوانے کی بجائے اپنی مسکراتی ہوئی نگاہوں سے مجھ پر نگاہیں جماکر مجھے سب کچھ تختہ سیاہ پر سمجھا دینے والا ہو۔ جس کی نظریں گھڑی کی بجائے میرے کلاس میں موجود طلباء پر لگی ہو۔کوئی استاد تو ایسا ہو جو مجھے پرسنل ٹیوشن کے لیے اپنا فون نمبر تھمانے کی بجائے میرا ہاتھ پکڑ کر کہے کہ بیٹا! جتنی مرضی اتنی بار مشکل اور نہ سمجھ آنے والے سوالات پوچھو میں ہر بار تمھیں سمجھانے کو تیار ادھر ہی بیٹھا ہوں اور اگر پھر بھی نہ سمجھ سکو تو چھٹی کے بعد ہر روز مجھ سے دس منٹ ایکسٹرا کلاس لے لو۔
میرے اسکول میں مارشل آرٹ بھی شامل کردیا گیا ہے۔ اگر آپ کا جی نہ بھی چاہے تو بھی آپ کو ڈھشم بھشم کرنی ہے اور اس اچھل کود کے لیے مارشل آرٹ کے کپڑے خریدنا میرے لیے اجباری بنادیا گیا ہے جسے پہن کر کلاس میں آنا میرے لیے لازم ہے۔
یہی حال میرے اسپورٹس اور کمپیوٹر کلاسز کا ہے۔ اسپورٹس اور کمپیوٹر سکھانے کے نام پر اسکول سرپرستوں سے جتنی فیس وصول کرتا ہے ان پیسوں سے تو میں سال بھر کسی اسپورٹس کلب کی ممبر شپ حاصل کرسکتا ہوں۔اور کمپیوٹر کلاس میں تو ہم بچے قطار بناکر جاتے ہیں اور آدھے بند آدھے کام کرتے ان برقی ڈبوں کا دیدار کر واپس آجاتے ہیں لیکن بجلی کا بل ہم سے سال بھر کا ادا کروالیا جاتا ہے جیسے جیسے ہم پرائمری نہیں آئی ٹی کررہے ہوں۔
آپ بڑے کبھی ہم بچوں کی نہیں سنتے کبھی تو سن لیا کیجیے! مجھے بروسلی کا داماد نہیں بننا لیکن مجھے اپنی قوم و ملت کا فعال فرد بن کر اپنے تعلیمی ورثہ کی حفاظت ضرور کرنی ہے۔ مجھے کمپیوٹر اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز بھی سیکھنی ہے لیکن اس سے پہلے مجھے میری بنیادی تعلیم سے تو آراستہ کرئیے۔ مجھے پڑھائیے لکھائیے، میری ذہنی بالیدگی میں میرے مربی بن جائیے۔ میرا علمی و اخلاقی شعور بیدار کیجیے اپنی حفاظت کرنا میں خود سیکھ جاؤں گا۔جن اسکولوں میں ہم جیسے طلباء کو بیٹھنے کی جگہ ناکافی ہو ان اسکولوں میں مارشل آرٹ گھسیڑنا اپنے آپ میں ایک لطیفہ ہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ میرے پاس وہ سب کچھ ہے جسے ذریعہ بناکر اسکولوں نے لوٹ مار مچارکھی ہے۔ بس نہیں تو “تعلیم” جس کے لیے میں نے بولنا پڑھنا اور لکھنا سیکھا۔میرا علم کہاں ہے؟
تعلیم و تدریس کا یہ تقریبا دوسرا مہینہ شروع ہو چکا ہے۔ اب تک معلمین اور بچے بھرتی کیے جارہے ہیں۔ لیکن میں نے اب تک وہ سب نہیں سیکھا نہ ہی پڑھا جس کی قیمت اسکول اب تک کئی قسطوں میں میرے سرپرستوں سے لے چکا ہے۔میں صرف اپنے والدین کے پیسوں کو جاتے ہوئے دیکھ رہا ہوں اور بڑی تکلیف میں ہوں۔ میں ہر روز اپنی یومیہ دعا میں پڑھتا ہوں:
“علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یارب”
لیکن میں محبت کیسے کروں جب یہ شمع روشن ہی نہیں ہوتی۔مجھے علم حاصل کرنا ہے۔ کسی عمارت کے عالیشان کمرے، میز کرسیاں اور کمپیوٹر دیکھ دیکھ کر مجھے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اور پرائمری تک مفت تعلیم ہر شہری کا بنیادی حق ہے لہذا مجھے میرا حق دیجیے۔
اگر اچھے معیار کے لیے میرے والدین نے آپ کے اسکولوں کا رخ کیا تو کیا برا کیا؟ آپ کے اسکولوں نے بُک پبلشرز، یونیفارم کمپنیوں کی آپسی منافع خوریوں کے لیے میرے غریب والدین کو چکی کے دو پاٹوں میں پیس دیا ہے۔ ایک طرف ان کی آنکھوں میں اپنے بچے کے تابناک مستقبل کے سنہرے خواب ہیں دوسری طرف ان کی غربت اور جفاکشی کی کھینچ تان ہے۔میری غلطی کیا ہے؟
ایک متوسط یا غریب شہری کو پڑھنے کا حق نہیں؟ مجھے پڑھنا ہے، مجھے بڑھنا ہے مجھے بڑھنے دو۔ میں بہت خوفزدہ ہوں کہ اسکولوں کی یہ لالچ اور منافع خوری مجھ جیسے کتنے علم کے پیاسوں کو موت کے گھاٹ اتاردے گی۔ شاید اسکول چلانے والے اس بات سے بے خبر ہوں۔ یا پھر کمیشن خوری کی نحوست نے انھیں بصارت سے محروم کردیا ہے۔یہ ملّی اور قومی خیانت ہے آپ کو اللہ سے ڈر نہیں لگتا؟اس قدر گھٹیا معیار تعلیم و تربیت فراہم کرکے ایک ساتھ اتنے سارے نونہالان ملت کا مسقبل جو آپ سب نے داؤ پر لگارکھا ہے روز قیامت اس سب سے بڑے علم والے کو کیا جواب دوگے؟

جہیز ایک لعنت ہے ـ کیا واقعی ؟


مسعود جاوید

جہیز کی لعنت کے موضوع پر بے شمار مضامین اور سوشل میڈیا پر پوسٹ پڑھنے کو ملتا ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ مسلم سماج میں اس کے خلاف خاطر خواہ بیداری نظر نہیں آتی ـ
‘ بیٹیوں کے جہیز کے لئے ایک باپ جتنی کوشش کرتا ہے اگر وہی کوشش ان کی تعلیم کے سلسلے میں کردے تو جہیز کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی’ .. اس طرح کے انقلابی جملے وہی لوگ لکھتے ہیں جو زمینی حقیقت سے شاید واقف نہیں ہیں.
جہیز کا مطالبہ کوئی رسم نہیں ہے بلکہ یہ ایک منافقت بهری سوچ اور ایک حرص بهری ہوس ہے. اس کا تعلق لڑکی کی سیرت صورت تعلیم اور خاندان سے نہیں ہے. اس کا تعلق لڑکا والوں کی غربت ضرورت اور اخراجات سے بھی نہیں ہے. اس کا تعلق لڑکا والوں – خواہ کتنے ہی امیر کبیر ہوں – کے مائنڈ سیٹ لالچی مزاج سے ہے. اس کا تعلق اس سماج کے منافق طبیعت لوگوں سے ہے ہاں وہی سماج جو جہیز نہ لینے پر لڑکا والوں کو طعنے دیتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے اسی محلے میں پان فروش کے بیٹے کو فور وہیلر ملی لیکن اس متوسط گھرانے کے پڑهے لکهے لڑکے کو ٹو وہیلر بائیک تک نہیں ملی. .. لڑکے میں ضرور کوئ عیب ہوگا…. گهر میں پہلے سے ہی دو کاریں اور آسائش کے سارے سامان موجود ہیں پهر بھی بیٹے کے لئے فور وہیلر چاہئے اس لئے نہیں کہ ضرورت ہے بلکہ اس لئے کہ اپنے خاندان اور پڑوسیوں میں نمائش کرنی ہے اپنے بیٹے اور خاندان کی وقعت اور ‘قیمت’ کا مظاہرہ کرنا ہےـ
جہاں تک لڑکیوں کی تعلیم کا تعلق ہے تو بسا اوقات اس کی وجہ سے جہیز کی رقم اور بڑھ جاتی ہے اس لئے کہ اس کی تعلیم کے ہم پلہ لڑکوں کی “قیمت ” زیادہ ہوتی ہے. میں نے کئی ایسے والدین کو دیکها جنہوں نے بڑے شوق سے بیٹیوں کو پی ایچ ڈی / ایم ایس سی /ایم فل / ایم اے کرایا مگر بغیر جہیز کے پڑهے لکهے لڑکوں کے ساتھ رشتے کے لئے در در کی ٹھوکریں کهاتے رہے.. ظاہر ہے اعلی تعلیم اٹهارہ بیس برس کی عمر میں حاصل نہیں ہوتی اس لئے کہ ڈاکٹریٹ کم و بیش 28 سال ایم فل اور پوسٹ گریجویشن 24 سال. لڑکے والوں کی منافقانہ رویے میں جوڑ بیٹهانا مشکل ہوجاتا ہے ایک طرف مطالبہ یہ کہ لڑکی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہو اور دوسری طرف مرد فطرت کی خواہش کہ لڑکی کمسن ہو خواہ لڑکے کی عمر پینتیس چالیس ہو. اسی لئے تعلیم یافتہ لڑکیوں کے والدین ان کی تعلیم کے فورا بعد مناسب رشتہ کے لئے جدوجہد شروع کر دیتے ہیں مبادا ان کی لڑکی کو ‘ عمر رسیدہ ہے’ ‘عمر کچھ زیادہ ہے’، چہرے پہ نمک نہیں ہے’ وغیرہ کہ کر ناپسند نہ کردیں. کچھ ایسے بهی والدین ہوتے ہیں جو فجر بعد لڑکی والوں کے گهر جو کسی دوسرے شہر میں ہے وہاں کسی بہانے بغیر اطلاع پہنچ جاتے ہیں تاکہ دوبارہ بغیر میک اپ کے دیکھ سکیں. ‘ جی وہ جام میں پهنس گئے تھے ادهر سے گزرنا ہوا تو سوچا آپ کے یہاں فجر کی نماز ادا کر لیں’ !
.دوسری بات یہ کہ پوسٹ گریجویٹ لڑکی کی شادی میٹرک پاس سے کرنے سے ذہنی ہم آہنگی کی کمی ہوگی. ایسی شادی اگر ہو بهی گئی تو لڑکا کے گهر والے بہت خوش ہوں گے ہر طرف اسی کا چرچا ہوگا کہ پڑهی لکهی بہو لائے ہیں. .. مگر بیڈ روم میں کسی روز شوہر بیوی کے درمیان تو تو میں میں ہو اور بیوی کی زبان سے غصہ میں ہی سہی اگر یہ جملہ نکل گیا کہ ” میرے تو نصیب پهوٹے تهے کہ میرے ماں باپ نے تم جیسے جاہل میٹرک پاس سے شادی کرادی” .. اس دن کے بعد سے شوہر نہ صرف احساس کمتری میں مبتلا ہو جائے گا بلکہ بیوی سے کسی نہ کسی طرح انتقام لینا چاہے گا اور اس کی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کا سبق سکهانا چاہے گاـ
جہیز کی لعنت ختم کرنے کے لئے سماج کی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے. نوجوانوں کو اپبے گهر والوں کے سامنے اڑنے کی ضرورت ہے وہ اپنے والدین سے صاف صاف کہ دیں کہ جہیز لیں گے تو نکاح نہیں پڑهیں گے. قاضی صاحبان نکاح خواں حضرات کو اعلان کرنے کی ضرورت ہے کہ جس عقد میں جہیز سامان یا نقد یا فلیٹ یا بیٹے کو ڈاکٹر انجنیئر بنانے پر جو خرچ ہوا وہ رقم لی جائے گی تو اس کا نکاح ہم نہیں پڑهائیں گے. علماء اور شرفاء کو اعلان کرنے کی ضرورت ہے کہ جہیز والی شادی کی دعوت ولیمہ میں وہ شریک نہیں ہوں گےـ
معاشرے کا مزاج ایسا بگڑ گیا ہے کہ میرے دوست اور ان کے لڑکے نے سختی سے منع کردیا کہ وہ جہیز نہیں لیں گے. پهر بهی لڑکی والوں نے یہ کہ کر فور وہیل ڈرائیو پہونچا دیا کہ لڑکی کی والدہ کی بہت خواہش تهی کہ فور وہیل اپنی بیٹی کو ضرور دیں گے اور یہ بهی کہ ہم نے جب بڑی بیٹی کو لڑکا والوں کے ڈیمانڈ پر کار دی تهی تو اس بیٹی کے ساتھ ناانصافی کیوں. جو کچھ ہم نے بڑی کو دیا وہی سب اس چهوٹی کو بهی دے رہا ہوں. ان باتوں کا عینی و سمعی شاہد میں ہوں ـ
عموماً یہ بات کہی جاتی ہے کہ علماء بهی اس سماجی برائی میں ملوث ہوتے ہیں. ہاں ملوث ہوتے ہیں اس لئے نہیں کہ اس جہیز کی لعنت کو نعمت سمجهتے ہیں بلکہ اس لئے کہ وہ بهی اسی سماج کا حصہ ہیں. تاہم اس سے انکار نہیں کہ دیندار طبقے میں بهی اس ذہنیت کے لوگ پائے جاتے ہیں جو بیٹیوں کی شادی میں فضول خرچی سے بچنے کی بات کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسراف سے اللہ نے منع کیا ہے ، رسول اللہ صل اللہ علیہ و سلم نے اپنی بیٹیوں کو جہیز میں چٹائی اور دو تین خانہ داری کے دو تین سامان اور بستر دیا تها کا حوالہ دیتے ہیں مگر بیٹوں کے رشتے ایسے گھرانوں میں چاہتے ہیں جہاں بغیر مطالبہ وہ سب کچھ جہیز میں مل جائے جو رائج ہےـ
یہ کہنا بہت آسان ہے کہ علماء طبقہ بهی اس میں ملوث ہے. مگر کبهی آپ نے یہ سوچا کہ اس دیندار کی بیٹی بهی دن بہ دن عمر کی اس دہلیز کی طرف بڑھ رہی ہے کہ اگر بر وقت اس کے ہاتھ پیلے نہیں ہوئے تو عمر رسیدہ کہ کر کوئی لڑکا اس سے نکاح کرنے کے لیے راضی نہیں ہوگا… جب بگاڑ پورے معاشرے میں ہو تو دیندار غیر دیندار امیر غریب ہر ایک کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے. معاشرے میں جو رواج سوشل پریسٹج social prestige کا حصہ بن جائے تو اس کی بیخ کنی کی ذمہ داری معاشرے کے ہر فرد پر عائد ہوتی ہے. جہیز کا مقاطعہ کرکے دیندار طبقہ اپنی بیٹیوں کو گهر نہیں بٹها سکتا. صورتحال یہ ہے کہ شرفاء لڑکی والوں کے یہاں پیغام کرنے سے قبل ان کی مالی حالت کا جائزہ لیتے ہیں کہ بغیر ڈیمانڈ کتنا دے سکتا ہے. غیر شرفاء طاضابطہ ڈیمانڈ کرتے ہیں کبهی خود اور کبهی یہ کہ کر کہ لڑکے کا چچا یا ماموں یا بہنوئی چاہتے ہیں کہ یہ فلاں فلاں کمپنی کے یہ یہ سامان لڑکے کو جہیز میں دیا جائے . لڑکوں کی غیر معلنہ درجہ بندی ہے : ڈاکٹر ، انجنئیر ،کمپیوٹر سائنٹسٹ ، بیرون ملک فیملی اسٹیٹس کے ساتھ اچهے عہدے پر فائز یا سرکاری ملازمت SDO SDM BDO CO وغیرہ کے لئے ایک فرنشڈ تمام اسباب راحت سے آراستہ 3BHK فلیٹ مع دس پندرہ لاکھ روپے کی کار مع سونے ہیرے جواہرات کے زیورات. بعض لوگوں کی طرف سے ولیمے کا خرچ اور بارات پارٹی کے لئے گاڑیوں کا کرایہ بھی لیا جاتا ہے. اسی درجہ بندی کے تحت اوپر آئی اے ایس آئی ایف ایس آئی آر ایس جج اور نچلے سرکاری درجے میں ہیڈ کلرک اور کلرک تاجروں میں بھی کارپوریٹ سے لے کر محلے کے چھوٹے دکاندار تک کی قیمت سے ہر برادری کے لوگ کم و بیش واقف ہوتے ہیں ـ

رسول اللہ ﷺ کی بیٹی کا نکاح


ڈاکٹرمحمدرضی الاسلام ندوی

اللہ کے رسولﷺ کی چار بیٹیاں تھیں _ زینب کا نکاح آپ نے ابو العاص بن الربیع سے کیا _ انھیں آپ نے بہترین داماد قرار دیا _ حضرت رقیّہ اور حضرت ام کلثوم کا نکاح یکے بعد دیگرے حضرت عثمان بن عفّان سے کیا _ اس بنا پر وہ ذو النورین کہلائے _ سب سے چھوٹی بیٹی حضرت فاطمہ کا نکاح آپ نے اپنے چچا زاد بھائی حضرت علی سے کیا _ یہ نکاح بھی سابق نکاحوں سے کم اہمیت کا حامل نہیں تھاـ
جناب ابو طالب کثیر العیال اور مالی اعتبار سے تنگ دست تھے _ انھیں سہارا دینے کی غرض سے حضرت عباس اور رسول اللہ ﷺ نے طے کیا کہ ان کے ایک ایک بچے کو اپنی کفالت میں لے لیں _ چنانچہ عباس نے جعفر کو اور اللہ کے رسول نے علی کو لیا _ آپ ص کی بعثت ہوئی تو علی کی عمر 10 برس کے قریب تھی _ وہ سب سے پہلے آپ پر ایمان لانے والوں میں سے تھے _ آپ ان کی سرپرستی کرتے اور وہ آپ پر جان چھڑکتے _ ان پر آپ کے غیر معمولی اعتماد کا مظہر یہ ہے کہ ہجرت کی رات ، جب دشمن گھر کے باہر تلواریں سونتے ہوئے کھڑے تھے ، آپ نے انھیں اپنے بستر پر لٹایا اور اہلِ مکہ کی امانتیں بہ حفاظت انھیں واپس کرکے مدینہ آنے کی تاکید کی ـ
ہجرتِ مدینہ کے بعد اللہ کے رسول کو نکاح کی فکر ہوئی _ اس وقت حضرت علی کی عمر 20 برس سے کچھ زائد اور حضرت فاطمہ کی عمر 20 برس سے کچھ کم تھی _ فاطمہ کے لیے پیغامات آنے لگے _ متعدد صحابہ ان سے رشتے کے ذریعے آپ ص سے نسبت کے خواہش مند تھے ، یہاں تک کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے بھی خواہش کا اظہار کیا ، لیکن آپ ص نے ہر موقع پر خاموشی اختیار کی _ تب متعدد لوگوں نے ، جن میں بعض خواتین بھی تھیں ، حضرت علی کو مشورہ دیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر فاطمہ سے رشتہ کی خواہش کا اظہار کریں _ ان کے بار بار کہنے پر حضرت علی نے ہمّت کی ، خدمتِ نبوی میں حاضر ہوئے ، لیکن دیر تک بیٹھے رہنے کے باوجود مارے شرم کے اظہارِ مدّعا نہ کر سکے _ اللہ کے رسول ﷺ نے دریافت بھی کیا : ” کیوں آئے ہو؟ ” مگر خاموش رہے _ تب آپ نے فرمایا : ” شاید تم فاطمہ سے نکاح کے خواہش مند ہو؟” انھوں نے سَر ہلا دیا ـ
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بیٹی فاطمہ کا نکاح علی سے کرنے کی اللہ کے رسول ﷺ کی مرضی تھی ، لیکن اس موقع پر آپ نے صراحت سے بیٹی کی مرضی اور اجازت ضروری سمجھی _ آپ گھر کے اندر تشریف لے گئے اور فرمایا :

” بیٹی ! یہ علی آئے ہیں ، تم سے نکاح کے خواہش مند ہیں ، تمھاری کیا مرضی ہے؟ ” علی کی پرورش رسول اللہ ﷺ کے گھر ہی میں ہوئی تھی _ وہ ان کے شب و روز سے اچھی طرح واقف تھیں _ علی کی دین داری ، علم و فضل ، دین کی راہ میں قربانی ، جذبۂ جہاد اور شجاعت ان کی نگاہوں کے سامنے تھی _ انھوں نے شرماتے ہوئے جواب دیا : ” اللہ اور رسول کے فیصلے پر میں راضی ہوں ” اللہ کے رسول ﷺ نے علی سے دریافت کیا : ” تمھارے پاس فاطمہ کو دینے کے لیے کیا ہے؟” عرض کیا : ” آپ میری مالی حالت اچھی طرح جانتے ہیں میرے پاس ایک حُطَمی زرہ کے علاوہ اور کچھ نہیں ” (ابوداؤد :2125) اس زرہ کی قیمت تقریباً 400 درہم تھی آپ نے فرمایا : ” اسے ہی دے دو ” علی نے اسے فروخت کرکے مہر ادا کیا آپ ص نے فرمایا : ” جاؤ ، ابو بکر ، عمر ، سعد اور فلاں فلاں کو بُلا لاؤ _ ” وہ آئے تو آپ نے ان کی موجودگی میں نکاح پڑھایاـ
اللہ کے رسول ﷺ نے نکاح کے بعد فاطمہ اور علی کے لیے علیٰحدہ گھر کا انتظام کیا _ ایک صحابی نے اس کے لیے اپنا ایک گھر پیش کردیا تھا _ آپ نے گھر گرہستی کا کچھ ضروری سامان بھی فراہم کیا : چارپائی ، چمڑے کا تکیہ ، جس میں روئی کی جگہ کھجور کی پتیاں بھری ہوئی تھیں ، کچھ برتن _ حضرت اسماء بنت عمیس اور حضرت ام ایمن نے فاطمہ کو نئے گھر پہنچایا اور انھیں تیّار کیا _ عشاء کی نماز کے بعد اللہ کے ﷺ بھی تشریف لے گئے _ آپ نے پانی منگایا ، اسے علی اور فاطمہ دونوں پر چھڑکا اور ان کے لیے خیر و برکت اور سلامتی و عافیت کی دعا کی ـ
حضرت علی نے ولیمہ میں جَو ، باجرہ ، کھجور اور گھی کھلایا _ ایک روایت میں ہے کہ ایک مینڈھا بھی ذبح کیا تھا _ یہ انتظام انھوں نے بعض انصار کی مدد سے کیا تھاـ
حضرت فاطمہ اللہ کے رسول ﷺ کی چہیتی بیٹی تھیں _ آپ ص ان سے بہت محبت کرتے تھے _ وہ آپ سے ملاقات کے لیے آتیں تو آپ اٹھ کر ان کا استقبال کرتے ، ان کی پیشانی کا بوسہ لیتے ، ان سے پیار و محبت کی باتیں کرتے _ وقتاً فوقتاً خود بھی ان کے گھر تشریف لے جاتے اور ان کے احوال دریافت کرتے _ فاطمہ گھر کا سارا کام خود کرتیں _ کنویں سے پانی لاتیں ، کھانا پکاتیں ، چکّی پیستیں ، جس کی وجہ سے ان کے ہاتھوں میں نشانات پڑ گئے تھے اور دوسرے گھریلو کام انجام دیتیں ـ
ایک مرتبہ حضرت علی کو خبر ملی کہ اللہ کے رسول ﷺ کے پاس کچھ غلام آئے ہیں _ انھوں نے فاطمہ سے کہا :
” جاکر اپنے ابّا سے ایک غلام مانگ لاؤ ، تاکہ تمھیں کچھ سہولت ہو جائے ” وہ گئیں ، لیکن باپ کے سامنے اظہار کرنے کی ہمّت نہ کرسکیں حضرت عائشہ کو بتاکر واپس آگئیں _ بعد میں حضرت عائشہ نے آپ تک وہ بات پہنچائی _ دیر رات میں اللہ کے رسول ﷺ خود بیٹی کے گھر تشریف لے گئے ، جب کہ بیٹی داماد دونوں بستر پر جا چکے تھے _ انھوں نے اٹھنا چاہا ، لیکن آپ نے منع کردیا اور دونوں کے درمیان میں جاکر بیٹھ گئے _ آپ نے فرمایا :
” أَلَا أُعَلِّمُكُمَا خَيْرًا مِمَّا سَأَلْتُمَانِي ؟ إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا ، تُكَبِّرَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ ، وَتُسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَتَحْمَدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ (بخاری : 3750)
” کیا میں تم دونوں کو وہ چیز نہ سکھادوں جو اس سے بہتر ہے جس کی تم نے خواہش کی ہے _ جب لیٹنے چلو تو 33 مرتبہ سبحان اللہ ، 33 مرتبہ الحمد للہ اور 34 مرتبہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو _ یہ ایک خادم سے بہتر ہے _ “
ایک مرتبہ آپ تشریف لے گئے تو گھر میں علی کو نہ پایا _ دریافت کرنے پر بیٹی نے بتایا کہ کسی بات پر خفا ہوکر باہر چلے گئے ہیں _ آپ علی کی تلاش میں نکلے _ اِدھر اُدھر پتا لگایا _ معلوم ہوا کہ مسجد میں سو رہے ہیں _ آپ مسجد پہنچے _ دیکھا کہ چادر ہٹ گئی ہے اور بدن پر مٹّی لگ گئی ہے _ آپ پیار سے مٹّی جھاڑنے لگے اور کہتے جاتے تھے : قُمْ أَبَا تُرَابٍ “اٹھو ، اے مٹّی میں اَٹے ہوئے سونے والے” (بخاری :441) چنانچہ علی کا لقب ہی ‘ابو تراب’ پڑگیا _

     اس تفصیل سے درج ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں :
  (1) والدین کو بچوں کے بالغ ہونے کے بعد جلد ان کے نکاح کی فکر کرنی چاہیے _ اس میں تاخیر کرنا متعدد دینی و دنیوی اسباب سے مناسب نہیں ہے ، بلکہ آئے دن اس کے نقصانات سامنے آتے رہتے ہیں ـ
   (2) جوڑا ڈھونڈنے میں حسب و نسب ، وجاہت اور مال و دولت وغیرہ سے زیادہ دین داری کو پیش نظر رکھنا چاہیے _  اس سے دنیاوی زندگی بھی سکون سے گزرتی ہے اور اخروی اعتبار سے بھی یہ فائدہ مند ہےـ
   (3) کوئی رشتہ پسند آجائے تو اسے فائنل کرنے سے پہلے بیٹی کی(اور بیٹے کی بھی) مرضی ضرور معلوم کرلینی چاہیے _ نکاح کے معاملے اولاد پر اپنی مرضی تھوپنی والدین کے لیے مناسب نہیں ہے ، خاص طور پر موجودہ دور میں ـ
    (4)مہر عورت کا حق ہے _ اس کی ادائیگی شوہر کی طرف سے نکاح کے وقت ہی ہونی چاہیے _ (اگر نہ ہوسکے تو جلد از جلد اسے ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے _ جب تک ادا نہ ہو یہ شوہر پر بیوی کا قرض ہوتا ہے)
     (5) مہرِ فاطمی کی کوئی امتیازی حیثیت نہیں ہے _ حضرت فاطمہ کا جو مہر تھا اتنا ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی تمام ازواج مطہرات کا مہر تھا _ (سوائے حضرت زینب بنت جحش کے کہ ان کا مہر نجاشی شاہِ حبشہ نے ادا کیا تھا)
     (6)جہیزِ فاطمی کی کوئی حیثیت نہیں _ حضرت علی بچپن ہی سے رسول اللہ ﷺ کی پرورش میں رہے تھے ، اس لیے ان کی گھر گرہستی کا انتظام کرنا آپ کی ذمے داری تھی _ ورنہ آپ نے اپنی دوسری بیٹیوں کے نکاح کے موقع پر بھی کچھ دیا ہو ، اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا _ بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ علی کی زرہ فروخت ہونے سے جو رقم حاصل ہوئی تھی اس کے نصف سے آپ نے مہر ادا کروایا تھا اور نصف سے گھر گرہستی کا سامان خریدوایا تھا _ گویا جو کچھ سامان فراہم کیا گیا تھا اس میں علی ہی کا پیسہ لگا تھاـ
     (7) ولیمہ مسنون ہے _ آدمی اپنی سماجی حیثیت کے مطابق اس کا انتظام کرے _ اس میں گوشت روٹی بھی کھلایا جا سکتا ہے اور معمولی ناشتے پر بھی اکتفا کیا جا سکتا ہےـ
     (8) نکاح کا اعلان ہونا چاہیے ، تاکہ سماج میں تمام لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ دو مرد و عورت ، جو اب تک اجنبی تھے ، نکاح کے بندھن میں بندھ گئے ہیں ـ
     (9) نکاح کے بعد نئے جوڑے کے لیے الگ رہائش فراہم کرنا بہتر ہے _ تاکہ ان کی پرائیویسی باقی رہے _ اگر کسی وجہ سے الگ گھر فراہم کرنا ممکن نہ ہو تو مشترکہ رہائش گاہ کا ایک حصہ نئے جوڑے کے لیے خاص کردینا چاہیے ، تاکہ اس میں وہ آزادانہ طور پر رہ سکیں ـ
      (10) بیٹی کے نکاح کے بعد بھی اس سے تعلق میں کمی نہیں آنے دینا چاہیے _ وقتاً فوقتاً اس کے گھر جانا ، اسے اپنے گھر بلانا ، اس سے ملاقات ہونے پر خوشی کا اظہار کرنا ، اس کے احوال دریافت کرتے رہنا ، ان کاموں کو اپنے معمول کا حصہ بنالینا چاہیےـ
     (11) نکاح کے بعد بیٹی کی ضروریات پوری کرنے میں کوئی حرج نہیں ، بلکہ پسندیدہ ہے _ بیٹی بھی اگر مناسب سمجھے تو اپنی ضروریات اپنے والدین سے بیان کرسکتی ہےـ
     (12) والدین کو چاہیے کہ اپنی بیٹی کو دنیوی آسائشیں فراہم کرنے سے زیادہ قناعت کی ترغیب دیں _ یہ چیز زندگی میں زیادہ سکون لانے والی ہوتی ہےـ
     (13) والدین کو اس کا بھی برابر جائزہ لیتے رہنا چاہیے کہ بیٹی داماد یا بیٹے بہو کے درمیان نا ہم آہنگی تو نہیں فروغ پا رہی ہے _ اس سے غفلت کے بسا اوقات بڑے بُرے نتائج سامنے آتے ہیں _ پتا اُس وقت چل پاتا ہے جب پانی سر سے اونچا ہوجاتا ہے _ اس وقت والدین کی مداخلت سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا اور معاملہ علیٰحدگی تک جا پہنچتا ہےـ
     (14) زوجین کے درمیان کچھ تنازع ہو جائے تو والدین کو آنکھ بند کرکے بیٹی کی حمایت نہیں کرنی چاہیے ، بلکہ پہلے غیر جانب داری کے ساتھ معاملہ سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے _ پھر اگر قصور بیٹی کا نظر آجائے تو اس کی فہمائش کرنی چاہیےـ

ماں کی قبر سے

ابن الحسن عباسی
مئی کے مہینے کا گرم موسم ، جانے کتنی بار زندگی میں آیا اور گیا، گزشتہ نو دس سال یہ موسم آتا ہے اور اپنے ساتھ غم کی ایک تصویر اداسی لاتا ہے، کوئی نو سال ادھر کی بات ہے ، عشاء کی نماز پڑھی ، احباب تھے ، مسجد کی چھت پر بیٹھے، گرم موسم میں کراچی کی ساحلی ہوائیں بڑی راحت دیتی ہیں، کبھی بند ہوں تو حبس ہوجائے اور روح گھٹنے لگے، چلیں اور اکثر چلتی ہیں تو لطف بہار دیتی ہیں۔۔۔۔۔پر اس رات ہوائیں تو چل رہی تھیں لیکن طبیعت میں ایک ان جانے سی بے کلی تھی،بیٹھا نہ گیا تو اٹھ کر گھر آیا، وضو تازہ کیا اور کبھی مشام جان کو بہت بھاجانے والا عنبر کا شمامہ لگایا، قرآن کریم لیا، والدہ کے سرہانے بیٹھ کر سورة یسین پڑھنے لگا اور ایک سکون دل میں اترتا گیا، خیال ہوا ،یوں ہی دیر تک پڑھنا ہے۔۔۔۔والدہ جنہیں میں ” اجے” کہا کرتا تھا، چھ ماہ سے صاحب فراش تھیں اور آج ان کی تکلیف بہت سوا تھی، ان کا درد دیکھا نہ جاتا۔۔۔بے بسی کا یہ بھی ایک عالم ہوتا ہے درد جو نہ بانٹا جاسکتا ہے ، نہ لیا جاسکتا ہے، بس دیکھا جاسکتا ہے اور دیکھا جاتا نہیں۔۔۔ شدت الم کی کیفیت میں، اسی دن لپٹ کر وہ کہ گئی تھیں: ” مجھے اب جانا ہے”۔۔۔دوسری بار ابھی سورة یسین مکمل نہیں کی تھی اور وہ چلی گئیں۔۔۔ دیکھا تو بے چین چہرے کو ایک قرار آگیا اور ایک سکون چھا گیا !!
یہ اکیس مئی 209 جمعرات کی شب تھی۔۔۔ اگلی صبح وہ خوش آواز کوئل بھی خاموش تھا جو مدتوں، سویرے سویرے بوڑھے درخت کے پیڑ سے اماں جی کے کمرے کے سامنے سر بکھیرنے آتا اور اداس فضاوں میں زندگی کی امنگ بھرتا، جانے کیوں اس دن نہیں آیا اور پھر کبھی نہیں آیا۔
جمعرات کو نماز ظہر کے بعد شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان صاحب رحمہ اللہ نے جنازہ پڑھایا، علماء اور نیک لوگوں کا ایک ہجوم تھا اور سورج غروب ہونے سے پہلے کراچی کےجنوب کے قبرستان میں جب ہم انھیں مٹی کے حوالہ کررہے تھے تو مجھے ان کا وہ جملہ بہت یاد آرہا تھا جو زندگی میں اکثر وہ کہا کرتی تھیں:۔۔۔”بچیا، چہ مرگ شتے نو خوشحالی نشتہ ” ( بیٹے ، موت ہے تو خوشی نہیں ہے)۔۔۔ اتوار کو مولانا سلیم اللہ خان رحمہ اللہ صاحب دوبارہ آئے ،بزرگوں کی تسلی دینے کی بھی ایک شان ہوتی ہے ، بیٹھتے ہی فرمایا ” ماں کا بدل نہیں ۔۔۔۔” بے شک اس دنیائے رنگ و بو میں ماں کا کوئی بدل نہیں۔۔۔۔ماں کی ہستی کائنات میں قدرت کی شفقت کا استعارہ ہے، وہ فانی زندگی کی تلخیوں میں ایک شیریں احساس ہے اور اس سے جڑا زندگی کا ہر تصور حسین ہے!
آج میں ایک عرصے بعد والدہ کی قبر پر گیا اور اسے دیکھ کر بہت آبدیدہ ہوا۔۔۔۔ماں کی جدائی کے غم پر بہت کچھ لکھا گیا اور بہت کچھ لکھا جائے گا لیکن مصر کے اس یتیم بچے کا ایک جملہ ہزار مرثیوں پر بھاری ہے، جس نے امتحان کے کسی پرچے میں ابھی دو چار برس پہلے لکھا تھا۔۔۔۔” أمي ماتت، ومات معھا کل شیئ ” میری ماں مرگئی اور اس کے ساتھ ہر چیز مرگئی۔
” اجے! ماں جی! ہر چیز مرگئی ہے، سب رشتے بجھ گئے ہیں ،آپ کے جانے کے بعد!۔۔۔۔۔۔”

والدین کے لئے رہنما اصول (پہلی قسط )


ابوعبدالقدوس محمد یحییٰ

راقم التحریر گزشتہ ربع صدی سے شعبہ درس وتدریس سے وابستہ ہے اور کسی نہ کسی انداز سے پری پرائمری کے طلبہ سے لے کر ماسٹر لیول کے طلباء تک درس و تدریس کے شرف سے مشرف ہونے کے ساتھ ساتھ طلبہ کی مختلف امور میں رہنمائی کر چکا ہے ۔یہ کہنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ ان سطور میں عاجزجو کچھ قارئین کی خدمت میں پیش کررہا ہے وہ اپنے ذاتی تجربات ومشاہدات کے ساتھ بزرگوں سے سنی گئی باتیں یعنی مسموعات اورمرویات کی روشنی میں تحریر کررہا ہے جوان شاء اللہ العزیز بنین وبنات کی تعلیم وتربیت میں مفید ومعاون ثابت ہوسکتے ہیں۔
موجودہ سائنس،ٹیکنالوجی اورجدید ذرائع ابلاغ کے دورمیں جہاں زندگی میں بہت سی آسانیاں فراہم ہوئیں ہیں وہیں آج والدین کے لئے فرائض کی ادائیگی بھی مشکل ہوگئی ہے۔بچوں کی تربیت بہت ہی صبر آزما ،طویل المیعاداور کل وقتی کام ہے جو مہینوں نہیں بلکہ برسوں پر محیط ایک جہد مسلسل سے عبارت ہے۔تعلیم وتربیت والدین سے ہمہ وقت تحمل، بردباری اور برداشت کے ساتھ جس اہم قیمتی شے کی متقاضی ہے وہ” وقت” ہے۔ والدین اپنی گوناگوں مصروفیات سے وقت نکال کر بچوں کے ساتھ گزاریں کیونکہ اگر بچوں سےتعلق وربط قائم ہوجائے گاتو تربیت کاعمل آسان اورموثرہوجائے گا ۔ بچہ موم(Plastic) کی طرح ہے اس کو جیسا ڈھالیں گے ویسا ہی نقش بن جا ئے گا اوریہ ذہن نشین رہے کہ بچپن کے نقوش گہرے اوردیر پا ہوتے ہیں ۔ یہ ایسے انمٹ نقوش ہوتے ہیں جو بڑھاپے تک انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔ لہذاکوشش کی جائے کہ ابتداء ہی سے بچوں کی تعلیم وتربیت صحیح خطوط پر استوار ہو جائے۔بعداز خرابی بسیار خواہ کسی کو بھی الزام ٹھہرایا جائے یہ لاحاصل بحث ہوگی۔ وہ وقت واپس نہیں آئے گا اور کف افسوس ملنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہوگا۔
ایسا نہ ہو کہ درد بنے درد لازوال
ایسا نہ ہو کہ تم بھی مداوا نہ کرسکو
بہرحال بچوں کے برے رویوں یا خراب تربیت کی ذمہ داری والدین پر بھی عائد ہوگی۔اور اس پچھتاوا ،ندامت اورحسرت کا عفریت قبر تک والدین کا تعاقب کرتا رہے گا۔ والدین کو دیانتداری سے اپنے رویہ پر غور کرنا چاہئے۔ بچہ جو کچھ بنتا ہے اس میں وراثت سے زیادہ اس کے ماحول اوروالدین کی تربیت کا دخل ہوتاہے۔ ذیل میں چند مفید گزارشات پیش خدمت ہیں ۔
جسمانی نشوونما:
بچہ کی ذھنی نشوونما اور تعلیم و تربیت کے ساتھ اس کی جسمانی صحت کا اچھی طرح خیال رکھاجائے کیونکہSound mind is in sound body.۔صحتمند دماغ صحتمند جسم میں ہوتاہے۔ اس سے غفلت برتنے کے نتیجے میں بچے بیماریوں کا شکار بھی ہوسکتے ہیں ۔ایک بزرگ کا قول ہے کہ تندرستی سب سے بہتر لباس ہے اور جہالت سب سے دردناک مرض ہے۔ بقول رالف ایمرسن (Ralph Waldo Emerson 1882):”سب سے بڑی دولت صحت مند جسم ہے ۔”
نہیں صحت کے برابر کوئی نعمت ہرگز
ہونہ صحت تومیسرنہ ہوراحت ہرگز
حقیقت واقعہ یہی ہے کہ صحت کے بغیر انسان کو راحت وسکون میسرآہی نہیں سکتا۔قربان علی سالک بیگ کا یہ شعر اپنی جگہ کہ”تنگدستی اگرنہ ہوسالک، تندرستی ہزار نعمت ہے”،لیکن میں تو یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گا کہ”تنگدستی اگرچہ ہوسالک، تندرستی ہزار نعمت ہے” تنگدستی کے باوجود ایک صحتمند شخص اپنی زندگی سے لطف اٹھاسکتا ہے نہیں اس کے برعکس ایک امیر لیکن بیمارشخص کسی بھی طور پر پرلطف زندگی نہیں گزارسکتا۔ ان کے لئے اسحاق جلالپوری کا یہ شعر
خدا کی دین ہے صحت عزیزو
نہ ہوصحت تو جینے کا مزا کیا
الغرض صحت رب کائنات کی طرف سے نعمت غیر مترقبہ اور تحفہ بے بدل ہے۔ احسن الخالقین رب کائنات نے بہترین انداز سے انسانی مشینری بنائی اور اس کے تمام اعضاء کی حفاظت فرمائی ہے -قدرت نے اصل وبنیاد صحت کو بنایا ہے ،بیماری تو انسان کی بدنظمی،بے ترتیبی ، جہالت اور اپنی جان پر ظلم کرنے کے سبب پیدا ہوتی ہے۔ ہمارے جسم کے اندر ایسے ایسے نظام موجود ہیں کہ چھوٹی موٹی غلطیوں کی اصلاح تو وہ خود ہی کرتے رہتے ہیں۔ ہاں جب ظلم حد سے زیادہ بڑھ جاتا ہے،بدنظمی انتہاء کو پہنچ جاتی ہے تو پھر بدن بھی چیخ پڑتا ہے ،درد کرنے لگتا ہے، اور رفتہ رفتہ صحت مند جسم بیمارہوکرتانوانی میں ڈھل جاتاہے ۔ پھرکہیں جا کرانسان کو احساس ہوتا ہے کہ وہ کس قیمتی چیزسے محروم ہو چکا ہے۔جیسا کہ عربی مقولہ ہے:تعرف الاشیاء باضدادھا’’چیزیں اپنی اضداد سے پہچانی جاتی ہیں ۔‘‘روشنی کی اہمیت کا اندازہ تاریکی پھیل جانے کے بعد ہوتا ہے ، اسی طرح انسان کو اپنی صحت کی قدر و قیمت بھی اس وقت معلوم ہوتی ہے جب وہ مختلف امراض کا شکار ہو جائے۔
مشقت کا عادی بنانا :
بچوں کومحنت ومشقت کا عادی بنایا جائے۔ ان کے اذہان میں یہ بات راسخ کرائی جائے کہ حرکت میں برکت ہے۔ مسلسل حرکت ہی کانام زندگی ہے۔پانی جب تک بہتا رہتا ہے صحیح وتروتازہ رہتا ہے ورنہ اس میں بدبوپیداہوجاتی ہے ۔
؎ جاوداں پیہم رواں ہردم جواں ہے زندگی
اگرآپ بچوں کومحنت ومشقت کا عادی بنائیں گے تو وہ سخت جان ،حوصلہ مند بنیں گے اور ہر قسم کے حالات کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کے قابل ہوں گے۔ لیکن اگر تن آسانیوں میں رکھیں گے ہر وقت ان کے چونچلے پورے کرنے میں لگیں رہیں گے تو عین ممکن ہے کہ ان کی حساسیت کا عالم یہ ہوجائے کہ بیس گدوں پر لیٹنے کے باوجود ایک مٹر کا دانہ بھی ان کے لئے اذیت کا باعث بن جائے۔ ایسے لاڈ پیار کا طرز عمل بچوں کے ساتھ محبت وشفقت نہیں بلکہ ان پر ظلم عظیم ہوگا ۔اس نشوونما کے حامل بچوں پر تو یہ مصرعہ ہی صادق آسکتاہے :
نزاکت کا یہ عالم ہے کہ گل توڑےتو بل کھائے
اورپھر اسی نہج پر ترقی کرتے کرتے ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ جب وہ یہ کہنے پر مجبور ہوجائیں گے۔
فرش مخمل پر مرے پاؤں چھلے جاتے ہیں
کیلا کھانے سے میرے دانت ہلے جاتے ہیں
آج کل بچے بہت زیادہ سہل پسند ،آرام طلب ہوچکے ہیں کہ اگر تھوڑا بھی پیدل چلنا پڑے تو فورا اپنے والدین سے کہتے ہیں اماں میری ٹانگوں میں درد ہے،ٹانگوں میں درد ہے میں چل نہیں سکتا۔اس درد کا علاج صرف اورصرف چلنے میں ہے۔ آرام سے یہ درد بڑھتا ہی جائے گا۔ یہاں پر ایک لطیفہ انتہائی مناسب ہوگا کہ ایک باپ نے اپنے بچے سے دریافت کیا
باپ :بیٹا کیوں پیدل چلیں یا کسی سواری پر؟
بیٹا :آپ کی مرضی ہے ویسے اگر پیدل چلنا ہے تو مجھے گود اٹھا لیں۔
ایسے سہل پسند اورآرام طلب بچوں کے لئے ایک حکایت پیش خدمت ہے کہ ایک دفعہ ایک بدو کو بخار ہوا ۔وہ آرام کرنے کے بجائے تپتے ہوئے صحرا میں چلا گیا وہاں جاکر اس نے اپنے بدن پر تیل کی مالش کی اور تپتی ہوئی گرم ریت پر لوٹنے لگا اور ساتھ ہی یہ کہتا جاتا اے بخار! توغلط جگہ آگیا تو کسی امیر کے پاس جاتا جو نرم گدوں پر لیٹتا ،یخنی اور پھل وغیرہ استعمال کرتا ۔میرے پاس نہ تو نرم گدے ہیں ،نہ ہی یخنی اورپھل اور نہ ہی اتنا وقت کہ میں آرام سے لیٹ سکوں وہ اتنی دیر لوٹتا رہا یہاں تک کہ بخار اتر گیا اور وہ شخص صحت مند ہوکر واپس آگیا۔یہ صرف ان افراد کے لئے جو اتنے محنت وجفاکش ہوں ورنہ بجائے فائدے کے شدید نقصان کا خدشہ ہے۔
نیز یہ بھی ذہن میں رکھیں زندگی نشیب وفراز سے مرکب ہے۔کسی کو کچھ خبر نہیں کل کیا ہو ایسی صورت میں سختیاں اورمصائب درآنے کے بعد ایسے افراد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ان میں جرات وحوصلہ نہیں رہتا کہ وہ مصائب وشدائد کا سامنا کریں اور ناانصافیوں سے بھری اس دنیا میں اپنا کوئی مقام پیدا کریں۔پاکستان وبنگلہ دیش کا قیام یا پھر 2005 کا زلزلہ اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ جب امرا بھیک مانگنے پر مجبور ہوئے۔
یہاں حقیقی زندگی میں رونما ہونے والے حادثہ کا تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا جس میں ایک آدمی جو انتہائی شاندار گاڑی ڈروائیو کررہاتھا چلاتا ہوا آرہا ہے اچانک دوسری طرف سے ایک سوزکی والا آیا دونوں کچھ اس انداز سے آئے کہ حادثہ یقینی لگ رہا تھا لیکن خدا کی قدرت دونوں کے لاشعوری طورپربروقت بریکیں لگانے کے باعث ان کی گاڑیاں ٹکرانے سے بھی محفوظ رہیں اور ایک آدھ فٹ کے فاصلے پر ہی رہیں۔جب سوزکی والا باہر کار والے کے پاس آیا تو اسے بے ہوش پایا۔وہ بے ہوش کیوں ہوا تھا ۔یقینا کمزوراعصابی نظام کے باعث ورنہ ظاہری یا جسمانی اعتبار سے تو اسے ایک خراش تک نہ آئی تھی۔
کاہلی سے بچاؤ :
سستی ایک عالمگیر بیماری ہے۔جو صحت کے لئے سم قاتل ہے۔سستی کا شکار افرادناتوانی کا شکاررہتے ہیں اور آئے دن گوناگوں بیماریوں میں مبتلارہتے ہیں ۔اس طرح وہ اپنی صحت سے بھی ہاتھ دھوبیٹھتے ہیں اورکبھی تندرست وتوانا نہیں ہوتے ۔
سست لڑکے نہیں ہوتے ہیں تواناہرگز
اپنی صحت کو نہ سستی میں گنوانا ہرگز
ورزش کی اہمیت:
آرام کرنے کی اہمیت سےتو ہرایک آگاہ ہے۔جان لیں کہ ویسے ہی ورزش بھی صحت کے لئے ضروری ہے۔ بامقصد اوربامعنی ورزش کی کوشش کی جائے کہ جسم کے تمام عضلات کی ورزش ہو۔یہاں ورزش کی اہمیت کے سلسلے میں یہ بھی ذکر کرتا چلوں کہ ورزش کرنے سے بظاہر انسان اپنا ایک آدھ گھنٹہ ضائع کررہاہوتاہے اورشاید وہ یہ سوچتا بھی ہو کہ اگر وہ یہ گھنٹہ دیگر کاموں میں لگا لے توانہیں پایہ تکمیل تک پہنچاسکتاہے لیکن درحقیقت ایسا نہیں۔ کیونکہ ورزش کرنے والے احباب اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ورزش انہیں جسمانی و ذہنی توانائی فراہم کرتی ہے نیز ان کی نقل وحرکت میں بھی چستی فراہم کرتی ہے جس کی بدولت جو کام بغیر ورزش کے وہ ایک گھنٹہ میں کررہا تھا اب وہ صرف آدھ گھنٹے میں کرلے گا۔ نیز وہ طویل دورانیہ تک یکسو ہوکربہتر کام بھی کرسکتا ہے۔
ورزش کے بارے میں تحریرکرنے کے بعد یہاں نماز اورتلاوت کا ذکر غیرضروری نہ ہوگا۔ بظاہر سیکولر زاویہ سے دیکھا جائے تو انسان نماز کے بجائے دوسرے کام کرے مثلاً تحصیل علم ہی میں لگا رہے تو وہ فائدہ میں رہے گا۔نماز اس کے کاموں میں رکاوٹ ڈالتی ہے۔ بعض کو تو کہتے سنا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر پانچ وقت نماز فرض اس لئے کی ہے کہ مسلمان ترقی نہ کرسکے ۔مسلمان نمازوں کے چکر سے ہی باہر نہیں آتے۔ ان کے شیڈول اوردیگر کام بھی نمازوں کے اوقات سے ہی جڑے ہوتے ہیں۔انسان یکسو ہوکرکوئی کام شروع بھی نہیں کرتا کہ اسے دوسری نماز کے لئے اٹھنا پڑتا ہے۔ یہ سوچ بالکل غلط ہے۔
نفسیات دان میری اس بات سے اتفاق کریں گے کہ انسان کو چھوٹے چھوٹے وقفے (انٹرویل) لینے چاہئے خواہ وہ کمپیوٹر پر کام کررہاہے ، تعلیم سے وابستہ ہے یا کسی اور کام میں مشغول ہے، بہرحال وقفہ (نماز کی صورت میں بھی ہوسکتا ہے!)انسان کے لئے بہت مفید ہے۔
انسانی ذہن کبھی نہیں تھکتا ۔ وہ مستقل غوروفکر میں مشغول رہتاہے۔ لیکن کسی ایک ہی نکتہ پر توجہ (فوکس) کرنے سے ہمارا ذہن قاصر ہے۔(اگرچہ ہر شخص کی استعداد مختلف ہے۔ لیکن ہر ایک لئے ایک مقام ایسا ضرور ہے اس کے بعد وہ اپنی توجہ کو برقرار نہیں رکھ پاتا جسے انگریزی میں Sustained Attention کہتے ہیں۔یہی وہ مقام ہے جب وہ تھوڑی دیر کے لئے اپنی سرگرمیاں بدلنا نہایت ضروری ہوجاتاہے تاکہ اس سے اس کا ذہن تازہ دم ہوکر نئے انداز نئی قوت سے دوبارہ اس کام میں واپس آتا ہے جس سے اس کے کام کی رفتار پہلے سے کئی گنا بڑھ جاتی ہے یوں یہ وقفہ اس کے لئے بہت ہی مفید اورکارآمد ثابت ہوتاہے۔
ذہنی نشوونما:
جسمانی نشوونما کی طرح ذہنی نشوونما بھی بہت ضروری ہے۔ زبان کی نشوونما بھی ذہنی نشوونما کا ایک انتہائی اہم پہلو ہے ۔مزید توجہ،آموزش(تعلم)،دلچسپی بھی اس کے اہم موضوعات ہیں۔ جن پر توجہ دینی چاہئے۔
زبان کی نشوونما:
بچپن میں جیسی گفتگو اور آداب بچوں کو سکھائے جائیں گے وہ تمام عمر اس ہی روش پرچلتے ہیں گے ۔ بچوں کی زبان کی اصلاح کے لئے ان کے سامنے شائستہ اور اچھی گفتگو کی جائے ، اچھے الفاظ منتخب کئے جائیں ۔ بچہ کا ماحول صاف ستھرا، پاکیزہ اور اچھا ہو۔ عرب اس حقیقت کو سمجھتے تھے کہ زبان کی فصاحت کے لئے سازگار ماحول درکار ہوتا ہے اسی لئے وہ فصاحت لسان کے لئے بچوں کو قبائلی اوردیہی علاقوں میں بھیجاکرتے تھے۔اگربچوں کودوسری زبانوں کی تعلیم دینی ہو تو اس کے لئے بھی سازگار ماحول بنایا جائے۔ تاکہ دیگرزبانوں کا حصول سہل ہوجائے گا۔ ویسے بھی زبان کی تدریس کے لئے Direct Method زیادہ موثر اورکارگر ہوتاہے۔
بچوں کو بات چیت اورکلام کے موقع محل سے بھی آگاہ کیا جائے کہ کب، کیسے،کہاں اورکیا بات کرنی ہے اورکس وقت خاموشی بہتر ہے۔ خاموشی کی تلقین بھی ایک اہم اور بنیادی نکتہ ہے۔اورزباں وزیاں میں اسی ایک نکتہ کا فرق ہے جسے عام طور پر نظراندازکردیاجاتاہے۔
زباں اپنی حد میں ہے بیشک زباں
بڑھے ایک نکتہ تو یہ ہے زیاں
حاضر دماغی:
تحصیل علم کے لئے یکسوئی اورتوجہ کی بہت اہمیت ہے۔یعنی ذہن کا اپنے گردو پیش سے باخبر ہونا اوراسی مقام پر حاضر ہوناضروری ہے۔ ذہن ایک بادشاہ کی مانند ہےجو بہت آرام طلب ہے۔ یا یہ وہ سرکش وبے لگام گھوڑا ہے جو توجہ مرتکز نہ ہونے کی صورت میں فوراً بھٹک جاتاہے۔ اس کا بھٹکنا انسان کو غیرحاضر دماغ بنادیتا ہے۔یعنی جہاں اس کا جسم ہو وہاں سے یہ غائب ہوکر انسان کو ناکارہ کردیتا ہے۔کیونکہ اس وقت انسان کے ذہن کا جسم سے رابطہ منقطع ہوجاتاہے۔پھر وہ شخص نہ کچھ یاد کرسکتا ہے نہ اس کو خبر ہوتی ہے کہ ارد گرد کیا ہورہا ہے حتی کہ اس کے اپنے ہاتھ سے کیا گیا کام بھی اسے یاد نہیں ہوتا مثلاً ہاتھ کہیں کوئی چیز رکھ کر بھول جاتا۔اس نے کوئی چیز کہاں رکھی وغیرہ وغیرہ۔
سماعت:
سماعت کا اچھا اورمحفوظ ہونا نہایت ضروری ہے ۔سماعت صرف کانوں تک آواز آنے کو نہیں کہتے بلکہ اس سے hearing کے بجائے attentive listening مراد ہے۔اصطلاحی زبان میں بیک گراؤنڈ میں کھوجانے کے بجائے اپنے مقصد یا فگر میں ہمہ تن محو رہنا۔جب کہ انسانی رویئے اس کے برعکس ہیں ۔ وہ فگر کو بھول کر بیک گراؤنڈ میں گم ہوجاتے ہیں اور اپنے مقصد سے دور ہوکر تحصیل علم میں ناکام و نامراد رہتے ہیں ۔
بچوں کو بچپن سے سماعت کی تربیت کی جائے۔ کیونکہ ہمارا معاشرتی المیہ ہے کہ ہم اپنے ذہن میں فیڈ باتوں پر ہی غور کرتے رہتے ہیں اور دوسروں کی باتوں کو توجہ سے سنتے ہی نہیں۔بلکہ آغاز کلام ہوتے ہی یہ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ مجھے کیا کہنا ہے۔یہاں بطور لطیفہ ہٹلر کا واقعہ غیر ضروری نہ ہوگا ۔کہا جاتاہے کہ جنگ عظیم کے زمانے میں ہٹلر کا پرسنل سیکرٹری اپنے باس کی ہدایات کے مطابق پہلے سے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کسی دوسرے ملک کے نمائندہ سے فون پر بات چیت کررہاتھا۔وہاں ہٹلر بھی چہل قدمی کررہا تھا۔اب ہٹلر کے پرسنل سیکرٹری کی گفتگو ملاحظہ فرمائیں:
No, No, No, No, No, No, ایک بار Yesکہتا ہے پھر No, No, No, No, No, No,
اس کا پرسنل سیکرٹری ہر بات کا جواب “نو” کہہ رہا تھا۔ درمیان میں اس نے ایک بار “یس ” کہا اور پھر آخر تک نو کہتا رہا۔
لیکن جب اس نے یس کہا تو ہٹلر کا چہرہ غصہ سے سرخ ہوگیا۔
جیسے اس کے سیکرٹری نے فون کریڈل پر رکھا ہٹلر غضبناک لہجے میں اس پر دھاڑا میں نے کہا تھا کہ یس نہیں کہنا تم نے کیوں کہا ۔اس کے سیکرٹری نے جواب دیا سر اس نے پوچھا تھا کہ تمہیں میری آواز آرہی ہے میں نے کہا یس ورنہ ہر بات کا جواب میں نو میں دیا ہے۔
یعنی اپنے ذہن میں موجود بات کو کرنے کے لئے دوسرے کی بات کا ایک نقطہ سنتے ہی جواب باندھ لیتا ہے جس سے حقیقی افہام و تفہیم کرنا ممکن نہیں رہتا۔تحصیل علم کے لئے یا دوسروں کے موقف کو جاننے کے لئے خو د کونیوٹرل وغیرجانبدار رکھو ،بات سنو پھر فیصلہ یا حکم لگاؤ۔
عقل کا استعمال:
عقل ودانائی اللہ رب العزت کی ایک نعمت ہے۔ نعمت کا شکر اس کا صحیح استعمال ہے نہ کہ سرے سے اسے استعمال ہی نہ کیا جائے۔ بخیل بن کر اگر کوئی شخص عقل استعمال نہیں کرے گا تو یہ عقل اسے فائدہ نہیں دے سکتی۔ عقل وحکمت استعمال سے بڑھتی ہے۔یعنی جتنا زیادہ استعمال کی جائے اتنا ہی انسان کی استعداد بڑھتی ہے۔ نہ کہ ایک دیہاتی کی مانند جو عقل مطلق استعمال کرتا تھا۔ جب اس کے استاد نے اس سے دریافت کیا کہ تم عقل کیوں استعمال نہیں کرتے تو اس نے جواباً کہا ۔جب اللہ تعالیٰ عقل کے متعلق پوچھے گا کہ ” اللہ سائیں آکھسیں کہ عقل یکا ورتا چھڈی ” کیا تم نے ساری عقل استعمال کرلی ہے تو پھر میں کیا جواب دوں گا۔یہ تو مزاح تھا ۔عقل ودانائی اورعلم وحکمت جتنا زیادہ خرچ ہوں اتنا ہی استعداد اورقابلیت بڑھتی جاتی ہیں۔
تجسس:
تجسس(Curiosity) کا مادہ ہر انسان میں ہوتا ہے۔اگر اسے اپنے اردگرد کوئی ایسی شے نہ ملے جس کی وہ ٹوہ میں لگ سکتا ہوتو وہ اپنی ہی ذات کے بارے میں متجسس رہتا ہے۔ وہ کیا ہے؟کیوں ہے؟
بقول جگرمراد آبادی
اسی تلاش وتجسس میں کھوگیا ہوں میں
اگرنہیں ہوں توکیونکر،جوہوں توکیاہوں میں
بچوں میں تجسس کا مادہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔بچہ ہر واقعہ اور شے کی جزئیات سے واقف ہوناچاہتاہے۔ اس میں جاننے کی خواہش بدرجہ اتم موجود ہے اور وہ ہمہ وقت کسی نہ کسی جستجومیں رہتاہے۔بقول خاطر غزنوی
اک تجسس دل میں ہے یہ کیا ہوا کیسے ہوا
یہی وہ مادہ ہے جوبچوں کو آگے بڑھنے اورترقی کرنے میں مدد دیتاہے۔ اس کا مفیداور مثبت استعمال ہونا چاہئے۔بچہ کوسوال کرنے پر کبھی نہ تو جھڑکا جائے نہ ہی سوال کرنے سے منع کیا جائے۔اس کے سوالات کا جواب تشفی بخش طریقے سے دیا جائے اور اگر کچھ امور بچے سے پوشیدہ بھی رکھنا چاہتے ہیں تو ایسا کرتے ہوئے بچہ کو یہ محسوس نہ ہونے دیاجائے کہ اس سے کچھ چھپایاجارہاہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے سب کچھ بتادیاجائے لیکن حکمت و دانائی کامظاہرہ کیاجائے۔ اور اس کے سوالات کا رخ کسی اورجانب پھیر دیاجائے۔یہ ذہن میں رہے کہ صحیح سوال کرنا علم کی کنجی اور نصف علم ہے۔مشہور فلسفی فرانسس بیکن (Francis Bacon 1627) کے نزدیک جو جوزیادہ پوچھتا ہے وہ زیادہ سیکھتا ہے اور زیادہ تسکین پاتاہے۔ بچوں میں جذبہ تجسس کا مثبت استعمال بہت مفید اور علم کی ترقی میں کارآمد ہے۔
مطالعہ کی رغبت:
بچوں میں مطالعہ کی رغبت پیدا کی جائے۔ مطالعہ زندگی کی علامت ہے اور کتب سے دوری انسان کی موت ہے۔ مطالعہ سے علمی ترقی ہوتی ہے پھر اس کی مدد سے انسان کامیابیوں اور کامرانیوں کے زینے چڑھتا رہتاہے ۔کتاب بہترین رفیق ہے اور اس سے حاصل کردہ شے علم انسان کو سرشاررکھتا ہے:
سرورِ علم ہے کیفِ شراب سے بہتر
کوئی رفیق نہیں ہے کتاب سے بہتر
نہ یہ کہ بچوں کو مطالعہ سے نفور پیدا کیا جائے ۔جیسا کہ ہمارا معاشرتی رویہ ہے کہ جب بچہ کتابیں مانگتا ہے تو ماں باپ اس کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ یہاں حقیقی زندگی کا ایک واقعہ بطور لطیفہ پیش خدمت ہے۔
ایک شخص سے اس کے بچے نے ڈکشنری منگوائی۔ ایک ہفتے بعد اس نے اپنے والد سے ایک اورکتاب کی خواہش ظاہر کی۔ اس کے والد نے اسے جھڑک کر خاموش کردیا اورغصے سے کہا پہلے جو کتاب لاکر دی ہے وہ تو مکمل ختم کرلے ۔پھر دوسری منگوالینا۔
عملی میدان کا انتخاب:
بچہ کی نفسیات سے آگاہی حاصل کرنانہایت ضروری ہے۔والدین بچوں کی صلاحیتوں ،دلچسپیوں کو مد نظر رکھ کر ان کے لئے تعلیم و تعلم کا انتظام کیاجاناچاہئے۔ ہمارے ملک میں بھیڑ چال ہے دوسروں کی دیکھا دیکھی ہم اپنے بچوں کے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں ۔مثلاً کمپیوٹر کا دور شروع ہوا تو ہر ایک بچوں کو کمپیوٹر کی فیلڈ میں داخل کرنے کا خواہشمندنظرآنے لگا۔ یہ انتہائی غلط فکروروش ہے ، بچوں کی خواہش،دلچسپی اورانفرادی اختلافات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اگر عملی میدان کا انتخاب کیا جائے گا بچہ اس میں شوق ،جذبے ، لگن اورمحنت سے کامیابی حاصل کرے گابصورت دیگرہ والدین کے دباؤ کے تحت وہ وقت توگزاردیں گے لیکن اس شعبہ میں کوئی نمایاں مقام حاصل نہیں کرسکیں گے۔
حقیقت آشنائی:
تصور ہمارے ادراکی تجربات کا نتیجہ ہے۔ جو ہم کسی شے یا فرد سے وابستہ کرلیتے ہیں ۔تصور حقیقت سے زیادہ خوش کن یاخوفناک ہوتاہے۔۔ بچوں میں یہ اور زیادہ اہمیت رکھتاہے۔ ابتدائی دور میں بچے کے تصورات کوسمجھنا مشکل ہوتا ہے۔ وہ انتہائی سوچ رکھتا ہے اور دوانتہاؤں پر سوچتاہے۔ بچے کا تصور شدید ہوتاہے ۔وہ اچھائی و برائی کے تصور اورتخیل میں بھی انتہا ئی درجہ تک سوچتا ہے۔لیکن بچوں کو بتدریج حقیقت آشناکیا جائے اورہر چیز کا صحیح و حقیقی رخ دکھایا جائے اوریہ باور کرانے کی کوشش کی جائے کہ غلطی ہر انسان سے ہوسکتی ہے۔کوئی شخص معصوم نہیں ہے ۔یعنی اس کے والدین سے بھی خطاہوسکتی ہے اچھے انسان کی خوبی یہ ہے کہ اپنی غلطی کا اعتراف کرلے تو اس سے تائب ہوجائے۔ گرے ہوئے دودھ پر آنسو بہانے ، رونے سے بہتر یہ ہے کہ آئندہ اس غلطی کا تدارک کر لیا جائے۔
آزادی اظہار:
بچے والدین سے آزادانہ تبادلہ خیال کرسکیں ۔بالخصوص اگروہ گھرسے باہر کی بات کریں تو انہیں نظرانداز نہ کریں ۔ توجہ سے ان کی سنیں ، اگر کوئی تنگ کررہا ہے تواسباب جاننے کی کوشش کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے اور جرائم پیشہ افراد بچوں کو اپنا آلہ کار بنانے کی کوشش کریں ،کوئی فرد حسد اور رقابت کی وجہ سے بچوں کی تعلیم و تربیت پر منفی طورپر اثر اندز ہونے کی کوشش کرے، کوئی اسے بلیک میل کرکے اس کی شخصیت کو تباہ کردے اور اسے اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرے ،بچہ کسی شخص کے خوف کی بناء پر کچھ ایساکام کرلے جس کی تلافی ناممکن ہو۔اس پر ڈر خوف نہ ہو کہ اگرمیں گھر میں ذکرکروں گا تو گھر والے سزادیں گے بلکہ وہ آزادی سے اپنے معاملات والدین کو بتاسکے۔ورنہ ان حالات سے دوچار ہونے کے بعد بچہ کی جسمانی، ذہنی،جذباتی اور سماجی نمو کا عمل سست ہوجاتا ہے۔اوروہ دل میں یہ حسرت لئے پھرتاہے کہ دل میں سینکڑوں باتیں ہیں لیکن کوئی میری سننے والا ہی نہیں ۔
سیکڑوں حرف ہیں گرہ دل میں
پرکہاں پائیے لبِ اظہار
جمالیاتی(aesthetical) ذوق :
بچوں کو صاف ستھرا ماحول میں رکھیں ۔اوران کی اس انداز سے رہنمائی کی جائے کہ ان کے اندر حسن وترتیب وتنظیم پروان چڑھے جس سے ان میں جمالیاتی ذوق اور نفاست طبع پیداہوگی۔ان کے اندر اشیاء کو صحیح مقام پر رکھنے کی خاصیت پیدا ہوگی۔حسن وجمال کا انحصار قیمتی وپرتعیش اشیاء پرنہیں۔ بلکہ حسن تو ایک ترتیب وتنظیم کا نام ہے جو خود اپنی جانب توجہ مبذول کرالیتاہے اگرچہ سادگی کا مظہر ہی کیوں نہ ہو۔
حسن ہر شے پہ توجہ کی نظر کاہے نام
بارہاکانٹوں کی رعنائی نے چونکایامجھ کو

تھام کر تیری انگلی(۲/۲)

ام ہشام
آج کی تحریر ان عقابوں کے نام، جن کی نظریں ہر منظر میں ایک نیا زاویہ تلاش کرتی ہیں،جو کل ہواؤں کے دوش پر سوار ہوکر ملک و ملت کی نئی تاریخ رقم کرنےوالے ہیں-اللہ ان ننھے بال و پر کو پرواز عطا کرے –
تناؤاور فکر سے آزاد امتحان کی تیاری کےلئے سب سے پہلے نیچے بتائے گئے نکات کےساتھ اپنا ٹائم ٹیبل بنالیں،پھر اسی کےساتھ اپنی پڑھائی اور دیگر کام جاری رکھیں –
(۱) بائیولوجیکل کلاک:
اس گھڑی سے مرادیہ ہے کہ آپ اپنے پڑھنے لکھنے کے اوقات طے کرلیں – اپنے ذہن اور آسانی کے حساب سے پڑھائی کا ایک وقت مقرر کریں، اس کا سیدھا اور سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ جس طرح روز مرہ کی زندگی میں آپ اپنی عادات کےمطابق مقررہ اوقات پر اپنے دوسرےکام بغیر کسی پریشر اورمشقت کے بآسانی کرلیتے ہیں، اسی طرح ایک بار جب آپ کی یہ گھڑی سیٹ ہوجائےگی،تب آپ خود بخود اپنے مقرر کیے گیے وقت پر پڑھائی کرنے کو تیار ہوں گے، بالکل ویسے ہی،جیسے آپ اپنے فکس ٹائم پر نہاتے دھوتے،ناشتہ یا لنچ کرتے ہیں،اسی طرح یہ گھڑی اور اس میں سیٹ کیا ہوا ٹائم آپکو مقررہ وقت پر پڑھائی کا عادی بنادےگا-
(۲) صرف پڑھتے نہ رہیں:
رٹا مارنا اورہر وقت صرف یادکرتے رہنا یہ طریقہ بہت زیادہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتا – عقل مند وہ ہے،جو ہارڈورک کی بجائے اسمارٹ ورک کرے- تو اب جب بھی آپ پڑھنے کے لئے بیٹھیں،تو صرف جوابات کا رٹا نہ لگائیں، جواب کےساتھ ساتھ سوالات کو بھی اتنی ہی مرتبہ پڑھیں -عموما اکثر بچوں کے ساتھ یہ مسئلہ دیکھا گیا ہےکہ دوران امتحان انہیں سوال کے جواب نہیں آتے؛ لیکن جب وہ امتحان ہال سے باہر آکر اپنے دوستوں سے ڈسکس کرتے ہیں، تو بڑے افسوس میں پڑجاتے ہیں کہ ارے! یہ سارے جوابات تو ہمیں بہت اچھی طرح آتے تھے؛ لیکن سوال سمجھ نہ پانے کی وجہ سے ہم اسے حل نہیں کرسکے –
یہ گڑ بڑ اس وجہ سے ہوئی کہ آپ نے صرف جوابات یاد کئے اور وہ سوال کن جوابات سے متعلق ہیں، بس یہیں آپ چوک گئے اور دیگرسوالوں میں گڈمڈ ہوگئے –
لہذا سوال اور جواب کے تال میل کو سمجھنے کی کوشش کریں؛تاکہ امتحان کے پیپر میں جب وہ سوال آپ کی نظروں کے سامنے آئے، تو آپ کا دماغ خود بخود وہ جواب ذہن کی اسکرین پر لےآئے –
(۳) نماز و دعا کی پابندی:
تمام باتوں پر عمل سے پہلے اپنے آپ کو نماز اور دعاؤں کا پابند کریں – اپنی تمام کوششوں کے ساتھ اللہ سے مدد مانگنے کی عات ڈالیں – اللھم لا سھل الا ماجعلتہ سھلا جیسی دعاؤں کے ساتھ اپنی پڑھائی کی شروعات اور اختتام کریں – ایک روحانی سپورٹ ہمیشہ آپ کو آنے والی تیاریوں میں حوصلہ دے گا-
(4) یاد کرنے کے ساتھ ساتھ گذشتہ سالوں کے سابقہ پیپرز جمع کریں اور انہیں حل کرنے کی مشق کریں!
اس طریقے سے بہت سارے آئیڈیاز اور نئے سوالات آپ کے پاس جمع ہوجائیں گے پھر آپ اپنے پرچے میں ہر طرح کے سوالات کے لیے تیار ہوں گے –
(5) دھیان بانٹنے والی چیزوں اور لوگوں سے دور رہیں!
اسی طرح منفی خیالات کو اپنے پاس نہ آنے دیں؛ کیونکہ ہمارا یہ دماغ اتنا پاور فل ہے کہ جس چیزپر ہم کانسٹریٹ کرتے ہیں، وہ چیز ہمارے ذہن پر میگنیفائٹ ہوجاتی ہے،اگر فیل ہونے یا نمبرات کی کمی کا خطرہ دل ودماغ پر حاوی ہوگا، تو ویسا ہی نتیجہ ملےگا؛ اسی لیے جو بچے ایگزام کا اسٹریس لیتے ہیں،وہ ڈینجر پر فوکس کرتے ہیں، جس سے ان کی کارکردگی پر برے اثرات پڑتے ہیں-
جبکہ ہونا یہ چاہیے کہ مشکل سے مشکل سبجیکٹ کو حل /یاد کرتے ہوئے ہمارا مقصود ہماراخواب اور ٹارگٹ ہماری نگاہ میں ہونا چاہیے –
پورے اعتماد اور یقین کےساتھ اپنا گول سیٹ کریں اور اسے حاصل کرنے کےلیے اپنی محنت پر بھروسہ رکھیں، اچھا سوچیں اور مثبت نتائج حاصل کریں-
(6)ہلکی پھلکی ورزش یا جسمانی سرگرمیاں:
امتحان کے دوران بھی جتنا اور جسقدر ممکن ہو جسمانی سرگرمیاں اور ہلکے پھلکے کھیل کود جاری رکھیں- پڑھائی کے دوران بریک ٹائم میں جب بھی موقع ملے اٹھک بیٹھک،ہلکی پھلکی جمپ یا warm up ضرور کریں،اس سے آپ کے جسم میں بلڈ سرکولیشن اور آکسیجن کی مقدار بڑھے گی،جو آپ کے اندر توانائی کے ساتھ چستی اور پھرتی بھی لائےگی –
پانی زیادہ سے زیادہ پئیں، ہر تیس سے چالیس منٹ کے درمیان آدھا گلاس پا نی ضرورپئیں،بازار ی،تلی بھنی اشیا سے پرہیز کریں، گھر کے صاف ستھرے کھانوں پر دل کھول کر ہاتھ صاف کریں- یقینا آپ سب کی ممیاں بہت خوش ہوں گی –
(7) اکثر بچوں کے ساتھ یہ مسئلہ بھی دیکھا گیا ہےکہ جواب آنے کے باوجود بھی وہ مکمل پرچہ لکھ نہیں پاتے، وقت کم پڑجاتا ہے اور ہمیشہ مارکس چھوٹ جاتے ہیں -اس میں آپ کے ذہن سے متعلق کوئی مسئلہ نہیں، اگر آپ سارا پرچہ حل کرنے کی قابلیت رکھتے تھے اور آپ کی تیزی کے باوجود بھی آپ کاپرچہ ادھورا رہ جاتا ہے، تو اس کا مطلب یہ کہ آپ کی انگلیاں درست طریقے سے کام نہیں کرپارہیں – ماہرین کےمطابق ایسےطالب علم کو پڑھتے ہوئے یا خالی وقت میں اپنے five motor skills پر کام کرنا چاہیے،جس کی خاطر یا تو ایساطالب علم اسپرنگ سے انگلیوں کی ایکسر سایز کرے یا پھر اسپنج بال کے ذریعے اپنی انگلیوں کو مسلسل حرکت دیتا رہے؛کیونکہ طبی نقطۂ نظرسے جسم کے جس حصے کو مضبوط بنانا ہو،اس پر زیادہ محنت کی جانی چاہیے اور یہ ایک مجرب طریقہ ہے –
(8)فوری اعادہ :
امتحان کی تیاری کی خاطر ہم نے جو کچھ بھی یاد کررکھا ہے، اس کا اعادہ کرتے رہیں،ایسا نہ ہوکہ ایک مہینہ پہلے آپ نے سارے سبجیکٹ کی ستر فیصد تیاری مکمل کرلی ہے لیکن اس درمیان آپ نے اعادہ نہیں کیا,اگر ایسا ہوا تو امتحان کے وقت آپ کو شاید کچھ بھی یاد نہ رہ جائے؛اس لیے ہر چوبیس گھنٹے پر ایک بار یاد کی ہوئی چیزوں کا اعادہ ضرورکرلیں -کچھ بھی نیا سیکھنے سے پہلے ایک بار اعادہ ضرور کریں-
(9) مطالعہ +مذاکرہ:
جو کچھ آپ پڑھتے ہیں اسے لکھ کر مشق کریں کہ صحيح طور پر آپ جواب لکھ پارہے یا نہیں ساتھ ہی ایک سب سے ضرور ی کام یہ کریں جو بھی اہم ,مشکل اور قابل ذکر باتیں آپ سیکھتے ہیں تو ان باتوں کو اپنے دل ودماغ پر نقش کرنے کیلیے گھر کے کسی بھی فرد کو پکڑ کر آپ اس سے ڈسکس کرنا شروع کردیں – چاہے وہ کوئی تاریخی واقعہ ہو یا سائنس کا فارمولااور اگر کوئی سننے والا نہ ملے، تو پھر آئینے کے سامنے کھڑے ہوجائیں؛کیونکہ ہم خود ہی اپنے بہترین ٹیچر ہوتے ہیں –
چند مشکل سوالات پھر بھی ستاتے ہوں، تو یہ آزما کر دیکھ لیں ـ اپنے جواب کو کسی آڈیو ریکارڈر میں اپنی آواز میں ریکارڈ کریں،پھر اس ریکارڈ کو دو سے تین بار دھیان سے سنیں …ان شاءاللہ چوتھی بارسننے کی ضرورت نہیں ہوگی،خود کی آوز میں جواب کا سننا آپ پر جادوئی اثر کرےگا اور آپ کو جواب یاد ہوجائے گا-
اور جب امتحان شروع ہوجائے تب :
(۱)آسان اسباق سے یاد کرنا شروع کریں، پھر آہستہ آہستہ مشکل اسباق یا سبجیکٹ پر جائیں-
(۲)اپنا ہر کام پورے اعتماد سے کرنے کی کوشش کریں – یاد کیے جوابات پر یقین رکھیں بار بار کنفیوزن کا شکار ہوکر وقت نہ برباد کریں –
(۳)دوست کے ساتھ کمبائن اسٹڈی سے گریز کریں خصوصا اسوقت جب معاملہ مقابلہ کا ہو –
یا بار بار اپنے ساتھیوں سے یہ نہ پوچھیں کہ انکی تیاری کہاں تک پہنچی؟اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اگر آپ کے ساتھی آپ سے آگے چل رہے ہیں، تو آپ پر مایوسی طاری ہوجائےگی اور اگر وہ آپ سے پیچھے چل رہے ہیں، تو خوش فہمی میں آپ کچھوے اور خرگوش والی کہانی کے “خرگوش” ضرور بن سکتے ہیں – دونوں صورتوں میں آپ کا ہی نقصان ہونا ہے اس لئےاپنی استطاعت بھر خاموشی کے ساتھ پڑھتے جائیں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں کہ وہ کسی کی محنت رائیگاں نہیں جانے دیتا –
(4) امتحان کے وقت تک اپنی کتابیں، نوٹس اور کاپیاں چینج نہ کریں انہیں پرانی کتابوں اور نوٹس کا استعمال کریں جو سال بھر آپکے استعمال میں رہی ہیں کیونکہ پہلی مرتبہ جب, جو چیز ہم جس شکل میں دیکھتے ہیں اور یاد کرلیتے ہیں وہ ہو بہو سطر بسطر ہمارے دماغ پر نقش ہوجاتی ہے لیکن امتحان کی تیاری سے ایک دو دن پہلے کتاب یا نوٹس کا بدلنا یہ آپ کے حافظہ میں گڑبڑ پیدا کرسکتا ہے –
(5)کسی دوسرے کے پڑھائی کے طریقۂ کار سے متاثر ہوکر اپنا طریقہ نہ بدلیں، یقین مانیں یہ بہت بڑا رسک ہے، رسک لینا ہی ہے،تو امتحان سے پہلے سال کے دوران اسے آزمائیں امتحان کے درمیان کوشش بھی نہ کریں -کیونکہ ہر کسی کا میموری پاور دوسرے سے الگ ہوتا ہے ممکن ہے وہ طریقہ آپ پر اپلائی نہ ہوسکے جو آپکے دوست پر بآسانی ہوجاتا ہے -آپ Unique ہیں،کسی اور کے طریقے کو خود پر لاگو نہ کریں –
(6)پرچہ ہاتھ میں آتے ہی پورا پرچہ الٹ پلٹ کر نہ پڑھیں؛کیونکہ اگر دس سوالوں میں سے آپ کو تین سوال وہ بھی پندرہ مارکس کے نہیں آتے تو آپ کو پورے پندرہ نمبر ہاتھ سے چھوٹ جانے کی فکر لاحق ہوجائیگی اس طرح آپ پیپر لکھنے سے پہلے ہی ڈسٹرب ہوجائیں گے –
یہاں آپ کو کرنا یہ ہےکہ اگر آپ کو پندرہ مارکس کے جواب نہیں آتے، تو آپ یہ سوچیں کہ پچیس نمبر تو آپکے ہاتھ میں ہیں اور پندرہ کیلیے پچیس گنوانا یہ کتنی بڑی نادانی ہوگی- آپ پرچہ کوپوری لگن سےلکھنا شروع کریں اسطرح نہ آنے والے سوالات تک پہنچتے پہنچتے آپکا کانفیڈنس لیول بڑھ جائیگا اوربقیہ سوالات کے جواب بھی آپ کو رفتہ رفتہ یاد آجائیں گے –
(7)ہر اس چیز سے بچیں جو آپ کو تکلیف پہنچاتی ہو خواہ وہ جسمانی ہو یا ذہنی ـ گھر میں بڑوں کی فرمانبرداری کے ساتھ ان سے مشورے لیتے رہیں یقین کریں کہ گھر والوں کے ساتھ سے بڑا کوئی اور سہارا نہیں ہوتا – سب کی دعاؤں کے ساتھ اپنا موڈ اچھا رکھیں اورامتحان کی شکل میں ایک مثبت مفید اور مزیدار مقابلہ کوانجوائے کریں ـ

تھام کر تیری انگلی (۱)

امِ ہشام
امتحان کا نام سن کر ہی انسان کے اندر ایک بے چینی جاگ جاتی ہے، اچھے اچھوں کے سر پر ٹینشن سوار ہوجاتی ہے اور جب معاملہ بچوں کا ہو،تو پھراچھی طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ بچوں کے ساتھ ساتھ والدین اور سرپرستوں کا کیا حال ہوتا ہے، بالخصوص بات جب فائنل ایگزامز کی ہوـ ہمارے ساتھ معاملہ یہ ہےکہ ہم سارا سال کچھوے کی چال چلتے ہیں اور پھر امتحان کے آٹھ دس دنوں میں سارا جگ جیت لینا چاہتے ہیں؛ لیکن یہ تو زندگی کا کلیہ ہے کہ “بیج بوئے ببول کے تو آم کہاں سے پائے “ـ
ہم میں سے کچھ لوگ بچوں کے ساتھ محنت تو کرتے ہیں؛لیکن ویسی نہیں، جیسی مطلوب ہوتی ہے، زیادہ تر لوگ بس زبانی چیخ پکار،دھمکیوں سے بچوں کو امتحان کی تیاریوں کیلیے آمادہ کرنے پر یقین رکھتے ہیں،جو کسی بھی لحاظ سے مناسب اور فائدہ مند نہیں ہےـ آج کے اس مسابقاتی دور میں بھلاکامیاب ہونا کون نہیں چاہتا،ظاہرہے سبھی چاہتے ہیں؛ لیکن امتیازی اور منفرد کامیابی کی بات ہی کچھ اور ہوتی ہے،یہ وہ کامیابی ہے،جو اصولوں کی ڈگر پر چل کر ہی حاصل ہوپاتی ہےاور اس کےحصول میں سب سے اہم معاون کا کردار والدین اور سرپرست ادا کرنے والے ہوتے ہیں ـ
تو آئیے ایک منفرد کامیابی کی جدو جہد میں اپنا رول ادا کرتے ہیں ـ یہاں بچوں سے پہلے والدین سے میری کچھ گذارشات ہیں:
(۱) سکونِ قلب :
جس کی خاطر آپ کو سب سے پہلے اپنی ساری تمنائیں اور امیدیں اللہ سے لگانی ہیں ـ نماز کی پابندی، مسلسل دعا مانگنے کےساتھ اس کی قبولیت پر یقین بھی رکھنا ہے اور کامل یقین رکھتے ہوئے اپنی بقیہ کوششیں بھی آپ کو جاری رکھنی ہیں، اس طرح آپ کی اپنی شخصيت پر اعتماد ہوگی اور ساتھ ہی اس کے اثرات بچوں پر مرتب ہوں گےـ
امتحان میں بچوں کی اچھی کارکردگی کےلیے سب سے پہلے آپ اپنا بلڈ پریشر نارمل رکھیں؛کیونکہ گر آپ نارمل ہیں،توظاہر ہے آپ کے ماتحت ساری چیزیں نارمل ہوں گی، خودبھی مطمئن رہیں، بچوں کو بھی تسلی دیں ـ
(۲)پریشر اور ٹینشن :
بچوں کے مارکس اور نتیجے سے متعلق اپنی امیدوں کو اعتدال میں رکھیں،سو میں سے سو لانے کے چکر میں خود کو اور بچوں کو ہلکان نہ کریں،نہ ہی ضرورت سے زیادہ دباؤ بنائیں-ماحول کو پازیٹیو فیلنگ سے ہلکا ہھلکا رکھیں، امتحان کے اسٹریس سے بچوں کو آزاد رکھیں، ساتھ ہی بچوں کے جذبے اور حوصلے کو بڑھاتے رہیں ـاسٹریس اورٹینشن سو بیماریوں کی تمہید ہوتے ہیں؛ اس لئے ہمیں اپنی اور اپنے بچوں دونوں کی صحت کا خیال رکھنا ہوگا-
(۳) یاد کرنے کے اوقات اور جگہ کا انتخاب :
بہت سے والدین عادت کےمطابق بچوں کو ایک بند کمرے یا الگ تھلگ کونے میں بٹھا دیتے ہیں؛تاکہ بچے پر باہری ماحول اثر انداز نہ ہواور ان کا بچہ یک سوئی سے اپنی پڑھائی کرسکے- در حقيقت یہ ایک غیر صحت مند عادت ہے، جس سے بچہ شور سے تو بچ جاتا ہے؛ لیکن یہ ضروری نہیں کہ بچہ اس تنہائی سے خاطر خواہ فائدہ اٹھائےـ بہتر نتائج کےلیے بچے کو بند کمرے کی جگہ کھلے اور ہو ادار کمرے، سیڑھیوں، کھڑکی کے کنارے یا چھت وغیرہ پر بٹھایا جاسکتا ہے، تازہ ہوا اور روشنی انسان کی طبیعت پر اچھے اثرات چھوڑتی ہیں، اس طرح بچوں کی یادداشت خوش گوار انداز میں مضبوط بنے گی ـ
بچوں کو کس وقت پڑھنا ہےاور کیسے پڑھنا ہے، یہ آپ پہلے بچوں سے باہم سمجھ لیں،بغیر ان سے سمجھے ان پر اپنی مرضی نہ تھوپیں، انہیں جو بھی وقت مناسب لگے، انہیں اسباق کو یاد کرنے یا اعادہ کےلیے اسی وقت پربیٹھنے دیجیے؛ کیونکہ یاد انہیں کرنا ہے، امتحان ان کا ہے ہمارا نہیں ـ
خاص طور پر امتحانات کے دنوں میں پڑھنے کے ٹائم ٹیبل کو چینج مت کیجیے، جس وقت پرسارا سال بچہ پڑھتا رہا ہو، وہی وقت امتحان کے دوران باقی رہنے دیجیے،ہاں بس دورانیہ بڑھالیجیےـ
(۴)اپنا کردار متعین کرلیں :
اگر آپ یہ سوچتے ہیں کہ سال بھر آرام کرکے آپ امتحان میں بچوں سے ڈبل ڈیوٹی لے سکتے ہیں،تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے، آج کی نسل ہم سے کہیں زیادہ اسمارٹ ہے، پھر کہیں ایسا نہ ہوکہ آپ جب بھی بچوں کو پڑھنے کی،یاد کرنے کی تاکید کریں بچے آپ کے سامنے یہ مقولہ دہرادیں: …a single sheet of paper cannot decide my future
لہذاآپ کو کمال ہوشیاری سے بچوں کی پڑھائی میں بےجا دخل اندازی نہ کرتے ہوئے کچھ الگ اور دوسرے طریقوں سے اپنے بچوں کی امتحان کی تیاری میں اپنا رول ادا کرنا ہے، یعنی ان سے ہارڈ ورک کی بجائے اسمارٹ ورک کروانا ہے،بچے بھی خوش اور آپ بھی ـ
مثلا ہر ایک گھنٹے کی پڑھائی کے بعد بچوں کو پانچ سے سات منٹ کا بریک دیں اور اس بریک میں انہیں ہلکا پھلکا؛لیکن مقوی اور غذائیت سے بھرپور ناشتہ ضرور کروائیں ـ عموما لوگ تھکاوٹ کو دور کرنے کےلیے چائے یا کافی کی طرف لپکتے ہیں، یہاں آپ کو مشروب دینا ہے،تازہ پھلوں کے جوس،ملک شیک یا کسی بھی فلیور کا دودھ آپ کے بچوں کو دوبارہ اینرجایز کرنے میں معاون ہوگا، کٹے ہوئے پھلوں کی پلیٹ اور پانی کی بوتل بچوں کے پاس رکھ دیں -اچھی ڈائیٹ کے ساتھ اچھی نیند سب سے ضروری ہے؛ اس لئے اپنے ساتھ ان کی نیند کا بھی خیال رکھیں ـ
اکثر یہی دیکھنے میں آیا ہےکہ بچوں پر امتحانات کے دوران خوب پابندی لگوائی جاتی ہے؛لیکن والدین خود اپنے شب وروز کی ایکٹیویٹی میں ذرہ بھر تبدیلی کو تیار نہیں دکھائی پڑتے-
آپ کے لیے سب سے ضروری مشورہ یہ ہےکہ انٹرنیٹ کا استعمال خود بھی محدود کرلیں اور بچوں کو بھی اس ڈسٹریکشن سے محفوظ رکھیں ـ مہمانوں کی آمدورفت کو کچھ دنوں کےلیے آرام دے دیں، تعطیل میں بھرپور ضیافت کیجیے، ہم آپکو منع نہیں کریں گےـ تقاریب اور سیر سیاحت کو میوٹ پر لگادیں، چھٹیوں میں اس mode کو دوبارہ ایکٹیو کرلیجیے گا -دھیان بانٹنے والی چیزوں سے بچوں کو دور رکھنے کی کوشش کریں ـ
(۵)میجک ٹچ :
بچوں کی پڑھائی کے دوران بچوں کو تروتازہ رکھنے کےلیے ان کے سر پر ہاتھ پھیریے،گاہے بگاہے پوچھتے رہیے کہ انہیں یاد کرنے یا سمجھنے میں کوئی دقت تو پیش نہیں آرہی؟اپنا تھوڑا ساوقت,شفقت، پیار اور توجہ بچوں کو دیں،انہیں سمجھائیں اور اعتماد دلائیں کہ کامیابی کا یہی راستہ ہے،تم اس پر چلنا شروع کرو، ہم اس راہ میں ہر قدم تمھارے ساتھ ہیں -بچوں پر اعتماد کیا بھی جائے اور اس اعتماد کا اظہار بھی کیا جائے ـ
یقینا بچوں کےلیے والدین کے بھروسے سے بڑی کوئی دوسری تحریک نہیں-
پھر دیکھیں ان شاءا للہ وہ آپ کی امیدوں پر کھرا اتریں گےـ آپ کی کوئی ٹرک کام کرے نا کرے،یہ والی ضرور کام کرےگی-
بچوں سے غفلت برت کر،ان کا رزلٹ دیکھ کر اپنابلڈ پریشر بڑھانے کی بجائے یہاں امتحان کی تیاریوں میں ایک جاندار اور شاندار رول ادا کریں، اپنی زائد اور بےکار کی مصروفيات کو ترک کرکے اپنا قیمتی وقت بچوں پر وقف کیجیے،آپ کی اور آپ کے بچوں کی محنت ان شاءاللہ رنگ ضروررنگ لائےگی-

آپ کوعبایامیں گھٹن نہیں ہوتی؟

مریم محمد
دو چار دن پہلے ہسپتال جانا ہوا،کافی زیادہ رش کی وجہ سے ہم لوگ ویٹینگ روم میں بیٹھ گئے،
ہمارے ساتھ والی نشست پر ایک خوبصورت ینگ خاتون برا جمان تھیں، پہلے تو کافی دیر کوئی بات چیت نہ ہو سکی، بالآخر میں نے ہی گفتگو کا سلسلہ شروع کیاـ باتوں سے بات نکلی،تو بات پردے پر آ گئی،وہ
پوچھنے لگیں: کیا آپ کو نقاب میں گرمی نہیں لگتی؟ یہ سوال کوئی نیا نہیں ہے ہمارے معاشرے میں، اکثریت کا تقریبا یہی سوال ہوتا ہے، میں نے صرف نہ کہنے پر اکتفا کیاـ
وہ پھر بولیں: مجھے تو ایسے ہی بہت گرمی لگتی ہے، آپ کو نقاب میں بهی نہیں لگتی، کیا یہ سفید جھوٹ نہیں؟؟
“دیکھیں! اس میں سفید جھوٹ والی کوئی بات نہیں ہے، یہ گرمی اتنی ہی ہے،جتنی انسان برداشت کر سکے، اس سے زیادہ گرمی نہیں ہے، یہ سورج اللہ نے بنایا ہے اور اسے نے ہمیں اس گرمی میں پردہ کرنے کا حکم بھی دیا ہے ، آج سورج کڑوں اربوں میل کے فاصلے پر ہے، تو بھی ہم گرمی کا رونا رو رہے ہیں، اگر سورج بالکل ہمارے سر پہ کهڑا ہوتا اور اللہ ہمیں پردبےکا حکم دیتے، تب بھی ہم میں یہ ہمت نہی تهی کہ ہم اس کی حکم عدولی کرتے، بس فرض تها،تو فرض تها؛لیکن کیا ہے کہ اللہ ہم لوگوں پہ اتنا ہی بوجھ ڈالتے ہیں، جتنا ہم برداشت کر لیں، اس سے زیادہ نہیں اور کیا آپ کو علم ہے کہ چودہ سو سال پہلے تپتے صحراؤں میں نہ بجلی تهی، نہ پانی، نہ پنکھا، نہ اے سی، تب بھی اس دور کی خواتین صحابیات نے اللہ کے حکم پر لبیک کہا تھا، بات مانی تهی، آج جبکہ ہمارے پاس زندگی کی ہر آسائش ہے، تو ہم گرمی کا بہانہ بنا کر اللہ کے حکم کو چھوڑ دیں؟
سب سے بڑی بات یہ ہوتی ہے کہ آپ کا محبوب کون ہے؟ کیا آپکا محبوب آپ کا نفس ہے؟؟ یہ معاشرہ؟ یا پھر آپکا محبوب آپ کا رب ہے؟
چودہ سو سال پہلے کی خواتین کا محبوب ان کا رب تھا، بات یہ ہے کہ دنیا کا سب سے مشکل کام محبوب کو ” نہ ” کرنا ہوتا ہے؛ اس لیے وہ عورتیں اپنے رب کو نہ نہیں کر پائی تھیں اورآج ہم اپنے نفس کو” نہ”نہیں کہہ پاتے ” ـ
انھوں نے کہا “صیح کہہ رہی ہیں آپ، مگر دیکھیں آج کی خواتین پردہ تو کرتی ہیں، مگر کس طریقے کا پردہ؟ چهوٹے دوپٹے ٹائٹ برقع، آدها چہرہ تو باہر جھلک رہا ہوتا ہے “ـ
میں نے جواب دیا “ہاں جی! یہ اس لیے کہ ہم معاشرے کو محبوب رکھتے ہیں، ہم سوچتے ہیں فیشن کا فیشن ہو جائے، رب بھی خوش اور معاشرہ بھی خوش؛لیکن ہمیں یہ نہیں معلوم کہ جن سے رب خوش نہیں ہوتا،ان سے معاشرہ بھی کبھی خوش نہیں ہو پاتا،پردہ ٹرینڈ کے مطابق نہیں، اللہ کے حکم کے مطابو ہونا چاہیے، ورنہ تو ہم مذاق کا نشانہ ہی بنیں گے صرف! “ـ
انھوں نے کہا “بالکل ٹھیک کہا آپ نے، میں نے زندگی میں کبھی پردہ نہیں کیا،مگر ایسی خواتین سے سخت کوفت ہوتی ہے مجھے “ـ
یہ کہہ کے وہ چلی گئیں، مگر میرا نمبر لے گئیں، آج مجھے ان کا میسج آیا، بولیں:”میں نے بہت سوچا ہے کہ مجھے کیا چیز زیادہ محبوب ہے، مگر حقیقت یہی ہےکہ مجهے اپنا نفس زیادہ محبوب ہے، آج میں پردہ کرنے کا فیصلہ کر رہی ہوں؛ کیونکہ میں اپنے رب کو محبوب رکھنا چاہتی ہوں،میں جان گئی ہوں کہ آپ دنیا میں ہر چیز کو راضی کر لیں، مگر رب کو راضی نہ کر سکیں، تو آپ خسارے میں ہیں!

حجاب، چادر اور پردے پر اعتراض ۔ ذمے دار کون؟


مسعود جاوید
6 ؍فروری 2019ء کو ’’سلم ڈوگ ملینائر‘‘ کی دسویں سالگرہ منانے کے لیے ممبئی میں ایک جشن کا انعقاد ہوا تھا،اس موقع پرآسکر اور کئی قابلِ قدر ایوارڈ سے سرفراز عالمی شہرت یافتہ شہنشاہِ موسیقی اے آر رحمان کی بیٹی خدیجہ نے اپنے والد کے ساتھ اسٹیج شیئر کرتے ہوئے حاضرین کو بتایا کہ ان کے والد اللہ رکھا رحمان ایک نہایت ہی منکسرالمزاج’، محبت کرنے والے انسان ہیں اور محمد صل اللہ علیہ و سلم اور ان کی حیاتِ طیبہ ان کے لیے آئیڈیل اور چراغ راہ ہیں۔
تاہم بعض حاضرین جلسہ کو یہ دیکھ کر صدمہ پہنچا کہ ایک ماڈرن دنیا، شہرت و امارت اور گلیمر و آزاد خیالی کے لئے مشہور انڈسٹری سے وابستہ کامیاب ترین فنکارو امیر ترین شخص کی بیٹی خدیجہ مکمل حجاب میں اپنے والد کے ساتھ اسٹیج شیئر کر رہی ہے،اس جشن کی تصویریں وائرل ہوئیں اور سوشل میڈیا پر ایک طوفان بدتمیزی برپا کیا گیا،اے آر رحمان پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے اپنی بیٹی پر حجاب کے لئے جبر کیا ہے، فرسودہ خیالات کی زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے اور یہ کہ پوری دنیا میں اپنا اعلیٰ مقام بنانے والے مہذب روشن خیال اور تعلیم یافتہ لوگوں کے درمیان رہنے والے اے آر رحمان اس قدر دقیانوس، تنگ نظر اور قدامت پسند ہیں،اس کا منہ توڑ جواب انہوں نے ٹویٹر پردیا کہ میری بیٹیاں اپنی پسند کا لباس اختیار کرنے کے لیے آزاد ہیں۔
جب ان کو ٹرول کیا جانے لگا، تو خود خدیجہ نے دفاع کیا کہ میں ایک عاقلہ بالغہ لڑکی ہوں اور میں نے اپنی مرضی سے اپنی پسند کا لباس اختیار کیا ہے،میں اس چوائس کا احترام اور اسے دل و جان سے قبول کرتی ہوں،اس کا میرے والد سے کوئی لینا دینا نہیں ہے،کسی کو صحیح صورتحال جانے بغیر فیصلہ صادر نہیں کرنا چاہیے۔نیتا امبانی کے ساتھ اپنی بیٹیوں کے مہذب لباس، موڈیسٹ اور ڈیسنٹ ڈریس کی تصویر پوسٹ کر کے اے آر رحمان نے ایک اچھا میسیج دینا چاہا کہ بحیثیت مہذب شخص اور ذمے دار گارجین وہ اپنے بچوں کی انفرادی آزادی بھی مسلوب نہیں کرتے ؛لیکن بحیثیت مسلمان ان کی تربیت ایسی ہوئی ہے کہ ان لڑکیوں نے اپنے لئے مہذب ،حیادار لباس پسند کیا اور اسے پہن کر سیلیبریٹیز کے جشن میں جانے میں کسی قسم کی شرمندگی یا کمتری کا احساس ان کے اندر نہیں ہے۔ٹویٹر پر جہاں اے آر رحمان اور ان کی بیٹی کو ٹرول کیا گیا، وہیں بہت سارے مسلم اور غیر مسلم نے خدیجہ کے جواب کو سراہا اور اس پر فخر کرتے ہوئے اس کی حوصلہ افزائی کی کہ حیادار لباس اپنانا شر نہیں ،خیر کا سبب بنتا ہے۔
بادی النظر میں یہ ایک عام سا واقعہ ہے؛ لیکن اگر اس کی گہرائی میں جائیں ،تو معلوم ہوگا کہ ایمان محض زبان سے اقرار کرنے کا نام نہیں ہے؛ بلکہ دل سے ماننے کا نام ہے،یعنی یہ دونوں عمل لازم اور ملزوم ہیں،تو جن لوگوں نے اسلام کو قبول کیا، انہوں نے مکمل اسلام کو قبول کیا،اپنی سہولت کے حساب سے بعض تعلیمات کو ماننے اور بعض کو نہ ماننے سے انسان مومن نہیں ہوتا،حجاب اور پردہ کا تعلق گرچہ عقائد سے نہیں ہے ،مگر پھر بھی پردہ کرنے، حجاب، خمار، چادر اور حیادار لباس پہننے کا حکم ہے؛ اس لئے اس کے استعمال میں شرمندگی محسوس نہیں ہونی چاہئے اور دوسرے وہ لوگ، جو اپنے آپ کو روشن خیال سمجھتے ہیں، ان کو بھی حجاب پر تنقید سے بچنا چاہئے ،یہ ادنیٰ درجہ ہے ایمان کا،ہم لاپرواہی اور کاہلی کی وجہ سے نماز ادا نہیں کرتے ،روزہ نہیں رکھتے ،تو گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں ،مگر پھر بھی مسلمان ہیں اور ہم اس گناہ پر نادم ہوتے ہیں،یہ ادنیٰ درجہ ہے ایمان کا، مگر ہم نماز کا مذاق اڑائیں( نعوذباللہ )تو پھر کیسی مسلمانیت؟
در اصل مسلمانوں کے بہت سے مسائل ،شعائر، عادات اور ثقافت کو لے کر بعض متعصب طبقے ہر دور میں متحرک رہے ہیں اور حالیہ دنوں میں بعض مخصوص گروہ مسلمانوں کی اصلاح کے لیے زیادہ ہی پیش پیش ہیں؛لیکن افسوس اس وقت ہوتا ہے ،جب دیکھتا ہوں کہ بہت سارے مسلم ایلیٹ ،دانشور، روشن خیال، سرکاری عہدوں پر فائز شیکسپیئرین انگلش اسپیکنگ، بڑے بزنس مین بھی وہی راگ الاپتے ہیں، جنھیں غیر مسلم متعصب گروہوں نے چھیڑ رکھا ہے،اس کی وجہ یا تو یہ ہے کہ مسلمانوں کا یہ طبقہ اسلامی تعلیمات سے بے خبر ہے یا یہ کہ اکثریتی طبقہ کے ان متعصب یا لبرل گروہوں کی بے جا خوشنودی حاصل کرنے کے خواہاں ہے۔
مسلمانوں کا یہ وہ طبقہ ہے، جو ویسے تو اپنے آپ کو آزاد کہتا ہے، مگر درحقیقت وہ ذہنی غلام ہوتا ہے اور احساس کمتری کی بنا پر متعصب لوگوں کی دی ہوئی زبان بولتا ہے، مسلمانوں کا یہ طبقہ بھی اس پروپیگنڈے کا نہ صرف شکار ہوتا ہے؛ بلکہ اس کی ترویج و اشاعت میں معاون ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی پسماندگی کا سبب مسلم خواتین کا پردہ اور مردوں کا دین سے لگاؤ اور دینی شعائر کو اپنانا ہے،رائے عامہ حکومتی ایوانوں میں بنتی ہے ،مگر افسوس کہ ہمارا روشن خیال ،دانشور طبقہ جب خود یہ سمجھتا ہے کہ مسلمانوں کی پسماندگی کی اصل وجہ دین ہے، تو وہ ہماری نمائندگی ان ایوانوں میں کیا کرے گا،اسے تو یہ بھی پتہ نہیں کہ کسی مذہب کے شعائر اور گنگا جمنی تہذیب میں حد فاصل بھی ہے۔
بد قسمتی سے مسلمانوں کا یہی طبقہ رائے عامہ بنائے جانے والی گلیاروں، میڈیا، سرکاری، نیم سرکاری اور غیر سرکاری سیمینار و سمپوزیم ،ادبی ،سماجی اور سیاسی محفلوں میں موجود ہوتا ہے،یہی وہ طبقہ ہے، جو اسلام ،اسلامی تہذیب اور اسلامی تعلیمات کی صحیح صورتحال سے برادرانِ وطن کو روشناس کرانے کی بجائے ان کی غلط فہمیوں یا دانستہ الزام تراشیوں کی ہاں میں ہاں ملاتا ہے،سو سال قبل کے مفروضے یا حقائق ، آزادیِ نسواں، پردہ، تعلیم نسواں، انگریزی زبان کے خلاف فتویٰ وغیرہ کا گھسا پٹا ریکارڈ سنتا، بجاتا اور سناتا رہتا ہے،مسلم ایشوز پر نئی ریسرچ ،نئے اعداد و شمار جاننے کی کبھی زحمت نہیں کرتا۔
یہ طبقہ اے آر رحمان اور خدیجہ کی طرح دفاع کیا کرے گا !اس کے لئے تو اس کا مسلمان نام بھی باعثِ شرمندگی ہوتا ہے، اس کا بس چلے، تو اسے کھرچ کر ہٹا دے، اس کا رویہ ہر وقت معذرت خواہانہ ہوتا ہے۔ایک بار ایک مسلم لیکچرار صاحبہ کی ایک ٹی وی ڈیبیٹ میں دو پردہ نشیں خواتین نے خوب سرزنش کی؛اس لئے کہ پروفیسر صاحبہ یہ کہہ بیٹھیں کہ جاہل اور کم پڑھی لکھی عورتیں ہی نقاب اور چادر کا استعمال کرتی ہیں،ماشائاللہ وہ دونوں خواتین سائنس میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے سرفراز تھیں۔
ان ہی وجوہات کی بناپر آج بھی رائے عامہ، مسلمانوں کے تعلق سے پرسیپشن اور امیج وہی ہے، جو سو سال قبل کے مسلمانوں کے بارے میں تھا۔جبکہ نئی صورتحال بالکل مختلف ہے،کئی سرکاری اور دیگر غیر سرکاری این جی اوز کی رپورٹ بتاتی ہے کہ مسلم لڑکیوں میں لڑکوں کی بہ نسبت تعلیمی رجحان میں بہت اضافہ ہوا ہے،ان کے ڈراپ آؤٹ کیس کی شرح مسلم بچوں کی بہ نسبت بہت کم ہے،جس دینی طبقہ کو انگریزی زبان اور عصری تعلیم کے خلاف آج بھی لعن طعن کیا جاتا ہے، اس کے بچے انگلش میڈیم سے عصری تعلیم حاصل کر رہے ہیں،خواہ مدرسے کے معلمین ہوں یا مساجد کے امام ،ہر شخص اسی تگ و دو میں ہے کہ ان کی استطاعت کے مطابق فیس والے اچھے اسکول میں ان کے بچے اور بچیوں کا داخلہ ہو جائے۔

تربیت بولتی ہے!

ام ھشام
ایک مسلمان کیسا ہے؟ اس کا ایمان کیا ہے؟ اسے ناپنے کا پیمانہ اللہ سبحانہ وتعالی نے بندوں کو نہیں دیا،یہ بھی اللہ کی حکمت کا ایک عظیم پہلو ہے کہ ہم انسان فقط ایک دوسرے کے ظاہر سے مطمئن رہ کر ایک دوسرے کے ساتھ بہتر تعامل کریں ـ
اسی قسم کا ایک بندہ یہ(اے آررحمن) بھی ہے جس کے صبح وشام دنیا کے نامور اور مہذب ترین افراد کے درمیان گزرتے ہیں،جو زندگی بھر اپنی لے اور تال سے دنیا والوں کا دل جیتتا رہا ہے، اگر میں کہوں کہ دنیائے موسیقی میں اس کا کوئی ثانی نہیں،تو شاید یہ مبالغہ نہ ہوگا ۔لیکن جب اس ساری چکا چوند ،نیم اور فیم کے درمیان اپنی مذہبی شناخت ،وقار اس کے تقدس کی حفاظت کی ذمے داری آئی، تو اس نے وہی کیا،جو ایک ایماندار بندے کو کرنا چاہیے،اس کی اپنی بیٹی(خدیجہ) کا یوں باحجاب ہوکر سیکولر اور سِویلائزڈ ممبرز کے درمیان ایک میوزک ایوارڈ سیریمنی پر آکر اپنے والد کی تعریف میں یہ کہہ جانا کہ” میرے والد بہت ہی منکسر المزاج ہیں ایک باپ کی حیثیت سے میں نے ہمیشہ انہیں مشفق پایا ہے،وہ ایک ایسے انسان ہیں جنکے لئے ان کے نبی کی زندگی سب سے بڑی گائیڈ لائن ہے “ـ
یہ ایک زوردار تھپڑ نہیں ہے ہم جیسوں کے منہ پر،جن کی ساری دین داری فقط ان کے نام میں سمائی ہوئی ہے؟ جہاں نام کے مسلمان اپنے نام کے بارے میں بهی معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرلیتے ہیں ۔ فیض احمد فیض کی بیٹی جے این یو کے ایک پروگرام میں آئی،تو بغیر کسی کے سوال کے خود صفائی دینے لگی کہ میرے کاندهے پر یہ شال ہے آپ لوگ اسے چادر یا دوپٹہ نہ سمجھیں اوراس کی وجہ سے مجھے قدامت پسند نہ سمجھ لیا جائے۔
اس اللہ رکھے بندے کی تربیت آج پوری دنیا کے مسلمانوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ مذہبی حمیت و غیرت،اس سے محبت، اس کے شعائر واقدار کی پاسداری کبھی کسی پرجبرا مسلط نہیں کی جاسکتی ۔آپ خود اپنے مذہب سے محبت کرنے والے بن جائیں، اس کے تئیں پوری طرح ایماندار ہوجائیں،تو کفر وارتداد کے تیزوتند تھپیڑے آپ کے ایمان میں لرزش پیدا نہیں کرسکتے اور ایک دن آپ کی یہی محبت از خود آپ کو اپنے محبوب کے قدموں پر لاجھکائے گی اور آپ محبت میں امر ہوجائیں گے ۔
ارتداد اور الحاد کی یلغار میں مرنے اور مارنے پر اتر آنے والے مردوں کو ایک کھلا ہوا چیلنج ہے کہ دن رات قال اللہ وقال الرسول کی صداؤں کے درمیان پلنے والی بچیاں کس قسم کا پردہ کررہی ہیں اور اسلام اور پردے کے حوالے سے وہ احساس کمتری کے کس درجےپر کھڑی ہیں ـ ایک تربیت میری بھی ہے کہ فلمی دنیا کے بے ہنگم سر وتال کے درمیان بھی میری بیٹی عریانیت ،اباحیت اور فیشن پرستی کی بجائے حجاب کو اپنی پہلی پسند قرار دیتی ہے ۔
بس یہی کہنا چاہوں گی کہ تربیت بولتی ہے!

میاں بیوی کی لڑائیاں:ایک وجہ

حفصہ عبدالغفار
کسی صحابیہ یا قرونِ اولی کی خاتون کا واقعہ ہے کہ ان کے بچے کی وفات ہو گئی،شام کو ان کے میاں واپس آئے،تو انہوں نے پہلے کھانا کھلایا، بعد میں اطلاع دی، وہ بھی اس انداز میں کہ اگر آپ کے پاس کوئی امانت رکھوائے،پھر واپس لے لے، تو آپ کو کوئی مسئلہ ہو گا؟ ہمارا بیٹا بھی اللہ کی امانت تھا اور اس نے واپس لے لیا ہے۔ اسی طرح ایک شوہر (صحابی یا اسلاف میں کسی) کے واقعے کا مفہوم یاد ہے کہ وہ انتہائی بد صورت بیوی کی باتیں (تمام تر کوفت کے باوجود اجرکی امید پر) بڑے غور سے سنتے رہتے تھے۔
اور اسی قسم کے ان گنت واقعات یقینا میاں بیوی کو بہت بڑے سبق دےدیتے ہیں کہ کس وقت کیا بات کرنی ہے، کس چیز کو کیسے برداشت کرنا ہے؛ لیکن ھل من مدکر والا سوال باقی رہ جاتا ہےاور ہمیں واقعی سوچنے سمجھنے والے خال خال ملتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ پچھلی صدی کے وہ کیا احوال تھے،جنہوں نے جہالت کو دین کے نام پر اپنانے کا چلن عام کردیا۔پڑھنے پڑھانے، سیکھنے سکھانے کا ذوق سوچوں میں بھی دیکھنے کو نہیں ملتا۔ جیسے اس بات پر تحقیقات اور تجزیے سامنے آتے ہیں کہ پاکستان میں افغان جہاد کے نام پر گولی سے خود کش دھماکے کا چلن کب کیسے عام ہوا، ایسے ہی اس پر بھی کام ہوجانا چاہیے کہ یہاں دین کے نام پر جہالت پر فخر کب کیوں ہونا شروع ہوا؟
جیسے یہی سوچ لیا ہو کہ بچی کو جتنا ان پڑھ رکھا جائے گا،اتنا ہی فخر کی بات ہے اور جتنی جلدی اس کی شادی کر دی جائے، تو گویا بس یہی دین کے قیام کی سب سے بڑی ذمے داری ہے اور لڑکوں کو بھی ایک لفظ نہیں سکھانا سوائے اس کے کہ تم قوّام ہو اور اس کا مطلب ہے عورت کو ذلیل کر کے رکھنا۔ اس کا نتیجہ سامنے ہے، پھر یہ ایک بڑا مذہبی طبقہ نہ جانے کہاں سے وجود میں آگیا،جس کی جنت اتنی ہی سادہ ہے، جتنی خود کش حملہ آوروں کی۔ تعلیمی، فنی، اخلاقی ہر لحاظ سے پستی کو گلے کا طوق بنا کر سمجھتے ہیں دین پر قائم ہیں۔ بھائی تم بچی کا نکاح گیارہ سال میں کرو کوئی اعتراض کرنے والا نہیں ہوگا؛لیکن تم اسے دینی و دنیاوی تعلیم سے دور رکھ کر یہ سمجھو کہ دینی فریضہ ہے، اولاد کو اخباروں، کتابوں، یونیورسٹیوں، تحریروں اور تقریروں کے ذوق سے باندھ کر سمجھو دین کے خادم پیدا کردیے ہیں، تو میری مانو کچھ دیر جنت کی تلاش چھوڑ کر وہ اسباب تلاش کرو،جنھوں نے تمہیں دین کے نام پر جہالت کاٹھیکیدار بنا دیا ہے۔
آج سے چھ سال قبل ایک مذہبی ڈاکٹر صاحب اپنی بیٹیوں کو فرمایا کرتے تھے”حفصہ تو پاگل ہے”اور خود وہ اتنے سمجھ دار نکلے ہیں کہ چھ سال میں اپنی ایک بیٹی کو مکمل طور پر پاگل بنا چکے ہیں۔ پہلے اسے جاہل رکھ کر اپاہج بنایا، پھر کسی جاہل کے ساتھ شادی کی، جس نے پیدا ہونے والی تین بچیاں پاس رکھ کر اسے گھر سے نکال دیا۔ وہ باپ کے گھر روتی رہی اور یہ جملے بولتی رہی”میں مزدوری کرکے بچیاں پال لوں گی، مجھے بس وہ دلوا دو” لیکن سمجھ دار مولوی صاحب نے اسے یوں ہی رلایا اور آج بیٹی کوپاگل بنا کر طلاق کروا لی ہے،جبکہ خود کو اتنی توفیق بھی نہیں کہ اس کی اولاد ہی اس کو دلوا دیں، پھر دماغ تب گھومتا ہے، جب کہتے ہیں”ہم مذہبی لوگ ہیں”ـ آج بہن کے گھر تھی،اس کی کوئی ہمسائی تشریف لائیں،ساتھ ایک پندرہ سولہ سالہ بیٹی تھی، جو سر جھکائے ایسے بیٹھی رہی اور ماں کے کندھے کےپیچھے چھپی رہی کہ میں سمجھی بیچاری نفسیاتی مریض ہے۔ چند منٹ بعد خاتون میری طرف اشارہ کر کے آپی کو عجیب غصے سے بولیں “اس کی تو کی نہیں شادی”۔ پھر معلوم ہوا کہ وہ بزعم خود “انتہائی مذہبی لوگ ہیں، جس کا مطلب ہے اولاد کی شادی بالغ ہوتے ساتھ کرتے ہیں”ـ میری طرف سے نو سال میں نکاح پڑھا دو بچی کا ؛لیکن جو سیدھا منہ کرکے بیٹھ نہیں سکتی، وہ کیسی ‘مسلمان’ بیوی اور کیسی ‘مسلمان’ ماں بنے گی؛لیکن یہ ان کو سمجھایا نہیں جا سکتا تھا۔
کئی کپلز کو لڑتے دیکھ کر دل چاہتا ہے جا کر بتاؤں کہ تم لوگوں کےپاس سب کچھ ہے، پیسہ بھی، اولاد بھی، سواری بھی، گھر بھی،اگر نہیں ہے، تو اخلاق نہیں، شعور نہیں، تعلیم نہیں!!! اس میں جتنا قصور تمہارا ہے،اتنا تمہارے والدین کا۔پچھلی دو نسلوں کے انٹیلیکچوئل زوال کی کوئی تاریخ مرتب ہوئی ہو، توکوئی اطلاع فرما دیں۔

عورتوں کی تعلیم:اسلامی نقطۂ نظر

مولانا انیس الرحمن قاسمی
ناظم امارت شرعیہ بہار،اڈیشہ و جھارکھنڈ
اسلام نے مردوعورت کے درمیان تعلیم کے معاملہ میں کوئی امتیازنہیں رکھاہے؛بلکہ دونوں کوتعلیم حاصل کرنے کایکساں مواقع فراہم کیاہے،اسلامی نظریہ سے عورت کی تعلیم کا مطلب اس کواللہ اوراس کے رسول کا فرماں بردار بندی،دین کی داعیہ،خاندان کو سنبھالنے والی، فرماں برداربیوی،بہترین ماں اورمعاشرے کاایک ایسااہم فردبناناہے جوعلوم وفنون سے آراستہ ہو،اس تعلیم کی ضرورت سے بھی انکارنہیں کیاجاسکتاہے جواسے اچھے اخلاق واعمال سے آراستہ کرے۔اللہ رب العزت نے نہ صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوپڑھنے کاحکم دیاہے؛ بلکہ اس کے ذریعہ عام انسانوں کوبھی پڑھنے کاحکم دیاگیاہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح مردوں کے لیے رسول بناکربھیجے گئے، اسی طرح عورتوں کے لیے بھی۔حکم الہی یہ ہے:
پڑھ اپنے رب کے نام سے جو سب کا بنانے والا،بنایاانسان کو جمے ہوئے لہوسے، پڑھ اور تیرا رب کریم ہے، جس نے علم سکھایا قلم سے، سکھلایا آدمی کو جووہ نہ جانتاتھا۔(سورہ اقراء )
عورتیں ہماری آبادی کانصف حصہ ہیں، انہیں بھی رب العزت نے ذہانت، صلاحیت ودینی وروحانی ترقی کاجوہردیاہے،کہاجاتاہے کہ ماں کی گودہی وہ پہلامکتب ہے جہاں ہر انسان کی نشوونماہوتی ہے،یہیں سے شخصیت وکردارکی ڈھلائی ہوتی ہے،یہاں سے دماغ وذہن جورخ اختیارکرتاہے، انسان کی آخری زندگی پرہمیشہ حاوی رہتاہے۔
اسلام نے عورتوں کودینی ودنیوی تعلیم کی نہ صرف اجازت دی ہے؛بلکہ ان کی تعلیم وتربیت کوبھی اتناہی اہم قراردیاہے،جتنامردوں کی تعلیم وتربیت کوضروری قراردیاہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جس طرح دین کی تعلیم مردحاصل کرتے تھے،اسی طرح عورتیں بھی حاصل کرتی تھیں،آپ خواتین کی تعلیم کابڑاخیال کرتے تھے،اس کے لیے آپ نے الگ وقت متعین کررکھاتھا۔ابوسعیدخدری رضی اللہ فرماتے ہیں:عورتوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ کے پاس مردوں کی بھیڑرہتی ہے اس لیے ہم عورتوں کے لیے ایک دن مختص فرمادیجئے،اس پر آپ نے ایک دن ان عورتوں کے لیے مقررکردیا،چنانچہ ایک دن آپ نے ان کو نصیحت اورحکم بتائے،’’راوی کہتے ہیں:‘‘چنانچہ آپ کی نصیحت میں سے ایک یہ نصیحت تھی کہ جس کسی عورت کے تین بچے انتقال کرگئے ہوں وہ بچے جہنم کی آگ سے خلاصی کاذریعہ ہوں گے،ایک عورت نے عرض کیاکہ اگرکسی کے دوبچے ،آپ نے فرمایاکہ دوبچے ۔(صحیح البخاری)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکیوں کی تعلیم کے بارے میں فرمایا ہے:جس کے پاس تین بیٹیاں،یابہنیں ہوں،یادو بیٹی یابہن ہو،اس نے ان کی تربیت کی،ان کے ساتھ اچھابرتاؤ کیااوران کی شادی کرادی تواس کے لیے جنت ہے۔(ابو داؤد)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باندیوں اورخادماؤں کوعلم وادب سکھانے کی ترغیب دلائی ہے،ارشاد فرمایاہے:
جس شخص کے پاس کوئی باندی ہواوروہ اس کوعمدہ تہذیب وشائستگی سکھائے اوراچھی تعلیم دلائے اورپھراس کوآزادکرکے شادی کرلیاتو اس کے لیے دوہرااجرہے۔یہی وجہ تھی کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا انصارکی عورتوں کی تعریف کرتے ہوئے فرماتی ہیں:انصارکی عورتیں بھی خوب تھیں کہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرنے میں حیا وشرم ان کے لیے مانع نہیں بنتی تھی۔(بخاری شریف)
ان ارشادات کی وجہ سے قرون اولیٰ میں خواتین کے درمیان بے پناہ تعلیمی بیداری آئی اور خواتین نے بھی علمی میدانوں میں غیرمعمولی کارنامے انجام دئے،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکا نام قابل ذکرہے، حدیث، فقہ، شاعری، انساب،تاریخ وطب ہرفن میں ماہرتھیں بڑے بڑے صحابہ کرام آپ سے دینی علوم حاصل کرتے تھے۔ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اپنی فقاہت کی وجہ سے صحابہ کرام کے لیے مرجع کی حیثیت رکھتی تھیں،اس کے علاوہ دیگر عورتوں کے بے شمارعلمی وفقہی کارنامے کی ایک تاریخ ہے۔
جہاں تک تعلق عورتوں کی اس طرح کی تعلیم،جس سے عورت کی حقیقت چھپ جائے، وہ تعلیم اسلام میں ناپسندیدہ ہے۔واضح رہے کہ علم کی دوقسمیں ہیں:ایک علوم شرعیہ، دوسراعلوم عصریہ۔
علوم شرعیہ میں سے عورتوں کے لیے ان تمام چیزوں کاعلم حاصل کرناضروری ہے،جن کے ذریعہ عقائدوایمان ،عبادات ،پردہ،لباس غیرمحرموں اور محرموں کے ساتھ میل جول،حیض ونفاس وغیرہ کے احکام کوصحیح طورپرجان سکے،اسی طرح قرآن وحدیث اورفقہ میں کمال حاصل کرنابھی مستحسن عمل ہے۔
علوم عصریہ میں عورتوں کے لیے علوم کاجاننانہ صرف جائزہے؛بلکہ مسلم معاشرے میں ایسی خواتین کاموجود ہونا بھی ضروری ہے،جوعلم طب،یامیڈیکل سائنس کی ان مختلف فروعات میں ماہرہوں،جن کی عورتوں کی زندگی کے مختلف مراحل،مثلاً:ایام حمل،وضع حمل وغیرہ میں ضرورت پڑتی رہتی ہے؛تاکہ عورتوں کومردڈاکٹروں کے پاس جانے کی ضرورت نہ پڑے اور مردوں کے سامنے بے پردگی کی نوعیت اورغیرمحرم کواس کے سترچھونے کی ضرورت پیش نہ آئے، اس طرح بعض اوقات عورتوں کوشوہروں کابوجھ ہلکاکرنے کے لیے اس کے مالی تعاون کی بھی ضرورت پڑسکتی ہے،لہذاعورت مختلف ایسے فنون میں مہارت حاصل کرسکتی ہے (مثلاً دست کاری،کپڑابننے اور سلنے وغیرہ کاہنرسیکھ سکتی ہے)جوعورتوں کی طبیعت کے موافق ہو، رہے وہ علوم جوعورتوں کی طبیعت کے مناسب نہ ہوں،جیسے اداکاری وموسیقی کے علوم توان کا سیکھنا عورتوں کے لیے شرعی طورپردرست نہیں،اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی قابل لحاظ رہے کہ عورتوں کوجوبھی تعلیم دی جائے،اس کے لیے ضروری ہے کہ تعلیم مخلوط نہ ہواورپردے کی مکمل رعایت کرتے ہوئے عورتوں کوزنانہ تعلیم گاہوں میں عورتوں ہی سے تعلیم دلوائی جائے۔واضح رہے کہ عورتیں ہماری زندگی کاایک اہم حصہ ہیں،ان کودینی تعلیم سے محروم رکھنا ملت ومعاشرے کے لیے تباہی اورفتنہ وفسادکاذریعہ ہے۔موجودہ حالات میں معاشرے کی تعمیرکاکام صحیح طورپرخواتین انجام دے سکتی ہیں، لڑکیوں کی تعلیم اس لیے بھی ضروری ہے کہ وہ خاندان کی بنیاد ہوتی ہیں،ایک لڑکی کی تعلیم ایک خاندان کوتعلیم دینے کے برابر ہے؛کیوں کہ ماں ہی اصل بچے کی تربیت کرتی ہے اور دن ورات کے زیادہ حصے بچپن میں اولاد ماں کے پاس گزارتی ہے؛اس لیے کسی ماں کے لیے اپنے بچے سے الفت ومحبت کا نتیجہ یہ ہوناچاہیے کہ وہ ان کو بہتر تعلیم اوراچھی تربیت سے آراستہ کرے۔
مسلم معاشرہ کی خواتین کی خانگی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے باوجود روزانہ ان کے پاس وقت کااتناحصہ ہوتاہے،جس میں وہ چاہیں تواپنے علم میں مطالعہ کے ذریعہ اضافہ کرسکتی ہیں،مگرافسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ گھریلوزندگی میں خواتین کتابوں سے بالکل شغف نہیں رکھتی ہیں،ان کوچاہیے کہ وہ طرززندگی میں تبدیلی لائیں اورعلم کوحاصل کریں اپنے مطالعہ کے ذریعہ معلومات میں اضافہ کریں اورخواتین میں دین کی دعوت کا کام کریں۔
موجودہ وقت اورضرورت متقاضی ہیں کہ عورتوں کی تعلیم کے حوالے سے مزید بیداری پیدا کی جائے اور اس کی جانب سنجیدگی سے غور کیا جائے؛ لیکن اس سلسلے میں یہ امر بھی لائق توجہ ہے کہ عورتوں اور لڑکیوں کو تعلیم کے لیے محفوظ مقامات اور تعلیم گاہیں ہوں، عورتوں کی تعلیم کے لیے سب سے محفوظ اور ہر طرح کی برائیوں سے پاک جگہ خود اس کا گھر ہے، گھر میں ایسا انتظام اگر مشکل ہوتو غیراقامتی اسکول اور مدرسے قائم کئے جائیں، جہاں صرف لڑکیوں کو ہی تعلیم دی جاتی ہو اور تعلیم دینے والا تدریسی عملہ عورتوں پر ہی مشتمل ہواور مخلوط تعلیم سے پرہیز کیا جائے؛ کیوں کہ مخلوط تعلیم اسلامی روح کے منافی ہے اور ذہنی وفکری آسودگی اور اخلاقی پاکیزگی کے لیے سمِ قاتل ہے۔ہمیں اسلامی تعلیمات کی حدود میں رہ کر تعلیمِ نسواں کو زیادہ سے زیادہ عام کرنا چاہیے؛ تاکہ نئی نسل اعلیٰ اخلاق وکردار کی مالک بن سکے؛ مگر معاشی اعانت کے لیے عورتوں کی تعلیم کو ذریعہ بنانا غیرفطری بھی ہے اور غیراسلامی بھی؛ کیوں کہ اللہ جل شانہ نے بیوی بچوں کی کفالت کا ذمہ دار مرد کو قرار دیاہے اور اسلامی تعلیمات کی رو سے عورت کی ذمہ داری شرعی فرائض ادا کرنے کے بعد تمام جائز اور مباح امور میں شوہر کی اطاعت کرنا، اس کی حوائج اور سامانِ راحت وآسائش کو مہیا کرنا ہے؛ تاکہ بچے اور شوہر تفریح کے لیے گھر سے باہر جانے کی ضرورت ہی محسوس نہ کریں۔اللہ تعالیٰ ہمیں شریعت پرعمل کرنے توفیق دے۔(آمین)

منظوم نسوانی طبی نسخے

ڈاکٹر سید افضل حسین قاسمی
بڑی ہوجائے جو لڑکی تو سن لیں
توازن سے اسے اچھی غذا دیں
جو ہو دردِ کمر تو جان لیجے
سپاری پاک صبح و شام دیجے
لٹیں زلفوں کی جوگرنے لگیں تو
مسلسل آ ملہ رو غن لگا ؤ
جو ہو سیلان کی تکلیف زیادہ
تو سیلانی کا کر لیجے ارادہ
اگر اسقاط کی ہو وے شکایت
نشارہ عاج والی دے گی راحت
مہاسے کیل جو چہرے پہ آئیں
مصفّیّات صبح و شام کھائیں
اگر کرنا ہو اپنا رنگ گو را
لگا لیجے گا غازہ حسن افزا
نزاکت ہو اگر لا نا بدن میں
بدن پہ روغنِ بادام مل لیں
اگرمتلی کاہویا قئےکا احساس
تورکھ لینا اناریں اپنے ہی پاس
اگر ہو قبض تو یہ بات سن لیں
درم بھر رات میں گُلقند کھائیں
اگر ہو بچّے دانی میں رسولی
تو نافع ہوگا اطریفل غدودی
جوبچے کے لئے کم دودھ ہو تو
ستاور کی دوا دو بار دے دو
اگربچّے نہیں گھر میں کسی کے
تو مل کر قاسمی سے مشورہ لے
رابطہ :نورنگ دواخانہ بنگلور
7090026003

وہ ماں اور وہ باپ


رعایت اللہ فاروقی
بچوں کا خیال رکھنے کے حوالے سے تو کئی کالم ہوئے، سوچا کیوں نہ ایک کالم ان بڑوں سے متعلق بھی ہوجائے،جو ساری زندگی ان بچوں کے ہاتھوں دُکھتے رہتے ہیں۔ یعنی وہ ماں، جو یہ جاننے کے باوجود پہلی بار ماں بننے کے احساس سے ہی سرشار ہوگئی تھی کہ یہ انسانی زندگی کے کٹھن ترین نو ماہ کا آغاز ہے اور وہ باپ، جو باپ بننے کی خوش خبری پا کر پہلے مسرت سے جھوم اٹھا اور پھر گہری سوچوں میں غرق ہوگیا۔ وہ ماں جس نے گائنا کولوجسٹ کے کان میں سرگوشی کی تھی کہ اگر کوئی مشکل پیش آئے،تو مجھے نہیں،میرے بچے کو بچانا اور وہ باپ، جو ادھار کی مٹھائی سے دوستوں کا منہ میٹھا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کر رہا تھا کہ میں تو اپنے شہزادے کو افسر بناؤں گا۔ وہ ماں،جو خود بھوکی سوجاتی، مگر لاڈلے کا پیٹ کبھی خالی نہ رہنے دیتی اور وہ باپ،جو خود پرانے کپڑوں میں عید کر لیتا؛ لیکن اسی عید پر اسے تین تین سوٹ دلواتا۔ وہ ماں،جس کا کبھی کیلشیم پورا ہوا اور نہ ہی کوئی ویٹامن؛لیکن اس کی صحت پر اس نے کبھی کوئی سمجھوتہ نہ کیا اور وہ باپ،جو چپ چاپ خود کو کچھ بڑی بیماریوں کا اسیر کر گیا،مگر بچے کی دوا دارو میں کبھی کمی نہ آنے دی۔ وہ ماں جو اس کی فرمائشوں کے حق میں اس کے باپ سے لڑ پڑتی اور وہ باپ، جس کی سوالیہ نظریں آسمانوں میں کسی کو تلاش کرنے لگتیں۔ وہ ماں جو اس کے کھلونوں کی محافظ بنی رہی اور وہ باپ،جو اسے میلوں ٹھیلوں میں کاندھوں پر اٹھائے پھرا کیا۔ وہ ماں، جس کے ہونٹوں کا لمس اس کے گالوں میں نور بھرتا رہا اور وہ باپ، جس کی تھپکی نے اس کے دل و دماغ کو عزم آشنا کیا۔ وہ ماں جس کا موٹو تھا ’’بس بچہ سکھی رہے‘‘ اور وہ باپ، جس کا منشور تھا’’ہماری عید تو بچے کی خوشی میں ہے‘‘ وہ ماں، جو خود سال پرانی دوا بے دھڑک حلق سے اتار لیتی، مگر بچے کے معاملے میں کہتی ’’ایکسپائری ڈیٹ پر بھروسہ نہیں کرنا چاہئے، آپ نئی شیشی لے آئیں‘‘ اور وہ باپ، جو اپنے معاملے میں تو کہتا ’’معمولی سی تکلیف ہے، ایک دو دن میں خود ٹھیک ہوجائے گی‘‘ لیکن بچہ ذرا سا کھانس بھی دیتا تو کہتا ’’ابھی دوا لاتا ہوں ، فوراٹھیک ہوجاؤگے‘‘ وہ ماں،جو اس کی نک چڑھی ٹیچر کے نخرے اٹھاتی اور وہ باپ، جو اس کے تعلیمی خرچے پورے کرنے کے لئے کبھی پارٹ ٹائم نوکری کرتا، تو کبھی اوور ٹائم لگاتا۔ وہ ماں، جس کا ہر رات سونے سے قبل آخری کام اس کا یونیفارم استری کرنا ہوتا اور وہ باپ، جو نہار منہ اس کے سکول شوز چمکاتا۔وہ ماں،جو سکول سے واپسی پر اس سے پہلا سوال یہ پوچھتی کہ ’’لنچ کھایا تھا ؟‘‘ اور وہ باپ، جس کا سوال ہوتا ’’تمہیں سکول میں کوئی مارتا تو نہیں ؟‘‘ وہ ماں،جو اس کے اچھے نمبروں سے پاس ہونے پر شکرانے کے نفل پڑھتی اور وہ باپ،جو اس کے پوزیشن لینے پر سستی سی سہی،مگر مٹھائی بانٹتا۔ وہ ماں، جس نے بی سی ڈال کر اسے سپورٹس سائیکل دلوائی تھی اور وہ باپ،جس نے اسے پیروں پر چلنا ہی نہیں یہ سائیکل چلانا بھی سکھائی تھی۔ وہ ماں، جس نے اس کے کالج اور یونیورسٹی کے داخلے کے لئے روزوں کی منت مانی تھی اور وہ باپ،جس نے سجدوں سے اس کی کامیابی کو جلا بخشی تھی۔ وہ ماں،جس سے اس نے پوچھا تھا ’’ہم غریب کیوں ہیں ؟‘‘ اور وہ باپ،جسے اس سوال کی سولی پر لٹکایا تھا کہ ’’آپ کے پاس کار کیوں نہیں ہے ؟‘‘وہ ماں، جس نے جواب دیا تھا ’’جب تو پڑھ لکھ کر بڑا افسر بن جائے گا، تو ہم غریب نہیں رہیں گے‘‘ اور وہ باپ،جس نے اسے یہ بیش قیمت راز بتایا تھا ’’بیٹا ! باپ کی کار میں پھرنا کمال نہیں ہوتا، باپ کو اپنی کار میں گھمانا کمال ہے، ہم تیری کار میں گھومیں گے، توکمال دکھائے گا‘‘ وہ ماں، جس کی آنکھوں سے اس کے ڈاکٹر، انجینئر اور افسر بننے پر سجدے بہہ نکلے تھے اور وہ باپ، جس نے اس موقع پر آنکھیں موند کر ایک لمبی گہری سانس پہلے اندر کھینچی اور پھر باہر چھوڑ کر بولا ’’مالک تیرا شکر ! یہ بس تیرا ہی کرم ہے کہ سرخ رو ہوئے !‘‘ اور پھر اس رات مدتوں بعد پہلی بار وہ اس مسافر کی سی گہری اور پرسکون نیند سویا،جو بہت تھکا دینے والی طویل مسافت طے کرکے منزل پر پہنچا ہو۔ وہ ماں، جو اس کے لئے بہت تاک جھانک کر رشتہ ڈھونڈ لائی اور وہ باپ، جس نے اس کا خانہ آباد کیا۔ وہ ماں، جو اس کی ترقیوں سے خوش اور باپ، جو اس کی رفعتوں پر نازاں۔ وہ ماں،جو اب افسر کی ماں ہونے کے باوجود بھوکی سوتی ہے؛ کیونکہ افسر باہر سے ڈنر کر آتا ہے اور ماں کو اس کے بغیر کھانے کی عادت نہیں۔ وہ باپ، جو اس کے افسر بننے سے پہلے اس کے مستقبل کے لئے اندیشوں سے الجھا رہتا اور جو اب اس کے حال سے بھی کرب کی تیغ سے کٹتا ہے۔ وہ ماں جو اب بھی سال پرانا سیرپ پیتی ہے اور وہ باپ جو اب بھی قدیمی بیماریوں سے جوجھ رہا ہے۔وہ ماں،جسے افسر گاؤں چھوڑ آیا ہے اور وہ باپ،جسے مہمانوں کی موجودگی میں ڈرائنگ روم آنے کی اجازت نہیں۔ وہ ماں، جو اس کی خیریت پوچھنے کو فون کردے، تو افسر بیٹے کی طیش بھری آواز کہتی ہے ’’ماں کتنی بار کہا ہے، آپ فون مت کیا کریں، میں خود کروں گا‘‘ اور وہ باپ، جس نے کل ہی سنا ’’یہ جو اندر گئے ان کا پوچھ رہے ہیں ؟ یہ ہمارے دور کے ایک انکل ہیں، گاؤں سے آئے ہیں‘‘ وہ ماں، جو گاؤں میں ہی ٹی بی سے مرگئی تھی اور وہ باپ، جس نے ایک چھپر ہوٹل پر چائے پیتے ہوئے خبروں میں دیکھا کہ اس کے افسر بیٹے کو گرفتار کرلیا گیا ہے، تو اسی شام کے اخبارات میں ایک سنگل کالمی خبر لگی ’’شہر کے چھپر ہوٹل سے لاوارث بزرگ کی لاش ملی،جسے سرد خانے منتقل کردیا گیا !”

وہ ماں اور وہ باپ

رعایت اللہ فاروقی
بچوں کا خیال رکھنے کے حوالے سے تو کئی کالم ہوئے، سوچا کیوں نہ ایک کالم ان بڑوں سے متعلق بھی ہوجائے،جو ساری زندگی ان بچوں کے ہاتھوں دُکھتے رہتے ہیں۔ یعنی وہ ماں، جو یہ جاننے کے باوجود پہلی بار ماں بننے کے احساس سے ہی سرشار ہوگئی تھی کہ یہ انسانی زندگی کے کٹھن ترین نو ماہ کا آغاز ہے اور وہ باپ، جو باپ بننے کی خوش خبری پا کر پہلے مسرت سے جھوم اٹھا اور پھر گہری سوچوں میں غرق ہوگیا۔ وہ ماں جس نے گائنا کولوجسٹ کے کان میں سرگوشی کی تھی کہ اگر کوئی مشکل پیش آئے،تو مجھے نہیں،میرے بچے کو بچانا اور وہ باپ، جو ادھار کی مٹھائی سے دوستوں کا منہ میٹھا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کر رہا تھا کہ میں تو اپنے شہزادے کو افسر بناؤں گا۔ وہ ماں،جو خود بھوکی سوجاتی، مگر لاڈلے کا پیٹ کبھی خالی نہ رہنے دیتی اور وہ باپ،جو خود پرانے کپڑوں میں عید کر لیتا؛ لیکن اسی عید پر اسے تین تین سوٹ دلواتا۔ وہ ماں،جس کا کبھی کیلشیم پورا ہوا اور نہ ہی کوئی ویٹامن؛لیکن اس کی صحت پر اس نے کبھی کوئی سمجھوتہ نہ کیا اور وہ باپ،جو چپ چاپ خود کو کچھ بڑی بیماریوں کا اسیر کر گیا،مگر بچے کی دوا دارو میں کبھی کمی نہ آنے دی۔ وہ ماں جو اس کی فرمائشوں کے حق میں اس کے باپ سے لڑ پڑتی اور وہ باپ، جس کی سوالیہ نظریں آسمانوں میں کسی کو تلاش کرنے لگتیں۔ وہ ماں جو اس کے کھلونوں کی محافظ بنی رہی اور وہ باپ،جو اسے میلوں ٹھیلوں میں کاندھوں پر اٹھائے پھرا کیا۔ وہ ماں، جس کے ہونٹوں کا لمس اس کے گالوں میں نور بھرتا رہا اور وہ باپ، جس کی تھپکی نے اس کے دل و دماغ کو عزم آشنا کیا۔ وہ ماں جس کا موٹو تھا ’’بس بچہ سکھی رہے‘‘ اور وہ باپ، جس کا منشور تھا’’ہماری عید تو بچے کی خوشی میں ہے‘‘ وہ ماں، جو خود سال پرانی دوا بے دھڑک حلق سے اتار لیتی، مگر بچے کے معاملے میں کہتی ’’ایکسپائری ڈیٹ پر بھروسہ نہیں کرنا چاہئے، آپ نئی شیشی لے آئیں‘‘ اور وہ باپ، جو اپنے معاملے میں تو کہتا ’’معمولی سی تکلیف ہے، ایک دو دن میں خود ٹھیک ہوجائے گی‘‘ لیکن بچہ ذرا سا کھانس بھی دیتا تو کہتا ’’ابھی دوا لاتا ہوں ، فوراٹھیک ہوجاؤگے‘‘ وہ ماں،جو اس کی نک چڑھی ٹیچر کے نخرے اٹھاتی اور وہ باپ، جو اس کے تعلیمی خرچے پورے کرنے کے لئے کبھی پارٹ ٹائم نوکری کرتا، تو کبھی اوور ٹائم لگاتا۔ وہ ماں، جس کا ہر رات سونے سے قبل آخری کام اس کا یونیفارم استری کرنا ہوتا اور وہ باپ، جو نہار منہ اس کے سکول شوز چمکاتا۔وہ ماں،جو سکول سے واپسی پر اس سے پہلا سوال یہ پوچھتی کہ ’’لنچ کھایا تھا ؟‘‘ اور وہ باپ، جس کا سوال ہوتا ’’تمہیں سکول میں کوئی مارتا تو نہیں ؟‘‘ وہ ماں،جو اس کے اچھے نمبروں سے پاس ہونے پر شکرانے کے نفل پڑھتی اور وہ باپ،جو اس کے پوزیشن لینے پر سستی سی سہی،مگر مٹھائی بانٹتا۔ وہ ماں، جس نے بی سی ڈال کر اسے سپورٹس سائیکل دلوائی تھی اور وہ باپ،جس نے اسے پیروں پر چلنا ہی نہیں یہ سائیکل چلانا بھی سکھائی تھی۔ وہ ماں، جس نے اس کے کالج اور یونیورسٹی کے داخلے کے لئے روزوں کی منت مانی تھی اور وہ باپ،جس نے سجدوں سے اس کی کامیابی کو جلا بخشی تھی۔ وہ ماں،جس سے اس نے پوچھا تھا ’’ہم غریب کیوں ہیں ؟‘‘ اور وہ باپ،جسے اس سوال کی سولی پر لٹکایا تھا کہ ’’آپ کے پاس کار کیوں نہیں ہے ؟‘‘وہ ماں، جس نے جواب دیا تھا ’’جب تو پڑھ لکھ کر بڑا افسر بن جائے گا، تو ہم غریب نہیں رہیں گے‘‘ اور وہ باپ،جس نے اسے یہ بیش قیمت راز بتایا تھا ’’بیٹا ! باپ کی کار میں پھرنا کمال نہیں ہوتا، باپ کو اپنی کار میں گھمانا کمال ہے، ہم تیری کار میں گھومیں گے، توکمال دکھائے گا‘‘ وہ ماں، جس کی آنکھوں سے اس کے ڈاکٹر، انجینئر اور افسر بننے پر سجدے بہہ نکلے تھے اور وہ باپ، جس نے اس موقع پر آنکھیں موند کر ایک لمبی گہری سانس پہلے اندر کھینچی اور پھر باہر چھوڑ کر بولا ’’مالک تیرا شکر ! یہ بس تیرا ہی کرم ہے کہ سرخ رو ہوئے !‘‘ اور پھر اس رات مدتوں بعد پہلی بار وہ اس مسافر کی سی گہری اور پرسکون نیند سویا،جو بہت تھکا دینے والی طویل مسافت طے کرکے منزل پر پہنچا ہو۔ وہ ماں، جو اس کے لئے بہت تاک جھانک کر رشتہ ڈھونڈ لائی اور وہ باپ، جس نے اس کا خانہ آباد کیا۔ وہ ماں، جو اس کی ترقیوں سے خوش اور باپ، جو اس کی رفعتوں پر نازاں۔ وہ ماں،جو اب افسر کی ماں ہونے کے باوجود بھوکی سوتی ہے؛ کیونکہ افسر باہر سے ڈنر کر آتا ہے اور ماں کو اس کے بغیر کھانے کی عادت نہیں۔ وہ باپ، جو اس کے افسر بننے سے پہلے اس کے مستقبل کے لئے اندیشوں سے الجھا رہتا اور جو اب اس کے حال سے بھی کرب کی تیغ سے کٹتا ہے۔ وہ ماں جو اب بھی سال پرانا سیرپ پیتی ہے اور وہ باپ جو اب بھی قدیمی بیماریوں سے جوجھ رہا ہے۔وہ ماں،جسے افسر گاؤں چھوڑ آیا ہے اور وہ باپ،جسے مہمانوں کی موجودگی میں ڈرائنگ روم آنے کی اجازت نہیں۔ وہ ماں، جو اس کی خیریت پوچھنے کو فون کردے، تو افسر بیٹے کی طیش بھری آواز کہتی ہے ’’ماں کتنی بار کہا ہے، آپ فون مت کیا کریں، میں خود کروں گا‘‘ اور وہ باپ، جس نے کل ہی سنا ’’یہ جو اندر گئے ان کا پوچھ رہے ہیں ؟ یہ ہمارے دور کے ایک انکل ہیں، گاؤں سے آئے ہیں‘‘ وہ ماں، جو گاؤں میں ہی ٹی بی سے مرگئی تھی اور وہ باپ، جس نے ایک چھپر ہوٹل پر چائے پیتے ہوئے خبروں میں دیکھا کہ اس کے افسر بیٹے کو گرفتار کرلیا گیا ہے، تو اسی شام کے اخبارات میں ایک سنگل کالمی خبر لگی ’’شہر کے چھپر ہوٹل سے لاوارث بزرگ کی لاش ملی،جسے سرد خانے منتقل کردیا گیا !”

’’پھر اطمینان سے فوت ہونا ہے"

رعایت اللہ فاروقی
میرا ایک بچہ تین اور دوسرا ایک برس کا تھا جب میں نے خود کو اس سوال کے روبرو پایا کہ مجھے اپنی ساری زندگی ان بچوں کے لئے سرمایہ کمانے میں لگانی چاہئے یا خود انہیں سرمایہ بنانے کے لئے اپنی زندگی وقف کردینی چاہئے ؟ اس کا سادہ سا مطلب یہ تھا کہ اگر ان سے متعلق میری ذمہ داری یہ ہے کہ مجھے ان کے لئے کمائی کرنی ہے تو پھر پیسہ میری ترجیح ہونا چاہئے۔ اور ترجیح بھی ایسی کہ اس کی راہ میں اگر یہ بچے بھی حائل ہوں تو میں ان کی بھی پروا نہ کروں۔ یعنی نہ تو میں بچوں کو وقت دوں، نہ جی بھر کر پیار اور نہ ہی روزانہ کی توجہ۔میری توجہ کا محور بس پیسہ اور صرف پیسہ ہی رہے۔ دوسری صورت میں ترجیح پیسے کو نہیں بلکہ اولاد کو حاصل تھی۔ اللہ کا بڑا احسان ہے کہ تب فیصلہ بچوں کے حق میں کیا۔ اس فیصلے کا پہلا نتیجہ دیکھئے ! میری محدود سی آمدنی میں کوئی قابل ذکر بچت صرف اس صورت میں ہوسکتی تھی کہ میں کسی ایسے محلے میں رہائش اختیار کرتا جس کے باشندوں کی اخلاقی حالت سے پناہ مانگنا واجب ہوتا ہے۔ میری مراد وہ محلے ہیں جہاں بڑوں اور چھوٹوں کی تفریق کے بغیر چوری چکاریاں اور گالم گلوچ جیسی عادتیں عام ہوتی ہیں۔ بات بات پر ہاتھ گریبانوں تک چلے جاتے ہیں اور خواتین جس کی گلیوں سے تیز تیز گزرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ سلجھے ہوئے لوگوں کے محلے میں رہنے کے لئے لازم تھا کہ میں اپنی آمدنی میں بچت سے دستبردار ہوجاتا۔ چنانچہ اللہ کا نام لے کر یہی کیا۔ رہائش ہمیشہ اچھے ماحول والے متوسط طبقے کے محلوں میں رکھی۔ اسی حوالے سے ایک اہم فیصلہ یہ کیا کہ پہلے محلے اور مکان میں گیارہ سال گزارے، جس سے بچوں کا بچپن پوری یکسوئی کے ساتھ گزرا۔ جبکہ دوسرے محلے اور مکان میں آٹھ سال گزار دئے جس سے ان کا لڑکپن یکسو رہا۔ یوں ان کی حیات میں محلہ، ماحول اور دوست بار بار تبدیل نہیں ہوئے جو ان کی شخصیت سازی کے لئے بہت اہم بات تھی۔
بچوں کے پورے دن کا شیڈول ترتیب دیدیا گیا تھا جس میں کسی بھی صورت اونچ نیچ کی اجازت نہ تھی۔ گھر میں کچھ اصول لاگو کردئے تھے جن میں سے ایک یہ تھا کہ کھیل کود سے فارغ ہوکر مغرب کی اذان کے دوران بچوں کو گھر میں داخل ہوجانا چاہئے۔ یہ اصول ان پر اٹھارہ برس کی عمر تک لاگو رہا۔ ایسا کسی صورت نہیں ہونے دیا گیا کہ اذان ختم ہونے کے چند سیکنڈ بعد بھی بچہ گھر میں داخل ہوا ہو۔ اس اصول کا مطلب یہ تھا کہ اٹھارہ برس سے کم عمر کا بچہ سورج ڈھلنے کے بعد گھر سے باہر نہیں ہوسکتا۔ ایک اور اصول یہ لاگو کیا کہ رات کا کھانا سب اکٹھے بیٹھ کر کھائیں گے۔ اس اصول نے سب سے زیادہ مجھے ہی متاثر کیا کیونکہ اگلے بیس برس تک شہر میں موجود ہونے کی صورت میں مجھے رات کا کھانا ہمیشہ گھر پر ہی کھانا پڑا۔ تقریبات یا دوستوں کی دعوتوں میں شرکت مہینے میں ایک بار ہی کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس پورے عرصے میں دوستوں کی رات کی محفلوں میں بہت ہی محدود طور پر شریک ہوا۔ صبح سات بجے بچے سکول چلے جاتے، ظہر کے بعد وہ سوجاتے، عصر میں وہ کرکٹ وغیرہ کھیلتے، مغرب کے متصل بعد ان کا ہوم ورک ہوتا اور رات نو بجے کے بعد ویک اینڈ کے سوا بچوں کو جاگے رہنے کی اجازت نہ تھی تو ایسے میں میرے لئے مغرب اور عشاء کے مابین رات کے کھانے کا ہی وقت تھا جس میں بچوں سے قدرے تفصیلی گفتگو ہو سکتی تھی سو یہ وقت دوستوں کی محفلوں پر کیسے لٹا دیاجاتا ؟ رات کا کھانا ساتھ کھانے کا فیصلہ بظاہر بہت سادہ سا لگتا ہے مگر اثرات اور نتائج کے معاملے میں یہ اتنا سادہ ہے نہیں۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ بچے تو ویسے بھی اپنی دن بھر کی دلچسپ باتیں شیئر کرنے کے لئے ہمہ وقت بیتاب رہتے ہیں، جس میں ایک دوسرے کی معصوم سی شکایات بھی شامل ہوتی ہیں۔ رات کے کھانے پر روزانہ ان کی یہ گفتگو سنتے ہوئے آپ کو بخوبی اندازہ ہو رہا ہوتا ہے کہ بچوں کا آج کا دن کیسا گزرا ؟ کہیں ان کی زندگی میں کوئی ایسا دوست تو داخل نہیں ہوگیا جس سے یہ برا اثر لے رہے ہوں ؟ ان کی سرگرمیاں مثبت ہیں یا منفی ؟ یہ سکول اور ٹیچرز سے کس قسم کا اثر لے رہے ہیں ؟ غرضیکہ دسترخوان پر بچوں کی گفتگو درحقیقت ان کی روزانہ کی تعلیمی و اخلاقی رپورٹ ہی نہیں ہوتی بلکہ اس کی مدد سے یومیہ کارگزاری بھی روز کے روز سامنے آتی چلی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ اگر خدا نخواستہ آج ہی بچہ کسی برائی کے زیر اثر آ بھی گیا تو آج ہی معاملہ آپ کے علم میں بھی آگیا اور آج ہی اس کا حل بھی نکال لیا گیا۔ رات کا کھانا ساتھ کھانے کی اس پابندی کا دوسرا بڑا فائدہ یہ ہے کہ ایسے ماں باپ اور اولاد کے مابین کبھی وہ فاصلے پیدا نہیں ہوتے جو بیشتر گھروں کا سنگین مسئلہ ہیں۔ اپنے بچوں کے ساتھ آپ کی مستقل قربت بنی رہتی ہے جس سے ایک بہت ہی اچھا دوستانہ ماحول قائم ہوجاتا ہے جس کے دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ تربیت کے معاملے میں بہت بڑی بڑی غلطیاں خود والدین کرتے ہیں اور نتائج اس کے بچوں کو بھگتنے پڑتے ہیں۔ مثلا ہم میں سے ہر شخص جانتا ہے کہ سچ خیر اور جھوٹ شر ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ سچ میں فائدہ اور جھوٹ میں نقصان ہے۔ ہم بچے کو نصیحت کے طور پر تو یہی سکھاتے ہیں کہ سچ میں فائدہ اور جھوٹ میں نقصان ہے۔ لیکن جب بچے کی کوئی شکایت آجائے اور ہم اس سے پوچھتے ہیں کہ بتائے، کیا آپ نے فلاں حرکت کی ؟ ہوتا یہ ہے کہ بچہ جوں ہی سچ بول دیتا ہے باپ یا ماں کا زناٹے دار تھپڑ اس کا گال لال کر دیتا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں، آپ کے آتشیں تھپڑ کی حرارت سہلاتا بچہ کیا سوچ رہا ہوتا ہے ؟ وہ سوچتا ہے ، سچ میں ’’نقصان‘‘ ہے اور جھوٹ میں ’’فائدہ‘‘ ہے۔ چنانچہ یہیں سے جھوٹ اس کی زندگی کا مستقل حصہ بن جاتا ہے۔ الحمدللہ میرے بچوں کو زندگی میں کبھی بھی سچ کا ’’نقصان‘‘ نہیں ہوا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایک چھبیس برس کا، دوسرا چوبیس برس کا اور تیسرا سترہ برس کا ہے اور وہ جھوٹ بولتے ہی نہیں۔ کیونکہ ان کی شخصیت سازی کے دوران کبھی وہ موقع ہی نہیں آنے دیا جس سے جھوٹ ان کے مزاج کا حصہ بن پاتا۔ اگر میں بھی اپنے بچوں کو نصیحت تو یہ کرتا کہ سچ میں فائدہ ہے لیکن سچ بولنے پر انہیں تھپڑ جیسے نقصان سے دوچار کرتا جاتا تو وہ سچ سے وابستہ ہونا پسند کرتے ؟ میرے بچوں نے زندگی میں سچ کے صرف فائدے ہی دیکھے ہیں سو نتیجہ یہ ہے کہ وہ عملا جانتے ہیں کہ سچ کا فائدہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ سماج کو ان سے جھوٹ کی شکایت نہیں۔ اس ضمن میں بات صرف سچ اور جھوٹ کی نہیں بلکہ خیر و شر کے تمام معاملات تک پھیلی ہوئی ہے۔ آپ کو اپنا پورا تربیتی نظام خیر و شر کے ابدی اصولوں پر استوار کرنا ہوتا ہے تب جا کر بچے کی درست شخصیت تعمیر ہوپاتی ہے۔ اور ایسا کرتے وقت اس بات کا خیال رکھنا ہوتا ہے کہ تھیوری اور پریکٹیکل باہم متصادم نہ ہوں۔ یہ نہ ہو کہ تھیوری تو سچ کو فائدہ مند بتا رہی ہو لیکن تھپڑ اسے نقصاندہ ثابت کر رہا ہو۔ میرا یہ تجربہ ہے کہ اٹھارہ برس کی عمر تک بچے کو بھرپور توجہ دی جائے تو اس کے بعد آپ اسے فری چھوڑ دیجئے، اللہ کے فضل سے معاشرے کو اس سے کوئی شکایت نہ ہوگی۔ میں پچاس برس کی عمر میں بچوں کی ذمہ داری سے فارغ ہوچکا۔ پہلے دو بچے تعلیم مکمل کرچکے۔ بڑے کی شادی بھی ہوچکی، منجھلے کی بس ہوا چاہتی ہے۔ چھوٹے کی یونیورسٹی کا مرحلہ شروع ہونے کو ہے اور اس کی ذمہ داری بھی اس کے بھائیوں نے اٹھالی ہے۔ سو میں ہاتھ جھاڑ کر فارغ ہوں۔ اب باقی زندگی کچھ کتابیں لکھنی ہیں اور وہ شوق پورے کرنے ہیں جو بچوں کی تربیت میں مشغولیت کے سبب رہ گئے اور پھر اطمینان سے فوت ہونا ہے !

خواتین کی تعلیم اور اسلامی احکام

عبدالسلام ندوی
تعلیم انسانی زندگی کی فلاح وبہبود اور کامیابی وکامرانی کا ضامن ہے،تعلیم سے ہی انسان کی تمام دینی ودنیاوی ترقیات وابستہ ہیں ،اسلام نے جہاں زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنے پیروکاروں اور عقیدت کیشوں کے لئے رہنمائی چھوڑی ہے وہیں اس نے حصول تعلیم اور تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی ہے،اور اس میں مرد وزن کے درمیان یک گونہ امتیاز کو بھی پسند نہیں فرمایاہے،مذہب اسلام کو اس تعلق سے اولیت کا درجہ حاصل ہے جسکے ثبوت کے طور پر قرآن پاک کے وہ تمام احکام اور فرامین پیش کئے جاسکتے ہیں جو تعلیمی امور سے متعلق ہیں اور بصیغہ عموم جاری ہوئے ہیں یا جن میں صیغہ مذکر اور لفظ ’’الناس‘‘ کے ذریعہ خطاب کیا گیا ہے،دراصل قرآن پاک اور عربی زبان میں دو قسم کے خطاب وارد ہوئے ہیں ،ایک تو وہ خطاب ہے جسکا روئے سخن عورتوں سے ہے،دوسرا عمومی خطاب ہے جس میں مرد وزن مشترک ہیں ، امام خطابی رحمہ اللہ نے حدیث نبوی ’’انما النساء شقائق الرجال‘‘پر اپنی تعلیق میں یہ خلاصہ کیا ہے کہ جب خطاب مذکر لفظ کے ساتھ وارد ہوتو عورتیں بھی اس میں برابر کی شریک ہوتی ہیں بجز چند مخصوص مقامات کے جہاں دلائل کے ذریعہ تخصیص ہو،یہ تحقیق علامہ ابن قیم ،علامہ ابن رشد اور علامہ ابن حزم نے بھی اپنی اپنی کتابوں میں پیش کی ہے ۔
اسلام نے جہاں مرد وزن کے درمیان دیگر دنیاوی امور میں عدل ومساوات کا حکم دیا وہیں اولیاء کو بالخصوص مزید یہ ترغیب دلائی کہ وہ خواتین کو اسلامی تہذیب سے آراستہ وپیراستہ کریں اور اس عظیم خدمت پر اجرعظیم کا وعدہ بھی کیا، امام بخاری رحمہ اللہ نے حضرت عائشہؓ سے ایک حدیث روایت کی ہے جس میں حضور اقدسﷺنے فرمایا جس شخص کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں یا دو بیٹیاں یا دو بہنیں ہوں اور وہ انکے حقوق کی ادائیگی کے سلسلہ میں اللہ تعالی سے ڈرتارہے اور انکے ساتھ احسان وسلوک کا معاملہ کرے تو اللہ تعالی اسکی بدولت اسکو جنت میں داخل فرمائے گا،اس معنی کی اور بھی روایتیں ترمذی،مسنداحمداور حدیث کی دیگر کتب میں وارد ہوئی ہیں،جس سے خواتین کی دینی تربیت اور انکی اسلامی تثقیف کی فضیلت واہمیت عیاں ہوتی ہےـ
خود نبی اکرمﷺنے عورتوں کی تعلیم انکو مہذب بنانے اور انکی دینی تربیت میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیااور نہ یہ کہ صرف ان سے مردوں کی طرح بیعت لی بلکہ انکے لئے علم کی مخصوص مجالس بھی قائم کی،چناچنہ صحیح بخاری کتاب العلم میں مذکور ہے کہ جب عورتوں نے درخواست کی کہ ہمارے لئے ایک خاص دن مقرر فرمایاجائے تو آنحضرتﷺنے یہ درخواست منظور کی اور انکے وعظ وارشاد کے لئے ایک خاص دن مقرر ہوگیا،خواتین کی تعلیم کایہ اہتمام عہد نبوی میں اس حدتک پہنچ گیا تھاکہ بسااوقات صحابہ کرامؓ کا نکاح محض قرآنی سورتوں کی تعلیم کے عوض میں کردیاجاتاتھاـ
ایک دفعہ عید الفطر کے موقع پر جبکہ صحابہ کرامؓکی ایک بڑی جماعت موجود تھی آپﷺخواتین کی صفوں کے قریب تشریف لائے اور انہیں خوب وعظ ونصیحت کی اور صدقہ پر اس قدر ابھارا کہ عورتیں سونے اور چاندی کی انگوٹھیاں اور کڑے نکال کرصدقہ کرنے لگیں ـ
آپﷺنے عورتوں کیلئے یہ اجازت دے رکھی تھی کہ وہ دینی مسائل سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لئے گھر سے باہر نکلیں اور ان افراد کو زجروتوبیخ کرتے جو اپنی عورتوں کومساجد سے روکتے تھے، آپﷺ کاارشادتھاکہ’’اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مساجد سے نہ روکو‘‘امام غزالی رحمہ اللہ نے اپنی معرکۃ الآراء تصنیف احیاء علوم الدین میں اس حدیث کے ضمن میں بیان کیا ہے کہ عورتوں کا مساجد کی طرف جانامحض ادائیگیء نماز کیلئے نہیں ہے،بلکہ نماز کے ساتھ حصول علم بھی اسکا اہم مقصد ہے،اور جب شوہر اس لائق نہ ہو کہ وہ بیوی کو دینی امور سے واقف کرائے تو عورت کیلئے گھر سے نکلنا جائز ہی نہیں بلکہ ضروری ہے اور شوہر اگر اس راہ میں رکاوٹ بنے تو وہ سیہ کار ہوگاـ
نبی اکرمﷺکی اسی خصوصی توجہ کا اثر تھا کہ عہد اوائل اسلام میں خاتونان حرم اور صحابیاتؓکی ایک بڑی جماعت نے احادیث کی روایت میں وہ کارہائے نمایاں انجام دیا،جوسنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے،حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فن اسماء الرجال پر اپنی شہرہ آفاق تصنیف الاصابۃ میں ۱۵۵۲ ایسی صحابیات کی سوانح حیات بیان کی ہے جنہوں نے نبی اکرمﷺسے حدیثیں سنیں اور انہیں روایت کیااوران حالات کولکھنے کے بعدذکرکیاہے کہ یہ سب کی سب خواتین ثقہ اورعالمات تھیں اور اس سے بھی بڑھ کر علم جرح وتعدیل کے مشہور امام حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اپنی تصنیف میزان الاعتدال میں خواتین محدثات کے بارے میں بیان کیا ہے،وہ فرماتے ہیں کہ مجھے عورتوں میں کوئی ایسی راویہ نہیں ملی جن پر میں کذب بیانی کی تہمت لگاوں اور نہ ہی کوئی ایسی ہے جسے محدثین نے متروکہ قرار دیا ہے،حالانکہ حافظ ذہبی رحمہ اللہ کافن جرح وتعدیل میں وہ رتبہ ہے کہ انہوں نے چار ہزار محدثین کی جرح کی ہےـ
ان مخدرات اسلام نے احادیث کے علاوہ بیشمار روایتوں کی تفسیریں بھی بیان کیں یہاں تک کہ دینی علوم کا نصف حصہ خواتین کی ہی عالمہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کے ذریعہ سے ہم تک پہنچاجنکا مکثرین روایت میں چھٹا نمبر ہے،اور محض علم شریعت سے واقفیت ہی انکی فضیلت اور مزیت کا باعث نہیں ہے،بلکہ اسکے علاوہ علم کلام عقائد،علم اسرارالدین، طب، تاریخ،ادب،خطابت اور شاعری میں بھی انہیں اچھی دستگاہ حاصل تھی،علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے سیر اعلام النبلاء میں ذکر کیا ہے کہ ایک دفعہ حضرت عائشہؓ سے پوچھاگیا،اے ام امومنین قرآن کی تفسیر اور حلال وحرام کی تعلیم آپ نے نبی اکرم ﷺسے حاصل کی اور شاعری ،علم انساب اور سابقہ اقوام کے حالات آپ نے اپنے والد اور دیگر لوگوں سے جانالیکن فما بال الطب؟آپ کو طب سے کیسے واقفیت ہوئی؟ام المومنین نے فرمایاکہ نبیﷺکے پاس جو وفود آیا کرتے تھے وہ اپنی بیماری کی شکایت آپ سے کرتے،آپﷺجو بھی نسخہ بیان فرماتے میں اسکو خوب اچھی طرح ذہن نشین کرلیتی تھی،ایک دوسری روایت میں انہوں نے فرمایا کہ آنحضرتﷺآخر عمر میں بیمار رہاکرتے تھے،اطباء عرب آیا کرتے تھے جو وہ بتاتے تھے میں یاد کرلیتی تھی،اسلام کے اس ابتدائی عہد میں ام المومنین عائشہؓ کے علاوہ دیگر صحابیات بھی علم طب میں ید طولی رکھتی تھیں جن میں رفیدہ اسلمیہ،ام سلیم،ام سنان،آمنہ بنت قیس الغفاریہ،کعبیہ بنت سعد اسلمیہ،شفاء بنت عبداللہ اور ام عطیہ وغیرہ کے نام محدثین نے بیان کئے ہیں ـ
اور یہ بھی یہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ حضرت ابوبکرصدیقؓ کے زمانہ میں جب قرآن کی تدوین ہوئی تو مصحف کا واحد خطی نسخہ ایک حجلہ نشین حرم نبوت حضرت حفصہؓ بنت عمرؓ الفاروق کے پاس رکھاگیا اور اس معاملہ میں کسی صحابی کو ذرا بھی تردد نہیں ہواحالانکہ اجلہ صحابہ کرامؓ کی بڑی تعداد اس وقت موجود تھی اور ان میں بعض ایسے بھی تھے جو فضل ومرتبہ میں ان سے اونچا مقام رکھتے تھے،لیکن اسکے باوجود حضرت حفصہؓ کو اس اہم اور نازک کام کیلئے ترجیح دی گئی،جسکی بنیادی اور مرکزی وجہ یہ تھی کہ حضرت حفصہؓمعاملہ فہمی،دوراندیشی اورنکتہ آفرینی میں شہرت رکھنے کے ساتھ ساتھ کاشانہ نبوت میں رہکر عمدہ تعلیم وصحیح تربیت سے بھی خوب اراستہ ہوگئی تھیں،مسند احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی روایت کے مطابق نبی اکرمﷺنے ایک صحابیہ حضرت شفاؓ بنت عبداللہ عدویہ کو جولکھنا پڑھنا جانتی تھیں اس بات پر مامورفرمایا تھاکہ وہ حضرت حفصہؓ کو لکھناپڑھناسکھائیں اور زہریلے کیڑے مکوڑوں کے کاٹنے کا دم بھی بتائیں چناچنہ حضرت حفصہؓ نے بہت جلد پڑھنے کے ساتھ لکھنا بھی سیکھ لیاـ
بہرکیف یہ تو ایک عجالہ نافعہ ہے،جس سے بخوبی واضح ہوتاہے کہ عہد نبوی میں مسلمان عورتوں نے تربیت نبوی میں رہکر علمی،مذہبی،اجتماعی اور سیاسی اور پندوموعظت اور اصلاح وارشاد اور امت کی بھلائی کے جو کام انجام دئے اسکا عشرعشیر بھی دنیاپیش کرنے سے قاصر ہےـ
آج اہل یورپ عالم اسلام کے خلاف الزامات تراشتے نہیں تھکتے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ خواتین اسلام سے قبل اور مسلمانوں کے دور انحطاط میں تعلیم تو کجااپنے بنیادی حقوق سے بھی محروم تھیں،خود یورپ میں سترہویں صدی عیسوی تک عورتوں کیلئے حصول تعلیم ممنوع تھا،یہاں تک کہ کتاب مقدس کے پڑھنے کی بھی انہیں اجازت نہیں تھی،اور موجودہ یورپی تہذیب کا سنگ بنیاد رکھنے والے ملک فرانس کا حال یہ تھاکہ سب سے پہلی خاتون نے ۱۸۶۱ء میں جب سکینڈری کلاس کے امتحان کیلئے درخواست پیش کی تو اسکی درخواست رد کردی گئی اور درخواست کو منظوری اسی وقت حاصل ہوئی جب نیپلیون سوم کی اہلیہ اور وزیر رولان نے اسکی سفارش کی،یہی حال جرمنی کی یونیورسٹی کا تھاجس میں خواتین کوپہلی دفعہ ۱۸۴۰ء میں داخلہ لینے کی اجازت دی گئی ـ
یہ وہ حقائق ہیں جو یورپ کی موجودہ ظاہری چمک دمک اور آزادی نسوانیت کے باطل اور پرفریب نعروں پر کالی سیاہی پوتتے ہیں،اور اسی کے ساتھ اسلام مخالف الزامات کی قلعی بھی کھولتے ہیں ـ
خلاصہ کلام یہ کہ اسلام نے خواتین کی تعلیم میں روز اول سے ہی نمایاں کردار ادا کیاتاکہ وہ اسکے ذریعہ معاشرہ میں باعزت زندگی گزار سکے اور بندوں کی غلامی سے اپنے آپ کو محفوظ کرسکے-

والدین کی زیادتیاں ورسز اولاد کی کوتاہیاں

حفصہ عبدالغفار
چند دن قبل والدین کی زیادتیوں پر ایک پوسٹ نظر سے گزری،آدھی سے زیادہ پڑھی، کسی حالیہ کیز کا مرر امیج لگا تو شیئر کردی۔ ابھی ایک گروپ میں وہی پوسٹ مکمل پڑھنے کو ملی،تو معلوم ہوا کہ کسی نوجوان کے سوال کا جواب ہے، تو آخری پیراگراف پر بالخصوص اعتراض پیدا ہوا، جس کو شیئر کرنے کی میں بالکل متحمل نہیں ہو سکتی۔
میں اپنی فیس بک کو اتنا سیرئس نہیں لیتی، پہلے تو یہی سوچا کہ نظر انداز کروں؛ لیکن ایک سینئر نے مجھے ان باکس میں بھی کہا،مجھے اس حوالے سے ذمےداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے کہ میں فیس بک پر کیا شیئر کرتی ہوں، تو میں نے وہ ڈیلیٹ کر دی ہے، مزید اس موضوع پر وضاحت یہ ہے کہ:
آپ کسی صورتحال کا نقشہ کھینچیں تو اور انداز ہوتا ہے، کسی کو سوال کا جواب دیں تو اور۔ مجھے اس سے انکار نہیں ہے کہ والدین کی زیادتیاں نہیں ہیں، نہ میں یہ کہتی ہوں کہ بہت کم والدین زیادتیاں کرتے ہیں، اکثر تو اچھے ہوتے ہیں۔ یہ میرا مشاہدہ ہے،جو دوسروں سے مختلف بھی ہو سکتا ہے۔ کہ ہم سب ایک جیسے ماحول اور علاقوں اور لوگوں سے تعلق نہیں رکھتے۔ مزید یہ کہ مسئلے سے انکار وکٹمز کو مزید اذیت اور مسائل کی جانب لےجاتا ہے؛ لیکن جب آپ ایک سوال کا جواب دیتے ہیں، آپ کسی کو سمت دے رہے ہوتے ہیں، تو وہ پوسٹ اس لحاظ سے تو ٹھیک ہے کہ کسی وکٹم کے دل کی بھڑاس نکال باہر کی ہے؛ لیکن اختتام پر یہ کہنا کہ والدین کی خدمت پر جنت اسلیے ہے کہ وہ خود کو دیکھنے کے قابل نہیں چھوڑتے وغیرہ وغیرہ،تو یہ بہت بڑی بات ہے،کسی کا اپنا تجربہ اتنا برا رہا ہو، وہ شدید مایوسی اور ری ایکشن میں ایسا لکھ دے، تب بھی غلط ہے؛ لیکن کسی سوال کے جواب میں تو اور بھی بڑی بات ہے۔ اللہ تعالی نے والدین سے حسن سلوک کا حکم اپنی عبادت کے ساتھ دیا اور اس کے لیے الفاظ بھی “و قضى ربك”جیسے استعمال کیے ہیں۔ یعنی یہ رب کا فیصلہ ہےاور جہاں اس بات کا ذکر کیا کہ وہ دین سے روکیں، تب بھی کہا کہ دنیا میں ان کے ساتھ اچھے سے ہی رہنا ہے۔
اس گلوبل ولیج میں کئی مسائل تو مشرق مغرب کےسانجھے ہوگئے ہیں؛لیکن ایک مسلمان اور ایک غیر مسلم میں یہی فرق ہے کہ وہ مسئلے کے ساتھ اس طرح جیتا ہے کہ جتنی اچھائی ممکن ہو،اتنی کی جائے، جب کہ غیر مسلموں کی اسٹریٹجی مزید انتشار کا باعث بنتی ہے۔ تو مسئلہ خواہ حقوقِ نسواں کا ہو یا اولاد کے ایشوز کا،میں ان کی موجودگی کو مانتی بھی ہوں اور اس حوالے سے میں وکٹمز سے اسلامی دور حکومت اور معاشرت والے رویے بھی ایکسپیکٹ نہیں کرتی؛ لیکن ہمیں کم از کم بیسٹ پاسبل وے والا ری ایکشن کرنا چاہیے، نہ کہ مزید بغاوت و فساد والا۔
یہاں ایک سیکھنے کی بات یہ بھی ملی کہ ہم سوال کس سے پوچھتے ہیں، ہمارے دین میں ایک مقام سند بھی ہے اور ایک لینئج کی اہمیت بھی ہے۔ ہر مرتبہ صرف یہ نہیں دیکھنا کافی ہوتا کہ کوئی انسان اپنے حال میں کن بلندیوں کو پہنچ چکا ہے، یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ماضی کیسا رہا ہے اور کسی کے اپنے مسائل کیسے رہے ہیں۔ کسی ایسے شخص سے سوال کرنا جو سیم مسائل کو بھگت چکا ہو، ایک لحاظ سے فائدہ مند تو ہوتا ہے کہ وہ صرف تھیوری کے بجائے اپنے تجربے سے آپ کی راہنمائی کردے؛ لیکن ایک نقصان یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ آپ کا دکھڑا سن کر حل بتانے کے بجائے اپنی ایموشنز اور بھڑاس بھی ایڈ کر جائے اور نتیجہ مزید بے سکونی،تو جناب أمك، ثم أمك، ثم أمك ثم أباك، ثم أدناك ثم أدناك!

بچوں کی جنسی تربیت :وقت کی اہم ضرورت

عبدالرشیدطلحہ نعمانیؔ
گذشتہ چند دنوں سے ایک کم سن بچی کے ساتھ جنسی تشدداوردرندگی کا واقعہ الکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں موضوع بحث بناہوا ہے ،ہرکسی کی زبان پر اسی حادثے کاذکرہے اور ہرکوئی اس اندوہناک واقعہ کی پرزورمذمت کرتانظرآرہاہے ۔اخباری اطلاعات کے مطابق یہ تازہ واقعہ حیدرآبادکے مسلم اکثریتی علاقے ٹولی چوکی میں واقع ایک مسلم اسکول میں پیش آیا جہاں درندہ صفت سپروائزر نے اسکول میں جاری سائنسی نمائش کے دوران چاکلیٹ دینے کے بہانہ سے اسکول ہی کے عقبی حصہ میں لے جاکر چار سالہ معصوم بچی کے ساتھ شرمناک حرکت کا مظاہر ہ کیا ۔ اس واقعے کا پتہ اس وقت چلا ،جب لڑکی کے والد اپنی معصوم بچی کو لینے کے لئے اسکول پہنچے ، بچی نے باپ سے شکایت کی کہ اس کے پیٹ میں درد ہے ، والد کے فوری دواخانہ لے جاکر معائنہ کرانے پر پتہ چلاکہ اس معصوم کی عصمت دری کی گئی ہے ۔ اس گھناؤنی حرکت کا پتہ چلنے پر لڑکی کے والدین نے اسکول کی انتظامیہ سے رجوع کیا اور گولکنڈہ پولیس اسٹیشن پہنچ کر اسکول کے خلاف شکایت درج کروائی، جس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے سپروائزر کو حراست میں لے لیا اور اس کے خلاف عصمت ریزی پوسکو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیاگیا ، بعد ازاں برہم عوام نے اسکول پہنچ کر انتظامیہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ، اس مظاہرہ میں مرد و خواتین کی بڑی تعداد شریک رہی۔ اسسٹنٹ کمشنر پولیس مسٹر کے اشوک چکرورتی نے بتایا کہ اسکول سپروائزر کے خلاف عصمت ریزی کے علاوہ پوسکو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے ، اُنھوں نے کہاکہ یہ واقعہ دوپہر ساڑھے بارہ بجے کے قریب پیش آیا اور پولیس اسکول کے سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ کی بنیاد پر شواہد اکٹھا کررہی ہے ، متاثرہ لڑکی نیلوفر دواخانہ میں کچھ دن زیرعلاج رہی ۔
انسانیت کے نام پر سیاہ دھبے کے مترادف اس نوعیت کے خوف ناک واقعات ملک بھر میں جگہ جگہ پیش آتے رہتے ہیں ؛مگران کو پڑھ کر یا سن کرہم ہیں کہ صرف کڑھتے ہیں، کلبلاتے ہیں اور ٹھنڈی آہ بھر کے رہ جاتے ہیں؛جب کہ یہ ایک اجتماعی افتاد ہے جو اجتماعی کوششوں سے ہی ٹالی جا سکتی ہے ۔
یہ سچ ہے کہ بچے گلشن گیتی کے مہکتے پھول،مسکراتے غنچے اور لہلاتے پودے ہیں؛مگران کی آبیاری،نگہبانی اور باغبانی والدین کا فرض منصبی اور سرپرستوں کی اہم ذمہ داری ہے،اولاد خواہ بیٹا ہو یا بیٹی، قدرت کا عظیم تحفہ اور انمول نعمت ہے ،جس کو نہ رد کیا جاسکتا ہے ،نہ بدلا جاسکتا ہے ، انسان اس معاملے میں بے بس ہے ، اللہ جسے جو چاہتا ہے وہ عطا کرتا ہے ، ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ترجمہ:146146تمام بادشاہت اللہ ہی کی ہے آسمانوں کی بھی اور زمین کی بھی، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے بخشتا ہے یا ان کو بیٹے اور بیٹیاں دونوں عنایت فرماتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بے اولاد رکھتا ہے، وہ تو جاننے والا اورقدرت والا ہے ۔145145 (سورۃ الشوریٰ 49:50)چناں چہ ولادت سے لے کربلوغت تک اور اس کے بعدبھی اولاد کی اسلامی تعلیم اور دینی تربیت، ہر دور کا اہم تقاضا اور ہر زمانے کی بڑی ضرورت ہے ۔بچوں کی نفسیات کے ماہرین نے مختلف زاویوں سے بچوں کی تربیت کا اہتمام کرنے اور انہیں ایک نیک و اچھا انسان بنانے کے حوالے سے متعدد کتابیں لکھی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کی اخلاقی،معاشرتی،ذہنی،حسی، جذباتی اور جنسی تربیت کرنا والدین اور سرپرستوں کے لیے ازحد ضروری ہے ۔
اسلام میں چھوٹے بچوں کی تربیت کے لیے تلقین کے ساتھ ساتھ عادت ڈلوانے کا فطری طریقہ اختیار کرنے کی تعلیم دی گئی ہے ۔ ابتدائی عمر میں بچوں کے اندر سیکھنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے ،وہ ہرچیزکی نقل اتارنے اور بڑوں کی طرح بڑاکام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ امام غزالیؒ کے مطابق اس عمر کا بچہ ایک پاک و نفیس موتی کی مانند ہوتا ہے ، لہٰذا اسے خیر کا عادی بنایا جائے، تو وہ اسی میں نشوونما پائے گا،بچہ جب پیدا ہوتا ہے ،تو فطرتاً سلیم الطبع اور توحید پر پیدا ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے کہ اللہ کی اس فطرت کا اتباع کرو، جس پر اس نے انسان کو پیدا کیا ہے ۔ اللہ کی بنائی ہوئی فطرت میں تبدیلی نہیں (الروم )۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ :ہر بچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے بھر اس کے والدین یا اسے یہودی بناتے ہیں یا نصرانی یا مجوسی بناتے ہیں (مسلم)گویا ماحول بچے کی پاکیزہ فطرت کو پراگندہ کرتا ہے ، لہٰذا بچے کے لیے اردگرد کے افراد اور ماحول دونوں کا اسلامی حوالوں سے پاکیزہ ہونا بہت ضروری ہے ؛ کیونکہ شخصیت پر موروثی اثرات سے زیادہ ماحول کی تربیت کا اثر پڑتا ہے ۔ کہا جاتا ہے عادتیں صرف ۳۰ ؍فی صد مورثی ہوتی ہیں اور باقی۰ ۷؍فی صد ماحول سے بنتی ہیں۔
ایک بارحضرت احنف بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہیے ! اولاد کے سلسلے میں کیا سلوک ہونا چاہئے ؟ احنف بن قیس نے کہا امیرالمومنین اولاد ہمارے قلوب کا ثمرہ ہیں، ہماری حیثیت ان کے لئے زمین کی طرح ہے ، جو نہایت نرم اوربے ضرر ہے اورہمارا وجود ان کے لئے سایہ فگن آسمان کی طرح ہے اور ہم انہی کے ذریعے بڑے بڑے کام انجام دینے کی ہمت کرتے ہیں۔ پس اگروہ کچھ آپ سے مطالبہ کریں، تو ان کے دلوں کا غم دور کیجئے ! نتیجے میں وہ آپ سے محبت کریں گے ،آپ کی پدرانہ کوششوں کو پسند کریں گے اورکبھی ان پر ناقابل برداشت بوجھ نہ بنیے کہ وہ آپ کی زندگی سے اکتا جائیں اورآپ کی موت کے خواہاں ہوں، آپ کے قریب آنے سے نفرت کریں۔
بچوں کی جنسی تربیت کے تعلق سے ذیل میں کچھ اہم اور بنیادی باتیں ذکر کی جاتی ہیں،اگر ان کا لحاظ رکھا جائے، تو بچوں پر ہونے والے جنسی تشدد کا بڑی حدتک خاتمہ ہوسکتاہے اور انسان نما درندوں کو بہ آسانی کیفر کردار پہونچایا جاسکتا ہے ۔
جنسی تربیت کسے کہتے ہیں ؟:
جنسی تعلیم و تربیت سے مراد عمر کے ساتھ ساتھ بچوں میں جو جسمانی اور ذہنی تبدیلیاں آتی ہیں ان سے متعلق مسائل سے آگاہی اور نت نئے چینلجز کا مقابلہ کرنے کے لیے دینی اور سائنسی معلومات فراہم کرنا ہے ، والدین کے لیے یہ تربیت تب ہی ممکن ہے ،جب وہ اس کی ضرورت محسوس کریں اور انہیں خود ان مسائل سے واقفیت ہو،ان موضوعات میں سب سے اہم موضوع بچوں کو ان کے جسم کے پرائیویٹ حصوں کا شعور دینا کہ انہیں کوئی دوسرا ہاتھ نہیں لگا سکتا، کسی بھی دست درازی کی صورت میں بچے کو اس سے نمٹنے کے طریقے سکھانا، ان میں بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ ذہن میں پیدا ہونے والی خواہشات اور ان کو لگام دینے کے اسباب بتلانا،ایام اور احتلام کے بعد غسل، حمل، مرد عورت کے درمیان ازدواجی تعلقات، اور زنا کے دینی اور دنیوی نقصانات بھی مناسب عمر میں زیر بحث لائے جاسکتے ہیں، درحقیقت اسی کانام جنسی تعلیم ہے ۔
بچوں کا بستر الگ کریں :
رسول اللہ صلی علیہ وعلی آلہ وسلم نے اپنی اُمت کو حکم فرمایا: جب تمہارے بچے ساتھ سال کے ہو جائیں تو اُنہیں نماز پڑھنے کا حکم دو! اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو نماز نہ پڑھنے پر اُن کی پٹائی کرو ، اور اُن کے بستر الگ الگ کر دو !(سُنن ابو داؤد)
بچوں کا 5 یا 6 سال کی عمر سے بستر اور ممکن ہو تو کمرہ بھی الگ کر دیں تاکہ ان کی معصومیت تا دیر قائم رہ سکے ۔آج کل بچوں کو الگ کمرہ، کمپیوٹر اور موبائل جیسی سہولیات دے کروالدین ان سے غافل ہو جاتے ہیں۔۔۔ یہ قطعاً غلط ہے ، بچوں پر غیر محسوس طور پر نظر رکھیں اور خاص طور پر انہیں اپنے کمرے کا دروازہ بند کر کے بیٹھنے کی اجازت نہ دیں،کمرہ ایک ہو توبچوں کا بستر الگ ہو اور بچیوں کا بستر الگ ہو،اسی طرح بچوں کے دوستوں اور بچیوں کی سہیلیوں پہ خاص نظر رکھیں تاکہ آپ کے علم میں ہو کہ آپکا بچہ یا بچی کا میل جول کس طرح کے لوگوں سے ہے ، بچوں بچیوں کے دوستوں اور سہیلیوں کو بھی ان کے ساتھ کمرہ بند کرکے مت بیٹھنے دیں! اگر آپ کا بچہ اپنے کمرے میں ہی بیٹھنے پر اصرار کرے تو کسی نہ کسی بہانے سے گاہے بہ گاہے چیک کرتے رہیں۔
بچوں کو بستر پر جب جانے دیں جب خوب نیند آ رہی ہو اور جب وہ اٹھ جائیں تو بستر پر مزید لیٹے مت رہنے دیں۔اسی طرح والدین بچوں کے سامنے ایک دوسرے سے جسمانی بے تکلفی سے پرہیز کریں۔۔۔ورنہ بچے وقت سے پہلے ان باتوں کے متعلق با شعور ہو جائیں گے جن سے ایک مناسب عمر میں جا کر ہی آگاہی حاصل ہونی چاہئے ۔ نیز والدین بچوں کو ان کی غلطیوں پہ سر زنش کرتے ہوئے بھی با حیا اور مہذب الفاظ کا استعمال کریں ورنہ بچوں میں وقت سے پہلے بے باکی آ جاتی ہے جس کا خمیازہ والدین کو بھی بھگتنا پڑتا ہے ۔
بچوں کو مشغول رکھنے کی کوشش کریں:
وقت کی اہمیت وافادیت او راس کی قدر ومنزلت بچوں کے اذہان میں راسخ کریں ،کہاجاتاہے کہ فارغ ذہن شیطان کی دوکان ہوتا ہے ،چوں کہ بچوں کا ذہن لوح و تختی (سلیٹ)کی مانند صاف ہوتا ہے ،ان کے ذہن پر ہر نقش پتھر کی لکیربن جاتاہے اور بچپن ہی سے وہ عمر کے اس دور میں ہوتے ہیں جب انکا دماغ اچھی یا بری ہر قسم کی چیز کااثر فوراً قبول کرلیتا ہے ، اس لیے انکی دلچسپی دیکھتے ہوئے انہیں کسی صحت مند مشغلہ میں مصروف رکھیں، ٹی وی وقت گزاری کا بہترین مشغلہ نہیں؛بلکہ سفلی خیالات جنم دینے کی خطرناک مشین ہے اور ویڈیو گیمز بچوں کو بے حس اور متشدد بناتے ہیں،انٹرنیٹ اور موبائیل تو ان کے لیے سم قاتل ہے ۔ہاں ایسے کھیل جن میں جسمانی مشقت زیادہ ہو،وہ بچوں کے لیے بہترین ہوتے ہیں تاکہ بچہ کھیل کود میں خوب تھکے اور اچھی، گہری نیند سوسکے ۔
بچوں کی مصروفیتوں پر نظر رکھیں!:
یاد رکھیں! والدین بننا ایک اہم ڈیوٹی ہے ؛اس لیے اپنے بچوں کو نماز کی تاکید کریں اور ہر وقت پاکیزہ اور صاف ستھرا رہنے کی عادت ڈالیں۔۔۔ کیونکہ جسم اور لباس کی پاکیزگی ذہن اور روح پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہے ،بچیوں کو سیدھا اور لڑکوں کو الٹا لیٹنے سے منع کریں۔۔۔ حضرت عمر رضی اللہ اپنے گھر کی بچیوں اور بچوں پر اس بات میں سختی کرتے تھے ، ان دو ہیئتوں میں لیٹنے سے سفلی خیالات زیادہ آتے ہیں۔۔۔ بچوں کو دائیں کروٹ سے لیٹنے کا عادی بنائیں،جو مسنون طریقہ اور سونے کاادب ہے۔
بچوں کو بچپن ہی سے اپنے مخصوص اعضاء کو چھیڑنے یا بار بار چھونے سے منع کریں،انہیں مستور رہنے کی تلقین کریں ،مکمل لباس زیب تن کرنے کی عادت ڈالیں!ورنہ بری عادتیں آگے چل کر بلوغت کے نزدیک یا بعد میں بچوں میں اخلاقی گراوٹ اور زنا کا باعث بن سکتی ہے ۔نیزبچوں کو اجنبیوں سے گھلنے ملنے سے منع کریں اور اگر وہ کسی رشتہ دار سے بدکتا ہے یا ضرورت سے زیادہ قریب ہے تو غیر محسوس طور پر پیار سے وجہ معلوم کریں!
وقفے وقفے سے جانچ پڑتال کرتے رہیں !:
بچوں کے کمرے اور چیزوں کو غیر محسوس طور پر چیک کرتے رہیں،والدین کے علم میں ہونا چاہیے کہ بچوں کی الماری کس قسم کی چیزوں سے پر ہے ،ان کابیاگ کس قسم کے لٹریچر سے بھراہواہے ؟مسلہط یہ ہے کہ آج کے دور میں پرائیویسی نام کا عفریت میڈیا کی مدد سے ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے اس سے خود کو اور اپنے بچوں کو بچائیں؛کیونکہ نوعمر بچوں کی نگرانی بھی والدین کی ذمہ داری ہے ۔
یادرکھیں !والدین اپنے بچوں کی تربیت نہیں کریں گے تو وہ باہر سے سیکھیں گے جس میں زیادہ ترحصہ غلط اور من گھڑت ہوگا جس سے ان کے اذہان آلودہ ہوں گے ،جب بچے تیرہ، چودہ سال کے ہوجائیں تو لڑکوں کو ان کے والد اور بچیوں کو ان کی والدہ سورۃ یوسف اور سورۃ النور کی تفسیر سمجھائیں یا کسی عالم ، عالمہ سے پڑھوائیں؛تا کہ انہیں عفت و پاکدامنی کی اہمیت اور پردے و حجاب کے احکام معلوم ہوں ۔اخیر میں اللّہ تعالیٰ سے دعاہے کہ وہ ملت کے تمام بچوں کی عصمتوں کو محفوظ فرمائے اور ہوس پرستوں کی ہوسناکی سے بچائے آمین۔

کیا حجابِ صنفِ نازک ہے وبال؟!

عبدالرشیدطلحہ نعمانیؔ
عورت انسانی تہذیب وتمدن کا اٹوٹ حصہ اوربشری ثقافت وحضارت کا انمول جوہر ہے ، جس کے دم سے گلشنِ ارضی میں زیب وزینت ،تصویرِ کائنات میں رنگ ونکہت اورخاندانی ومعاشرتی نظام میں آرام وراحت ہے ،یہی وجہ ہے کہ صرف مذہبِ اسلام ہی نے اس صنفِ لطیف کو مکمل اعزاز واکرام اوربھرپور عظمت واحترام کے ساتھ تمام اجتماعی ومعاشرتی مسائل میں وہ مساویانہ حقوق اورعادلانہ تحفظات فراہم کئے جن سے محرومی اس کا ازلی مقدر ،اورتہی دامانی اس کی شؤمی قسمت تھی، جو صدیوں کی ذلت ونکبت سے دوچار،برسہابرس کے ظلم وجورسے بے زار،سالہا سال کی مذمت وحقارت سے ناچار،ہر قسم کی شخصی وسماجی برائیوں کا سرچشمہ ،مختلف سیئات ومعاصی کا مقدمہ،زندگی میں درآنے والی ہرآفت ومصیبت کا پیش خیمہ اورمردوں کی جنسی تسکین،شہوت رانی وہوس پرستی کا واحد ذریعہ سمجھی جا تی تھی،مگرسلام ہو اسلام کے نظامِ عفت وعصمت پر کہ اس نے اس راندۂ روزگار، اورمظلو م زمانہ کواپنی آغوش رحمت میں لیا،اورپردہ وحجاب جیسے بہترین حصنِ حصین کے ذریعہ بے حیائی وہو اپرستی کے تحت الثریٰ سے نکال کرحیاداری وپاکدامنی کے بامِ ثرُیاتک پہونچادیا ،مزید برآں الرجال قوامون علی النساء الخ کے اُصول زرِّین کے ذریعہ مردوزن کے مابین تقسیم کارکا وہ عظیم الشا ن کا رنامہ انجام دیا، جس سے نہ صرف مغرب کی حیا باختہ اورایمان سوز مہلک یلغار کا خاتمہ ہوگیا؛بلکہ ساتھ ہی ساتھ عصر حاضر کے اُن نام نہاد روشن دماغ خود ساختہ دانشوروں کا منھ بھی بندہوگیا جنہوں نے محض فحاشی وعریانی کے فروغ کے لئے بے حجابی کو وقت کا تقاضا اوربے پردگی کو عدل ومساوات قراردے کر اسلامی تہذیب وثقافت کو ملیامیٹ کرنے کی سازش کی۔
لعنت ہومغرب کی اس بے حیا تہذیب اورعریاں ثقافت پر جس نے اسلام کی عطا کردہ اس چادر عفت کو تارتارکرکے جنسی انارکی، مادر پدرآزادی، شہوانی بے راہ روی، اوربدمستی و عیاشی کا وہ ننگا ناچ دکھایاکہ الامان الحفیظ!!!موجودہ مخلوط تعلیمی نظام ہو،یاحقوق نسواں کا پر فریب نعرہ،مستورات کے جنسی فیصلوں کی آزادی ہو، یا برقعہ وحجاب پر پابندی وامتناع کی کوشش غرضیکہ یہ اوراس جیسے تمام تر فواحش وخرافات مغرب کی فکر گستاخ کے عکاس،یورپ کی تہذیبِ جدید کے غمّاز اورپوری عیّاری وچال بازی کے ساتھ خاتونِ مشرق کولیلائے مغرب کی طر ح اپنی ہوسناکی ،لذّت اندوزی اورشہوت رانی کا ذریعہ بنانے کی وہ فریبی چالیں ہیں،جن کے دامِ تزویر میں امت کی امت پھنسیغ جارہی ہے ،اور نوبت بہ ایں جا رسید ؂
اب مسلمانوں میں بھی نکلے ہیں کچھ روشن خیال
جن کی نظروں میں حجابِ صنف نازک ہے وبال
چاہتے ہیں بیٹیوں،بہنوں کو عریاں دیکھنا
محفلیں آباد ؛لیکن گھر کو ویراں دیکھنا
حجاب معاشرے کی تطہیر کا اہم سبب:
ہر معقول پسندشخص اس بات سے ضروراتفاق کرے گا کہ قدرت کے فیّاض ہاتھوں نے تمام اعضاء انسانی میں صرف چہرہ ہی کو ایسی شناخت عطاء کی ہے کہ وہ حسنِ لطیف کی جلوہ نمائیوں کا مرکز،جمال قدرت کی جملہ رعنائیوں کا محوراوردیدہ زیبی ودل فریبی کا سب سے بڑامظہرہے کہ تخلیقِ جوارح میں وہ خلقت کا حسین شاہکا رہے ؛یہی وجہ کہ قرآن وسنت اوراجماع امت میں اس کے حجاب سے متعلق تفصیلی احکام واردہوئے ہیں ۔
حجاب صرف ایک کپڑے کا ٹکڑا یا معمولی سا نقاب نہیں ہے ؛بلکہ یہ معاشرتی ضرورت ہے ایک طرز زندگی ہے ، ایک ضابطہِ حیات ہے جو باحجاب خواتین کے کردار کا احاطہ کرتاہے ۔ خواتین کے حجاب پہن لینے یا مرد کی داڑھی رکھ لینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ تمام گناہوں سے پاک ہوگئے ،بل کہ یہ اسلام کی تدریجی تربیت کا ایک اہم عنوان ہے ،اسلام نے سب سے پہلے عورت کو بیرون خانہ نکلنے ہی سے منع کردیا پھر بہ وقت ضرورت نکلنے کی محدود اجازت دی اور مکمل مستور ہونے کو ضروری قراردیا،سرکاردوعالمﷺنے مختلف اقوال کے ذریعہ عورتوں کو باپردہ رہنے کی تلقین فرمائی حتی کہ مسجد نبوی میں آکر نبی کی اقتدا میں نماز پڑھنی کی خواہش کرنے والی خاتون کو گھر کی اندھیری کوٹھری میں نماز پڑھنے کا حکم دیا اور اسی کو افضل بتلایا۔
ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ اور حضرت میمونہ حضورپاکﷺکے پاس بیٹھی تھیں ۔اتنے میں ابن ام مکتوم آئے اور حضور پاک ﷺنے حضرت میمونہ اور حضرت ام سلمہ کوپردہ کرنے کے لیے کہا۔انہوں نے آپ سے عرض کیاکہ وہ تونابینا ہیں۔حضوراقدس ﷺنے فرمایا تم تونابینا نہیں ہو ؟۔
اسلام کی ان روشن اور واضح تعلیمات کے باوجود آج کل مسلم معاشرہ میں حجاب کو ترقی اورتعلیم کی راہ میں رکاوٹ سمجھا جاتا ہے ، فرسودہ نظام اور جاہلیت قدیمہ سے منسوب کیا جاتا ہے ؛حالاں کہ تعلیم میں پردے کا کوئی عمل دخل نہیں،تعلیم کے لئے یکسوئی اور خیالات کے اجتماع کی ضرورت ہوتی ہے ۔غورکیاجائے تواصل ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہمارے معاشرے کے بنائے ہوئے اُصول ہیں، قدرت کے بنائے ہوئے اُصول کبھی بھی ہماری ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے ۔
کہاجاتاہے کہ روس کے ایک ٹیلیویژن چینل نے ایک ڈاکومنٹری فلم بنائی؛جس میں ایک شاپنگ پلازہ میں دو اداکار مرد و عورت کو جھگڑا کر تے ہوئے بتایا:
پہلا سین : ”لڑکی یورپین لباس میں ہے اور مرد اس سے جھگڑا کر رہا ہے ،اسے برا بھلا کہہ رہا ہے ”ڈاکومنٹری میں تقریبا چالیس کے قریب لوگوں کو انہیں دیکھ کر گزرتے ہوئے دکھایا جنہوں نے انہیں یوں جھگڑا کرتے ہوئے دیکھا؛لیکن کسی نے بھی ان کے معاملے میں دخل نہیں دیا، لوگ انہیں نظر انداز کرکے قریب سے گذرتے رہے ۔
دوسرا سین : ”وہی مرد و عورت پھر جھگڑا کر رہے ہیں؛لیکن اس بار لڑکی نے اسلامی لباس یعنی حجاب پہنا ہوا ہے ”
سب کو یہ دیکھ کر یہ حیرت ہوئی کہ جس نے بھی مرد کو حجاب میں ملبوس لڑکی کو برا بھلا کہتے ہوئے دیکھا، اس نے آکر مرد کو پکڑ لیا اور ڈانٹا کہ وہ اس لڑکی سے کیوں لڑ رہا ہے ، کیوں اس لڑکی کو پریشان کر رہا ہے ، حتی کہ ایک آدمی نے تو اس مرد کو مارنے کی کوشش بھی کی اور اسے گھسیٹ کر لڑکی سے دور لے گیا ۔ جتنے بھی لوگوں نے انہیں دیکھا، چند ایک کے علاوہ باقی سب نے آکر مرد کو روکا اور ایسا صرف اس وجہ سے ہوا کہ لڑکی حجاب پہنی ہوئی تھی۔
حجاب اور نومسلم خواتین:
نومسلم ہندو دو شیزہ کملا داس جن کا اسلامی نام ثریا ہے ایک انٹرویو میں اس سوال پر کہ آپ کو اسلام میں سب سے زیادہ پرکشش بات کیا لگی؟ کہا:”مجھے مسلمان عورتوں کا برقعہ بہت پسند ہے ۔ میں پچھلے 24 برسوں سے پردے کو ترجیح دے رہی ہوں۔ جب کوئی عورت پردے میں ہوتی ہے تو اس کو احترام ملتا ہے ۔ کوئی اس کو چھونے اور چھیڑنے کی ہمت نہیں کر سکتا۔ اس سے عورت کو مکمل تحفظ ملتا ہے ۔” (ہفت روزہ نئی دنیا نئی دہلی 28 دسمبر 1999ء)
ثریا نے اب برقعہ کا استعمال بھی شروع کردیا ہے ، وہ پردے کے بغیر زندگی کو آزادی نہیں سمجھتی؛ بلکہ ایسی آزادی کو عورت کے لئے زہر قاتل سمجھتی ہے ۔ اس نے اس سوال پر کہ کیا برقعہ آپ کی آزادی کو متاثر نہیں کرتا؟ کہا:مجھے آزادی نہیں چاہئے ۔ اب تو آزادی میرے لئے ایک بوجھ بن گئی ہے ۔ مجھے اپنی زندگی کو باضابطہ اور باقاعدہ بنانے کیلئے گائیڈ لائن کی ضرورت تھی۔ ایک خدا کی تلاش تھی جو تحفظ دے ۔ پردے سے عورت کو مکمل تحفظ ملتا ہے ۔ پردہ تو عورت کے لئے بلٹ پروف جیکٹ ہے ۔ (ہم کیوں کفر سے اسلام میں داخل ہوئیں ص 116)
نو مسلم عیسائی خولہ لگاتا کہتی ہیں۔ پہلے مجھے حیرت ہوتی تھی کہ مسلم بہنیں برقعے کے اندر کیسے آسانی سے سانس لے سکتی ہیں۔ اس کا انحصار عادت پر ہے ، جب کوئی عورت اس کی عادی ہوجاتی ہے تو کوئی دقت نہیں ہوتی۔ پہلی بار میں نے نقاب لگایا تو مجھے بڑا عمدہ لگا، انتہائی حیرت انگیز۔ ایسا محسوس ہوا گویا میں ایک اہم شخصیت ہوں، مجھے ایک ایسے شاہکار کی مالکہ ہونے کا احساس ہوا جو اپنی پوشیدہ مسرتوں سے لطف اندوز ہو۔ میرے پاس ایک خزانہ تھا جس کے بارے میں کسی کو معلوم نہ تھا۔ جسے اجنبیوں کو دیکھنے کی اجازت نہ تھی۔(ہم کیوں کفر سے اسلام میں داخل ہوئیں 204)
نو مسلم دوشیزہ صونی رولڈ کی سرگزشت۔ میں نے سر ڈھانپنا شروع کیا تو میرے باپ کا تبصرہ یہ تھا کہ بڈھی کھوسٹ لگنے لگی ہو۔ یہ تبصرہ آج کل عام ہے ۔ لوگ سر پر اسکارف باندھنا ترک کر چکے ہیں اس لئے شاید وہ مجھے عجوبہ سمجھتے ہیں۔ بہر حال میں تو اپنے آپ کو عجوبہ نہیں سمجھتی ہوں۔ میں مسلمان ہوں اور میں ناروے میں غیر ملکی ہوں۔ میرے مسلم احباب زیادہ تر عرب یا پاکستانی ہیں اس ماحول میں مجھے گرمجوشی، تدبر اور دانائی ملتی ہے ، ایسی دانش جو ناروے کے انفرادیت پرست ماحول سے کوسوں دور ہے ۔(ہم کیوں کفر سے اسلام میں داخل ہوئیں ص 224)
ان مبنی بر حق تبصروں سے جہاں اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ حجاب کی کیا اہمیت و ضرورت ہے وہیں یہ بھی علانیہ محسوس کیاجاسکتاہے کہ ثقافتی دہشت گردی کو اس بات کا خطرہ ہے کہ کہیں اسلام عالمی مذہب نہ بن جائے اور وہ خواب جو یہودی دنیا پر حکومت کرنے کا دیکھ رہے ہیں چکنا چور نہ ہوجائے ۔ اس لئے اسلامی تہذیب و ثقافت کو کچلنے کی یہ مہم مختلف حیلوں سے جاری و ساری ہے ۔
عالمی یوم حجاب کا آغاز :
۴؍ستمبر کا دن ، مغرب کے نعرہ مساوات کا پردہ چاک کرنے اور اس نام نہادمہذب دنیا کے آزادانہ خدوخال کوواضح کرنے کا دن ہے 150
آج سے ٹھیک سولہ سترہ سال قبل ۴؍ستمبر ۲۰۰۲کو فرانس نے یورپ میں پہلی بار حجاب پر قانونا پابندی عائد کر دی، اس سے پہلے جرمنی ، تیونس اور ترکی میں بھی حجاب جیسا پاکیزہ شعار عتاب کا نشانہ بنا، مہذب دنیا کے ان اوچھے ہتھکنڈوں کو روکنے کے لیے اسمبلی فار پروٹیکشن آف حجاب (The Assembly for the Protection of Hijab) نے چار ستمبر کو بطور عالمی یوم حجاب منانے کا اعلان کیا اور اسے شہید الحجاب مروہ الشبرینی سے منسوب کر دیا۔
تب سے لے کر آج تک بیشتر مسلم ممالک میں یوم حجاب منایا جاتاہے ،اس حوالے سے مختلف تقریبات منعقد کی جاتی ہیں جن میں حجاب کی اہمیت، افادیت پر تفصیلی روشنی ڈالی جاتی ہے جبکہ تمام بڑے شہروں میں خصوصی سیمینارز، کانفرنسز اور اجلاس کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے ۔

بچوں کی تعلیم و تربیت: بنیادی امور

بدرالاسلام
بچوں کی تعلیم کا ایک اہم دائرہ وہ تربیت ہے جو انھیں اپنے خاندان سے حاصل ہوتی ہے۔ اس تربیت کا اہم ترین پہلو بچوں (اولاد) کے ساتھ والدین، بالخصوص ماں کے طرزِ عمل کے طرز عمل سے متعلق ہے۔ اس ضمن میں چند اصولی نکات درج ذیل ہیں:
l بنیادی دینی تعلیم: ابتدائی عمر ہی سے بچوں کو دین کی بنیادی تعلیمات سے واقف کرایا جائے۔ قرآن مجید کی تعلیم کا شعوری انتظام اور حلال اور حرام کے احکامات سے واقفیت فراہم کی جائے۔ سات سال کی عمر سے نماز کا، اور روزہ رکھنے کے قابل عمر کو پہنچنے پر روزے کا عادی بنایا جائے۔ بچوں کو بالکل ابتدا سے اللہ سے تقویٰ اور اس کے سامنے تمام کاموں (اعمال) کیلئے جواب دہ ہونے کا تصور پیدا کرنا، اور ان میں یہ احساس جگانا ضروری ہے کہ اللہ ہر وقت ان کی نگرانی کر رہا ہے۔
l اخلاقی تربیت: بچوں کو ابتدائی عمر سے ہی اعلیٰ اخلاق کا عادی بنانے کی کوشش کی جائے، کیونکہ بچپن کی عادتیں بڑے ہونے پر پختہ ہوتی ہیں، اس لئے ضروری ہے کہ بچپن ہی سے انھیں سچائی، امانت داری، بہادری، احسان، بزرگوں کی عزت، پڑوسیوں سے بہتر سلوک، دوستوں کے حقوق کی پاسداری اور مستحق لوگوں کی مدد جیسے اعلیٰ اخلاقی اوصاف کا حامل بنایا جائے، پھر انھیں برے اخلاق مثلاً جھوٹ، چوری، گالی گلوچ اور بے راہ روی سے سختی سے بچایا جائے اوائل عمر سے ہی محنت و مشقت کا عادی بنایا جائے اور عیش کوشی و آرام پسندی سے دور رکھا جائے۔
l جسمانی تربیت: والدین کی طرف سے بچوں کی جسمانی نشو و نما، غذا اور آرام کا خیال رکھا جائے اور انھیں ورزش کا عادی بنایا جائے۔ جسمانی بیماریوں اور جائز ضروریات کو پورا کرنے کی حتی المقدور کوشش کی جائے۔
چار بنیادی باتیں جن سے والدین کیلئے پرہیز کرنا لازم ہے:
l تحقیر آمیز سلوک: بچوں کی اصلاح و تربیت میں عجلت اور جلد بازی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے صبر و استقامت کے ساتھ یہ کام کیا جائے۔ بچوں کی اہانت یا تحقیر کرنے سے گریز کیا جائے۔
l سزا میں بے اعتدالی : بالکل سزا نہ دینا اور بہت زیادہ سزا دینا باتیں غلط ہیں۔ بچوں کے ساتھ محبت و شفقت اور نرمی کا برتاؤ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اور معقول حد تک سرزنش کا بھی ایک مقام ہے۔ ان دونوں رویوں میں اعتدال لازم ہے۔
l بے جا لاڈ پیار : بچوں کی ہر خواہش کو پورا کرنا، غیر ضروری لاڈ پیار انھیں ضدی اور خود سر بناتا ہے۔ اس میں اعتدال ضروری ہے۔
l بچوں کو ایک دوسرے پر ترجیح دینا: ایک ہی گھر میں دو بچوں یا لڑکوں اور لڑکیوں میں سے ایک کو دوسرے پر فوقیت دینا غیر اسلامی رویہ ہے، جس سے بہت سے نفسیاتی عوارض میں مبتلا ہوکر انتہا پسندی اور انتقام پسندی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ایسے مریضانہ رویے سے اجتناب لازم ہے۔
ان اصولی نکات کے علاوہ چند عملی اقدامات جن پر والدین آسانی سے عمل کرسکتے ہیں:
(1 اپنے خاندان میں، بالخصوص بچوں کے ساتھ ممکنہ حد تک زیادہ وقت گزارا جائے۔ اپنی معاشی جدوجہد و دیگر مصروفیات کو اس طرح ترتیب دیا جائے کہ لازماً کچھ وقت اپنے اہل خانہ کے ساتھ گزارا جاسکے۔ بچوں کی تعلیم و تربیت ماں اور باپ دونوں کی ذمہ داری ہے، تربیت کا تمام تر بوجھ ماں پر ڈال دینا ایک مناسب اور غیر معقول طریقہ ہے۔ مدرسے میں بچوں کی مصروفیات، دوستوں کی صحبت وغیرہ سے واقفیت کیلئے ضروری ہے کہ والدین ان کے ساتھ روزانہ کچھ نہ کچھ وقت گزاریں۔
(2 بچوں کو سخت کوشی اور محنت کا عادی بنانے کیلئے انھیں ایک درمیانے معیار کی زندگی کا عادی بنایا جائے تاکہ وہ ایک عام انسان جیسی پُر مشقت زندگی کا تجربہ حاصل کرسکیں۔
(3 اول تو جیب خرچ دینے سے بچاجائے اور بچوں کی ایسی ضروریات کو خود پورا کیا جائے اور اگر بچوں کو جیب خرچ دیا جائے تو پھر اسے ڈسپلن کا پابند بنایا جائے۔ بچوں سے اس رقم کا حساب بھی پوچھا جائے، تاکہ ان میں بچپن ہی سے کفایت شعاری، بچت اور غیر ضروری اخراجات سے پرہیز کی عادت پروان چڑھ اور جواب دہی کا احساس پیدا ہو۔ والدین کی طرف سے اپنے بچوں کو آرام پہنچانے کی خواہش بجا ہے، مگر ابتدا سے بغیر محنت کے آرام طلب بنانا، ان کے مستقبل کے ساتھ سنگین مذاق ثابت ہوسکتا ہے۔ اسی طرح ان کے کپڑوں اور جوتوں پر اخراجات میں اعتدال رکھنا ضروری ہے، کیونکہ تعلیمی ادارے میں مختلف معاشی و سماجی پس منظر رکھنے والے طلبا و طالبات ہوتے ہیں، اس طرح ان میں غیر مطلوب مقابلہ آرائی کو روکا جاسکتا ہے۔
(4 ابتدا ہی سے بچوں سے خود انحصاری (self relinance) یعنی اپنی مدد آپ کے اصول پر عمل کرایا جائے۔ اگر معاشی وسائل میں وسعت بھی حاصل ہو تب بھی بچوں کو اپنے کام کرنے یعنی جوتے صاف کرنے، کمرے کو ترتیب دینے کی عادت ڈالی جائے۔
(5 والدین کا یہ بھی فرض ہے کہ بچوں کو اپنے بزرگوں کی خدمت کی طرف متوجہ کرتے رہیں۔
(6 بچوں کی مصروفیات اور ان کے دوستوں کو جاننا ضروری ہے۔ جرائم کا ارتکاب اور نشہ آور چیزوں کا استعمال غلط صحبت کا نتیجہ ہوتا ہے، اس لئے بچے کے دوستوں پر گہری نظر رکھنا والدین کی لازمی ذمہ داری ہے۔
(7 بچوں کے سامنے مدرسے یا اساتذہ یا دوسرے عزیزوں کی برائی نہ کی جائے۔ اگر جائز شکایت ہو تو متعلقہ ذمہ داران سے گفتگو کی جائے، مگر بچوں کے سامنے کبھی ان کے اساتذہ کی تحقیر نہیں ہونی چاہئے۔ والدین اپنے بچوں کے اساتذہ کی عزت کریں گے تو بچے بھی اس کا اچھا اثر قبول کریں گے۔
(8 اپنے بچوں کی غلطیوں اور جرائم کی صفائی نہیں پیش کرنی چاہئے۔ بچوں کو غلطی کا احساس دلانا اور حسب موقع تا دیب انھیں اصلاح کا موقع فراہم کرے گی اور وہ عدل، انصاف اور اعتدال کے تقاضوں سے واقف ہوں گے۔
(9 ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ کے حوالے سے متوازن رویہ اپنانا ضروری ہے۔ اس کیلئے والدین کو خود اپنے آپ کو نظم کا پابند بنانا ہوگا، تعلیمی اور معلوماتی پروگرام سے استفادہ اور اچھے تفریحی پروگراموں پر بچوں سے تبادلہ خیال کے ذریعے مثبت اور منفی پہلوؤں کو اجاگر کرنا چاہئے۔ ٹی وی اور کمپیوٹر کو ایسی جگہ رکھنا چاہئے ، جہاں سب آتے جاتے ہوں تاکہ لغو اور غیر اخلاقی پروگرام دیکھنے کا امکان نہ رہے۔
(10 ٹی وی اور کمپیوٹر کتابوں کا نعم البدل نہیں بن سکتے۔ اچھی کتب اور رسالے، بچوں کی شخصیت سازی میں غیر معمولی کردار ادا کرتے ہیں، اپنے بچوں میں مطالعے کی عادت ڈالنی چاہئے۔ والدین انھیں اچھی کتابیں اور رسائل فراہم کریں اور ان کیلئے ذاتی لائبریری بنائیں، ان کے نصاب کے مطالعے اور دیگر کتب کے مطالعے پر نظر رکھیں۔ خود بچوں کو ترغیب دیں کہ وہ اپنے جیب خرچ سے رقم پس انداز کرکے کتابیں خریدیں۔
(11 بچوں میں احساس ذمہ داری پیدا کیا جائے، تاکہ ملک وملت اور انسانیت کو ان کی ذات سے فائدہ ہو۔ موجودہ دور میں ہر شخص اپنے حقوق کے بارے میں بہت حساس ہے مگر اپنے فرائض کی ادائیگی کے بارے میں انجان بن جاتا ہے، اس رویے کو تعلیمی عمل کے دوران ہی تبدیل کرنا ہوگا۔
(12 بچوں میں عوامی املاک کی حفاظت کا احساس پیدا کرنا چاہئے۔ ملک میں پارک، عوامی ٹرانسپورٹ، راستوں اور سرکاری عمارتوں وغیرہ کا حال سب کے سامنے ہے۔ ہر کوئی اس کے نقصان پر تلا ہوا ہے۔ (پارک میں کھیلنے کا سامان بچوں کی نشانہ بازی کی مشق کا ہدف قرار پاتی ہیں)۔ یہ اس لئے ہوتا ہے کہ معاشرے میں قومی جائداد کا تصور بیدار نہیں ہے۔ اسلام ان املاک کے بارے میں امانت دار ہونے اور اللہ کے سامنے جواب دہی کا تصور دے کر اس کی حفاظت کراتا ہے۔
(13 بچوں میں سماجی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کا احساس پیدا کرنا چاہئے۔ اسکول کی فیس ہو، میونسپل ٹیکس ہو یا انکم ٹیکس، اس ضمن میں والدین اپنے عمل سے بچوں کیلئے نمونہ پیش کریں اور انھیں عوامی واجبات کو بروقت ادا کرنے کی تلقین کی جائے۔
(14 گھر میں ایک بہتر ماحول قائم کیا جائے۔ ماں باپ کو چاہئے کہ وہ بالخصوص بچوں کے سامنے غصے اور لڑائی جھگڑے سے پرہیز کریں۔ خاندان کے بڑوں میں باہم میل جول، ایک دوسرے کی قدر و منزلت اور احترام بچوں پر خوش گوار اثر ڈالتا ہے۔
(15 قول و فعل میں تضاد سے پرہیز لازم ہے، بچے اپنے بڑوں کے اعمال سے غیر محسوس طریقے سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ ماں باپ اور دیگر بڑوں کا طرزِ عمل بچوں کی شخصیت کو بناتا ہے۔ والدین کوسچائی، امانت داری وغیرہ کے حوالے سے معاملہ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا، اور بظاہر نقصان ہی ہوتا نظر آرہا ہو، اپنے عمل کو درست رکھنا چاہئے۔
(16 والدین عموماً اپنے بچوں سے اونچی توقعات وابستہ کرتے ہیں، مگر جب وہ اس معیار پر پورے نہیں اترتے تو والدین مایوس ہوجاتے ہیں اور بچوں سے ناراض ہوکر جھنجلاہٹ کا اظہار کرتے ہیں۔ اس طرح والدین اور بچے دونوں احساسِ کمتری اور چڑچڑے پن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یہ نامناسب رویہ ہے۔ بچوں کو ملنے والی کامیابی پر انھیں حوصلہ دینا اور مناسب انعام سے نوازنا چاہئے۔ بچوں سے توقعات وابستہ کرتے وقت ان کی صلاحیت، دلچسپی اور کمزوریوں کو بھی دھیان میں رکھنا چاہئے۔ والدین کو اپنی خواہشات بچوں پر تھوپنے سے پرہیز کرنا چاہئے۔
(17 ناکامی کو کامیابی کا زینہ بنانے کی تربیت دینی چاہئے۔ زندگی میں ہر فرد کو کسی نہ کسی بحران سے مقابلہ در پیش رہتا ہے، اس لئے نامطلوب حا سے مقابلہ کرنے کیلئے بچوں کی ذہن سازی ضروری ہے۔ انھیں مسائل سے فرار کے بجائے ان سے نبرد آزما ہونے کی تربیت دینی چاہئے۔ عزم محکم، عمل پیہم اور سخت محنت کامیابی کی شرائط ہیں۔ مشکلات کی صورت میں حسب موقع بچوں سے مشاورت بھی ان کی تربیت اور ان میں خود اعتمادی پیدا کرنے میں معاون ہوتی ہے۔
(18 بچوں کو اپنی زندگی کے مقصد کا شعور دیا جائے۔ مقصد زندگی کا واضح تصور انھیں دنیا میں اپنا مقام متعین کرنے میں مدد دے گا۔ مستقبل کیلئے بلند عزائم اور ان عزائم کی تکمیل کیلئے بچوں میں شوق، محنت اور جستجو کے جذبات پیدا کرنے میں والدین کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے۔
(19 بچوں کی تعلیم و تربیت میں والدین تدریج سے کام لیں، ان کی اصلاح سے مایوس نہ ہوں۔
(20 بچوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے واقف کرانا اور اسوۂ رسولؐ کی پیروی کو جزو ایمان بنانا، اسی طرح سلف صالحین کی زندگیاں مشعل راہ کے طور پر بچوں کے سامنے لانا ضروری ہے۔
(21 گھر میں مطالعے کا وقت متعین کرکے، والدین اپنی نگرانی میں تعلیمی ادارے کا کام کرواتے ہوئے بچوں کی ترقی کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔
(22 وقت کی تنظیم اور قدر والدین خود بھی کریں اور بچوں کو ابتدا سے ہی وقت کے صحیح استعمال کی عادت ڈالیں۔ وقت کا ضیاع ناقابل تلافی نقصان ہے۔ اس قیمتی دولت کا بہترین استعمال کامیابی کی کلید ہے۔
(23 تعلیم و تربیت پر خرچ مستقبل کی سرمایہ کاری ہے۔ موجودہ دور کے نہایت مہنگے تعلیمی اخراجات کے پیش نظر مناسب ہوگا کہ ہر خاندان اپنی ماہانہ آمدنی کا ایک مقررہ حصہ اپنے بچوں کی تعلیم اور تربیت پر خرچ کرے۔ اگر بچے چھوٹی جماعتوں میں ہوں تو اس بچی ہوئی رقم کو پس انداز کرکے آئندہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔
ترتیب:عبدالعزیز
موبائل: 9831439068 azizabdul03@gmail.com

کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی

ظفیر اللہ شاد ندوی
آپ نے ایک لطیفہ سنا ہوگاکہ 1988 میں لڑکیاں ڈرتی تھیں کہ ساس کیسی ملے گی، مگر آج یعنی 2018 میں ساس ڈرتی ہیں کہ پتہ نہیں بہو کیسی ملے گی۔کہنے کو تو یہ ایک لطیفہ ہے؛ لیکن اس کاایک ایک حرف حقیقت سے بالکل قریب تر ہے،کیا آپنے کبھی سوچا ہے کہ آج کل کی بنت حوا کے اندر یہ نفسیات کہاں سے آئی؟ایسا ماحول کس نے پیدا کیا؟ایسی فضا کیونکر ہموار ہوئی؟ ۔ کہتے ہیں کہ عورت ہی عورت کی سب سے بڑی دشمن ہوتی ہے؛ چنانچہ آج سے تیس برس قبل بھی عورت ایک دوسرے کی دشمن تھی اور آج بھی دشمن ہے ،بس فرق اتنا ہے کہ اینگل بدل گیاہے، پہلے ساس بہو پر حاوی ہوتی تھیں اور آج بہوئیں ساس پر حاوی ہوتی ہیں، بات دراصل یہ ہے کہ عورت خواہ وہ ماں اور بہن کی شکل میں ہو یا پھر ساس اور بہو کی روپ میں وہ ہر صورت میں انتہائی تنگ نظر واقع ہوئی ہیں،دوسروں کے حقوق تو انہیں بالکل یاد نہیں رہتے ؛لیکن جب کوئی دوسرا ان کے حقوق کی ادائیگی میں کچھ کمی بیشی کردے، تو یہ آسمان سر پر اٹھالیتی ہیں، ان کی زبانوں پر شکایتوں کے انبار لگ جاتے ہیں، ناشکری کی انتہا ہو جاتی ہے، ہمیشہ اپنی بیوی کے نان و نفقہ کا خیال رکھنے والا شوہر اگر ایک دفعہ بھی کسی مجبوری کی بناپر اہلیہ کی مانگ پوری نہیں کرپایا ،تو بیوی کی زبان قینچی کی طرح چلنے لگتی ہے کہ آپنے میری لیے پوری زندگی کیا کیا ہے، جو آج میری مانگ پوری کریں گے ، زندگی بھر تو آپ سے دکھ اور تکلیف ہی ملی ہے، کبھی آپ کے ساتھ چین کی زندگی نصیب نہیں ہوئی وغیرہ وغیرہ۔
اسی طرح اپنی ماں کا ایک فرمانبردار اور اطاعت گذاربیٹا اگر شادی کے بعد بیوی کو تھوڑی زیادہ توجہ دے دے، تو ماں طعنے دینا شروع کردیتی ہیں کہ ہاں ہاں اب تو تیری شادی ہوگئی نا! اب تو مجھے وقت کیوں دیگا، اب تو تمہارے لیے جو کچھ ہے ،وہ تمہاری بیوی ہے،اس سے بھی آگے بڑھ کر آس پڑوس کی عورتوں میں چہ میگوئیاں شروع ہو جاتی ہیں کہ اجی دیکھو کیا زمانہ آگیا ہے ،پڑوس کے لڑکے کی شادی کو ابھی چنددن گذرے نہیں کہ لڑکا ماں کی ہاتھوں سے نکل گیا۔ دوسری طرف یہی مائیں اپنے داماد سے یہ شکوہ رکھتی ہیں کہ وہ صرف اپنی ماں کا کہنا سنتے ہیں ،ان کی بیٹی یعنی اپنی بیوی پر بالکل توجہ نہیں دیتے،یعنی یہی عورت جب کسی کی بیوی ہوتی ہے، تو اپنے شوہر سے یہ خواہش رکھتی ہے کہ اس کی ساری توجہ میری ہی طرف ہو اور وہ اپنے ماں باپ بھائی بہن سے تعلقات کو بالکل سمیٹ کر بس میرے ہورہیں ،مطلب سادہ و آسان زبان میں کہوں ،تو جورو کا غلام بن کر رہیں، مگر جب یہ عورت بحیثیت ماں ہوتی ہے، تو سوچتی ہے کہ اس کا بیٹا ہمیشہ اسکے ماتحت رہے اور اسی کے حکم کے مطابق چلے اوراگر یہی عورت بہن ہوتی ہے ،تو اپنے بھائی سے یہ امید رکھتی ہے کہ وہ اپنی بیوی پر اسکو ترجیح دے، ان تمام صورتوں میں تنگ نظری پائی جاتی ہے ،جو کہ گھراور خاندان میں کسی بھی خلفشار و تنازع کا سبب بنتی ہے،اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ دو سگے بھائیوں کے درمیان عداوت کا بیج بونے اور جھگڑے کرانے میں زیادہ تر عورتوں(بیویوں) کا ہی ہاتھ ہوتا ہے، خونی رشتوں کے بیچ پھوٹ ڈالنے اور ایک اچھے خاصے گھر کو ٹکڑوں میں بانٹنے کے پیچھے بھی انہی عورتوں کا ہاتھ ہوتا ہے، نیز یہ سب اسی تنگ نظری اور چھوٹی سوچ کا نتیجہ ہوتا ہے، جس کا میں نے اوپر تذکرہ کیا۔
اب آئیے بات کرتے ہیں اس دبنگئی کی، جو پچھلے کچھ سالوں میں ساس سے بہو کی طرف شفٹ ہوئی ہے، مجھے یاد ہے کہ آج سے ایک ڈیڑھ دشک (دس پندرہ سال) قبل ٹی وی پر ایک سیریل آتا تھا ’’کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی‘‘چونکہ یہ سیریل ساس بہو اور نند وغیرہ کے جھگڑوں پر اسکرپٹیڈ تھی؛ اس لیے ینگ ایج کی لڑکیوں سے لے کر ادھیڑ عمر کی عورتوں تک تمام خواتین میں کافی پاپولر ہوئی تھی، اسے ہر حلقۂ خواتین میں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا تھا، ساس بہو کے جھگڑوں پر بیسڈ اس سیریل سے اکیسویں صدی کی نئی نویلی بہوؤں نے بہت کچھ سیکھا اور اسے اپنی سسرالی زندگی میں برتا۔
لیکن حقیقت میں ظلم و جبر نے ساس سے بہوکی طرف کروٹ اس وقت لینا شروع کیا، جب عورتوں نے بجائے اس کے کہ وہ خود کو ایک بہترین ساس بنا کر پیش کریں، بہوؤں کے لئے ایک مثالی ساس کا ایگزامپل سیٹ کریں اور انہیں اپنی بیٹیوں جیسا پیار دیںیا اپنی بیٹیوں کے ذہن و دماغ میں ساس کے تئیں مثبت سوچ کو داخل کریں، انہوں نے ساس کی ظلم سے نمٹنے کے لیے ان کے خلاف اپنی بیٹیوں کو ٹریننگ دینا شروع کردیا، چونکہ ظاہر ہے ساس بھی کبھی بہو تھی؛ اس لیے انھوں نے اپنے تلخ تجربات کی روشنی میں سوچا کہ ہم نے تو جو سہنا تھا سہ لیا؛ لیکن اب ہماری بیٹیاں یہ سب نہیں سہیں گی؛ چنانچہ گھروں میں بیٹیوں کو تمیز سکھانے کے بجاے ساس کو دنداں شکن جواب دینے کی ٹریننگ دی جانے لگی، اسے اعلی اخلاق کے زیورات سے آراستہ کرنے کے بجائے ساس پر حاوی ہونا سکھایا گیا، اسے بتایا گیا کہ کیسے ساس کی ایک بات کے جواب میں دس دس باتیں سنا دینی ہیں اور نند پر کس طرح کاؤنٹر اٹیک کرکے اسے خاموش کردینا ہے، بیٹیوں کو شوہروں کی اطاعت و فرمانبرداری اور اسکے حقوق کا پورا پاس و لحاظ رکھنے کا سبق یاد کرانے کے بجائے یہ تعلیم دی گئی کہ کس طرح شوہر کو اپنے اشاروں پر نچانا ہے، اسے اس بات سے آگاہ کیا گیا کہ خبردار اگر تم نے شادی کے بعد شروع ہی میں اپنے خاوند کو اپنے کنٹرول میں نہیں کیا، تو پھر تمہیں اسکی اور پورے گھر والوں کی نوکرانی بن کر رہناپڑے گا، اسے یہاں تک سمجھایا گیا کہ تمہارے شوہر کو ملنے والے تنخواہوں پر صرف اور صرف تمہارا حق ہے ،خبردار جو تمہاری ساس اور نند نے ان پیسوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا،وغیرہ وغیرہ۔
اب ،جبکہ ایک خالی الذہن لڑکی کے دل میں ساس سسر اور نند کے خلاف اس قدر نفرت کا زہر گھول دیاجائے گا، تو ہم اس لڑکی سے سسرال والوں پر پھول برسانے کی بیوقوفانہ امید کیسے لگا سکتے ہیں؟ اس گھر میں خوشگوار ماحول و فضا کی امید کیونکر رکھ سکتے ہیں؟ اور جس گھر کا ماحول خوشگوار و دوستانہ نہ ہو، اس گھر سے ایک بہترین نسل کے تیار ہونے کی توقع کیسے رکھ سکتے ہیں؟ ایسے گھروں کی عورتوں سے ہمیں محبت کا درس کیسے مل سکتا ہے؟
اس پورے ٹرننگ پوائنٹ پر نظر دوڑائیے اور بتائیے کہ اس پورے معاملے کا ذمہ دار کون ہے؟ کچھ استثنائی احوال(Exceptions) کو چھوڑ کر شاید آپ کا جواب یہی ہوگا کہ خود عورت ہی عورت کی مظلومیت کی ذمے دارہے۔کاش کہ اپنی بچیوں کے ذہنوں میں منفی سوچ انڈیلنے سے قبل ماؤں نے یہ سوچ لیا ہوتا کہ شادی کے بعد صرف اس کی بیٹی کسی پرائے گھر نہیں جائے گی؛بلکہ پرائے گھر کی بیٹی بھی اس کے گھر آئے گی، تو آج انہیں نئی نویلی بہوؤں سے خوفزدہ نہیں رہنا پڑتا، اگر انھوں نے خود اپنی بیٹی کی تربیت کی ہوتی،توبہوؤں کے انتخاب سے قبل اتنا سوچنا نہ پڑتا !

سمجھا ہے کون وقت کی رفتارکا مزاج!

سیدہ مہرافشاں
ہمارے بڑے مسائل میں ایک مسئلہ مناسب عمر پر لڑکوں اورلڑکیوں کی شادی اور خوشگوار گھریلو زندگی کا بھی ہے۔بہت ساری پیچیدگیاں خود ہماری اپنی پیداکی ہوئی ہیں؛ اس لیے جب رشتہ آتا ہے، توکچھ زیادہ ہی توقعات ہمیں گھیر لتی ہیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں پررشتوں کو ٹھکرادیتے ہیں ۔ آپ اپنے چاروں طرف نظر ڈال کر دیکھیے، بہت سی شریف بیٹیاں نظرآئیں گی، جن کی عمر یں شباب کی منزلوں سے گزرکراب ڈھلان پر ہیں، مگربغیرشادی کے بیٹھی ہیں۔ اگرہمارا نظریہ درست ہو اورطرفین دنیا دکھاوے کے لبادے کو اتار کر حقیقت پسندی اور سمجھداری سے کام لیں،تواس طرح کی دشواریوں پر قابو پایا جاسکتا ہے اورمناسب عمر میں شادیوں سے فارغ ہوا جاسکتا ہے۔
ہمارا مزاج یہ ہوگیا ہے کہ رشتہ طے کرنے کے لیے لڑکے اورلڑکی کو نہیں، ان کے مال و دولت،گھر، گاڑی اور کاروبارپر ہی نظررہتی ہے۔ حالانکہ اللہ کے محبوب رسول صلی اللہ علیم وسلم نے فرمایا ، ’’جب تمہارے پاس شادی کا پیغام کوئی ایسا شخص لائے، جو تمہاری نظرمیں دینداراوراچھے اخلاق کا ہو تو اس سے شادی کردو۔ اگرتم ایسا نہ کروگے، تو مسلم معاشرہ فتنہ اورفساد میں مبتلا ہوجائے گا۔‘‘(ترمذی)
اسی طرح کی رہنمائی ہمارے رسولؓ نے بیوی کے انتخاب کے لیے بھی فرمائی ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا، ’’ عورت سے چارچیزوں کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے۔ اس کے مال ؛اس کے حسن وجمال، اس کے اونچے خاندان اور اس کے دیندارہونے کی وجہ سے۔ لیکن تم دیندارعورت سے نکاح کرو۔‘‘ (بخاری)۔
ہمارے خاندان کے ایک بزرگ نے نصیحت کی تھی کہ لڑکی کے رشتے میں یہ دیکھو کہ لڑکا دیندارہے، خاندان میں شرافت ہے،اخلاق اچھے ہیں، کسی عیب میں تونہیں،صحت ٹھیک ہے اورجائز کمانے والاہے۔ دولت مت دیکھو، کمانے والاہوگا،تو بیوی بچو ں کو پال پوس لے گا۔ دولت مندہے،مگرعیبوں میں پڑا ہے توساری دولت کو اڑادے گا اوربیوی کو دکھ دیگا۔
لیکن ہم ان زریں اصولوں کوبالائے طاق رکھ کر فیصلے کرلیتے ہیں۔اپنے نفس کی بیجا خواہشات کو پورا کرتے کرتے ہم کتنی دورنکل گئے کہ احساس ہی نہیں ہوتا۔ ہمارا معاشرہ جن پریشانیوں سے گزررہا ہے ، وہ ہماری اپنی ناسمجھی کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ لڑکی چاہے کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو، مگرماں کو داماد وہ چاہیے، جو بیٹی کو الگ گھر میں رکھ سکے۔اس کو روٹی نہ پکانی پڑے اورسونے میں خلل نہ پڑے۔ اورکہنا ہے کہ ہماری بیٹی نے توپڑھائی میں ہی سارا وقت گزاردیا، کھانا پکانے کا تو وقت ہی نہیں ملا۔ اب اللہ کا شکرہے وہ نوکری کر رہی ہے، گھرکاکام کیوں کرےگی؟ داماد کے پاس الگ گھرہو، بنک بیلنس ہو، گاڑی ہو، سیر تفریح کا وقت ہو،لڑکی کے کہے پر چلنے والا ہو، کل ملاکر ساری خوبیوں کا مالک شہزادہ ہو۔ ان حالات میں کیوں نہ بیٹیاں کنواری بیٹھی رہیں گی۔
اورجہاں لڑکے والے بھی ذرا سنبھلے ہوئے ہیں، ان کی بھی فرمائشوں کا انبارلگا ہوتا ہے۔ لڑکی پتلی، لمبی ہو، گوری ہو، خوبصورت ہو، گھرکا کام کاج بھی آتا ہو۔ جہیز دیں یا نہ دیں، ہمارے مہمانوں کی خاطرتواضع اچھی کردیں۔ تعداد، دوسو، ڈھائی سو اوراس سے بھی زیادہ۔ بیٹے کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے، بس بائک نہیں اورہماری کوئی فرمائش نہیں۔ استغفراللہ۔ نکا ح کی سنت ادا نہ ہوئی؛ بلکہ بیٹی اوربیٹے کا سودا طے ہوگیا۔
عشق رسول صلعم کا دم بھرنے والے کیوں بھول گئے یہ سنت کہ بی بی فاطمہؓ کا نکاح مسجدمیں کیاگیا تھا ۔ اورکیاتھا حضرت علیؓ کے پاس،جس سے مہراورولیمہ کا بندوبست ہواتھا؟سبحان اللہ کیسی برکتیں تھیں نکاح میں اورکیسا سکون میسر تھا۔ کنواری توکنواری، بیوہ اورطلاق شدہ کے نکاح بھی آسانی سے ہوجاتے تھے؛ کیونکہ اسلام نے نکاح کو آسان کیااوربیٹیوں کو زحمت نہیں، رحمت بتایاہے۔اللہ نے اپنے بندوں کے لیے اتنی آسانیاں پیداکی ہیں اگران پر نگاہ ڈالیں تو پتہ چلے گا کہ انسان کو ہرطرح کی غلامی سے نکال کرایک کھلے ماحول میں لادیا ہے جس کی فضا میں انسان چین سے سانس لے سکے۔یہاں تک کہ ہرتعلیم کورسول صلعم نے عملی شکل میں ہمیں دکھا دیا ہے۔ یہ باتیں سیرت رسول ؐمیں موجود ہیں، جس کا ہر ایک لفظ تاریخی ہے۔
جہاں تک تعلیم اورترقی کا سوال ہے، تو ام المومنین حضرت عائشہؓ کو تقریبا نصف صدی تک علم دین کی خدمت کا موقع ملا۔ لیکن افسوس کہ آج ہمارے اندر اس جذبہ کی کمی نظرآتی ہے۔ وہ آزادی اورخودمختاری کے پیچھے ایسے بھاگی جارہی ہیں، اسلامی قدریں بھی کم ترلگنے لگی ہیں۔ وہ اسلام کے رہنما اصولوں کو بالائے طاق رکھ کرایسے راستے پر جارہی ہیں جو معاشرے کو تباہ کرنے والا ہے۔ ہمیں غورکرنا ہے کہ معاشرہ ہم سے ہے ، ہم معاشرے سے نہیں۔ جو سب مل کر بورہے ہیں وہی کاٹ بھی رہے ہیں۔ ہرکوئی اسی میں گرفتار ہے۔تعلیم بہت اہم ہے ۔ مگر اسی کے ساتھ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی عمرپر بھی توجہ کرنا ضروری ہے۔ایسا نہ ہو کہ عمربڑھتی جائے اورفطری تقاضوں کی تکمیل کے جائزراستوں میں رکاوٹیں کھڑی رہیں اوران کے ذہنوں سے حلال اورحرام کا شعور ہی جاتا رہے اوروہ کوئی غلطی کربیٹھیں۔ ہمارے بچے کب عمر کے اس پڑاؤ پر پہنچ جائیں کہ گھرہی نہ بساسکیں یا پھرکئی کمیوں کے ساتھ سمجھوتہ کرنا پڑے۔ اس کی جوابدہی دنیا اورآخرت میں والدین کی ہے۔
یہ بات بارباردہرائی جاتی ہے کہ ہمارے دین نے نکاح کو آسان بنایا،جسے ہم نے فضول خرچی کا موقع بنادیا اورایسا ماحول بن گیا کہ ہرشخص اپنی گنجائش سے باہرنکل کر ادھار قرض لے کر یا زمین جائداد فروخت کرکے ، حتٰی کے مانگ کر مانگ کر فضول خرچی پر،دان جہیز اوردکھاوے پرلٹادیتا ہے۔ یاد رکھئے قیامت کی نشانیوں میں یہ نشانیاں بھی ہیں کہ نکاح کو مشکل بنادیا اور رشتہ توڑنے اورطلاق کو آسان کرلیا۔قرآن نے طلاق کو حلال ہونے کے باوجوداس کے لیے مرحلہ وارطریقہ مقرر کیا۔یہ اس لیے کیا؛ تاکہ انسان باربار غورکرے۔ طلاق کی غلطی سے بچے جو زمین اورآسمان کو ہلادیتی ہے۔ مگراس وقت معاشرے میں دونوں کام کثرت سے ہورہے ہیں۔ نکاح کے لئے لڑکیاں گھرگھربیٹھی ہوئی ہیں۔عام طورسے لڑکیاں تعلیم یافتہ ہوگئی ہیں اورلڑکے پھسڈی ہوگئے ہیں؛اس لیے جوڑ کے رشتے نہیں ملتے۔ جہاں رشتے ہیں بھی وہاں فرمائشیں اتنی زیادہ ہیں کہ لڑکے بیٹھے ہوئے ہیں۔
طلاق کا تونام بھی سماج میں بڑابراسمجھا جاتا تھا، مگر اب ذراذرا سی ناچاقی پر والدین خود اپنی بیٹیوں کو طلاق دلواتے نہیں شرماتے۔جس میں عام طورسے لڑکی کی ماں کا بڑاہاتھ ہوتا ہے۔ لڑکیا ں ناتجربہ کار اورناسمجھ ہوتی ہیں۔ذراسی بات میں بددل ہوجاتی ہیں۔ پہلے گھرخاندان کے بڑے معاملات کو سنبھالیا کرتے تھے، اب ان کو بگاڑنے میں رول زیادہ ہونے لگا ہے۔ ماں کی اندھی محبت بیٹی کا گھربگاڑدیتی ہے۔ سسرال کی چھوٹی چھوٹی باتیں جو وقتی ہوتی ہیں، ماں کو بتاتی ہیں اورماں بیٹی کوسمجھانے بجھانے کے بجائے ٹکراؤ کا مشورہ دیتی ہیں۔ماحول کوخراب کرنے کے لئے ان کا غلط مشورہ کافی ہوتا ہے۔ اور چھوٹی باتیں وقت کے ساتھ اس درجہ کو پہنچ جاتی ہیں کہ نوبت طلاق اورعلیحدگی تک پہنچ جاتی ہے۔ گھرگھر میں یہی کہانی چل رہی ہے۔جس کو ہم عورتیں ماحول پر ڈال دیتی ہیں اپنی کمیوں کو نہیں دیکھتیں۔
سمجھا ہے کون وقت کی رفتار کا مزاج
لمحوں میں کٹ گئیں صدیاں شباب کی
Celll/WhatsApp-9810380879

12 برس ہی کیوں؟

ڈاکٹررضی الاسلام ندوی
ہندوستانی حکومت کی مرکزی کابینہ کے ذریعے پیش کردہ اس آرڈیننس کو صدر جمہوریہ نے منظوری دے دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 12 برس سے کم عمر کی بچی سے عصمت دری کرنے والے مجرم کو موت کی سزا دی جائے گی،اس طرح اب یہ قانون بن گیا ہےـ
گزشتہ دنوں کٹھوا (جمّوں) ،اُنّاو (اترپردیش) اور ملک کے دیگر مقامات پر چھوٹی بچیوں سے عصمت دری کے متعدّد شرم ناک واقعات پیش آئے ، جن پر ملک کے تمام طبقات کی طرف سے شدید ردّعمل سامنے آیا؛چنانچہ اس سے مجبور ہوکر حکومت کو یہ قانون بنانا پڑاہے، اس سلسلے میں ایک قانون ‘پروسکو ایکٹ’ کے نام سے پہلے سے موجود تھا؛ لیکن اس میں سزائے موت کا آپشن نہیں تھا،اب حکومت نے اس میں ترمیم کرکے سزائے موت کو شامل کیا ہےـ
عصمت دری کی روک تھام کے لیے اسلام کا قانون دوٹوک ہے،وہ ایسے مجرم کے ساتھ کسی طرح کی ہم دردی کا روادار نہیں ہے،وہ اس کے لیے عبرت ناک سزا تجویز کرتا ہے، اسی وجہ سے جب ملک کے اطراف میں پے در پے عصمت دری کے واقعات پیش آئے،تو ملک کے بعض ایسے لیڈروں کی طرف سے بھی ،جو مسلمانوں کے خلاف شر انگیزی میں معروف تھے ،ایسا بیان سامنے آیا کہ اسلامی قانون کو نافذ کرکے ہی عصمت دری کے واقعات پر روک لگائی جا سکتی ہے ـ
ملک کے نئے قانون کا ہم استقبال کرتے ہیں،معصوم کلیوں کو بے دردی سے مَسلنے اور ان کی عصمت کو پامال کرنے والوں کو عبرت ناک سزا ملنی ہی چاہیے؛ لیکن اس کے ساتھ ہی ہم یہ بھی کہنا چاہتے ہیں کہ 12 برس کی قید کیوں؟ عصمت دری ایک بھیانک جرم ہے ،چاہے وہ کسی نابالغ بچی کی کی جائے یا کسی بالغ دوشیزہ کی، 12 برس سے بڑی لڑکی کی عصمت بھی اتنی ہی محترم ہے،جتنی 12 برس سے کم عمر کی بچی کی؛ اس لیے کسی درندے کو اس سے کھلواڑ کی اجازت نہیں دی جا سکتی،وہ بھی عبرت ناک سزا کا مستحق ہےـ
تحفّظِ عصمت کے معاملے میں اسلام کا کردار بڑا مثالی اور انقلابی ہے،زنا چاہے بالجبر ہو یا بالرضا ،اس کے نزدیک ہر حال میں جرم ہے،رضامندی سے زنا کا ارتکاب کرنے والے مرد و عورت بھی اس کے نزدیک مجرم ہیں؛ اس لیے کہ وہ سماج کی پاکیزگی کو گدلا کرتے ہیں ، عفت و اخلاق کو پامال کرتے ہیں اور خیانت کا ارتکاب کرتے ہیں ـ
اسلام کے نظامِ تعزیر و سزا کا ایک پہلو عموماً لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل رہتا ہے؛اس لیے وہ اسلامی سزاؤں کی حکمتوں کو سمجھ نہیں پاتے اور اس پر بے جا اعتراض کرتے ہیں،جرائم کی روک تھام کے لئے عبرت ناک سزا اسلام کے نزدیک آخری چارہ کار ہے،اس سے پہلے وہ متعدد اقدامات کرتا ہے،وہ ہر فرد کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے ڈراتا ہے ،اس کے دل میں آخرت کا خوف پیدا کرتا ہے ، یہ احساس بیدار کرتا ہے کہ کوئی جرم انسانوں کی نگاہوں سے چھپ کر کیا جائے،تو بھی اللہ دیکھ رہا ہے اور اس کے کارندے نوٹ کر رہے ہیں ، سماج کو پاکیزہ رکھنے کے لیے وہ سخت ہدایات دیتا ہے ،شراب پر پابندی عائد کرتا ہے ، عریانی اور بے حیائی پر قدغن لگاتا ہے ، بے پردگی ،اجنبی مرد و عورت کے درمیان خلوت اور اختلاط کو حرام قرار دیتا ہے ، لڑکے اور لڑکی کے بالغ ہونے کے بعد ان کے نکاح جلد کردینے کی ترغیب دیتا ہے ،نکاح کو آسان اور سستا بنانے کی فضیلت بیان کرتا ہے ، کسی بھی مرد یا عورت کو ، چاہے وہ عمر کے جس مرحلے میں بھی ہو ، بغیر نکاح کے زندگی گزارنے کو ناپسندیدہ قرار دیتا ہے،ایسا ماحول فراہم کرنے کے بعد بھی اگر کوئی شخص بدکاری کی طرف مائل ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے اخلاق بالکل فاسد اور اس کی فطرت بالکل مسخ ہوگئی ہے، وہ ایک سڑا ہوا عضو ہے؛اس لیے اسے صحت مند سماج کے جسم سے کاٹ کر پھینک دینا ہی بہتر ہے ـ
جو لوگ سمجھتے ہیں کہ محض سخت ترین قوانین کے نفاذ سے عصمت دری کے واقعات بند ہوجائیں گے وہ خام خیالی میں مبتلا ہیں، پہلے سماج کو پاکیزہ بنانے کی تدابیر اختیار کیجیے ،اس کے بعد جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو سزا دیجیے ، تبھی جرائم پر قابو پایا جا سکے گاـ

شادی: مناسب وقت، ذاتی آزادی اور Out Of The Box بولڈ فیصلے

سحرش عثمان
جو میں نے چھیڑا ہے راگ ناقد وہ راگ بے وقت کا نہیں ہے
عمر کے اس حصے سے گزر رہے ہیں جہاں ہر دوسرے دن کسی دوست کا پیغام موصول ہوتا کہ “عمر قید” ہو رہی،مبارک باد دیتے ہوئے دل خوشی اور عجیب اداسی کا آماجگاہ بنا ہوتا ہے۔
خوشی اس بات کی کہ میرے دوست ٹھکانے لگ رہے ہیں، زندگی کے نئے پڑاؤ کی طرف گامزن ہو رہے ہیں،عرف عام میں یوں کہ سیٹل ہورہے ہیں اور اداسی یہ کہ دوستوں کو نمک کی کان میں نمک ہوتا دیکھنا پڑتا ہے۔
ویسے تو اللہ کا ہر ہر بات پر بے پناہ شکر بنتا ہے؛لیکن اس بات پر یقینا ہمارا مشکور ہونا ناگزیر ہے کہ زیادہ تر دوست “نارمل” ہی ہیں،خوشی کی بات پر خوش ہی ہوتے ہیں؛لیکن جنس با جنس پرواز کا مظاہرہ بھی تو ہونا ہی تھا نا۔
لہذا کچھ دوست ہم سے بھی ہیں،تھوڑے پاگل،تھوڑے فسادی، بہت عجیب اور مستقل اداس پلس ناراض۔
ایسی ہی ایک دوست سے مفصل گفتگو کے بعد یہ تحریر لکھنے کی تحریک ملی۔
تو ہم سی ہی اس دوست کا مسئلہ یہ ہے کہ انہیں سپیس چاہیے،پرسنل فریڈم کی گارنٹی چاہیے ہر رشتے میں اور پورا ہیومن سٹیٹس چاہیے ہر تعلق سے۔
آسان زبان میں کہا جائے تو خاتون کو شادی سسٹم میں موجود مسائل نئی زندگی شروع کرنے سے ڈراتے ہیں،دو دن دو راتیں ہم نے بستر پر چت لیٹ کر آسمان، ہمارا مطلب ہے چھت کو گھور گھور کر غور کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس موضوع پر اب اگر نہ لکھا تو بہت بڑا اَپ شگن ہوجائے گااور ٹیپکل پاکستانی کی طرح ہم بھی اَپ شگن سے بہت ڈرتے ہیں۔
خیرپیاری سہیلی اور سہیلیو! سیانے کہتے ہیں کہ شادی کے لیے پرفیکٹ ٹائم اور پرفیکٹ جوڑ کبھی میسر نہیں ہوتا،خود ہی کمپرومائز کر ٹھوک بجا کر صحیح کرنا پڑتا ہے میسر وقت بھی اور سپاؤز بھی(یاد رہے یہ سپاؤز ہے سپوز نہیں) ایک ہی نکتے سے محرم مجرم بھی بن جایا کرتےہیں۔
بالکل ایسے ہی ہم نے بہت ساری چھوٹی چھوٹی باتیں اکھٹی کر کے اپنی زندگیاں اتنی مشکل کر لی ہیں کہ اب آسانی ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔
گلزار کے الفاظ میں کہا جائے تو یوں کہ:
ہاتھ الجھے ہوئے ریشم میں پھنسا بیٹھے ہیں
اب سمجھ نہیں آتا کہاں سے شروع کیا جائے کونسا دھاگہ کھینچا جائے کہ یہ ریشم سلجھ جائے ٹوٹنے سے پہلے؛ کیونکہ دھاگہ توڑ دینا تو کوئی حل نہ ہوا،ٹوٹے ہوئے سرے کہاں کہاسے جوڑیں گے ہم؟
ہم سی بہت سی لڑکیاں جو یہ سمجھتی اور برملا کہتی ہیں کہ شادی ان کا مسئلہ نہیں ہے۔ اور وہ “آؤٹ آف دی باکس” سوچتے ہوئے اکیلے رہنے کا فیصلہ کرنا چاہتی ہیں،تو ان سب کی خدمت میں عرض کرنا چاہتی ہوں کہ آؤٹ آف دی باکس سوچنے کا مطلب فطرت انسٹنکٹ سے فرار نہیں ہوتا،اکیلے رہنے کا فیصلہ نئے تعلقات بنانے سے خوفزدہ ہونا اور اپنی پرسنل فریڈم کے کھو جانے کا خوف بولڈ فیصلہ نہیں کہلاتا۔
مضبوط اور بولڈ فیصلے وہ ہوتے ہیں جب آپ اپنی ذات کے ساتھ وابستہ دوسرے لوگوں کی آسانی خوشی کے لیے کچھ آزادیاں خوشی سے سرنڈر کرتے ہیں، بڑا ہی روایتی سا جملہ ہوگیا ہے، پر کیا کریں یہ ہی سوسائٹی کو چلانے کے اصول ہیں،کو ایگزسٹنس،امدادِباہمی۔
اب آتے ہیں پرسنل فریڈم پر،تو ایسا ہے کہ پرسنل فریڈم سا شعور ہمارے معاشرے میں ابھی خواب ہے،خوابِ نا تمام،جس کی تعبیر تراشنے کے لیے ہمیں نسلوں کی تربیت کرنا پڑے گی، ہمیں اپنی بیٹیوں کو سکھانا پڑے گا، سپیس دینے سے شوہر کسی اور کا نہیں ہوجاتا، ہمیں اپنے بیٹوں کو عورت کو پورے فرد کا سٹیٹس دینا سکھانا پڑے گا،
ہمیں اپنے بچوں کو حق اختیار، فرائض لینے دینے کے ساتھ آزادیوں کا احترام سکھانا پڑے گا،اس کے بغیر تو یہ ممکن نہیں کہ صدیوں سے رواجوں کے عفریتوں کے چنگل میں پھنسا یہ سماج پرسنل فریڈم کو تسلیم کرلے۔
سماج میں کوئی بھی تبدیلی اچانک تو رونما نہیں ہوجاتی، سالوں دھیمی آنچ پر سلگتے مسائل کا لاوا پھٹ پڑتا ہے تو راہ ملتی ہے،پر اس پھٹنے والے لاوا کا بہاؤ کبھی کبھار سماج کو بھی بہا لے جاتا ہے ساتھ اور سماج کا ٹوٹنا تو ہمارے تمہارے کسی کے فائدے میں نہیں ہے نا، چاہے ہم مانیں یا نہیں؛ لیکن میں اور تم بھی اسی سماج کے سٹیک ہولڈرز ہیں،باقی سب کی طرح۔ تو اگر اس سماج کو مزید ٹوٹ پھوٹ سے بچانا ہے،اسے نئے وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے،تو ایفرٹ کرنا پڑے گی، بہاؤ کے خلاف تیرنا پڑے گا، یہ ہی ہیروک فگر کی نشانی ہے،
دریا سے باہر چلے جانا تو کوئی ہیرو شپ نہ ہوئی،فراز کہتا ہے نا:
شکوۂ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلانے جاتے
اور ایک اور نکتہ سن لو!
آپ یا کوئی بھی شخص ایک خاص حد تک اکیلا رہ سکتا ہے،
خواتین کے معاملے میں اگر زیادہ متعین طور پہ ہو جایا جائے، تو پیاری خواتین ایک خاص عمر تک ہی اکیلے رہ سکتی ہیں آپ، اب اس خاص عمر سے کوئی طبعی عمر مراد لے تو اس کی اپنی مرضی، ہمارا اشارہ طبعی عمر کی طرف ہے۔
آپ صوفی کے درجے پر بھی فائز ہیں،تو بھی فزیکل نیڈز سے انکار نہیں کرسکتے،چاہے آپ کا تعلق کسی بھی جنس سے ہو،رب کا کہہ لو یا فزیکل سائنس کا کہہ لو؛لیکن نظام بہرحال یہی ہے،ہر ذی روح ہمدم کا محتاج ہے، جو نہیں ہے وہ نارمل نہیں:
مرے جہاں میں سمن زار ڈھونڈنے والے
یہاں بہار نہیں آتشیں بگولے ہیں
(بہ شکریہ daanish.pk)

جنسی بے راہ روی، انسانیت کے لیے خطرہ

ڈاکٹر محمد اسلم مبارک پوری
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ خلاق عالم نے ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق فرماکر ان کی قلبی اطمینان ، دلی سکون اور زندگی کی صعوبتوں اور پریشانیوں کو فرحت ومسرت اور مؤدت ورحمت سے تبدیل کرنے کے لیے حضرت حوا علیہا السلام کو صفحہ ہستی پر وجود بخشا اور انہی دونوں کے ذریعہ نسل انسانی کو کرہ ارض پر پھیلایا۔ اس کائنات میں بسنے والے ہر چیز پر رب قدیر کا یہ عظیم ترین احسان ہے کہ اس نے اسے جوڑا جوڑا بنایا۔ مردو عورت کوبھی آپس میں جوڑاجوڑا پیدا کیااور ایک دوسرے کے لیے ان میں کشش اور لگاؤ ودیعت کردی۔باہمی الفت ومحبت ، مؤدت ورحمت اور سکون واطمینان کی دل کش حویلی تعمیر کی اور دل کے نہاں خانہ میں شفقت وہم دردی کا حسین گلدستہ سجایا۔عورت کو حسن وجمال ، صبر وتحمل ، شرم وحیااور عفت وعصمت کا پیکر بنایا۔اللہ سبحانہ وتعالی کافرمان ہے: (وَمِنْ آیَاتِہِ أَنْ خَلَقَ لَکُم مِّنْ أَنفُسِکُمْ أَزْوَاجاً لِّتَسْکُنُوا إِلَیْْہَا وَجَعَلَ بَیْْنَکُم مَّوَدَّۃً وَرَحْمَۃً إِنَّ فِیْ ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِّقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ)(الروم: ۲۱)اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہاری ہی جنس سے جوڑے (بیویاں) بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون پاؤاور تمہارے درمیان محبت ورحمت پیدا کی ۔ بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو غور وفکر کرتے ہیں۔
حقیقت میں یہ اللہ رب جلیل ہی کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ جن دو مرد وعورت میں کبھی ملاقات اور کوئی رشتہ داری نہیں ہوتی ، باہم نکاح سے ان کے دلوں میں قرب واتصال کی بنا پر ایک دوسرے کے لیے محبت موجزن ہوتی ہے اور رحمت وہمدردی کے سوتے پھوٹ پڑتے ہیں اور ایک دوسرے پر جاں نثار کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں ۔ ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’ لم یُر للمتحابین مثل النکاح ‘‘ (سنن ابن ماجہ ۱۹۲۰، زوائد ابن ماجہ(ص: ۲۶۳)میں ہے : ھذا اسناد صحیح ، رجالہ ثقات یہ سند صحیح ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔امام البانی رحمہ اللہ نے سلسلہ احادیث صحیحہ (۶۲۵) اورصحیح الجامع (۲۸۷۷)میں صحیح کہا ہے )رشتۂ نکاح کے ذریعہ اللہ تعالی میاں اور بیوی کے مابین قلبی محبت پیدا کر دیتا ہے اس لیے آ پس میں زوجین کی طرح بے پناہ محبت کرنے والی جوڑی دیکھی نہیں گئی۔
انسانی معاشرہ کا امتداد اور اس کی بقا نکاح جیسے مقدس رشتہ سے قائم ہے۔یہ انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت ہے اور انسان کی فطری حاجت ہے ۔ اسی سے کنبہ اور خاندان کا وجود ہے۔یہی انسانی رشتوں کی اساس ہے ۔حسن وشباب کی ناز برداری اور چاہتوں کے اظہار وتکمیل کا جائز ذریعہ ہے۔
اسلام ایک دین فطرت ہے ۔ جس طرح اس نے نکاح کے حدود وآداب متعین کیے ہیں اسی طرح جنسی ضروریات کے حدود وآداب اور اس کی تکمیل کے جائز ذرائع بھی متعین کیے ہیں۔اللہ سبحانہ وتعالی نے جنسی ضروریات کی جائز تکمیل کو مومن کی فلاح وکامیابی کا ایک اہم ذریعہ شمار کیا ہے۔ ارشادربانی ہے: (وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِفُرُوجِہِمْ حَافِظُونَ * إِلَّا عَلَی أَزْوَاجِہِمْ أوْ مَا مَلَکَتْ أَیْْمَانُہُمْ فَإِنَّہُمْ غَیْْرُ مَلُومِیْنَ * فَمَنِ ابْتَغَی وَرَاء ذَلِکَ فَأُوْلَءِکَ ہُمُ الْعَادُونَ)(المومنون: ۵۔۷) اور (وہ مومنین بھی کامیاب ہیں )جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں اور اپنی بیویوں اور لونڈیوں سے( اپنی خواہش پوری کرتے ہیں )وہ لائق ملامت نہیں۔ جو کوئی ان دو کے سوا دیگر ذرائع سے اپنی خواہش پوری کرے گا اور کوئی دوسراراستہ اختیار کرے گا تو وہی لوگ حد سے تجاوزکرنے والے ہیں ۔
یہاں پر قابل توجہ یہ بات ہے کہ اللہ تعالی نے بندے کی فلاح وکامرانی کو شرم گاہ کی حفاظت کے ساتھ مشروط کر دیا ہے اور اس کی غایت درجہ اہمیت ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جو اپنی شرم گاہ کی حفاظت نہیں کرے گا اور جنسی بے راہ روی کی راہ پر گامزن رہے گاتووہ فلاح نہیں پائے گا، بلکہ وہ قابل ملامت ہوگا۔ عفت وپاک دامنی اور حشمت وعصمت کی شدید اہمیت کے پیش نظر ہی اللہ تعالی نے عورتوں کو پردہ کرنے اور مومنوں کو نگاہیں نیچی رکھنے اور شرم گاہ کی حفاظت کا حکم دیا ہے اور جنسی بے راہ روی ، فحاشی اور بے حیائی کو فروغ دینے والے فتنے سے بچنے کی اشدتاکید کی ہے ۔
اسلام نے اپنی اخلاقی تعلیمات کے ضمن میں کردار کی بلندی اور فکر وعمل کی پاکیزگی پر بے حد زوردیا ہے ۔رب ذو الجلال نے انسانی ذہن وطبیعت کے مختلف رجحانات کو دیکھتے ہوئے اس کے اندر پائی جانے والے جنسی میلان ورجحان کو صحیح راہ پر لگانے کے لیے مختلف طرح کے احکام وضوابط وضع کیے ہیں تاکہ فرد کی تطہیر وتزکیہ کے ساتھ معاشرہ کو بھی اخلاقی بلندی اور عفت وپارسائی کا پیکراورنمونہ بنایا جا سکے۔
اس حقیقت میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ اللہ رب العالمین نے جس کو جس فطرت پر پیدا کیا ہے وہی اس کے لیے بہتر ہے کیونکہ وہی خالق ،وہی مالک ،وہی مدبر اور حکمت والا ہے۔ وہی جانتا ہے کہ کس کا قیام گھر کی چہار دیواری میں مناسب ہے اور کس کا باہری جھمیلوں اور ذمہ داریوں میں بہتر ہے۔ اگر کوئی اللہ کی مقررہ کردہ فطرت کے خلاف عمل کرے گا اور اس سے اعراض کرتے ہوئے اعلان جنگ کرے گا تو کبھی بھی وہ اپنے ارادہ میں کامیاب اور اپنے مقصد میں کامراں نہ ہوگا، بلکہ اس کو ذلت ورسوائی کا سامناکرنا پڑے گا ،کیونکہ فرمان باری تعالی ہے: ( فِطْرَۃَ اللّٰہِ الّتَیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَا لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ ذلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَلکِنَّ أکْثَرَ النّٰاسِ لَایَعْلَمُوْنَ)(الروم : ۳۰)
عزت و آبرو کا تحفظ اور بے حیائی اور بد اخلاقی سے اجتناب اسلام کے اولین اوراہم مقاصد میں داخل ہے ۔ اس نے جنسی سکون کی تکمیل کو باعث اجر وثواب قرار دیا اور عزت وآبرو اور عصمت وعفت کی تحفظ کی راہ میں مرنے والے مسلمان کو شہادت کی بشارت دیا ۔ کسی کی عزت وآبرو کو اگر کسی نے بے جا طور پر نشانہ بنایا ہے اور اس پرافک و بہتان باندھا تو اس کے لیے باقاعدہ کوڑوں کی سزا مقرر کی،کیونکہ جنسی بے راہ روی اسلام کو کسی طرح گوارہ نہیں ہے۔
عفت وعصمت کی تحفظ کے لیے اسلام نے عورتوں کو پابند کیا ہے کہ اگر وہ ضرورت سے باہر نکلیں تو مردوں کے ساتھ اختلاط سے بچیں اور سفر کرنا ہو تو محرم کے ساتھ ہی سفر کریں۔بغیر محرم کے سفر کرنے میں اس کی عزت وآبرو کے لیے خطرہ ہے۔
علامہ ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ نے اختلاط کی برائیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ عورتوں کا مردوں کے ساتھ اختلاط ہر برائی ومصیبت کی جڑ ہے ۔ اس سے عام عذاب نازل ہوتا ہے اورزنااور فواحش کی کثرت ہوتی ہے ۔ عمومی طور پر لوگ موت کا شکار ہوتے ہیں۔ بد کار عورتوں کے باعث حضرت موسی کے لشکر میں بد کاری پھیل گئی تو اللہ تعالی نے انہیں طاعون میں مبتلا کردیا جس کے نتیجے میں ایک دن میں ستر ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے۔
لیکن افسوس کہ ہماری ماؤوں اور بہنوں کو عفت وعصمت پر مبنی اسلام کے قوانین فرسودہ اور غیر مفید نظر آنے لگے ہیں اور آزادی نسواں ، حقوق نسواں،مخلوط تعلیم اور مساوات مرد وزن کا نعرہ لگانے والوں کا ساتھ دیا ہے اور اپنے ہی پیروں پر کلہاڑی مار کراپنی زندگی اجیرن کرلی ہے اور اپنے دائرہ عمل کوچھوڑ کر آفسوں،دفتروں ،ہوٹلوں، میلوں ، پارکوں، کلبوں ، فلمی محفلوں،سینما ہالوں،ڈانس پارٹیوں اور آر کے ایکسٹراکی محفلوں کی زینت بن گئی۔ اسے جی جان سے اپنایا اور گلے لگایا اور ان پر فریب نعروں سے ان درندہ صفت انسانی بھیڑیوں نے ہر گام اور ہر منزل پران کا استحصال کیا اور من چاہے طریقے سے انہیں استعمال کیا،لیکن صنف اناث نے ترقی ، جدت طرازی اور جدت پسندی کہہ کر اس سے اپنا دل بہلایا اور مغربی تہذیب وثقافت کو اپنے گلے کا قلادہ بنایا ۔حالانکہ اسلام نے ان کی ذاتی تشخص کو مد نظر رکھتے ہوئے انہیں ناموس وعزت اورحفاظت وعصمت کی خوش کن چادر میں لپیٹ کران کے حقوق کی حفاظت کی اور دو پیروں والے وحشی درندہ صفت انسانوں کے دام فریب سے بچا یا ، لیکن افسوس کہ بنات حوا نے اسلام کی شیتل چھاؤوں میں رہنے کو پابند سلاسل اور قید وبند سمجھا اور اس کی حدوں کو تجاوز کرکے غیر اقوام کے مانند شتر بے مہار کی طرح گھومنا پھرنا چاہا۔
آج ہر جگہ (خواہ سرکاری ہو یا غیر سرکاری)جنسی بے راہ روی کے اڈے اور وسائل پائے جاتے ہیں ۔ ہم جنس پرستی ، خود لذتی، امرد پرستی،لواطت ،جنسی اباحیت، فحاشی ، عریانی ،بے راہ روی اور بے حیائی کی ساری شکلیں عام ہیں۔ہر جگہ لڑکیوں کا اژدحام اور ہجوم ہے ۔ ریلوے اسٹیشن ہو یا ایر پورٹ، استقبالیہ دفتر ہو یا عام آفس،یونیورسیٹی ہو یا کالج، فلمی خانہ ہو یا قحبہ خانہ ،دوکان ہو یا مارکیٹ ،ایڈورٹائز نگ ہو یا اشتہارات کی دنیا، ہر جگہ لڑکیاں ہی لڑکیاں مطلوب ہیں اور وہ بھی نیم عریاں جاذب نظر، تنگ اور باریک لباس میں ۔ یورپ کی نقالی میں اسلامی تہذیب وثقافت سے اتنی دوری ہوگئی ہے کہ اگر کوئی مسلم خاتون نقاب پہن کر چلتی ہے تو دوسری مسلم خواتین بجائے حوصلہ افزائی کے اس کو طعن وتشنیع کا نشانہ بناتی ہیں(یہاں شہناز لغاری کے واقعہ پر نظر ڈالیے)اور اپنے آپ کو یہ باور کرانا چاہتی ہیں کہ ہم سب سے زیادہ مہذب اور دلدادۂ ثقافت ہیں ۔ بتلایئے کہ کیا مردوں کے شانہ بشانہ چلنا، مردوں جیسا لباس پہننا ، رقص گاہوں ، فلم خانوں، سینما ہالوں اور قحبہ خانوں میں شرکت کرنا اس میں عورت کی بھلائی او ربہتری مضمرہے؟ اس میں اس کی عزت وآبرو کی ضمانت ہے ؟ہر صاحب فکر اوردانشورقوم کہے گا کہ نہیں ۔اس میں اس کی حفاظت نہیں
ہے ۔ اس میں اس کی صیانت نہیں ہے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ہے تو غوروفکر اور امعان وتدبر سے کام لیجیے پندرہ سو سال قبل رسول عربی خاتم الانبیاء ، محسن انسانیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زبان مبارک سے نکلنے والے یہ الفاظ اپنے نہاں خانۂدل میں نقش کر لیجیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کارشاد گرامی ہے: ’’ صنفان من أہل النار لم أرھما : قوم معہم سیاط کأذناب البقر یضربون بھا الناس، ونساء کاسیات عاریات ممیلات مائلات رؤوسھن کأسنمۃ البخت المائلۃ، لا یدخلن الجنۃ ولا یجدن ریحھا، وان ریحھا لیوجد من مسیرۃ کذا وکذا‘‘ . صحیح مسلم(۵۷۰۴)
عورت کے بارے میں اسلام کا کہنا یہ نہیں ہے کہ وہ مرد سے کم ہے ۔اسلام کا کہنا صرف یہ ہے کہ عورت مرد سے مختلف ہے۔ قرآن کہتا ہے:( وَلَیْسَ الذَّکَرُ کَالأنْثیٰ )مثال کے طور پر مرد کے اندر اللہ تعالی نے صلاحیت رکھی ہے کہ وہ عورت کو بار آور کر سکتا ہے لیکن خود بار آور نہیں ہوسکتا ۔اس کے بر عکس عورت کے اندریہ صلاحیت ودیعت کررکھی ہے کہ وہ بار آور ہو سکتی ہے لیکن بار آور کر نہیں سکتی۔
آج پوری دنیا مغربی انقلابات سے حیرت زدہ ہے اور اس کے ہر ہر عمل کی تا حد جنون رسیا ہوچکی ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ اس سے بہتر کوئی آئیڈیل نہیں ۔ اس سے اچھا کوئی کلچر نہیں۔اس سے عمدہ کوئی ثقافت نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آج انسانی معاشرہ کا ہر فرد چاہے وہ مسلم ہویا غیر مسلم یورپی تہذیب وثقافت کی نقالی کیے بغیر اپنے آپ کو مکمل انسان ہی نہیں تصور کرتا ۔ یورپ اور مغربی تہذیب وکلچر کا یہ بھوت مسلم معاشرے پر اس قدر سوار ہے کہ اسے روکنا مشکل نظر آتا ہے اور اس کے سامنے باندھ باندھنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ خصوصاً نوجوان مکمل طور پرجنسی بے راہ روی ، فلم بینی ، ریڈیو، ٹیلی ویژن ،مخرب اخلاق کتابیں ، فحش لٹریچرس، جدید آلات جیسے موبائل اور انٹر نیٹ کے گرویدہ نظر آتے ہیں اور ان کے آئیڈیل تو وہ فلمی ہستیاں اور کرکٹرس ہیں جو عیش اوردنیاوی لذتوں میں غرق ہیں۔اسی طرح آج کی صنف اناث کے لیے توآئیڈیل اور نمونہ مغرب اور یورپ کی وہ عورتیں ہیں جو کھلے عام برائی کا ارتکاب کرنے میں ذرا بھی نہیں ہچکچاتیں ‘بلکہ جانوروں کے حقوق کے نام سے گروپ میں مادر زاد ننگی اور برہنہ ہوکر فوٹو کھینچوانا ، پوز دینااپنا حق سمجھتی ہیں۔ حالانکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والی مسلم عورتوں کے لیے اسوہ اور آئیڈیل تو امہات المومنین اور صحابیات کرام ہیں ۔ امہات المومنین اور صحابیات کرام وہ پاک باز ، پاک طینت ہستیاں ہیں جن کے تقدس وپاکیزگی کی تعریف عرش والے نے آسمان سے کی ہے اور جن کی براء ت خالق ارض وسماء کی طرف سے نازل ہوئی ہے ۔
فطرت کی خلاف ورزی سے کیسے سنگین نتائج برآمد ہوتے ہیں۔عورت اپنی جوانی کی عمر میں بڑی آسانی سے اس قسم کے خوش کن اور دل فریب نظریات کا شکار ہوجاتی ہے مگر جب اس کی عمرحد شعور کو پہنچتی ہے توا س کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا راستہ غلط تھا۔اس کا انتخاب درست نہ تھا۔ مگر یہ سوجھ بوجھ اس کواس وقت ہوتی ہے جب تلافی ما فات کا وقت نہیں ہوتا اور کف افسوس ملتے ملتے رہ جاتی ہے اور حسرت ویاس کی کفن اوڑھ کر گہری نیند سو جاتی ہے۔
سکھائے ہیں محبت کے نئے انداز مغرب نے
حیا سر پٹکتی ہے، عصمتیں فریاد کرتی ہیں
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس وقت مغربی تہذیب اخلاقی جذام میں مبتلا ہے ۔ عورتوں کے حقوق وفرائض اور آزادی میں افراط وتفریط اور عدم توازن کے نتیجے میں زبر دست ٹھوکریں کھائی ہیں۔ اس اخلاقی جذام کا اصل اثر اس کی جنسی بے راہ روی ہے جو حیوانیت کی حد تک پہنچ گئی ہے ۔اس کیفیت کا حقیقی اوراولین سبب عورتوں کی حد سے بڑھتی ہوئی آزادی ، مکمل بے پردگی ، ہم جنس پرستی ، مردو زن کا باہم اختلاط اور شراب نوشی اور ان جیسے دیگر وسائل ہیں۔اس کے برے اثرات نے صرف اہل مغرب ہی کو نہیں پوری دنیا کو اپنے حصار میں لے لیا ہے جس کی وجہ سے انسانیت چر مرا گئی ہے ۔ ہلاکت کے دہانے پر کھڑی ہے ۔ تہذیب وتمدن اور سماج ومعاشرہ کے چولیں ہلا رکھی ہیں۔عصمتیں تارتار ہوگئی ہیں۔ اخلاقی قدریں پامال ہوگئی ہیں۔خوف ودہشت اور ڈر ہمارا مقدر بن گئی ہیں ۔زنا، سحاق اور لواطت ان جیسی فحاشیاں زندگی کا حصہ بن گئی ہیں اور قوموں کی شان وشوکت اور شہامت وسطوت کو گھن کی طرح چاٹ گئی ہیں۔جنسی بے راہ روی کی وجہ سے مرد مرد نہیں رہتا ہے ۔ ذہنی سکون غارت ہوجاتا ہے۔طلاق کی نوبت آجاتی ہے۔اس کا اثر صرف اسی پر نہیں بلکہ اس کے بچوں اور اس معاشرہ پر پڑتا ہے جس کی فضا میں سانس لیتا ہے۔چنانچہ ۲۳ ستمبر ۱۹۹۸ء ’’انڈیا ٹوڈے ‘‘(ہندی)کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’ممبئی میں بعض اسکولوں کے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ بارہ(۱۲) سے پندرہ(۱۵) سال کی عمر کی طالبات میں تقریبا تیرہ(۱۳) فیصد طالبات زنا کے تجرباتی عمل سے گزر چکی تھیں اور ان میں پچہتر(۷۵) فیصد لڑکیوں کے ساتھ زنا میں ایک سے زائد لڑکے شریک
تھے‘‘ ۔ایک دوسری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’چودہ(۱۴) سال سے سولہ(۱۶) سال کی عمر کے سو(۱۰۰) لڑکے اور لڑکیوں سے انفرادی جانچ سے پتہ چلا ہے کہ ان میں اڑتیس (۳۸)فیصد لڑکوں اور ستائیس (۲۷)فیصد لڑکیوں کا اپنے دوستوں (بوائے فرینڈ)کے ساتھ جسمانی رشتہ قائم ہو چکا ہے، جن میں تقریبا دس(۱۰) فیصد لڑکے اور لڑکیاں جنسی امراض کے شکار پائے گئے‘‘۔ یہ ہے مغربی تہذیب کی دین اور جنسی بے راہ روی کا نتیجہ۔یہ عصرحاضر کا وہ فتنہ ہے جو قتل سے زیادہ بدتر ہے ۔قرآن کریم کہتا ہے: (وَالْفِتْنَۃُ أشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ)(البقرہ: ۱۹۱)فتنہ برپا کرنا قتل سے زیادہ نقصان دہ ہے۔
سوویت یونین کے آخری صدر میخائیل گوربا چوف نے مغربی تہذیب اور اس سے انسانیت پر ہونے والے خطرات کو واضح لفظوں میں بیان کرتے ہوئے اپنی کتاب ’’پروسٹرائیکا‘‘ میں لکھا ہے:’’ہماری مغرب کی سوسائٹی نے عورتوں کو گھر سے باہر نکالا اور اس کے گھر سے باہر نکالنے کے نتیجے میں بے شک ہم نے کچھ ماد ی فوائد حاصل کیے اور پیدا وار میں کچھ اضافہ ہوا ،اس لیے کہ مرد بھی کام کررہے ہیں اور عورتیں بھی کام کر رہی ہیں لیکن پیدا وار کے زیادہ ہونے کے باوجود ہمارا فیملی سسٹم تباہ ہو گیا ہے اور فیملی سسٹم تباہ ہونے کے نتیجے میں ہمیں جو نقصان اٹھانے پڑ ے ہیں وہ نقصانات ان فوائد سے کہیں زیادہ ہیں جو ہمیں حاصل ہو رہے ہیں لہٰذا میں اپنے ملک میں ’’پروسٹرائیکا‘‘ کے نام سے ایک تحریک شروع کر رہا ہوں ۔اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ جو عورتیں گھر سے باہر نکل چکی ہیں ان کو واپس کیسے گھر لایا جائے ۔اس کے طریقے سوچنے پڑیں گے ورنہ جس طرح ہمارا فیملی سسٹم تباہ ہوچکا ہے اسی طرح ہماری پوری قوم تباہ ہو جائے گی‘‘۔
استاد جامعہ سلفیہ (مرکزی دارالعلوم)بنارس

یہ آبگینے ہیں ،ذرا سنبھال کے!

ڈاکٹرمحمدرضی الاسلام ندوی
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے خادمِ خاص تھے ، بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ آپ ص سفر میں تھے _ آپ کے ساتھ کچھ مرد اور خواتین بھی تھیں _ خواتین میں ازواج مطہرات کے علاوہ حضرت انس کی والدہ ام سُلیم بھی تھیں _ اُس زمانے میں قافلوں کے ساتھ حُدی خواں بھی ہوتے تھے _ ‘حُدی’ نغمہ کو کہتے ہیں _حُدی خواں ان لوگوں کو کہا جاتا تھا جو بہت سُریلی آواز میں نغمے پڑھتے تھے ، جنھیں سن کر اونٹ اور اونٹنیاں مست ہوجاتی تھیں اور اپنی رفتار تیز کردیتی تھیں _ حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ اُس قافلے میں مردوں کے ساتھ حدی خوانی حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ کر رہے تھے اور عورتوں کے ساتھ ایک حبشی لڑکا تھا ، جس کا نام انجشہ تھا _ اُس کی آواز بہت سُریلی تھی _ اُس نے حدی پڑھنی شروع کی تو اونٹنیوں پر اس کا غیر معمولی اثر ہوا _ انھوں نے اپنی رفتار تیز کردی ، یہاں تک کہ وہ ان اونٹنیوں سے آگے نکل گئیں جن پر مرد سوار تھے _ یہ دیکھ کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ہنس پڑے _آپ نے حُدی خوان لڑکے کو مخاطب کرکے فرمایا :
يَا أَنْجَشَةُ، رُوَيْدَكَ بِالْقَوَارِيرِ ”
(بخاری :6161)
” اے انجشہ! دھیرے، یہ آبگینے ہیں _”
دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں :
” رُوَيْدَكَ يَا أَنْجَشَةُ، لَا تَكْسِرِ الْقَوَارِيرَ”
(بخاری:6211)
“انجشہ! دھیرے چلو، ورنہ آبگینے ٹوٹ جائیں گے _”
اس حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے خواتین کو آبگینوں (یعنی شیشے کے برتنوں) سے تشبیہ دی ہے _
کتنی لطیف ہے یہ تعبیر ؟!
اس میں معانی کا دریا موج زن ہے _
آپ خواتین پر کتنے مہربان اور ان کا کتنا خیال رکھنے والے تھے ؟
آپ کو یہ بھی گوارا نہ ہوا کہ اونٹنیوں پر سوار خواتین ان کی تیز رفتاری سے ہلکی سی بھی بے اطمینانی محسوس کریں _
آپ اونٹنیوں کی چال سے محظوظ ہوئے ، لیکن حدی خواں کو فوراً تنبیہ فرمائی کہ وہ ان کی رفتار کو قابو میں رکھے _
کوئی آدمی شیشے کے برتنوں کے ساتھ سفر کرے تو ان کی حفاظت کا کتنا خیال رکھتا ہے؟! وہ پوری احتیاط کرتا ہے کہ انھیں ہلکی سی بھی ٹھیس نہ لگے _ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم چاہتے تھے کہ عورتوں کا اسی طرح خیال رکھا جائے _
اِدھر کچھ دنوں سے میں سوشل میڈیا پر ملک کے مختلف حصوں میں طلاق ثلاثہ پر حکومت کے مجوّزہ قانون کی مخالفت میں خواتین کے بڑے بڑے جلوس دیکھ رہا ہوں تو مجھے بہت اچھا لگ رہا ہے _
اس لیے کہ اس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ مسلم خواتین کو اسلامی شریعت میں حکومت کی ادنی سی بھی مخالفت گوارا نہیں _
وہ اللہ اور رسول کے بتائے ہوئے احکام پر عمل کرنا چاہتی ہیں _
انھیں آل انڈیا مسلم پرسنل لا کے ذمے داروں اور علمائے کرام پر پورا اعتماد ہے _
ان جلوسوں میں زیادہ تر خواتین برقع پوش دکھائی دے رہی ہیں ، اس سے بھی خوشی ہو رہی ہے کہ وہ دینی مزاج کی حامل ہیں _
پلے کارڈس اور بینرس اٹھائے ہوئے ، نعرے بازی کرتے ہوئے یا خاموشی اختیار کیے ہوئے ، سڑکوں پر دوڑتے ہوئے یا متانت سے چلتے ہوئے ، خواتین کے ان جلوسوں کو دیکھتا ہوں تو میں ان کی محبّت اور عقیدت سے سرشار ہو جاتا ہوں اور مجھے یقین ہونے لگتا ہے کہ ہماری یہ خواتین جب تک بیدار ہیں اس وقت تک ان شاء اللہ ہماری شریعت محفوظ رہے گی _
لیکن ساتھ ہی مجھے فوراً یہ خیال بھی ستانے لگتا ہے کہ اگر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم خواتین کے ایسے جلوسوں کو دیکھ لیتے تو آپ کا ردّعمل کیا ہوتا؟
میرے کانوں میں آپ کی یہ آواز گونجنے لگتی ہے :
“رُوَيْدَكَ بِالْقَوَارِيرِ ”
(ذرا سنبھال کے ، یہ آبگینے ہیں _)
جس ذات گرامی کو اونٹنیوں کی تیز رفتاری گوارا نہ تھی کہ اس سے کہیں خواتین کی نازک اندامی کو ٹھیس نہ لگ جایے ، وہ ان کے سڑکوں پر مارچ کرنے ، پلے کارڈس لہرانے اور سلوگن بلند کرنے کو کیوں کر پسند کرسکتی ہے؟!!
انجشہ نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی ایک آواز پر رفتار دھیمی کردی تھی اور آبگینوں کو ٹھیس نہ لگنے دی تھی _
کیا ہم آمادہ ہیں کہ اب اپنی رفتار کو کچھ بریک لگائیں اور آبگینوں کی نزاکت کا کچھ خیال کریں _
چودہ سو برس گزر گئے ، لیکن مجھے اب بھی یہ آواز صاف سنائی دے رہی ہے :
رُوَيْدَكَ بِالْقَوَارِيرِ
رُوَيْدَكَ بِالْقَوَارِيرِ
رُوَيْدَكَ بِالْقَوَارِيرِ
پھر اس آواز کو دوسرے کیوں نہیں سن رہے ہیں؟

"یہ شادی نہیں آساں''

ڈاکٹررابعہ خرم درانی
دنیا میں جس چیز کی ڈیمانڈ موجود ہو اس کی مارکیٹ وجود میں آ جاتی ہے خواہ وہ چیز روزمرہ کی دال سبزی ہو، مکان بنانے کے لیے تعمیراتی سامان ہو یا گھر بنانے کے لیے زوجین کی تلاش ہوـ رشتہ مارکیٹ میں صرف مرد عورت ہونا کافی نہیں،آپ کے نام کے ساتھ لگے ذات برادری کے لاحقے ، ڈگری اور عہدے کے سابقے کے ساتھ ساتھ ذاتی مکان کی رجسٹری اور ذاتی سواری کی اہمیت مسلم ہے، آپ کے کچن میں کیا پکتا بے مہینے میں گوشت کے کتنے ناغے ہوتے ہیں، ایک وقت میں دستر خوان پر کتنے گھر والے شریک ہوتے ہیں، خاتون کو روٹی پکانے کے لیے چار پیڑے بنانے ہونگے یا پرات بھر آٹے سے نمٹنا پڑے گا، گھر کو ٹھنڈا گرم کرنے کی مشینیں مہیا ہیں یا نہیں، کپڑے ہاتھ سے دھلیں گے یا مشین سے، کپڑا دھلنے کے بعد نچوڑنا بھی خود پڑے گا یا ڈرائیر موجود ہے اور کیا ان تمام سہولیات سے کماحقہ فائدہ اٹھانے کے لیے میڈ نام کی ہیلپر ملے گی یا نہیں؟
اگر خاتون جاب ہولڈر ہیں تو کیا انہیں بعد میں نوکری مجبورا جاری رکھنا ہو گی یا ان کی صوابدید پر یہ فیصلہ چھوڑا جائے گا،کیا جاب والی خاتون کی صبح شام کی روٹین کے ساتھ ساتھ گھرداری کی تمامتر یا کچھ ذمےداری بھی خاتون کو نبھانا پڑے گی یا گھر کی معاشی ترقی میں ساتھ دینے والی خاتون گھریلو ذمےداریوں میں شوہر سے مدد کی حقدار ٹھہرے گی؟
اگر آپ مرد ہیں تو آپ کے والدین اور بہن بھائی ساتھ رہتے ہیں یا الگ، بیوی کو کہاں رکھیں گے، کیا یہ آپ کی پہلی شادی ہے یا دوسری، تیسری، چوتھی، پہلے سے موجود رشتوں میں کتنی جان باقی ہے یا فاتحہ بہ عنوان طلاق پڑھ لی گئی ہے،کیا اس رشتے کی کچھ اولاد نامی باقیات اب بھی موجود ہیں،ان کی عمریں کیا ہیں،ان کی ذمے داری کون لے گا، پہلی بیوی فوت ہو گئی، تو کیسےاور کن حالات میں وفات ہوئی،آپ کا اس سے رویہ کیسا تھا اور سسرالی عزیز اس مرحومہ کو کیسے یاد کرتے ہیں، اچھا اگر طلاق دی تھی تو کیوں، کیا وجہ تھی، یاد رکھیں طلاق صرف عورت کے لیے دھبا نہیں، مطلقہ مرد بھی داغی ہو جاتا ہےاور بچے بھی، بےشک ایسا مرد یا ایسی عورت اگلی شادی نہ بھی کرے یہ معاشرہ ان کی عزت ویسی نہیں کرتا جیسی ایک شادی شدہ جوڑے کی صورت میں ان کا نصیب تھی،اس کے ساتھ ساتھ دونوں سابقہ زوجین کے کردار پر بھی سوالیہ نشان لگ جاتا ہے،عورت کے کردار پر تو معاشرہ دس گز لمبی زبانیں لپلپاتا ہی ہے لیکن مرد کے کردار پر بھی یہی معاشرہ اندھیرے کا ناگ بن کے پیٹھ پیچھے وار کرتا ہے،سو مرد اپنے آپ کو محفوظ تصور مت کریں، ٹوٹے بکھرے گھر کے بچے بھی ایسے ہیرے جواہر ہوتے ہیں جو خاک میں مل کر خاک ہو جاتے ہیں، میرا خیال تھا کہ بچوں والے مطلقہ یا رنڈوے مرد کو تو آرام سے بیوی مل جاتی ہو گی، البتہ بچے والی ایسی خاتون کے لیے مشکل ہوتی ہو گی لیکن زمانے کے بدلنے کے ساتھ ساتھ اب بچے والی مطلقہ یا بیوہ خواتین بھی دوسری شادی کی شرائط میں مطلقہ یا رنڈوا مرد تو قبول کرتی ہیں،جو ان کے بچے کو بھی ماں کے ساتھ قبول کرے لیکن مرد کے پہلے بچے کے وجود کی منکر ہوتی ہیں، شاید اب خواتین بھی حقوق آشنا اور اپنی ترجیحات میں واضح اور صاف گو ہو گئی ہیں،نیز پہلے جن رشتوں کو کمپرومائز کی بنیاد پر قبول کیا اور نبھایا جاتا تھا اب وہ رشتے بھی کمپرومائز سے نکل کر ٹھوک بجا کر طے کیے جانے والے معاہدے میں تبدیل ہو چکے ہیں ـ
اسی رشتہ مارکیٹ میں خاتون کے حوالے سے پوچھے جانے والے سوالات میں قربانی کے جانور کی طرح بس دانت دیکھنا شامل نہیں،باقی تو بچتا کچھ نہیں، ہرکسی نے بسانا گھر ہے لیکن چاہیے پروفیشنل ڈگری ہولڈر حسین ،کم عمر، سلیقه مند، پراعتماد، کماؤ بہو جو پردہ کرتی ہو اور اپنی تمامتر خوبیوں کے ساتھ اپنی پچھلی تمام زندگی آپ کے انتظار میں بیٹھی رہی ہو یعنی جس دانے پر آپ کا نام لکھا ہے اس دانے پر کبھی کسی اور کی نظر نہ پڑی ہو،بھائی آپ کس خیالی دنیا کا پلاؤ پکاتے رہتے ہیں، ایک لڑکی جس نے پڑھ لکھ لیا ماسٹرز یا پروفیشنل ڈگری لے لی تو اس کی عمر 18 19 تو ہونے سے رہی، پھر حسین بھی تھی تو آپ کے انتظار میں بیٹھ تو نہیں رہے گی، بیری پر پتھر تو تبھی آنے لگتے ہیں، جب ہرے بیر سبز پتوں میں سے بمشکل نظر آتے ہیں،اس لڑکی نے کھانا پکانا سینا پرونا ،اعلی تعلیم اور دین دنیا کا ہر ہنر 20 ،22 سال کی عمر میں حاصل کر لیا اور وہ ڈاکٹر، انجینئر، پی ایچ ڈی بھی ہوگئی، بھائی ڈیمانڈ غیر حقیقی رکھنی ہے تو حساب کتاب تو درست کر لو،15 سال میں میٹرک وہ بھی اگر لڑکا ، لڑکی لائق ہے اور اس کے پہلے تین سال پری کے جی اور نرسری میں ضائع نہیں کیے گئے ورنہ 16 ،17 سال تو بن گئے، اگلے چار سال میں بی اے اور مزید دو سال میں ایم اے، سپلی آ گئی تو ایک دو سال اور ڈال لیں رزلٹس آنے کا کچھ عرصہ شامل کریں تو چھ سے آٹھ ماہ یہ بن گئے،یعنی کم از کم 22 سال سے 25 سال، اب لڑکی کما بھی رہی ہو یا انٹرن شپ کرے تو ایک دو سال اس کے بھی لگا لیں، 24 سے 27 سال،اس سب کے دوران اگر اس کے لیے مناسب رشتہ گھر بیٹھے نہ ملا تو رشتہ مارکیٹ میں انٹری ہو گی ـ
لڑکا ہے تو 16 میں میٹرک اور 22 سے 25 تک ایم اے اور پھر بےکاری کے دو چار سال، مقابلے کے امتحان کی تیاری، ایجنٹ کے ترلے منتیں، کاروبار جمانے کی تگ و دو، غرض اگر 28 30 سال میں کچھ دال دلیہ کر رہا ہے تو کامیاب ہے لیکن اب رشتہ تلاش کرتے کرتے کچھ وقت اور نکل جاتا ہے تو جناب خود رشتہ مارکیٹ میں داخل ہوتے ہیں ـ ادھر کیونکہ شرائط اور ڈیمانڈ خود طے کرنا ہیں سو تخیل کی پرواز نے جو آئیڈیل تراشا ہے بس اس خواب کو لفظوں میں بیان کردیا جاتا ہے،گھر میں بےشک بہنیں ان پڑھ بیٹھی ہیں کہ ہماری برادری میں لڑکیوں کو زیادہ نہیں پڑھایا جاتا لیکن خود کو اپنی برادری سے اعلی تعلیم یافتہ حور پری کی تلاش ہے جو گھر سے کبھی باہر بھی نہ نکلی ہو اور کماتی بھی ہو،طے کر لو کہ شادی لڑکی سے کرنی ہے یا ڈگری اور عہدے سے،گھر بسانا ہے تو لائف پارٹنر ڈھونڈو اور کمائی کھانی ہے تو بزنس پارٹنر تلاش کرو،شادی کے نام پر بزنس پارٹنر ڈھونڈنا غلط ہے،اگر خواب پر اختیار نہیں تب بھی تعبیر توکم از کم حقیقی تلاش کرو،
لڑکیاں اور ان کے گھر والے بھی کسی چیز پر تو کمپرومائز کریں، برادری پر کر لیں یا تعلیم پر یا آمدنی ، شکل اور شہر پر،سب کو سب کچھ پرفیکٹ چاہیے تو بھئی اگر آپ اس مسٹر /مس پرفیکٹ کا درست میچ ہوتے تو رشتہ مارکیٹ میں خوار کیوں ہونا پڑتا؟چند رشتے جو ہر لحاظ سے بہترین ہوتے ہیں وہ اس مارکیٹ کا رخ صرف دنیا میں اپنی قیمت کا اندازہ کرنے کے لیے کرتے ہیں،شادی انہوں نے گھر والوں کی مرضی سے ہی کرنا ہوتی ہےـ
سب سے زیادہ مشکل پسند وہ رشتے ہیں جو پہلی بار کے ناکام تجربے کے ڈسے ہیں، یہ خواتین و حضرات دنیا کیا کہے گی اور برادری جیسی بندشوں سے تو آذاد ہو چکے ہوتے ہیں، لیکن اپنے ذہنی خوف کے قیدی ہوتے ہیں، سو شادی تو کرنا چاہتے ہیں لیکن اس بار دل سے نہیں دماغ سے سودا طے کرتے ہیں،عورت ہے تو اسے سکیورٹی چاہیے مرد ہے تو وہ بھی ان سیکیور ہے،یہ حضرات شرم جھجھک کو بالائے طاق رکھ کر ایک کاروباری معاہدے کے سے انداز میں تمام شرائط طے کرتے ہیں،کچھ حد تک یہ بات مناسب بھی ہے،اگر نیت درست ہو تو عموما یہ کامیاب ہو جاتے ہیں یا جلد ہی اس نئے رشتے سے بھی غیرجذباتی ،منطقی انداز میں ریٹائرمنٹ لے لیتے ہیں،ایسے لوگ عموماپہلی شادی کو ہی اصل مانتے ہیں دوسرے تجربے کو غلطی کا نام دیتے ہیں اور انسان تجربوں سے ہی تو سیکھتا ہے اس لیے سیکھنے کا عمل پھر تاعمر جاری ہی رہتا ہےـ
جن رشتوں کو طے کرنے کے لیے دونوں پارٹیز (لڑکا اور لڑکی ) کے وکیل آپس میں گفت و شنید کرتے ہیں،اگر تو یہ وکیل سگے والدین ہیں تب تو امید رکھیں کہ رشتہ طے پا جائے گا لیکن اگر یہ وکیل کسی قسم کے رشتے دار ہیں مثلا چچا ،تایا ،پھپھو ،خالا ،ماموں بس پھر ان کی کٹ حجتی اور نکتہ چینی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے،عین مکھی جیسی تیز ناک جو سیدھے سبھاؤ کسی کمزوری پر جا بیٹھتی ہے اور جب تک اسے نوٹس نہ کروا لے وہاں ہی بھن بھن کرتی رہتی ہے. یہ وکیل بھی دراصل مجبور ہیں، ایک کام جو ان پر فرض نہیں ،اسے ان کی ایسی ذمےداری بنا دیا جاتا ہے جس کا بیڑا اٹھائے بنا ناک نہیں بچتی اور طے ہونے کے بعد معاملات غلط رخ اختیار کر لیں تب بھی ناک نہیں بچتی سو عموما یہ وکیل مین میخ نکال کر ہر رشتہ ریجیکٹ کرتے رہتے ہیں تاآنکہ ان کو اس ذمے داری سے سبکدوش کر دیا جائے یا لڑکا لڑکی خود اپنے لیے کچھ فیصلہ کر لیں ،ویسے اس صورت میں بھی ان کی ناک نہیں بچتی. سو بہتر یہی ہے کہ ان وکیلوں کو ان کی بڑی اور صحیح سلامت ناک کے ساتھ ان کے گھروں میں مامون رہنے دیا جائےـ
اب بات کیجیے برادری کی تو بھائی ہم سب آدم کی اولاد ہیں سو ایک” جہانگیر انسانی برادری” سے تعلق رکھتے ہیں، ایک نبی ص کے امتی ہیں اس لیے ایک “عالمگیر مسلم برادری” کے فرد ہیں،ایک وطن کے باسی ہیں سو “ایک برادری” سے متعلق ہیں،اب کسی کا نام رانا ہے یا میاں ،سیال ہے یا چیمہ، صدیقی ہے یا اچکزئی کیا فرق پڑتا ہے، ایک اور برادری جو میری سمجھ سے بالاتر ہے وہ خاندانی نسب کی بجائے خاندانی پیشے سے قرار پاتی ہے یعنی جولاہا ،مستری، درزی یا سنار برادری،بھئی اگر سنار کا بیٹا ڈاکٹر بن گیا اور اس نے ڈاکٹری کا پیشہ اپنا لیا تو اس کی اور اس کے سنار بھائی کی برادری تو بدل گئی، اگر درزی کے بیٹے نے پولٹری فارمنگ شرع کر دی تو اسے درزی برادری میں سے بیٹی کون دے گا،پیشے اور برادری کو غلط ملط کب اور کیونکر کیا گیا اس پر کوئی تاریخی حقائق سے پردہ اٹھائے، تو یہ پی ایچ ڈی کے لیے ریسرچ مقالے کا عنوان بھی ہو سکتا ہے، اسی برادری کے چکر نے نہ جانے کتنی تعلیم یافتہ بیٹیوں کو گھر بیٹھے بوڑھا کر دیا ،کہ برادری میں بیٹی کی تعلیم کے جوڑ کا رشتہ نہیں اور برادری سے باہر بیٹی بھیج نہیں سکتے،اے لوگو مجھے بتاؤ کیا تمام امہات المؤمنین ایک برادری سے تھیں؟
اس رشتہ مارکیٹ میں سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ اپنی فیملی کی خواتین کو ڈھکا چھپا کر رکھنے والے بھی دوسری طرف کی خواتین کے قد بت کو ڈسکس کرتے ہیں، ان کی عمر اور رنگ روپ پر کمنٹس دیتے ہیں اور جو رضاکار اللہ کی رضا کے لیے یہ سب دیکھ اور سہہ رہا ہوتا ہے اسے خود اپنا آپ ایک دکاندار جیسا لگتا ہے جو کسٹمر کو اپنا “مال” خریدنے پر مجبور کر رہا ہو. اب ذرا مال پر غور فرمایئےاور دکاندار کی کیفیت سوچیے ـ
برادری،تعلیم ،عہدہ ،شکل ،صورتسب مل جائے تو مسلک نہیں ملتا اور یہ بھی مل جائے تو شہر سے باہر جانے کو کوئی تیار نہیں، آپ سب کے لیے سب سے بہترین رشتہ پھپھو کی بیٹی/بیٹا ہے، شکل صورت عادات میں آپ کے خاندان پر، برادری،مسلک ،گھرانہ ،شہر سب آپ کا دیکھا بھالا اور رہ گئی عمر تو وہ آپ کے سامنے ہی پلے بڑھے ہیں، اگر پھپھو کے گھر رشتہ نہیں کروانا تو دوسروں کے گھر کو خالہ جی کا گھر اور خود کو راجا اندر اور حسینۂ عالم سمجھنا چھوڑ دیں،حقیقی دنیا میں خوش آمدید!

معاشرہ کی تعمیر میں خواتین کا کردار

مفتی محمد امام الدین قاسمی
مرکزی دارالقضاء امارت شرعیہ،پٹنہ
اسلام سے پہلے دنیا نے جتنی بھی ترقی کی ہے اس میں صرف مرد کا حصہ ہے عورت کا کہیں بھی کوئی کردار نہیں ہے لیکن اسلام آیا تو اس نے دونوں صنفوں کی کوششوں کو وسائل ترقی میں شامل کر لیا،اسلام نے جو عزت اور مقام عورت کو عطا کیا ہے وہ نہ تو قومی تاریخ میں ملتی ہے اور نہ ہی دنیا کی مذہبی تاریخ میں۔اسلام نے صرف عورت کے حقوق ہی نہیں مقرر کئے بلکہ ان کو مردوں کے برابر درجہ دے کر مکمل انسانیت قرار دیا ہے۔بخاری شریف میں ہے۔مرد اپنے اہل وعیال کا نگراں ہے اس سے اس کے متعلق سوال کیا جائے گا اور عورت شوہر کے گھر کی نگراں ہے اس سے اس کے متعلق باز پرس ہو گی۔
حقیقت یہ ہے کہ عورت چاہے ماں،بہن،بیوی اور بیٹی ہر روپ میں قدرت کا قیمتی تحفہ ہے،جس کے بغیر کائنات انسانی کی ہرشئی پھیکی اور ماند ہے۔اﷲتعالیٰ نے مرد کو اس کا محافظ اور سائبان بنایا ہے مگر عورت اپنی ذات میں ایک تناوردرخت کی ما نند ہے،جو ہر قسم کے سردوگرم حالات کا دلیری سے مقابلہ کرتی ہے ا سی عزم وہمت ،حوصلہ اور استقامت کی بنیاد پر اﷲتعالیٰ نے جنت کو اس کے قدموں تلے بچھا دیا۔عورت ہی وہ ذات ہے جس کے وجود سے کم و بیش ایک لا کھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علیھم السلام نے جنم لیا اور انسانیت کے لئے رشد وہدایت کا پیغام لے کر آئے ، حضرت حواء علیہا السلام سے اسلام کے ظہور تک کئی نامور خواتین کا ذکر قرآن و حدیث اور تاریخ اسلامی میں موجود ہے،جن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ازواج حضرت سارہ ؑ ،حضرت ہاجرہؑ ،فرعون کی بیوی آسیہ ،حضرت ام موسیٰ ،حضرت مریم،ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبری،ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ،ام المومنین حضرت ام سلمہ ،سیدہ کائنات حضرت فاطمہ ،حضرت سمیہ،اور دیگر کئی خواتین ہیں جن کے کارناموں سے تاریخ کے اور اق بھرے پڑے ہیں۔
تاریخ اسلام خواتین کی قربانیوں اور خدمات کا ذکر کئے بغیر نا مکمل رہتی ہے،اسلام کی دعوت وتبلیغ میں مردوں کے ساتھ عورتوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔
اسلام کی ابتدائی تاریخ میں مسلم خواتین کا جو کردا ر رہا وہ آج ساری دنیا کی خواتین کے لئے ایک واضح سبق بھی ہے۔اسلام کو سب سے پہلے قبول کرنے والی ،آپ ﷺ کی راز دار ،ہمسفر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی ذات گرامی ہے ،حضرت خدیجہ نے نہ صرف سب سے پہلے کلمہ اسلام قبول کیا بلکہ سب سے پہلے عمل کیا اور اپنی پوری زندگی جان و مال سب کچھ دین اسلام کے لئے وقف کر دیا ۔حضرت خدیجہ نے تین سال شعب ابی طالب میں محصوررہ کر تکالیف اور مصائب برداشت کئے اور جب تین سال کے بعد مقاطعہ ختم ہوا تو آپ اس قدر بیمار اور کمزور ہو گئیں کہ اسی بیماری کے عالم میں خالق حقیقی سے جا ملیں۔ آپ ﷺ کی ازواج میں ایک ایسی خاتون بھی ہیں جن کو یہ شرف حاصل ہے کہ ان سے صحابیات تو درکنار صحابہ کرام نے بھی علم حدیث حاصل کیا وہ خوش نصیب حضرت عائشہ ہیں، حضرت عائشہ کو آپ ﷺ کی ازواج میں منفرد مقام حاصل ہے آپ اپنے ہم عصرصحابہ کرام اور صحابیات علیھم ا لسلام میں سب سے زیادہ ذہین تھیں اسی ذہانت و فطانت اورو سعت علمی کی بنیادپر منفرد مقام رکھتی تھیں۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرا آدھا دین عائشہ کی وجہ سے محفوظ ہو گا ۔آٹھ ہزار صحابہ رضوان اﷲ علیہم اجمعین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کے شاگرد ہیں ۔ خاتون جنت،سرداران جنت کی ماں اور دونوں عالم کے سردار کی بیٹی حضرت فاطمہ کی زندگی بھی بے مثال ہے۔ آپ ﷺ کی چہیتی بیٹی حضرت فاطمہؓ ایک عظیم اور ہمہ گیر کردار کی مالکہ ہیں جو ایک بیٹی کے روپ میں، ایک ماں کی شکل میں اور ایک بیوی کے کردار میں قیامت تک آنے والی خواتین کے لئے نمونہ حیا ت ہیں جنہوں نے اپنے عظیم باپ کی محبت کا حق ادا کرتے ہوئے بچپن میں سرداران قریش کے ظلم و ستم کا بڑی جرات مندی،شجاعت،ہمت،اور متانت سے سامنا کیا ۔ حضرت فاطمہ چھوٹی تھیں ایک دن جب نبی اکرم ﷺ صحن کعبہ میں عبادت الٰہی میں مشغول تھے کہ ابوجہل کے اشارہ پر عقبہ بن ابی معیط نے مذبوحہ اونٹ کی اوجھڑی کو سجدہ کے دوران آپ ﷺ کی گردن پر رکھ دیا،حضرت فاطمہ دوڑتی ہوئی پہونچیں اور نبی اکرم ﷺ سے اذیت وتکلیف کو دور کی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نہایت بہادر اور نڈر خاتون تھیں، آپ دوران جنگ بے خوف وخطر ہوکر زخمیوں کو میدان جنگ سے باہر لاتیں اور ان کی مرہم پٹی کرتی تھیں ،انہوں نے غزوہ خندق کے موقع سے نہایت بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جب دوران جنگ ایک یہودی مسلمان خواتین پر حملہ آور ہوا تو آپ نے اس پر وار کیا جس سے اس کا کام تمام ہو گیا۔حضرت ام عمارہ مشہور صحابیہ تھیں،انہوں نے غزوہ احد میں جب کہ کفار مکہ نے یہ افواہ پھیلا دی کہ نعوذ باللہ آپ ﷺ شہید ہو گئے ہیں ایسی انتہائی نازک حالت میں آپ ﷺ کا دفاع کیا اور شمشیر زنی کا ناقابل فراموش مظاہرہ کیا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زوجہ محترمہ حضرت حاجرہ ؑ کا تذکرہ کرنا نہایت ہی اہم ہوگا ،حضرت ابراہیم ؑ نے جب مکہ کی بے آب وگیاہ بنجر زمین میں حضرت حاجرہ کو چھوڑ دیا تو حضرت ہاجرہ ہی ہیں جنہوں نے اﷲ اور اپنے خاوند کے حکم کی تعمیل میں حضرت اسماعیل ؑ کے لئے پانی کی تلاش میں دیوانہ وار صفا اور مروہ کے درمیان دوڑیں اﷲ تعالیٰ نے ان کے اس عمل کی تقلید قیامت تک کے لئے تمام مردوں اور عورتوں پر لازم کر دی ۔ان پاکیزہ خواتین کے تذکرہ کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ آج کی خواتین ان کی زندگی کو اپنا آئیڈیل بنائیں اور اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کریں۔
خصو صاً ان خواتین سے گذارش ہے کہ جو اپنی ذمہ داریوں سے فارغ ہو گئی ہیں یا جن کی ذمہ داریوں کا بوجھ کم ہو گیا ہے ان پر لازم ہے کہ دین کی اشاعت اور دعوت و تبلیغ کے لئے وقت نکالیں ،اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کر کے گھرو ں کے اندر اجتماع کریں تا کہ ان بہنوں کو جو تعلیم اسلامی سے ناواقف ہیں ان کو دین کی بنیادی ضروری تعلیم حاصل ہو جائے

اسلام میں حقوق نسواں کا تحفظ وبقاء


ظل الرحمن قاسمی سہرساوی
اسلام خواتین کو کیا حقوق دیتا ہے اس پر بات کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ جو خواتین کے حقوق کے غم میں دن رات دبلے ہو رہے ہیں خود ان کے یہاں عورت کے حقوق کیا ہیں؟ وہاں مرد وعورت کے درمیان آزاد جنسی تعلقات کی وجہ سے جسے ان کے یہاں فطری کہا جاتا ہے (کیوں کہ جانور بھی نکاح کی پابندی سے آزاد ہیں، اور یہ خود کو بندری یعنی بندر کی اولاد کہتے ہیں) اس کے نتیجے میں آپس کی محبت ختم ہوئی ، ذمہ داری ختم ہوئی خاندان کا نظام ٹوٹ گیا ، اور اب یہ معاشرہ اس پر پچھتا رہا ہے ، عورت کے معاشی استقلال کی وجہ سے طلاق میں اضافہ ہوا ، بچہ پیدا کرنا ایک بوجھ سمجھا جاتا ہے۔
وہاں اب بوڑھوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے، بچہ پانچ میں سے ایک حرام پیدا ہو رہا ہے جس کے والد کا علم نہیں ہوتا ، ایسے بچوں کی حکومت پر ورش کرتی ہے۔ امریکہ میں د س میں چھ یا سات خواتیں ایسی ہیں جو طلاق لے لیتی ہیں اور دوسری شادی کر لیتی ہیں، بہت سی یہ درد سر پالتی ہی نہیں ہیں، اس سے خود غرضی جنم لیتی ہے، اکیلے پن کا احساس پیدا ہوتا ہے، جو نفسیاتی بیماریوں کو نجم دے رہا ہے ، وہاں اگر عورت ، شوہرساس ، سسر کے لیے کھانا پکائے، صفائی کرے تو اسے قید سمجھا جاتا ہے ذلت کا کام کہا جاتاہے، اور یہ ہی کام (بلکہ اس سے بھی زیادہ ذلیل کام) اگر عورت غیرمردوں کے لیے کرے تو آزادی کہا جاتا ہے۔ مثلا مساج سٹر ، ہوٹل ، ماڈل گرل، سیلز گرل ، وغیرہ وغیرہ۔
اسلام نے عورت کو گھر سے باہر کام کرنے کی اجازت دی ہے، وہ ہر شعبہ زندگی میں کام کر سکتی ہے ، وہ شعبہ خیر کا ہو ، فضول نہ ہو اس میں اپنی عزت ووقار نہ کھونا پڑے،مناسب پردے میں رہ کر وہ کام کر سکتی ہے ، اسلام میں عورتیں جنگوں میں شرکت کر تی رہی ہیں، نرسنگ کا کام ، پانی پلانے کا کام کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے جنگوں کی کمانڈ بھی کی اور اساتذہ کے فرائض بھی سر انجام دیے۔
اسلام میں عورت کو کمانے کی ،گھر کو چلانے کے لیے معاشی تگ ودو ، بچوں کو پالنے حتی کہ اپنی ذات کے لیے بھی روٹی ، کپڑا مکان جیسی بنیادی ضروریات کے لیے جد وجہد نہیں کرنی پڑتی یہ سب مرد کے ذمہ ہے دوسری بات یہ ہے کہ عورت کی جو ملکیت ہے اس میں مرد کا کوئی حق نہیں ہے، جو عورت کمائے وہ اسے اپنے مرضی سے استعمال کر سکتی ہے ، لیکن مرد کی کمائی میں عورت کا حق ہے، اسلام کے مطابق مرد وعورت کو ایک دوسرے کا لباس کہا گیا ہے، نکاح کر کے میاں ، بیوی ایک دوسرے سے آسودگی حاصل کر سکتے ہیں ،مغرب کی طرح انہیں ٓزادی کی گنجائش نہیں ہے ، میاں بیوی ایک یونٹ ہیں، اسلام میں گھر کی معاشی ضروریات کی ذمہ د اری مرد پر ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ عورتوں کو بھی ایسے ہی حقو ق ہیں، جیسے ان پر مردوں کے ہیں ۔(سورہ بقرۃ ۲۲۸) مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے مدد گار ہیں اچھے کام کرنے کو کہتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے ہیں (سورہ توبہ ۷۱) نیز اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ میں تم میں سے کسی کام کرنے والے کے کام کو خواہ وہ مرد ہو یا عورت ہرگز ضائع نہیں کرتا (سورۃ آل عمران ۱۹۵)
اس سے بڑھ کر عورت کا اور کیا حق ہو کہ اللہ نے جنت عورتوں (ماؤں ) کے قدموں کے نیچے رکھی ، بیوی کو اپنے ہاتھ سے کھانا کھلانے کا ثواب رکھا ، مرد کی کمائی میں عورت کا حصہ رکھا اور عورت کی کمائی کی صرف وہ مالک ہے۔
اسلام نے تو عورت کو ایسے حقوق دیئے ہیں اب اگر ان پر مسلمان عمل نہ کریں تو اسلام کا تو کوئی قصور نہیں ہے ، یہ ایک فرق ہے جس کی وجہ سے غیر مسلم مسلمانوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، اسلام نے عورتوں کو مردوں کے مساوی نہیں بلکہ مردوں سے زیادہ حقوق دیے ہیں۔ اور ان موم بتی مافیا ، دیسی لبرل خواتین وحضرات جن حقوق کی بات کرتے ہیں اصل میں وہ ان کی تذلیل ہے، اسلام میں مرد وعورت ایک انسان ہونے کے ناطے برابر ہیں، لیکن ا ب ان کے واجبات کی ادائیگی اور حقوق وفرائض الگ الگ ہیں۔
الغرض اسلام نے اسے وہ سب کچھ دیا جس کی وہ حقدار تھی یہ الگ بات ہے کہ ہماری خام خیالی میں وہ عورتوں پر ظلم ہو ،مگر حقیقت کسی کے خیال سے نہیں بدل سکتی ۔ البتہ اسلام اسے صرف انہی باتوں سے روکتا ہے جن سے ان کی نسائیت پر حرف آتا ہے۔ اور جو اس کے شایان شان نہیں اور اس کی فطرت کے خلاف ہیں۔