غزل

now browsing by category

 

غزل

انجم سلیمی
کیا یہی ہجر ہے، سب جس سے ڈراتے ہیں مجھے
نیند بھی لیتا ہوں میں،خواب بھی آتے ہیں مجھے
دم بخودسوچتارہتاہوں کہیں سچ تو نہیں
لوگ جو کچھ میرے بارے میں بتاتے ہیں مجھے
یادرکھتاہوں سدا گزراہوامستقبل
رفتگاں سے مرےاوہام بچاتے ہیں مجھے
عام ساآدمی ہوں میراتعارف کیسا
ہاں کسی نام سےکچھ لوگ بلاتےہیں مجھے
میری مٹی سے بہت خوش ہیں مرے کوزہ گر
ویسابن جاتا ہوں میں جیسا بناتے ہیں مجھے
میں، ہوس گیرِ جہاں تیری تجوری کا نہیں
میرے احباب تومحنت سے کماتے ہیں مجھے
میں نے دیکھا کہ میں اک سادہ ورق ہوں اور لوگ
چُومتےہیں کبھی آنکھوں سے لگاتے ہیں مجھے

غزل

انجم سلیمی
فلک نژاد سہی،سر نِگوں زمیں پہ تھا میں
جبین خاک پہ تھی اور مری جبیں پہ تھا میں
گُندھی پڑی تھی مری خاک خال وخد کے بغیر
ابھی ہُمکتا ہوا چاکِ اوّلیں پہ تھا میں
یہ تب کی بات ہے جب کُن نہیں کہا گیا تھا
کہیں کہیں پہ خدا تھا کہیں کہیں پہ تھا میں
نیا نیا میں نکالا ہوا تھا جنت سے
زمیں بنائی گئی جن دنوں،یہیں پہ تھا میں
خدا کا حکم بجا، بد گمانی اپنی جگہ
غلط نہ تھا مرا انکار, اس یقیں پہ تھا میں
خدا کے جھگڑے میں آخر دماغ ہار گیا
کہ دل ثبات میں تھا اور نہیں نہیں پہ تھا میں

غزل

انجم سلیمی
جب گلے سےمجھےلگایاگیا
مجھ سے رویانہ مسکرایاگیا
عشق و عشرت بھی, ہجر و ہجرت بھی
ہرستم مجھ پہ آزمایاگیا
آئینہ دےدیاگیامجھ کو
مجھ سےمجھ کوبہت چھپایا گیا
ہرطرف خاک اُڑتی پھرتی تھی
جب مجھےخاک سےبنایاگیا
مختصرخواب کےلئے مجھ کو
ابَدی نیند سےجگایا گیا
ایک ایساجہاں بھی ہےکہ جہاں
کوئی میرےسوانہ آیا گیا

غزل

اعجاز توکل
میں ہوں راتوں میں جاگنے والا
یہ خسارہ ہے فائدے والا
اشک کب تک سنبھال سکتا ہے
میری آنکھیں خریدنے والا
مجھکو دنیا کی سمت مت لاؤ
میں ہوں اک اور سلسلے والا
زندگی زیر لب تبسّم ہے
میں ہوں بھر پور قہقہے والا
آشنائی ہے ایک سیدھی لکیر
عشق ہوتا ہے دائرے والا
سبھی کہتے ہیں سونے والا مجھے
نیند کہتی ہے رتجگے والا
لوگ جس کو گلاب کہتے ہیں
پھول وہ ہے معاشقے والا
ہے محبت تو سامنے لاؤ
یہ دیا کب ہے طاقچے والا
دو رویے تھےسامنے میرے
مجھکو اچھا لگا برے والا

غزل

عمیرنجمی
نظر ٹھہرتی نہیں ہے، رخ آفتاب ہی ہے
یقین کر! تری بے پردگی، حجاب ہی ہے
تمہارا ساتھ، اک اعزازی عہدہ ہے، جس میں
کچھ اختیار نہیں، صرف رعب داب ہی ہے
ہماری اونگھ، کبھی نیند تک گئی ہی نہیں
سو خواب دیکھنا، تاحال، ایک خواب ہی ہے
قسم خدا کی! بڑی دیر کچھ نہیں دِکھتا
بہ غور اُس کی طرف دیکھنا، عذاب ہی ہے
میں کچھ بھی پوچھے بغیر اُٹھ کے آگیا واپس
سمجھ گیا تھا اُسے دیکھ کر، جواب ہی ہے!
مرا بدن بھی کم و بیش ہے زمیں کی طرح
کہ دو تہائی، کم از کم، تو زیرِ آب ہی ہے
خراب رستے پہ تختی دِکھی تو رک کے پڑھی
لکھا تھا: “رستہ یہی ہے مگر خراب ہی ہے”
ہم ایک ہاتھ کی دوری پہ ساتھ پھرتے ہیں
وہ دسترس میں نہیں، صرف دستیاب ہی ہے
تری طلب اگر آسودگی ہے، رب راکھا!
ہمارے پاس تو، لے دے کے، اضطراب ہی ہے

غزل

ندیم بھابھہ
ہاتھ اٹھے ہیں اور دعا خاموش
اس لیے بھی کہ ہے خدا خاموش
میں بہت بولتا تھا سو مجھ کو
نعمتوں سے کیا گیا خاموش
اسے محسوس کر پکار نہیں
وہ جو رہتا ہے ہر جگہ خاموش
اب دھواں ہے نہ کوئی دھڑکن ہے
کچھ نہ کچھ تھا جو ہوچکا خاموش
ایک مدت کے بعد کی تقریر
بس کہا اتنا ، واعظا خاموش
ہم نے کیا کیا نہیں پڑھا سمجھا
اس نے کاغذ پہ تھا لکھا خاموش
دیکھنا بھی پکار ہے کملے
بڑا آیا بنا ہوا خاموش
عشق کی پہلی بات لب نہ ہلیں
عشق کا پہلا ذائقہ خاموش
اس لیے خام ہے محبت میں
اس نے پورا نہیں پڑھا خاموش
بات کرتی ہے روشنی ہم سے
تو کہے گا کہ ہے دیا خاموش
ورنہ یہ کائنات چپ ہوتی
شکر اس نے نہیں کہا خاموش

غزل

سعودعثمانی
بچھڑ کے ملتا ہے ہر بار دوستوں کی طرح
یہ شہر ہے مرے دلدار دوستوں کی طرح
ہرے تھے زخم ترے ہاتھ کے لگائے ہوئے
مگر ملا میں تجھے یار دوستوں کی طرح
یہ زندگی ہے کہ نازک مزاج شہزادی
تمام رنج طرح دار دوستوں کی طرح
پھر ایک روز بالآخر یقین آیا اسے
کہ لوگ دوست ہیں عیار دوستوں کی طرح
محبتوں کا بھی رشتہ عجیب رشتہ ہے
ہیں دل کے ساتھ دل آزار دوستوں کی طرح
وہ شخص دھوپ کی بارش میں یاد آتا ہے
ستم عدو کی طرح پیار دوستوں کی طرح
کسی بھی حال میں ہوں چھوڑ کر نہیں جاتا
یہ رنج ہے مرے غم خوار دوستوں کی طرح
میں دشمنوں کی طرح اس کے سامنے تھا سعود
جب اس نے چھپ کے کیا وار دوستوں کی طرح

غزل

علی زریون
پرچم کو سینے سے لگا لیتا ہوں میں
کمرے ہی میں جشن منا لیتا ہوں میں !
ایک ترانہ یاد ہے مجھ کو بچپن سے
بے چینی ہو تو دہرا لیتا ہوں میں !
ایک ترنگا اور اک چاند ستارہ ہے
دو خوابوں کو ایک بنا لیتا ہوں میں !
تم چاہو تو اس کو پاگل پن سمجھو
ہاں ! تصویر کو نظم سنا لیتا ہوں میں
اُس کا نام دوبارہ ایسے مت لینا !
یہ پسٹل ہے ! اور چلا لیتا ہوں میں !!
تیرا سامنا کرنے میں کیا مشکل ہو
اپنے آپ سے آنکھ ملا لیتا ہوں میں
یادوں کا سامان ہے میرے سینے میں
تم ناراض ہو تو اٹھوا لیتا ہوں میں !
دو وقتوں کی چائے ، کچھ گھنٹوں کی نیند !
اس کے علاوہ گھر سے کیا لیتا ہوں میں ؟؟
جس میں اس کا عکس ہو، اس کے ساتھ علی
خود کہہ کے سیلفی بنوا لیتا ہوں میں !

غزل

احمدعطاء اللہ
ٹیڑھی میڑھی ضدی اچھی لگتی ہے
تو جیسی ہے ویسی اچھی لگتی ہے
الٹے ہاتھ پہ مہندی جچتی ہے تم کو
لڑکوں سے تو لڑتی اچھی لگتی ہے
گاؤں کی نگرانی ہوتی رہتی ہے
اس کونے میں کھڑکی اچھی لگتی ہے
دیکھ محبت چھپ چھپ کر ہی کرتے ہیں
چوری کی یہ چُوری اچھی لگتی ہے
میؔر پڑھو گی اور اداسی بانٹو گی
غالؔب پر تو ہنستی اچھی لگتی ہے

غزل

احمدحماد
شمعِ احساس سے اٹھتا ہے دھواں تیرے بعد
خاکِ ایماں میں پنپتے ہیں گماں تیرے بعد
بڑھ گئی خاک کے بازار میں پانی کی رسَد
ڈھے گئی خواب کی معروف دکاں تیرے بعد
پھول مرجھا گئے، خوشبو کی ندی سوکھ گئی
ہوگیا دشت، گلستانِ جہاں تیرے بعد
سوچتا ہوں کہ مرا سوگ منانے کے لیے
کون آئے گا تہی چشم یہاں تیرے بعد؟
قریہِ خواب کے برباد گلی کوچوں میں
بال کھولے ہوئے پھرتی ہے فُغاں تیرے بعد
ایک آواز ہوئے جائیں میرے اشکِ رواں
ایک تصویر ہوئی جائے زباں تیرے بعد
سخت حیرت میں لکھا ہے میرے یاروں نے مجھے
بولتے ہی نہیں بستی کے جواں تیرے بعد

غزل

حسیب الرحمن شائق
جو سزا چاہو ہمیں دےدو , سزاوارہیں ہم
“دوگھڑی ہوش میں آنے کے گنہ گار ہیں ہم
یوں ہمیں گھورتے رہتےہیں یہ دنیاوالے
دوشِ ہستی پہ بہت جیسے گراں بار ہیں ہم
ساتھ رکھتے ہیں سدا غم کا خزانہ اپنے
کون کہتاہےکہ تنگدست ہیں نادارہیں ہم
خوف آئے تو شبِ تار سے کیوں کر آئے
مثلِ مہتاب چمکدار ضیابار ہیں ہم
وہ اگر کرلے قبول, اس کی عنایت ہے یہ
ورنہ اعمال میں اپنے تو ریاکار ہیں ہم
اس کی رحمت جو نہ ہوتی تو بکھرجاتے ہم
کہ حسیب! ایسے سیہ کار خطاکار ہیں ہم
*
یکہتہ, مدھوبنی
9128543724

غزل


ابھیشیک شکلا
دیکھ اے تابِ سماعت!! کہ برہنہ ہے ابھی
اس کی آواز نے کچھ بھی نہیں پہنا ہے ابھی
دھوپ اتنی ہے کہ ڈرتا ہوں کہیں بھول نہ جاؤں
اپنی پرچھائیں سے جو کچھ مجھے کہنا ہے ابھی
اس کے ملبے میں دبی ہوگی مری عمر خراب
جس عمارت کو تر سامنے ڈھہنا ہے ابھی
دید کی تپتی ہوئی ریت پہ رم کرنے کے بعد
پھوٹ کر آبلۂ چشم کو بہنا ہے ابھی
اپنی تنہائی کہیں اور لٹا جانِ مراد
مجھ کو اک عمر اسی بھیڑ میں رہنا ہے ابھی
پھوٹ جائیں نہ یہ منظر کی سحر خیزی سے
میری آنکھوں کو ترا خواب بھی سہنا ہے ابھی
جب تک آتی نہیں امداد کسی دریا سے
موج در موج یونہی پیاس میں بہنا ہے ابھی

غزل

احمدحماد
وہ سبز پیڑ بھی اب سُوکھنے لگا میرے یار
جہاں تھا نام تمہارا کُھدا ہوا میرے یار
یہ دیکھ کر کہ وہ ترچھی نظر سے دیکھتی ہے
بدل لیا ہے نگاہوں کا زاویہ میرے یار
نجومیوں سے، ستاروں سے، رشتہ داروں سے
تمہارے بعد کسی سے نہ مل سکا میرے یار
اکھڑنے لگتا تھا سورج کا سانس تیرے بغیر
بکھرنے لگتا تھا بارش کا حوصلہ میرے یار
جس ایک غم سے میں چُھپتا پھرا جوانی میں
وہ ڈھلتی عُمر میں پایا ہے جا بجا میرے یار
یہاں سبھی کو غرض تھی مرے اثاثوں سے
کوئی نہیں
تھا جو میرا بھی سوچتا میرے یار
ملن کے بعد بھی رہتی ہے بے قراری سی
مری سمجھ میں نہ آیا یہ ماجرا میرے یار

غزل

سعودعثمانی
سفیدی اور سیاہی کو ضم کیا گیا ہے
یہ پیڑ دیکھ جو مجھ میں قلم کیا گیا ہے
میں خود کو تشنہ کہوں تو کہیں یہ جھوٹ نہ ہو
کہیں کہیں مری مٹی کو نم کیا گیا ہے
یہ قطعِ سر ہے کوئی قطعِ معرکہ تو نہیں
یہ بارمجھ سے بہت بار کم کیا گیا ہے
چلا رہا ہوں میں پھر سے جہاز خشکی پر
لوائے سرخ کو پھر سے علم کیا گیا ہے
پڑاؤ ڈال دیا ہے کنارِشب میں نے
بہت تھکا ہوا دن تازہ دم کیا گیا ہے
میں ایسے عہدِ منافق میں جی رہا ہوں جہاں
خوشی چھپا کے جنازوں کا غم کیا گیا ہے
یہ میں جو اپنے عدو کا حلیف ہوں تو یہ غم
بہت کیا گیا ہے پھر بھی کم کیا گیا ہے

غزل

ندیم بھابھہ
بس یہی کچھ ہے مرتبہ مرے پاس
ایک تو ہے اور اک دعا مرے پاس
تجھے کچھ وقت چاہیے مری جان
وقت ہی تو نہیں بچا مرے پاس
روشنی حفظ ہو رہی ہے مجھے
رکھ گیا تھا کوئی دیا مرے پاس
یہ تری گفتگو کا لمحہ ہے
اس گھڑی ہے مرا خدا مرے پاس
ٹہنیاں جھک رہی تھیں میرے لیے
اور پھل ٹوٹ کے گرا مرے پاس
ایک رومال آنسوؤں سے بھرا
اور اک خط جلا ہوا مرے پاس
تیرا نعم البدل نہیں کوئی
تو فقط ایک ہی تو تھا مرے پاس
اب میں جھگڑا کروں تو کس سے کروں
اب تو تُو بھی نہیں رہا مرے پاس

غزل

حسیب الرحمن شائق
دل کے کمرے میں آگیاہےکوئی
چین و آرام لے گیاہےکوئی
راز افشا ہوا تو یہ سمجھو
دشمنوں سےملاہواہےکوئی
شہرکےسارےلوگ سہمےہیں
پھرنیاحادثہ ہواہےکوئی
صحنِ دل ہوگیا معطر ہے
پھول کچھ یوں کھلاگیاہےکوئی
خونِ دل سےکبھی جولکھاتھا
وہ غزل گنگنا رہاہے کوئی
کب کاہم ان کوبھول بھال گئے
کوئی رشتہ نہ رابطہ ہےکوئی
کہہ کےسب حالِ دل حیسب اب تو
دیکھ شرمندہ ہوگیا ہےکوئی

غزل

احمدحماد
آنکھ کو یار سے خالی ملا قریہ سارا
جب بھی دل شدّتِ وحشت میں پکارا ‘یارا’
دم بہ دم کٹتی ہوئی عمر کبھی یہ تو بتا
سانس چلتی ہے کہ شہ رگ میں رواں ہے آرا
میرے ٹھہرے ہوئے آنسو کو تُو پانی نہ سمجھ
آنکھ سے ٹپکا تو بن جائے گا روشن تارا
ورنہ دنیا کے مناظر سبھی کم تر لگتے
تُو نے لاہور کی بارش نہیں دیکھی یارا
اُس سے ملنے کی اگر دُھن نہیں جاگی حمّاد
تُو رہے گا وہی خشک اور کھنکتا گارا

غزل

احمدعطاء اللہ
تو ، تو نے سوچا نہیں عشق سے مکرتے ہوئے
کہ دیر لگتی نہیں آدمی کو مرتے ہوئے
اگر تو خواب ہوا تو ہمارا کیا ہوگا
تو چھورہے ہیں تجھے پہلی بار ڈرتے ہوئے
یہ دنیا ٹھیک جو نکلی ہمیں خبر کرنا
ہمیں تو عمر ہوئی ہے یہ دنیا برتے ہوئے
تمام پہنے ہوئے پھول زندہ ہوگئے ہیں
وہ کھل اٹھا ہے مرے پاس سے گزرتے ہوئے
اسے خبر ہے بدن کی کی زباں سمجھتے ہیں
وہ چپ ہی رہتا ہے ہم سے کلام کرتے ہوئے

غزل

رحمان فارس
پہلے پُکارتے تھے مُجھے گالیوں کے ساتھ
پھر تھک گئے، بُلانے لگے تالیوں کے ساتھ
اِن لڑکیوں کے بھیس میں پریاں بھی ہیں بہت
مت بیٹھیو اُداس بدن والیوں کے ساتھ
چَھن چَھن کے آ رہی تھی اُس اُجلے بدن کی آنچ
پوشاک تھی سیَاہ مگر جالیوں کے ساتھ
ہمدم نہ ہو تو کیا بھلا پینے کا فائدہ؟
بیٹھا ہوں کب سے چائے کی دو پیالیوں کے ساتھ
دُنیا سے بھی گُریز ہے، مَے سے بھی احتراز
میرا نہیں ہے ربط اب اِن سالیوں کے ساتھ
شامِ سیاہ اور شبِ تاریک خُوب ہیں
اچھی گُذر رہی ہے اِنہی کالیوں کے ساتھ
چُومے گی شاہزادی اُسی شہ سوار کو
آئے گا جو گُلوں سے لدی ڈالیوں کے ساتھ
کچّے گھروں کے ساتھ ہیں اُونچی حویلیاں
بدحالیاں ہیں شہر میں خُوشحالیوں کے ساتھ
ہونٹوں پہ ہیں نشان تو گالوں پہ ہیں گُلال
کس مُنہ سے گھر کو جاؤ گے ان لالیوں کے ساتھ ؟
کچھ پتّیاں، ذرا سی مہک اور تھوڑا رنگ
بیٹھا ہوں اِس اُمید پہ مَیں مالیوں کے ساتھ
فارس ! کبھی تو آئیے درگاہِ عشق میں
مَے بھی پلائی جائے گی قوّالیوں کے ساتھ

غزل

عمیرنجمی
ہمیں تحفظ کا خبط، چھُپنے کی لت نہیں تھی
فلک سے ربط استوار تھا، گھر کی چھت نہیں تھی
میں کاروبارِجنوں کو اب ترک کر چکا ہوں
وہ کام اچھا تھا لیکن اُس میں بچت نہیں تھی
وہ شخص بھی شعر تھا کوئی سہلِ ممتنع میں
نہیں کھلا گر چہ اس کی کوئی پرت نہیں تھی
بہت سا غم اس لئے منافع گھٹا کے بیچا
کیا تھا جتنا برآمد، اتنی کھپت نہیں تھی
ہمارا چہرہ بہت سی آنکھوں کا پِیر ہے اب
وہ آنکھیں جن کو ملال کی معرفت نہیں تھی
اک اور عشق آ گیا تھا دورانِ ہجر، ٹالا
ممانعت تو نہیں تھی، مجھ میں سکت نہیں تھی
بھلا ہو نم کا کہ اک جگہ پر بٹھا دیا ہے
وگرنہ مجھ گرد کی زمیں سے جڑت نہیں تھی

غزل

محمد عباس دھالیوال
ذہن و دل پر چھائے پتھر
پھول نظر کو آئے پتھر
انسانوں سے شکوہ کیسا
جب بھگوان کہائے پتھر
پھولوں کے ہمراہی بن کر
قدم قدم پر پائے پتھر
سچی بات کہی تھی ہم نے
ہر جانب سے آئے پتھر
پھل پھول سایہ ایندھن دیکر
سر پہ شجر نے کھائے پتھر
یاروں اس میں پھول کھلیں کیا
دل ہی جب ہو جائے پتھر
کیا میرا شیشے کا گھر ہے
ہم سایہ برسائے پتھر
چارو جانب بدکاری ہے
کیوں نہ فلک برسائے پتھر
رب کی مشیت سے چڑیوں نے
فیلوں پر برسائے پتھر
خود کو بشر کہلائے پتھر
اور خدا بن جائے پتھر
مظلوموں کے حق کی خاطر
اہل قلم نے اٹھائے پتھر
شام ڈھلے عباس کسی دن
تاج محل میں آئے پتھر
*
مالیر کوٹلہ،پنجاب۔
Ph.9855259650
Abbasdhaliwal72@gmail.com

غزل

رحمان فارس
ہر چیز مُشترک تھی ہماری سِوائے نام
اور آج رہ گیا ھے تعلُّق برائے نام
اشیائے کائنات سے نا آشنا تھا مَیں
پھر ایک اِسم نے مُجھے سب کے سِکھائے نام
تب مَیں کہوں کہ سچّا ہوں یک طرفہ عشق میں
وہ میرا نام پُوچھے، مُجھے بُھول جائے نام
وہ دلرُبا بھی تھی کسی شاعر کی کھوج میں
مَیں نے بھی پھر بتایا تخلُّص بجائے نام
محفِل میں چُپ بھی بیٹھوں تو پہچانتے ہیں لوگ
بدنام ہو کوئی تو کہاں تک چُھپائے نام
لشکر بنا رہا ہوں جوانانِ عشق کا
جس میں بھی آگ ہے، مُجھے مِل کر لکھائے نام
مَیں نام رکھ نہ پایا گُلِ نَو شگُفتہ کا
حالانکہ شاخِ گُل نے ہزاروں سُجھائے نام
تُو عشق پائے عشق کے مرنے کے بعد بھی
فارس ! مزارِ دل پہ ترا جگمگائے نام

غزل

رحمان فارس
جب خزاں آئے تو پتّے نہ ثَمَر بچتا ہے
خالی جھولی لیے ویران شجَر بچتا ہے
نُکتہ چِیں ! شوق سے دن رات مِرے عَیب نکال
کیونکہ جب عَیب نکل جائیں، ھُنَر بچتاہے
سارے ڈر بس اِسی ڈر سے ہیں کہ کھو جائے نہ یار
یار کھو جائے تو پھر کونسا ڈر بچتا ہے
روز پتھراؤ بہت کرتے ہیں دُنیا والے
روز مَر مَر کے مِرا خواب نگر بچتا ہے
غم وہ رستہ ہے کہ شب بھر اِسے طَے کرنے کے بعد
صُبح دم دیکھیں تو اُتنا ہی سفر بچتا ہے
بس یہی سوچ کے آیا ھُوں تری چوکھٹ پر
دربدر ہونے کے بعد اک یہی در بچتا ہے
اب مرے عیب زدہ شہر کے شر سے، صاحب !
شاذ و نادر ھی کوئی اھلِ ھُنر بچتا ہے
عشق وہ علمِ ریاضی ہے کہ جس میں فارس
دو سے جب ایک نکالیں تو صفَر بچتا ہے

غزل

عقیل عباس
وہ گھوڑیوں کی طرح شوخ اور لچیلی تھی
میں شہ سوار تھا لیکن گرفت ڈھیلی تھی
لگا ہوا ہے زمانہ بڑائی میں جس کی
اسی نے شہر سے پہلی لگان بھی لی تھی
وہ جا چکی تو اچانک مجھے خیال آیا
وہ گھاس جس پہ میں بیٹھا تھا کتنی گیلی تھی
ہمارا خون سمے کا سفوف جذب کرے
ہماری چھال کسی بدگماں نے چھیلی تھی
اب اس کا ڈھب بھی کوئی دیکھتا تو ہو گا ہی
جسے تراش کے قرنوں نے زہر پی لی تھی

غزل

احمدعطاء اللہ
تو میری بات کا انکار کر اے زندہ شخص
مرا مکالمہ دیوار سے نہیں ہوگا
ہمیں وہ فتح کرے گا جو پھول بھیجے گا
ہمارا فیصلہ تلوار سے نہیں ہوگا
تمھارے شہر پہ یلغار عین ممکن ہے
اگر یہ شہر مرا پیار سے نہیں ہوگا
یہ زہر شام کی چائے کے ساتھ لے لیں گے
ہمارا ناشتہ اخبار سے نہیں ہوگا
تمام جسم سے ناراضی چل رہی ہے عطا
تو صرف شکوہ بھی رخسار سے نہیں ہوگا

غزل

رحمان فارس
خُدا نے تول کے گُوندھے ہیں ذائقے تُم میں
تمہارے جسم میں شہد اور نمک برابر ہے
وہ حُسن تُم کو زیادہ دیا ہے فطرت نے
جو حُسن پُھول سے مہتاب تک برابر ہے
ہر ایک صحن میں تو چاندنی چھٹکتی نہیں
جمالِ یار پہ کب سب کا حق برابر ہے
تمہارا چہرہ مُجھے یاد ہوگیا ہے سو اب
دکھاؤ یا نہ دکھاؤ جھلک، برابر ہے
الگ الگ ہیں تری ساری چوُڑیوں کے رنگ
یہ اور بات کہ سب کی چھنک برابر ہے

غزل

عرفان وحید
پسِ سکوت، سخن کو خبر بنایا جائے
فصیلِ حرف میں معنی کا در بنایا جائے
حسابِ سود و زیاں ہوچکا بہت اب کے
وفورِ جذب کو عرضِ ہنر بنایا جائے
لگن اڑان کی دل میں ہنوز باقی ہے
کٹے پروں ہی کو اب شاہ پر بنایا جائے
ابھی تو آنکھ میں منزل کا کوئی خواب نہیں
ابھی سے کیا کوئی زادِ سفر بنایا جائے
فرازِ دار پہ کر کے بلند آخرِ شب
مرے ہی سر کو نشانِ سحر بنایا جائے
جمالِ دوست ہے مشعل ہمارے جادے کی
خیالِ دوست کو زادِ سفر بنایا جائے
بہت طویل ہوا سلسلہ رقابت کا
کبھی ملو تو اسے مختصر بنایا جائے
قدم قدم پہ ہے بستی میں وحشیوں کا ہجوم
چلو کہیں کسی صحرا میں گھر بنایا جائے
ہے خاک زادے کی مٹی بہت خراب اب کے
نئے خمیر سے تازہ بشر بنایا جائے
مفر ہے محبسِ جاں سے محال جب عرفاں
تو آؤ پھر اسی گنبد کو گھر بنایا جائے

غزل

عمیرنجمی
شب بسر کرنی ہے، محفوظ ٹھکانہ ہے کوئی ؟
کوئی جنگل ہے یہاں پاس میں؟ صحرا ہے کوئی؟
ویسے سوچا تھا محبت نہیں کرنی میں نے
اس لئے کی کہ کبھی پوچھ ہی لیتا ہے کوئی
آپ کی آنکھیں تو سیلاب زدہ خطے ہیں
آپ کے دل کی طرف دوسرا رستہ ہے کوئی؟
جانتا ہوں کہ تجھے ساتھ تو رکھتے ہیں کئی
پوچھنا تھا کہ ترا دھیان بھی رکھتا ہے کوئی؟
دکھ مجھے اس کا نہیں ہے کہ دکھی ہے وہ شخص
دکھ تو یہ ہے کہ سبب میرے علاوہ ہے کوئی
دو منٹ بیٹھ، میں بس آئینے تک ہو آؤں
اُس میں اِس وقت مجھے دیکھنے آتا ہے کوئی
خوف بولا: “کوئی ہے؟ جس کو بُلانا ہے، بُلا!”
دیر تک سوچ کے میں زور سے چیخا: ” ہے کوئی؟؟

غزل

ابھیشیک شکلا
آنکھیں غبار خواب میں کھونے کے دن ہیں یہ
سو جاؤ تم بھی چین سے،سونے کے دن ہیں یہ
ہونا تھا تجھ کو اور نہیں ہے تو ہائے ہائے
میں ہوں اگرچہ میرے نہ ہونے کے دن ہیں یہ
گریہ کی اک قدیم روایت ہے عشق میں
خود پر ہزار ڈھنگ سے رونے کے دن ہیں یہ
پا کر مجھے یوں خوش نہ ہو اے شہر نامراد
تو جانتا نہیں مرے کھونےکے دن ہیں یہ
دکھ مول لے رہا ہے جنہیں کوڑیوں کے بھاؤ
قیمت لگائی جائے تو سونے کے دن ہیں یہ
پھیکا ہے کائنات کا ہر رنگ ان دنوں
ان سے ہماری بات نہ ہونےکے دن ہیں یہ
برسات ہو رہی ہے مری خاک عمر پر
یعنی کہ خود کو جوتنے بونے کے دن ہیں یہ
مالائیں ٹوٹتی ہیں بکھرتی ہیں ان دنوں
سانسوں میں دکھ کے پھول پرونےکے دن ہیں یہ
ہونا نہ ہونا ایک ہے جن کا مرے لئے
میں سوچتا ہوں کون سےکونے کے دن ہیں یہ
ابھشیک! پار اترنے کا سودا فضول ہے
کشتی کسی بھنور میں ڈبونے کے دن ہیں یہ

غزل

عرفان ستار
تیری یاد کی خوشبو نے بانہیں پھیلا کر رقص کیا
کل تو اک احساس نے میرے سامنے آ کر رقص کیا
اپنی ویرانی کا سارا رنج بُھلا کر صحرا نے
میری دل جوئی کی خاطر خاک اڑا کر رقص کیا
پہلے میں نے خوابوں میں پھیلائی درد کی تاریکی
پھر اُس میں اک جھلمل روشن یاد سجا کر رقص کیا
دیواروں کے سائے آ کر میرے جلو میں ناچ اٹھے
میں نے اُس پُر ہول گلی میں جب بھی جا کر رقص کیا
اُس کی آنکھوں میں کل شب ایک تلاش مجسم تھی
میں نے بھی کیسے بازو لہرا لہرا کر رقص کیا
اُس کا عالم دیکھنے والا تھا جس دم اک ہُو گونجی
پہلے پہل تو اُس نے کچھ شرما شرما کر رقص کیا
رات گئے جب سناٹا سر گرم ہوا تنہائی میں
دل کی ویرانی نے دل سے باہر آ کر رقص کیا
دن بھر ضبط کا دامن تھامے رکھا خوش اسلوبی سے
رات کو تنہا ہوتے ہی کیا وجد میں آ کر رقص کیا
مجھ کو دیکھ کے ناچ اٹھی اک موج بھنور کے حلقے میں
نرم ہوا نے ساحل پر اک نقش بنا کر رقص کیا
بے خوابی کے سائے میں جب دو آنکھیں بے عکس ہوئیں
خاموشی نے وحشت کی تصویر اٹھا کر رقص کیا
کل عرفانؔ کا ذکر ہوا جب محفل میں تو دیکھو گے
یاروں نے ان مصرعوں کو دہرا دہرا کر رقص کیا