نقدوتبصرہ

now browsing by category

 

جویادرہا: عابدسہیل کی خودنوشت پرتاثراتی نوٹ

نایاب حسن
میں نے عابدسہیل کے افسانے نہیں پڑھے، تنقیدپربھی ان کی کتاب نہیں پڑھی، پہلی کتاب ان کی خودنوشت پڑھی اورنہایت شوق سے پڑھی ہے ـ کہ سوانحی ادب سے نہ معلوم کیوں مجھے خاص دلچسپی ہے، خصوصا ایسے لوگوں کی سوانح سے، جوعلم وادب وفکرکے شعبوں میں بلندقامت ہوتے ہیں ـ پھراگر ایساانسان اپنے حالاتِ زندگی خودلکھتاہے، تولطف دوبالاہوجاتاہے، اس صورت میں واقعات وحقائق کے تئیں صدق بیانی کاامکان زیادہ ہوتا اورخودنمائی وخودستائی کااحتمال ذراکم ہوجاتاہے، جبکہ کسی بڑے انسان پردوسرے کے ذریعےلکھی گئی کتاب میں ملمع سازی، بت سازی وصنم تراشی اورعقیدت وارادت کی جلوہ گری خوب خوب ہوتی ہے، جس کی وجہ سے بسااوقات؛ بلکہ زیادہ ترصاحبِ سوانح کی شخصیت ایک اسطوری پیکر میں ڈھل جاتی ہے اوراس شخصیت سے متعلق یااس کے عرصۂ حیات میں رونماہونے والے واقعات وسانحات کی اچھی اورسچی تصویرکشی ذراکم ہی ہوپاتی ہےـ
عابدسہیل صاحب نے اپنی خودنوشت کانام “جویادرہا ” رکھاہے، پہلی باریہ کتاب اردواکادمی دہلی سے 2012میں شائع ہوئی تھی، گزشتہ سال اس کادوسراایڈیشن آیاہے ـ نام ہی کی رعایت سے اس کتاب میں انھوں نے اپنی زندگی کے حالات، سانحات، حادثات، واقعات وواردات کوایک غیرمرتب ترتیب کے ساتھ سلسلہ واربیان کیاہےـ اپنے بچپن، خاندان، اپنے آبائی گاؤں، دادیہال ونانیہال کے اعزاوقرباکے احوال وواقعات اوراس کے بعد لکھنؤ کی اپنی عملی زندگی، قومی آواز، نیشنل ہیرالڈ، پانیئر اورروزنامہ صحافت میں اپنی صحافتی سرگرمیاں، بڑے بڑے صحافیوں، ادیبوں، ناقدوں، سیاست دانوں اوراصحابِ فکرودانش سے وابستگی اوران کے ساتھ بیتے ہوئے شب وروزکوبڑے دلچسپ اسلوب میں بیان کیاہےـ اپنے ادبی سفرکی رودادبھی خوب صورت اندازمیں سنائی ہے، خانگی حالات، معاشی ترشی اورحالات کی تنگیوں کابھی ذکر کیا ہے، اپنے دوستوں، عزیزوں، رشتے داروں میں سے بہت سے لوگوں کادل کھول کر تذکرہ کیاہے ـ اس کتاب کو پڑھتے ہوئے ایسامحسوس ہوتاہے کہ ہم خودپچاس، ساٹھ، ستر،اسی، نوے اوراس کے بعدکی دہائی کے لکھنؤمیں سانسیں لے رہے ہیں ـ کیاخوب صورت اندازِ نگارش ہے اورکیادل فریب اسلوبِ بیان !زبان میں روانی ایسی ہے کہ گویاجوئے سلسبیل بہہ رہی ہو، الفاظ میں شیرینی بلاکی، بات کوپیش کرنے کاطَورنہایت سادہ، مگرفنکارانہ ـ واقعات کی جزئیات تک کواس خوبی سے بیان کرتے ہیں کہ قاری اکتاہٹ کاشکارہونے کی بجاے غایتِ انہماک سےپڑھتاہے ـ
اس کتاب میں انھوں نے آزادیِ ہندکی تاریخ کے بعض اہم پہلووں پربھی اظہارِ خیال کیاہے اوربعض اہم مسئلوں میں روایتی تاریخ نگاری یاسیاسی تجزیہ نگاری سے ہٹ کر اپنے مشاہدات ومطالعات کی روشنی میں رائیں قائم کی ہیں ـ
اپنی زندگی کے حالات کوبعینہ بیان کرنے کی کوشش کی ہے، اپنے آپ کوایک عام انسان کے طورپرپیش کیاہے، جس سے زندگی کے کئی مرحلوں میں غلطیاں ہوئیں، بھول چوک ہوئی، جوکامیابیوں سے بھی ہم کنارہوااورناکامیوں سے بھی دوچار ہوا، جسے چاہابھی گیااورناپسند بھی کیاگیا، جس پرتنگی وترشی کے دن بھی آئے اورفراغت ومرفہہ الحالی کے بھی ـ
چوں کہ عملاًوہ قومی آواز، نیشنل ہیرالڈ اورپانئرجیسے بڑے اخباروں سے وابستہ رہے، سواس کتاب میں ان اخباروں کا، وہاں کے طریقۂ کار، ان کے ذمے داروں، وہاں کام کرنے کے تجربات کا خاصا تفصیلی احوال درج کیاہےـ
اخیرمیں انھوں نے اپنے دوستوں، بزرگوں اور متعلقین وشناساؤں کے جومختصرخاکے لکھے ہیں، وہ بھی خاصے کی چیزہیں ـ
اپنے خاندان کے متعلق معلومات الگ سے فراہم کی ہیں، جوبڑی قیمتی ہیں ـ
سب سے آخرمیں اپنے نام آنے والے مختلف مشاہیرادب وعلم وسیاست مثلاداکٹررادھاکرشنن، عرش ملسیانی، قیصرتمکین، حیات اللہ انصاری، رشیدحسن خاں اورآل احمدسروروغیرہ کے خطوط کے عکس بھی دیے ہیں اورتصویروں میں قیدزندگی کے اہم اورخوب صورت لمحات بھی اپنے قارئین سے شیئرکیے ہیں ـ
مجموعی طورپریہ خودنوشت نہایت ہی عمدہ، جامع، اسلوب واداکے اعتبارسے دلکش اورمعلومات کاجامِ جہاں نماہے ـ اپنی رودادِ زندگی بیان کرنے کاان کابے تکلفانہ سٹائل بہت متاثرکن ہے ـ بات سے بات نکالتے، یادوں کے اوراق کھنگالتے ہوئے اپنے قاری کوکئی اہم انسانوں، واقعات وسانحات سے روشناس کرواتے جاتے ہیں، ایسالگتاہے کہ وہ آپ کے ساتھ بیٹھ کر آپ سے باتیں کررہے اوراپنی زندگی کی کہانی سنارہے ہیں، ان کی حسِ مزاح بھی کافی تیز ہے، سووہ موقع بہ موقع مختلف بڑے لوگوں سے متعلق سچے لطیفے بھی سناتے ہیں اورپڑھنے والے کوبے ساختہ ہنسی آجاتی ہے، اسی طرح جب کہیں وہ اپنی زندگی کے کڑے دن کے بارے میں بتاتے ہیں، تودل آزردہ بھی ہوتاہے، افسردگی کی کیفیت طاری ہونے لگتی ہے، مگر پھرجلدہی وہ ہمیں اپنی زندگی کے کسی دوسرے خوب صورت منظرسے روبروکروادیتے ہیں ـ کتاب کے صفحات سات سوسے زائدہیں، مگرکمال یہ ہے کہ اتنی ضخیم کتاب اپنی تمام مشغولیات کوانجام دینے کے ساتھ گنتی کے چارپانچ دنوں میں پڑھی جاسکتی ہےـ

مولانا مودودیؒ کی کتاب ' تحریک اور کارکن' کا انگریزی ترجمہ

محمد رضی الاسلام ندوی

‘تحریک اور کارکن’ مولانا سید ابو الاعلی مودودیؒ کی ان تقریروں اور تحریروں پر مشتمل ہے جو انھوں نے مختلف مواقع پر اور مختلف مراحل میں اسلامی تحریک کے کارکنوں کے سامنے پیش کی تھیں ۔

ان تقریروں اور تحریروں کے عربی ترجمہ کا مجموعہ ‘ تذکرہ دعاة الاسلام’ کے نام سے عالمِ عرب سے شائع ہوا تو اسے بہت مقبولیت حاصل ہوئی اور اس کے کئی ایڈیشن منظرِ عام پر آئے _ ترکی اور دیگر زبانوں میں بھی اس کے تراجم چھپے اور ہر جگہ اسلامی تحریکوں نے اسے اپنے تربیتی نصاب میں شامل کیا ۔ بعد میں ان تقریروں اور تحریروں کا مجموعہ اردو میں ‘ تحریک اور کارکن’ کے نام سے شائع کیا گیا _

یہ کتاب پانچ ابواب پر مشتمل ہے :

(۱) دعوت اسلامی کی فکری بنیادیں : اس میں دعوتِ اسلامی کی اساسات ، اس کے بنیادی نکات اور جماعت اسلامی کے مقصد اور مسلک پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے ۔
(۲) دعوت اسلامی کی اخلاقی بنیادیں : اس میں بنیادی انسانی اخلاقیات ، ان کے اور امامت کے باب میں اللہ کی سنت پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے ۔
(۳) عملی خاکہ : اس میں تحریک اسلامی کے طریقۂ کار ، اس کی حکمتوں اور فوائد ، اس کے طریقۂ تربیت اور لائحہ عمل کے تحت رہ نمائی کی گئی ہے ۔
(۴) تحریک اسلامی کے علم برداروں کی لازمی خصوصیات : اس کے تحت صالح گروہ کے لیے کم ازکم ضروری صفات ، تحریک اسلامی سے وابستگی کا معیار ، کارکنوں کا اصل سرمایہ اور راہ حق کے لیے ضروری توشہ کے عنوانات کے تحت اظہارِ خیال کیا گیا ہے _
(۵) اسلامی انقلاب کے لیے مطلوبہ اوصاف : اس میں کارکنانِ تحریک کے انفرادی اوصاف ، اجتماعی اوصاف ، تکمیلی اوصاف ، وہ عیوب جو ہر بھلائی کی بیخ کنی کردیتے ہیں اور وہ نقائص جن کی تاثیر کام کو بگاڑ دیتی ہے ، ان پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے ۔

اس طرح یہ کتاب فکری ، علمی اور عملی تینوں پہلوﺅں کا احاطہ کرتی ہے ۔ ساتھ ہی انفرادی اور اجتماعی معاملات میں بہترین گائیڈ بک کا کام دیتی ہے ۔

مقامِ مسرّت ہے کہ حال میں اس کتاب کا انگریزی ترجمہ مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی سے شائع ہوا ہے _ اس میں مولانا کی جو تقریریں اور تحریریں شامل ہیں ان میں سے بیش تر کا انگریزی ترجمہ الگ الگ کتابچوں کی شکل میں پہلے بھی شائع ہوتا رہا ہے _ جناب ارشد شیخ ، اسسٹنٹ سکریٹری شعبۂ میڈیا، جماعت اسلامی ہند نے انھیں مرتب کرکے ان پر نظر ثانی کی ہے _

مسلمان:حالات، وجوہات اور سوالات

تصنیف: مالک اشتر
تبصرہ: محمد علم اللہ
ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد مسلمانوں کی پسماندگی اور کم مائیگی پر بہت سے دانشوروں اور محققین نے اپنے اپنے انداز میں تجزیہ کیا، مضامین، مقالات اور کتابیں لکھیں اوراس کے اسباب و وجوہات سے بحث کر کے کسی نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کی۔ان میں کسی نے معاشی تنگی کو اس کی اہم وجہ قرار دیا، کسی نے فوج اور طاقت کی کمی کو، تو کسی نے مسلم حکمرانوں کی ناعاقبت اندیشانہ پالیسیو ں کو اس کا سبب گردانا تو کسی نے تعلیم و تعلم کی کمی کوذمہ دار ٹھرایا۔ مولانا قاسم نانوتوی سے لیکر سر سید اور سر سید سے لیکر اب تک جس عہد میں ہم جی رہے ہیں دانشوروں کی ایک لمبی قطار ہے جنھوں نے تعلیم کو اس کی اصل وجہ قرار دیا ہے، لیکن حیرت کی بات ہے کہ ان سب کے باوجود ہم اس میں اتنے ہی کمزور اور پیچھے ہیں۔
’مسلمان:حالات، وجوہات اور سوالات‘ نوجوان قلم کار اور صحافی مالک اشتر کے قلم سے نکلی ہوئی ایسی ہی ایک کتاب ہے جس میں انھوں نے ہندوستانی مسلمانوں کے زوال، اس کے اسباب اور کمیوں و کوتاہیوں کی نشاندہی کر کے انھیں آئینہ دکھایاہے۔مصنف کا لہجہ دلچسپ اور رواں ہے۔لکھاری کا تعلق بنیادی طور پر چونکہ ٹیلی ویژن رائٹنگ سے ہے تو اس کا اثر بھی کتاب میں دیکھنے کو ملتا ہے اور کئی مرتبہ کتاب پڑھتے ہوئے ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہم پورے منظر کو کسی اسکرین پر دیکھ رہے ہیں، تاریخ کے جھروکے سے مصنف کتاب میں ایسے مناظر جگہ جگہ بیان کر کے مسلمانوں کو جھنجھوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مالک اشتر ایک دیدہ ور صحافی ہیں جن کے سینے میں ایک در مند دل دھڑکتا ہے، اس کا اثر کتاب پر بھی دکھائی دیتا ہے۔ عرض مصنف میں ہی انھوں نے انتہائی التجا کے ساتھ کہہ دیا ہے کہ یہ کتاب ان کی کوئی تحقیقی تصنیف نہیں ہے بلکہ براہ راست امت سے بات کرنے کا ایک وسیلہ اور ذریعہ ہے اور اس کا مقصد محض امت مسلمہ کو ان کا بھولا ہوا سبق یاد دلانا اور ضمیر کو جھنجھوڑنا ہے، جس میں یقینا مصنف کامیاب ہیں اور اس قدر عمدہ کتاب لکھنے کے لیے مبارکباد کے مستحق۔
کتاب کے کل چھ حصے ہیں اور ہر حصہ ایک دوسرے سے مربوط ہے۔پہلے مرحلے میں جدید تعلیم سے بے زاری، بھارتی مسلمان تعلیم کے میدان میں کہاں کھڑے ہیں؟، بھارتی مسلمانوں میں تعلیم: حالات اتنے کیوں بگڑے؟، مذہبی قیادت کو جدید علو م سے نفرت ہے؟ جدید تعلیمی نظا م پر اعتراضات کا جائزہ، سر سید اور مذہبی قیادت کا رویہ، جدید علوم سے لا علمی اور ایرانی تیل، ایک مسمار رصد گاہ کا قصہ، منطق اور فلسفے سے نفرت کی مثالیں، مسلم فلسفی اور سائنسدانوں کا حشر، سلطان سلیم ثالث کا عبرت ناک انجام۔
دوسرے مرحلے میں دینی تعلیمی نظام کے جھول، مدارس کے نظام پر ایک نظر، دین کیا مطالبہ کرتا ہے؟ رقومات شرعی سے بنے مدارس موروثی کیسے؟
تیسرے مرحلے میں تبلیغی رویوں میں افراط و تفریط، کیا مسلمان صرف آخرت کے لیے بنے ہیں؟ تبلیغ کے سلسلے میں مختلف رویے، عورتیں دوسرے درجے کی مخلوق نہیں۔
چوتھے مرحلے میں انتشار پسندی کی انتہا، مسلکی اختلاف ختم کیوں نہیں ہوتے؟، شیعہ سنی ٹکراو: تاریخ کا ایک سبق،عثمانیوں اور صفویوں کا جھگڑا: تاریخ کا ایک اور سبق، مذہب سے بیزاری، مسلک سے وفاداری۔
پانچویں مرحلے میں ترجیحات کے تعین کا مسئلہ، یورپ اور منگول مسلمانوں کے زوال کے ذمہ دار ہیں؟ مسلمانوں میں صرف جرنیل پیدا ہویے ہیں اہل علم نہیں؟ ہیرو چننے کے ہمارے پیمانے، جاگیرداری،زمین داری اور شرعی عدالت، ہمیں کیا چاہیے کالا جادو، یا سائنس؟،مسلم تنظیمیں غیر موثر کیوں؟ جمہوریت کے بارے میں واضح موقف نہیں، ذاتی اور قومی مفاد میں کس کو ترجیح۔
چھٹے مرحلے میں فکری عدم برداشت کا رجحان، مذہبی قیادت اور جارحیت کا ناطہ، تیرِ الزام سے کسی کو امان نہیں، جلسہ تقسیم اسناد برائے گمراہی و بے دینی، اختلاف رائے کا احترام کیوں نہیں؟ مسلمانوں کا اخلاقی زوال، ذات برادری اور قبائلی تعصبات، تو اب کیا کرنا چاہیے؟ جیسے موضوعات سے بحث کیے گئے ہیں، جو اپنے آپ میں مدلل، منطقی اور اپیل کرنے والے ہیں۔
کتاب میں دینی حلقوں کی جانب سے عصری علوم اور جدید تعلیم یافتہ افراد پر اٹھنے والے سوالوں کا بھی جواب دیا گیا ہے، مصنف کھری کھری اوربے لاگ لپٹ انداز میں اپنی بات کہنے کے قائل ہیں تو کہیں کہیں لہجہ بھی ذرا سخت ہو گیا ہے لیکن علاج کے لئے دوا کڑوی ہو تو اس کو گوارا کیا جا سکتا ہے۔ مصنف جگہ جگہ ماضی کے قصے چھیڑ کر مسلمانوں کو ان کی ناکامیوں اور کوتاہ اندیشیوں کو یاد دلاتے ہیں اوراس کے ازالے کے لیے اٹھ کھڑے ہونے کی ترغیب دیتے نظر آتے ہیں، وہیں ان کے بزرگوں کے اچھے کارناموں کا ذکر کرکے انھیں ہمت دلانا بھی نہیں بھولتے۔ اخیر میں لائحہ عمل اور حل کے طور پر جن چیزوں کی طرف نشاندہی کی ہے قابل عمل ہیں.
کتاب میں تحقیقی کتابوں،معروف محققین اور قلم کاروں کے حوالے بھی دیے گیے ہیں جو اس کو معتبر بناتے ہیں۔ مصنف کی بعض باتوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن بحیثیت مجموعی کتاب پڑھی جانے لائق ہے، خصوصی طور پر قائدین ملت اور دینی مدارس کے علماء و فارغین کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہئے۔کتاب کا مقدمہ معروف عالم دین مولانا حیدر عباس نقوی نے لکھا ہے جو خاصے کی چیز ہے۔ تقریبا دو سو صفحات پر مشتمل کتاب کی قیمت بھی اتنی ہی ہے۔ سر ورق عمدہ اور کاغذ معیاری ہے۔ کتاب امروہہ سے شائع ہوئی ہے اور آن لائن امیزون پر بھی دستیاب ہے۔

اثبات کااحیائے مذاہب نمبر

تبصرہ: شکیل رشید (ایڈیٹرروزنامہ ممبئی اردونیوز)

اثبات کی یہ خصوصی پیشکش نہ پڑھنا چاہیں تو نہ پڑھیں مگر
سوال تو اُٹھیں گے!
کیوں؟ اس لیے کہ ’’سوال ، جواب کا باپ ہے‘‘ یا باالفاظ دیگر ’’جواب معمولی ہوسکتا ہے مگر سوال معمولی نہیں ہوتا‘‘۔
واوین میں دئیے گئے جملے میرے نہیں مدیر اثبات اشعر نجمی کی ’اثبات‘ کی خصوصی پیشکش ’احیائے مذاہب: اتحاد، انتشار اور تصادم‘ کی پہلی جلد کے اداریے کے ہیں۔ یہ خصوصی پیشکش تین ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے جن کی مجموعی ضخامت 2384صفحات ہے اور قیمت 2000 روپئے۔
پہلی جلد کے ’اداریے‘ سے پتہ چلتا ہے کہ جو سوال اُٹھے یا اُٹھائے گئے وہ مذہبی روئیے، تصورات، فکر اور نظریات سے متعلق ہیں۔ اور اہم ترین سوال یہ ہیں کہ ’’کیا مذاہب اپنی خالصیت اور ابتدائی تعلیمات کو بدلتے ہوئے حالات اور نئے لوگوں میں تبدیلی مذہب کے بعد ان کو برقرار رکھ سکتے ہیں؟ اور کیا مذاہب بھی وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں؟ او رنئی اقوام اور برادریوں کے تبدیلی مذہب کے بعد ان کی رسوم ورواج اور ثقافتی اقدار و اداروں کو اپنے میں ضم کرتے رہتے ہیں؟‘‘۔ دوباتیں ہوسکتی ہیں، یا تو مذاہب وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں او رنئی اقوام اور برادریوں کے تبدیلیٔ مذہب کے بعد ان کی رسوم ورواج اور ثقافتی اقدار واداروں کو اپنے میں ضم کرلیتے ہیں، یا نہیں کرتے۔اگر کرتے ہیں تو مذاہب اور ان کی تعلیمات خالص نہیں رہ جاتیں۔۔۔اور اگر نہیں کرتے تو مذاہب وقت کے ساتھ چلنے کی بجائے وقت سے بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔۔۔لہذا ایک سوال یہ اُٹھتا کہ کیا اس سوال پر یا اس کشمکش پر غوروخوض کرکے ہر مذہب کے علماء نے کوئی حل یا کوئی راہ تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی ؟ اگر کی تو وہ راہ کیا ہے او راگر نہیں کی تو کیو ںنہیں کی؟
اشعر نجمی کا کہنا ہے ’’ہر مذہب میں احیائی تحریکوں کا جنم ہوتا رہا؛ کبھی اصلاحی تو کبھی تجدیدی اور کبھی عسکری توانائی کے ساتھ کوششیں ہوتی رہیں کہ یا تو متعلقہ مذہب میں نئی تبدیلیوں کے لیے گنجائشیں پیدا کی جاسکیں یا پرانی روایات کو نئی زندگی دی جاسکے تاکہ زوال پذیر ، فرسودہ اور مضمحل معاشرے کو حیات نومل سکے۔ لیکن سوال اُٹھتا ہے کہ کیا کبھی یہ خواب شرمندہ تعبیر ہوا‘‘؟ یعنی ان کے بقول نہ ہی تو متعلقہ مذہب میں نئی تبدیلیوں کے لیے گنجائشیں پیدا کی جاسکیں اور نہ ہی پرانی روایات کو نئی زندگی دی جاسکی۔ اور اس کی وجہ ’بنیادپرستی‘ ہے۔ ’بنیاد پرستی‘ یعنی خاص طریقے سے عمل کرنا یا ان تصورات کو ہی برحق سمجھنا جو بچپن ہی سے ذہن میں ڈالے جاتے ہیں۔۔۔اور یہ عمل اور تصورات بلاشبہ مذہبی اور نظریاتی ہوتے ہیں۔
’اثبات‘ کی اس خصوصی پیشکش کے ذریعے اشعر نجمی یہ چاہتے ہیں کہ سوال اُٹھیں، اختلاف رائے کو قبول کیاجائے اور ہرسوال کا کوئی مثبت جواب تلاش کیاجائے تاکہ نہ منفی اثرات قوم کی راہ میں رکاوٹ بن سکیں اور نہ قوم اپنی صفوں کو سیدھا کرنے کی ترغیب سے محروم رہے۔ چونکہ اشعر نجمی ایک مسلمان ہیں اس لیے مسلم معاشرے کی بات زیادہ ہوئی ہے اور ہونی بھی چاہئے تھی۔
پہلی جلد میں پانچ ابواب کے تحت پچاس مضامین شامل ہیں، ان میں سے چند ایک مضامین پر نظر ڈالنے سے پہلے ’اداریے‘ میں اُٹھائے گئے سوالوں پر کچھ باتیں کرلی جائیں۔ دل ایک سوال پوچھنا چاہتا ہے کہ نئی اقوام اور برادریوں کے تبدیلیٔ مذہب کے بعد ان کی رسوم ورواج اور ثقافتی اقدارواداروں کو ضم کرنے سے مذہب خالص کیوں نہیں رہ سکتا؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ نئی اقوام اور برادریاں جو تبدیلی مذہب کررہی ہیں وہ تبدیلیٔ مذہب کے ساتھ اپنے رسوم ورواج اور اقدار کو کیوں تبدیل نہیں کرسکتیں؟ میرا ان سوالوں کو پوچھنا اس لیے ہے کہ عام طور پر جو بھی نئی اقوام او ربرادریاں تبدیلیٔ مذہب کرتی ہیں ان میں سے اکثر اپنے رسوم ورواج اور اقدار سے بیزار ہوتی ہیں اور تبدیلیٔ مذہب کا ایک بڑا سبب یہی بیزاری ہوتی ہے۔ مثلاً ہندوئوں میں چھوت چھات کے رواج کی وجہ سے دلتوں کا کسی اور مذہب، مان لیں بدھ ازم قبول کرلینا!
’اداریے‘ میں تبدیلیوں کے لیے گنجائشوں اور پرانی روایات کو نئی زندگی دینے کا سوال بھی اُٹھایاگیا ہے۔ ایک ایسا خواب جو کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوا! کیا واقعی ایسا ہے؟ کیا کسی مذہب نےیہاں ،مذہب اسلام کی بات کرناچاہوں گا،گنجائشیں نہیں پیدا کیں؟ اب اگر گنجائشوں کا مطلب ’شریعت‘ کے ڈھانچے سے باہر نکل کر مغرب کی تقلید کرنا ہے ، تو یہ تو نہیں ہوا ہے، پر سماجی، ثقافتی، معاشی، تعلیمی اور تہذیبی سطح پر بہت ساری گنجائشیں پید ا کی گئی ہیں او ربہت ساری روایات کو اپنایاگیا ہے۔ پہلی جلد میں خالد تھتھال کا ایک مضمون بعنوان ’’فکر اسلامی: بند دروازے پر دستک‘‘ ہے جس میں وہ ایک جگہ لگتے ہیں ’’کبھی تصویر حرام ہوتی تھی، ریڈیو شیطانی آوازٹہری تھی، ٹی وی شیطانی ایجاد تھا جسے سرعام جلایاگیا لیکن بغیر کسی واضع اجتہاد یا اپنے پہلے فتاویٰ کی غلطی تسلیم کرنے کا تکلف کیے بغیر ان چیزوں پر یوں قبضہ کرلیاگیا ہے جیسے ان کے استعمال کا حکم مقدس کتابوں میں درج ہے‘‘۔ یعنی اس جلد کے ایک مصنف خالد تھتھال طنزاً سہی پر یہ مان رہے ہیں کہ گنجائشیں پیدا کی گئیں!
ٓاختلاف رائے ضروری ہے، سوال بھی اُٹھنے ضروری ہیں پر جب اختلاف رائے اور سوال دانستہ تلخ ہوں تو ’’اختلاف رائے فطرت کا قانون‘‘ نہیں رہ جاتا او رنہ اختلاف رائے یا سوالوں سے ’’ذہنی ارتقا‘‘ ہوتا ہے۔ خالد تھتھال کا مذکورہ مضمون جاندار اور معلوماتی ہے پر اکثر خیالات معتزلہ کے ہیں، وہی معتزلہ جو آزادی اظہار خیال کے داعی توتھے لیکن اسلام کے بنیادی عقائد پر سوال اُٹھانے کی بجائے انہیں مٹانے پر آمادہ تھے۔ خالد تھتھال آزادیٔ اظہار خیال کے نام پر جو باتیں کرتے ہیں ملاحظہ فرمائیں: ’’مغرب میں جمہوریت اور روشن خیالی در آئی، او رحق اظہار کی آزادی سے مذہب کے صدیوں پر انے تسلط کا خاتمہ ہوا؛ وہیں مسلمانوں کا سارا زور اللہ کی شریعت اور خلافت کے قیام پر ہوگیا‘‘۔ ہمیں مغرب کی ’جمہوریت‘ اور ’روشن خیالی‘ پر کچھ نہیں کہنا جہاں حضرت عیسیٰؑ کی ’توہین‘ جرم یہودیوں کے قتل عام کے سچ یا جھوٹ پر سوال اُٹھانا قابل گردن زنی اور دوسرے مذاہب کے پیشوائوں کی ’توہین‘ آزادی اظہار خیال اور یہودیوں کے ذریعے فلسطینیوں کا قتل عام محض ’جھوٹ‘ قرار پاتا ہے، اور روشن خیالی کا یہ عالم ہے کہ ماں، باپ، بیٹا ،بیٹی، ایک ساتھ ساحل سمندر پر عریاں ٹہلتے ہیں یا بغیر شوہر کے کوئی لڑکی ماں بن جاتی ہے، بس کہنا یہی ہے کہ اسلام کم از کم ایسی روشن خیالی اور اس طرح کے اظہار ر ائے کی آزادی سے پاک ہے۔ اختلاف رائے کے دوران مثبت انداز میں بحث تو ممکن ہے پر اگر ’دلیل‘ کو ’خدا کی منشاء کے سامنے جھکنے‘پر فوقیت دی جائے تو اختلاف رائے مثبت نہ ہوکر منفی ہوجاتا ہے۔ خالد تھتھال کے یہاں سارا اختلاف رائے ’منفی‘ ہے۔
راشد شاز کے مضمون ’’اسلام کا شیعی قالب‘‘ میں سارا زور اس بات پر ہے کہ جس طرح ہم شیعی اسلام کو تاریخ کا پروردہ کہتے ہیں اسی طرح دین کے دوسرے تاریخی قالب اور ان کے انحراف پر ہماری جبینیں شکن آلود کیوںنہیں ہوتیں؟ اس سوال پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔۔۔ویسے اگر راشد شاز کی بات مان لی جائے تو اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ مسلمانوں کی فرقہ بندیوں کی اصل وجہ سیاسی اور فکری انتشار ، اور اس حالت میں نئے فکری قلعے تعمیر کرنے کی کوششیں ہیں۔ باالفاظ دیگر فرقہ بندی کی اصل وجہ ’دین‘ نہیں سیاسی محرکات ہیں۔ پر ان سیاسی محرکات کو تقویت یقیناً مذہب ہی سے ملی ہوگی اور شاید اسی لیے اب فرقہ بندیاں خالص مذہبی بنیادوں پر قائم ہیں۔ یہ مضمون ادھورا سا لگتا ہے پر بہت سے سوالات اُٹھاتا ہے۔
جلد دوم کا اداریہ ’’سینہ چاک اور تاریخ کے پیوند‘‘ کے عنوان سے ہے، اس میں مسلمانوں کے عروج وزوال کے اسباب کےحوالے سے بات شروع کی گئی ہے۔ اشعر نجمی کا یہ دعویٰ ہے کہ ’’ابھی دو صدی پہلے تک مسلمانوں کا سینہ (اپنی تاریخ پر) فخر سے پھول جایا کرتا تھا لیکن برا ہو اس انٹرنیٹ ، اور سوشل میڈیا کا جس نے مسلمانوں کو تاریخ ہی سے متنفر کردیا۔ اب وہ اپنے ہی اس بیش بہا اثاثے سے برأت کا اظہار کرتے آرہے ہیں‘‘۔ ممکن ہے ایسا ہو، ممکن ہے کہ ’’ماضی کی عظمت اور شان وشوکت کے تذکروں کا اثر یہ ہوا (ہو) کہ ہمارے معاشرے میں جھوٹی انا اور بے جا فخر کے احساسات پیدا ہوئے (ہوں)‘‘ پر کیا یہی زوال کے اسباب ہیں؟ کیا مسلم پرسنل لاء کا قیام واقعی مسلمانوں کو زوال کی سمت لے جارہا ہے؟ کیا واقعی اپنی تاریخ سے آنکھیں چار کرکے ہی دنیا میں اپنا مقام بنایاجاسکتا ہے؟ او ریہ نئے عہد کے پیمانے اور وقت کے تقاضے کیا ہیں؟ یہ سوال بے حد اہم ہیں، پر ان کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کم کم نظر آتی ہے۔ اگر دوسری جلد میں ہربنس مکھیا کے مضمون ’’ہندوستان میں اسلام کی اشاعت کے اسباب‘‘ پر نظر ڈالی جائے تو وہ مسلمانوں کے ماضی اور حال (جس سے جھوٹی انا اوربے جا فخر کے احساسات پیدا ہوئے) کے حوالے دے کر ایک جگہ لکھتے ہیں ’’چھ ہزار علماء نے فتویٰ دیا کہ دہشت گردی اسلام کے خلاف ہے، تویہ ہندوستانی اسلام کا مزاج ہے، یہ وہ قدر ہے جو ہندوستان کی دھرتی سے جڑی ہوئی ہے، ہندوستان کی زمین سے پیدا ہوئی ہے، جس نے ہندوستان کے نہ صرف مسلمانوں کو بچا کر رکھا ہوا ہے بلکہ ہندوستانیت کو بچا کر رکھا ہوا ہے، جس پر ہمیں فخر ہوناچاہئے‘‘۔ ہر بنس مکھیا ’فخر‘ کرسکتے ہیں توہندوستانی مسلمان کیوں اپنے کسی کارنامے پر ’فخر ‘ نہیں کرسکتے؟ کرسکتے ہیں، ہاں اس فحر میں جھوٹی انا نہیں ہونی چاہئے اور نہ یہ فخر بے جا ہونی چاہئے۔ جلد دوم میں ’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘ کے باب میںکئی اہم مضامین ہیں۔ ایک باب ’تابہ خاک کاشغر‘ کے عنوان سے ہے جس میں مسجد اقصیٰ اور یہود اور امت مسلمہ، طالبانی کلچر، سعودی عرب میں اسلام، امریکہ میں اسلام او رمسلمان، روہنگیا مسلمان وغیرہ پر مباحث ہیں۔ ایک اہم باب ’ہندو، ہندو تو اور ہندوستان‘ کے عنوان سے ہے جس میں سنگھ پریوار، ہندو مذہبی تحریکوں، ایودھیا قضیہ، ہندوراشٹر موضوع بحث ہیں۔ سکھوں، عیسائیوں اور یہودیوں وغیرہ کی مذہبی آزادیوں پر مباحثے کےلیے بھی ایک باب ہے۔ جلد سوم میں اداریہ کا عنوان ہے ’’کوئی آداب تشدد ہی سکھادے ہم کو‘‘ اس میںاشعر نجمی اس بات پر زور دیتے ہیں اور بجا دیتے ہیں کہ مسلمانوں کو فساد اورتشدد کے مذہبی جواز اور نظریاتی اسباب دریافت کرنے کی بجائے قرآن پاک کی اس تنبیہ کو یاد رکھناچاہئے : ’’پھر اگر تم منہ پھیروگے تو جو مجھے دے کر بھیجا گیا تھا وہ تمہیں پہنچا دیا او رمیرا رب تمہاری جگہ اور قوم پیدا کردے گا اور تم اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکوگے۔ بے شک میرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے‘‘ (سورہ ہود: 75)۔۔ جیسا کہ اداریے سے ظاہر ہے اس جلد میں جہاد، فرقہ وارانہ کشیدگی اور دہشت گردی پر سوال قائم کیے گئے ہیں۔ اس جلد میں ’محبت‘ کی تلقین کی گئی ہے اور ’تخلیقی اظہار‘ کے تحت اردو اورمختلف زبانوں سے موضوع کے مطابق اچھا ادب پیش کیاگیا ہے۔ یہ تینوں جلدیں سوال اُٹھاتی ہیں۔ اختلاف رائے پر زور دیتی ہیں۔ خدا کرے کہ اس طرح کا آزادانہ اظہار خیال واقعی غوروفکر اور اصلاح کے در وا کردے۔ (آمین)
خصوصی پیشکش اگر کوئی نہ پڑھنا چاہے تو نہ پڑھے مگر میرے خیال میں اس کا پڑھنا مختلف نقطۂ ہائے نظر سے واقفیت کےلیے ضروری ہے۔ یہ تینوں جلدیں کسی کی دل آزاری نہیں کرتیں ہاں بعض مضامین تلخ ہیں۔ ٹھیک ہے تلخ ہوا کریں کہ اس طرح تلخ جواب دینے کےلیے دروازے کھل گئے ہیں۔۔۔لیکن اگر تلخی سے بچ سکا جائے تو زیادہ بہتر ہے کیوں کہ اختلاف رائے کا اصل مقصد تلخی نہیں افہام وتفہیم اور ایک دوسرے کو سمجھنا ہے۔۔۔’اثبات‘ کی اس خصوصی پیشکش کو اشعر نجمی سے یا پھر مکتبہ جامعہ (9082835669)سے حاصل کیاجاسکتا ہے۔

کیفی اعظمی پر انگریزی میں ایک یادگار کتاب

تبصرہ: رحمن عباس
معروف انگزیزی شاعر، صحافی، مترجم اور ایڈیٹر سدیپ سین کی تازہ کتابNew & Selected Translations Kaifi Azmi Peom/ Nazms کی اشاعت کو ابھی چند ماہ گذرے ہوں گے؛ لیکن ملک کے کئی اخباروں میں اس کتاب پر کافی مثبت تبصرے شائع ہوئے ہیں اور سنجیدہ ادبی حلقوں میں کتا ب کی پذیرائی ہو رہی ہے۔ کیفی اعظمی بلاشبہ ترقی پسند تحریک اور شاعری کی ایک اہم آواز رہے ہیں۔اردو شاعری کی روایت اور تاریخ میں ترقی پسند ادب پر جب بھی مکالمہ ہوتا ہے اور جن اہم ترقی پسند شعرا کا تذکرہ ہوتا ہے، ان میں کیفی اعظمی کو فی الحال نظر انداز نہیں کیا گیا ہے، حالانکہ جدیدیت کی شعری روایات کیفی اعظمی اور دوسرے ترقی پسند شاعروں کی شعریت سے انحراف ہے۔ میری خوشی قسمتی ہے کہ کالج کے دنوں میں کیفی اعظمی کو دیکھا بھی ہے اور ان کا کلام ان کی زبان سے سنا بھی ہے۔ دوسری طرف سدیپ سین میرا دوست ہے اور مجھے خوشی ہے اس کی کیفی اعظمی پر کتاب ترقی پسند شاعری کی ایک البیلی صدا ئے دل گداز کواردو کے باہر پھیلانے میں معاون ثابت ہوگی۔ سدیپ سین خود بہت اچھے شاعر ہیں اور دو درجن سے زیادہ غیر ملکی زبانوں میں ان کا کلام ترجمہ ہو کر شائع ہو چکا ہے، وہیں ان کی شاعری اور نثر پر وہ متعدد انعامات سے نوازے گئے ہیں۔
مذکورہ کتاب میں سدیپ سین کے ساتھ حسین میر علی، بیدار بخت، سومنترا گھوشال اور پریتش نندی کے تراجم شامل ہیں۔کتاب بلومسبری جیسے مؤقر طباعتی ادارے سے شائع ہوئی ہے اور دیدہ زیب ہے۔ کتاب کیفی اعظمی کی صد سالہ تقریبات کے پس منظر میں منظرعام پر آئی ہے اورسدیپ سین نے بڑی ذکاوت سے کیفی اعظمی کی شخصیت کا احاطہ 100 Years of Kaifi Azmi’ ‘ کے عنوان سے کیا ہے اور کچھ اہم تصاویر کا انتخاب ‘Bibliography & Photo Album’ میں ہے،جو کتاب کی خوب صورتی میں اضافے کا سبب ہے۔
سدیپ سین کیفی اعظمی کا تعارف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بچپن میں انھوں نے اپنی ماں کی زبان سے کیفی اعظمی کا نام سنا تھا، جب ان کی ماں نے کیفی اعظمی کی نظم ’عورت‘ کی قرات درگاہ پوجا کے موقع پر کی تھی۔ اسی وقت کیفی اعظمی کا آہنگ سدیپ سین کے ذہن میں ہمیشہ کے لیے سما گیا۔ اس کتاب کی ترتیب کا خیال انھیں تب آیا،جب امسال ان کی ملاقات شبانہ اعظمی اور جاوید اختر سے ایک تقریب میں ہوئی اور دوران گفتگو شبانہ اعظمی نے انھیں بتایا کہ صد سالہ تقریبات کا سلسلہ سال بھر جاری رہے گا۔ حالانکہ سدیپ اس سے پیشتر بھی کیفی اعظمی کو انگریزی میں ترجمہ کر چکے تھے۔کتاب میں سدیپ نے جہاں نظموں کے انتخاب پر توجہ دی ہے، وہیں دوسرے اہم مترجمین کے کام کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا ہے۔ تعارف میں مختصراًکیفی اعظمی کی سوانح بھی پیش کی گئی ہے؛ تاکہ وہ افراد جو ان کی شخصیت سے واقف نہیں ہیں، انھیں کیفی اعظمی اور ان کے افکار کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ اسی طرح انگریزی کے ساتھ ساتھ دیوناگری میں بھی نظموں کو شائع کیا گیا ہے؛تاکہ ہندی والے بھی کیفی کے شعری آہنگ سے لطف اندوز ہو سکیں۔

شکیل الرحمن کی رومی شناسی

حقانی القاسمی

ترکی کے شہر قونیہ میں ایک آستانے کے دروازے پہ یہ شعر لکھا ہوا ہے:
کعبۃ العشاق باشد ایں مقام
ہر کہ ناکس آمد ایں جا شد تمام
وہیں ایک پتھر کی تختی سے گہرے بادامی رنگ کے دو عمامے بندھے ہوئے ہیں اور پاس ہی ایک قبر ہے جو ابھی تک حالت قیام میں ہے۔ یہ دونوں عنبر فشاں عمامے دونوں جہان کو محیط لگتے ہیں۔ یہیں وہ زندہ قبر بھی ہے، جہاں سے پرسوز آوازیں، جاں سوز الفاظ، درد مند نالے آج بھی عشق کائنات میں گونجتے ہیں۔
قونیہ کی قبر میں مدفون یہ ہستی ایک ایسا تہذیبی ثقافتی استعارہ اور فکری فینومینا بن گئی ہے، جس کے محور پر تاریخ، تہذیب اور شعریات گھومتی ہے اور جن کے تخیل کا طیف پوری کائنات پر سایہ فگن ہے، جن کے سوز پہ اب مغربی ساز بے تحاشا تھرک رہا ہے۔ یہ مشرقی دانش کی عظمت کی ایک پرنور علامت ہیں، جن کی حکمت سے کسب فیض کرنے والوں کی تعداد بے شمار ہے اور جس کے سوز میں کائنات کا مستقبل مضمر ہے۔ یونان کے پنڈار، اناکریون، سافو، الکایوس، سائمہ نائڈز جیسے تخلیق کار اب عہدِ پارینہ کا قصہ بن گئے ہیں۔ رومی، حافظ اور فردوسی کے نغموں نے اب ان صنادید یونان کو کم تر اور کہتر ثابت کردیا ہے۔ اُن کی مثنوی مانندِ الہامی صحیفہ ہے، جس میں اسرار کا خزانہ مستور ہے۔ دنیا کی ادبی، فکری، ثقافتی تاریخ میں یہ وہ کتاب ہے، جس کا نورانی ہالہ از کراں تا کراں روشن ہے اور اس کی ضیا فشانی سے کائنات منور ہے۔
مولانا رومی بلند پایہ معلم اور اسرار کائنات کے کشاف اور رمز شناس تھے۔ اُن کے تخلیقی، تہذیبی اور فکری شعور کی تفہیم ہر کسی کے لیے ممکن نہیں۔ اُن کے تخلیقی،فکری، آفاقی شعور کی کلیت کے ادراک کے لیے ذہن رسا ہی نہیں؛ بلکہ ایک بیدار دل کی ضرورت ہے، ایک ایسے بیدار دل کی جس میں کائنات کی ساری دھڑکنیں سمائی ہوئی ہوں۔ ایسی کائنات گیر دھڑکنوں والے انسان کا نام شکیل الرحمن ہے۔ آج کے دورِ زوال میں یہ وہ باکمال انسان ہیں، جنہوں نے مولانا رومی کو اپنے دروں میں جذب کیا ہے۔ اُن کے عشقیہ نغموں کے مضراب کو اپنے سینے میں سجایا ہے۔ ان تخلیقی جمالیاتی جہتوں کا معنیاتی اکتشاف کیا ہے،جو مکتوم و مستور تھے۔ کسی بھی تخلیق کی جمالیاتی جہت کے اکتشاف کے لیے اعلیٰ درک اور عرفان کی ضرورت پڑتی ہے۔
مولانا رومی کا تخلیقی پرسونا اس قدر بلند اور مرتفع ہے کہ بہت سے ادب شناسوں کے ذہنی مطاف میں سما ہی نہیں سکتے۔ ان کی تخلیقی حسیت، اساطیری بصیرت، حکایتی رمزیت اور داستانی سریت کی کشفیت ایک ایسے ہی ذہن سے ممکن ہے،جس کی وسعتوں میں کائنات کے اسرار کا ادراک بھی شامل ہے۔ مولانا رومی کی تخلیقی شخصیت اور فکری وجود کے پراسرار ابعاد کو آشکار کرنا بہت مشکل کام ہے۔ اس مشکل معرکے کو سر کرنے کے لیے لسانی آگہی یا زبان شناسی ہی کافی نہیں؛بلکہ مشرق کی ادبی، ثقافتی، تہذیبی روایت کا عرفان، شعور اور ادراک بھی ضروری ہے۔ شکیل الرحمن نے بڑا کارنامہ یہ انجام دیا ہے کہ مولانا رومی کی تخلیق کے اوج، موج اور تلاطم کو اپنی تحریر سے آشکار کیا ہے۔
رومی کی جمالیات کے تناظر میں شکیل الرحمن کا تنقیدی ادراک اور ادبی عرفان نہایت روشن،تابناک اور رخشندہ نظر آتا ہے۔ رومی کی جمالیات اپنی نوعیت کی ایسی منفرد کتاب ہے،جو صرف رومی شناسی نہیں؛ بلکہ تہذیب، تمثیل اور تخلیق شناسی کی ایک نئی جہت کی تفہیم میں معاون ثابت ہوگی۔ اس تخلیق کی تہہ میں جو جمالیاتی جہات اور بطون میں جو اسرار مضمر ہیں، ان کے اکتشاف کی ایک برومند کوشش ہے۔ انہوں نے تصوف سے مولانا رومی کی گہری وابستگی پر گفتگو کرتے ہوئے تصوف کے جمالیاتی ارتعاشات کو اظہارات کا لمس عطا کیا ہے اور اس کی جمالیاتی سریت کی کشفیت سے مولانا رومی کے تخلیقی باطن تک رسائی حاصل کی ہے۔
مولانا رومی کی تخلیق کا جوہرِ اصلی عشق ہے۔ عشق کی کیمیا گری اس تخلیق میں مکمل طور سے موجزن ہے۔ یہی عشق ہے جو انسان کے وجود کو تزکیہ اور تطہیر کے مرحلوں سے گزارتا ہے اور ایک ایسا آئینہئ شفاف عطا کرتا ہے، جس میں انسان کو اپنی ذات اور کائنات کی سریت نظر آتی ہے۔ رومی کی تخلیق کا سارا حسن، اس باطن کا حسن ہے، جس میں پوری کائنات آباد ہے اور اسے عشق کے آب نے مزید تابانی اور رعنائی عطا کی ہے۔
شکیل الرحمن نے رومی کی جمالیات میں مختلف تمثیلی حوالوں سے مولانا رومی کی ذہنی دراکی، طبعی ذکاوت اور فراست کے شواہد پیش کئے ہیں۔ حضرت یوسف، حضرت موسیٰ کا تمثیلی حوالہ کافی معنی خیز ہے اور اِن دونوں کے حوالوں سے مولانا رومی کے ذہنی اور فکری وجود میں پھیلے ہوئے نورانی ارتعاشات کی تجسیم ممکن ہے۔ انہوں نے رومی کے تخلیقی کمالات، فکری مدرکات اور عرفانیات کی تمام تر شکلوں کو اپنے مخصوص طریقِ نقد سے واضح کیا ہے۔
شکیل الرحمن ایک تفرد آشنا، اضطراب آسا ذہن رکھتے ہیں اور اُن کے ذہن کا اضطراب اور ان کی آشفتہ جولانی ہی انہیں تخلیق کی نئی نئی جہتوں کے انکشاف کی ترغیب دیتی ہے اور وادیئ امکاں کی سیر کراتی ہے۔ وہ اس اعتبار سے بہت ہی خوش طالع ہیں کہ انہوں نے ادب کی ایک ایسی جہت کو اپنایا ہے جس میں اُن کا مقابل آئینہ ہی ہے۔ تخلیق کے بطون میں مضمر جمالیاتی تہوں کا شعور اور اس کا ادراکی اظہار بہت کم ذہنوں کو میسر ہے،مگر شکیل الرحمن کے بالیدہ ذہن نے تخلیق کے بحرِ حسن میں غواصی کرکے اس کے تمام جمالیاتی اطراف و اکناف کو اس کی کلیت کے ساتھ پیش کردیا ہے اور تخلیق پر طاری نزع کی کیفیت کو حیات سے تبدیل کردیا ہے۔ تخلیق کو اپنے لفظوں کے آکسیجن سے زندگی عطا کرنا ہرکسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ اسی لیے شکیل الرحمن کو پڑھتے ہوئے وہ تخلیقات بھی جن کے چہروں پر مردنی سی چھائی رہتی ہے، توانا، تابندہ اور زندہ نظر آنے لگتی ہیں۔ یہ ان کی نگاہ کا کرشمہ ہے کہ مرجھائی ہوئی پژمردہ تخلیق میں بھی وہ جمالیاتی جوہر تلاش کرلیتے ہیں۔
شکیل الرحمن صاحب کسی بھی تخلیق کو پرکھتے ہوئے باطنی آنکھ کو بیدار رکھتے ہیں۔ مولانا رومی کی فکری تخلیقی جمالیات پر جس باریک بینی اور تنقیدی نشاط آفرینی کے ساتھ انہوں نے روشنی ڈالی ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تخلیق کی پرکھ کا معیار عام پارکھوں سے مختلف ہے اور پھر یہی نہیں بلکہ’پیش نظر ہے آئینہ دائم نقاب میں‘ والی کیفیت ان پر طاری رہتی ہے۔ وہ تخلیق کی ظاہری سطحوں کو مس نہیں کرتے؛بلکہ اُس کی تمام ممکنہ سطحوں کو اپنے اکتشافی جمالیاتی زاویہئ نگاہ سے دیکھتے اور پرکھتے ہیں۔ مولانا رومی کی تخلیقی جمالیات کو بھی انہوں نے دل کی آنکھ سے دیکھا ہے اور اس حسن کو محسوس کیا ہے، جو عام نگاہوں میں نہیں سما سکتا۔ مولانا رومی کے جمالیاتی نظام کے بارے میں یہ باکیف،وجد آفریں اقتباس پڑھئے:
”مولانا رومی کی غزلوں میں جو پیکر اور استعارے ملتے ہیں، وہ بہت جانے پہچانے ہیں۔ مثلاً شراب، ساقی، موتی، سمندر، آفتاب، مہتاب، شب، صبح، کارواں، محبوب، معشوقہ، لب شیریں، غمخوار، خورشید درخشاں، افسوں، گل، گلستاں، مطرب، درویش، کفر، ایمان، روح، چنگ، زخمہ، تار، یوسف، موسیٰ، فرعون، قارون، سلطان، عیسیٰ، سلیمان وغیرہ۔ مولانا رومی کی غزلوں کا مطالعہ کرتے ہوئے اس سچائی کا احساس ہوتا ہے کہ وہ ان صوفی شعرا سے مختلف ہیں، جو اپنے صوفیانہ تصورات و خیالات کو غزلوں میں سموتے رہے ہیں۔ مولانا رومی اپنی غزلوں میں صوفیانہ خیالات شعوری طور پر شامل نہیں کرتے۔ وہ غزل کے ایسے منفرد شاعر ہیں جو اپنے حسی اور جمالیاتی تجربوں سے قاری کے احساس جمال کو متاثر کرتے ہیں، قاری کے جمالیاتی وژن میں ایسی کشادگی پیدا کرنا چاہتے ہیں،جس سے وہ اوپر اٹھے اور شاعر کے ان تجربوں کو چھو لے جو تصوف کی جمالیات کے رسوں سے لبریز ہیں۔ مولانا رومی کے استعارے اور پیکر ارضی ہیں؛ لیکن وہ اپنے ’وژن‘ کو کبھی ارضی پیکروں اور استعاروں سے وابستہ کرکے نہیں رہ جاتے؛بلکہ ان کی شاعری اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ قاری کی خود ایسی روحانی اٹھان ہو جو شاعر کے حسی، نفسی اور جمالیاتی تجربات سے رشتہ قائم کرلے، یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار میں کئی جمالیاتی سطحیں ملتی ہیں، قاری کا رشتہ کبھی ایک اور اور کبھی ایک سے زیادہ سطحوں سے قائم ہوجاتا ہے۔ مولانا رومی کی غزلوں کا مطالعہ کرتے ہوئے مجھے بڑی شدت سے محسوس ہوا کہ ان کی غزلوں اور ان کی غزلوں کے اشعار کا ترجمہ صرف خیالات کی وضاحت کسی طرح کرسکتا ہے۔ ان کے آہنگ اور تجربوں کے جمال کو پیش نہیں کرسکتا۔ ’دیوانِ شمس‘ میں جمالیات کا ایک نظام قائم ہے اور اس جمالیاتی نظام میں آہنگ (Rythm) کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ اشعار پڑھتے ہوئے جمالیاتی تجربے تو جمالیاتی آسودگی بخشتے ہی ہیں، آہنگ بھی بڑا جمالیاتی انبساط بخشتا رہتا ہے۔ تجربے اور آہنگ دونوں کا سرچشمہ متصوفانہ توانائی (Mystical Energy) ہے کہ جس کی پہچان آسان نہیں ہوتی۔ بہت سی غزلوں میں الفاظ دہرائے گئے ہیں۔ دہرانے کے عمل کا تعلق وجود کی وجد آفریں کیفیت سے ہے، لفظوں کے دہرائے جانے سے وجد طاری ہونے لگتا ہے، اس عمل کے تحرک کا تعلق روحانی کیف سے ہے، اشعار پڑھتے اور گنگناتے ہوئے ایک عجیب مسرت حاصل ہوتی ہے۔ لگتا ہے اپنے وجود سے باہر پروازکرتے جارہے ہیں۔“
جلال الدین رومی کے فکری تصورات اور ذہنی تخیلات کے اثرات ہماری ادبی اور تخلیقی دنیا پر بہت گہرے ہیں۔ طویل مدت گزرنے کے باوجود بھی اُن کی تخلیق میں شعور کی عصریت اور ماورائی عصریت کا شعور زندہ ہے۔ اُن کی تخلیق میں اُن کا آئینہ ادراک روشن ہے۔ اس لیے اُن کی تخلیق زماں و مکاں کی حدبندیوں سے ماورا اور لسانی سرحدوں سے بھی پرے ہے۔ خیالات کی کوئی قومیت، نسل نہیں ہوتی اور نہ ہی احساسات اور مدرکات کا کوئی مذہب ہوتا ہے۔ مولانا رومی کے نغموں نے بھی انسانوں کے اختراع کردہ تمام مصنوعی دائروں اور لکیروں کو پار کرکے اُن تمام ذہنوں میں اپنی جگہ بنا لی ہے، جنہیں انسانیت کی تمثال کہہ سکتے ہیں۔ رومی کی جمالیات ایک ایسی بازدید اور بازیافت ہے جس کی توفیق ہمارے عہد میں بہت کم لوگوں کو میسر آئی ہے۔ مولانا کی تخلیقی جمالیات کا اکتشافی اظہار پہلی بار ایک ایسے ذہن اور دل سے ہوا ہے جو منور بھی ہے اور پرسوز بھی۔ اُن کی تنقید میں تخلیقیت کی اتنی گہری آمیزش ہے کہ دونوں کے درمیان کی دیواریں ٹوٹتی سی نظر آتی ہیں۔ دراصل تخلیق کی کلیت اور وضعیت سے یہی ارتباط، شکیل الرحمن کو نقادوں کے ہجوم میں اپنی ایک الگ شناخت عطا کرتا ہے۔ اُن کے اسلوب کا حسن، اظہار کا جمال، خیال کی رعنائی و زیبائی اور لفظوں کے فطری بہاؤ کا جواب نہیں۔ اُن کے لفظ ویسے ہی رقص کرتے ہیں جیسے کف زناں رقصاں زتحریک صبا۔
سچ کہوں تو شکیل الرحمن نے اپنے مخصوص انداز میں بے ہنگم آوازوں کے شور میں جو ”تنقیدی دف“ بجایا ہے، اُس کی آواز دیر سویر ہر طرف گونجے گی۔ ان کی تنقید میں لفظوں کا ایسا پراسرار، مترنم اور وجد آفریں رقص ہے کہ ان کی تنقید کے مدھوبن میں تخلیق کی گوپیکائیں سکر میں سرشار جھومنے لگتی ہیں۔ اس تنقید میں زلیخائی جنونِ عشق بھی ہے اور حسن یوسفی بھی اور کسی بھی تخلیق کو یہی زلیخائی نظر چاہیے جو شکیل الرحمن کو میسر آئی ہے۔
شکیل الرحمن، مشرق و مغرب کے جمالیاتی فلسفوں اور رویو ں کے رمز شناس ہیں۔ یہ اپنے میدان کے فرد وحید، تنقید کے کوکب دری ہیں جن کے تنقیدی ادراک کا عرفان صحیح اگلے زمانے میں ہوگا جب دل کے ساز پر لکھنے والے نہیں رہیں گے اور جب عشق کی تجلیاں اور بے کرانیاں نہیں ہوں گی۔ شکیل الرحمن کے تجلی قلب سے نکلے ہوئے یہ گنجینہ اسرار لوگوں کے لیے نعمت غیرمترقبہ ثابت ہوں گے اور لوگ اس تنقید کی تخلیق کے اندر اپنی ثقافتی، تہذیبی اور فکری حسیت تلاش کریں گے۔
مولانا رومی نے ہمیشہ تمثیلات اور حکایات سے حیات و کائنات کے اسرار کی معنویت دریافت کی ہے اور نئے مفاہیم خلق کئے ہیں۔ بقول شکیل الرحمن:
”مثنوی مولانا روم، کے قصوں، حکایتوں اور کہانیوں کو پڑھتے ہوئے یہ بات بڑی شدت سے محسوس ہوتی ہے کہ مولانا رومی ایک مسعود شعور یا Blissful Consciousness رکھتے ہیں اور اس کی بنیاد اس محبت پر ہے جو انسان کے لیے دل کی گہرائیوں میں پوشیدہ ہے۔ قصوں میں تلخی اور مٹھاس کی آمیزش ایسی ہے کہ قاری جمالیاتی انبساط حاصل کرنے لگتا ہے۔ مولانا رومی اپنی شاعری کی عظمت اور اشعار کی زرخیزی کی وجہ سے دنیا کے ایک بڑے شاعر ہیں، حکایتوں، قصوں کی کہانیوں میں جو حالات پیدا ہوتے ہیں ان سے قاری کی تخلیقی وابستگی فوراً ہوجاتی ہے۔ اس کا ایک سبب اظہار کی بے ساختگی یا بے ساختہ اظہار ہے۔ اسلوب کی سادگی، فطری امیجری اور پیش کش کے انداز میں ستھرائی صفائی سے اشعار پرکشش بن گئے ہیں۔ تجربے کی پیش کش میں زبردست بہاؤ ہے، اشعار تجربوں کے آہنگ کی وجہ سے پرآہنگ اظہار کی عمدہ مثال بن گئے ہیں۔ مولانا کے قصوں کہانیوں میں ڈرامائی کیفیتوں نے بڑی جان پرور کیفیت پیدا کردی ہے۔ یہ ڈرامائی کیفیتیں ایسی ہیں کہ قاری واقعات و کردار کو دیکھتے ہوئے، کرداروں کی گفتگو سنتے ہوئے، وقت اور مقام کو بھول جاتا ہے، ڈرامائی تکنیک کا کرشمہ ہے کہ احساس میں بڑی شدت پیدا ہوجاتی ہے۔ مولانا کی عمدہ ترین کہانیاں اور تمثیلیں وہ ہیں کہ جن میں اس عظیم تر سچائی (Higher Truth) کی پہچان ہوتی ہے کہ جسے فنکار نے اپنے روشن وجدان پر محسوس کیا ہے۔“
اپنے آرٹیکل کا ”ایپی لاگ“ لکھتے ہوئے میں ابن عرب شاہ کی اس تمثیل کا حوالہ دوں گا جس سے سر ولیم جونز نے متاثر ہوکر ”سیون فاؤنٹینس“ لکھا تھا۔ جس میں ایک نوجوان چھ دروازوں کا چکر لگانے کے بعد ساتویں در پر پہنچتا ہے تو اس کی آنکھ کھلی کی کھلی رہ جاتی ہے۔ وہ جو کچھ دیکھتا ہے وہ سب اسے طلسماتی خواب نظر آتا ہے۔ وہ ساتواں در جس میں کائنات کا سارا خزانہ ہے ہر کوئی نہیں کھول سکتا۔ شکیل الرحمن نے بھی تخلیق کے اس ساتویں در کو کھولنے کی کوشش کی ہے جس میں طلسمات اور تحیر کی تابناک کائنات آباد ہے اور اس ساتویں در تک صرف وہی فرد پہنچ سکتا ہے جس کا ذہنی وجود عقل کے آب اور عشق کے التہاب کا امتزاج ہو۔
آج جب کہ مولانا رومی کی تمثیل کے مطابق ہماری تنقید کی کشتی اور اس کے مسافر ہزاروں شب کی سیرکے بعد بھی ایک ہی کھونٹے سے بندھے ہوئے ہیں۔ ایسے میں اس کشتی سے الگ اپنے پاؤں کے سہارے قدم آگے بڑھانے کا حوصلہ یقینا قابل تحسین اور مبارک باد ہے۔
تخلیق کا دروازہ کھلا ہوا ہے،مگر لوگوں کی آنکھیں بند ہیں…
شکیل الرحمن اُس کھلے ہوئے دروازے میں بیدار آنکھوں کے ساتھ داخل ہوگئے ہیں اور طلسماتی تحیرات کا جمالیاتی اکتشاف کررہے ہیں۔ آج کی ادبی غنودگی اور نیم خوابیدگی کے ماحول میں اس ’بیداری‘ کی کتنی اہمیت ہے، اس سے ارباب خرد اور اہل جنوں دونوں واقف ہیں۔
E-mail:haqqanialqasmi@gmail.com
Cell:9891726444

ٹی این راز کے تخلیقی تیرونشتر

حقانی القاسمی
تخیل اور تحیر —طنزو مزاح کے دو مرکزی نقطے ہیں اور یہی دونوں اسے معنویت عطا کرتے ہیں۔ تخیل کی قوت پر طنزو مزاح کا سارا انحصار ہے اور یہ قوت آزاد فضا میں پروان چڑھتی ہے کہ بقول ممتاز شیریں ’تخیل قید میں بارآور نہیں ہوسکتا۔ ذہنی آزادی فنا ہوجائے تو ادب مرجاتا ہے۔‘یہ قوت جتنی شدید ہوگی، طنزو مزاح اتنا ہی گہرا ہوگا اور تحیر جتنا زیادہ ہوگا طنزو مزاح کی کیفیت اور اس کے طلسماتی اثر میں اتنا ہی اضافہ ہوگا۔ تخیل کے نئے جزیرے کی جستجو کے بغیر طنز نگار کا کام مکمل نہیں ہوتا۔ غیر محسوس منقطے تک رسائی صرف اور صرف طنز و مزاح نگار کی ہوتی ہے۔ ایک عبقری اور جینئس ہی سچا طنز نگار ہوسکتا ہے کہ طنز و مزاح قوت ادراک کی آزمائش کا نام ہے۔ اس کا سارا تعلق ذہنی نظام اور اس کی ڈائنامکس سے ہے۔
ہرعہد میں طنز ومزاح کے موضوعاتی مرکز و محور بھی الگ رہے ہیں۔زمانہ بدلاتوموضوعات بدلے، ترجیحات تبدیل ہوئیں، طرز فکر و احساس میں تغیر رونما ہوا۔ لسانی تکثیریت کے تجربے بھی ہوئے اور قدیم شاعر وں کے مضامین کو نئی شکلیں بھی دی گئیں۔ قدیم زمانے میں طنزو مزاح کے موضوعات بہت محدود تھے۔ شیخ اور واعظ ہی ان کے طنز کا محورتھے، مگر نئے زمانے میں موضوعات کی کثرت ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آج کے زمانے میں ہر سطح پر ناہمواریاں زیادہ ہیں۔
ٹی این رازطنزومزاح کے معتبر شاعر ہیں جنہیں اقدار کا گہرا شعور ہے۔ ان کا مشاہدہ وسیع ہے اور تجربہ میں تنوع ہے۔بدلتی ہوئی نفسیات، تبدیل ہوتی سائیکی خاص طورپر سماج اور سیاست کی سائیکی پر ان کی گہری نظر ہے۔ معاشرتی تضادات، کشمکش، تناؤ، استحصال، ظلم، مفاد پرستی، روز مرہ کے مسائل، سماج کی شعبدہ بازیاں، منافقت، رشوت، رجعت، دقیانوسیت یہ ان کے موضوعات ہیں۔ ان کے موضوع افراد اوراشخاص نہیں بلکہ سماج اور سیاست کے احوال اور مسائل ہیں۔
راز نے اظہار اور ابلاغ کی سطح پر دوسروں سے الگ تجربے کیے ہیں۔ اور یہ تجربے معمولی نہیں ہیں۔ ان تجربوں کے لیے ذہن کو بہت سی ریاضتوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ سوزش ذہن کی بہت سی منزلیں سر کرنی پڑتی ہیں۔ ایک خیال یا احساس کو معرض اظہار میں لانے کے لیے آگ کے دریا سے گزرنا پڑتا ہے۔ خیال کی وسیع کائنات میں نئے خیالات کی جستجو کوئی آسان عمل نہیں ہے۔ ٹی این راز نے خیالات کی متصادم کائنات میں ذہنی اذیتیں برداشت کی ہیں تب کہیں جاکر ایک نقطہ خیال ان کی گرفت میں آیا ہے کہ خیال کو اظہار اور شعور کا حصہ بنانے کے لیے تگ وتاز کرنی پڑتی ہے۔راز نے صحراؤں میں بھٹکتے ہوئے عمومی خیال میں بھی صرف اس لہر اور اس رو کو ہی دریافت کیا جو عمومیت سے ممتاز اور مختلف بنادیتی ہے۔ راز نے اس کے لیے ایک نئی تکنیک کا استعمال کیا۔ لفظی، معنوی تضادات اور تصرفات کی تکنیک- ٹی این راز کے ذہن کی زرخیزی اور حقائق کی تہہ تک بہ کیفیت تحیر پہنچنے کی قوت کا اندازہ ان کے اشعار سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک تخلیق کار کی جستجو کی منزل اور اس کی سطح کا پتہ چلانا آسان نہیں ہے۔ اشعار سے ہی اندازہ ہوسکتا ہے کہ ذہن رسا کی رسائی کہاں تک ہے۔ٹی این راز کی شاعری میں ادراک کی اعلیٰ سطح ملتی ہے اور ان کے اشعار سے ان کے ادراک اور مشاہدے کی قوت وسعت اور شدت کو ماپا جاسکتا ہے۔ لفظوں کے سہارے خیال سے کھیلنے کے ہنر میں مشاق ٹی این راز کے اندر کسی بھی شے کی حقیقت، ماہیئت اور تضادات کی شناخت کرنے کی قوت موجود ہے۔ انہوں نے مختلف سماجی موضوعات میں مضحک پہلو تلاش کیے ہیں۔ وہ سارے معاشرتی کردار جو اپنے اعمال وحرکات کے سبب مضحکہ خیز بن جاتے ہیں یا سماجی اور سیاسی عدم موزونیت کی علامت بن جاتے ہیں، ٹی این راز کی شاعری میں موجود ہیں۔راز کی شاعری میں سرپرائزنگ شفٹ کی شکلیں بھی نمایاں ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے تخیل میں تحیر کا عنصر اور ’جوہر اندیشہ‘ کی گرمی کس حد تک ہے۔
آہِ عاشق سے نہ گرجائے کہیں دیوارِ چین
کیا پتہ مل جائے کب ٹھیکہ مجھے تعمیر کا
بیوی نے منہ کو پیٹ دیا میرے جاگ کر
اک بوسہ اس کا میں نے لیا تھا جو خواب میں
جھیل سی آنکھوں میں مَیں تو ڈوبنے والا ہی تھا
چنری میرے دل ربا کی بادباں سی ہوگئی
بس اس لیے کہ ذائقہ میں ایک تڑپ رہے
اِک زندہ مچھلی ہم نے ملادی کباب میں
ٹھنڈک سے اپنے ہونٹ ہیں سکڑے ہوئے جناب
اب سینک کر ہی ہوگی کوئی بات جاڑے میں
معاشرتی اور عائلی مسائل پر بھی ان کی گہری نظر ہے۔ بیوی سالی، ساس اور سسر جیسے کرداروں کے ذریعہ بھی انہوں نے مزاح کی خوبصورت کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے رشتوں کی نزاکت اور نفسیات پر مزاح کا تڑکا لگایاہے۔یہ محض مزاح کے اشعار نہیں ہیں،ان میں رشتوں کے خوبصورت سلسلوں کا بیانیہ بھی ہے اور رشتوں کا پیمانہ بھی ہے۔ یہ وہ معاشرتی پیچیدگیاں ہیں جو ہرگھر کا حصہ بن چکی ہیں۔ ٹی این راز نے ان پیچیدگیوں کو مزاح کے رنگ میں کچھ یوں پیش کیا ہے اور دل کے نشاط آہنگ کا سامان کیا ہے۔ قاری ان ا شعار سے بقدر لب و دنداں محظوظ ہوسکتا ہے:
بے کسیئِ عشق کا اس طرح عنواں ہوگئیں
پہلے محبوبہ تھیں اب بچوں کی امّاں ہوگئیں
رشتہ اپنی بیوی سے اک عجب پہیلی ہے
کہنے کو سہاگن ہے ویسے وہ اکیلی ہے
بیوی جاتی ہے جب بھی مائیکے کو
کوئی بھی سالی گھر نہیں آتی
ٹی این راز نے کرپشن، بدعنوانی، رشوت خوری اور دیگر سماجی امراض پر نشتر زنی کی ہے۔ اس طرح سماج کے ناسوروں سے ان ذہنوں کو روشناس کرایا ہے جو اس طرح کی بیماریوں کو سماج کی صحت کے لیے مہلک سمجھتے ہیں۔
رشوتوں کا ختم ہوپائے نہ کوئی سلسلہ
سی بی آئی ڈھونڈتی ہو پر نشاں ک وئی نہ ہو
چپو ہو رشوتوں کا جب نیتا کے دست ناز میں
کشتی ہماری قوم کی پھر سے نہ ڈگمگائے کیوں
فائلیں چلتی ہیں کچھوا چال سے
نوٹ برسیں تو روانی اور ہے
لفظی تصرف، معنیاتی تحریف سے بھی انہوں نے خیال کے نئے گل بوٹے کھلائے ہیں اور اظہار وابلاغ کی نئی شاخوں سے آشنا کیا ہے۔ ٹی این راز نے اپنے ذہن کو مدام متحرک رکھا اور اسی تحرک کا ثمرہ ہے کہ انہوں نے مضامین نو کے انبار لگادیے۔ راز نے لسانی سطح پر بھی جو تجربے کئے وہ قابل قدر ہیں۔ لسانی تکثیریت کا تجربہ گوکہ پہلے بھی بہت سے مزاح نگاروں نے کیا ہے مگر ٹی این راز نے ان لفظوں کو جس طرح برتا ہے، اس سے ان کے لسانی درک کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
مہنگائی سے شہر میں یارو جب سے دونا رینٹ ہوا
ان کا دل ہی اپنی خاطر بنگلہ جھگی ٹینٹ ہوا
خوش قسمت ہیں وہ سب جوڑے اس دنیا میں دنیا والو
جن کی شادی ہو نہیں پائی لیکن سیٹل مینٹ ہوا
ایک مزاح اور طنز نگار معاشرہ کو اس نگاہ سے دیکھتا ہے جس میں آفاقیت ہوتی ہے۔ ٹی این راز کی بینائی میں نگاہِ شوق بھی شامل ہے اور انہیں شوخیِ نظارہ بھی نصیب ہے۔ اس لیے ان کے آئینہئ ادراک میں مسائل کے تمام عکس اور زاویے روشن ہوجاتے ہیں اور ان زاویوں میں طنز کے عناصر کی شمولیت کی وجہ سے اشعار کی معنویت اور بڑھ گئی ہے۔
ٹاڈا میں بند ہوگئے ہم دیکھئے حضور
بچوں کی گھر میں رکھی تھی پسٹل حفاظتاً
ہے یہی جی میں کہ ہم سب خانہ جنگی میں مریں
ملک پہ مٹنے کی خاطر خانداں کوئی نہ ہو
راز کے ترکش میں ایسے بہت سے تیر ہیں جن سے سماج اور سیاست کا جگر چھلنی ہوسکتا ہے۔ راز نے غالب کی زمینوں میں غزلیں /ہزلیں کہی ہیں اور غالب کے تخلیقی تجربوں کو اپنے تخلیقی شعور کا حصہ بنایا ہے۔راز کے تخلیقی شعور میں جو برق تجلی ہے، وہ غالب ہی کا فیض ہے۔ غالب کے باطنی وجود کے ساتھ انہوں نے بھی مستانہ رہ وادی خیال طے کیا ہے۔ ان کے Existenceاور Experieneمیں غالب شامل ہیں۔ ان کے شعور اور حسیت میں فکر غالب کا حاوی حصہ ہے۔
’غالب اور درگت‘ میں انہوں نے غالب سے ہم رشتگی کا ثبوت دیا ہے اور یہ احساس دلایا ہے کہ غالب کی تخلیقی حسیت ہر رنگ میں بہار کا اثبات کرتی رہتی ہے۔ ’غالب اور درگت‘ میں بیشتر مزاحیہ غزلیں غالب کی سنجیدگی کو مزاح کے پیرائے میں پیش کرنے کی عمدہ کوشش ہے مگر ٹی این راز نے غالب کے علاوہ ذوق، فانی، جگر اور دوسرے شعراء کی زمینوں میں بھی شعر کہے ہیں اور فکری سنجیدگی کو مزاحیہ پیکر میں ڈھالا ہے۔ راز نے تقابلی ذہن یا تضاد کی تکنیک کا بہت ہی خوبصورت استعمال کیا ہے۔
ان کے یہاں خیال کی شادابی نظر آتی ہے۔ دراصل انہوں نے اپنی شاعری میں جہاں معاشرہ کو طنز کا نشانہ بنایا ہے، وہیں اپنی ذات کو بھی تمسخر کا نشانہ بنانے سے گریز نہیں کیا اور یہی ایک طنز ومزاح نگار کا کمال ہوتا ہے کہ وہ خود کو معاشرہ کا ایک کردار سمجھتے ہوئے اپنا مذاق آپ اڑاتا ہے۔ راز نے اپنے شعروں میں اپنا جو طنزیہ سیلف پورٹریٹ پیش کیا ہے، اس میں سماج کا ہر وہ فرد شامل ہے جس کی حرکتیں تمسخر کا نشانہ بن سکتی ہیں۔
تعریف اتنی کرتے ہو کیوں راز کی جناب
کیا جانتا نہیں ہوں بھلا اس لچر کو میں
جوتیاں کیوں کر نہ پڑتیں منچ پر مردود کو
لفظ ہر بیہودہ تھا کل راز کی تقریر کا
کاجو چراکر دوست کی شادی سے آج ہی
لائے جنابِ راز یہ سوغات جاڑے میں

شیو بہادر دلبر کا شعری سفر


حقانی القاسمی
شاعری تو وہ بھی ہوتی ہے جس میں ”موزونیت“ کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا! یہ شاعری اس سے ذراالگ ہے کہ اس میں ’موزونی طبع‘ کااظہار نہیں ہے۔ بلکہ دروں کومرتعش کرنے والا جذبہ و احساس بھی ہے۔
دلبر اپنے تخلیقی اظہار میں احساس کی اس آنکھ کو ضرور شامل رکھتے ہیں جو حقیقتوں کے ماورا بھی دیکھ سکتی ہے، اسی لیے ان کے احساس کی کائنات محدود نہیں ہے کہ شاعری کا سلسلہ ان ساعتوں سے ہے جن کا زندگی سے گہرا ربط ہے اور جو حیات و کائنات کی رمزیت کااستعارہ ہیں۔ انسانی مزاج کی تشکیل اور ذہنی نظام کے نمو میں ان ساعتوں کی بڑی اہمیت ہے۔ دلبر کے ہر خیال میں ان ساعتوں کے عکس نمایاں ہیں۔ شام اپنی رومانی طلسماتی کیفیت کے ساتھ زندہ ہے، تو صبح اپنی جاں فزائی قوتوں کے ساتھ تابندہ ہے۔ دلبر کی شاعری میں ان ساعتوں کے منظر روشن ہیں کہ یہ منظر کھل جائیں تو شاعری گم ہوجاتی ہے:
آنکھیں جو تک رہی ہیں ہر اک شام راہ کو
اک عمر سے کسی کا انہیں انتظار ہے
زندگی کے شام و سحر کی یہ وہ تجرباتی داستان ہے جس میں المیہ بھی ہے اور طربیہ احساس بھی۔ المیہ ذات، ضمیر ذہن کا ہو یا معاشرہ کا،ایک فنکار کاذہن المیہ کے تمام پہلوؤں کو محسوس کرتا ہے اور اس المیہ احساس کو انسانی ذہن میں اجاگر کرتا ہے۔ دلبر کے شعروں میں المیہ کا احساس مختلف صورتوں میں نمایاں ہوا ہے۔
جس باغ کو سینچا ہے سدا میں نے لہو سے
اس باغ پہ اب کیا مرا ادھیکار نہیں ہے
اجالوں نے دیے دھند لکے کچھ اتنے
رہا شکوہ نہ دلبر تیرگی سے
اسی المیہ سے جڑا ہوا طربقیہ بھی ہے کہ انسان کے نصیب میں صرف دکھ یا درد نہیں ہے بلکہ مسرتیں بھی ہیں کہ ذہن ایک ہی کیفیت میں منجمد نہیں رہتا، ذہن اک اکائی یاجزو نہیں بلکہ کئی اجزاء کامجموعہ ہے۔ ایک ہی لمحہ میں ذہن دکھ اور سکھ دونوں کیفیتوں سے گزر سکتا ہے۔ ذہن کے اسی مختلف النوع تفاعلی نظام اور تحرک کا اشارہ ہے یہ شعر:
خوشیاں سبھی کو بانٹ رہا ہے وہ آدمی
دامن غموں سے جس کا بہت تار تار ہے
دلبر کے یہاں جذبات و احساسات کے متنوع رنگ ہیں تو اس لیے کہ صرف ان کے ذہن میں نہیں بلکہ زندگی میں بھی ’تغزل‘ ہے۔ شاعر کا پورا وجود غزل کی تہذیب میں رچا بسا ہے۔ اردو غزل کے تہذیبی نظام سے ان کے ذہن کا بہت مضبوط رشتہ ہے۔ شاعر اور اردو تہذیب کے درمیان کسی قسم کی اجنبیت یا ثنویت کا احساس ہی نہیں ہوتا، دلبر کے ضمیر میں غزل کی تہذیب شامل ہے۔ دلبر کو جذبے کی اخلاقیات کا بھی عرفان ہے اور اظہار کی جمالیات کا شعور بھی ہے:
دلبر یہ ماں کی دعاؤں کا اثر ہے
جو بھی بلا آتی ہے گزر جاتی ہے سر سے
سمجھتے کیا ہو تم ماں کی دعا کو
بڑی اس سے دعا کوئی نہیں ہے
اب بھی ہیں یاد گاؤں کے شام و سحر مجھے
بھولے نہیں بنے ہوئے مٹی کے گھر مجھے
یہ اشعار، دلبر کے ذہن کے موسموں کا بھی پتہ دیتے ہیں۔ وہ تخلیقی ذہن جو آلودگی، آلائش اور کثافت سے پاک ہے، جو پوری انسانیت کے بارے میں سوچتا ہے۔ جمہوری طرز احساس اور طرز فکر رکھنے والا ذہن جس سے اس نوع کے اشعار وجود میں آتے ہیں:
بشر کا خون سستا ہورہا ہے
مگر پانی تو مہنگا ہورہا ہے
دلبر ہمارے دیش میں کب آئے گا وہ دن
مجرم جو اصل میں ہو اسی کو سزا ملے
یہ ایسی شاعری ہے جس میں ذہن اور ضمیر کی روشنی ہے کہ ذہن کی تاریکی میں تہذیبیں اور قدریں سبھی کچھ کھو جاتی ہیں۔ دلبر کی شاعری روشنی سے وصال کی شاعری ہے۔ تاریک عہد میں یہی اشعار روشنی کا استعارہ بن جاتے ہیں اوریہی روشنی ان کے لفظیاتی نظام میں بھی ہے کہ قاری کے ذہن میں ترسیل کے سارے سلسلے روشن ہوجاتے ہیں۔
مجھے یقین ہے کہ دلبر کے کچھ شعر ضرور زندہ رہیں گے جب کہ انٹرنیٹ ایج اور کمپیوٹر کلچر کے اس عہد میں ذہن و دل سے بیشتر شاعری کو Deleteہوتے دیر نہیں لگتی۔ عجب المیہ ہے کہ شاعری ذہن میں Saveہی نہیں ہوپاتی۔ خدا کاشکر ہے کہ دلبر کے دل سے نکلی ہوئی کچھ آوازوں میں اتنی قوت ہے کہ اپنے لیے کوئی نہ کوئی Spaceضرور پیدا کرلیں گی۔آج جب کہ خیال و احساس کی زمین بھی تنگ ہوتی جارہی ہے اور اظہار کا افق بھی۔تو ایسے میں تھوڑا سا Space بھی بہت ہوتا ہے۔

مشاہیر اکابر ومعاصرین


مجموعہئ مضامین: مولانامفتی ظفیر الدین مفتاحیؒ، سابق استاذ فقہ وافتا ومرتب فتاوی دارالعلوم دیوبند
ناشر: مرکزی پبلی کیشنز، نئ دہلی
صفحات:455
قیمت: 350
تبصرہ: فیصل نذیر، ریسرچ اسکالر، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی

مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم
تو نے وہ گنج ہاے گراں مایہ کیا کیے
مفتی ظفیر الدین مفتاحی ؒ ان علمائے دین میں سے ہیں، جنہیں عالم ربانی ہونے کے ساتھ ساتھ وطن ِعزیر کی آزادی کے لئے تکلیفیں اور مشقتیں برداشت کرنے کا شرف بھی حاصل رہا ہے اور حکومتِ ہند آپ کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے تا حیات انہیں سرکاری وظیفے سے اعزازا ًنوازتی رہی۔ساتھ ہی مفتی صاحب ایک باتوفیق صاحب قلم تھے اور انھوں نے اپنی ساٹھ سالہ عملی زندگی میں سیکڑوں مضامین و مقالات کے علاوہ متعدداہم علمی موضوعات پر بیش قیمت کتابیں بھی لکھیں۔
زیرنظر کتاب بھی مفتی ظفیر ؒ کی شاہکار تحریروں کا مجموعہ ہے جو موقع بموقع ”ماہنامہ دار العلوم“اور دیگر رسائل میں میں چھپتے رہے،اکثر مضامین مشاہیرمعاصرین کے انتقال پر تحریر کی گئی ہیں۔کتاب کے مشتملات میں بڑا توسع اور تنوع ہے، یہ کتاب محض مذہبی شخصیات پر عقیدتوں کا گلدستہ نہیں؛بلکہ اس میں آپ کو سیاسی، ادبی، علمی، سماجی اور دیگر شعبہئ حیات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے اسما بھی نظر آجائیں گے۔
ابتدا کے مضامین نسبتاً طویل ہیں، ان میں شیخ الہند ؒ، ابوالمحاسن محمد سجادؒ، مفتی عزیز الرحمن ؒ، حسین احمد مدنیؒ، قاری طیبؒ، منت اللہ رحمانیؒ، مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ اور مولانا ابو الحسن ؒ وغیرہ کی حیات وخدمات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔دوسرے حصے کی شخصیات کے انتخاب میں تنوع زیادہ ہے اسے”نقوشِ کارواں“کا عنوان دیا گیا ہے۔اس میں سابق صدرِجمہوریہ ڈاک ٹر ذاکر حسین ؒ،مولانا ابراہیم بلیاویؒ،جمال عبد الناصر ؒ، شاہ فیصلؒ،مولانا عبد الماجد دریابادیؒ، مفتی شفیع دیوبندیؒ، مولانا عثمان فارقلیطؒ، مولانا یوسف بنوریؒ، بشیر احمد ایڈوکیٹؒ،نظام دکن میر عثمان علی خاں ؒ وغیرہ کی حیات وخدمات پر تحریریں موجودہیں۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ مولانا نے وسعت قلبی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے ان حضرات پربھی مضامین لکھے ہیں، جن سے علمائے دیوبند کا نظریاتی اختلاف رہا ہے، مثلا مولانا عامر عثمانیؒ کی وفات پر مفتی صاحب نے مضمون لکھا اور بڑی کشادہ دلی سے اعتراف کیا ہے کہ عامر عثمانی ؒ اگر چہ علمائے دیوبند کے خلاف اپنے رسالے ”تجلی“ میں لکھتے تھے اور وہ جماعتِ اسلامی کی طرف مائل ت ھے، مگر مصنف نے آپ کے زورِ قلم اور محنت کی تعریف کی ہے کہ وہ کس طرح دار العلوم کی لائبریری میں آکر گھنٹوں غرقِ مطالعہ رہتے اور آپ کی ذمے داری ان دنوں لائبریری میں ہوتی تھی تو آپ عامر عثمانی کو کتابیں نکال کر دیا کرتے تھے۔
اس کتاب کے مطالعے اور اس میں موجود مولانا محمد ولی رحمانی کے مقدمے اور مولانا سعید الرحمن اعظمی کی تعارفی تحریر سے مفتی صاحبؒ کی حیات کے نئے گوشے ابھر کر سامنے آئیں ہیں اور پیشِ لفظ کے ذریعے بالتفصیل آپ کی خدمات،آپ کے علمی کارنامے اور دیگر کمالات کا علم ہوا، یقینا مفتی صاحب کی زندگی میں خدا نے بڑی برکت دی تھی کہ آپ نے تنِ تنہا ایک انجمن اور معہد کا کام کیا۔ درجنوں کتابوں کی تصنیف وتالیف،دو سو سے زائد مضامین، ماہنامہ”دار العلوم“ کی ادارت واداریہ نویسی، فقہ اکیڈمی کی تاحیات صدارت، درس وتدریس، بارہ ضخیم جلدوں میں فتاویٰ دار العلوم کی ترتیب،کتب خانہ کی فہرست سازی وغیرہ جیسے عظیم کام کے لئے مکمل کمیٹیاں ہونی چاہئے تھیں،ایسے کاموں کے لیے سرکاریں بڑابڑا بجٹ مختص کرتی ہیں، مگر مفتی ظفیر الدین ؒ صاحب کی شخصیت نے اپنی محنت ولگن کے بل پر ممکن کر دکھایاتن تنہایہ سب کام کیے،فجزاہ اللہ احسن الجزاء۔
اس کتاب کے صفحات و طباعت عمدہ ہیں اور انفرادی استفادے کے ساتھ لائبریری و مکتبات کے لئے بھی یہ کتاب یکساں مفیدو اہم ہے۔امید ہے کہ اس کتاب کے ذریعے نسلِ نو مولانا کو اور ان کی ہمہ جہت خدمات کوبہتر طریقے سے جانے گی۔ کتاب میں کچھ طباعتی کچھ غلطیاں رہ گئی ہیں۔ امید ہے کہ مرتب اس کی طرف توجہ دیں گے؛ لیکن صفحہ نمبر 449/کے آخری مضمون میں موجود غلطی قاری کو کنفیوژ کرسکتی ہے؛ کیونکہ مضمون ہے بنگلہ دیش کر جنرل ضیاء الرحمن کے سلسلے میں،مگر ضیاء الحق چھپ جانے کی وجہ سے پاکستان کے سابق صدر جنرل ضیاء الحق سے اشتباہ ہوسکتا ہے، اسے دوسری اشاعت میں درست کرلینا چاہیے، مزید یہ کہ اگر پیشِ لفظ میں آزادیِ ہند کی جدوجہد میں آپ کی حصے داری پر بھی کچھ لکھ دیا جاتا تو بہتر ہوتا۔
اخیر میں مجھ طالب علم کی دعا ہے کہ اللہ مفتی صاحبؒ کے درجات بلند فرمائے، آمین۔اور میں آپ کے فرزندِ ارجمند مولانا احمد سجاد قاسمی کومبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے بڑی محنت ومشقت سے یہ کتاب ترتیب دی۔ نامِ نیکِ رفتگاں کی حفاظت کے لئے انہوں نے اس قدر جدو جہد کی، اللہ ان کی کوشش کو قبول فرمائے (آمین)۔

ڈاکٹر عزیز سہیل کی تالیف”مضامین ِڈاکٹر شیلا راج“کی اشاعت

     حیدرآباد:نوجوان ادیب ومبصرڈاکٹر عزیز سہیل اردو مدرس و سابق لیکچرار نظم ونسقِ عامہ ایم وی ایس گورنمنٹ ڈگری کالج محبوب نگر کی مرتب کردہ تصنیف”مضامین ِڈاکٹر شیلا راج“کے عنوان سے منظر عام پر آچکی ہے۔یہ کتاب اردو اکیڈمی تلنگانہ کے تعاون سے شائع کی گئی ہے۔ اس کتاب کا پیش لفظ محترمہ ڈاکٹرحبیب ضیاء سابق پروفیسر صدرشعبہ اردو، یونی ورسٹی کالج فارویمن‘جامعہ عثمانیہ،حیدرآباد نے رقم کیا ہے، ڈاکٹر شیلا راج:تاریخ دکن کی تاریخ داں‘کے موضوع پر سیدرفیع الدین قادری،چیرمین،ڈاکٹر زور فاونڈیشن حیدرآبادکا گراں قدر مضمون شامل ہے۔اس کتاب میں ڈاکٹر نارائن راج (شوہرڈاکٹر شیلا راج)نے اپنے تاثرات لکھے ہیں۔کتاب کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ حصہ اول ”شخصیات“پر مشتمل ہیں جس میں مرزرا غالب،جگر مرادآبادی،نواب سر وقارالامرا بہادر،نواب عماد الملک،راجہ شیو راج دھرم ونت بہادر،ڈاکٹر کورین کی شخصیات پر مضامین شامل ہیں، دوسرا حصہ ”تہذیب و ثقافت“پر مشتمل ہے، جس میں حیدرآباد کی تہذیب،سابق حیدرآباد ہندو مسلم روایات کا امین(تین اقساط)مذہبی روداری اور آصف جاہ سادس،حیدرآباد کا پائیگاہ خاندان و دیگر مضامین شامل کئے گئے ہیں،کتاب کے تیسرے حصہ کو”تاریخی عمارات“ کا عنوان دیا گیا ہے، جس میں پرانی حویلی،کنگ کوٹھی اور قصر فلک نما پر مضامین شامل ہیں،اس کتاب کا آخری حصہ متفرق موضوعات پر مشتمل ہے۔یہ کتاب ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوس دہلی نے شائع کی ہے۔

ترسیل،تعبیر اور تلک راج پارس


حقانی القاسمی

تخلیقیت ایک پر اسرار قوت ہے۔یہ ایک cognitive processاور اذراکی عمل ہے جو مثبت ذہنی تحرک اور تفاعل سے وجود میں آتی ہے۔یہی قوت آہنگ اور نغمگی میں ڈھل کر شاعری بن جاتی ہے۔یہ تخیل اور جذبے کی وہ زبان ہے جو انسانی جذبات و کیفیات کی ترسیل کرتی ہے۔موضوع اور ہےئت کے اعتبار سے شاعری احساس کی نیچرل امیجری ہے۔ہر اچھی شاعری اپنے نشانیاتی نظام سے پہچانی جاتی ہے اور اپنی کیفیت و ماہیت سے اپنی شناخت کروالیتی ہے ۔تلک راج پارس کی شاعری کا بھی اپنا الگ نشانیاتی نظام ہے۔وہ جس تہذیبی نظام کے زائیدہ ہیں وہ اپنے اندر وسیع ترین تہذیبی روایت اور روحانی ماورائیت چھپائے ہوئے ہے۔
تلک راج پارس کی شاعری میں ان کے داخلی ذہن کے امیجز کی اظہاری شکلیں ہیں،ان کی تخلیق باطن کی بازگشت ہے اور اس داخلی ربط کی تلاش سے عبارت ہے جو کائنات سے معدوم ہوتا جا رہا ہے۔ان کے امتزاجیت پسندذہن نے تخلیقیت کی نئی لہروں کی جستجو کی ہے اور وہ عناصر تلاش کر لیے ہیں جن میں کائنات کے متصادم اشیاء کو مربوط کرنے کی قوت ہے۔
پارس کی تخلیقی لہروں میں وحدت بھی ہے،وسعت اور توانائی کی وہ روایت بھی فروزاں ہے جس سے ان کے تخلیقی تسلسل میں تابانی پیدا ہو گئی ہے۔ان کی تخلیق میں آہنگ اور نغمگی کے ساتھ تخیلات کی وہ موج رواں ہے جو مختلف تہذیبی دریاؤں سے وصال آشنا بھی کرتی ہے اور نقطۂ امتزاج سے روشناس بھی۔ پارس کی شاعری میں وہ لہو اور آگ بھی ہے جو آواز میں تبدیل ہو کر ہمارے ذہن ،ذات اور ضمیر کو مرتعش کر دیتی ہے۔ اس آگ سے ان کی پوری تخلیق کی تجسیم کی جا سکتی ہے:
ہم ایسے آتشیں لہجے میں شعر کہتے ہیں
خموشیاں بھی پگھل جائیں جن کی حدت سے
ہمارے خون کی ہر بوند سے اک شعر بنتا ہے
غزل میں گرم لہجے کی دہائی ہم سمجھتے ہیں
شب سیاہ بھی روشن اسی سے ہوتی ہے
جو شعر کہتے ہوئے ہم لہو جلاتے ہیں
یہ اشعار انسان کے باطن میں Explosiveقوت کی موجودگی کا اشاریہ ہیں۔باطن کی ایسی حدت و شدت سے تلک راج پارس کی تخلیقی کائنات میں ایک نئی قوت پیدا ہوگئی ہے۔
پارس، پرتبھا اور شکتی سے اس قدر معمور ہیں کہ جمالیاتی تشکیل کی راہ میں انہیں کوئی دشواری نہیں ہوتی ۔جذبے اور تخیل کی دونوں جمالیاتی کیفیتیں ان کے ہاں بدرجہ اتم موجود ہیں ۔احساس و اظہار کو تازہ رکھنے کے لیے جس تخلیقی قوت کی ضرورت پڑتی ہے، وہ ان کی تخلیق سے عیاں ہے۔اسی لیے پارس کی شاعری بے کیف،ویران،سنسان نہیں ہے بلکہ ذہن میں آباد اور شاداب رہنے والی ہے۔یہ شاعری جہاں حقیقی دنیا کے مظاہر،مسائل اور متعلقات سے مکالمہ کرتی ہے وہیں امکانی دنیا کے اشارات سے آگاہ بھی۔تلک راج پارس کے ہاں دو متوازی دنیائیں ہیں۔ان کی شاعری جہاں زندگی کی سنگلاخ حقیقتوں کو بیان کرتی ہے وہیں آنکھوں کو مستقبل کے کچھ خواب بھی دے جاتی ہے۔
آج کی تخلیقی فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی وجہ سے جہاں سانس لینا دشوار ہے وہیں تلک راج پارس کی شاعری ہماری سانسوں کو سرگم اور ساز عطا کرتی ہے اور تزکیہ و تطہیر کے اس عمل سے گزارتی ہے جو تخلیق کا حقیقی منصب ہے کہ تخلیق بنیادی طور پر catharticہوتی ہے۔اس میں مکمل تقلیبی قوت ہوتی ہے۔شاعری ایک تھریپیائی تجربہ (Therapeutic exprience) بھی ہے۔نفسی اعصابی اہتزار کے ذریعے خون کے دوران نظام کو فعال رکھتی ہے۔ یہ انسانی حواس کی تسکین کے ساتھ ایک ایسی کیفیت سے ہمکنار کرتی ہے جس میں اضطراب بھی ہے اور ذہن و ضمیر کی تابانی کا سامان بھی:
سانس لیتے ہی دھواں دل میں اتر جاتا ہے
آگ سی شئے یہاں کچھ بوئی ہوئی لگتی ہے
تلک راج پارس کی شاعری میں زمین و آسمان کے مسائل بھی ہیں اور دونوں کے حوالے سے انسانی وجود کی تفہیم کا نقطہ بھی روشن ہے۔’ارضی حسیت ‘ان کی شاعری میں کلیت کے ساتھ موجود ہے۔
مقدر کی عبارت طے شدہ ہے
مگر آکاش پر سب کی نظر ہے
مال و زر کے لیے تبدیل نہ ہو جائے کہیں
جو مرا بھائی ہے قابیل نہ ہو جائے کہیں
سب کچھ تھا بے ثبات ہمارے حصار میں
اک عمر کا طلسم کھلا ہے مزار میں
پارس کو انسانی سطح پر جذبے کے زوال،صارفیت کے تسلط کا احساس بھی ہے اور اس میں پنہاں زوال کی علامتوں کا ادراک بھی ہے:
خط لکھنے کا وقت نہیں مل پاتا ہے
کاروباری جذبے کھائے جاتے ہیں
ہمارے شہر کے لوگوں میں یقین نہیں
ہمارے شہر میں رہتے ہیں سب گمان کے ساتھ
رابطے کے فون نمبر اور پتے محفوظ رکھیے
پھر نئے رشتے بنانے میں صدی کٹ جائے گی
پارس کلاسیکی اشارت سے انحراف اور قدیم تہذیبی روایت سے کنارہ کشی کو مثبت قدر میں شمار نہیں کرتے ،وہ کلاسیکیت کو نہ سرطان سمجھتے ہیں نہ جدیدیت کو عفریت، ان کے لیے اس کلچر اور اخلاقی حسیت کی اہمیت زیادہ ہے جو انسان کو وحدت کی لڑی میں پروئے رکھتی ہے۔وہ خود بھی امتزاجی ذہن کے حامل ہیں اور اس انسانی اکائی پر ان کا ایقان ہے جس کی شکست سے پورا انسانی معاشرہ انتشار کا شکار ہو جاتا ہے اور موضوعی و معروضی دنیا کے درمیان ربط کی تلاش ہی ان کی تخلیق کا نہایت مثبت اور توانا عنصر ہے جس کی وجہ سے ان کی تخلیق میں ایسے اشعار روشن ہیں جوسرور کائنات کی عقیدت سے سرشار ہیں:
انہیں حرفوں سے کچھ لکھوں تو وقعت کچھ نہیں ہوتی
محمد لکھ رہاہوں تو عبارت ناز کرتی ہے
آپ کا در جس نے دیکھا اس نے دیکھی کائنات
رب نے بھی تو کن کہا ہے مجتبیٰ کے نام پر
آپ کے اوصاف مومن کی طرح لکھتا ہوں میں
یعنی میری شاعری میں عنصر حسان ہے
جو بو مری کو میسر ہوئی ہے سپنے میں
حضورہم کو کبھی ویسی ہی نشانی دیں
زمیں کیا ہے افق کیا ہے آسماں چمکے
نشان پائے محمد سے دو جہاں چمکے
ا ن اشعار میں دماغ سے زیادہ دل کی وہ روشنی ہے جو انسانی احساس کو مربوط رکھتی ہے،منقسم نہیں ہونے دیتی،ہےئت وحدانی سے جوڑے رکھتی ہے۔روشن تہذیبی استعاروں سے ربط نے پارس کے اشعار میں تقدیسی کیفیت کے ساتھ تاثیری قوت بھی پیدا کردی ہے۔ان کے روشن ذہنی وجود سے جڑے ہوئے یہ وہ استعارے ہیں جو ان کی ذات اور ضمیر کا حصہ بن چکے ہیں۔ان کے ہاں مذہبی تلمیحات اور استعارات بھی ہیں جو پارس کی پاکیزگی نظر،وسعت ذہن کی علامت بن کر قاری کے لوح ذہن پر شب تاریک میں روشن ستاروں کی شکل میں جھلملاتے رہتے ہیں:
راہ حق میں کربلا کی طرز پر جو سر گرا
وہ ہمیشہ روشنیوں کے مصلّے پر گرا
عرش اعظم پہ مرے ہر خواب کی تکمیل ہو
خود میں یوں روشن شب عاشور کرنی ہے مجھے
تلک راج پارس کے نشانات اور علامات کے معنیاتی نظام اور ان کی حسیت کی میکانزم کو سمجھنا زیادہ دشوار نہیں ہے کہ وہ حرف سادہ سے ساحری کر جاتے ہیں:
غنیمت ہے طلسماتی زمیں میں
ہمارا حرف سادہ بولتا ہے
حرف سادہ میں بھی معانی کی کائنات آباد ہوتی ہے۔تلک راج پارس نے بھی لفظوں کے مروجہ معانی کو نئے مفاہیم میں استعمال کر کے لفظوں کو تحرک سے آشنا کیا ہے اور نئی معنویت عطا کی ہے ورنہ لفظ، معنی کی ایک ہی سمت میں سفر کرتے کرتے جمال کھو بیٹھتے ہیں اوراسے اپنے وجود سے ہی وحشت ہونے لگتی ہے۔پارس نے لفظ کو نئے مفہوم میں ڈھال کراس کی قوت و حرارت میں اضافہ کیا ہے،ہجر اور وصل جیسے الفاظ کو بھی ایک نئی معنیاتی کیفیت میں دیکھا ہے اور دو متضاد مفہوم کے حامل لفظوں کے معنیاتی ربط سے احساس کی کائنات کے ایک نئے در کو کھولا ہے۔
تلک راج پارس احساس و اظہار کی سطح پر اپنے خواب و خیال کی ترسیل میں کامیاب ہیں اوراس انسانی جذبے کی بیداری میں بھی جو اگر منجمد ہو جائے تو انسانی کائنات کا سفر لمحہ صفر میں ٹھہر جائے۔
پارس کی شاعری میں ہمارے عہد کا انعکاس بھی ہے اور آنے والے عہد کا عکس بھی کہ ایک تخلیق کار ایک ہی لمحہ میں دو زمانوں ،دو دنیاؤں کا سفر کرتا ہے۔ایک جسے ہم حال کہتے ہیں اور دوسرا جسے دنیا مستقبل سمجھتی ہے۔پارس حال کے آئینے میں مستقبل کا چہرہ دیکھ رہے ہیں۔انہیں شاید ادراک ہے کہ یہ کائنات ایک تسلسل میں ہے اور ایک ہی لمحہ کے ارد گرد طواف کر رہی ہے،وہی لمحہ جو ماضی بھی ہے،حال بھی اور اس میں پنہاں مستقبل بھی۔۔۔اس لمحے کی جستجو انسانی ذہن کے لیے ضروری ہے کہ وہ لمحہ کھو جائے تو کائنات معدوم ہو جائے گی۔ وہ ایک لمحہ کائنات ہے اور یہی کائنات کے تسلسل کی علامت ہے۔
تلک راج پارس کی شاعری اس’ لمحہ ‘ کی تعبیر و تفہیم سے عبارت ہے۔اس لمحہ کے ’ خواب و عذاب ‘ سے ان کی شاعری مکالمہ کرتی ہے۔وہ اپنی شاعری کے ذریعے خوابوں کی ترسیل بھی کرتے ہیں اور عہد حاضر کے کے عذابوں سے آشنا بھی،شاعری میں خواب کا منظر نامہ بھی ہے اور شکستگی خواب کا منظر بھی:
نیند آتی نہیں پھر مجھ کو کئی راتوں سے
پھر مرے خواب کی ترسیل نہ ہو جائے کہیں
اتنے ٹوٹے ہوئے سپنے ہیں مرے بستر پر
کرچیاں چنتے ہوئے رات گزر جائے گی
پارس کی شاعری کی داخلی ساخت سے جو تصویر بنتی ہے وہ یہ کہ پارس ایک مربوط تجربے کے شاعر ہیں اور انسانی وحدت و کلیت کے دائرے سے باہر نہیں ہیں۔وہ احساس کے اظہار میں کسی خوف و خطر کو راہ نہیں دیتے۔انہیں اپنے تخلیقی وجود پر پورا ایقان ہے اور اپنی شناخت پر بھی:
مجھے نابود کرنے کا ارادہ چھوڑ دے پارس
مری پہچان کے لاکھوں حوالے جاگ سکتے ہیں
ہمارے عہد کی پہچان ہم سے ہوتی ہے
ہم آفتاب کے آگے دئیے جلاتے ہیں

اُردو زبان و ادب کے مایۂ نازمحقق : جمیل جالبی


ابراہیم افسر
ریسرچ اسکالر، میرٹھ کالج، میرٹھ
9897012528

ہندوستان میں صوبہ اتر پردیش کو کئی معنی میں امتیاز و افتخار حاصل ہے؛ کیوں کہ اسی صوبے میں رشیوں ، منیوں اور باوقار شخصیات نے جنم لیا ہے۔ ہندو مذہب کے کئی اہم مقامات بھی اسی صوبے میں واقع ہیں۔ رام اور کرشن کی آماجگاہ بھی یہی صوبہ ہے۔ گنگا اور جمنا کے دھارے بھی اسی صوبے کے شہر الہ آباد میں ملتے ہیں، اس صوبے کا مغربی حصہ علم ،عرفان و ادب کا گہوارہ رہا ہے، اسی مغربی حصہ کا ایک تاریخی شہر میرٹھ ہے، میرٹھ بھی کئی تہذیبوں کا مولد و مسکن ہے، مہابھارت کا ہستناپور بھی اسی سرزمین پرواقع اور کئی ہزار سالہ تہذیب و تاریخ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ انقلابِ آزادی 1857 ء کا بگل بھی میرٹھ سے ہی بجا تھا۔
میرٹھ کی سرزمین کو انقلابی سرزمین کے نام سے تاریخ دانوں نے اپنی تحریروں میں رقم کیاہے؛لیکن انقلابی سرزمین کے ساتھ ساتھ یہ خطہ اپنی زراعت کے لیے بھی مشہور ہے، کھیتی کے علاوہ یہ شہر کھیل کے سامان اور اپنی منفرد قینچیوں کے لیے بھی پورے ملک میں منفرد مقام رکھتا ہے، ساتھ ہی اس شہر میں مطابع بھی بڑی تعداد میں ہیں۔
اتر پردیش میں میرٹھ کو یوں بھی افتخار حاصل ہے کہ یہاں اُردو کے ساتھ ساتھ ہندی کے بہت سے ادبا و شعرا نے جنم لیا، ان میں وشنو پربھاکر، جے پرکاش بھارتی، یوگیندر کمار للّا، ریوتی شرن شرما، پنڈت لیکھ رام شرما، علامہ سحر عشق آبادی اور بھارت بھوشن کے نام سرفہرست ہیں۔
علم و ادب کا چرچا اور شعرو شاعری کا غلغلہ یہاں غدر کے بعد بھی قائم رہا اور آج بھی اس شہر میں شعر و شاعری کے علاوہ تحقیق ،تدوین، تنقید اور صحافت کا بازار گرم ہے۔ غدر کے بعد جن ادبا و شعرا نے میرٹھ کو ادبی دنیا میں وقار و افتخار بخشا، اُن میں محی الدین مبتلاؔ ، فرقانیؔ ، بیا ںؔ و یزدانیؔ میرٹھی ،صمد یار خاں، دلمیرؔ میرٹھی ، بوم ؔ میرٹھی، تسکین ؔ میرٹھی، رنج ؔ میرٹھی، تسکین میرٹھی، علامہ سحرؔ عشق آبادی، مولوی چراغ علی، راشد میرٹھی، علامہ ندرت میرٹھی، مولوی عبد الحق، عشق میرٹھی، محمد یحیٰ تنہاؔ ، حبیب الرحمن خاں شیروانی، مرزا رحیم بیگ، نور احمد میرٹھی، شبیہ عباس جارپوری، انتظار حسین، شوکت سبزواری، مرزا محمد حسین عسکری، محمد مشتاق شارق، ساغر نظامی، خواجہ احمد فاروقی، ڈاکٹر سلیم اختر، ظ۔ انصاری ، ڈاکٹر جمیل جالبی، اختر حمید خاں، پروفیسر کرّار حسین، نواب سر محمد یامین خاں، سید اختر الاسلام، ڈاکٹر مصود حسن، ڈاکٹر نجم الاسلام، ڈاکٹر جلال انجم، حکیم احمد شجاع، امداد حسین زبیری، ڈاکٹر امیر اللہ خاں شاہینؔ ، روشؔ صدیقی، حفیظؔ میرٹھی، بشیر بدرؔ ، ڈاکٹر فاروق بخشی، بی۔ ایس جین جوہر، ڈاکٹر خالد حسین خاں، اطہر الدین اطہرؔ ، انیسؔ میرٹھی، طالبؔ زیدی، پاپولر میرٹھی، جسیم الدین ہم دمؔ ، انوار الحق شاداں، دیپک قمر مسعود اختر اور محمودؔ میرٹھی وغیرہ نام ور شخصیات شامل ہیں۔
میرٹھ کی اس ادبی کہکشاں میں ڈاکٹر جمیل جالبی نے اپنے تحقیقی کارناموں کے سبب اُردو دنیا میں بہ حیثیت محقق علاحدہ شناخت قائم کی ، ان کی تحقیقی کاوشیں بڑے بڑے ادبی اداروں کے لیے رشک کا سبب ہیں۔ جالبی صاحب نے Income Tax Department میں نوکری کرتے ہوئے تنہا ہی تمام ادبی کارنامے انجام دیے۔ان کا سب سے بڑا کارنامہ تاریخ ادبِ اُردو ہے ،جو چار ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے، یہ ادبی تاریخ جمیل جالبی کے تحقیق کے تئیں جنون کا نتیجہ ہے۔ ان کے بارے میں یہ بات بھی مشہور ہے کہ ’’اگر جمیل جالبی صاحب اپنی دوسری ادبی کاوشوں کے علاوہ صرف تاریخ ادب اُردو پر ہی اکتفا کرلیتے تو اُردو دنیا میں ان کے مقام و مرتبے میں کوئی فرق نہ آتا‘‘۔ انھوں نے اُردو زبان کا شاہ کار ادب تخلیق کیا، جو ہمیشہ ان کے نام، کام اور مقام کو زندہ رکھے گا۔ اس لیے اُردو کے اس نام ور محقق، ناقد اور معتبر مترجم کے ادبی کارناموں سے پوری ادبی دنیا واقف ہی نہیں؛ بلکہ معترف و مداح بھی ہے۔
ڈاکٹر جمیل جالبی کی پیدائش 12جون 1929ء کو علی گڑھ کے ایک معزز یوسف زئی پٹھان گھرانے میں ہوئی۔ ان کا اصل نام محمد جمیل خاں ہے۔ میٹرک تک کی تعلیم انھوں نے سہارن پور سے حاصل کی۔ اس کے بعد میرٹھ کالج میرٹھ سے 1945ء میں ایف اے اور 1947ء میں بی اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔ تقسیم وطن سے قبل ہی جمیل جالبی نے 13؍اگست 1947ء کو کراچی کے لیے ہجرت کی۔ ہجرت کے بعد یہ کراچی میں ہی مقیم ہوئے اور وہاں انھوں نے اپنے آپ کو تعلیم اور تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف کر لیا۔ یہیں سے انھوں نے سندھ یونی ورسٹی سے L.L.B. ، ایم اے اُردو ، پی ایچ ڈی اور ڈی لٹ کی ڈگریاں حاصل کیں۔ جمیل جالبی نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ میں نوکری کی۔ اسی درمیان حکومت پاکستان نے انھیں کراچی یونی ورسٹی کا وائس چانسلر بنایا۔ 1987ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ کافی عرصے تک جمیل جالبی نے مقتدر ہ قومی زبان میں بھی گزارا۔ یہاں پر انھیں پروفیسر کرّار حسین، شوکت سبزواری، جالبؔ دہلوی اور غیور احمد رمزیؔ جیسے ادیبوں کا ساتھ ملا۔ دراصل یہیں پر کام کرتے ہوئے ان کی ادبی صلاحیت میں نکھار پیدا ہوا۔ جمیل جالبی 1950-54تک اُردو ماہنامہ ’’ساقی‘‘ کے معاون مدیر بھی رہے۔ ’ساقی‘ میں کالم ’باتیں‘ ان کی شہرت و علمی اضافہ کا سبب بنا۔ اس کالم میں وہ عصر حاضر کے ادب پر تبصرہ کرتے تھے۔ پاکستان میں انھوں نے ’’نیادور‘‘ کے نام سے اپنا سہ ماہی رسالہ جاری کیا۔
محمد جمیل خاں سے ’جمیل جالبی‘ بننے کی روداد بھی کافی دل چسپ ہے۔ اُردو کے صف اوّل کے صحافی سید جالب دہلوی کو جمیل صاحب اپنا ہیرومانتے تھے؛ کیوں کہ ان کے دادا اور سید جالب دہلوی ہم زلف ہونے کے ساتھ ساتھ رشتے میں بھائی تھے۔ اس نسبت سے انھوں نے اپنے نام کے ساتھ جالبی کا لاحقہ لگا لیا۔ اس طرح یہ محمد جمیل خاں سے جمیل جالبی بن گئے۔ اُردو ادب میں اسی نام سے متعارف ہوئے۔ میرٹھ کالج، میرٹھ کے سابق صدر شعبہ اُردو ڈاکٹر خالد حسین خاں نے جمیل جالبی کے ادبی کارناموں اور میرٹھ کالج میرٹھ سے ان کی وابستگی کے بارے میں تفصیل سے یوں لکھا ہے:
’’ڈاکٹر جمیل جالبی نے میرٹھ کالج سے 1945ء میں ایف اے اور1947ء میں بی اے کی اسناد حاصل کیں۔ تقسیم ہند کے ناگفتہ سانحہ سے بد دل و بد حظ ہوکر بادل نخواستہ یہ بھی پاکستان ہجرت کر گئے۔ ان کی اولین تحریر بہ عنوان ’نبات‘ دہلی اور پہلا مضمون ’’بابائے صحافت میر جالب دہلوی‘‘ منصف علی گڑھ سے 1947ء میں شائع ہوا۔ اسی طرح ان کی پہلی شائع ہونے والی تخلیق ’’جانورستان‘‘ ہے، دراصل یہ جارج ارول کا ناول ہے، اس کا ترجمہ جمیل جالبی نے ’’جانورستان‘‘ کے عنوان سے کیا تھا۔ یہ ترجمہ 1958ء میں شائع ہوا، اس کے بعد انھوں نے تنقید ، تحقیق، کلچر، تاریخ ادب، تراجم اور شخصیات کے ساتھ ساتھ بچوں کے لیے تاریخ ساز کتابیں اُردو دنیا کو عطا کیں۔ میرٹھ کالج کا یہ اولڈ بوائے اپنی شناخت کے باوصف میرٹھ کالج کی شہرت و شہامت کا وسیلہ بھی ہے۔‘‘
(ادبی تحریریں،صفحہ 176، ڈاکٹر خالد حسین خاں، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 2011ء)
ڈاکٹر جمیل جالبی میں ادبی ذوق و شوق طالب علمی کے زمانے سے ہی ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ آگے چل کر یہی ادبی ذوق و شوق جنون کی کیفیت میں تبدیل ہو گیا۔ تحقیق و تدوین سے انھیں خاص لگاؤ تھا، ان کی تحقیق معروضی، منطقی اور سائنسی طریقہ کار لیے ہوئے ہے، تحقیق ان کے لیے مشن رہا۔ ڈاکٹر جمیل جالبی خود لکھتے ہیں:
’’محقق کو اپنے موضوع کے ساتھ عشق کرنا چاہئے اور صبح شام اسی کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا چاہئے۔‘‘
اُردو تحقیق کے اس سچّے عاشق نے اپنی ذاتی کاوشوں سے’’ تاریخ ادب اُردو‘‘ تخلیق کرکے یہ ثابت کیا کہ صحیح معنوں میں تحقیق ان کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ ان کی اس ضخیم کتاب کی خوب پذیرائی ہوئی، ساتھ ہی کئی ناقدوں نے اس تاریخ کو ’’پشتارۂ اغلاط‘‘بھی کہا، ان معترضین میں خدائے تدوین، محققِ یگانہ رشید حسن خاں سرفہرست تھے؛ لیکن رشید حسن خاں نے فردِواحد کی اس کوشش کی تعریف بھی کی، جمیل جالبی کی محنت اور لگن کے وہ قائل بھی ہیں، تاریخِ ادب اُردو پر تبصرہ کرتے ہوئے رشید حسن خاں رقم طراز ہیں:
’’جمیل جالبی صاحب کی مرتّب کی ہوئی یہ تاریخ فردِ واحد کی کوشش کا نتیجہ ہے اور یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ یہ انفرادی کوشش، اس ’’پنچایتی پیوند کاری‘‘ سے اس لحاظ سے بہتر ہے کہ یہ مختلف مضامین کا مجموعہ نہیں معلوم ہوتی( اگر اس کتاب کے آخر میں شامل ضمیموں سے قطع نظر کو روا رکھا جائے) کتاب پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ مؤلّف نے محنت کی ہے، اُن کے نقطۂ نظر اور طریقِ کار سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، مگر اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ انھوں نے تعلقِ خاطر کے ساتھ یہ کام کیا ہے۔‘‘
(ادبی تحقیق مسائل و تجزیہ، صفحہ 285،رشید حسن خاں، اتر پردیش اُردو اکادمی، لکھنؤ، 2005ء)
رشید حسن خاں نے اپنی کتاب ’’ادبی تحقیق: مسائل و تجزیہ‘‘ میں 60صفحات پر مشتمل تنقید ی تبصرہ لکھا ہے۔ رشید حسن خاں کا اُردو تحقیق میں کیا مقام و مرتبہ ہے، اُس سے اُردو دنیا واقف ہے، خان صاحب نے تاریخِ ادب اُردو کی غلطیوں کی گرفت بھی کی ہے۔ رشید حسن خاں نے جمیل جالبی کی تنقیدی بصیرت کی کھل کر حمایت اور تعریف کی ہے ،مگر اُن کی تاریخ نگاری پر اعتراض کیا ہے۔ جمیل جالبی کی جن باتوں سے رشید حسن خاں اتفاق نہیں رکھتے، اُن کو تحریر کرنا لازمی ہے۔ مثلاً انھوں نے لکھا ہے کہ اُردو پنجاب میں پیدا ہوئی، سندھ کا ذکر آتے ہی اُردو کو سندھ اور ملتان کے علاقے سے پیدا کر دیتے ہیں، صوبہ سرحد کے کوہستانی حصّے کو بھی وہ اُردو کا مسکن قرار دیتے ہیں اور بلوچستان کو بھی وہ اُردو کی تشکیل سے منسلک کردیتے ہیں، غرض پورے پاکستان کو اُنھوں نے اُردو کی جنم بھومی بنا دیا ہے، کئی مقامات پر اُردو کو مسلمانوں اور اسلام سے اس طرح سے منسلک کردیا ہے ،جیسے ان میں لازم ملزوم کی نسبت ہو۔ اس تبصرے کے بعد کئی نام ور ادیبوں نے رشید حسن خاں کے سوالات کے جوابات اپنی کتابوں اور مضامین میں دیے، ڈاکٹر گیان چند جین نے رشید حسن خاں کے تبصرے پر ردّ عمل ظاہرکرتے ہوئے لکھا:
’’اگر ہمیشہ اصلی مآخذ کو دیکھ کر حوالے دیے جائیں ،تو سال بھر میں دس صفحے سے زیادہ لکھنا ممکن نہ ہوگا۔ اگر محض ہم عصر یا قریب العصر راوی کے بیان پر اصرار کیا جائے، تو اُردو ادب یا دنیا کے کسی بھی ادب کا ابتدائی حصہ خارج کردینا ہوگا۔ کیا ’’رامائن‘‘ اور ’’مہابھارت‘‘ کالی داس کی تصانیف ہوبر کی ’’ایلیڈ‘‘ ’’اوڈیسی‘‘ اور دوسرے یونانی شاہ کاروں کے قریب العصر نسخے موجود ہیں، ان کے قدیم نسخے موجود ہیں۔ ان کے قدیم ترین نسخے مصنف سے کئی صدی بعد کے ہیں۔ کیا انھیں حرفِ غلط قرار دیا جائے؟ جالبی نے بیاضوں سے ڈھونڈ کر دکنی شاعر محمود کی چند غزلیں بہم پہنچائیں،مشتاق، خیالی، حسن شوقی، فیروز وغیرہ کی غزلیں بھی اسی طرح متفرق ذرائع سے فراہم ہوئی ہیں۔ اگر عبد الودودی محقق بن کر ان کو ماننے سے انکار کردیتے، تو اُردو غزل گوئی کی تاریخ گوئی سے ان سب شعرا کو خارج کر دینا ہوگا۔ کیوں صاحب؟ نظامی کی ’’کدم راؤ پدم راؤ‘‘ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ یہ بھی تو ایک مجہول الاسم ، ناقص الطرفین و ناقص الاوسط نسخے میں برآمد ہوئی ،جس کے کاتب اور زمانے کا علم نہیں، اس کے شاعر نظامی کا کہیں حوالہ نہیں ملتا، یہ مثنوی صحیح معنوں میں مجہول الاسم ہے؛ کیوں کہ اس کا نام بھی معلوم نہیں۔ کیا اسے غیر معتبر قرار دے کر اس کی طرف سے آنکھ موند لینا اُردو ادب و ادبی تحقیق کی زرّیں خدمت ہوگی! یہ ممکن ہے کہ جالبی نے بیاضوں سے جو نمونے درج کیے ان میں سے بع معتبر نہ ہوں لیکن ان کی زبان کے معیار کو دیکھ کر انھیں غیر معتبر قرار دیجئے۔‘‘
(اُردو ادب کی تاریخیں، صفحہ 688، گیان چند جین، انجمن ترقی لاہور، 2000ء)
ڈاکٹرجمیل جالبی کا بیش ترادبی کام تدوین پر مشتمل ہے۔اُردو کی پہلی مثنوی ’کدم راؤ پدم راؤ‘ دیوان حسن شوقی، دیوانِ نصرتی کی تدوین ان کے قدیم اُردو ادب سے بے پناہ عشق کی عمدہ مثالیں ہیں۔ مثنوی کدم راؤ پدم راؤ کی اشاعت کے بعد مشفق خواجہ نے انھیں’ ماہر دکھنیات‘کے طور پر یاد کیا۔ تدوین کے سلسلے میں جمیل جالبی نے ایک کارگر نسخہ یہ اپنایا کہ ایک جانب تو قدیم نسخے کی کتابت اُسی طرز پر تھی ،جس طرز پر اُس کی اشاعت ہوئی تھی اور دوسرے صفحے پر جدید طرز کی کتابت تھی۔ اس طریقۂ کار کو قاری کے ساتھ ساتھ دانشورانِ اُردو نے خوب پسند کیا۔ اس طرح جمیل جالبی نے اپنے ادبی کارناموں کو دیانت داری کے ساتھ انجام دیا۔ ان کی اہم تخلیقات، تالیفات اس طرح ہیں: پاکستانی ثقافت، تنقید اور تجزیہ، نئی تنقید، ادب کلچر اورمسائل، محمد تقی میر، معاصر ادب، قومی زبان، یکجہتی نفاذ اور مسائل ، فرہنگِ اصطلاحات، قدیم اُردو لغت، تاریخِ ادب اُردو، ایلیٹ کے مضامین، جانورستان، ادبی تحقیق، ارسطو سے ایلیٹ تک، پاکستانی ثقافت کی پہچان۔ جمیل جالبی کی ادبی خدمات کو دیکھتے ہوئے حکومتِ پاکستان نے انھیں ’’ستارۂ امتیاز‘‘ ، ’’ہلالِ امتیاز‘‘قومی ادبی انعام سے بھی نوازا۔

پروین کماراشک کی شاعری


حقانی القاسمی
یہ دورmechanised birthکاہے۔
Frozen Eggیا In Vitro Fertilization (IVF)سے تولیدی عمل کا سلسلہ جاری ہے۔ اس نوع کے میکانکی تولیدی عمل سے اخلاقیات اور اقداری نظام کے ساتھ انسان کی شناخت بھی مجروح ہورہی ہے۔ اس کی وجہ سے نسل انسانی کا منظرنامہ ہی نہیں بلکہ شجرہ نسب تبدیل ہوتا جارہاہے۔تولیدی عمل کی طرح تخلیقی عمل کے ساتھ بھی کچھ ایسی ہی واردات گزر رہی ہے۔ شاعری کی ساخت اورسلاست بھی غیرفطری عناصر کے تداخل کی وجہ سے شکستہ، سقیم بلکہ عقیم ہوگئی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اس دور میں بھی کچھ ایسے تخلیق کار ضرور ہیں جن کے یہاں ’فطری تخلیقیت‘ کا عنصر نمایاں ہے اوران کا تخلیقی عمل غیرفطری عناصر سے مجروح یا متاثر نہیں ہے۔
پروین کماراشک بھی انھیں شاعروں میں ہیں، جن کے اظہار و احساس کے مابین ایک مادرانہ رشتہ (Maternal Bond)ہے، وہ بھی اسی طرح کے تخلیقی کرب سے گزرتے ہیں، جس طرح ایک ماں دردِزہ سے گزرتی ہے۔ اسی درد نے انھیں وہ داخلی اور ماورائے ذہن شعور عطا کیا ہے، جس نے خارجی دنیا سے ان کا رشتہ ختم کرکے باطنی دنیا سے تعلق قائم کردیاہے اور یہی Detachmentان کی تخلیق کا رمز ہے۔ ان کی شاعری کا محور سکوت ذہن(Silence of Mind)اور صدائے دل(Sound of Heart)ہے۔ پروین کمار کی شاعری کا افق اور الٰہ سے رابطہ ہے۔ ان کے ہاں ایک معصومانہ تحیر ہے اور ہر چیز کو ’دیدہ حیران‘ سے دیکھنے کی خواہش اور ایک نئے انداز سے اظہار میں ڈھالنے کا جذبہ بھی ہے۔ ان کا داخلی ذہن، انسان کے متعین کردہ خطوط وحدود میں محصورنہیں ہے۔ ان کی آنکھیں ہمہ گیر اورجہاں بیں ہیں۔جو مصنوعی سرحدوں کو تسلیم نہیں کرتیں۔ ان کی شاعری میں ایک Bird Eyeیاخلاباز کی آنکھیں نظر آتی ہیں اور ایسی ہی شاعری دنیا کو ایک نیافینومیناعطاکرتی ہے یا تخیلی کائنات کی تشکیل توکرتی ہے۔
ان کی شاعری میں عشق کی ارتعاشی لہریں ہیں اوروہ موج بھی جو ذات اور روح کے مابین نقطہ عطف ہے۔اس میں انسانی شعور، احساس و ادراک کے وہ تمام مدارج ومنازل ہیں جن سے فردبشر کے شب وروز گزرتے ہیں۔ان کی شاعری میں نئے موسموں کی بشارت بھی ہے اور احساس و اظہار کی تازگی بھی۔ایسی شاعری محنت و ریاضت کی مرہون منت نہیں،بلکہ کسی کاوردان ہی ہوسکتی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ پروین کمار اشک کی شاعری کسی مخصوص تخلیقی لہر کا فیض ہو یا ایک ایسی ساعت کا جس میں انسانی ذہن کا براہِ راست آسمان سے رشتہ ہوتاہے۔ ان کی شاعری ’پدمنی پہر‘ کی ہے اس لیے اس میں روح اورضمیر کو تابناک وتوانا کرنے والے عناصر کا وفور ہے۔
پروین کماراشک کی شاعری میں جو موج یم عشق اورصوفیانہ دیوانگی (Sufi Madness)ہے اس کو سمجھنے کے لیے ذہن کی نہیں، دل کی ضرورت ہے اور دل بھی ایسا جو گداز ہو۔ گداختگیِ دل کے بغیر نہ پروین کمار اشک کو سمجھنا آسان ہوگا اور نہ ہی ان کے پورے تخلیقی عمل کو۔ اس تخلیق کے اندر جو جادوئی کردارہے اس میں بہت کچھ دخل روحانیت کا ہے، جو پروین کمار اشک کی تخلیق کا لاینفک حصہ ہے۔
پروین کماراشک نے اپنی تخلیق کو اسی روحانی نقطے سے اجالا ہے۔ ان کی تخلیقی فکر میں رود روحانیت ہے اور سپت رشمی کرنیں بھی۔ یہی Radiant Energyان کی شاعری کا رنگ و روپ، انداز اور اسلوب بدلتی ہے۔ ڈیوائن انرجی کے بغیر ایسی شاعری ممکن ہی نہیں ہے۔ انھوں نے اپنی شاعری کے ذریعے طبعی وجود کو مابعدالطبیعاتی جہتوں سے روشناس کرانے کی کوشش کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں تصوف کی رمزیت اورسریت ہے۔ یہ مکمل طور پر Enlightenment کی شاعری ہے۔ ایک دوامی شعور کی،حلقہ دام خیال سے باہر کی شاعری اس میںWave of Thoughts (خیالات کی لہر) نہیں بلکہ جذبات و احساسات کا مدوجزر ہے اس کے ساتھ ساتھ ان کی شاعری میں منفیت کی سیاہ قوتوں کے خلاف احتجاج اور ردِعمل بھی ہے۔ اس میں جس عشق یا Sufi alchemyکا بیان ہے وہ ازلی اور دائمی محبت ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ انسان اور Godlinessکے درمیان محبت کی اساس پرمبنی شاعری ہے۔ اس شاعری میں مصنوعی،غیر فطری یا مشروط محبت کا تصور نہیں ملتا۔ بلکہ جو بھی محبت ہے اس کا زمین و آسمان سے بہت گہرا رشتہ ہے۔ یہ مکمل طور پر الوہی رابطے و رشتے کی شاعری ہے۔ یہ شاعری اثبات کی متحرک قوتوں کا اشاریہ اور منفیت کی سیاہ قوتوں کے خلاف احتجاج بھی ہے:
نہ تیغ پھینکنا گھبرا کے ظلمت شب سے
زمین حق پہ لہو کا نشان روشن ہے
پروین کماراشک کے یہاں روحانی محبتوں کی نئی منزلوں کی جستجو اور تخیلات کے نئے مدارج کی دریافت کا عمل روشن ہے، نئے استعارات اور تراکیب کی جستجو کے عمل نے بھی ان کی شاعری کو جدت، لطافت اور نزاکت سے ہم کنار کیاہے۔ مروجہ معمولے سے انحراف نے بھی پروین کمار اشک کی شاعری کو نقطہ امتیاز اور انفراد عطا کیا ہے۔
ایک مخصوص پیٹرن کے ذہنی نظام کے تخلیقی عمل سے کسی جدت یا ندرت کی توقع نہیں کی جاسکتی، مگر پروین کماراشک نے اپنی اختراعی فکر سے شاعری کی لطافت ومعنویت میں اضافہ کیاہے۔ تخلیق کو احساس اوراظہار کے جوابعاد انھوں نے عطا کیے ہیں، اس ’ابعادیت‘ سے ان کی شاعری میں وہ کیفیت پیدا ہوگئی ہے، جو عہدماضی میں میرؔ سے مخصوص تھی اور روحانی احساس کے اعتبار سے بھی میرا، کبیر، لل وید سے انھوں نے اپنارشتہ جوڑلیا ہے، جس سے ان کا مقام ہم عصرشعرا سے مختلف ہوگیا ہے۔ اختراعی فکر کے ساتھ ساتھ اظہاری قوت (experessional cogency)بھی ان کی شاعری کو انفرادیت عطا کرنے کے لیے کافی ہے۔ یہ شاعری نہیں،روح سے رابطہ ،مکالمہ یا داخلی خود کلامی ہے۔ یہ طبعی وجود کی تعبیرات اور تشریحات سے بالکل مختلف نوعیت کی روحانی تعبیر و تفہیم ہے۔ باطنی وجود کی تفہیم صوفیانہ وجدان و ادراک کے غماز ان اشعار سے ہی ممکن ہے۔یہ اشعار ان کی فکری نبوغت اور لسانی لطافت کے گواہ ہیں:
تم نے کیوں بارود بچھا دی دھرتی پر
میں تو دعا کا شہر بسانے والا تھا
خبر کہاں تھی میری روح ایک مسجد ہے
شب وجود میں ماہِ اذان بھی ہوگا
خدا کی طرح چمکتا ہے دل کے شیشے میں
دعا کا آنسو کہاں آنکھ سے نکلتا ہے
دعا کا آنسو، دعاکاشہر، شب وجود اور ماہِ اذان جیسی تراکیب میں جدت و ندرت ہی نہیں بلکہ معنوی لطافت ونزاکت بھی ہے۔ یہ کثیرالمعانی تراکیب ہیں جو اپنے ظاہری مطلب کے علاوہ باطنی مفاہیم کے بھی حامل ہیں، ان تراکیب سے ہی اندازہ ہوتاہے کہ پروین کماراشک کاتخلیقی آسمان کتنے اور کیسے کیسے شبد ستاروں سے روشن ہے:
یہ میری روح میں کیسی اذان روشن ہے
زمیں چمکتی ہے، کل آسمان روشن ہے
میں روز فون پہ اس کو صدائیں دیتا ہوں
خدا کے ساتھ میرا رابطہ نہیں ہوتا
مسجد دل میں تنہا بیٹھے روتے ہیں
ہمیں نماز پڑھانے والا کوئی نہیں
بزرگوں کو خدا یا بھیج فوراً
دعا کا خون زمیں نے کر دیا ہے
سمندر کو دکھا کر آگ اب کیوں
دعا کی بارشوں کو رو رہی ہے
نہ مسجدوں کی طرف ہیں نہ مندوں کی طرف
میری دعائیں ہیں جلتے ہوئے گھروں کی طرف
جہاں پرکھوں کے سجدے کے نشاں ہیں
وہ گلیاں خون سے کیوں دھو رہے ہو؟
خدا کی بے رخی پر رو ہی ہے
دعا مجھ سے لپٹ کر رو رہی ہے
پروین کماراشک کی شاعری میں نے ایک بچے کی آنکھ سے پڑھی کہ اس تخلیق کے تحیر اور جمال سے محظوظ ہوسکوں۔بچوں کی آنکھ سے فطرت اورکائنات کے تحیرات وتموجات کا مطالعہ زیادہ مفید ہوتا ہے کہ بچوں کی آنکھیں تحفظات وتعصبات سے پاک ہوتی ہیں اور اس منفیت سے بھی جو آج کل عصری تنقیدی ڈسکورس سے مخصوص ہے۔

مشاہیر اکابر و معاصرین


مجموعۂ مضامین :مولانامفتی ظفیرالدین مفتاحی
مرتب:مولانا احمد سجاد قاسمی صفحات:۴۵۵
ناشر:مرکزی پبلی کیشنز، دہلی
تبصرہ:مولانا فضیل احمد ناصری(استاذحدیث ونائب ناظم تعلیمات جامعہ امام محمد انورشاہ دیوبند)


مفتی ظفیرالدین مفتاحیؒ دارالعلوم دیوبند کے نامور مفتی رہے اور فقہ و فتاویٰ میں بڑا نام پیدا کیا۔ ان کے فتاوی اہلِ علم میں کافی پسند کیے جاتے تھے۔ دارالعلوم کی وسیع و عریض لائبریری کی فن وار ترتیب اور مناسب ترین وضع انہی کی تخلیق ہے، ورنہ تو ایک وقت وہ بھی تھا کہ لائبریری سے مطلوبہ کتابوں کا نکالنا جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا۔ فتاویٰ دارالعلوم بھی انہیں کی ترتیب و تہذیب اور تخریج و تحشیہ سے ابتداءً منظرِ عام پر آئی اور خوب مقبول ہوئی۔ ابتدائی ۱۱؍جلدیں انہیں کی مساعی کی عکسِ جمیل ہیں۔
حضرت مفتی صاحب بڑے فقیہ ہونے کے ساتھ بڑے مصنف بھی تھے اور مسلم ادیب بھی۔ درجنوں کتابیں ان کے خامۂ عنبر شمامہ سے نکلیں اور مقبولِ عام ہوئیں۔ ان کا قلم کوثر و تسنیم کا عکاس اور جوئے سلسبیل کا پرتو تھا۔ وہ الفاظ کے انتخاب اور خوبصورت جملہ سازیوں میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے، ان کی تحریروں میں اگر چہ سادگی تھی، مگر شہد کی مٹھاس، بلا کی چاشنی اور دریاؤں کی روانی سے بھرپور تھی۔ آپ ان کے مضامین پڑھیے تو اپنے معمولات کی ساری ترتیب بھول جائیں گے۔ مساجد کی تاریخ پر ان کی جلدوار کتاب اہل علم کے لئے سرمۂ بصیرت ہے۔ جس موضوع پر بھی خامہ فرسائی کرتے، اسے باغ و بہار بنا دیتے، ان کے قلم میں وہ تاثیر تھی کہ زہر بھی تریاق بن جاتا۔ ملک و بیرونِ ملک کے اخبار و رسائل میں ان کی تحریریں بڑے چاؤ سے چھاپی جاتیں اور ذوق و شوق سے پڑھی جاتیں۔ ماہنامہ دارالعلوم میں بھی ایک طویل عرصے تک لکھا اور جم کر لکھا، حتی کہ ۱۷؍برس اس کے اداریے بھی لکھے، یہ ان کے قلم کا سحر ہی تھا کہ کئی قیمتی مسودے چوری کی نذر ہو گئے۔ اللہ جانے بعد میں وہ کس بندے کے نام سے چھپے۔
حضرت مفتی صاحب کی یوں تو ساری ہی نگارشات آبِ آتش لباس کا رنگ رکھتی تھیں، مگر شخصیات پر ان کی قلمی تراشوں کا کوئی جواب نہ تھا۔ پیکر نگاریوں میں وہ اتنے باکمال کہ چھوٹے چھوٹے اور سہل ترین جملوں کے ذریعے زیر قلم شخصیت کی ہوبہو تصویر کھینچ دیتے۔ آپ ’’حیاتِ مولانا گیلانی‘‘ دیکھ لیجیے۔ اگر آپ نے پورا پڑھے بغیر اسے رکھ دیا تو آپ پر اسی وقت بیگانۂ ادب ہونے کا حکم لگ جائے گا۔ مفتی صاحب نے شخصیات پر خوب لکھا اور کثرت سے لکھا۔ مشاہیر اکابر پر بھی اور معاصر اہلِ علم پر بھی۔ وہ مضامین اپنے دور میں بہت پڑھی گئیں اور ان پر خوب تحسین و آفریں ملی۔
وقت گزرتا گیا اور مضامین کی تعداد بڑھتی گئی، ۲۰۱۱ء میں مفتی صاحب اپنے وطن دربھنگہ میں سفرِ آخرت پر چلے گئے۔ یہ مضامین متعدد رسائل میں بکھرے پڑے تھے، یہ ایک بڑا ذخیرہ تھا، جس کی جمع و ترتیب کی شدید ضرورت تھی، مگر یہ کام وہی کام کر سکتا تھا، جس کی طبیعت مشکل پسند واقع ہوئی ہو اور ان تھک جدوجہد سے ابا نہ کرتی ہو، چناں چہ انہی کے صاحب زادے جناب مولانا احمد سجاد قاسمی صاحب نے بیڑا اٹھایا اور۳۱؍کتب و رسائل سے ۷۰؍ شخصیات پر تحریریں جمع کردیں اور انہیں نہایت سلیقے سے مرتب کر دیا۔ ان میں سے۲۱؍مضامین تو وہ ہیں جو ۱۹؍شخصیات پر مستقلاً لکھے گئے ہیں، جب کہ۵۱؍شخصیتوں پر وہ نگارشات ہیں جو ماہنامہ دارالعلوم کے ادارتی کالم میں لکھے گئے تھے۔ یہ سارے مضامین ادب و انشا کے تمام محاسن سے آراستہ ہیں، جن سے ادبی کائنات حسین و جمیل ٹھہرتی ہے۔
کتاب پر مفکرِ اسلام حضرت مولانا ولی رحمانی صاحب کا نہایت وقیع اور شستہ مقدمہ ہے، مقدمہ بجائے خود خاصے کی چیز ہے، جی چاہتا پڑھتے رہیں۔
کتاب درمیانی اور متداول سائز پر ہے،مرکزی پبلی کیشنز دہلی سے چھپی ہے، وہی دہلی جو طباعت کی دنیا میں اب قابلِ رشک بن چکی ہے۔ کتاب بڑی دل چسپ اور معلومات کا خزانہ ہے۔ اس کا مطالعہ ان اصحابِ علم و ادب کے لیے بہت ضروری ہے ،جو خاکہ نگاری سے شغف رکھتے ہوں۔ میں نے اسے پڑھا اور خوب محظوظ ہوا۔ ایسی کتاب کی موجودگی بلاشبہ لائبریری کے وقار کا ذریعہ بنے گی۔

آتشِ رفتہ کا سراغ


از: ڈاکٹرحسن رضا
صفحات: 256
قیمت: 300.00
ناشر: ادارۂ ادب اسلامی ہند، نئی دہلی
D321ابوالفضل انکلیو، جامعہ نگر، اوکھلا، نئی دہلی
موبائل: 8709108154
تبصرہ: ساجد انصاری ندوی(رِیسرچ اسسٹنٹ،ادارۂ ادب اسلامی ہند،نئی دہلی)

ادارۂ ادب اسلامی ہند کو ابتداسے ہی باوقار افراد کی صدارت حاصل رہی ہے، جنہوں نے اپنے خون جگر سے ادارے کی آبیاری کی، ان میں ایک معتبر نام ڈاکٹر حسن رضا کا ہے۔ ادارۂ ادب اسلامی ہند کو ان کی چار سالہ صدارت اور اس کے ترجمان ماہنامہ’’ پیش رفت‘‘ کو ادارت کا شرف ملا۔ ’’ آتشِ رفتہ کا سراغ‘‘ان ہی اداریوں کا مجموعہ ہے ،جو دسمبر ۲۰۱۳ء سے مئی ۲۰۱۷ء تک مستقل شائع ہوتے رہے۔ اس میں ۳۸؍ اداریوں کے علاوہ ایک مضمو ن اور دو انٹرویو زبھی شامل کر دیے گئے ہیں۔ یہ اداریے بنیادی طور پر ۳؍ موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں ، جن کی طرف اداریہ نویس نے اپنے ایک اداریے ’’میری اداریہ نگاری کے چار برس ‘‘ میں کچھ اس طرح اشارہ کیا ہے:
۱۔ ادب اسلامی کا پس منظر،مسائل اور حل
۲۔ ادبی تخلیقات اور تحریک اسلامی کا رشتہ
۳۔ مختلف اصنافِ ادب اور نمائندہ شخصیات
اسی لیے جمع و ترتیب میں اس کو میں نے اول نمبر پر رکھا ہے تاکہ اداریہ نگار کی طرف سے دیباچے کا بدل بن جائے۔
یوں تو اردو زبان و ادب میں اداریہ نگاری کی روایت بہت قدیم ہے اور اردو کے افق پر متعدد اداریہ نگار ابھرکر سامنے آئے ہیں ؛ لیکن قارئین سے یہ امر مخفی نہیں کہ کتنے اداریے واقعی اداریہ کہلانے کے مستحق ہیں اور کتنے پیش ناموں کے صفحات محض رسمی اور خانہ پرُی کی غرض سے سیاہ کیے جاتے ہیں۔ڈاکٹر حسن رضا کے اداریے اس حوالے سے ممتاز ہیں کہ انہیں خوب سوچ سمجھ کر سپردِ قلم کیا گیا ہے اور ان کے ذریعے ایک ادبی ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ موصوف نے ایک جگہ خود ہی وضاحت کردی ہے کہ:
’’۔۔۔میرے لیے افکاروخیال کی آوارہ گردی کو چاند کے غاروں میں نظر بندکرنے سے زیادہ مشکل اسے ہر ماہ اداریے کی شکل میں پابند قلم وقرطاس کرنا لگتا رہا،تاہم جو کچھ میں نے لکھا ،الحمد للہ خوب سوچ سمجھ کر لکھا۔‘‘
لہٰذا ان اداریوں کی اسی معنویت ، ادبی اہمیت، قارئین کے حسن تاثرات اور احباب کی خواہش پر انہیں مرتب کرکے کتابی شکل دی جارہی ہے ؛تاکہ ادب اسلامی کی بحث کو نئے سرے سے آگے بڑھا یا جاسکے۔
ڈاکٹر حسن رضا ادب اسلامی کے حلقوں میں ایک نمایاں نام ہے۔ فی الوقت وہ اسلامی اکیڈمی دہلی کے چیرمین ہیں اور اس کے تحت چلنے والے ادارے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز کے ڈائرکٹر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ آپ نے تین دہائی شعبہ اردو رانچی یونی ورسٹی میں تدریسی فرائض انجام دیے ہیں۔ یوں تو بسیار نویسی آپ کا مزاج نہیں ہے، جس کا ذکر انہوں نے اپنے ایک اداریے میں کچھ یوں کیا ہے:
’’…لکھنے کے لیے مجھے اپنی طبیعت کو صرف آمادہ ہی نہیں ؛بلکہ اپنے آپ کو منانا بھی پڑتاہے ۔ کبھی کھلونے دے کر بہلانا پھسلانا اور کبھی ڈرا دھمکا کر کام لینا پڑتا ہے۔ شعور اور لاشعورکی رَو کو ایسا پابند رکھنا کہ دیوار پر ٹنگے ہوئے کلینڈر کے اوراق کے پلٹنے کی صدا پر سمع اللہ لمن حمدہ کہہ کر اٹھ جائے اور قلم ہاتھ میں لے کر بیٹھ جائے مرے لیے جوئے شیرلانے سے کم نہیں‘‘۔
اس کے باوجود گاہ گاہ نوکِ قلم کو حرکت دیتے رہے ہیں ۔’’ شین مظفر پوری ؛شخصیت اور فن‘‘ ان کے پی۔ ایچ ۔ڈی کا مقالہ ہے، جو کتابی شکل میں شائع ہو چکا ہے ۔اس وقت شین شناسی کے لیے یہ کتاب حوالہ کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ اسی طرح شخصی کوائف کو انہوں نے خاکوں کے کینوس پر اتارنے کی فن کارانہ کوشش کی ہے ،جنہیں ۲۰۱۷ء میں ’’کھوئے ہوؤں کی جستجو‘‘ کے نام سے خان یاسر صاحب نے مرتب کیا ہے۔ ان کے علاوہ مختلف موقعوں پر علمی، تحریکی اور ادبی مضامین ملک و بیرون ملک اردو رسائل و جرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں جنہیں اگر ترتیب دیا جائے، تو یقیناًکئی کتابیں منظر عام پر آسکتی ہیں۔
ڈاکٹر صاحب کو جاننے والے بہ خوبی جانتے ہیں کہ ان کے قرطاسِ حیات کی ہر سطر، اشہبِ قلم کا ہر لفظ، ان کی نشست و برخواست کی ہر ادا ، ذہن و دماغ سے ہوکر تشکیل پانے والے افکارو خیالات کی ہر پرچھائی، جذبہ دروں اور شیشہ دل سے عکس پانے والی ہر تصویر تحریک اسلامی ہی کے دم سے ہے ۔ اور یہ مضامین بھی تحریک اسلامی کا علمی و ادبی سرمایہ ہیں جو نسل نو کی فکری و ادبی آبیاری کا کام انجام دیں گے۔
اس کتاب کے ذریعے ادب اسلامی کی شناخت ، مسائل، اس کے اپروچ اور تخلیقی و فنی قالب میں فکرا سلامی کے جمالیاتی اظہار پر زور دیا گیا ہے۔ نوخیز ذہنوں میں ادب اسلامی کے حوالے سے پیدا ہونے والے سوالات کو چھیڑا گیا ہے اور ان کے جوابات دیے گئے ہیں ۔ ادب اسلامی کی تعریف، اس کے حدود اربعہ ، اس کی تاریخ، اس کے سفر میں دھوپ چھاؤں اور اتار چڑھاؤ کا بے لاگ تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر حسن رضا ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جو اپنوں کی ادنی سی کاوش پر پھولے نہ سمائیں اور اغیار کی ہر لغزشِ پا آنکھ کا کانٹا بن کر چبھتی رہے۔ بلکہ آپ محسوس کریں گے کہ ترقی پسندی ، نسائیت ، جدیدیت و ما بعد جدیدیت جیسے ادب اسلامی کے مقابل ادبی تحریکات کے ذکر میں بھی ایک توازن اور فنی رچاؤ پایا جاتا ہے۔ جب کہ وابستگانِ ادب اسلامی کے احتساب اور ان کی تنقید سے ذرا چشم پوشی نہیں کرتے۔ ادب برائے زندگی اور زندگی برائے بندگی کے آپ نقیب ہیں ۔ یہ اداریے اسی کے ترجمان ہیں ۔ ان اداریوں کی سب سے بڑی سچائی یہی ہے کہ یہ اسلامی زاویہ نظر سے لکھے گئے ہیں اور انہوں نے زاویہ نظر کو مخصوص اسلوب دید بھی بخشا ہے۔ اس لیے کہ اسلام کے تصور حسن کے دیکھنے کے لیے وہ حسن نظر کے قائل ہی نہیں اس پر زور بھی دیتے ہیں۔
اس مجموعے کے مشمولات بہ ظاہر الگ الگ مضامین ہیں لیکن نزولی ترتیب کے بجائے ان میں ربط معانی کی تلاش کی گئی ہے جس سے ان میں ایک داخلی وحدت قائم ہوگئی ہے۔
احوال و سرور کی الگ الگ کیفیتوں میں حیط�ۂ تحریر میں آنے کی وجہ سے ان اداریوں میں بعض باتوں کی تکرارتھی جن کی وقتی افادیت اپنی جگہ لیکن کتابی شکل دینے میں انہیں اداریہ نگار کی اجازت سے قلم زد کردیا گیا ہے۔ سچ ہے کہ موصوف کی طبیعت نے شعر و شاعری کا قصرِ شامخ تعمیر کرنے سے ابا کر دیالیکن ان کی شعری طبیعت نے نثرکی ردا تھام لی، چناں چہ ان کی عبارت بہت ٹکسالی اور نغمگی سے بھر پورہوتی ہے۔حذف کرنے میں اس خصوصیت کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے۔ مضامین کے درمیان استعمال ہونے والے اشعار کو مستند حوالوں سے ملایا گیاہے ۔ اسی طرح آیات قرآنی و احادیث نبوی کا ترجمہ اور ان کے حوالے بھی درج کر دیے گئے ہیں ۔ اس کی پروف ریڈنگ میں بڑی محنت کی گئی ہے۔ کوشش کی گئی ہے کہ یہ مجموعہ معمولی اغلاط سے بھی پاک ہو ۔ اسی طرح ٹائپنگ میں تصحیح کی حتی المقدور کوشش کی گئی ہے۔

میری زمین، میراآسمان


شعری مجموعہ: ونودکمارترپاٹھی
طباعت: انجمن ترقی اردوہند، دہلی
قیمت: چارسوروپے
تبصرہ: محمدامانت اللہ
اردو ادب میں بنیادی طور پر دو اصناف پائی جاتی ہیں، ایک نثری صنف اور دوسری شعری اور دونوں کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے- شعری اصناف میں بالخصوص غزل اور نظم اردو شاعری کی مقبول ترین صنفیں سمجھی جاتی ہیں جنھیں ابتدائی دور سے ہی ہر خاص و عام نے قبول کیا ہے اور سراہا ہے، زیر نظر کتاب “میری زمین میرا آسمان” ونود کمار تر پاٹھی کی غزلوں اور نظموں کا مجموعہ ہے- اس کو انہوں نے دو حصوں میں تقسیم کیا ہے، پہلے حصے میں غزل کو جگہ دی ہے اور دوسرے حصے میں نظم کو شامل کیا ہےـ ونودکمارترپاٹھی نے الہ آباد یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم اے کیا اور انڈین ریونیو سروس (جس کے وہ نہایت اچھے افسر تصور کیے جاتے تھے) جوائن کرنے سے پہلے ایونگ کرسچین کالج(ECC) الہ آباد میں درس و تدریس کے فرائض بھی انجام دیے – ان دنوں وہ بمبئی میں مقیم ہیں جہاں ریلائنس گروپ میں پریزیڈنٹ اور گروپ ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز ہیں-
    ونود کمار اپنی گو ناگوں مصروفیات کے باوجود شعر و سخن کو بھی وقت دیتے ہیں، ان کا یہ شعری مجموعہ اس بات کا واضح ثبوت پیش کرتا ہے کہ انہیں شاعری سے دلچسپی اور گہرا ربط ہے –
   کتاب کے شروع میں شاعر نے “دو باتیں آپ سے” کے تحت مختصر تحریر میں اپنی بات قارئین تک جس صاف انداز میں پہنچانے کی کوشش کی ہے اس کو واضح کیا ہے اور ان شخصیات کا بھی ذکر کیا ہے جن سے قدم قدم پر انہیں حوصلہ افزائی ملی ہے –
    اس کے بعد “سچائی کا پیکر: ونود ترپاٹھی” کے تحت سید محمد اشرف نے اس مجموعے کی خصوصیات کو بہترین انداز میں اجاگر کیا ہے-
  اس شعری مجموعے کو پڑھ کر مصنف کے شعری اور ادبی ذوق کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے، خوبصورت لب و لہجے اور منفرد اسلوب کی حامل ان کی شاعری قاری کے دل پر دیر پا نقش چھوڑ جاتی ہے، ونود کمار ترپاٹھی نے اپنے مشاہدے، جذبات، خیالات اور احساسات کو بہت خوش اسلوبی سے ہم تک پہنچانے کی کوشش کی ہے –
     پیش نظر مجموعے کی سب سے بڑی خوبی اس کی زبان اور اسلوب بیان ہے، انہوں نے ایسی زبان استعمال کرنے کی کوشش کی ہے جو عام آدمی کی زبان ہوتی ہے، جو لفظ انہیں جہاں مناسب اور موزوں معلوم ہو تا ہے وہ اسے وہاں استعمال کر لیتے ہیں، مثال کے طور پر حصئہ غزل سے ووشعر:
میں تو رسوائی سے ڈرتا تھا تمہاری خاطر
جب تلک ساتھ تمہارا تھا میسر مجھ کو
اب یہ عالم ہے کہ نہ تم ہو نہ کوئی رسوائی
شام تنہائی ملی بن کے مقدر مجھ کو
اس مجموعے کی دوسری اہم خوبی یہ ہے کہ اس میں شاعر نے قارئین کو حقائق اور سچائی سے روشناس کرانے کی بھرپور کوشش کی ہے اور سچائی کے پھولوں کو بہت ہی خوبصورت اور دلکش اندازمیں شعری سانچے میں ڈھالاہے، مثلایہ دوشعرملاحظہ فرمائیں:
بہتے پانی کا کچھ حساب نہیں
زندگی ہے کوئی کتاب نہیں
عمر بھر ساتھ جو نبھا جائے
اس زمانے میں ایسا خواب نہیں
اس مجموعے میں پائی جانے والی تیسری اہم خوبی سلاست اور روانی ہے، ان کی شاعری میں خیالات کا ایک تسلسل نظر آتا ہے جو ان کی شاعری کے حسن کو دوبالا کر دیتا ہے جیسا کہ حصۂ نظم سے ان کی ایک نظم “بے نام” کے چند اشعار سے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے:
ہر ملاقات کا ہو نام ضروری تو نہیں
جیسا آغاز ہو انجام ضروری تو نہیں
اتفاقاً ہی تعارف ہوا تھا اس سے میرا
گفتگو ہونے لگی جانے کہاں تک پہنچی
اس کے جذبوں سے حقیقت یوں بیاں ہوتی تھی
جیسے بندش نہ کوئی، حد نہ رکاوٹ کوئی
اس کے علاوہ اور بھی بہت سی خوبیاں اس مجموعے میں ہمیں دیکھنے کو ملتی ہیں ،اس کے اشعار پڑھتے ہوئے قاری کے دل پر ایک سحر انگیز کیفیت پیدا ہو جاتی ہے –
      “میری زمین میرا آسمان” میں سموئی ہوئی شاعری کا جس پہلو سے بھی جائزہ لیا جائے اور پرکھا جائے یہ بہترین شاعری کے معیار پر پوری اترتی ہے، بلکہ دل پر ایک دیرپااثر چھوڑ جاتی ہے، اس خوبصورت شعری مجموعہ کے لیے ونود کمار یقیناً مبارکباد کے مستحق ہیں – 152 صفحات پر مشتمل اس مجموعے کی قیمت 400 روپے ہے، کتاب کا ٹائٹل بہت خوبصورت اور دیدہ زیب ہے، اس کے أوراق بھی بہت دلکش اور شاندار ہیں ،کتاب کی طباعت بھی بہت عمدہ ہے، جید پریس، بلی ماران. دہلی سے اشاعت عمل میں آئی ہے، امید کرتے ہیں کہ ادبی دنیامیں اس مجموعے کو مقبولیت حاصل ہوگی اورباذوق طبقے میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا –

ہندستانی مسلمانوں کی تعلیمی،سماجی و معاشی صورتحال پر ایک دستاویزی کتاب

نام کتاب:Denial and Deprivation: Indian Muslims after the sachar committee and Rangnath Mishra Commission Reports
مصنف:عبد الرحمن آئی پی ایس
صفحات:569
قیمت:695
ناشر:منوہر پبلشرز اینڈڈسٹری بیوٹرس
تبصرہ:محمد عدنان(جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی)
ہندوستانی مسلمانوں کی جو صورت حال ہے اس سے ہر کوئی آشنا ہے، ان کی تعلیمی، اقتصادی، اور سماجی پسماندگی ہندوستان میں ہی نہیں؛ بلکہ دنیا میں مشہور ہے، یہ کتاب اسی پسماندگی اور محرومی کو ایک دستاویز کی شکل میں پیش کرتی ہے، اس کے مصنف جناب عبد الرحمن صاحب ہیں، موصوف آئی پی ایس افسر ہیں اور بیس سال سے زیادہ عرصے سے مہاراشٹر میں مختلف عہدوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں، ان کا تعلق بہار کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے ہے، موصوف سماجی، اقتصادی اور تعلیمی مسائل پر لکھتے رہتے ہیں اور مختلف پروگراموں میں ان کے لیکچرزبھی ہوتے رہتے ہیں۔یہ کتاب ہندوستانی مسلمانوں کی پسماندگی کی ایک مستند تاریخ ہے، جو جو خصوصاًسچر کمیٹی اور رنگاناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ کے بعد کے حالات کا جائزہ پیش کرتی ہے۔
مجموعی طور پر کتاب بیس ابواب اور ایک خاتمے پر مشتمل ہے۔پہلا باب:Introduction ہے،اس باب میں مصنف نے دونوں رپورٹس (سچر کمیٹی اور رنگاناتھ مشراکمیشن) کا جائزہ لیا ہے اور بتایا ہے کہ سچر کمیٹی رپورٹ کے مطابق مسلم معاشرہ بہت ہی زیادہ محرومیت کا شکار ہے، خاص طور پر ترقی کے تمام شعبوں میں ایس سی ایس ٹی سے بھی پیچھے ہے، اور رنگاناتھ مشرا کمیشن رپورٹ کے مطابق بھی مسلمان بہت ہی زیادہ پسماندگی کا شکار ہے، RMC نے آزاد ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار اس بات کی سفارش کی تھی کہ 1950 کے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو ترمیم کر کے اقلیتوں بشمول مسلم اقلیت کو ریزرویشن ملنا چاہیے، رپورٹ کے مطابق مسلمان SCاور ST کی طرح بالکل پسماندہ ہیں ،یہاں تک کہ OBC ہندو سے بھی زیادہ پسماندہ اور پیچھے ہیں، پھر اس رپورٹ کے بعد کیا ہوا؟ حکومت نے اس کمیٹی کی کتنی سفارشات کو نافذ کیا؟ اور کیسے کیا؟ مسلمانوں کی اقتصادی، سماجی اور تعلیمی حالات کو بہتربنانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟ یہ تمام چیزیں مصنف موصوف نے بڑے مضبوط حوالوں کے ساتھ بیان کی ہیں۔اسی طرح موجودہ وقت میں مسلمانوں کی آبادی کتنی ہے؟ تعلیم، معیشت، غربت، بے روزگاری، شہری سہولیات، سرکاری ملازمت اور اسمبلی و پارلیمنٹ میں ان کی کتنی نمائندگی ہے؟ اردو زبان، مدارس اور وقف جائداد سے متعلق معلومات مستند سرکاری رپورٹس کے حوالے سے پیش کی گئی ہیں۔
دوسرا باب Two Reports ہے، اس باب میں مصنف نے مسلمانوں کی پسماندگی کی وجوہات، سچر کمیٹی اور رنگاناتھ مشرا کمیشن رپورٹ کے اہم اجزا پر گفتگو کی ہے؛چنانچہ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مسلمان سب سے زیادہ غریب اور تعلیمی اعتبارسے سب سے زیادہ پسماندہ ہیں، اس رپورٹ کا ایک جز پیش ہے:
”It concludes that Muslims are one of the most economically poor, educationally backward and socially disadvantaged communities in India. It is the first ever ‘official confirmation’ of the socio۔economic deprivation of Muslims in India.
اسی طرح مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد جیلوں میں بند ہے،مثلاً مہاراشٹر، گجرات اور دہلی وغیرہ میں مسلم آبادی تقریباً دس فیصد ہے، مگر جیلوں میں 32 فیصد صرف مسلمان ہیں،ان دونوں رپورٹوں نے حکومت سے مسلمانوں کے امپاورمنٹ کے لیے بہت ساری سفارشات کی ہیں۔
تیسرا باب Reaction to the reports ہے،اس باب میں موصوف نے دونوں رپورٹوں پر مختلف تنظیموں، سیاسی پارٹیوں اور نیشنل اور صوبائی پارٹیوں کے ردعمل کا تذکرہ کیا ہے، کانگریس پارٹی میں سے اس وقت کے وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے سچر کمیٹی کی رپورٹ پر بہت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے وسائل پر مسلم اقلیت کا سب سے پہلا حق ہے اور انہی کی کوششوں کی وجہ سے مسلمانوں میں تعلیم کو فروغ دینے کے لیے بہت محنت کی گئی، اسی طرح اس وقت کی صدر پرتبھا پاٹل نے رپورٹ کی سفارشات کو پاس کرانے کا وعدہ کیااور سونیا گاندھی بھی سفارشات نافذ کرنے کے لیے ہمیشہ مثبت ہدایت دیتی رہیں؛ مگر راہل گاندھی نے کس بھی طرح کے رد عمل کا اظہار نہیں کیا، نہ سفارشات پر اور نہ ہی ان کے نفاذ پر،اسی طرح اس رپورٹ پر عالمی پیمانے پر رد عمل کا اظہار کیا گیا، عرب ممالک اور دوسرے ملکوں میں بھی مختلف پروگراموں میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مسلمانوں کی حالت پر توجہ دے۔
چوتھا باب Minorities and their Rights ہے،اس باب میں اقلیت کا تعارف، اقوام متحدہ کے کچھ اہم قوانین کا تذکرہ، اقلیتوں کے حقوق اور ہندوستان میں ان کی کیا حیثیت ہے، خاص طور پر مسلم اقلیت کے بارے میں اہم اہم باتوں کو بیان کیا گیا ہے۔
پانچواں باب Population of Muslims and Related Issues ہے۔اس باب میں ہندوستان کی آزادی سے لے کر اب تک کی ہندستان کی آبادی کے اعداد و شمار کا تذکرہ ہے اور مسلمانوں کی آبادی کا ہندوؤں وغیرہ سے موازنہ کیا گیا ہے، اس کتاب کی رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کی کل آبادی 14.22 فیصد ہے، جبکہ ہندوؤں کی 79.8 ہے اور بقیہ دوسرے لوگ ہیں، گزشتہ دہائی میں مسلم آبادی میں نسبتاً اضافہ ہوا ہے، جس کی بنیاد پر انتہاپسند ہندوؤں نے ہنگامہ کیا اور آوازیں اٹھائیں،جبکہ اعداد و شمار کے مطابق مسلم آبادی کا اضافہ خواتین میں ہوا ہے ،نہ کہ مردوں میں اور وجہ یہ ہے کہ ہندوؤں کے یہاں اگر لڑکی ہو،تو اس کا حمل ساقط کردیا جاتا ہے اور مسلمان عموماً ایسا نہیں کرتے؛ کیونکہ ان کے یہاں ایسا کرنا مذہبی تعلیمات کی روسے ممنوع ہے۔
چھٹا باب Educational Condition ہے۔اس باب کے مطابق مسلمان تعلیمی اعتبارسے OBC سے بھی پیچھے ہیں، 2011 کی رپورٹ کے مطابق مسلمانوں میں صرف 68.5 فیصد لوگ پڑھے لکھے ہیں، سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق 25 فیصد مسلم بچوں نے اسکول کا منھ تک نہیں دیکھا، جبکہ دوسرے طبقات کے لوگ 94 فیصد، 84 فیصد پڑھے لکھے ہیں،سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لڑکیاں بھی تعلیم میں بہت پیچھے ہیں، اس رپورٹ کے آنے کے بعد کانگریس نے مسلمانوں میں تعلیم عام کرنے کے لیے بہت سارے اسکولوں کا افتتاح کیا، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو اقلیتی اداروں کا درجہ دیا اور اے ایم یوکی متعدد شاخیں کھولنے کا منصوبہ بنایاگیا، متعدد اسکالرشپ جاری کیے گئے اور تعلیم کو فروغ دینے کے لیے بہت ساری یوجنائیں شروع کی گئیں؛ لیکن بی جے پی ، آر ایس ایس اور اس کی تمام شاخیں ہروقت مخالفت کے لیے کھڑی رہیں اور بہت سارے اسکیموں کو پاس نہیں ہونے دیا، 2012 میں جب سلمان خورشید نے پانچ اقلیتی یونیورسٹی بنانے کا اعلان کیا، تو بہت ہی زبردست مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور بھی بہت اہم چیزیں اس باب میں ذکر کی گئی ہیں۔
ساتواں باب Urdu ہے، اس باب میں ذکر کر دہ رپورٹ کے مطابق، اردو زبان کی خوبصورتی اور شیرینی کا کوئی انکار نہیں کر سکتا، The Centre for Bio۔Medical Research (CBMR) کے مطابق اردو زبان پڑھنے والے کو ذہنی وقلبی سکون ملتا ہے، اس کا پڑھنا صحت کے لیے بھی بہت مفید ہے اور بہت ساری بیماریوں سے حفاظت کرتا ہے۔2011 کی ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں 9 کروڑ سے بھی زیادہ لوگ اردو بولنے والے ہیں، ہندوستان کی کل آبادی میں سے 7.524 فیصد لوگ اردو بولنے والے ہیں اور ہندوستان میں اردو تیسرے نمبر پر بولی جانے والی زبان ہے، کرناٹک کے سابق وزیر اعلیSiddamaramiah نے وہاں کی پولس سے کہا تھا کہ وہ اردو سیکھیں ؛تاکہ انھیں معلوم ہو کہ لوگوں سے نرمی کے ساتھ کیسے گفتگو کی جاتی ہے، اسی طرح بہار کے سابق وزیر اعلیٰ جیتن رام مانجھی نے بھی اس پربہت افسوس کا اظہار کیا تھا کہ انھیں اُردو نہیں آتی، جبکہ اردو نہایت خوبصورت اور میٹھی زبان ہے اور انھوں نے پلان بنایا تھا کہ اردو ٹیچر رکھ کر وہ اردو سیکھیں گے،دوسری طرف یہ فضا بنائی گئی کہ اردو زبان صحیح زبان نہیں ہے؛ کیونکہ کہ یہ مسلمانوں کی زبان ہے، کبھی کہا گیا کہ یہ آرمی کی زبان ہے ،جو مغل دور میں ایجاد کی گئی ہے اور کبھی کہا گیا کہ یہ مغل بادشاہوں کی زبان ہے؛ جبکہ حقیقت میں بالکل ایسا نہیں ہے۔اس باب میں درج ایک رپورٹ کے مطابق اردو زبان کواگرچہ جمو ں و کشمیر میں پہلی آفیشل لنگویج اور دوسرے بہت سے صوبوں میں دوسری اور تیسری آفیشل لینگویج کا درجہ دیا گیا ہے؛مگر سرکار کا رویہ اس کے ساتھ صحیح نہیں رہا، نہ مرکز کا اور نہ صوبائی حکومت کا، بہار حکومت نے 2012 میں یہ منصوبہ بنایا کہ 2015 تک 69500 پرائمری اسکولوں میں سے 27000 اسکولوں میں اردو ٹیچر فراہم کیاجائے گا، مگر اب تک اس کو نافذ نہیں کیا گیا، اسی طرح دہلی گورنمنٹ کے اسکولوں میں سنسکرت کو اردو سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔
آٹھواں باب Madrasa ہے، اس باب میں دینی مدارس کے تعلق سے مصنف نے بتایا ہے کہ مدارس کے اندر قرآن، حدیث، فقہ، اسلامی فلسفہ اور جنرل سائنس وغیرہ پڑھایا جاتا ہے، ان مدارس میں کسی بھی طرح کی غلط چیزیں نہیں پڑھائی جاتیں،جو ملک یا ملک میں رہنے والے دوسروں لوگوں کے خلاف ہوں، جیسا کہ گودی میڈیا چیخ چیخ کر مدارس کو پوری دنیا میں بدنام کرنے پر تلا ہوا ہے، ہندوستان کا میڈیا دوقسم کاہے، ایک غیر جانبدار جو مدارس کو مثبت انداز میں پیش کرتا ہے اور لوگوں کوبتاتا ہے کہ یہاں صرف اسلامی علوم سکھایا جاتا ہے؛ تاکہ مسلمان اپنے مذہب کی حفاظت کرسکیں اور اس پر عمل کر سکیں،دوسری طرف گودی میڈیا ہے، جو ہر وقت مدارس کے خلاف زہر اگلتا رہتا ہے اور چیخ چیخ کر کہتا ہے کہ یہ دہشت گردوں کا اڈہ ہے، یہاں دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے اور ان مدارس کو فنڈنگ بھی دہشت گرد تنظیمیں کرتی ہیں۔اسی طرح مصنف نے بتایا ہے کہ کئی صوبائی حکومتوں نے مدارس کی تفتیش کروائی؛ مگر کہیں بھی کسی طرح کی کوئی خرابی اور ملک کے خلاف کسی بھی طرح کے عناصر نہیں ملے؛ بلکہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہاں پڑھنے والے عموماً غریب فیملی کے بچے ہوتے ہیں؛ اس لیے حکومت نے اس بچوں کے لیے NIOS کو تشکیل دیا؛ تاکہ وہ بچے اوپن سے اسکول کا سرٹیفکیٹ حاصل کر سکیں۔
نواں باب Economic and Employment Conditionاور دسواں باب Access to Bank and Bank Credit ہے۔ان دونوں ابواب میں مسلمانوں کی بے روزگاری، ملازمت اور بینکوں میں پیسے جمع کرانے سے متعلق معلومات درج ہیں، سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد چھوٹے چھوٹے بزنس اور اور کاموں پر بھروسہ کرتی ہے، جس میں نہ کوئی تحفظ ہے اور نہ زیادہ آمدنی؛ بلکہ بہت سے مسلمان تو روایتی پیشہ اختیار کیے ہوئے ہیں جیسے ریشم، چمڑے اور جوٹ وغیرہ، اسی طرح مسلمان سرکاری ملازمت میں بھی نہ کے برابر ہیں ،خواہ وہ مرکزی سطح پر ہو یا صوبائی سطح پر، رپورٹ کے مطابق صرف 41.5 فیصد مسلمانوں کا بینک اکاؤنٹ ہے، جبکہ 55 فیصد کے پاس کوئی اکاؤنٹ نہیں ہے، قرض وغیرہ لینے کے لیے وہ اپنے رشتہ دار، دوست اور پڑوسی وغیرہ کی طرف رجوع کرتے ہیں،صرف 13 فیصد مسلمانوں نے قرض لینے کے لیے بینک میں درخواست دی ہے اور صرف 1.7 فیصد گھر بنانے کے لیے اور 0.5 فیصد لوگوں نے تعلیم کے لیے قرض کے لیے درخواستیں دی ہیں۔
اسی طرح طرح مصنف نے بتایا ہے کہ چونکہ اسلام میں سودی کاروبار اور لین دین حرام ہے، اس لیے RBI سے اسلامک بینکنگ کی اجازت طلب کی گئی تھی، مگر اس نے اجازت دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ قانون بنا کر لانا چاہیے، 2013 میں وزیر خزانہ نے اسلامک بینکنگ کے تعلق سے RBI کی رائے طلب کی تھی، فروری 2017 میں اس نے اپنی رائے submit کر دی، مگر اب تک اس پر گورنمنٹ نے ایکشن نہیں لیاڈحالاں کہ عالمی سطح پر اسلامک بینکنگ کو بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہے، اسلامی ملکوں میں ہی نہیں؛ بلکہ مغربی ممالک بھی، اسی طرح برطانیہ، جاپان، سنگاپور، ہانگ کانگ اور دوسرے ممالک میں اسلامک بینکنگ کیسینٹرز بنے ہوئے ہیں اور لوگوں کا رجحان بھی اس طرف بڑھ رہاہے۔
گیارہواں باب Social and Physical infrastructure،بارہواں باب Poverty consumption and Satandards of living اور تیرہواں باب Government Employment ہے، موصوف مصنف نے ان بابوں میں مسلمانوں کی سماجیصورت حالات کا تفصیل سے جائزہ لیا ہے اورسرکاری رپورٹس کے حوالوں کے ساتھ بتایاہے کہ مسلمان ہر اعتبار سے انتہائی پچھڑا ہوا ہے اورسرکاری ملازمتوں میں بھی مسلمان سب سے کم ہیں۔
چودہواں باب Wokf properties اور پندرہواں باب Deprived Section in Muslims and Affirmative Actionہے۔رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں مسلم وقف کی جائداد لاکھوں ہزار کروڑ ہیں اور ان کی سالانہ آمدنیاں بھی بے پناہ ہیں؛ لیکن ان کا استعمال صحیح طور پر نہیں کیا جارہا ہے، زیادہ تر حصہ حکومت اور وقف جائداد کے ذمہ داران ہضم کر جاتے ہیں۔
سولہواں باب Government Programmes and Schemes in the Post۔Era, سترہواں باب Status of Implementation of Sachar Committee Recommendations اور اٹھارہواں باب Status of Implementation of Rangnath Mishra Commission Recommendations ہے،ان دونوں باب میں سچر کمیٹی رپورٹ اور رنگاناتھ مشرا کمیشن رپورٹ کے بعد کے حالات کو بیان کیا گیا ہے اور بتایا گیاہے کہ ان رپورٹس کی اہم سفارشات کو حکومت نے نافذ نہیں کیا۔
انیسواں باب Reports after two Reports اور بیسواں باب Conclusion ہے، اس میں سچر کمیٹی کی طرف سے پیش کردہ سفارشات کا جائزہ لیا گیا ہے،بتایاگیاہے کہ سچر کمیٹی نے مسلم اقلیت کے لیے 76 سفارشات کی تھیں، 2013 میں سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے دعویٰ کیا تھا کہ 76 ؍سفارشات میں سے 72 ؍سفارشات کو حکومت نے قبول کر کے نافذ کردیا ہے؛ مگر مسلم کمیونٹی کی طرف سے ناراضگی کا اظہار کیا گیا کہ حکومت نے سفارشات صحیح طریقے سے نافذ نہیں کیں،جبکہ بقیہ چار سفارشات کو حکومت نے کچھ وجوہات کی بنا پر قبول کرنے سے ہی انکار کر دیاتھا۔
مجموعی طور سے یہ کتاب ہندوستانی مسلمانوں کی محرومی اور پسماندگانی کی ایک پوری تاریخ کوبیان کرتی ہے، مصنف نے بڑی عرق ریزی اور انتہائی دقت نظر کے ساتھ اس حوالے سے تمام تفصیلات کو جمع کیا ہے اور حوالوں کے ساتھ پیش کیا ہے۔ کتاب اگرچہ ضخیم ہے، مگراپنے مواد و معلومات کے اعتبار سے نہایت اہم بھی اور اس کاہرذمے دار ہندستانی شہری خصوصاً مسلمانوں کو مطالعہ کرنا چاہیے ،یہ ایسی کتاب ہے کہ اس کا مختلف زبانوں میں ترجمہ بھی ہونا چاہیے ؛تاکہ ہندستانی مسلمانوں کی صحیح صورتِ حال وسیع تر پیمانے پر لوگوں کے سامنے آسکے ۔کتاب کا ٹائٹل دیدہ زیب اور خوبصورت ہے اور کاغذ عمدہ کوالٹی کا ہے، طباعت Manohar Publishers and Distributors کے ذریعے عمل میں آئی ہے۔

باتیں شعاعِ انجم کی

عطا عابدی
شاعری دل کی آواز ہوتی ہے۔ایک ایسی آواز جس کا رشتہ ذاتی احوال کے ساتھ ساتھ اجتماعی معاملات موضوعات سے ہوتا ہے۔ ذاتی احوال کی آواز کا محرک رنج وغم بھی ہوتا ہے اور عشق و نشاط بھی ہے۔ اس طرح اجتماعی موضوعات ومسائل کے تحت تبصرہ و احتجاج کی فضا ملتی ہے تو کبھی تقلید وتردید کے حوالے بھی روشن ہوتے ہیں۔ کبھی زخم درد واہ کا سبب قرار پاتا ہے اور مرہم طلب ضرورت سامنے لاتا ہے تو کبھی یہی زخم مسکرانے کی ادا بھی رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عام طور پر شاعروں کے یہاں جہاں درد کی جلوہ گری ہوتی وہیں سماج ومعاشرہ کا رویہ اور اس پر اس کا ردعمل بھی ملتا ہے۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ الگ الگ شاعر کے الگ مزاج وافکار کے سبب الگ الگ رنگ و کیفیت کی تصویریں سامنے آتی ہیں ۔ کسی کے یہاں ذات کا غم،کائنات کے غم سے ہم آہنگ ہے تو کہیں ان کے درمیان حد فاصل کی لکیریں نمایاں ہیں کہیں خواب وخیال کی خوبصورت دنیا ہے تو کہیں زندگی کی تلخ حقیقتیں دل کے مدوجزرکی سمت رفتار طےکر رہی ہوتی ہیں۔ کہیں ذات و کائنات کے درمیان تطابق وتوازن کی قدریں متوجہ ومتاثر کرتی ہیں تو کہیں ان قدروں سے مستعار انصرام اور قدرےانحراف کا عمل بھی ملتا ہے۔
جہاں تک شعاع انجم کی غزلوں کا تعلق ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دل سے دل تک کے سفر کا درپیش مرحلہ زبان پا گیا۔یہ غزلیں ابتدا تا اخیر غزل کے لغوی معنی کے اہتمام والتزام سے عبارت ہیں۔ محبوب یا معشوق سے گفتگو غزل کی روایت کا مقبول ومحبوب حصہ رہی ہے ۔ فریدہ انجم کے نزدیک غزل کی یہ روایت بہت محبوب ہے اور قابل تقلید بھی ہے۔ اس کے نزدیک غزل غم دل اور حدیث جاناں کے اظہار کا وسیلہ ہے، لہزااکثر غزلیں ایسی تعلق سے سامنے آتی ہیں کہ اگر یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہو گا کہ شعاع انجم کی شاعری صدائے دل کی شاعرہ ہیں۔یہ صدائے اس غم کی پروردہ ہے جو جزبوں اور لفظوں کے سہارے اپنے مخاطبت کے دل کو سمجھنے اور سمجھانے کا مخاطبت ہوتا ہے۔ خوبصورت تمناؤں کے حوالے سے مطلوب سے مخاطبت کا انداز جہاں زندگی کی امنگوں یا نشاطیہ جزبوں کا آئینہ دار ہے وہی الطاف وجمال کے شعور کی کیفیت کا اظہار بھی کرتا ہے ۔جزبئہ عشق کے روایتی اور قدیم وتیرے سے انسلاک کے بعض پہلو شاعرہ کے تصور و عمل کے درمیان اشتراک کی نوید کے طور پر سامنے آتے ہیں۔متعدد اشعار کے زریعہ کسی کی التفات کے سبب زندگی کے حسین ہونے کا اعتراف کرنا اور الفت کے عمل کو عبادت سمجھنا دل کی اس کیفیت کا اشارہ کرتا ہے۔جس کے آگے دیگر چیزیں ثانوی ہو جاتی ہیں_
بعض مقامات پر اظہار غم سے گریز اور آنکھوں کی زبان سمجھنے پر اصرار کے معاملات شاعرہ کے نسوانی اطوار کا مشرقی استعار ثابت ہوتے ہیں۔ یہ اطوار آگے چل کر اظہار بیگانگی یعنی نیم بے نیازی کی صورت میں بھی سامنے آتے ہیں۔ کہیں کہیں سانس کی بے اعتباری کا احساس اور انتظار کے حوالے تجربہ و مشاہدہ کی صورت ملتی ہیں ـ
غرض “شعاعِ انجم” معشوق سے گفتگو کی محفل کا وہ منظر نامہ ہے جہاں کہیں “وہ” کا تخاطبت اور کہیں “وہ”کو ” تم” سے تخاطب کرنا اور کہیں ” تم” کا “آپ” ہو جانا دراصل مختلف حالات میں مختلف جذبوں اور رویوں کی پرداخت اور پردہ داری شعاع انجم کی شاعرہ کی شاعری حیات شاعری کی عمر نسبتا مقصود کے ابتدائی ادوار سے متعلق ہونے کے سبب فکر و فن کی وسعت و بلندی کے حوالے بہت روشن نہیں تو مایوس کن بھی نہیں ہیں ۔زندگی کے ابتدائی مراحل میں مختلف آزمائشوں کے باوجود ہراساں و پریشاں ہونے کے بجائے مخصوص غزلیہ شاعری رویوں کو اپنانا اور زہنی ہم آہنگی پیدا کرنا سخت مشکل امر ہے۔جو یہاں نظر آتا ہے۔شاعرہ کے یہاں جذبوں کی جو کیفیت ہے اور اس کیفیت کو بیان کرنے کی جو کوشش ہے یا جدوجہد ہے اس سے توقع پیدا ہوتی ہے کہ ان کے افکار کئی وسعتوں کے حامل ہوں گے، موضوعات کی مختلف جہتیں روشن ہوں گی۔اور فن کے پیمانے مزید مستحکم ہوں گے ۔یعنی شاعرہ کا تابناک مستقبل یقینی نظر آتا ہے ۔ہمارے اس یقین کا بہت کچھ دارومدار قارئین کی پزیرائی اور حوصلہ افزائی پر بھی ہےـ

قرآن کریم کے انگریزی تراجم کی تحقیق و تنقید پر ایک عمدہ کتاب


نام کتاب: ترجمات معانی القرآن الإنجلیزیۃ: دراسۃ نقدیۃ و تحلیلیۃ
اشاعت: مکتبہ توبہ، ریاض، سعودی عرب
مبصر: امتیاز شمیم
قرآنی علوم ومعارف پر دنیا بھر میں اب تک جتنا کام ہوا ہے، اتنا شاید ہی کسی آسمانی یا غیرآسمانی کتاب پر ہواہوگا اور اس کا سلسلہ تاہنوز جاری ہے۔ڈاکٹر اورنگ زیب اعظمی کی کتاب ’’ترجمات معاني القرآن الإنجلیزيۃ: دراسۃ نقدیۃ وتحلیلیۃ‘‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، یہ کتاب در اصل ان کی پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے، جوپہلی بار 2009 ء میں سعودی عرب کے معروف ومشہوراشاعتی ادارہ مکتبہ توبہ سے چھپ کر منظر عام پر آیاتھا،علمی وادبی حلقوں میں ڈاکٹر اعظمی کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں، وہ عربی زبان وادب میں نمایاں خدمات کے عوض حکومت ہند کی جانب سے صدر جمہوریہ ایوارڈ یافتہ اورفی الوقت جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے شعبۂ عربی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، تصنیف وتالیف، تحقیق وانکشاف، صحافت، ترجمہ نگاری، ادب اور شاعری سے انھیں کو زمانۂ طالب علمی سے ہی غیر معمولی دلچسپی رہی ہے، قرآن سے شغف اور قرآن فہمی کا ذوق بھی آپ کاپراناہے،مدرسۃ الاصلاح سرائے میر میں درجہ عربی چہارم کے سال ”اسالیب القرآن” نامی کتاب کی تحقیق کررہے تھے، وہاں سے فضیلت کی تکمیل کے بعد انھوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے گریجویشن کیا، اس کے بعد جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے ایم اے کیا اور وہیں سے سال 2007ء میں عربی زبان وادب میں ’’قرآن کریم کے انگریزی تراجم: ایک تنقیدی وتجزیاتی مطالعہ‘‘ جیسے اہم علمی وتحقيقی موضوع پر ایک گراں قدر مقالہ لکھ کرپی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
موصوف نے زیر تبصرہ کتاب کو پانچ ابواب میں تقسیم کیاہے۔پہلے باب کا عنوان ہے ”نزول قرآن اور اس کی کیفیت”، اس باب کی تین الگ الگ فصلوں میں بالترتیب عہدِ نبوی، عہد صحابہ اور عہد تابعین میں مطالعہ قرآن اورقرآن فہمی کے اساسی مآخذ ومصادر پر روشنی ڈالی گئی ہے، ان مصادر میں قابل ذکر یہ ہیں: وحی کا نزول، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات اقدس (عہد نبوی میں)، قرآن کریم کی دیگر آیات، احادیث پاک، قدیم کلام عرب، دیگر آسمانی کتابیں اور تفاسیر صحابہ۔تیسری فصل کے آخر میں قرآن کی تفسیر کے حوالے سے ایسی منفی چیزوں کا بھی ذکر ملتا ہے ،جو عہد تابعین میں، عہد نبوی اور عہد صحابہ سے دوری کی وجہ سے در آئی تھیں مثلاً اسرائیلی روایات کی کثرت، مذہبی اختلافات اور معانیِ قرآن کی توضیح وتفسیر میں کثرت اختلاف وغیرہ۔
دوسرا باب ’’عہد اموی اور عہد عباسی میں مطالعہ قرآن‘‘، اس باب میں بھی تین فصلیں ہیں، فصل اول میں قرآن سے متعلق احادیث کی جمع وتدوین پر بات کی گئی ہے، یہاں اعظمی صاحب نے دلائل سے اس غلط فہمی کا بھی ازالہ کیا ہے کہ بہ ظاہر ایسا معلوم ہوتاہے کہ قرآن کے ماثور تفاسیر ومعانی کی جمع وتدوین کا سلسلہ عہد عباسی میں273 ھ میں شروع ہوا؛ حالاں کہ حقیقت اس کے برخلاف ہے؛ کیوں کہ یہ سلسلہ عہد اموی (40۔132ھ) میں ہی شروع ہوگیا تھا، گرچہ اب اس عہد کی مدون قرآنی تفاسیر میں سے اکثر دستیاب نہیں ہیں، جہاں تک تفسیر ابن جریر کا تعلق ہے، تو وہ عصر عباسی میں وجود میں آئی (صفحہ 49، 50)، دوسری فصل میں اس بات کی وضاحت ہے کہ قرآن کا ترجمہ کرنے اور اس کے معانی کی تفسیر میں عقل کا استعمال اسی حد تک درست ہے، جب وہ حدود وقیود کے ساتھ مقید یعنی قرآن وسنت اور فصیح عربی زبان کی فہم روشنی میں ہو، عہد نبوی، عہد صحابہ اور عہد تابعین میں عقل کا استعمال اسی حد تک تھا؛ لیکن جیسے جیسے زمانہ گزرتا گیا، لوگ عہد نبوی، عہد صحابہ اور عہد تابعین سے دور ہوتے گئے اور نتیجتاً قرآن کی تفسیر وتشریح میں بنا کسی لگام کے عقل کا استعمال شروع ہو ااورلوگ اپنے اپنے مسلک وفکر کے مطابق اس کے معانی بیان کرنے لگے، سو تیسری فصل میں یہ اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ قرآنی الفاظ واصطلاحات کے معانی کی تحدید وتعیین میں کس طرح سے اختلاف رائے عمل میں آیا۔
تیسرے باب میں ترجمۂ قرآن کی مختصر تاریخ بیان کی گئی ہے، حضرت سلمان فارسی وہ پہلے فرد ہیں، جنہوں نے سب سے پہلی بار قرآن کی پہلی سورت فاتحہ کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا تھا؛ لیکن قرآن کا مکمل ترجمہ 345 ہجری میں منصور بن نوح السامانی کے حکم سے علما کی ایک جماعت نے فارسی زبان میں ہی کیا اور یہ تفسیر ابن جریر طبری کا ترجمہ تھا، اولا (فصل اول) مصنف کتاب نے ان مختلف علاقائی، قومی اور بین اقوامی زبانوں (کل تعداد 63) کو شمار کیاہے، جن میں قرآن کے ترجمے ہوئے ہیں، ساتھ ہی ساتھ اس زبان کا مختصر تعارف کرواتے ہوئے اس میں ہوئے اولین ترجمہ کی مع سن طباعت واشاعت نشاندہی بھی کی ہے اور مترجم کانام بھی بتلایا ہے، ثانیا (فصل ثانی) مختلف زمانے میں ہونے والے، یعنی 1862ء سے لے کر دور حاضر تک قرآن کریم کے انگریزی تراجم وتفاسیر کا مختصر تاریخی جائزہ پیش کیاگیاہے،اس لمبی فہرست میں کل 75؍ تراجم قرآن شامل ہیں ،جن میں بالترتیب 59 مسلم اسکالرز کے، جب کہ آٹھ قادیانی اور آٹھ غیر مسلموں (یہود ونصاری) کے ہیں۔
چوتھاباب یعنی ’’قرآن کریم کے منتخب انگریزی تراجم: ایک تنقیدی وتجزیاتی مطالعہ‘‘، کتاب یا مقالے کی اصل یہی باب ہے، اس سے قبل کے تین ابواب کی حیثیت اس موضوع کے تعارف کی ہے اور اسی وجہ سے مصنف نے پچھلے تینوں ابواب میں حتی الوسع اختصار کے ساتھ گفتگو کرنے کی کوشش کی ہے، اس کے برعکس اس باب میں گفتگو طویل ہے اوردس فصلوں پر محیط ہے۔
چوں کہ قرآن کے انگریزی ترجمے کی تعداد بہت زیادہ ہے، اس محدود مقالے میں ان میں سے ہر ایک کا احاطہ کرنا ایک دشوار امر تھا، سو ڈاکٹراعظمی نے ان میں سے مختلف ادیان ومکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے مترجمین کے نو اہم تراجم کا انتخاب کیاہے اور وہ ہیں:
1۔ محمد مارمادیوک بیکثال
2 ۔عبداللہ یوسف علی
3۔آرتھر آربیری
4۔مولوی شیر علی160
5۔عبدالماجددریابادی
6۔ م۔ ح۔ شاکر
7۔ سر محمد ظفراللہ خان
8۔ت۔ ب۔ ارونغ
9۔ڈاکٹر محمد تقی الدین ہلالی ومحمدمحسن خان
مذکورہ بالا تراجم کی اہمیت و افادیت تو اپنی جگہ مسلم ہے ہی، ان کے انتخاب میں مختلف ادیان ومذاہبِ فکر کے لوگوں کی شمولیت مصنفکی وسعت ذہنی اور کشادہ نظری کی علامت ہے۔
پہلی فصل میں قرآن کے بیس مفرد الفاظ (مثلا آلاء، احوی، شوی وغیرہ) کا انتخاب کرکے مذکورہ بالا مترجمین قرآن کے ذریعے ان کے ترجمے کا تنقیدی وتجزیاتی مطالعہ کیاگیا ہے اور شواہد ودلائل کی روشنی میں درست معنی کی طرف رہنمائی کی گئی ہے۔دوسری فصل میں قرآن کی بیس ایسی خاص عبارات واصطلاحات (مثلا فدلاہما بغرور،ابرموا امرا، بلغ اشدہ، خرلہ ساجدا وغیرہ) پر معتمد علیہ اصول وضوابط کی روشنی میں بحث کی گئی ہے، جن کی قرآن کے مشمولات کو سمجھنے میں بہت اہمیت ہے۔تیسری فصل قرآن کے ایسے سولہ بیانیے اور اسالیب سے بحث کرتی ہے ،جن کی نظیر ہمیں قدیم کلام عرب میں ملتی ہے،اعظمی صاحب نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ کس طرح بعض مترجمین ان قرآنی اسالیب کو سمجھنے سے قاصر رہے اور ان کے درست مفہوم تک رسائی میں عام طور سے غلط فہمی شکار ہوئے ہیں۔چوتھی فصل میں عربی زبان وادب کے اہم بیس نحوی اور صرفی قواعد کا تذکرہ ہے، ایسے قواعد جن کا کلام فہمی میں بہت رول ہوتاہے، ڈاکٹر اعظمی کے مطابق متعددمترجمین سے ان قواعد سے ناواقفیت یا بے توجہی کی بناپر ترجمے میں چوک ہوئی ہے۔ پانچویں فصل میں ایسی بارہ اصطلاحات ومعارف کا ذکر ہے، جن کا اعظمی صاحب کے مطابق ترجمہ نہیں کیاجانا چاہیے( مثلا صلاۃ، اللہ، طاغوت وغیرہ)، وہ کہتے ہیں کہ ترجمہ کرتے وقت ان اصطلاحات کو جوں کا توں رکھا جائے اور ہامش یا بین القوسین میں بہ قدر ضرورت ترجمہ یا تشریح کی دی جائے۔چھٹی فصل نظم قرآن سے بحث کرتی ہے، عام طور سے مفسرین نے نظم قرآن سے نظمِ کلماتِ قرآن مراد لیاہے اور اسی اعتبار سے قرآن کی تفسیر و معانی کو بیان کیاہے، جبکہ اعظمی صاحب کہتے ہیں کہ نظم سے مراد نظمِ آیات وسور ہے ،جو قرآن کو شئ واحد کی طرح بناتی ہے اور اس سے قرآن کے صحیح اور درست معانی تک پہنچنے میں ہمیں مدد ملتی ہے، انہوں نے اس کی گیارہ مثالیں پیش کی ہیں۔ساتویں فصل شان نزول سے متعلق ہے، بعض جگہ شان نزول قرآن فہمی میں ہماری رہنمائی کرتے ہیں اور بعض جگہ ہمیں صحیح مفہوم سے بھٹکا دیتے ہیں، ڈاکٹر اعظمی کے مطابق صواب تک رسائی کے لیے اس نظم کی رعایت کرنی چاہیے ،جو ہماری رہنمائی کرے،اس میں ایسی نو مثالیں پیش کی گئی ہیں۔آٹھویں فصل میں قرآن کے معانی کی تفہیم میں دیگر آسمانی صحیفوں سے استفادے کے بارے میں بحث کی گئی ہے اور اس بابت ایسی 10 مثالیں دی گئی ہیں ،جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ کس طرح دیگر آسمانی کتب قرآن کے صحیح معانی تک ہماری رہنمائی کرتی ہیں۔نویں فصل میں ایسے عقائد وافکار کا بیان ہے، جن کی وجہ سے عام قاری قرآن فہمی میں غلطی کا شکار ہوجاتاہے، یہاں ڈاکٹر صاحب نے 12؍ ایسی مثالیں پیش کی ہے، جن میں انہوں نے ان فکری عقائد وافکار کا پردہ فاش کیاہے، جن کی وجہ سے مترجمین قرآن کے ترجمے میں غلطی کر بیٹھے۔دسویں فصل، گزشتہ نو فصلوں میں بیان کردہ اصول ومباحث کی روشنی میں قرآن کے صحیح مفاہیم کی تعیین پر بحث کرتی ہے، اس فصل میں ڈاکٹر صاحب نے قرآن سے دس مثالیں پیش کی ہیں اور ان کے ترجمہ ومعانی کا ان مذکورہ اصول کی روشنی میں جائزہ لیاہے اور اس کے مطابق صحیح معنی کی تعیین وتطبیق کی ہے۔
پانچویں باب میں گذشتہ ابواب کے جملہ موضوعات کا خلاصہ ہے اور اپنے تنقیدی وتجزیاتی مطالعے کی روشنی میں اعظمی صاحب نے بعض مترجمین اور ان کے تراجم پر زبان واسلوب اور معانی کو ایڈریس کرتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے اورقرآن کی تفسیر وتوضیح کے متعلق کچھ اہم تجاویز بھی پیش کی ہیں۔
بہ ہر حال زیرنظر کتاب ضخیم ہے اور اس اعتبار سے نہایت اہم ہے کہ یہ قاری کو 9 ؍منتخب انگریزی تراجم قرآنی کے تنقید وتجزیہ کے ساتھ ساتھ قرآن فہمی اور مطالعۂ قرآن کے اصول اور ترجمۂ قرآن کی مختصر تاریخ سے بھی روشناس کراتی ہے، زبان اور اسلوب سادہ ہے، قیمت درج نہیں ہے، خوبصورت ٹائٹل وکاغذکے ساتھ 484؍ صفحات پر مشتمل شائع شدہ اس وقیع کتاب پر ملک سعود یونیورسٹی کے ڈاکٹر فہد بن عبد الرحمان الرومی کا مقدمہ اس کی علمی قدروقیمت میں اضافہ کرتا ہے۔ عربی زبان سے آگاہی رکھنے والے اہلِ علم و نظر کے لیے یہ کتاب ایک گراں قدر علمی تحفہ ہے۔

’شبلی خودنوشتوں میں‘:شبلی شناسی کا ایک اہم باب


ڈاکٹرشہاب ظفراعظمی (ایسوسی ایٹ پروفیسرشعبۂ اردو، پٹنہ یونیورسٹی، پٹنہ)
ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی کا نام شبلی شناس کی حیثییت سے ایک مستحکم شناخت کا حامل ہے۔اہل اردو بخوبی جانتے ہیں کہ الیاس اعظمی کو شبلی سے جنون کی حدتک عشق ہے اور اس عشق کو انہوں نے مرکز حیات بنالیاہے۔اس عشق کے نمونے نوادراتِ شبلی، متعلقاتِ شبلی،آثارِشبلی ،شبلی اور جہانِ شبلی،شبلی شناسی کے سو سال اور کتابیاتِ شبلی وغیرہ کی صورت میں قارئین کے سامنے آچکے ہیں۔زیر نظر کتاب ’’شبلی خودنوشتوں میں‘اس سلسلے کی بارہویں کڑی ہے۔الیاس اعظمی محنتی ،عمیق نگاہ رکھنے والے ادیب ہیں،ان کی تقریباً چالیس مطبوعات شائع ہوچکی ہیں۔دارالمصنفین کے علم پرور ماحول نے ان کی طبیعت اورذوق و شوق کی تربیت کی ہے؛اس لئے تحقیق سے انہیں نسبتاً زیادہ شغف ہے۔وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایسے گوشے اور ایسے نکات سامنے لاتے ہیں، جن کی طرف عام طور پر ہماری نگاہ نہیں جاتی؛چنانچہ زیر نظر کتاب’’شبلی خودنوشتوں میں ‘‘ اپنے عنوان سے ہی مصنف کی محققانہ طبیعت اور عمق نظری کی غمازی کرتی ہے۔یہ موضوع ایسا ہے کہ جس کے لئے ماخذ و منبع کی تلاش جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔مگر الیاس اعظمی نے اپنی لگن اور محنت سے کم و بیش چوبیس ایسی خود نوشتیں تلاش کرڈالیں،جن میں شبلی کا ذکر خصوصی اورقابل ذکر انداز میں کیاگیاہے۔بقول شمس الرحمان فاروقی’’ یہ تعداد کم نہیں؛بلکہ بڑی حدتک استعجاب انگیز ہے۔اتنے بہت سے اہم لوگوں نے شبلی کا ذکر اپنی خود نوشت میں کیا،یہ امر بجائے خود شبلی کی عظمت اور اہمیت کو ثابت کرتاہے۔‘‘میرے خیال میں یہ کام وہی شخص کرسکتاہے، جسے شبلی سے عشق اور شبلی کے چاہنے والوں سے عقیدت ہو۔الیاس اعظمی انہی میں سے ہیں۔
خودنوشتوں میں شبلی کا ذکر ہے،مگر کسی نے اس کی طرف توجہ نہیں دی۔الیاس اعظمی جنہیں خود نوشتوں کے مطالعے سے دلچسپی رہی ہے ،انہوں نے خودنوشتوں کا مطالعہ کرتے ہوئے اس پر توجہ مرکوز رکھی کہ جہاں شبلی کا ذکر ہو، اسے اپنی تحقیق کا حصہ بنائیں؛چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کی یہ پیش کش شبلی شناسی کی ایک بالکل نئی جہت ہے۔انہوں نے جن خودنوشتوں کا مطالعہ کیا،وہ بھی کسی غیر اہم شخصیت کی لکھی ہوئی نہیں ہیں۔ان کے مصنفین کا شمار علمی ،ادبی اور سیاسی تاریخ میں نمایاں اور اہم مقام کی حامل شخصیتوں میں ہوتاہے اور ان میں سے اکثر کا تعلق علامہ شبلی کے معاصرین ،احباب اورتلامذہ سے ہے۔نواب سلطان جہاں بیگم(اختر اقبال)،نواب سید علی حسن خاں(تذکرہ طاہر)میر ولایت حسین(آپ بیتی)،شیخ محمد عبداللہ پاپا میاں(مشاہدات و تاثرات)،مولانا محمد علی جوہر(میری زندگی)،مولانا ابوالکلام آزاد(تذکرہ)،ملا واحدی(میرا افسانہ)،مولانا عبدا لباری ندوی(سرگذشت)،مولانا عبدالماجد دریابادی(آپ بیتی)،رشید احمد صدیقی(آشفتہ بیانی میری)،مولانا سعید احمد اکبر آبادی(غبار کارواں) خواجہ حسن نظامی(آپ بیتی)،سر رضاعلی(اعمال نامہ) اور مولانا سید ابوالحسن علی ندوی(کاروان زندگی) جیسی شخصیات کے علم وفضل اور ادبی مقام سے کسے انکار ہو سکتاہے۔ان لوگوں نے کہیں مفصل،کہیں مختصر اور کہیں ضمناً علامہ شبلی کا ذکر کیاہے، مگر ان سب کا انداز ایک دوسرے سے جداہے۔دراصل ان تمام نامور شخصیات کا تعلق الگ الگ میدانوں سے رہا ہے ۔کسی نے دریائے علم وادب کی شناوری کی ہے،تو کسی نے آسمان تاریخ وسیاست میں علم لہرائے ہیں۔کسی نے تہذیبی حوالوں سے گفتگو کی ہے تو کسی نے مذہبی اور دینی نقطۂ نظر سے شبلی کے خیالات کا جائزہ لیاہے۔سب کے الگ لگ انداز اور جدا جدا افکار ونظریات ہیںاس لئے مختلف اسالیب اور نقطہ ہائے نگاہ کا ایک خوبصورت گلدستہ جمع ہو گیاہے جو نہ صرف اس کتاب کو دلچسپ بنا دیتا ہے بلکہ تفہیم شبلی کا ایک نیا منظرنامہ پیش کرتاہے۔
کتاب میں خودنوشتوں کا اجمالی تعارف اور ان کے مصنفین کا تذکرہ بھی شامل کیا گیاہے،ان کی تصویریں دی گئی ہیں اور علامہ شبلی سے ان کے تعلقات کی نوعیت،روابط اورفکری مؤثرات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے جو کتاب کی افادیت میں اضافہ کرتی ہے۔آخر میں ایک ضمیمہ بھی ہے جس میں مولانا عمران خاں ندوی کی مرتبہ کتاب ’’مشاہیر اہل علم کی محسن کتابیں‘‘ میں شامل اہل قلم کے مضامین سے شبلی اور تصانیف شبلی کے اثرات کا اندازہ ہوتاہے۔بقول الیاس اعظمی اس کتاب کی حیثیت بھی خودنوشت کی ہی ہے۔کیونکہ اس میں جن حضرات کے مضامین ہیں وہ اہل علم اور ادبی طور پر عظمت وشان کے حامل ہیں۔انہوں نے بھی اپنی تحریروں میں شبلی اور تصانیف شبلی کا ذکر صراحت سے کیاہے۔
علامہ شبلی نعمانی کا شمار ان علما میں ہوتاہے،جنہوں نے پوری زندگی علم کے حصول اور علم کے فروغ میں گزاری۔ان کی تصنیفات سے اندازہ ہوتاہے کہ ان کا مطالعہ بے حد وسیع تھا۔وہ ایسے ایسے علوم وفنون پر درک رکھتے تھے کہ ان کے وسعت مطالعہ کا آج تک کوئی پوری طرح اندازہ نہیں لگا سکا۔اپنی مختصر زندگی میں انہوں نے ہندستان کے کتب خانوں سے سیرابی حاصل کی ہی ، مطالعہ و تحقیق کے لئے روم و مصرو شام کا بھی سفر کیا اور وہ ذخیرۂ علم حاصل کیا کہ شمس العلما ء اور رئیس المصنفین قرار دیے گئے۔دوسرا کمال ان کے اسلوب کا ہے جو ان کی شناخت بن کر آج تک اہل علم کی آنکھیں خیرہ کر رہاہے۔بقول الیاس اعظمی’’ ان کے پاس الفاظ نہیں سونے کی ڈلیاں،جملے نہیں تراشے ہوئے ہیرے یا جڑے ہوئے نگینے ہیں ،جو اثر حافظ کی غزلوں میں ہے وہ ان کے ترشے ہوئے جملوں میں سمٹ آیاہے‘‘۔سچ یہ ہے کہ شبلی ہر اعتبار سے اپنے عہد کے سب سے باکمال شخص تھے ،جن کا ثانی آج تک پیدا نہ ہو سکا۔ایسے باکمال شخص کے علمی ادبی سرمایے کی تفہیم اور مطالعے کا حق کوئی باکمال ہی ادا کرسکتاہے۔ڈاکٹر الیاس اعظمی ایسے ہی ادیب ہیں جن کے پاس علمی لیاقت ،صلاحیت اور مزاج کاوہ نور ہے جس سے وہ نہایت استقامت کے ساتھ جہان شبلی کے سارے ابواب روشن کر سکتے ہیں اور کررہے ہیں۔شبلی پر ان کی بارہ کتابیں میرے اس یقین کا ثبوت فراہم کرتی ہیں۔زیر نظر کتاب بھی اپنی نوعیت کی منفرد کتاب ہے جس میں شبلی کی سوانحی یا علمی زندگی کو ایک نئے نقطۂ نظر سے دیکھا اور پیش کیاگیاہے۔اس کے مطالعے کے بعدمیں بلا تامل کہ سکتاہوں کہ الیاس اعظمی نے شبلی شناسی کا حق ادا کردیاہے ۔یہ کتاب شبلی شناسی کے باب میں ایک کتاب حوالہ کے طور پر یاد کی جائے گی۔

نئے تنقیدی زاویے:ایک وقیع کتاب


مصنف: سکندراحمد مرحوم
مرتبہ: غزالہ سکندر
صفحات: 384 قیمت:500؍روپئے
پبلشر: ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی
مبصر: شکیل رشید (ایڈیٹر ممبئی اردونیوز)
کچھ ذمے داریاں پتھر کی طرح وزنی ہوتی ہیں ـ مرحوم سکندراحمد کی کتاب ’نئے تنقیدی زاویے‘کے تعار ف وتبصرہ کی ذمے داری میرے لیے کچھ اسی طرح کی ہے۔ان کی اہلیہ غزالہ سکندرنے جب یہ کتاب مجھے بھیجی، توساتھ ہی مختصرسی یہ تحریر بھی تھی کہ ’تبصرے کی امید کے ساتھ بھائی شکیل رشید کے لیے ان کے مرحوم دوست کی کتاب کاتحفہ بصدخلوص۔‘سکندراحمد مرحوم میرے دوست ہی نہیں تھے، وہ میرے بھائی بھی تھے،دوست جیسے بھائی !غزالہ سکندرکی مذکورہ مختصرسی تحریر پڑھ کرمجھے مرحوم سے اپنی آخری ملاقات یاد آگئی،جوان کی موت سے بس چندروز قبل ہوئی تھی۔حالانکہ ان کاتبادلہ بھوپال ہوگیاتھا؛لیکن تبادلہ کے بعدان کا ممبئی آناجانا مسلسل رہا،وہ ممبئی آئےتھے اورکف پریڈ کے پانچ ستارہ’پرسیڈنٹ ہوٹل‘ میں ٹھہرے تھے،مجھے فون کرکے انہو ں نے فوراً پہنچے کوکہاتھا۔ان کاکہا میں نے کبھی نہیں ٹالاتھا۔میں پہنچاتھا اوراُن کے ہمراہ ایئرپورٹ تک گیاتھا۔راستے میں ممبئی،ادیبوں اورادب کی صورتحال پر بات چیت ہوتی رہی،مرحوم کچھ بے چین سے لگ رہے تھے، وجہ دریافت کرنے پر بتایا کہ ادھر چند روز سے شوگر اوربلڈپریشرزوروں پر ہے اورنصف سرمیں دردرہتا ہے۔پھر ہنس کرکہاتھا کہ اپنے ہومیوپیتھ سے فون پر بات کی ہے،وہ بہار میں رہتا ہے،ا س نے کچھ دوائیں لکھی ہیں اورکہا ہے کہ گھبرانے کی بات نہیں ہے۔الوداع کہتے کہتے انہوں نے کہاتھاکہ چند ایک روز میں پھر ممبئی آناہے؛لیکن وہ آخری ملاقات تھی، اس کے بعدایک روز نصف شب کو ان کی اہلیہ کافون ملاتھا کہ انہیں د ل کاشدید دورہ پڑا ہےاورصبح پتہ چلاکہ وہ مالکِ حقیقی سے جاملے ہیں۔اللہ مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت دےـ (آمین)
مرحوم نے جیسا کہ شمس الرحمن فاروقی نے تحریر کیاہے، ادب کے میدان میں بڑی دیر سے قدم رکھا لیکن’’بہت جلد جہانِ تنقیدپر چھاگئے۔‘‘حالانکہ مرحوم فاروقی صاحب کو اپنے والد کی طرح چاہتے تھے اورادبی نظریات میں ان کے ہم خیال تھے؛ لیکن اگرکبھی کسی طرح کے ادبی اختلاف کی نوبت آتی، تووہ اپنی آرا کو سامنے رکھنے سے جھجھکتے نہیں تھے۔ادب کے حوالے سے مرحوم کے بہتوں سے اختلافات تھے؛لیکن اس کتاب کے دیباچے میں غزالہ سکندرکا یہ جملہ ’’ان کااختلاف کبھی ذاتی اورشخصی نہیں،ہمیشہ نظریاتی ہوا کرتاتھا‘‘مرحوم کے اوصافِ حمیدہ کو ظاہرکرنے کے لیے کافی ہے۔ادبی دنیامیں وہ کسی کے بھی دشمن نہیں تھے۔غزالہ سکندرنے بالکل صحیح لکھا ہے کہ ’’وہ جنون کی حد تک مطالعہ کے شوقین تھے،بینک کی متضاد مصروفیات اورذمےداریوں کے باوجودمطالعہ انہوں نے کبھی ترک نہیں کیا،مادری زبان اورشعروادب سے ان کی محبت مثالی تھی،نہ سائنس کی تعلیم کبھی آڑے آئی، نہ بنکاری کاپیشہ کبھی اس میں کوئی رخنہ ڈال سکا۔اردوادب،شاعری اورفکشن پر ان کے علمی وتنقیدی مضامین اس کاثبوت ہیں۔‘‘میں نے ان کے بھوپال جانے کے موقع پر دیکھا ہے کہ گھریلو اشیا سے کہیں زیادہ سامان میں کتابیں تھیں۔
غزالہ سکندرنے اپنے مرحوم شوہر کی یادکو کبھی اپنے دل ودماغ سے محونہیں ہونے دیا۔ان کی تحریروں کو اکٹھا کرکے انہیں کتابی شکل میں پیش کرنے کی انہوں نے ٹھانی اوریہ تیسری کتاب ’نئے تنقیدی زاویے‘سب کے سامنے ہے۔اس سے قبل ’مضامینِ سکندر‘اور’طلسمات عروض‘وہ شائع کراچکی ہیں۔جو مضامین یاتحریریں باقی رہ گئی ہیں، انہیں شائع کرانے کاعزم کررکھا ہے۔اللہ ان کے غم کوآسان کرے اورانہیں ہمت دے(آمین)۔
کتاب پانچ ابواب پر مشتمل ہے:لسانیات،مابعدجدیدیت اور تھیوری،تنقید(یہ دوحصوں پر مشتمل ہے)فارسی عروض اورانٹرویوز۔دیباچہ غزالہ سکندرکاہے اورمرحوم کے فن پر ایک وقیع مضمون’تنقید تھیوری اورسکندراحمد‘پاکستانی ادیب محمد حمید شاہد کاہے۔محمدحمید شاہدکے۹؍صفحات پر پھیلے مضمون کالب لباب ان کے ہی جملوں میں یہ ہے’’اس کتاب میں اتنی قوت ہے کہ تھیوری کے دیسی شارحین کومرعوبیت کی اس فضا سے نکال سکتی ہے، جس میں تخلیق کو پس پشت ڈال کر یہ بے چارے ایک مدت سے لسانی اورفلسفیانہ مباحث کے پانی میں مدھانی ڈالے بیٹھے ہیں،یوں کہ اردوتنقیدبانجھ مشقت کےسواکچھ نہیں رہی۔‘‘
لسانیات مرحوم کاپسندیدہ موضوع تھا،اس باب میں چار مضامین،اردو صوتیات اوراصل تناظر‘’اردورسم الخط :مسائل اورامکانات‘’الفاظ کی تذکیروتانیث ‘اور’ہمزہ،اپنی اصل کے تناظرمیں‘شامل ہیں۔تمام ہی مضامین میں بقول فاروقی صاحب’’کوئی نہ کوئی علمی بات ہے،کوئی نیا نکتہ ہے۔‘‘
مابعدجدیدیت اورتھیوری والے باب میں بھی چار مضامین شامل ہیں،یہ مضامین ادبی تھیوری کے طالب علموں کوپڑھناچاہیے؛ کیونکہ ان سے بہت سی الجھی ہوئی گرہیں سلجھ جاتی ہیں۔پہلا مضمون’مابعدجدیدیت حقیقت کے آئینے میں‘ہے اوربے حد وقیع ہے۔’دریدا اورڈی کنسٹرکشن‘اس مضمون میں انہوں نے’ڈی کنسٹرکشن‘ کے ترجمے ’’ردتشکیل ‘کو ردکرتے ہوئے اس کاترجمہ’تخریبی تعمیر‘ کیا ہے اورپر زورانداز میں یہ بات کہی ہے کہ یہ تھیوری اس لیے گھڑی گئی کہ ازلی سچائیوں پر سوالیہ نشان لگایا جائے۔دیگر دومضامین کے عنوان ہیں۔’مابعدجدید:مضمرات اورممکنات یاتعصبات اورتحفظات ‘اور’حالی کے بعدوالے۔‘تنقیدکے دوابواب ہیں،پہلے باب میں’ہم فکشن کیوں پڑھیں؟‘کے عنوان سے بے حدعلمی مضمون ہے۔ایک مضمون ’تکلم ،بیانیہ اور افسانویت‘کےموضوع پرہے۔اورایک مضمون میں احمد یوسف کی کہانی’جلتا ہوا جنگل‘کاتنقیدی جائز ہ لیا گیا ہے۔ تنقیدکے دوسرے باب میں آٹھ مضامین شامل ہیں،جن میں ایک مضمون ’ٹیگور اور گیتانجلی ‘معرکے کامضمون ہے۔فارسی عروض کے تحت مرحوم نے’عروض کاتاریخی پس منظر‘بیان کیاہے۔آخر میں دوانٹرویو ہیں‘ایک میرا لیا ہوا اوردوسرا اسدثنائی کا۔شمس الرحمن فاروقی نے مرحوم کو’نابغہ‘قراردیاہے۔بے شک سکندراحمدمرحوم’نابغہ‘تھے۔ان کے تحریر کردہ ان مضامین کو پڑھنے کے بعدہر کوئی فاروقی صاحب کی اس رائے سے متفق ہوجائے گا۔

حقانی کا جنوں زاویہ مجلہ ’اندازِبیاں‘

قیصرزماں
حقانی کو میں اس زمانے سے جانتا ہوں جب وہ بحیثیت طالب علم علی گڑھ کے شعبہ عربی میں طالب علم تھے، لیکن پی ایچ ڈی کے درمیان ہی وہاں سے ہجرت کر گئے۔ اس کی وجہ کیا ہے ، میں نہیں جانتا۔ لیکن علی گڑھ میں حقانی کی موجودگی ایک فعال، متحرک اور ادب دوست کی حیثیت سے جانی جاتی تھی۔ جب بھی ان سے کسی جگہ ملاقات ہوتی تو چائے کے ساتھ سگریٹ اور ادب بھی نوش جاں کرتا تھا۔ اسی وقت مجھے اندازہ ہو گیا کہ حقانی ایک ذہین طالب علم ہیں۔ حقانی کی ادبی بنیاد کی داغ بیل دیوبند میں پڑی اور عربی و فارسی کے علاوہ اردو مادری زبان ہونے کی وجہ کر ان کی بنیاد مستحکم تھی، پھر علی گڑھ میں ہی انہوں نے فلسطینی شاعری کے موضوع پر ایم فل مکمل کر لیا تھا۔وہ دن رات عربی ،فارسی اور فلسطینی ادب وشاعری سے واسطہ رکھتے تھے۔ کچھ تو باغیانہ تیور اور اس پر فلسطینی شاعری کی مہمیز انہیں سکون سے جینے نہیں دیتے تھے اور آج بھی ان کا ذہنی رویہ اسی نہج پہ قائم ہے۔ علی گڑھ چھوڑنے کی کیا وجہ رہی اس کا تو مجھے علم نہیں لیکن بہت دنوں تک گوشۂ گیر رہنے کے بعد یکا یک دہلی کے جامعہ نگر میں نمودار ہوئے۔صلاح الدین پرویز کے ساتھ ان کی دوستی اوریگانگت رسالہ ’’استعارہ‘‘ کے طور پرسامنے آئی اور ادب میں ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔’’استعارہ‘‘ کے غالباً ۱۴۔۱۵شمارے ہی نکلے جو فکر انگیز اور ہنگامہ خیز رہے۔ حقانی شریک مدیر تھے اور رسالے میں ’’باب عشق‘‘ اور’’ حقانی تبصرے‘‘ دو ایسے موضوعات تھے جو میرے لئے بڑے دلچسپ تھے اور آج بھی دلچسپ ہیں۔ حقانی کی پہچان ’’حقانی تبصرے‘‘ سے آج بھی میرے ذہن میں تازہ ہے اور کئی علمائے ادب کے ذہن میں بھی ہوگا،جن لوگوں کا تعلق خصوصی طور پر علی گڑھ سے ہے۔ صلاح الدین پرویز کے ساتھ ’’استعارہ‘‘ کے لکھنے والوں میں ذہانتوں کی ایک کھیپ نظر آتی ہے۔ مثلاً گوپی چند نارنگ، محمود ہاشمی، وہاب اشرفی وغیرہ کے علاوہ نئے اذہان بھی سامنے آئے اور ’’استعارہ‘‘ جب تک نکلتا رہا ہمیشہ ادبی دنیا میں ہنگامہ برپاکرتا رہا،پھر صلاح الدین بیمار پڑ گئے ، محمود ہاشمی نے لکھنا چھوڑ دیا اور اس طرح ’’استعارہ‘‘ کا شیرازہ بکھر گیا ۔ پھر حقانی ادبی منظرنامے سے کچھ دن تک غائب ہو گئے لیکن لکھنے پڑھنے سے رشتہ قائم رہا اور انہوں نے کئی کتابیں ترتیب و تصنیف دے ڈالیں۔جن میں ’’تنقیدی اسمبلاژ‘‘(صلاح الدین پرویز کی تخلیق سے مکالمہ)، ’’خوشبو، روشنی، رنگ‘‘،’’فلسطین کے چار ممتاز شعراء‘‘،’’بدن کی جمالیات‘‘،’’طواف دشت جنوں‘‘اور ’’تکلف برطرف‘‘ کے علاوہ ایک اہم اور تاریخی اور دستاویزی نوعیت کی کتاب ’’رینو کے شہر میں‘‘ کے نام سے لکھا جسے بہار کے اس زرخیز (سیمانچل!!)علمی و ادبی خطے کے معروف شعرا و ادباء پر ایک حوالہ جاتی کارنامہ کہا جا سکتا ہے۔
ابھی پچھلے دنوں یعنی مئی۲۰۱۶ء میں ’’انداز بیاں‘‘کے نام سے یک موضوعی مجلہ کا پہلا شمارہ منظر عام پر آیا جو ’’خواتین کی خود نوشتوں کے جائزے‘‘ پر محیط ہے۔ پہلا شمارہ یک موضوعی ہونے کے ساتھ ساتھ خواتین کی خود نوشتوں کے حوالے سے ایک تاریخی اہمیت کا حامل رسالہ اور خواتین کی خود نوشتوں کے حوالے سے بے حد اہم اور فکر انگیزمواد سے بھرپورانداز بیان۔ شخصیت کو سمجھنے میں خود نوشتوں کا بڑا کردار رہا ہے اور اگر خواتین کی خود نوشت ہو تو پھر کیا کہنے۔معروف عالمی مصنفہ سائمن دی بوار’’ سیکنڈ سیکس‘‘کے حوالے سے ہی پہچانی جاتی ہیں جو تانیثیت کی علمبردار کہی جاتی ہیں۔یہاں بھی خود نوشت کے حوالے سے کئی اہم اور معروف سوانح عمریاں نظر آتی ہیں۔ مثلاً ’’نوائے زندگی‘‘، ’’کاغذی ہے پیرہن‘‘، ’’رسیدی ٹکٹ‘‘اور ’’جو رہی سو بے خبر رہی‘‘وغیرہ جیسی خود نوشت کے علاوہ خود نوشت کا فن، پاک وہند کی خواتین خودنوشتیں،عربی زبان میں خودنوشت اور بدن کی ممنوعہ کتاب وغیرہ جیسے تحقیقی و تنقیدی مضامین سے بھرپور اور منفرد رسالہ کہا جا سکتا ہے۔بہر حال پہلا یک موضوعی شمارہ ہر اعتبار سے زندہ رسالہ کہلانے کا مستحق ہے۔
’’انداز بیاں‘‘ کا دوسرا یک موضوعی شمارہ بھی کسی ہنگامے سے کم نہیں یعنی ’’پولس کا تخلیقی چہرہ‘‘ کے عنوان سے ضخیم مجلہ جو کم و بیش ۵۰۰صفحات پر مشتمل ہے۔ جس میں شجاع خاور، پیغام آفاقی، عین رشیداور خلیل مامون کے علاوہ شیو سنگھ سینگر، چودھری نبی احمد، مولانا احترام الدین شاغل، احمد عدنان طارق،’’حسن گل مہتاب‘‘ ،’’شاخ گل احمر‘‘اور’’ موج جوہر‘‘کے باب میں وبھوتی نرائن رائے اور ان کا ناول ’’گھر‘‘ احساس کا سفیر ، وپل چترویدی، مہیش چند نقش ، نظر کانپوری، ابھے کمار بیتاب وغیرہ
اس شمارے کے حوالے سے کئی اہم تبصرے بھی ہماری نظر سے گزرے، خصوصی طور پر شافع قدوائی کا The Hindu اخبار میں تبصرہ قابل قدر اورفکر انگیز ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی اور تبصرے دونوں شماروں کے حوالے سے لکھے گئے۔ رسائل تو بہت نکل رہے ہیں لیکن ’’انداز بیاں‘‘ اپنے موضوع اور مواد کے اعتبار سے منفرد اور قابل مطالعہ رسالہ کہا جا سکتا ہے۔ خواتین کی خود نوشتوں کے حوالے سے پہلا یک موضوعی شمارہ کم ازکم اردو میں اپنی نوعیت کا قابل قدر رسالہ کہا جا سکتا ہے۔ اردو میں اپنی نوعیت اور موضوع کے حوالے سے اکلوتا اور منفرد رسالہ ہے جو نہ صرف پولس کا وہ چہرہ پیش کرتا ہے جسے ہم فسادات میں دیکھتے اور پڑھتے ہیں اور ذہن میں ان کی ایک منفی تصویر بنی ہوئی ہے، بلکہ اس شعبے میں بھی حساس اور تخلیقی فنکار نظر آتے ہیں ۔ مدیر کا کمال ہے کہ ایسے موضوع پر ایک ضخیم ترین رسالہ نہ صرف ترتیب دیا بلکہ موضوع اور مواد کے اعتبار سے بھی ایک بہترین کارنامہ کہا جا سکتا ہے۔
مدیر نے پچاس صفحات سے زائد ’’آغاز جستجو‘‘ کے عنوان سے خامہ فرسائی کی ہے، جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ:
’’پولیس کا تخلیقی چہرہ۔۔۔یہ عنوان جب میں نے سوچا تھا ، مجھے یقین تھا کہ چند صفحات میں ہی پوری داستان سمٹ جائے گی لیکن جب جستجو کا سفر شروع ہوا تو آنکھیں حیرت سے وا رہ گئیں کہ جسے میں کوزہ سمجھتا تھا وہ سمندر نکلا۔۔۔ہم جیسوں کی ساری توانائی تو دفتری اور گھریلو تناؤ میں ہی ختم ہو جاتی ہے۔ ایسے میں کیسی جستجو، کہاں کا ذوق و شوق ۔ پھر بھی جب میں نے اس عنوان کے تحت چیزیں تلاش کرنا شروع کی تو محسوس ہوا کہ مختلف میدانوں میں پولس کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ شاعری ہو یا نثر ، تحقیق ہو یا تاریخ، افسانہ ہو یا ناول ، صحافت ہو یا ثقافت، ہر ایک میدان میں پولس محکمہ سے جڑی ہوئی شخصیتوں نے اپنے تخلیقی اور تنقیدی جوہر دکھائے ہیں اور معاشرہ کو یہ محسوس کرنے پر مجبور کیا ہے کہ ان کا منصبی فرض کچھ بھی ہو مگر ان کی رگوں میں تخلیقیت رواں دواں ہے،ان کے باطن میں احساس کا ارتعاش ہے۔ ان کے اندر بھی جذبات کا دریا موجزن ہے۔ وہ ساری خوبیاں جو ایک آرٹسٹ اور فنکار میں ہوتی ہیں، ان سے یہ متصف ہیں مگر المیہ یہ ہے کہ انہیں کسی بھی جامعہ یا دانش گاہ میں نہ تو موضوع کی حیثیت حاصل ہے اور نہ ہی انفرادی طور پر پولس کی ادبی خدمات کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ۔۔در اصل ہمارے معاشرے میں پولس محکمہ سے وابستہ افراد کی جو شبیہ ہے، وہ اس قدر مسخ کر دی گئی ہے کہ انہیں جذبات اور احساس سے عاری اور انسانی درد مندی سے خالی وجود سمجھا جاتا ہے۔ ‘‘
اقتباس قدرے طویل ہو گیا ہے لیکن جو باتیں انہوں نے کہی ہیں اس میں جملہ معترضہ کے طور پر یہ کہنا چاہوں گا کہ اردو کا ادبی معاشرہ ویسا نہیں ہے جیسا حقانی دیکھنا چاہتے ہیں۔ اب تو قدرے صورت حال اور بگڑ چکی ہے اس میں زندگی کے مختلف گوشہ ہائے شعبہ سے متعلق افراد کے حوالے سے گفتگو کار زیاں سمجھا جاتا ہے لیکن فوری طور پر چند نام جو اردو اور پولس محکمہ کے حوالے سے ہمارے ذہن میں آتے ہیں وہ یہ ہیں۔ پیغام آفاقی، خلیل مامون، عین رشید، شجاع خاور، معصوم کاظمی وغیرہ۔ ان کو تخلیق کار کے حوالے سے جانا اور پہچانا جاتا ہے جنہوں نے فکشن، شاعری اور تنقید میں کارہائے نمایاں انجام دیا اور اسے اردو کا ادبی معاشرہ پڑھتا بھی ہے اور جامعات میں ان پر اچھا اور برا کام بھی ہوا ہے۔ بلکہ ہندوستان میں کئی اہم اور غیر اہم ادبی رسائل و جرائد میں ان کے گوشے اور ان کے ادبی اور فکری کارناموں کو موضوع گفتگو بنایا گیا ہے۔ بہر حال یہ تو جملہ معترضہ تھا۔
’’باغ سخن ‘‘کے عنوان سے مدیر لکھتے ہیں کہ :
’’پولس سے وابستہ بہت سے افراد ہیں جن کے سوانحی کوائف اور نمونۂ کلام قدیم اور جدید تذکروں میں ملتے ہیں۔ لالہ شری رام کے مشہور تذکرہ ’’خم خانۂ جاوید‘‘ کی پانچ جلدوں کی ورق گردانی کی جائے تو بہت سے نام سامنے آئیں گے۔ اس تذکرہ کی تمام جلدوں تک ہماری رسائی نہیں ہو پائی۔ ایک دو جلدوں میں محکمہ پولس سے وابستہ کچھ شاعروں کے نام ملے تو حیرت ہوئی کہ ایسی بے پناہ تخلیقی صلاحیتوں کے حامل بھی اس شعبہ سے وابستہ رہے ہیں۔ مثلاً شیدا،طالب، عدیل وغیرہ۔ اس کے علاوہ اتر پردیش ،مدھیہ پردیش، جھارکھنڈ، گجرات، راجستھان، بہار، مہاراشٹر اور مغربی بنگال کے صوبہ جات کے حوالے سے مدیر نے بڑی اہم گفتگو کی ہے۔ ’’باب تحقیق‘‘ کے عنوان سے بھی بے حد اہم اور کار آمد باتیں اداریے میں کہی گئی ہیں۔ دیار فکشن ، کنج خودنوشت، کوچۂ صحافت، خیابان ترجمہ، فنون لطیفہ، پولس کا نظام تربیت، محکمہ پولس کے ایوارڈ یافتگان اور پولس کا تخلیقی خانوادہ کے ذیلی اور ضمنی عنوانات کے حوالے سے بھی حقانی القاسمی نے بہت ہی فکر انگیز اور کار آمد گفتگو کی ہے جو داد کے قابل ہے۔
رسالے کی فہرست میں ’’دریچے میں چراغ‘‘ کے عنوان سے جو ابواب قائم کئے گے ہیں وہ کچھ اس طرح ہیں۔ آغاز جستجو(اداریہ)، باب شجاع خاور، باب پیغام آفاقی، باب عین رشید، باب خلیل مامون، گل و مہتاب، حسن گل مہتاب، شاخ گل احمر اور موج جوہر کے باب میں بہت سے نامور ادبا اور نئے لکھنے والوں کو’’ انداز بیاں‘‘ میں اس طرح سمیٹا گیا ہے کہ قاری حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔’’دیار فکشن‘‘ جو موجودہ عہد کا سب سے بحث انگیز دیار سمجھا جاتا ہے یعنی فکشن کے حوالے سے اور ان کے لکھنے والوں کا بھر پور تجزیہ اور محاکمہ پیش کیا گیا ہے۔’’کنج خود نوشت کے عنوان سے بھی رسالے میں اہم گفتگو کی گئی ہے۔ حقانی لکھتے ہیں کہ:
’’اس باب میں کئی ایسی آپ بیتیاں ہیں ۔۔۔ان کا امتیاز یہ ہے کہ ایک ایسی دنیا کی سیر کراتی ہیں جو تناؤ، تصادم اور کشمکش سے بھری ہوئی ہے۔۔۔ایسی خود نوشت میں ایک ایسی دنیا ملتی ہے جس میں عام فنکار کے لئے داخل ہونا آسان نہیں۔‘‘
’’کوچۂ صحافت‘‘کے حوالے سے بھی آغاز جستجو میں حقانی نے بڑی اچھی گفتگو کی ہے اور تخلیقی اور ادبی صحافت کو موضوع گفتگو بنایا ہے۔ ’’خیابان ترجمہ‘‘میں ترجمے کے حوالے سے بہت سے نکتے پیش کئے گئے ہیں، جس سے قاری کا ذہنی افق روشن ہو جاتا ہے۔’’فنون لطیفہ‘‘، ’’پولس کا نظام تربیت‘‘، ’’محکمۂ کے ایوارڈ یافتگان‘‘اور’’پولس کا تخلیقی خانوادہ‘‘ جیسے عنوانات کے حوالے سے حقانی نے مقدمے میں بڑی اچھی گفتگو کی ہے، جس سے رسالے اور اس کے محتویات کا بھر پور اندازہ ہو جاتا ہے۔
اس شمارے میں میرے لئے عین رشید، پیغام آفاقی،شجاع خاور اہم ہیں اس لئے کہ ان سے میرے ذاتی مراسم بھی رہے ہیں اور بحیثیت قاری انہیں پڑھتا بھی رہا ہوں۔ اس لئے میری دلچسپی کے بہت سے ادبی لوازمات شمارے میں مل جاتے ہیں۔ خصوصی طورپر خلیل مامون نہ صرف اس محکمے سے متعلق رہے ہیں بلکہ ان کی ذات و صفات ان معنوں میں قابل قدر ہیں کہ عمدہ شاعر اور نظم نگار تخلیقی ذہانت سے بھر پور ، فلسفے اور لسانیات کا عالم اور ادبی صحافت سے ان کا دیرینہ رشتہ آج تک قائم ہے۔ مثلاً رسالہ ’’سوغات‘‘، سرکاری رسالہ ’’اذکار‘‘ کے مدیر اور اب ’’نیا ادب‘‘ جیسا تاریخی اور علمی رسالے کے مدیر کی حیثیت سے موجود ہیں ۔ انہوں نے بڑی خاموشی سے تخلیق ، تنقید اور ادبی صحافت سے جو رشتہ قائم رکھا وہ آج تک قائم ہے۔
حقانی القاسمی نے’’انداز بیاں‘‘ کا پہلا شمارہ ’’خواتین کی خود نوشت ‘‘ کے حوالے سے نکالا تھا جس کی خوب پذیرائی ہوئی۔ اب یہ دوسرا یک موضوعی مجلہ ’’پولس کا تخلیقی چہرہ ‘‘ہمارے سامنے ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس محکمے میں نہ صرف ویسے افراد ہیں جنہوں نے میرٹھ ،ملیانہ، گجرات اور ایودھیا میں اپنی جو شبیہ بنائی ہے اور جو ہندوستانی عوام کے ذہن پہ نقش ہیں۔ اس سے ہٹ کر بھی دیکھا جائے تو اس شعبے میں ایسے افراد اور انسان دوست شخصیتیں مل جائیں گی جن کا چہرہ اور شبیہ وہ نہیں ہے جو ہمارے تصورات کے نہاں خانے میں نقش ہیں بلکہ یہاں گداز اور شگفتہ دل رکھنے والے حساس فنکار اور شاعر بھی نظر آتے ہیں۔ایسے منفرد موضوعات پر رسالہ نکالنا اور مواد سے بھر پور ،یہ آسان کام نہیں۔ میں مدیر’’انداز بیاں‘‘ کو مبارک باد دیتا ہوں۔
Dr.Quaisar Zaman
Urdu Ghar,Suleman Colony
Hazaribagh(Jharkhand)
Mob:09031919207
Email:quaisarzaman98@gmail.com

اسلم جمشیدپوری :اردو افسانے کی ایک منفرد آواز۔ایک جائزہ


راحت علی صدیقی قاسمی
رابطہ :9557942062
اسلم جمشید پوری اردو افسانے کی ایک منفرد آواز ہے، جس نے سماج و معاشرے کے مختلف رنگوں کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا ہے، زندگی کے مسائل و مصائب سماج و معاشرے کی صورت حال کو اپنے افسانوں میں مرکزی مقام دیا ہے، دیہی اورشہری سماج کی خصوصیات خوبیوں اور خامیوں کو اپنے افسانوں واضح طور بیان کیا ہے، حالانکہ ان کے اکثر افسانے دیہی منظرنامہ پر روشنی ڈالتے ہیں، لیکن انہوں نے شہروں کی تہذیب و ثقافت کو بھی اپنے افسانوں میں جگہ دی ہے اور اس کو بیان کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، جو ان کے مشاہدے اور بیان کی صلاحیت کو عیاں کرتا ہے، اسلم جمشید پوری نے ایسے کردار تخلیق کئے ، جو لازوال ہیں، وقت کا گذران ان کی قدر و منزلت میں مزید اضافہ کرے گا، مثال کے طور پر لینڈرا لمبا آدمی، شبراتی، ظفرو، ببلی، سیما یہ ایسے کردار ہیں، جن کی آب و تاب افسانوی افق پر کہکشاں کی حیثیت رکھتی ہے، اور اردو افسانہ کے وقار میں اضافہ کا باعث ہے، افسانہ ،اور افسانے کی تنقید میں اسلم جمشید پوری کی تخلیقات سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں، جن پر ناقدین فن بحث و تحقیق کے ذریعے ان کی قدر ومنزلت متعین کررہے ہیں، اسی سلسلے کی ایک کڑی ڈاکٹر صالحہ رشید کی کتاب اسلم جمشید پوری اردو افسانے کی ایک منفرد آواز ہے، جس کو عرشیہ پبلی کیشنز نے شائع کیا ہے، کتاب کی طباعت عمدہ ہے، جو عرشیہ پبلی کیشنز کی پہچان ہے، کتاب 175 صفحات پر مشتمل ہے، کتاب کی ابتدا پیش لفظ سے ہوئی ہے، جس کو ڈاکٹر صالحہ رشید نے رقم قرطاس کیا ہے، کتاب میں اسلم جمشید پوری کے افسانوی ادب سے متعلق گفتگو کی گئی ہے، ان کا افسانہ لینڈرا اور اسی عنوان پر قدیم زمانے میں تحریر شدہ فارسی کا مشہور افسانہ بچہ مردم ہے، منٹو کے عہد کے فارسی افسانہ نگاروں پر ایک مضمون شامل ہے، اسلم جمشید پوری کا مشہور افسانہ نادان، اور اس کے مختلف پہلوؤں اور فنی کمالات پر گفتگو کی گئی ہے، فارسی کے منی مال کا تعارف کرایا گیا، جو افسانچہ کا مثل ہے اور آخر میں فکشن تنقید پر اسلم جمشید پوری کی مشہور ومعروف کتاب ’’اردو فکشن کے پانچ رنگ‘‘ پر ایک عمومی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ڈاکٹر صالحہ رشید الہ آباد یونیورسٹی میں شعبۂ فارسی کی صدر ہیں، وہ فارسی زبان وادب کے ساتھ ساتھ اردو زبان وادب پر بھی گہری بصیرت رکھتی ہیں، ان کا مطالعہ، علمی پختگی، اور فنی چابک دستی و تجزیہ نگاری کی صلاحیت اُن حضرات پر پوری طرح عیاں ہے، جنہوں نے ان کو مختلف سیمیناروں میں مقالہ پیش کرتے ہوئے سنا ہے اور مختلف اخبارات و رسائل میں ان کی تحریریں پڑھی ہیں نہ ان کی مذکورہ بالا کتاب میرے دعوے کو مزید تقویت بخشتی ہے ،کتاب کی ابتدا پیش لفظ سے ہوئی ہے، جس میں انہوں نے اُن محرکات کا تذکرہ کیا ہے، جن کے باعث یہ کتاب وجود پذیر ہوئی، کس طرح انہیں اسلم جمشیدپوری کے افسانوں کو پڑھنے اور ان پر لکھنے کا شوق ہوا اور اسلم جمشید پوری کے فنی کمالات سے متاثر ہوئیں، اس پر انہوں نے بہت ہی واضح انداز میں روشنی ڈالی ہے۔ اسلم جمشیدپوری کے فن پر بھی اختصار کے ساتھ گفتگو کی ہے۔ اس مضمون کی تکمیل کے بعد انہوں نے شعبۂ اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میں پانچ روزہ افسانوی ورکشاپ کی یادوں کاتذکرہ کیا ہے جو سیمینار تین زبانوں پر مشتمل تھا ، اس میں پروگراموں کی کثرت نظم و نسق کی عمدگی، تینوں زبانوں کے نامور ادباء کا مل جل کر بیٹھنا اور ادب کے مختلف پہلوؤں پر غور و خوض کرنا، اسلم جمشیدپوری کی مہمان نوازی، اور ان کا اتنے بڑے پروگرام کو سلیقے سے انجام دینا، اور مہمانوں سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملنا، اور ان کی ضیافت میں ذرہ برابر بھی کمی نہ آنے دینا، اِن تمام یادوں اور تاثر کو بخوبی بیان کیا گیا ہے، اسلم جمشید پوری کی اِن تمام صلاحیتوں نے جہاں مصنفہ کے قلب کو چھوا ہے، وہیں انہوں نے اِن کیفیات کو اس طرز سے بیان کیا ہے، کہ قاری محض قاری نہیں رہ جاتا بلکہ وہ ایسا محسوس کرنے لگتا ہے، جیسے وہ صالحہ رشید صاحبہ کے ساتھ اس پروگرام میں شریک ہیں ، اور ان تمام کیفیات کو جو اس مضمون میں موجود ہیں، اپنی نگاہوں سے دیکھ رہا ہے، اور اپنے قلب پر محسوس کر رہا ہے، اور مصنفہ کی طرح وہ بھی اسلم جمشیدپوری کی ضیافت سے لطف اندوز اور ان کی شخصیت کا اسیر ہوتا جارہا ہے، یہ ڈاکٹر صالحہ رشید صاحبہ کے قلم کی قوت ہے، جس نے شنیدہ کو دیدہ کے مثل بنادیا ہے، اس مضمون میں ان کی زبان بڑی دلکش جاذب قلب اور غیر روایتی محسوس ہوتی ہے،اس کے بعد انہوں نے اسلم جمشیدپوری کے افسانوی ادب پر سیر حاصل بحث کی ہے، اُن کے افسانوں کے مرکزی کرداروں پر گفتگو کی، ان کی اہمیت و وقعت کو عیاں کیا ہے ، ان کے مرکزی عناوین متعین کئے ہیں ، ان کے افسانوں میں بیانیہ کی صورت حال کو دلائل کے ساتھ پیش کیا، ان کے افسانوں کی انفرادیت پر بڑی چابک دستی کے ساتھ روشنی ڈالی ہے، موضوعات کا انتخاب کرنے میں ان کے حوصلے اور ہمت کی داد دی، جس میں ان کی تخلیقی قوت تنقیدی بصیرت، تجزیاتی شان پوری طرح جلوہ گر ہے، میں اس دعوے کو مدلل کرنے کے لئے ایک مختصر سی عبارت پیش کرتا ہوں:
’’عمدہ نویسی کے لئے بیانیہ پر گرفت انتہائی ضروری ہے اور عمدہ بیانیہ کے لئے زبان و اسلوب پر مہارت درکار ہے۔ ڈاکٹر اسلم کو کہانی کی بنت پر مہارت حاصل ہے وہ کہانی میں واقعہ، منظر، کردار، مکالمے، یہ سب اتنی چستی و درستی سے پیوست کرتے ہیں کہ قاری پورے انہماک کے ساتھ افسانے کی قراء ت کرتا ہے اور آخر تک اس کا تجسس برقرار رہتا ہے۔ کئی بار تو وہ کردار و واقعات کے دھارے میں خود بھی بہہ جاتا ہے اور افسانے کے ختم ہوجانے پر بھی اس کا تأثر دیر تک اس کے ذہن میں گردش کرتا رہتا ہے۔ اس عمل میں اسلم کے بیانیہ کا کمال شامل ہے۔ ’شبراتی‘، جو ہندی میں ’دکھ نکلوا‘ کے عنوان سے شائع ہوا ہے اس میں مذکورہ فنی خصائص ابھرکر سامنے آتے ہیں‘‘(اسلم جمشیدپوری:اردو افسانے کی ایک منفرد آواز)
اس اقتباس سے صالحہ رشید صاحبہ کی تنقیدی صلاحیتوں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے اور کتاب اور صاحب کتاب کی وقعت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، اس کے بعد کتاب میں’’لینڈرا‘‘ پر ایک تجزیہ پیش کیا گیا ہے، چونکہ اس افسانے کے نام کی اجنبیت ہر شخص کو اس جانب متوجہ کرتی ہے، اور لینڈرا کی حقیقت سے آشنائی کا خیال قلب میں پیدا کرتی ہے، چنانچہ مصنفہ بھی اس خیال سے دوچار ہوئیں، اور لینڈرا کی معرفت کے ذریعے ان پر عیاں ہوگیا کہ کائنات میں عورت ہی مظلوم نہی بلکہ مرد بھی ظلم و جور کی چکی میں پس رہا ہے، اور محبت و الفت سے دور طعنہ زنی کا مصرف بنا ہوا ہے، اور اس کے احساسات و جذبات بھی مجروح کئے جارہے ہیں،’’لینڈرا یعنی چہ‘‘ میں جہاں اس افسانے کے موضوع کی انفرادیت بیان کی گئی ہے، وہیں افسانے کے فنی کمالات اور مکالمے کی خوبیاں اور مرکزی کردار لینڈرا کی خصوصیات ذکر کی گئی ہیں، اس کا مطالعہ افسانہ لینڈرا کی قدر کا تعیین کرتا ہے۔
کتاب کا تیسرا مضمون لینڈرا اور بچہ مردم :اصلاحی اور موضوعاتی نقطۂ نظر
اس مضمون کے تحت ’’بچہ مردم‘‘ کے تخلیق کار ایرانی فکشن نگار جلال محمد کی زندگی کا مختصر خاکہ پیش کیا گیا ہے، ان کے ادبی سفر کو بھی اختصار کے ساتھ موضوع گفتگو بنایا گیا ہے، اسی طرح اسلم جمشیدپوری کی زندگی اور ان کی ادبی خدمات کو بھی پیش کیا گیا ہے، اور ساتھ ہی بچہ مردم اور لینڈرا کا تقابلی مطالعہ بھی کیا گیا ہے، جس میں دونوں افسانوں کے موضوع اور سماجی مسائل کے اعتبار سے ان کی یکسانیت کا تذکرہ کیا گیا، اور دونوں افسانوں کی خصوصیات اور ان کے سماجی ربط اور ان کی افادیت کو عیاں گیا ہے، وہ کیا مسائل ہیں جن پر یہ افسانے گرفت کرتے ہیں، اس ضمن میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر صالحہ رشید صاحبہ رقم طراز ہیں:
’’بچہ مردم کی داستان ایک عورت یعنی بچے کی ماں بیان کرتی ہے۔ جلال نے زیادہ ترقصے اپنے کردار کی زبانی کہلوائے ہیں۔ یہاں ایک نکتہ اور نکل کر سامنے آتا ہے کہ ایک ماں جس نے کسی بڑی مجبوری کے تحت اپنے جگر کے ٹکڑے کو بھیڑ میں چھوڑ دیا، وہ دوبارہ اسی واقعے کو اپنی زبان سے دہراتی ہے۔ کتنا درد ہوا ہوگا اسے اس قصے کو دوبارہ بیان کرنے میں۔ جلال بچہ مردم کے ذریعہ ایک عورت کا دکھ، درد اور سفاک مرد اثاث معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں۔ لینڈرا کا خا صہ یہ ہے کہ اسی مرد اثاث معاشرے میں ایک مرد کا استحصال ہونے کی روداد بیان کی جارہی ہے۔ دونوں بچوں کا قصور یہ ہے کہ وہ باپ کی شفقت سے محروم ہیں۔ ایک باپ کی زندگی نے وفا نہیں کی تو دوسرے کے باپ نے زندگی کی قدر نہیں کی۔ دونوں ہی صورتوں میں خسارہ بچوں کا ہوا۔‘‘(اسلم جمشیدپوری:اردو افسانے کی ایک منفرد آواز)
اس طرح سے کتاب میں دونوں افسانوں کی خصوصیات و انفرادیت کو عیاں کیا گیا ہے،حالانکہ بچہ مردم ایک ماں کے درد کی داستان ہے، اور لینڈرا ایک ماں کے ساتھ آئے ہوئے بچہ کی داستان ہے، دونوں ایک طرز سے شروع ہوئے، اور دونوں میں تقریباً یکساں مسائل ہیں، حالانکہ دونوں کا پلاٹ ایک دوسرے سے قدرے مختلف ہے، اسے بخوبی مضمون میں پیش کیا گیا ہے۔
اس کے بعد لینڈرا اور بچہ مردم دونوں افسانوں کو اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں پیش کیاگیا ہے، جو کتاب کی وقعت میں مزید اضافہ کا باعث ہے، اور مصنفہ کی دونوں زبانوں پر گرفت کو عیاں کرنے والا ہے۔ اس کے بعد منٹو کے عہد میں فارسی زبان میں جو افسانہ نگار افسانے تخلیق کر رہے تھے،ان کے افسانوی سفر پر انتہائی اختصار کے ساتھ روشنی ڈالی گئی ہے، جس سے قارئین کو فارسی زبان وادب کے مطالعے کی طرف رغبت ہوگی، اس مضمون میں ان افسانہ نگاروں کے موضوعات کی جانب بھی اشارے کئے گئے ہیں، اس سے فارسی زبان و ادب کے فکشن کی صورت حال پر مطلع ہوا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد اسلم جمشید پوری کے افسانہ’’نادان‘‘ کو پیش کیا گیا ہے، جو اپنے موضوع کی وجہ سے انفرادیت کا حامل ہے، اور اسلم جمشیدپوری کی فنی انفرادیت کو سمجھنے میں معاون ہے، افسانہ کے بعد عورت کے لطیف جذبات کا فن کارانہ بیان :نادان کے عنوان سے افسانہ نادان کی فنی موضوعاتی خوبیاں اور اس کی ندرت کو پیش کیا گیا، اس کے پلاٹ اور کرداروں کے اختصاص پر روشنی ڈالی گئی ہے، اور حیض کے دوران عورت جس صورت حال سے گذرتی ہے، اس کے فن کارانہ بیان پر اسلم جمشیدپوری کی پذیرائی کی گئی ہے، اور ان کی فنی ندرت کو بھی اس افسانے کے ضمن میں ثابت کیا گیا ہے،اور ساتھ ہی ساتھ اس موضوع کو بہادری اور خوبصورتی کے ساتھ اسلم جمشید پوری کے انفرادیت کو ظاہر کیا گیا ہے، فارسی فکشن کی صنف منی مال کا تعارف اس طورپر کرایا گیا ہے کہ اس کی خوبیاں عیاں ہوگئی ہیں ، اور چند منی ما ل بطور مثال پیش کئے جو اردو افسانچہ کی مثال پیش کئے گئے ہیں ، جس سے فارسی زبان وادب کا معیار تخلیق پتا چلتا ہے، اور کتاب کی وقعت میں مزید اضافہ ہوتا ہے،کتاب کا آخری مضمون اسلم جمشید پوری کی فکشن تنقید سے متعلق کتاب ’’اردو فکشن کے پانچ رنگ‘‘ پر ایک عمومی جائزہ ہے، جس میں مذکورہ کتاب کا معروضی اور تنقیدی جائزہ پیش کیا گیا ہے، کتاب کے عناوین اور ان کا تعارف کرایا گیا ہے، ان کی خصوصیات و خوبیوں کو واضح کیا گیا ہے، مزید یہ کہ مصنفہ نے کتاب کے تمام گوشوں پر پوری دقت کے ساتھ مطالعہ کیا ہے، اور اس کے اہم نکتوں پر روشنی ڈالی ہے۔ مجھے امید ہے کہ’’اسلم جمشیدپوری اردو افسانے کی ایک منفرد آواز‘‘ اسلم شناسی میں اہم کردار ادا کرے گی اور عہد حاضر کی توجہ اسلم جمشیدپوری کی جانب مبذول کرے گی، ان کی شخصیت اور فنی کمالات کو بھی عیاں کرے گی، کتاب بہت عمدہ اور معلومات افزا مضامین سے بھرپور ہے۔ڈاکٹر صالحہ رشید کو مبارکباد۔

امیر شریعت مولانا منت اللہ رحمانیؒ: علمی وفکری نقوش،ملی واجتماعی جدوجہد،دینی وروحانی خدمات


مرتبین: مولانا عمید الزماں کیرانویؒ، ڈاکٹر وارث مظہری قاسمی
ناشر: تنظیم ابنائے قدیم دار العلوم دیوبند
صفحات: 624
قیمت400:
تبصرہ: فیصل نذیر، ریسرچ اسکالر ، جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی
مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم
تو نے وہ گنـج ہاے گراں مایہ کیـا کیے
مولانا منت اﷲرحمانی مونگیری ؒ کی حیات وخدمات پر مشتمل یہ جامع کتاب پڑھتے وقت مرزا غالب کا یہ شعر مسلسل میر ے ذہن میں گردش کر رہا تھا۔ مولانا منت اﷲ رحمانی مونگیریؒ، جن کی وفات 1991ء میں ہوگئی، جس پراب تقریباً 30 سال کا عرصہ ہونے جارہا ہے، ہم میں سے بہت سارے نوجوان ان کے کارناموں کو کہیں کہیں ضمنًا سنتے رہے ہیں؛ مگر اب تک باضابطہ آپ کی ہمہ جہت شخصیت کا تعارف نہیں ہو پایا تھا؛ لیکن زیرِ نظر کتاب پر جب میری نظر پڑی، تو اس کی فہرست اور ابواب کو دیکھ کر اور ان میں شامل علماء ادباء، فقہاء اور عمائدینِ ملت کے مضامین وتاثرات دیکھ کر اس کتاب کو پڑھنے کی دلچسپی بڑھی، پھر جیسے جیسے مضامین نظر سے گزرتے گئے، ویسے ویسے حضرت مولانا کی شخصیت، آپ کے علمی کارنامے، آپ کے فقہی کمالات، مسلم پرسنل لا کے سلسلے میں جہدِ مسلسل اور آپ کی سیاسی بصیرت نے حیران کر دیا اور ساتھ ساتھ اس وقت کے سیاسی حالات اور مسلمانوں کی تاریخ کا بھی علم ہوتا رہا۔ اس عظیم شخصیت سے متعارف کرانے کے لیے میں نہایت ممنون ہوں ڈاکٹر وارث مظہری اور مولانا عمید الزماں قاسمیؒ کا کہ انہوں نے انتھک محنت ومشقت کے بعد اس کتاب کی ترتیب وتالیف کو آخری مرحلے تک پہنچایا اور عوام الناس کے لئے اس کتاب کو مہیا کیا۔
یہ کتاب مولانا مونگیری ؒکی شخصیت پر ایک جامع انسائیکلوپیڈیا ہے، جس میں مولانا کی زندگی کے ہر پہلو پر مفصل ومدلل مضامین موجود ہیں۔ کتاب کا پیشِ لفظ مولانا محمد افضال الحق جوہر قاسمیؒ (سابق صدر تنظیم ابنائے قدیم دار العلوم دیوبند) نے تحریر کیا ہے۔ مقدمہ خودمولانا عمید الزماں مرحوم کا تحریر کردہ ہے، اس کے بعد مولانا مرغوب الرحمنؒ (سابق مہتمم دار العلوم دیوبند) اور مولانا عاقل حسامیؒ کے مختصر پیغامات ہیں۔ اس کے بعد مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی کا جامع خطبہ افتتاحیہ ہے، جس میں انہوں نے حضرت مولانا علی میاں ندوی ؒ کے مولانا مونگیری ؒ سے متعلق کئی اقتباسات ذکر کئے ہیں۔
در اصل یہ کتاب کچھ سالوں قبل مولانا مونگیری ؒ پر جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ہوئے ایک سیمینار میں پیش کئے گئے مقالات وتاثرات کا مجموعہ ہے، قابلِ تحسین بات یہ ہے کہ جس طرح علماء و ادباء نے بڑے پیمانے پر اس سیمینار میں شرکت کی یا مقالات بھیجے ان کی محبت وعقیدت مولانا مونگیریؒ کے لئے ان مضامین سے واضح ہوجاتی ہے۔
ایک قاری کو اس مجموعے میں امیرِ شریعت سے متعلق معلومات کے علاوہ ہندستانی مسلمانوں کی تاریخ ، بہار کا منظر نامہ، مختلف اداروں کے قیام کی جد وجہد اور سیاست کی آگہی کے ساتھ آسمانِ ادب کے کئی ستاروں کی تاباں و ضوفشاں تحریریں بھی مل جائیں گی۔ مثال کے طور اس ضخیم کتاب میں مشہور ناقد پروفیسر شمس الرحمن فاروقی ، پروفیسر لطف الرحمن مرحوم، پروفیسر زبیر احمد فاروقی، پروفیسر بدر الدین الحافظ، سید حامدؒ وغیرہ کی پر مغز تحریریں بھی ہیں۔
اس کے علاوہ قد آور علماء میں سے مفتی ظفیر الدین مفتاحیؒ، مولانا سالم قاسمی ؒ، مولانا اسرار الحق قاسمیؒ، ڈاکٹر عبد اﷲ عباس ندویؒ، مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی، مولانا انیس الرحمن قاسمی، مو لانا نور عالم خلیل امینی، مولانا امین عثمانی وغیرہ کی تحریریں اس خاتم میں نگینے کا کام کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ کئی صحافیوں اور ادیبوں کی تحریریں اس کتاب کی اہمیت وافادیت میں اضافہ کر رہی ہیں۔
مولانا مونگیری کی خدمات بیان کرتے ہوئے اپنے مضمون ”حضرت مولانا منت اﷲ رحمانی ؒ مزاج وانداز“ میں مولانا عزیز الحسن صدیقی لکھتے ہیں:
”مسلم پرسنل لا کی تحریک کو پروان چڑھانے اور مختلف مسلکوں اور اداروں کے ذمے داروں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کا جو کام مولانا منت اﷲ صاحب رحمانیؒ نے انجام دیا تھا اور 1986ءمیں آں جہانی راجیو گاندھی کی دلچسپی اور مداخلت سے جو مسلم مطلقہ ایکٹ پارلیمنٹ سے منظور کرایا جاسکا تھا، اس کے پیچھے مولانا رحمانی کی متوازن قیادت کار فرما تھی“۔
(ص: 125)
اس انسائیکلوپیڈیا کی ترتیب میں مرتبین نے اس بات کا مکمل خیال رکھا ہے کہ تکرار سے بچا جائے اور ہر مضمون قاری کو نئی معلومات دے۔ صفحات و طباعت عمدہ ہیں اور انفرادی استفادے کے ساتھ لائبریری و مکتبات کے لئے بھی یہ کتاب یکساں مفیدو اہم ہے۔ امید ہے کہ اس کتاب کے ذریعے نسلِ نو مولانا کو اور ان کی ہمہ جہت خدمات کو بہتر طریقے سے جانے گی۔
ﷲ امیر شریعت مولانا منت اﷲ رحمانی مو نگیریؒ کے درجات بلند فرمائے۔
میں دعا گو ہوں مرتب اول مولانا عمید الزماں کیرانوی ؒکے لئے کہ انہوں نے اتنی محنت ومشقت سے یہ کتاب ترتیب دی، نامِ نیکِ رفتگاں کی حفاظت کے لئے انہوں نے اس قدر جدو جہد کی، اﷲ ان کے درجات بلند فرمائے (آمین)۔ اور مبارکباد پیش کرتا ہوں استاذِ محترم مولانا ڈاکٹر وارث مظہری قاسمی کو کہ انہوں نے اس کتاب کومنزلِ طباعت و اشاعت سے گزار کر ہی راحت کی سانس لی۔

زندگی،سماج اور تخلیقیت:مشرقی سماجیات کاآئینہ


نایاب حسن قاسمی
محترمہ فارینہ الماس کی کتاب’’زندگی،سماج اور تخلیقیت‘‘موجودہ مشرقی معاشرے کی بھرپور عکاسی کرتی ہے،انھوں نے مختلف النوع مضامین میں بڑی باریک بینی،تہہ رسی اوردردمندی کے ساتھ سماج کے ان مسائل پر قلم اٹھایاہے،جو بہت عام ہونے کی وجہ سے تخلیق کاروں،سماجی مفکرین اور مصلحین کی نگاہوں سے بھی زیادہ تراوجھل رہتے ہیں۔فارینہ الماس نے ان موضوعات کو مس کیا اور بڑی خوبی سے ان کے اطراف و جوانب کو واشگاف کیاہے،جن پر بات کرتے ہوئے لوگ ہچکچاتے اور جن پر لکھتے ہوئے قلم کاروں کے قلم گنگ ہونے لگتے ہیں،ان کی زبان میں سادگی و شفافیت،بیان میں سلاست،فکر میں روشنی اور نظر میں گہرائی ہے،وہ بڑی بے باکی و جرأت مندی کے ساتھ صنفی تفریق،سماجی نفسیات،زبان و ادب،اخلاق و انسانی زندگی،مذہب و تصوف،جنس اور جنسی رویوں،قومی و بین اقوامی سیاسیات اورفرد و قوم کو درپیش مسائل اور چیلنجز پر بڑی بصیرت مندانہ گفتگو کرتی ہیں۔فارینہ الماس چوں کہ خود ایک خاتون ہیں اور حساس وفن کارا ورتخلیق کار بھی ہیں،سو انھوں نے مشرقی و عالمی معاشرے کی عورتوں کو درپیش انفرادی و سماجی مشکلات کے مختلف پہلووں پر اس خوبی اور جامعیت کے ساتھ لکھاہے کہ اسے ان کی انفرادیت قرار دیا جاسکتا ہے۔بیٹی ہونے کا دکھ کیاہے؟مرد کی غیرت اور عورت کی عزت کے مابین خطِ فاصل کیا ہے؟ورکنگ وومن کو اپنی ازدواجی زندگی میں کس قسم کے مسائل جھیلنا ہوتے ہیں؟عورت کی صفتِ تخلیقیت کی ناقدری کیوں کی جاتی ہے؟موجودہ عالمی پس منظر میں جاری دہشت گردانہ سرگرمیوں میں عورتوں کا کیاکردار ہے؟ دنیا بھر کے مختلف خطوں کی عورتیں داعش کے چنگل میں کیوں پھنس رہی ہیں؟ایک عورت(مثلاً ساس)دوسری عورت(مثلاً بہو)کے لیے مصیبت کیوں بن جاتی ہے؟تعلیم و تدریس کے شعبے میں عورتوں کا استحصال کس کس طرح کیا جاتا ہے؟عالمی یومِ خواتین کا زمینی حقائق سے کتنا تعلق ہے؟ہمارے معاشرے میں اکیلی عورت(مثلاً بیوہ)اکیلی رہنے پر مجبور کیوں ہے؟اسلام نے ایک سے زائد شادیوں کی اجازت دی ہے،مگر کیاوہ اجازت مطلق ہے؟اس قسم کے مسائل کا مختلف عنوانات کے تحت بالترتیب بارہ مضامین میں بھر پور جائزہ لیاگیا ہے۔ان مضامین کو پڑھ کر کہیں کہیں ایسا لگتا ہے کہ مضمون نگار نے خاتون ہونے کی وجہ سے مردوں کے تئیں ناانصافی یا جانب داری سے کام لیا ہے،مگر ایک حقیقی سماجی نقاد و تخلیق کارکی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ مجموعی طورپر پورے سماج پر نگاہ رکھتا اور اس کی تمام تر خوبیوں یا خامیوں کی روشنی میں کوئی رائے قائم کرتا یاان پرکوئی تبصرہ کرتا ہے، فارینہ الماس بھی سماجی مسائل کے تمام پہلووں پر غیر جانبدارانہ رائے رکھتی ہیں اور اس کا انھوں نے اظہار بھی کیاہے؛چنانچہ جہاں ایک طرف انھوں نے عورتوں کو درپیش مسائل پر کھل کر اور بے باکی کے ساتھ اظہارِ خیال کیاہے،وہیں مختلف منفی سرگرمیوں میں عورتوں کے کردار ،بعض دفعہ خود عورتوں کی کربناکیوں میں دوسری عورتوں کی حصے داریوں پر بھی کھل کر تبصرہ کیا ہے،ساتھ ہی گھر ،خاندان کی تعمیر و تشکیل اور اولاد کی تعلیم و تربیت کے ذیل میں مردوں کے کلیدی رول اور اس حوالے سے انھیں نظر انداز کیے جانے کے عمومی سماجی رویے کی بھی نشان دہی کی ہے۔
فارینہ الماس نے اکیسویں صدی کی ترقیات کے راہ سے سماج میں رونما ہونے والے بعض اخلاقی و سماجی فساد کا بھی گہرائی سے جائزہ لیاہے اور اس کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کی ہے۔مذہبی بنیاد پرستی کیا ہے؟اور کیا وہ واقعتاً پائی جاتی ہے؟یہ ایک تحقیق طلب موضوع ہے،مگر فارینہ الماس عمومی سماجی رویے کے پیش نظر اس موضوع کا جائزہ لیتے ہوئے اس کے وجود کے اسباب اوران سے نمٹنے کی تجویزیں پیش کرتی ہیں۔اسلاموفوبیا کے عمومی عالمی رجحان کے زیر اثر عالمی سطح پرمسلمانوں کو ہراس میں مبتلا رکھنے کی سازشوں پر انھوں نے اچھا لکھاہے۔پروین شاکر کی شاعری،ساغر صدیقی کی فن کاری و بے چارگی،بانو قدسیہ کا ناول راجہ گدھ اوراس کے حوالے سے پائے جانے والے بعض تعصبات اور احمد ندیم قاسمی سے اپنے روابط کو مصنفہ نے دلچسپ اسلوب میں بیان کیا ہے۔اخلاقی وجنسی فساد کے موجودہ دور میں نئی نسل کوجنسی اخلاقیات سے روشناس کرانا نہایت ضروری ہے،اس ضرورت کے احساس کے تحت فارینہ الماس نے مختلف موضوعات کے تحت سماج کے اس اہم گوشے پر روشنی ڈالی ہے۔عالمی سیاسیات پر بھی فارینہ الماس کی گہری نظر ہے اور اس کے مختلف پہلووں پر بھی انھوں نے بصیرت افروز مضامین لکھے ہیں،اس وقت چوں کہ عالمی سیاسی ڈرامے کا شکار مسلمان ہی ہے؛اس لیے لازماً کسی بھی عالمی بحران کے تذکرے کے ذیل میں مسلمانوں کا ذکر آجاتا ہے،سو یہاں بھی شام کی خانہ جنگی،پناہ گزینوں اور مہاجرین کے مسئلے،روہنگیا مسلمانوں کی مشکلات،جنگی ماحول کی تباہ کاریوں،عالمی سطح پر فاقہ کشی و قلتِ تغذیہ اور چین ۔پاکستان تعلقات کے مضمرات و ممکنہ عواقب کا بہت عمدہ اوربصیرت افروز تجزیہ کیاگیا ہے۔
مصنفہ پاکستان سے تعلق رکھتی ہیں اور خصوصاً سماجی نوعیت کے مضامین خالص پاکستانی معاشرے کو پیش نظر رکھ کرلکھے گئے ہیں، اسی وجہ سے قاسم یعقوب نے کتاب کا مختصر تعارف کرواتے ہوئے اسے ’’پاکستانی سماجیات کا مقدمہ ‘‘قراردیاہے، مگر چوں کہ ہندوپاکستان میں ایک قسم کا جینیاتی توافق پایاجاتا ہے؛اس لیے دونوں ملکوں کے سماجی،سیاسی،تعلیمی و غیر تعلیمی مسائل بھی تقریباً یکساں ہیں ،پس ہندستانی قارئین کے لیے بھی ان مضامین کی افادیت و معنویت اتنی ہی ہے،جتنی کہ پاکستانی قارئین کے لیے۔اس کتاب سے قبل فارینہ الماس کی دوکتابیں:ایک افسانوی مجموعہ ’’اندرکی چپ‘‘اور دوسراناول’’جیون مایا‘‘شائع ہوچکے ہیں۔یہ کتابیں بالترتیب2004ء اور 2005ء میں شائع ہوئی تھیں،اب قدرے طویل عرصے کے بعد یہ ان کی تیسری کتاب منظر عام پر آئی ہے،پہلی دونوں کتابوں کے برعکس اس کتاب میں انھوں نے سماجیات اور سماجی حقائق کو موضوع بنایاہے اور اسی وجہ سے انھوں نے اسے’’سماجی تنقید‘‘کے زمرے میں رکھاہے۔یہ مضامین پہلے بعض پاکستانی اخبارات ، ’’ایک روزن‘‘ اور ’’گفت گو‘‘نامی ویب سائٹس میں شائع ہوچکے ہیں،مگر موضوعات کی اہمیت کے پیشِ نظر انھیں کتابی شکل میں شائع کرناضروری تھا،بک ٹائم،کراچی نے اسے شائع کرکے ان مضامین کو زندگی دے دی اور اس کی افادیت کو وسعت بخشی ہے۔
مگرمواد،مضامین،اسلوبِ تحریر اور طرزِ پیش کش کے اعتبار سے کتاب جتنی قابلِ تعریف ہے ،طباعت کے اعتبار سے اس میں اسی قدرنقائص ہیں،ایک تو لفظوں کے دروبست اور جملوں کی ترتیب و ترکیب میں عجیب بے ہنگمی پائی جاتی ہے ،جس کا تعلق کمپوژنگ اور کتاب کی تکنیکی تشکیل سے ہے،دوسرے یہ کہ ان مضامین میں بے شمارلسانی ،لفظی اوراملاکی غلطیاں بھی ہیں،ایک طرف مضامین کی معنویت اور مضمون نگار کی فکری بصیرت،اسلوبِ تحریر کی سلاست و عمدگی کتاب کے مطالعے پر مجبور کرتی ہے،تو دوسری طرف تقریباً ہر سطر دوسطر کے بعد پائی جانے والی غلطیاں طبیعت میں تکدر پیدا کرتی اور ذوقِ سلیم پر گراں گزرتی ہیں۔ اکثر’’ز‘‘سے لکھے جانے والے الفاظ’’ذ‘‘سے اور’’ذ‘‘سے لکھے جانے والے الفاظ’’ز‘‘سے لکھے گئے ہیں،’’بیتنا‘‘مصدرلازم ہے اور’’بتانا‘‘متعدی،اسی طرح ’’سیکھنا‘‘لازم ہے اور ’’سکھانا‘‘ متعدی،مگر اس کتاب کے بیشتر مضامین میں’’بتانا‘‘کی جگہ’’بیتانا‘‘اور ’’سکھانا‘‘کی جگہ ’’سیکھانا‘‘اوران کے مختلف افعال استعمال کیے گئے ہیں،صحیح لفظ’’مطمحِ نظر‘‘ ہے،جسے کہیں ’’مطمعۂ نظر‘‘اور کہیں’’مطمعِ نظر‘‘لکھاگیاہے،’’کدورت کی جگہ’’قدورت‘‘(ص:۱۴۰)غالب کی جگہ مغلوب(ص:۱۳۱)تلاطم انگیز کو’’ طلاطم انگیز‘‘ (ص:۱۱۷)،اسی طرح ’’بلکل‘‘،’’بلواسطہ‘‘،’’بلآخر‘‘،’’بحرحال‘‘جیسے الفاظ دیکھ کر سخت حیرت ہوتی ہے،رخصت کرنے کے معنی میں’’بداکرنا‘‘(ص:۱۰۸)اردومیں پہلی بار نظر سے گزرا، نذرِآتش کی بجاے’’نظرِ آتش‘‘(ص:۹۶)نغمگی کے مترداف کے طورپر’’ترنمگی‘‘(ص:۸۸)حاوی کی جگہ’’ہاوی‘‘ (ص:۸۷) لکھا گیا ہے، قاعدہ اور قواعد’’ع‘‘سے لکھنا صحیح ہے، مگر اس کتاب میں یہ دونوں الفاظ’’ء‘‘سے لکھے گئے ہیں،غلاظتوں صحیح ہے، ’’غلاضتوں‘‘ (ص:۵۹)نہیں،غصب کرنے اورقبضہ کرنے کے معنی میں’’سلب کرنا‘‘لکھاجاتا ہے،’’صلب کرنا‘‘ (ص۳۱۰)کوئی لفظ نہیں ہے ،فقیہ ایک علمی و مذہبی اصطلاح ہے اوراس کی جمع ’’فقہا‘‘ہے، ’’فقہین‘‘ (ص:۳۰۷)مہمل لفظ ہے،ستم ضریفی(ص:۲۹۹)،آہ و بقا(ص:۲۸۹)،حوس پرستی(ص:۲۸۸)، کسم پرسی (ص:۲۴۶،۲۷۰)، ناچاکیاں (ص:۲۵۸) نامسائد (ص:۲۳۴)،المِ بغاوت(ص:۲۳۲)جیسے الفاظ کتاب کی علمی وقعت کو ہلکاکرتے ہیں۔پاکستان کے قلم کاروں اور مصنفوں کے درمیان ایک ہندی لفظ’’گمبھیر‘‘کا استعمال عام ہورہاہے،یہ لفظ مشتاق یوسفی ،انتظار حسین وغیرہ جیسے بڑے لوگوں نے استعمال کیااور انھیں پڑھ کر اب موجودہ نسل بھی اس لفظ کواپنی تحریروں میں بے تحاشا استعمال کررہی ہے؛حالاں کہ عموماً اسے صحیح محلِ استعمال میں برتا جاتاہے،مگر اس کو تقریباً تمام چھوٹے بڑے پاکستانی مصنفین ’’گھمبیر‘‘(گھ،م،ب،ی،ر)لکھتے ہیں اور اِس کتاب میں بھی دیگر بہت سے ہندی الفاظ کے ساتھ بیشتر مضامین میں کم ازکم ایک بار یہ لفظ ضرور لکھا گیا ہے اوراسی طرح لکھاگیا ہے،جو کہ غلط ہے،یہ ایک ہندی لفظ ہے ،سنگین،خطرناک اورحساس جیسے معنوں میں مستعمل ہے اورصحیح املا’’گمبھیر‘‘(گ،م،بھ،ی،ر)ہے۔
میرے خیال میں مذکورہ بالاقسم کی زیادہ تر غلطیاں کتاب کی اشاعت میں جلدبازی کا نتیجہ ہیں،پبلشرکو اشاعت سے قبل کتاب کے موادکی پروف ریڈنگ کا اہتمام کرنا چاہیے تھا،حیرت کی بات ہے کہ خود مصنفہ نے موجودہ حالت میں اس کی اشاعت کیوں کر گواراکرلی؟!

اے خدا…!

محمدنبی چترالی
ایک نشست میں کتاب ختم کرنا بشرطیکہ وہ دلچسپ ہو اور آپ کے مزاج کے مطابق ہو، کوئی انہونی بات نہیں. ہمیں کئی بار یہ اعزاز حاصل ہوا ہے. مگر “یا خدا” ایسا ناول (Novelet) ہے،جو نہ صرف ایک نشست میں پڑھا؛ بلکہ سر اٹھائے بغیر، ادھر ادھر جھانکے بغیر پڑھ ڈالاـ جب سر اٹھایا، تو آنکھیں اشکبار تھیں،دل کا غبار اتر چکا تھاـ
قدرت اللہ شہاب نے بٹوارے کی ایک طویل دکھ بھری داستان اس مختصر ناول میں پروئی ہے، یہ ہر اس بندے کی کہانی ہے، جو ہجرت کرکے سرحد کے اُس پار گیا یا اس پار آیا،اس پر کیا گزری، اگر وہ ہندو تھا، تو مسلمانوں کا کیسا سلوک رہا، اگر وہ مسلمان تھا، تو ہندواور سکھ اس کے ساتھ کیا کرتے رہے؟یہ دلشاد کی کہانی ہے،یہ ہر مہاجر کی داستان ہےـ
ناول کے پہلے حصے میں دلشاد کی اس آب بیتی کا ذکر ہے،جب بٹوارہ ہوگیا، مگر وہ پاکستان ہجرت نہ کرسکی،اس پر ہندوستان میں جو گزرتی ہے، وہ لکھا نہیں جائے گا، دلشاد کا باپ انبالہ کے ایک گاؤں چمکور میں مسجد کا امام ہوتا ہے، مگر جیسے ہی ہندوستان تقسیم ہوجاتا ہے، ان کو مار کر کنوے میں پھینک دیا جاتا ہے، پورا خاندان ختم ہوجاتا ہے، صرف بدقسمت دلشاد ہوس کے بھوکوں کے ہاتھ چڑھتی ہے، وہ اس کو بھون ڈالتے ہیں،گوشت گوشت نوچ لیتے ہیں، امریک سنگھ، امریک سنگھ کا باپ، اس کا بھائی، ہر ایک مسجد آتا ہے اور اپنا حصہ پاکر چلا جاتا ہے، پہلے مسجد آباد تھی، جب مسلمان تھےاور ملا علی بخش امام تھا،اب ملا علی بخش کی بیٹی کی وجہ سے مسجد پھر آباد ہوگئی مگر صرف سکھ آتے ہیں ـ
ایک دن پتا چلتا ہے کہ دلشاد امید سے ہے، تو سب سٹپٹا جاتے ہیں، مار کر کنویں میں پھینکنے کی بات ہوتی ہے،مگر پھر یہ طے پاتا ہے کہ تھانیدار لبھو رام کے حوالہ کیا جائے، دلشاد اب ان درندوں کے چنگل سے نکل کر لبھو رام کی ٹانگیں دبانے میں لگ جاتی ہے، جب اس کا دل بھر جاتا ہے تو وہ اسے ہیڈ کانسٹیبل دریودھن سنگھ کے حوالے کرتاہے کہ وہ دلشاد کو انبالہ کیمپ پہنچا دے، دریودھن سنگھ دس گھنٹے کا سفر دلشاد کے ہمراہ بارہ دنوں میں طے کرتا ہے اور انبالہ کیمپ پہنچا دیتا ہےـ
انبالہ کیمپ میں سیکنڑوں کی تعداد میں مسلمان عورتیں، نوجوان لڑکیاں جن کی عصمتیں لٹ چکی ہیں، موجود ہیں اور اس انتظار میں ہیں کہ کب ریل آئے گی اور ان کو پاکستان لے جائے گی، دنوں سے ہوتے مہینے گزر جاتے ہیں،آخر ایک دن وہ سعادت کی گھڑی آجاتی ہے کہ دلشاد سوہنی دھرتی کے سفر پر روانہ ہوجاتی ہےـ
ناول کا دوسرا حصہ دلشاد کی زندگی کے ان مصائب و آلام کی نذر ہے، جو پاکستان پہنچ کر اس کے منتظر ہوتے ہیں، وہ امرتسر کی ٹرین سے آتی ہے لاہور کی طرف،ٹرین میں ہی دلشاد کا بچہ پیدا ہوجاتا ہے،جب لاہور پہنچتی ہیں، تو بچہ ایک دن کا ہوتا ہے،دلشاد جو خواب آنکھوں میں سجا کر آئی تھی کہ پاکستان پہنچتے ہی سب اس کو گلے لگا لیں گے، اپنی بہن کہہ کر سر آنکھوں پر بٹھائیں گے، رہنے کو گھر ملے گا،ماں باپ کا پیار ملے گا، سب خواب چکناچور ہوجاتے ہیں،کوئی پوچھتا نہیں،چند نوجوان اس سے کھوٹی نیت کے ساتھ ضرور بات کرتے ہیں مگر جب ان کو پتا چلتا ہے کہ وہ زچگی میں ہےتو “آخ تھو” کرکے گزر جاتے ہیں ـ دلشاد کا بھوکوں برا حال ہے، تن پر کپڑا نہیں،بچہ سسک سسک کر مر رہا ہے، ایک انگریزی میم پانچ روپے دیتی ہے تو وہ کھانا لے کر پیٹ کی آگ بجھا دیتی ہے، کوئی اسے بتاتا ہے کہ وہ مہاجر کیمپ چلی جائے،وہاں جاتی ہے، تو کسی کا رویہ اس کے ساتھ اچھا نہیں ہوتا، تنہائی ہے، ہر ایک اپنے پسینے میں ڈوبا ہوا ہے، دلشاد کو مہاجر کیمپ میں کھانا تو مل جاتا ہے، مگر بستر نہیں ملتے،ایک طرف بستروں کا انبار ہے،مگر آفس والا کہہ رہا ہے کہ ابھی نہیں، کل آٹھ بجے آجاؤ، وہ سردی کی یہ رات اسی طرح کانپنی گزار دیتی ہے،آدھی رات کو بارش شروع ہوجاتی ہے، کیمپ میں کئی بچے اور بوڑھے سردی سے مر جاتے ہیں، ایک ماں اپنے کپڑے اتار کر اپنے بچے کو ڈھانپتی ہے، صبح ہوتے ماں اور بچے دونوں نے دنیا سے منہ موڑ لیا ہوتا ہےـ
ناول کا تیسرا اور آخری حصہ ایک دوسرے جہاں سے آشکار کرتا ہےـ پاکستان میں ایلیٹ کلاس کی عیاشیوں کا تذکرہ ہے، شراب نوشی و جوا اور سود، کاروبار سب چل رہے ہوتے ہیں، یہ پاکستان ہے،دلشاد اب لاہور سے ہوتی ہوئی کراچی آئی ہے، یہاں پکوڑے بیچتی ہے، ایک جھونپڑی میں رہ رہی ہے، ناول یاں ختم ہوجاتا ہےـ
ایک حسرت بھری داستاں،بٹوارے کا نہ بھرنے والا زخم،جو ہجرت کرکے آئے، ان پر ہندوستان میں کیا گزری، جب پاکستان آئے، تو وہ یہاں کن کن مصبتوں سے گزرے، ایک دلشاد کی زبانی کتنی ہی دلشادوں کی کہانیاں!

ساحر اور معیارِ عظمت کی منطق


حقانی القاسمی
(دوسری وآخری قسط)
(۴)
چوتھا قول بھی ساحر کو تخلیقی انبوہ میں ایک نوع کا امتیاز عطا کرتا ہے کہ ساحر کی شاعری میں بھی آفاق سے زیادہ انفس کا عنصر غالب ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں اس انسانی روح کی شناخت کی ہے ،جو حد درجہ مضطرب اور ملہتب ہے، انسانی روح کی دریافت کا عمل بہت مشکل ہوتا ہے، مگر ساحر نے اس روح تک رسائی حاصل کی اور اس کے اضطرابات اور ہیجانات سے انسان کو روشناس کرایا۔ ’چکلے‘ ایسی ہی ایک نظم ہے، جس میں انسانی روح کی کراہ صاف سنائی دیتی ہے، ساحر نے ایک ’مجرد جسم‘ کو روح کی آنکھ سے دیکھا ہے اور اپنے روحانی کرب کا اظہار استفہامیہ انداز میں کر کے انسانی ذہن، ضمیر کو بھی جھنجھوڑا ہے:
یہ پرپیچ گلیاں یہ بے خواب بازار
یہ گمنام راہی یہ سکوں کی جھنکار
یہ عصمت کے سودے یہ سودوں پہ تکرار
ثنا خوانِ تقدیس مشرق کہاں ہیں؟
تعفن سے پر نیم روشن یہ گلیاں
یہ مسلی ہوی ادھ کھلی زرد کلیاں
یہ بکتی ہوئی کھوکلی رنگ رلیاں
ثنا خوان تقدیس مشرق کہاں ہیں؟
وہ اجلے دریچوں میں پائل کی چھن چھن
تنفس کی الجھن پہ طبلے کی دھن دھن
یہ بے روح کمروں میں کھانسی کی ٹھَن ٹھَن
ثنا خوان تقدیس مشرق کہاں ہیں؟
’’کھانسی کی ٹھَن ٹھَن ‘‘بیمار انسانی روح کی علامت ہے۔ اخلاقی روحانی قدروں کا زوال ہوتا ہے، تو صرف اور صرف انسانی وجود میں کھانسی کی ٹھَن ٹھَن رہ جاتی ہے اور ساحر کو پورے انسانی معاشرے میں ٹھَن ٹھَن پہ ٹھَن ٹھَن کی آواز سے وحشت ہونے لگتی ہے، ساحر نے اس نظم میں اس روح کی تشخیص کی ہے ،جسے بازار نے جسمِ محض میں تبدیل کردیا ہے۔
نظم کے ایک ایک بند میں روح کے کرب کی لہر نمایاں ہے۔ جب کہ ایسا بھی نہیں ہے کہ ’چکلے‘ جیسے موضوع پر ساحر کی یہ کوئی بالکل نئی نظم ہو، یہ موضوع ادب کے لیے ماءِ مستعمل ہے ،مگر ساحر نے اس ’مستعمل‘ میں بھی احساس و اظہار کے امتزاج سے ایک نئی معنویت پیدا کردی ہے، کیفی اعظمی کا یہ خیال بھی اس نظم کی انفرادیت کا اعتراف ہی ہے:
’’ساحر نے ثنا خوانِ تقدیسِ مشرق کو جس شدت سے ، جس نفرت اور خلوص سے جھنجھوڑا ہے، اس کی مثال مجھے دوسرے فن پاروں میں نہیں ملتی،چکلے میں ساحر کی غیریت، اس کی روح، اس کے احساس کی تلملاہٹ، بلندی کے انتہائی نقطے پر نظر آتی ہے، اس کے لہجے کی مخصوص افسردگی یہاں ایک بے پناہ بہاؤ میں تبدیل ہوجاتی ہے۔‘‘
اس موضوع نے اگر ساحر کی روح کو مرتعش نہیں کیا ہوتا، تو شاید یہ نظم وجود ہی میں نہ آتی، اگر آ بھی جاتی ،تو اتنی شدت اور تاثیر کے ساتھ نہ آتی، ساحر نے ہمیشہ وہی کچھ لکھا ہے ،جس نے ان کے ذہن و جذبہ ہی نہیں؛ بلکہ پورے وجود میں تحریک پیدا کی، ساحر کی بیشترنظموں میں ان کی روح کا ارتعاش نظر آتا ہے اور یہ ارتعاش، ان کا نقطۂ امتیاز ہے:
لوگ عورت کو فقط جسم سمجھ لیتے ہیں
روح بھی ہوتی ہے اس میں یہ کہاں سوچتے ہیں
روح کیا ہوتی ہے اس سے انہیں مطلب ہی نہیں
وہ تو بس تن کے تقاضوں کا کہا مانتے ہیں
ساحرانسانی روح کے رمز و ایماسے آگاہ تھے، اسی لیے تخلیق کی اصل روح کی عظمت کو منہدم ہوتے ہوئے دیکھنا انہیں گوارہ نہ تھا، ’روح‘ کو بازار میں بدلتے دیکھ کر ان کی برگشتگی بڑھ جاتی تھی، مرد معاشرے نے جب روح کے حقیقی جوہر کو مسلنے کی مسلسل کوششیں کیں ،تو ساحر کا غصہ آتش فشاں کی طرح پھوٹ پڑا، اس غصے میں ’روح‘ کی بازدید کا نیک عمل پوشیدہ ہے:
مردوں نے بنائیں جو رسمیں ان کو حق کا فرمان کہا
عورت کے زندہ جلنے کو قربانی اور بلیدان کہا
عصمت کے بدلے روٹی دی اور اس کو بھی احسان کہا
عورت نے جنم دیا مردوں کو، مردوں نے اسے بازار دیا
عورت انسانی روح کی اساس ہے ، اس سے انحراف انسانی کائنا ت کو شدید اخلاقی بحران اور انتشار میں مبتلا کرسکتا ہے۔
ساحر نے اپنی فکر میں انفس، کو اولیت دی ہے اسی لیے ان کے شعروں میں جسم سے زیادہ روح کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔انسانی روح کے زخموں کے احساس نے ساحر کو سراپا التہاب بنادیا تھا، ان کے پورے ذہنی وجود کو ’انگارے‘ میں تبدیل کردیا تھا، اسی لیے انہوں نے انسانی روح کی سا لمیت اور بقا کے لیے آتشیں نظمیں لکھیں، انقلابی شعر کہے اور ہر اس احساس پر کاری ضرب لگائی ،جس سے انسانوں کی زبونی اور زوال میں اضافہ ہو۔فرقہ وارانہ فسادات اور جنگ میں سب سے زیادہ زخم انسانی روح جھیلتی ہے، ساحر نے روح کی گہرائی میں اترکر ہی ایسے شعر کہے ہیں:
طرب زاروں پر کیا بیتی صنم خانوں پہ کیا گزری
دلِ زندہ ترے مرحوم ارمانوں پہ کیا گزری
زمیں نے خون اگلا آسماں نے آگ برسائی
جب انسانوں کے دل بدلے تو انسانوں پہ کیا گزری
یہ منظر کون سا منظر ہے، پہچانا نہیں جاتا
سیہ خانوں سے کچھ پوچھو شبستانوں پہ کیا گزری
چلو وہ کفر کے گھر سے سلامت آگئے لیکن
خدا کی مملکت میں سوختہ جانوں پہ کیا گزری
ساحر کا ایک ایک شعر دل میں نشتر بن کر چبھتاہے۔ شاعری میں کرب کی وہی ساری کیفیت اتر آئی ہے، جس سے فسادات میں لوگ گزرتے رہتے ہیں، اس کیفیت کا انعکاس اس سے بہتر طور پر شاید ممکن نہ ہو۔ پروفیسرنظیر صدیقی کا بھی یہی خیال ہے:
’’فسادات پر نظم و نثر دونوں میں بہت کچھ لکھا گیا ؛لیکن ان میں سے بہت کم چیزیں زندہ رہ سکیں یا رہیں گی، خود ساحر نے فسادات پر نظمیں اور غزلیں لکھی ہیں، میرا خیال ہے کہ فسادات پر لکھی جانے والی شاعری میں ساحر کی یہ غزل :
طرب زاروں پہ کیا بیتی صنم خانوں پہ کیا گزری
دل زندہ ترے مرحوم ارمانوں پہ کیا گزری
کامیاب ترین غزلوں میں سے ہے اور اس کے چھ شعروں میں ہر شعر جو زبان زدِ خاص وعام ہے ، بہت ممکن ہے کل بھی زندہ رہے‘‘۔
ایک اور نظم ہے، جس میں انسانی روح کی آواز ہے، لَے ہے، فریاد ہے۔ یہ ایک ایسا تخیل ہے کہ تیرہ و تاریک ذہن میں یہ جنم ہی نہیں لے سکتا، انسانیت سے عاری ذہنوں میں ایسے احساس و آہنگ کے لیے کوئی جگہ ہی نہیں ہوتی، نظم کا عنوان ہے ’اے شریف انسانو!‘ اور اس کاآغاز یوں ہوتا ہے:
خون اپنا ہو یا پرایا ہو
نسلِ آدم کا خون ہے آخر
جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں
امنِ عالم کا خون ہے آخر
بم گھروں پر گریں کہ سرحد پر
روحِ تعمیر زخم کھاتی ہے
کھیت اپنے جلیں کہ اوروں کے
زیست فاقوں سے تلملاتی ہے
ٹینگ آگے بڑھیں کہ پیچھے ہٹیں
کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے
فتح کاجشن ہو کہ ہار کاسوگ
زندگی میتوں پہ روتی ہے
جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے
جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی
آگ اور خون آج بخشے گی
بھوک اور احتیاج کل دے گی
اس لیے اے شریف انسانو!
جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے
آپ اور ہم سبھی کے آنگن میں
شمع جلتی رہے تو بہتر ہے
آؤ اس تیرہ بخت دنیا میں
فکر کی روشنی کو عام کریں
امن کو جن سے تقویت پہنچے
ایسی جنگوں کا اہتمام کریں
جنگ وحشت سے بربریت سے
امن، تہذیب و ارتقا کے لیے
جنگ مرگ آفریں سیاست سے
امن، انسان کی بقا کے لیے
جنگ، افلاس اور غلامی سے
امن، بہتر نظام کی خاطر
جنگ بھٹکی ہوئی قیادت سے
امن، بے بس عوام کی خاطر
جنگ، سرمایے کے تسلط سے
امن، جمہور کی خوشی کے لیے
جنگ، جنگوں کے فلسفے کے خلاف
امن، پرامن زندگی کے لیے
ساحر کو انسانی روح کا حقیقی عرفان ہے ؛اسی لیے ان کی شاعری روح کی آزادی کا نغمہ ہے۔ وہ ہر اس زنجیر کو توڑ دینا چاہتے تھے، جس سے انسانی ذہن، ضمیر اور روح غلام بن جائے۔ان کے اشعار میں اقتصادی، سیاسی، سماجی آزادی اور مساوات کے جذبے ملتے ہیں او ریہ ان کے مخصوص شعری موضوعات ہیں۔ یہ موضوعات بھی ان کی فن کارانہ عظمت کی علامتیں ہیں، مگریہاں پھر ایک سوال ہے کہ کیا صرف ان موضوعات کی وجہ سے کوئی فنکار عظیم بن سکتا ہے۔ پروفیسر وارث علوی کا خیال ہے کہ:
’’فنکار اس وجہ سے بڑا فنکار نہیں ہوتا کہ اس نے جنگ، امن، قومی آزادی اور انقلاب جیسے اہم اور شاندار موضوعات پر قلم اٹھایا، یہ موضوعات اس کی بڑائی کا تعین نہیں کرتے، فن کار کی بڑائی کا تعین اس کا فن ہی کرسکتا ہے۔‘‘
وارث علوی کے خیال سے اختلاف کریں یا اتفاق، مگریہ حقیقت ہے کہ محض موضوع عظمت کا معیار نہیں ہے۔
’’موضوع نظم کی قدر و قیمت کا تعین نہیں کرتا؛ بلکہ مواد اور فارم گویا پوری نظم سے نظم کی قدر کا تعین ہوتا ہے۔‘‘ وارث علوی
اور یوں بھی موضوعات تو مشترک ہوتے ہیں، محض موضوعی اساس پر امتیاز یا انفراد کا تعین آسان عمل نہیں ہے، بقول سلیم احمد:
’’موضوعات ذرا مجرد سی چیز ہیں اور کئی شاعروں میں مشترک بھی ہوسکتے ہیں، موضوعات میں جان تو ان تشبیہوں ، استعاروں اور علامتوں سے آتی ہے، جو موضوع کے ارد گرد صرف ہالہ ہی نہیں بناتے، اسے روشنی بھی دیتے ہیں۔‘‘
(۵)
سلیم احمد کے اس خیال سے ساحر کی فنکارانہ عظمت کی ایک اور راہ نکلتی ہے۔ اب ساحر کے یہاں استعارات ، علامات اور تشبیہات میں تفرد کی تلاش لازمی ہے کہ اسی سے ساحر کی تخلیقی امتیازات کی سطحیں روشن ہوں گی۔
اس محاذ پر بھی ساحر سرخرو نکلے کہ ان کے یہاں استعارے، علامت اور تشبیہ کی ایک متنوع اور مختلف کائنات روشن ہے:
عکسِ مے ہو کہ جلوۂ گل ہو
رنگِ رخسار تک نہیں پہنچا
تیرے لہو کی آنچ سے گرمی ہے جسم کی
مے کے ہزار وصف سہی مے میں کچھ نہیں
یہ تری یاد ہے یا میری اذیت کو شی
ایک نشتر سا رگ جاں کے قریب آج بھی ہے
گیسوؤں کی چھاؤں میں دل نواز چہرے ہیں
یا حسیں دھندلکوں میں پھول ہیں چناروں کے
عرصۂ ہستی میں اب تیشہ زنوں کا دور ہے
رسمِ چنگیزی اٹھی، توقیرِ دارائی گئی
موت پائی صلیب پر ہم نے
عمر بن باس میں بتائی گئی
کھلتا ہے ہر ایک غنچۂ نو جوشِ نمو سے
یہ سچ ہے مگر لمس ہوا بھی ہے کوئی چیز
تشبیہات،علامات و استعارات میں جدت و ندرت نے بھی ساحر کی تخلیقی عظمت کو ایک اور نشان عطا کردیا ہے؛ اس لیے یہ بات بلالیت و لعل کہی جاسکتی ہے کہ ساحر ایک عظیم شاعر ہے، جس نے فن کے جملہ مطالبات کو پورا کیا اور وہ سارے عناصر ان کی شاعری میں موجود ہیں، جو کسی فن کار کو عظیم قرار دینے کے لیے ناگزیر ہیں اور وہ سطحیں بھی جو سلیم احمد نے اچھے شعر کے لیے ضروری قرار دی ہیں:
’’شاعری میں اچھے شعر کے لیے بیک وقت تین سطحیں ضروری ہیں، ایک سطح پر وہ خدا سے انسان کے تعلق کو ظاہر کرتا ہے، دوسری سطح پر کائنات سے انسان کے تعلق کو اور تیسری سطح انسان اور انسان کے تعلق کی ہے، اشعار کی بلندی اور پستی کا تعین اس امر سے ہوتا ہے کہ وہ ان تینوں سطحوں میں کس کس تک پہنچتا ہے۔‘‘
ساحر کے یہاں ان تینوں سطحوں میں بلندی کے سارے آثار نظر آتے ہیں، ساحر نے خدا، انسان اور کائنات اور انسانوں کے انسان کے تعلق کے اظہار میں تخیل کی نئی بلندیاں طے کی ہیں:
زمیں بھی تیری ہے، ہم بھی ترے یہ ملکیت کاسوال ہے
یہ قتل و خوں کا رواج کیوں ہے ،یہ رسم جنگ و جدال کیا ہے؟
قدرت نے تو بخشی تھی ہمیں ایک ہی دھرتی
ہم نے کہیں بھارت کہیں ایران بنایا
۰۰۰
انصاف کا ترازو جو ہاتھ میں اٹھائے
جرموں کو ٹھیک تولے
ایسا نہ ہو کل کا اتہاس کار بولے
مجرم سے بھی زیادہ
منصف نے ظلم ڈھایا
انصاف کا ترازو جو ہاتھ میں اٹھائے
یہ بات یاد رکھے
سب منصفوں کے اوپر
اک او ربھی ہے منصف
۰۰۰
مانا کہ اس زمیں کو نہ گلزار کرسکے
کچھ خار کم تو کرگئے گزرے جدھر سے ہم
آؤ اس تیرہ بخت دنیا میں
فکر کی روشنی کو عام کریں
امن سے جن کو تقویت پہنچے
ایسی جنگوں کا اہتمام کریں
زمیں نے خون اگلا آسماں نے آگ برسائی
جب انسانوں کے دل بدلے تو انسانوں پہ کیا گزری
ساحر اردو شاعری کا پورا آدمی ہے کہ کائنات کے پہلے شاعر آدم و حوا کی طرح اس نے بھی ’باغ بہشت‘ سے نکل کر اذیتوں میں اپنی پناہ تلاش کی تھی اور عوامی بھیڑ میں اپنے کھوئے ہوئے جذبہ و احساس کو دریافت کیا تھا، وہ احساس جو ایک درد مند اور حساس دل میں ہوتا ہے۔ ساحر لوڈھوال کے جاگیردار چودھری فضل محمد ذیل دار (سرمایہ دار والد) کے ساےۂ عاطفت میں رہتے ،تو شاید زندگی کے بہت سارے تجربات و حوادث سے محروم رہ جاتے، ذہن میں نہ تلخیاں آتیں اور نہ تخلیقی احساس کو اظہار کی راہ ملتی، ساحر عیش و عشرت میں ہوتے، تو پھر نہ وہ حرفِ احتجاج بلند کرپاتے او رنہ ہی انسانی دکھ درد کا احساس ہوتا، نہ استحصالی معاشرہ کے خلاف بغاوت کرتے۔ ساحر کو تجربوں کی جو بے پناہ دولت ملی، وہ اذیت اور دربدری کا ثمرہ تھی۔ ان کی تخلیق کے حسن میں ’دکھ‘ کی خوبصورتی یا المیہ کی جمالیات بھی شامل ہے، دکھ ہی نے ان کا رشتہ عام لوگوں سے جوڑا، مزدوروں، محنت کشوں، طوائفوں کا دکھ بھی اپنے ذاتی دکھ اور مشاہدہ کی ہی توسیع تھی۔ اپنی ذات میں جب پوری کائنات شامل ہوجاتی ہے ،تو احساس کا دائرہ خود بخود پھیلنے لگتا ہے اور پھر سارے جہاں کا درد، اپنا درد محسوس ہونے لگتا ہے:
مجھے انسانیت کا دردبھی بخشا ہے قدرت نے
مرا مقصد فقط شعلہ نوائی ہو نہیں سکتا
مرے سرکش ترانوں کی حقیقت ہے تو اتنی ہے
کہ جب میں دیکھتا ہوں بھوک کے مارے کسانوں کو
غریبوں مفلسوں کوبے کسوں کو بے سہاروں کو
حکومت کے تشدد کو امارت کے تکبر کو
تو دل تاب نشاط بزم عشرت لا نہیں سکتا
میں چاہوں بھی تو خواب آور ترانے گا نہیں سکتا
یہ سرکشی، تلخی، برگشتگی، دراصل ایک نفسیاتی رد عمل ہے اس سماج کے خلاف جہاں ایک باپ جبر و اقتدار اور ارتکاز قوت کی ایک علامت بن کر ابھرتا ہے اور جو اپنی گیارہویں بیوی، سرداربیگم کوایک پسماندہ طبقہ سے تعلق رکھنے کی وجہ سے زوجیت کے حقوق سے محروم رکھتا ہے۔ اور اسی لیے ’باپ‘ جس طبقہ اور سماج کا نمائندہ ہے، اس طبقہ سے ساحر کی نفرت بڑھنے لگتی ہے اور اس طبقہ سے محبت ہوجاتی ہے جو ’باپ‘ کے ظلم کا شکار ہوا ہے۔ احمد راہی نے صحیح لکھا ہے کہ:
’’ساحر کی زندگی میں ایک محبت ہے ، ایک نفرت،محبت اس نے صرف اپنی ماں سے کی ہے اور نفرت صرف اپنے باپ سے‘‘۔
محبت اور نفرت کی یہ دونوں علامتیں ساحر کی شاعری میں مختلف شکلوں میں رونما ہوئی ہیں۔ ساحر کی تخلیقی سائیکی اور ان کے پورے تخلیقی اور فکری نظام کو صرف ان دونوں علامتوں کے لوازمات اور متعلقات کے آئینے میں ہی سمجھا جاسکتا ہے۔
ساحر کی شاعری ان ہی دونوں علامتوں کی توسیع و تمدید اور تشریح و تعبیر ہے۔ یہی دونوں علامتیں ساحر کی ذات سے نکل کر کائناتی حقیقت میں تبدیل ہوجاتی ہیں اور ذات و کائنات کی یہی وحدت ساحر کی تخلیقی عظمت کا نقطۂ امتیاز بن جاتی ہے اور پورے آدمی کی شاعری کا نشان اختصاص بقول سلیم احمد یہ ہے کہ :
جس کا احساس، جذبہ اور عقل ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے بلکہ ایک وحدت بناتے ہیں اور یہ وحدت اپنے اندر بھی ہم آہنگ ہوتی ہے اور خارجی حقیقت سے بھی ہم آہنگی رکھتی ہے جو خود ایک ہم آہنگ وحدت ہے‘‘۔
احساس، جذبہ اور عقل کی وحدت ساحر کی کئی نظموں میں نمایاں ہے۔ تاج محل ، نورجہاں کے مزار پر اور پرچھائیاں ایسی ہی نظمیں ہیں:
ثبت جس راہ میں ہوں سطوت شاہی کے نشاں
اس پہ الفت بھری روحوں کا سفر کیا معنی؟
میری محبوب پس پردۂ تشہیرِ وفا
تو نے سطوت کے نشانوں کو تو دیکھا ہوتا
مردہ شاہوں کے مقابر سے بہلنے والی
اپنے تاریک مکانوں کو تو دیکھا ہوتا
ان گنت لوگوں نے دنیا میں محبت کی ہے
کون کہتا ہے کہ صادق نہ تھے جذبے ان کے
لیکن ان کے لئے تشہیر کا سامان نہیں
کیوں کہ وہ لوگ بھی اپنی ہی طرح مفلس تھے
تاج محل
پہلوئے شاہ میں یہ دخترِ جمہور کی قبر
کتنے گم گشتہ فسانوں کا پتہ دیتی ہے
کتنے خوں ریز حقائق سے اٹھاتی ہے نقاب
کتنی کچلی ہوئی جانوں کا پتہ دیتی ہے
کیسے مغرور شہنشاہوں کی تسکیں کے لیے
سالہا سال حسیناؤں کے بازار لکھے
کیسے بہکی ہوئی نظروں کے تعیش کے لیے
سرخ محلوں میں جواں جسموں کے انبار لگے
کیسے ہر شاخ سے منہ بند مہکتی کلیاں
نوچ لی جاتی تھیں تزئین حرم کی خاطر
اور مرجھا کے بھی آزاد نہ ہوسکتی تھیں
ظل سبحان کے الفت کے بھرم کی خاطر
نورجہاں کے مزار پر
سورج کے لہو میں لتھڑی ہوئی وہ شام ہے اب تک یاد مجھے
چاہت کے سنہرے خوابوں کا انجام ہے اب تک یاد مجھے
اس شام مجھے معلوم ہوا کھیتوں کی طرح اس دنیا میں
سہمی ہوئی دوشیزاؤں کی مسکان بھی بیچی جاتی ہے
اس شام مجھے معلوم ہوا، اس کارگہ زرداری میں
دو بھولی بھالی روحوں کی پہچان بھی بیچی جاتی ہے
اس شام مجھے معلوم ہوا جب باپ کی کھیتی چھن جائے
ممتا کے سنہرے خوابوں کی انمول نشانی بکتی ہے
اس شام مجھے معلوم ہوا جب بھائی جنگ میں کام آئیں
سرمائے کے قحبہ خانے میں بہنوں کی جوانی بکتی ہے
پرچھائیاں
ساحر کے یہا ںیہی وحدت مجنوں گورکھپوری جیسے ناقد کو بھی نظر آتی ہے:
’’وہ خارجی عوارض اور داخلی تاثرات کو سلیقے کے ساتھ سموکر ایک آہنگ بنانے کا فن خوب جانتے ہیں، ان کے ہر مصرعے میں مادی محرکات و مؤثرات کے احساس کے ساتھ وہ کیفیت بڑے سلیقے کے ساتھ گھلی ملی ہوتی ہے، جو بے ساختہ داخلی ابھار کے ساتھ پیدا ہوسکتی ہے‘‘۔
اگر یہی وحدت تخلیقی عظمت کی علامت ہے، تو ساحر لاریب عظیم شاعر ہیں ، مگر ہماری تنقید کا المیہ یہ ہے کہ یہاں معیار کی منطق تبدیل ہوتی رہتی ہے؛ اس لیے اب یہی کہنے میں عافیت ہے کہ ساحر تنقیدی تعینات سے ماورا ہیں، استقرائی، تفکری یا تشریعی، یہ تمام تنقیدی طریق کار ساحر کے تعینِ قدر میں معاون نہیں ہوسکتے۔
ساحر کی تخلیق (فلمی، ادبی) ان کی عظمت کی شہادت کے لیے کافی ہے۔ ان کے تخلیقی تجربے کا تنوع اور اظہار کے نئے وسائل، تکنیک کے نئے ذرائع ہی وافر ثبوت ہیں کہ ساحر لدھیانوی (8مارچ 1921۔25اکتوبر 1980) اپنے عہد کے مختلف منفرد اور عظیم شاعر ہیں، جو اپنی ترسیلی قوت کی بنیاد پر براہ راست قاری سے ایک ذہنی اور جذباتی رشتہ قائم کرنے میں کامیاب ہیں، جس کی ایک نمایاں مثال نظم ’پرچھائیاں‘ ہے جو ایسی حکائیہ تکنیک میں ہے کہ کسی بھی اردو شاعر نے نظموں میں یہ استعمال نہیں کی ہے۔ علی سردار جعفری جیسے ممتاز نظم نگار شاعر اور ناقد نے بھی اس نظم کی بیانیہ سادگی میں مخفی قوت کا اعتراف کرتے ہوئے یہ لکھا کہ:
’’ہماری بعض بہترین نظمیں عام انسانوں کی سمجھ کی سطح سے بہت اونچی ہیں، لیکن ساحر کی نظم ’پرچھائیاں‘ اپنی سادہ کہانی اور آسان بیانی کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ وسیع حلقوں تک پہنچ سکے گی۔ اس کے نوے فیصدی سے بھی کچھ زیادہ الفاظ ہماری روز مرہ گفتگو کے الفاظ ہیں۔ کلاسکیت اور روایت کے نام پر ساحر نے اپنی نظم کو اجنبی اور غیر مانوس الفاظ سے بوجھل نہیں بنایا ہے۔ ساحر کی کامیابی اس میں ہے کہ اس نے اپنے سادہ اور آسان الفاظ سے اس عہد کی بعض اہم حقیقتوں کو ایسے مصرعوں میں ڈھال دیا ہے جو زبان پر چڑھ بھی جاتے ہیں اور دل پر اثر بھی کرتے ہیں‘‘۔
ساحر کا یہ بھی کمال ہے کہ انہو ں نے نثری اسلوب کو شاعرانہ شدت کے ساتھ پیش کیا ہے اور کہتے ہیں کہ: ’’اچھی شاعری وہ ہے ،جو نثر سے زیادہ سے زیادہ قریب ہو؛ لیکن نثری نہ ہو۔‘‘
ساحر نے نثر اور شاعری کے فاصلوں کو بھی کم کیا ہے۔ ان کی نظموں میں جو فکری و لسانی ارتباط و ارتکاز ہے، وہی ان کی نظمیہ شاعری کا حسن ہے۔ ساحر ایک مربوط و منضبط فکر کے حامل ہیں او ریہ صفت ان کی تخلیق میں ہے۔ کوئی تو وجہ ہوگی کہ ساحر کے اکثر مصرعے کسی سماجی، سیاسی مضمون کا موثر اور متحرک عنوان بن جاتے ہیں ؛بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ درجنوں صفحات پر محیط کسی سماجی یا سیاسی مضمون کے مقابلے میں ساحر کی چند نظمیہ سطریں زیادہ اثر انگیز اور معنی خیز ہوتی ہیں۔
ساحر بڑا شاعر ہے اس لیے بھی کہ ان کی شاعری میں اقتدار، آئین، سماج اور سیاست سے سوال ہے اوریہ وہ سوال ہیں ،جو کائناتی اور انسانی وجود سے ہمیشہ ہی جڑیں گے۔ جب تک کائنات ہے، ان سوالوں کے سلسلے جاری رہیں گے:
دولت بڑھی تو ملک میں افلاس کیوں بڑھا
خوش حالیِ عوام کے اسباب کیا ہوئے؟
میرا خیال ہے کہ ان سوالوں کی دوامیت میں بھی ساحر کی فنی عظمت مضمر ہے۔
تنقید کا کوئی بھی زاویہ ہو، ہر میزان پر ساحر کی شاعری کھری اترے گی،ان کا پلڑا ہمیشہ بھاری رہے گا۔ ساحر کا مقام شاعری کے’’ عیشۃ راضیہ ‘‘میں متعین ہے، اس کے لیے کسی تنقیدی فرمان کی قطعی ضرورت نہیں ہے کہ ہماری تنقید کے لیے تخلیق کاروں کے مدارج و مراتب کا تعین جوئے شیر لانے سے کم نہیں اور یوں بھی خود ساحر کو ایسی تنقید پر اعتبار ہی کہاں تھا:
مجھ کو اس کا رنج نہیں ہے لوگ مجھے فن کار نہ مانیں
فکر و سخن کے تاجر مرے شعروں کو اشعار نہ مانیں
یہ شعر شاید اسی بے اعتباری اور عدم اعتماد کا مظہر ہے۔ اور ساحر کو تنقید کی طوطا چشمی کا شدت سے احساس تھا کہ انہوں نے خود بھی اپنے زمانے کی آنکھیں اور چہرے دیکھے تھے اور ان آنکھوں اور چہروں کے بدلتے رنگ اور تاثرات بھی، اسی لیے انہیں پہلے ہی سے یہ ادراک تھا کہ:
کل کوئی مجھ کو یاد کرے، کیوں کوئی مجھ کو یاد کرے
مصروف زمانہ میرے لیے کیوں وقت اپنا برباد کرے
یقیناًزمانہ مصروف بھی ہے اور لوگوں کو اپنے وقت کی قدر و قیمت کا پہلے سے بھی کہیں زیادہ احساس ہے، پھر بھی عجب بات ہے کہ ساحر کی قرأت کا تسلسل قائم ہے، جب کہ بہت سے شعرا قرأت کے باب میں ’وقفۂموقوف‘ میں ہیں، مگر محض قرأت ہی تو مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ ساحر کے مدرکات و مکاشفات کی تعبیر و تفہیم کے لیے نئی قرأت کی ضرورت ہے ؛تاکہ ساحر کی تخلیقی کاملیت، حسیت اور معنویت کے نئے باب روشن ہوں اور ساحر کا وہ مافیہ اپنی کلیت میں سامنے آئے ،جو ان کے نظمیہ اسپیس میں پنہاں ہے اور اس ساحر کی تلاش کی جائے، جو اپنی تخلیق کی وجہ سے مختلف طبقات، درجات اور ادبیات میں اپنی الگ الگ مساواتوں Equations کے ساتھ زندہ ہے، مختلف الخیال طبقات کی یہی مساواتیں ساحر کو ہر عہد میں نئی زندگی او رنئی معنویت عطا کرتی رہیں گی۔
اور یہ تنقید کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہے کہ تنقید تو کسی بھی تخلیق کے سر پر ’تاج زریں‘ رکھ دیتی ہے، مگر ہوتا یہ ہے کہ ایک مدت کے بعد تاج کے ساتھ ساتھ سر بھی غائب ہوجاتے ہیں۔ ساحر کو ایسے تاج سے ویسے بھی وحشت ہے:
کشکولِ فن اٹھا کے سوئے خسرواں نہ جا
اب دستِ اختیارِ جم و کے میں کچھ نہیں
یہاں پر ’خسرواں‘ سے ساحر کی مراد میرے خیال میں شاید ’نقاد‘ ہی ہے، مگر میرا خیال بھی تو ’نقدِ ناقدین‘ کی طرح غلط ہوسکتا ہے۔
(میں اکثرحوالوں سے گریز کرتا ہوں؛ لیکن یہاں حوالے اور اقتباسات ضرورتِ شعری کی بنا پر دیے گئے ہیں)
Haqqani Al-qasmi
Cell:9891726444
E-mail:haqqanialqasmi@gmail.com

ساحر اور معیارِ عظمت کی منطق


حقانی القاسمی
(پہلی قسط)
ساحر کو کسی سند کی ضرورت نہیں کہ ان کے کلام میں ماورائے زماں زندہ رہنے کی بھرپور قوت موجود ہے۔ وجودیاتی یا علمیاتی بیان کی حاجت بھی نہیں کہ ساحر کی شاعری اتنی شفاف، واضح، غیر مبہم ہے کہ براہِ راست قاری کے ذہن، ذوق اور ضمیر سے مکالمہ کرتی ہے۔
’تشریحی تنقید‘ کی مہملیت، شاعری کو موت تو دے سکتی ہے ، زندگی نہیں، اچھا ہوا کہ ناقدوں نے ساحر پہ کم لکھا اور ساحر کی شاعری تنقید کا بارِ احسان اٹھانے سے بچ گئی۔ ورنہ یہ شاعری بھی تنقید کی تاریکیوں میں بھٹکتی ہوئی دم توڑ دیتی کہ جس تنقید میں ہر شب کو’ شبِ قدر‘ اور ہر سنگ کو’ لعلِ بدخشاں‘ کی حیثیت حاصل ہو، ایسی تنقید کی ہےئتِ ممقوت سے ہی تخلیق کو وحشت ہونے لگتی ہے کہ یہ تو تخفیفِ قدر کا باعث ہے۔ہمارے عہد کا عمومی مشاہدہ بھی یہ ہے کہ جن تخلیق کاروں کو نقاد انِ فن Establish کرتے ہیں، انہیں منہدم ہونے میں زیادہ مدت نہیں لگتی کہ نقاد کلیہ تو مرتب کرلیتا ہے ،مگر اطلاقات کی صورتیں، معیارات تلاش کرنے میں ناکام رہتا ہے؛ اس لیے تنقیدی کلیے کی بلند بالا عمارت بہت جلد مسمار ہوجاتی ہے کہ سارے معیار فرضی اور تصوراتی ہوتے ہیں۔
ساحر کو نقاد کی ضرورت ہو بھی تو کیوں؟ 151نقاد عوام کے ذہن سے تخلیق کار یا تخلیق کا رشتہ ہی تو جوڑتا ہے اور یہ کام تو خود ساحر کی شاعری نے کر دکھایا کہ ساحر کی تخلیق کا عوام سے براہ راست ترسیلی رشتہ ہے۔ دونوں کے مابین کوئی دیوار بھی حائل نہیں ۔ ’شعر فہمی، تو خیر ساحر کے قاری کا مسئلہ رہا ہی نہیں اور نہ ہی کسی لفظ یا محاورے کی وجہ سے ان کے ساتھ مہملیت کا معاملہ سامنے آیا ہے کہ ان کے الفاظ اور محاورے گنجلک، پیچیدہ نہیں ہوتے ،جس کی وجہ سے قاری ان کی شاعری کو ناآشنائی کی وجہ سے اس طرح مہمل قرار دے، جیسے ایک مقتدر نقاد نے افسانہ ’’زلفِ یار سرکر‘‘ کو اس لیے مہمل قرار دیا تھا کہ وہ سرکردن کے محاورے سے ہی ناواقف تھے۔
ساحر کی شاعری کے ساتھ ترسیل کی ناکامی کا المیہ جڑا ہوا نہیں ہے۔ اس کے ثبوت کے لیے ان کے کلیات کا ایک بڑا حصہ پیش کیا جاسکتا ہے۔ اس سے قطع نظر کہ ساحر نے تلخا بہ تنہائی، دست فرط یاس، پس پردہ تشہیر وفا، رسم القطاع، عہد الفت جیسی تراکیب کا استعمال کیا ہے، ان سے عام قاری کا ذہن ناآشنا ہوتے ہوئے بھی سیاق و سباق کے ذریعہ آہنگ میں اس کے مفہوم کو تلاش کرہی لیتا ہے، جیسے امیر خسرو کی ’’زحالِ مسکیں ‘‘پہ عام آدمی بھی سردھننے لگتا ہے، مگر یہاں ایک سوال ہے کہ کیا ترسیل کی تاثیر یا توانائی ہی شعری عظمت کا معیار ہے؟ اگر ایسا ہے، تو پھر سادہ اور سلیس شعر کہنے والا ہر فرد عظیم قرار پائے گا۔
لیکن شاید ایسا نہیں ہے!
شاعرانہ عظمت کی بھی اپنی منطق اور منطقے ہیں، گو کہ تنقید اس منطق اور منطقے کو بھی حسبِ منشا تبدیل کرتی رہتی ہے۔ پھر بھی شاعرانہ عظمت کے معیار کا تعین کیے بغیر بات آگے نہیں بڑھائی جاسکتی، کوئی نہ کوئی معیار تو وضع کرنا ہی ہوگا، چاہے وہ سب کے لیے قابلِ قبول نہ ہو۔
’’عظمتِ شعر‘‘ کا ایک معیار تو وہ ہے، جو لیوس نے وضع کیا ہے:
’’اچھا شاعر وہ ہے ،جو دوسروں سے زیادہ حیات آشنا اور اپنے زمانے کا بہتر شعور رکھتا ہو‘‘۔
اور دوسرا ورڈ زورتھ کا ہے، جس نے کہا:
’’بڑا تخلیق کار وہ ہے ،جو انسانی احساس کا دائرہ اس طرح وسیع کرکے دکھائے، جو پہلے کبھی نہ ہوا ہو‘‘۔
جب کہ محمد حسن عسکری جیسے بیدار ، باخبر ،فرانسیسی ادبیات سے آگاہ ناقد نے عظمتِ شعر کو عرفانِ حقیقت سے مربوط کرتے ہوئے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ:
’’اگر کوئی شعر ادبی معیاروں پر پورا اترتا ہے ،تو وہ شاعری کے دائرے میں داخل ہے۔ اگر اس کے ساتھ ساتھ یہ شعر عرفانِ حقیقت میں بھی معاون ہوتا ہے، تو عظیم شعر ہے‘‘۔
چوتھی بات شاہ وہاج الدین کی ہے، جو زیادہ قرینِ قیاس لگتی ہے کہ :
’’بڑا وہی ہے، جس کی تخلیق میں انفس کا عنصر غالب ہو‘‘۔
ان کے خیال میں ’’انسان کے پیش نظر معرفت کے لیے صرف دو ہی تعینات ہیں: انفس اور آفاق۔ تکمیل اس میں ہے کہ دونوں کی شناخت ایک ساتھ ہو اور انفس کی شناخت کو آفاق کی شناخت پر غلبہ ہو ؛کیونکہ آفاق جسم ہے اور انفس اس کی روح ہے۔‘‘
ان چاروں اقوال کی روشنی میں ساحر کی شاعری میں عظمتوں کی جستجو کی جائے، تو ساحر تخلیق کی راہ میں ایک نشانِ منزل کی حیثیت سے سامنے آئیں گے۔
(۱)
پہلا قول ساحر کی عظمت پہ مہر تصدیق ثبت کرتا ہے کہ ساحر حیات آشنا بھی ہیں اور روحِ عصر سے آگاہ بھی۔ حیات کی کیفیات اور عصر کی تغیرات، تحولات اور ترجیحات سے مکمل آشنائی کے اشارے ان کے اشعار میں ملتے ہیں، ان کے یہاں حیات ایک تسلسل میں ہے اور یہ تسلسل ہی حقیقت ہے:
ہر قدم مرحلہ دار و صلیب آج بھی ہے
جو کبھی تھا وہی انساں کا نصیب آج بھی ہے
نسل در نسل انتظار رہا
قصر ٹوٹے نہ بے نوائی گئی
زندگی کا نصیب کیا کہئے
ایک سیتا تھی جو ستائی گئی
دوسرے فن کاروں کے مقابلے میں ساحر کو زندگی کی حقیقتوں کا ادراک زیادہ ہے،اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ساحر نے زندگی کی تفہیم اور اس کے رموز و اسرار کی تعبیر کے باب میں صرف اور صرف اپنی آنکھوں پہ اعتبار کیا ، ان کی اپنی نظر نے ہی حیات کے بہت سے راز منکشف کردیے، جو سربستہ تھے، زندگی کے مدو جزر، نشیب و فراز کو سمجھنے کے لیے ان کا اپنا الگ زاویہ تھا اور اس انفرادی زاویہ نظر نے انہیں زندگی کے ٹھوس حقائق سے آشنا کیا:
لے دے کے اپنے پاس فقط اک نظر تو ہے
کیوں دیکھیں زندگی کو کسی کی نظر سے ہم
آنکھوں سے بڑی کوئی ترازو نہیں ہوتی
تلتا ہے بشر جس میں وہ میزان ہیں آنکھیں
ساحر کا تصورِ حیات وسیع ہے ،مگر کیا محض تصورِ حیات ہی شعری عظمت کے لیے کافی ہے۔ ممتاز پاکستانی ناقد سلیم احمد کا خیال ہے کہ:
’’شاعری کی حقیقی قدر و قیمت کا تعین صرف اس امر سے نہیں ہوتا کہ ہم نے زندگی یا انسان کا کون سا تصور اپنے ذہن میں قائم کیا ہے، یہ بات بھی دیکھنے کی ہوتی ہے کہ ہم نے اس تصور کو زندگی کے ٹھوس تجربات سے ٹکرا کر دیکھا ہے یا نہیں‘‘۔
ساحر کا تصور حیات یا رویائے زیست ٹھوس تجربات پر ہی محیط ہے:
دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں
جو کچھ مجھے دیا ہے، وہ لوٹا رہا ہوں میں
ساحر کے تمام تر تصورات، تجربات پر ہی مبنی ہیں اور یہ تجربات ایک حساس فنکار کے ساتھ ساتھ اس انسانی وجود کے ہیں ،جو صدیوں سے صلیب پہ لٹکا ہوا ہے اور اذیت جس کی تقدیر ہے، تلخیاں جس کے شب و روز کا منظر نامہ ہے۔ساحر کے تصور اور تجربے میں گہری مماثلت ہے، ان کا تصور بھی عظیم ہے اور تجربہ بھی وسیع۔
’’شاعر کا تجربہ جتنا گہرا اور ہمہ گیر ہوگا، اتنا ہی زیادہ اس میں متاثر کرنے کی صلاحیت ہوگی‘‘151 فیض احمد فیض
مگر پھر ایک سوال ہے کہ کیا تجربے کی گہرائی اور ہمہ گیری، کسی شاعر کو عظیم بناسکتی ہے ۔ وارث علوی کا خیال ہے کہ:
’’وہ فن کار ،جس کے تجربات کا دائرہ وسیع ہو، لازمی طور پر بڑا فن کار نہیں بنتا، تجربات کی کثرت اور رنگارنگی کسی فنکار کے فن کی صفت ہوسکتی ہے، قدر نہیں، ذاتی تجربات کا دائرہ محدود ہونے کے باوجود فن کار بڑا فن تخلیق کرسکتا ہے‘‘۔
(۲)
قولِ ثانی بھی ساحر کی تخلیقی عظمت کے حق میں ہے کہ ساحر نے انسانی احساس کے دائرے کو وسیع کیا ہے۔ ساحر کے احساس کا رشتہ مختلف زمانوں اور عوالم سے ہے۔ ماضی، حال اور مستقبل تینوں زمانے ان کے احساس سے مربوط ہیں اور وہ چاروں عوالم ،جو حقیقت کی منزلیں ہیں، ناسوت ،ملکوت، جبروت اور لاہوت، وہ شعوری یا لاشعوری طور پر ان کے احساس کا حصہ ہیں۔ متحرک اور مضطرب احسا س کی پوری کائنات ان کی تخلیق میں سانس لیتی نظر آتی ہے، ان کے معموۂ احساس میں ایک حشر سا برپا ہے، ان کی سائیکی اور شعور میں تموج و تلاطم ہے؛ اسی لیے وہ آشفتہ شاعر کبھی صبح کے دامن میں عکسِ شام کی جستجو کرتا ہے، کبھی پردۂ شب کو چاک کرنے کی بات کرتا ہے اور کبھی یہ سوچتا ہے کہ :
میری راتو ں کے مقدر میں سحر ہے کہ نہیں
ذہن ہمہ وقت تصادم، کشاکش اور تناؤ سے گزرتا ہے، کہیں خوف اور خواب کا تصادم ہے، کہیں جنگ اور امن، کہیں طبقاتی نظام، کہیں صارفیت، کہیں زرعی اور صنعتی تمدن کی کشمکش۔ ساحرنے متضاد اور متعارض احساسات کو اپنی شاعری میں ڈھالا اور احساس کی غیر مرئی اور غیر متشکل صورتوں سے بھی عوام کو روشناس کرایا، وہ احساس ،جو ذہن کے کسی خلیے میں گردش کرتے رہتے ہیں، مگر انہیں اظہار کی راہ نہیں ملتی، ساحر نے اس داخلی احساس کی تمام تر صورتوں کو شاعری کی شکل عطا کی اور یہی شاعر کا منصب ہے۔
’’بظاہر شاعر انہیں کچھ نہیں دیتا ؛لیکن بباطن یعنی شعر کے پردے میں ان کی داخلی زندگی کے تمام زخموں کو مندمل کردیتا ہے، شاعرانہیں زندگی کا نسخہ دیتا ہے، ان کے انتشار کو ہم آہنگی میں بدل دیتا ہے۔ ان کے کرخت تجربوں کو مترنم بنادیتا ہے،ان کے ذہن کی دھندلی تصویروں کو واضح کردیتا ہے، شاعری میں ہماری زندگی کے گرد آلود تجربے اپنے حقیقی خط و خال سے روشناس ہوتے ہیں۔‘‘ فراق گورکھپوری
ساحر نے بھی دنیا کو بہت کچھ دیا اور اگر کچھ نہ بھی دیا ہو، تو خواب ضرور دیے ہیں، وہ خواب، جو تعمیرِ کائنات کے لیے ضروری ہیں اور علوِ انسانیت کے لیے لازمی، ’خواب‘ ساحر کی شاعری کا ’اسم اعظم‘ ہے، خواب میں تبدیلیِ کائنات کی بڑی قوت پنہاں ہوتی ہے، خوابو ں کی روشنی سے ہی دنیا کے اندھیرے ختم ہوں گے، اگر یہ خواب بھی مرگئے تو کائنات ایک بے کیف، بنجر ویرانے میں تبدیل ہوجائے گی۔
ساحر کو خواب میں پنہاں اور تغیر تبدیلی کی قوت کا بھرپور احساس تھا، اسی لیے خواب کی عظمت و معنویت کو اس طرح روشن کیا:
یہ خواب ہی تو اپنی جوانی کے پاس تھے
یہ خواب ہی تو اپنے عمل کی اساس تھے
یہ خواب مرگئے ہیں تو بے رنگ ہے حیات
یوں ہے کہ جیسے دست تہ سنگ ہے حیات
ساحر کے خواب بھی آفاقی ہیں۔ اقتصادی آزادی، امن، انصاف اور مساوات کے خواب، نسلِ انسانی کی بقا کے خواب اور شاید اسی خواب میں ان کے خیال کی عظمت کا راز بھی پنہاں ہے۔ بقول محمد حسن عسکری:
’’خیالات و احساسات کی افادیت جانچنے کے لیے کوئی مجرد اور مطلق معیار کام نہیں دے گا؛ بلکہ ان کا صرف ایک پیمانہ ہے کہ یہ خیالات نسلِ انسانی کی بقا میں کس حد تک معاون ہوسکتے ہیں؟‘‘
ساحر کی طویل نظم ’پرچھائیاں‘ پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ساحر کے خیالات نسلِ انسانی کی بقا کے لیے نہایت مفید اور معاون ہیں۔ خود ساحر نے لکھا ہے کہ:
’’ہر نوجوان نسل کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ ا سے جو دنیا اپنے بزرگوں سے ورثے میں ملی ہے، وہ آئندہ نسلوں کو اس سے بہتراور خوب صورت دنیا دے کر جائے، میری یہ نظم اس کوشش کا ادبی روپ ہے۔‘‘
نسل انسانی کی بقاکا شدید احساس نہ ہوتا ،تو ساحر یوں نہ کہتے:
ہمارا خون امانت ہے نسلِ نو کے لیے
ہمارے خون پہ لشکر نہ پل سکیں گے کبھی
کہو کہ آج بھی ہم سب اگر خموش رہے
تو اس دمکتے ہوئے خاکداں کی خیر نہیں
جنوں کی ڈھالی ہوئی ایٹمی بلاؤں سے
زمیں کی خیر نہیں، آسماں کی خیر نہیں
گزشتہ جنگ میں گھر ہی جلے ،مگر اس بار
عجب نہیں کہ یہ تنہائیاں بھی جل جائیں
گزشتہ جنگ میں پیکر جلے ،مگر اس بار
عجب نہیں کہ یہ پرچھائیاں بھی جل جائیں
اسی خوف نے ساحر کو خواب بننے کے لیے مہمیز کیا:
آؤ کہ کوئی خواب بنیں، کل کے واسطے
ورنہ یہ رات، آج کے سنگین دور کی
ڈس لے گی جان و دل کو کچھ ایسے کہ جان و دل
تاعمر پھر نہ کوئی حسیں خواب بن سکیں
خوف اور خواب کی کشمکش نے ساحر کی شاعری کو ایک نیا زاویہ عطا کیا ہے او ر یہ بھی ساحر کا ’نشانِ انفراد‘ ہے۔
(۳)
قولِ ثالث بھی ساحر کی عظمت کے گراف کو بلند کرتا ہے ؛کیونکہ ساحر کی شاعری ’ عرفانِ حقیقت‘ میں بھی معاون ہے۔ ساحر نے جس طرح حقیقتوں کا عرفان حاصل کیا ہے، ویسا بہت کم شاعروں کو نصیب ہوا ہے، ساحر نے حقائق کو متقارب اور متعارض دونوں صورتو ں میں محسوس کیا ہے کہ یہ کائنات بنیادی طور پر متضادات، متعادیات اور متبائنات کا مجموعہ ہے، حقیقتیں بھی متضاد شکلوں میں منکشف ہوتی ہیں،ساحر نے حیات و کائنات کی حقیقتوں کی جستجو کی ہے اور پھر متضاد حقیقتوں کے امتزاج سے ایک تصور کو تشکیل کیا ہے، ظلمت میں نور، سادگی میں عیاری ، جنگ میں امن، محبت میں نفرت اور اس طرح کے تنوع و تضاد سے شعری تعبیرات تلاش کی ہیں۔
عرفانِ حقیقت کا عکس ساحر کی بہت سی نظموں میں ہے اور یہ سچ ہے کہ ساحر کی نگاہ میں حقیقت زیادہ واضح انداز میں روشن ہوئی ہے،بغیر کسی ابہام و اسہال کے:
علم سولی پہ چڑھاتب کہیں تخمینہ بنا
زہر صدیوں نے پیا تب کہیں نوشینہ بنا
سینکڑوں پاؤں کٹے تب کہیں اک زینہ بنا
۰۰۰
مرے جہاں میں سمن زار ڈھونڈنے والے
یہاں بہار نہیں آتشیں بگولے ہیں
دھنک کے رنگ نہیں سرمئی فضاؤں میں
افق سے تا بہ افق پھانسیوں کے جھولے ہیں
۰۰۰
بنام امن ہیں جنگ و جدل کے منصوبے
بہ شورِ عدل، تفاوت کے کارخانے ہیں
ساحر نے فلسفہ کی پرپیچ راہوں میں الجھے بغیر حقیقت کا عرفان حاصل کیا اور اسے اپنے شعری احساس و آہنگ میں شامل کرکے ان انسانوں کو حیات و کائنات کے اسرار سے آشنا کیا، جن کے لیے ’عرفانِ حقیقت‘ کی منزل شاید ہی کبھی روشن ہوپاتی، ساحر نے حیات و کائنات کی کلیت میں حقیقت کو تلاش کرلیا اور حقیقت بس اتنی سی ہے کہ :
راستہ منزلِ ہستی کا مہیب آج بھی ہے
ساحر نے نہ صرف منزل ہستی کا راستہ دریافت کیا؛ بلکہ انسانوں کے داخلی مسائل کا حل بھی ڈ ھونڈ نکالا کہ:
’’زندگی کے خارجی مسائل کا حل شاعری نہیں ؛لیکن وہ داخلی مسائل کا حل ضرور ہے‘‘151 فراق گورکھپوری
ساحر لدھیانوی کی شاعری میں انسانی وجود کو داخلی بحران کی تمام تر شکلوں سے آگاہ کرنے او ران سے نجات دلانے کی کوشش کار فرما ہے۔ اے شریف انسانو! ،خون پھر خون ہے، مگر ظلم کے خلاف، ایسی ہی نظمیں ہیں، جن میں ساحر نے انسانیت سے ہم آہنگ ادب کی تشکیل کی ہے اور انفرادیت پر اجتماعیت کو ترجیح دی ہے اور یہی ’اجتماعیت‘ کا انفرادی تصور ان کی تخلیقی عظمت کا ایک اور روشن حوالہ بن جاتا ہے۔
Cell:9891726444
E-mail:haqqanialqasmi@gmail.com

لنچ فائلس:کشتگانِ نفرت کی دلخراش داستان


مؤلف : ضیاء السلام
اشاعت:سیج پبلی کیشن،نئی دہلی
صفحات : ۱۹۲
قیمت: ۴۵۰روپے
تبصرہ:فیصل نذیر(ریسرچ سکالر جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی)
انگریزی کے مشہور صحافی ضیاء السلام کی یہ کتاب محض ایک کتاب نہیں؛ بلکہ ایک دستاویز اور آئینہ ہے۔ اس کتاب کے مطالعے کے دوران قاری کئی متضاد احساسات و جذبات سے گذرتا ہے،کبھی رنج و غم سے دل بھرجائے گا، تو کبھی یاس وناامیدی دامن گیرہوجائے گی، کبھی غصے اور انتقام کے جذبات غالب ہوں گے؛ لیکن اخیرمیں امید کی کرن بھی دکھائی دے گی۔ضیاء السلام نے بڑی محنت وجاں فشانی اور عرق ریزی کے ساتھ یہ کتاب لکھی اور بعض متاثرین ومجرموں سے خود انٹرویو لیا ہے۔ اس کتاب کا مقدمہ گجرات کے مشہور دلت لیڈر جگنیش میوانی نے لکھا ہے۔ اس کتاب میں ان حادثات کا بھی ذکرہے، جنھیں وہ قوم بھی نہیں جانتی، جس کے خلاف یہ حملے زیادہ تر کیے جارے ہیں۔
ضیاء اپنی کتاب میں لنچنگ لفظ(ہجومی تشدد) کی تاریخ اور پسِ منظر بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ لفظ سب سے پہلے امریکہ میں استعمال میں آیا، جب سیاہ فام غلاموں نے آزادی طلب کی ،تو تقریبا ۲۴۰۰؍ سیاہ فام امریکیوں کو سفید فام امریکیوں نے مار ڈالا؛ لیکن سر زمینِ ہندوستان میں اس لفظ کا استعمال موجودہ حکومت کے آنے کے بعد لوگوں کی سماعت میں آیا اور موضوعِ بحث بنا۔ ضیا ء نے جس درد کے ساتھ اخلاق کی شہادت کے واقعے کو بیان کیا ہے اور خاص کر جب یہ بتایا ہے کہ کس طرح ان کے گھر والوں پر ہی کیس کر دیا گیا، ان کے فریج کی پولس نے تلاشی لی اور مرحوم اخلاق پر بھی گائے ذبح کرنے کا مقدمہ لگایا گیا، ایسے ہی جب ضیاء السلام ہجومی تشدد کے شکار ہوئے افرازل کے بیوہ کی کہانی بتاتے ہیں کہ وہ ڈیتھ سرٹیفکٹ کے لیے در در بھٹک رہی تھی؛ تا کہ اس کے اکاؤنٹ کا پیسہ ان کے گھر والے استعمال کر سکیں ، ایسے ہی دیگر داستانِ درد و الم ،جہاں مقتول کے اہل خانہ کوہی مجرم بنا دیا گیا ،تو عامر عثمانی بہت یاد آئے:
کیوں ہوئے قتل ہم پر یہ الزام ہے، قتل جس نے کیا ،ہے وہی مدعی
قاضیِ وقت نے فیصلہ دے دیا ، لاش کو نذرِ زنداں کیا جائے گا
اب عدالت میں یہ بحث چھڑنے کو ہے، یہ جو قاتل کو تھوڑی سی زحمت ہوئی
یہ جو خنجر میں ہلکا سا خم آگیا ، اس کا تاوان کس سے لیا جائے گا؟!
مصنف کہتے ہیں کہ فرقہ وارانہ فسادات اب پرانے ہتھیار ہوچکے ہیں اور اس کے متبادل کے طور پر ہجومی تشدد کا طریقہ ایجاد کیا گیا ہے؛کیونکہ ہجوم کو مکمل طور پر سزا نہیں دی جاسکتی اور ہجوم کا کوئی چہرا نہیں ہوتااور پولس اسے ایک بھیڑ اور جذباتیت سے پرُ چند نوجوانوں کی بدمعاشی بتا کر معاملہ رفع دفع کر دیتی ہے ، ساتھ ہی مقامی نیتاؤں اور لیڈروں کی سرپرستی بھی اس کیس کو ہلکا کر دیتی ہے اور ہجومی تشدد کے شکار شخص کی مسخ شدہ لاشیں مسلم قوم کے وجود کوہلا کر رکھ دیتی ہیں، یہ واقعات جس طرح مسلمانوں میں خوف کی نفسیات پیدا کرتے ہیں وہ اور کوئی طریقہ نہیں کرتا۔
ضیاء صاحب کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس طرح کے واقعات اکثریت کو ایک طرح کا سکون عطا کرتے ہیں اور اس طرح کی ہلڑ بازی سے وہ وہی پیغام دینا چاہتے ہیں ،جو ان کے لیڈر گولوالکر نے کہا ہے کہ’’ اگر غیر ملکیوں (مسلمانوں اور عیسائیوں) کو اس ملک میں رہنا ہے، تو انہیں اکثریتی فرقہ کے رحم و کرم پر رہنا ہوگا اور اپنے کلچر کو فرموش کر کے اسی میں گھل مل جانا ہوگا‘‘۔
مصنف نے اس کتاب کو کل ۵؍ حصوں میں تقسیم کیا ہے اور وہ ان حصوں کو باب یا فصل کہنے کے بجائے ’’فائل‘‘کا عنوان دیتے ہیں، دوسری فائل، جس کا عنوان ہے ’’ کیا مسلمانوں کو نشانہ بنانا آسان ہے؟‘‘ ،یہ سب سے طویل فائل ہے اور مصنف نے بالتفصیل ہر واقعے کوبیان کیا ہے، کچھ واقعات پڑھ کر کلیجہ منہ کو آجاتا ہے اور ہیبت طاری ہو جاتی ہے اور دنیا کی سب سے عظیم جمہوریت کا ہندوستان کا دعوی کھوکھلا معلوم ہوتاہے۔
اس کرب و اندوہ سے صاحبِ کتاب نے تعصب پرست بھیڑ کے ذریعے حافظ جنید کی شہادت کا ذکر کیا ہے کہ ہر دلِ درد مند رکھنے والا اشکبار ہوجائے گا ،عید سے چند روز قبل تراویح کے پیسے سے خریداری کرنے دہلی آئے جنید کی چلتی ٹرین میں جان لے لی گئی اور صد افسوس کہ کسی نے بھی اس حادثے کو روکنے کی کوشش تک نہیں کی، جبکہ ٹرین لوگوں سے بھری ہوئی تھی،بزبان عنایت علی خان:
حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا
لوگ ٹھہرے نہیں حادثہ دیکھ کر
ایک اور دل دہلا دینے والا واقعہ، جس میں جھارکھنڈ کے مرحوم علیم الدین انصاری کی جان لے لی گئی، وہ گھر سے کچھ سامان لینے نکلے تھے کہ بھیڑ نے انہیں چارو ں طرف سے گھیر لیا اور انہیں بے تحاشا مارنے لگے ،پھر اس پورے واقعے کی ویڈیو بنا کر انٹر نیٹ اور واٹس اپ گروپ پر بڑی تعداد میں لوگ ادھر اُدھر بھیجنے لگے ، حتی کہ وہ ویڈیو علیم الدین انصاری کے۱۶ ؍سالہ بیٹے شہباز کے فون میں بھی آئی ، اس نے جب اس ویڈیو کو دیکھا ،تو اس کے پیروں تلے سے زمین کھسک گئی کہ ویڈیو میں ہجومی بربریت کا شکار ہورہا شخص کوئی اور نہیں،اس کے والد صاحب ہیں، جو ابھی کچھ دیر قبل گاڑی سے گئے تھے ، وہ بدحواسی کے عالم میں گھر سے بڑے بھائی کو ساتھ لے کر سڑک پر پہنچا، تو دیکھا کہ ان کی گاڑی جلی ہوئی حالت میں الٹی پڑی ہے اور سڑک پر خون کے نشانات موجود ہیں۔ وہ جلدی سے ہاسپیٹل گئے، تو وہاں ان کی لاش تھما دی گئی۔
غرضیکہ یہ کتاب اس طرح کے دہشت ناک واقعات سے بھری پڑی ہے۔ ایسے معاملوں میں مجرموں کی گرفتاری کے دو تین گھنٹوں کے اندر ہی انھیں بیل مل جاتی ہے اور ہجومی تشدد میں اموات کے۸۸؍ شرمناک واقعات کے باوجود اب تک باضابطہ ایک بھی معاملے میں کسی کو سزا نہیں سنائی گئی۔ پھریہ کہ اس طرح کے واقعات صرف مسلمانوں کے ساتھ ہی پیش نہیں آرہے ہیں ؛بلکہ متاثرین میں دلتوں کی بھی ایک بڑی تعداد ہے۔
ضیاء السلام کی اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ اس میں صرف پولس کے یک طرفہ اور جانبدارانہ رویے کا ہی ذکر نہیں ہے ؛بلکہ ان کی بہادری اور ایمانداری کا بھی ذکر ملتا ہے، جیسا کہ گریڈیہہ، جھاڑ کھنڈمیں پولس نے بر وقت موقعِ واردات پر پہنچ کر عثمان انصاری کی جان بچائی اور اسے ہاسپیٹل پہنچایا اوروہ جب عثمان کو پولس جیب میں لے کر جانے لگے ،تو ہجوم نے پتھر پھینکنا شروع کر دیا، اس کے باوجود پولس نے بہادری کا مظاہرہ کیا اور ان لوگوں کے خلاف سخت کیس بھی بنایا۔
اس کتاب کے آخری باب میں ضیاء السلام نے سپریم کورٹ کی تعریف کی ہے اور جس طرح کے اقدامات جوڈیشری کی جانب سے کئے گئے اور بعض دفعہ کورٹ نے ہی صوبائی حکومتوں کو معاوضہ دینے کو کہا،اس یہ یقین پختہ ہوتا ہے کہ جوڈیشری ہی ہمارے لیے امید کی آخری کرن ہے۔ ضیاء السلام کی یہ کتاب ایک مثبت اختتام کے ساتھ آئین کی فکر کرنے والے تمام ہندوستانیوں کو دعوتِ فکر وبحث دیتی ہے۔اپنی معنویت،موضوع کی حساسیت اور مؤلفِ کتاب کی دردمندی اور ملکی سالمیت و جمہوری ڈھانچے کے تئیں ان کی فکر مندی کا تقاضا ہے کہ یہ کتاب ہرہندوستانی پڑھیں،کتاب کی طباعت عمدہ اور معیاری ہے اورزبان انگریزی ہے، اردو داں حضرات کے لیے اگراس کتاب کا ترجمہ ہوجائے ،تو افادیت کا دائرہ مزید وسیع ہو جائے گا۔

مفکرقوم وملّت حضرت مولانا اسرار الحق قاسمیؒ کوسچاخراج عقیدت

نام کتاب: مفکر قوم وملت حضرت مولانا اسرار الحق قاسمیؒ:
جادہ بہ جادہ ،منزل بہ منزل
ترتیب: نایاب حسن قاسمی
صفحات: 304 قیمت:300؍روپئے
ناشر: مرکزی پبلی کیشنز،نئی دہلی(موبائیل:9811794822)
تبصرہ: شکیل رشید (ایڈیٹرروزنامہ ممبئی اردونیوز)
حضرت مولانا اسرار الحق قاسمیؒ بلاشبہ’مفکّرقوم وملّت ‘تھے اس لیے مولانامرحوم کی شخصیت اورخدمات پر’ترجمان جمعیۃ اور قندیل ڈاٹ اِن ‘کی مشترکہ خصوصی اشاعت میں مولانا مرحوم کو اس خطاب سے یادکرنا بلاشبہ انہیں سچا خراجِ عقیدت ہے۔مرکزی پبلی کیشنز‘نئی دہلی کے زیراہتمام مولانا مرحومؒ کی شخصیت اورخدمات پر مشتمل یہ کتاب بقول مرتب نایاب حسن قاسمی’’کسی بہت ہی منظم منصوبہ بندی کانتیجہ نہیں ہے،یہ دراصل مولانا مرحوم ومغفور کے تئیں ہماری محبت وعقیدت اوران کی قدرشناسی کے جذبات کے اظہار کاایک حقیر سا نمونہ ہے اوریہ نمونہ بھی ان لوگوں کے قیمتی تاثرات اور تحریری اظہار خیالات کی بہ دولت سامنے آسکا ہے،جنہوں نے مولانا کی وفات کے فوراً بعد بہت بڑی تعداد میں مختلف فورمزپرلکھ کران کے تئیں اپنی عقیدت ومحبت کااظہار کیا اورہم نے ان کی تحریروں کو یکجاکرکے مرتب کرنے کافیصلہ کیا۔‘‘
نایاب حسن قاسمی کا تمام تحریروں کو یکجا کرکے مرتب کرنے کافیصلہ بھی غلط نہیں ہے،ماناکہ یہ مضامین تاثراتی ہیں اوران کے ذریعے مولانامرحومؒ کی شخصیت اورخدمات کے تمام پہلو سامنے نہیں آپاتے؛ لیکن ان مضامین کی اہمیت اس معنی میں دوچند ہوجاتی ہے کہ یہ بقول مرتب’’مضمون نگاروں کے ذاتی تجربات مشاہدات پر مبنی ہیں۔‘‘اوراسی لیے’’ہر مضمون میں یک گونہ انفرادیت پیدا ہو گئی ہے۔‘‘یہ’انفرادیت‘ہی ہے،جو اس کتاب کومولانامرحومؒ پر شائع ہونے والی دوسری کتابوں سے ہمیشہ ممتاز رکھے گی۔مرتب نے کوشش کی ہے کہ مولانا کے ذاتی حالات اورسانحات ان مضامین میں آجائیں۔خود مرتب یعنی نایاب حسن قاسمی نے’نظرات’ کے تحت ’آنکھ حیران ہے کیا شخص زمانے سے اٹھا!‘عنوان سے مولانا مرحومؒ سے اپنے تعلق کاذکر کرتے ہوئے ان کی ذاتی زندگی اوران کے انداز واطوار کا جو نقشہ اورسراپاکھینچا ہے،مولانامرحومؒ پر کسی وقیع علمی تحریر میں بھی شاید وہ نقشہ اورسراپا کھنچا ہوا نظرنہ آسکے۔چند سطریں ملاحظہ کریں:’’پہلی مرتبہ ان کوسننے کے تجربے نے جہاں ان کی خطابی صلاحیتوں کاقائل کیا،وہیں ان کاانوکھا سراپابھی میرے لیے کچھ عجیب خیال انگیزتھا،وہ معمولی سفیدکرتاپائجامہ میں ملبوس تھے اورشانے پر سفیدرومال لٹکایاہواتھا،یہ ان کاایک مخصوص انداز تھا،رفتار واطوار میں شرافت وسادگی اوربے ریائی نے مجھےغیرمعمولی طور پر متاثرکیا۔‘‘
طلاقِ ثلاثہ بِل پر بحث کے دوران لوک سبھا میں چونکہ مولانامرحومؒ اپنی رائے نہیں رکھ سکے تھے اس لیے وہ سوشل میڈیاپرہدفِ تنقیدبنے تھے،اس تعلق سے نایاب حسن قاسمی ایک جگہ لکھتے ہیں’’جب وہ ایک ملک گیر ملّی ادارے کے جنرل سکریٹری ہوتے تھے اوراس کے پلیٹ فارم سے شہروں،قریوں،دیہاتوں کے چکرلگاتے،مسلمانوں کے ٹوٹتے بکھرتے حوصلو ں کو یکجاکرتے،آفت زدہ انسانوں کے لیے اسبابِ خوردونوش مہیا کرتے،تب کبھی کبھی ایسی نوبت آجاتی کہ خودا ن کے پاس کھانے کاپیسہ نہیں ہوتاتھا‘مگروہ ذاتی حالات سے بے پروااپنی دھن میں مگن رہتے اورایک یہ دن تھاکہ اسی ملک کے مسلمان محض ایک سیاسی پروپیگنڈے اورفتنہ انگیزمفروضے کے زیرِ اثران کی ماضی کی تمام خدمتوں کو یکسرفراموش کرکے ان کی ذا ت کو طعن وطنز اوردشنام واتہام کی اَنیوں پراچھال رہے تھے،مولاناکےچہرے پر بے چارگی عیاں تھی۔‘‘نایاب حسن قاسمی کی یہ تحریر بھلے تاثراتی ہو مگرمولانامرحومؒ کی شخصیت پر اپنی جگہ ایک جامع تحریر ہے۔
کتاب میں مجموعی طورپر۶۵مضامین ہیں۔لکھنے والوں میںکوئی ایسا نام نہیں ہے جسے معمولی کہا جاسکے۔مولاناسعودعالم ندوی ازہری ،مولانا افتخار حسین مدنی،مولانا نوشیر احمد(یہ مولانا مرحومؒ کے سکریٹری رہے ہیں)،مولانا محمداسلام قاسمی،مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی ،پروفیسر اخترالواسع،محموداحمد خاں دریابادی،حقانی القاسمی ،زین شمسی،مولانا محمد شاہد الناصری الحنفی،سہیل انجم،مسعودجاوید،شاہنواز بدرقاسمی غرضیکہ لکھنے والوں کی فہرست میں ہر وہ نام شامل ہے جس کا مولانامرحومؒ سے ذاتی تعلق تھا۔ان مضامین میں جہاں مولانا مرحومؒ کی ملی خدمات اورعلمی وعملی کارناموں کاذکر کیاگیا ہےوہیں قوم وملت کے لیے انکی فکر اجاگرکی گئی ہے،ان کی سادگی پر روشنی ڈالی گئی ہے،ان کی جدوجہد کے واقعات بیان کیے گئے ہیں‘ان کی صحافتی زندگی کو پیش کیاگیاہے،کشن گنج کے رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے انہوں نے جوکام کیے وہ سامنے لائے گئے ہیں اوریہ بتایاگیا ہے کہ وہ اسلام اورمسلمانوں کے سچے ترجمان تھے،شریعت پر یااسلام پر یامسلمانوں پر کوئی انگلی اٹھی نہیں کوئی آفت آئی نہیں کہ مولانا مرحومؒ جواب دینے کے لیے تڑپ اٹھتے تھے۔بتایاگیا ہے کہ کیسے مولانا مسلمانوں کی تعلیمی اورسماجی پسماندگی دورکرنے کے لیے عملی جدوجہد کرتے تھے اورکیسے انتظامیہ پر دباؤڈال کر کام کرواتے تھے۔غرضیکہ یہ مضامین مولانامرحومؒ کی زندگی اوران کی خدمات پربھرپورروشنی ڈالتے ہیں۔کتاب کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس میں مولانا مرحومؒ کی ملی جدوجہد اورسماجی وتعلیمی خدمات کا تصویری البم شامل ہے….اورمنظوم تاثرات،تعزیتی پیغامات،خطوط اوراخباری رپورٹوںپر بھی ایک گوشہ مختص ہے۔مرتب نایاب حسن قاسمی اورادارۂ تحریر فیروزاختر قاسمی،عبدالباری قاسمی اورابواللیث قاسمی کایہ حضرت مولانا اسرار الحق قاسمیؒ کو ایک سچا خراج عقیدت ہے۔