انشائیہ

now browsing by category

 

دشمنی بھی کیا بیماری ہے!

زبیر حسن شیخ
شاید ہی کوئی انسان ہوگا ،جس نے لفظِ’’ دشمنی‘‘ کا ذائقہ نہ چکھا ہو اور اس احساس یا جذبے سے زندگی بھر مبرا رہا ہو،دشمنی کی یوں توبے شمار قسمیں ہیں ؛لیکن دو احمقانہ؛ بلکہ خطرناک دشمنیاں ہیں اور جو ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، ایک وہ دشمنی، جو انسان اپنے خالق سے اور دوسری خود اپنی ذات سے کرتا ہے، ورنہ عموماً انسان کا دشمن دوسرا انسان ہی واقع ہوا ہے، جبکہ اہلِ دانش انسانی دشمنیوں کو انسان کی برائی سے منسوب کرتے ہیں ،ناکہ خود انسان سے؛ بلکہ کبھی کبھی تو اچھائی اور اچھے اوصاف بھی دشمن قرار دیے جاتے ہیں اور اسی لئے کبھی کسی کی دولت ،تو کبھی کسی کی وجاہت یا حسن، ملکیت، امارت، لیاقت، زبان، الفاظ اور افکار بھی دشمن بن جاتے ہیں، انسان کے اپنے اور دوسروں کے بھی۔شیفتہ کہتے ہیں کہ ہر ایک دشمنی کے پس پشت ایک ازلی طاقت ہے، جسے شیطان کہتے ہیں ،جو خود اپنا دشمن ہو گیا تھا اور پھر انسان کا؛ بلکہ یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ اسے انسان سے اللہ واسطے کا بیر ہوگیا، گرچہ ظالم باوجود تکبر کے بات بات پر اپنے رب کی عزت کی قسم کھاتا تھا، بس مٹی کے انسان کی تکریم اسے کسی طور منظور نہ ہوئی اور دشمنی منظور ہوئی؛لیکن بقراط کہتے ہیں کہ دشمنی اکثر و بیشتر جرائم اور گناہ کا باعث ہوتی ہے اور شیطان کی دشمنی اس کارخانۂ حیات میں ثابت نہیں کی جاسکتی؛ بلکہ انسانی عدالت میں تو بالکل بھی نہیں؛ اس لئے صرف انسانی دشمنی پر بات کرنی چاہیے۔
شیفتہ کے مطابق تہذیبِ جدید میں کچھ اور دشمنیاں بھی عام ہیں ،جیسے سیاسی دشمنیاں، جو عالمی سیاست میں سانپ اور نیولے کی دشمنی کی مانند جاری ہیں،کہتے ہیں کہ عقلمند دشمن جاہل دوست سے بہتر ہوتا ہے، لیجیے! دشمنی بھی دانشمندانہ اور جاہلانہ ہوسکتی ہے؛ بلکہ عقلمندوں کو بھی جاہلانہ دشمنی میں مبتلا پایا گیا ہے، دشمنی کسی عقلمند کو بھی جاہل بنا سکتی ہے؛بلکہ پاگل بھی اور کسی پاگل کو دشمنِ زمانہ بھی، ہم نے پوچھا مثلاً؟ تو کہا امریکہ سے ہند تک سیاست کے پاگل خانے میں جھانک کر دیکھ لیجیے، دو تو سر فہرست ہیں اور میڈیا کے چڑیا گھر میں اکثر نظر بھی آتے رہتے ہیں،کہا: ویسے آج کل سیاسی دشمنی سے زیادہ مکاتبِ افکار کی دشمنیوں کے بڑے چرچے ہیں، ان میں ایک دشمنیِ بے جا بھی ہوتی ہے اور جو اعتقاد اور نظریہ کے اختلاف سے پیدا ہوتی ہے، جس کے لئے ایک نئی کہاوت ایجاد کی جاسکتی ہے کہ شیروں کی کہانی سن کر کوے لگیں کائیں کائیں کرنے ۔ بر صغیری صاحب بھی اس بیچ کود پڑے اور کہنے لگے :دیکھیے جناب! ساری دشمنی کی جڑ امریکہ ہے اور کولمبس نے ایک دنیا کے ساتھ دشمنی کی ہے، بہت شاطر دشمن تھا، جسے پتا تھا آنے والے دور میں کوئی نہ کوئی امریکی بش اور ٹرمپ کی شکل میں نمودار ہوگا اور کولمبس کی سمندری مہم میں اسکی شیطان سے ملاقات اور اسکی شاگردی کے ثبوت ملتے ہیں، جسے اہل وینزویلا نے حالیہ دنوں میں دریافت کیا ہے، روس اور چین کی مدد سے۔ یہ کہہ کر بر صغیری بہت دیر تک ہنستے رہے، خود پر اور امریکہ پر بھی، الغرض دشمنی جیسے پیچیدہ موضوع کو ظرافت کا رنگ دے دیا گیا کہ ادب کا تقاضہ یہی تھا۔
اردو ادب نے دشمنی کو عداوت و رقابت سے تعبیر کرتے ہوئے لفظِ دشمن کے علاوہ عدو اور رقیب کو بھی مستعمل کیا اور دشمنی میں مختلف رنگ بھردیے، ویسے بھی سیاسی اور معاشی ادب دشمنی کو لے کر لال پیلے ہوتے رہتے ہیں اور صحافتی ادب کو سال کے بارہ ماہ سرخ و سیاہ کرتے رہتے ہیں، جو آجکل میڈیا میں سستی تفریح کا ذریعہ ہے، اب رہا تفریحی ادب، تو جمالیاتی شاعری میں دشمنی کا ایک ہی رنگ رہا ہے اور وہ ہے رقیبِ رو سیاہ، اس کے علاوہ اردو کلاسیکی شاعری نے ملاؤں کو اور زاہدوں کو بھی اپنا دشمن بنا کر رکھا تھا۔ میر و مرزا سے جوش و فراق؛ بلکہ فیض و فراز تک سبھی نے اس دشمنی کو خوبصورتی سے نبھایا،انگریزی ادب و شاعری میں بھی دشمنی کچھ مختلف نہیں تھی، شیکسپیئر کہتا ہے :چلتے چلو اے تند اور سرد ہواؤں کہ تم اتنی تکلیف دہ اور بے رحم نہیں ہو جتنا انسان دوسرے انسان کے لئے واقع ہوا ہے۔ انسان کا سب سے بڑا دشمن انسان ہے؛ بلکہ انگریزی کے مختلف شعرائے کرام نے انسان اور خاص کر عورت کو عورت کا دشمن مانا ہے، جبکہ ملٹن نے‘‘گم گشتہ جنت’’میں آدم و ہوا کے باغ بہشت سے نکالے جانے کا ذمے دار شیطان کو مان کر اسے انسان کا ازلی دشمن قرار دیا، دیگر انگریزی شعرا نے دوست کی غداری اور دشمنی کو موضوع بنایا اردو شاعری میں ترقی پسند شعرائے کرام نے جہاں اپنی آئیڈیالوجی کے سوا ہر ایک سے شاعری میں دشمنی کی، تو رجعت پسندوں نے تصوراتی رقیب سے اور رہے جدت پسند ،تو تشبہ اور استعارات کا سہارا لے کر کسی کو نہیں بخشا؛ بلکہ دوستوں کی دشمنی کو اسقدر اجاگر کیا کہ خوف آنے لگا کہیں اردو ادب کا دوستی سے بھروسہ نہ اٹھ جائے۔ الغرض اردو شاعری میں بھی دوستوں کی دشمنی کو خوب ہدف بنایا گیا، غالب کہتے ہیں:
یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے؟
ہوئے تم دوست جس کے ،دشمن اس کا آسماں کیوں ہو
بلکہ وہ تو جنونِ عشق کو زندگی کے سر و سامان کا دشمن مانتے ہیں :
شوق ہر رنگ، رقیب سر و ساماں نکلا
میر تو معشوق اور رقیب دونوں سے نالاں رہے کہ:
کب تھی جرأت رقیب کی اتنی
تم نے بھی کچھ کیا تغافل سا
پروین شاکر کا کہنا ہے:
دشمنوں کے ساتھ میرے دوست بھی آزاد ہیں
دیکھنا ہے کھینچتا ہے مجھ پہ پہلا تیر کون
حبیب جالب کا ماننا ہے:
دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے
دوستوں نے بھی کیا کمی کی ہے
خمار فرماتے ہیں:
دشمنوں سے پیار ہوتا جائے گا
دوستوں کو آزماتے جائیے
اور ساقی فاروقی کا کہا مانیے تو:
خدا کے واسطے موقع نہ دے شکایت کا
کہ دوستی کی طرح دشمنی نبھایا کر
اور بقول فراز:
ہم تن آساں ہیں اور ہمارے لئے
دشمنی دوستی سے مشکل ہے
ایک کلیم عاجز بھی تھے، جو دشمنی کے متعلق مختلف سوچ رکھتے تھے کہ:
بہاروں کی نظر میں پھول اور کانٹے برابر ہیں
محبت کیا کریں گے دوست دشمن دیکھنے والے
صرف ایک علامہ ہی تھے، جنہوں نے کیا عورت مرد، کیا زندہ مردہ، جن و انس و ملائک اور کیا ملا پنڈت اور شیخ و برہمن، مشرک، زنار، کافر، منافق، فرنگی، ابولہول، سکندر و دارا، نیپولین و مسولینی، افلاطون ولینن، مارکس ہو یا شیطان، پنجابی ،ترکی و تیموری و افغانی، سیاست ،رقص و موسیقی، فقیری وصوفیت ہو یا جمہوریت و اشتراکیت و ملوکیت، کسی کو نہیں بخشا؛ لیکن شاعری میں دشمنی کسی سے نہیں کی، شیطان سے بھی نہیں، الغرض معلوم یہ ہوا کہ:
دشمنی بھی کیا بیماری ہے
دشمنی دوستی میں جاری ہے

کھٹمل کی رفاقت میں

فیضان الحق
بچپن میں سنا تھا کہ کھٹمل نام کی ایک مخلوق پائی جاتی ہے، جو رات میں سونے والوں کے ہاتھ پاؤں چومنے نکلتی ہے، ہوش سنبھالنے کے بعد جے این یو میں ان دوستوں سے پہلی بار ملاقات ہوئی، اپنی پہلی ہی ملاقات میں ان لوگوں نے یہ مفروضہ غلط ثابت کر دیاکہ وہ محض رات میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں،اس وقت دن کے ٹھیک بارہ بج رہے تھے، جب انہوں نے پہلے پہل میری دست بوسی فرمائی، پہلے تو مجھے سمجھ ہی نہیں آیا کہ سرخ سرخ ابھرے نقوش چھوڑجانے والا یہ بوسہ ہے کس کا؟ لیکن غور کرنے پر دوستوں کی بشارتیں یاد آ گئیں، جو وہ وقتا فوقتا جے این یو کے متعلق دیتے رہتے تھے، میں سمجھ گیا کہ یہ نئے رفقا کی میزبانی ہے،اس وقت میرا کھٹملوں کے اس بہادر گروہ سے سامنا ہوا تھا، جو رات میں چوری چھپے کام کرنے کے خلاف تھا، یعنی وہ غفلت کی حالت میں اپنے مرید کی خدمت نہیں کرنا چاہتا تھا اور وضعدار طبقہ تھا، بقول غالب:
لے تو لوں سوتے میں اسکے پاؤں کا بوسہ مگر
ایسی باتوں سے وہ ظالم بد گماں ہو جائیگا!
اب ان نئے دوستوں سے شناسائی ہو چکی تھی، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ملاقاتیں بڑھتی گئیں،دن کی مصروفیتوں نے توانہیں خدمت کا زیادہ موقع فراہم نہیں کیا؛لیکن رات کا پورا وقت ان کرم فرماؤں نے اپنے نام کر لیا،دن بھر کا تھکا ہارا،ادھر بسترِ خواب پر گیا کہ تھوڑی ہی دیر میں خدمت گزار حاضر، کوئی پیروں کو چوم رہا ہے، کوئی ہاتھوں کو بوسہ دے رہا ہے،میں کبھی ہاتھوں کو چھڑا رہا ہوں، کبھی پیروں کو پٹخ رہا ہوں، مگر مرید ہیں کہ چھوڑنے کا نام ہی نہیں لے رہے،میں غصہ کروں، جھلاؤں، کیا فرق پڑتا ہے! اور تو اور،اوپر سے طعنے بھی دے رہے ہیں کہ:
ہم ہیں مشتاق اور وہ بے زار
یا الہی یہ ماجرا کیا ہے
(غالب)
ان خدمت گزاروں کی ایک ٹولی غیر مانوس ہے، جو بستر ہی پر نہایت عاجزی کے ساتھ طواف کرتی رہتی ہے؛ لیکن کچھ تو نہایت ہی شوخ، اڑیل اور منھ لگے نکلے، ان کی جرأت تو دیکھیے! کبھی ہاتھوں کو چومتے چومتے باغِ رخسار تک پہنچ جاتے ہیں اور کبھی سینے پر چڑھ کر اٹھکھیلیاں کرنے لگتے ہیں، کل تو گستاخی کی حد ہی ہو گئی ،جب چند نامعقول، پیروں کو بوسہ دیتے دیتے ممنوعہ سر حد کے پار نکل گئے اور مجھے اس گھسپیٹھ پر فوری کاروائی کرنی پڑی!
اس طرح پوری نیند خدمت کی نذر ہو جاتی ہے اور مجال ہے کہ کوئی رات ان خدمت گزاروں سے محروم رہ جائے۔
خفا ہو، گالیاں دو، چاہے آنے دو نہ آنے دو
میں بوسے لونگا سوتے میں ،مجھے لپکا ہے چوری کا
(ارشد علی خان قلق)
چند راتیں تو اسی طرح صرف بہاراں ہوئیں ؛لیکن پھر میں نے ان دوست نما دشمنوں سے بیزاری برتنا شروع کر دی، دوستوں نے ان سے بچاؤ کے مختلف حربے بتائے، کسی نے کہا ڈبے میں پکڑ کر بند کر دو، کسی نے کہا کمرے میں املتاس کے پھل لاکر رکھ دو؛ لیکن امید کسی طرح بر نہیں آئی، عاجز آکر ایک دن ان کی تمام پناہ گاہوں پر چھاپا مارا، گدے کی سلوٹوں،دیوار کی سوراخوں،کتاب کی جلدوں اور تھیلوں کی جیبوں تک کی تلاشی لی، پورے کمرے میں ان کو روکنے
والی ادویہ کا چھڑکاؤ کیا اور ایک ایک کو چن کر کمرہ بدر کیا، اتنی محنت کا فائدہ یہ ہوا کہ اس رات میں بالکل اطمینان سے سویا۔
صبح جب نہا دھو کر کلاس پہنچا ،تو دیکھتا ہوں وہی کھٹمل صاحبان بیگ کی شقوں سے باہر جھانک رہے ہیں، میں حیران؛ لیکن عزت کی پروا کرتے ہوئے کوئی کاروائی مناسب نہیں سمجھی، تھوڑی ہی دیر بعد دیکھتا ہوں کہ ایک دوسرے صاحب کی شرٹ پر بھی حضرت ٹہل رہے ہیں، اب مجھے کچھ ہمت ہوئی، میں نے انہیں مطلع کیا اور پھر اپنے بیگ میں جمع کھٹملوں کا علاج کرنا شروع کیا؛لیکن اف!قربان جائیے ان کی رفتار پر،ایک بھی کھٹمل ہاتھ نہیں لگا اور میدان صاف ہو گیا۔
ایسا اڑا کہ وہم و گماں سے گزر گیا
بادل ہوا سے پوچھ رہا تھا کدھر گیا
(سودا)
کھٹملوں کی اس یورش نے حیران و پریشان کر دیا، ایک دن بستر پر لیٹا ہوا تھا کہ اچانک انہی میں سے ایک پرانا مرید تکیے کے غلاف سے نکل کر میرا ہاتھ چومنے کو لپکا،میں نے فورا دبوچ لیا، کم بخت نے خوشامد کرنی شروع کر دی…’’میں تو آپ کا دیدار کرنے آیا تھا، ارے آپ کتنے کمزور ہو گئے ہیں، آپ تو فکر مند لگ رہے ہیں‘‘…میں نے ایک نہ سنی اور پٹک کر اس کی گردن پر پیر رکھ دیا:
پہلے رگ رگ سے میری خون نچوڑا اس نے
اب یہ کہتا ہے کہ رنگت ہی مری پیلی ہے
(مظفر وارثی)
دباؤ پڑتے ہی لہو کا دھارا پھوٹااور ایک جوشیلی آواز اسکے منھ سے بلند ہوئی…لال سلام…انقلاب زندہ باد…!!
ارے!یہ کیا،میں حیران رہ گیا!
پھر مجھے سمجھ آیا کہ جے این یو کا خون ان کی رگوں میں بھی گر دش کر رہا ہے اور سرخ چولا انہوں نے شعوری طور پر اختیار کیا ہواہے۔

خادمِ اردو

مبارک علی مبارکی
جلسہ شروع ہونے کا وقت شام 5؍ بجے کا تھا اور ابھی صرف ساڑھے چھ ہی بجے تھے ؛لیکن مولانا حسرت موہانی ہال کی آدھی سے زیادہ نشستوں پر تِل دھرنے کی بھی جگہ نہیں تھی؛اِس لیے مجھے قوی اُمید تھی کہ سات ساڑھے سات بجے تک باقی کی پچاس نشستوں پر بھی تِل دھرنا ممکن نہ ہوگا،اسٹیج کے پیچھے دیوار پر ایک بڑا سا بینر لگا ہوا تھا، جس پر پروگرام منعقد کروانے والی تنظیم ’’بزمِ دُکھی دِلان و پژمُردگانِ اردو‘‘ کا نام بولڈ کیپیٹل لیٹرز میں تحریر تھا ۔
اس کے بعد صدرِ جلسہ اور مہمانوں کی فہرست تھی :
صدارت: عزّت مآب شری ٹھونگامَل یمراجؔ جے پوری
مہمانِ خصوصی: جناب ڈوما بھائی گانجہ بگانوی (قطر،یو اے ای)
مہمانِ اعزازی: جناب کالا چاند اَماوَسوی(صدر،تنظیمِ چرم فروشان،کولکاتا)
مہمانِ ذی وقار: جناب شیخ پھینکو پھینکم پھانکوی
مہمانِ عالی وقار: جناب کورچشم عاقلؔ پیدَلوی
مہمانِ دل رُبا: محترمہ حسینہ بانو دِل توڑنی (ٹی وی اینڈ اسٹیج آرٹِسٹ)
وغیرہ وغیرہ
بعد ازاں بزم کے صدر اور سکریٹری کے نام تھے اور سب سے آخر میں صاحبِ اعزاز یعنی اِس سال کے ’’خادمِ اردو‘‘ مبارک علی مبارکی کا نام تھا،جو شاید جگہ کی تنگی کے باعث چھوٹے چھوٹے حروف میں بمشکل گُھسایا گیا تھا، سات بجے کے قریب جب منتظمین،الیکٹریشین،ڈیکوریٹر کے اسٹاف،مقامی اردو اخبارات کے صحافیوں اور فوٹوگرافروں کو ملا کر تقریباً ستّر پچھتّر حاضرین سے ہال کھچا کھچ بھر گیا ،تو ناظمِ جلسہ جناب دلنواز چرب زبانی نے جلسہ شروع کرنے کا اعلان کیا ،سب سے پہلے صدرِ جلسہ و مہمانانِ انواع و اقسام کو اسٹیج پر آنے کی دعوت دی گئی، پھر منتظمین نے اپنے گھر کے بچّوں اور بچّیوں کے ہاتھوں سے اکابرینِ اسٹیج کو گلہائے تعزیت،سَوری گلہائے عقیدت پیش کیے،گرمی ہونے کے باوجود سب کو شالیں اُڑھائی گئیں اور پھر مومنٹو دینے کا سلسلہ شروع ہوا۔
میں اِس دوران عامعین یعنی سامعین کے درمیان بیٹھا تالیاں پیٹتا رہا، اچانک منتظمین میں سے کسی نے ناظم کے کان میں کچھ کہا اور اُنہوں نے بُرا سا مُنہ بنا کر اعلان کیا کہ’’حضرات!معذرت چاہتا ہوں میں آج کے دُولہا جناب مبارک علی مبارکی کو اسٹیج پر بُلانا بھول گیا‘‘۔
پھر اُنہوں نے مجھ سے بصد خلوص و احترام اسٹیج پر آنے کی درخواست کی ،جسے میں نے بادلِ ہاں خواستہ قبول کرلیا۔
خیر صاحب!سب کچھ تقسیم ہونے کے بعد سلسلۂ تقاریر در مدحتِ خادمِ اردو شروع ہُوا اور یکے بعد دیگرے مقرّرین نے ’’بزمِ دُکھی دِلان و پژمُردگانِ اردو‘‘ کے اراکین کی تعریفوں کے پُل باندھنے شروع کیے کہ اُنہوں نے گڈری میں لعل کھوج نکالا اور مبارکی صاحب جیسے بے لوث خدمت گارِ اردو زبان کو اِس سال کے ’’خادمِ اردو ایوارڈ‘‘ کے لیے منتخب کر کے اردو پر احسانِ عظیم کردیا ۔
ان تقریروں کے بعد صدرِ جلسہ نے اپنے مبارک ہاتھوں سے ناچیز کو اِس سال کے ’’خادمِ اردو ایوارڈ‘‘ کی رننگ ٹرافی پکڑا دی ۔اب صدرِ جلسہ نے اپنا خطبۂ صدارت پڑھنا شروع کیا ، انہوں نے بتایا کہ’’مبارکی صاحب خادمِ اردو نہیں؛ بلکہ مجاہدِ اردو ہیں، وہ اردو کی ترقّی و ترویج کے لیے فیس بُک پر اپنی جان کی بازی لگا کر جہاد کرتے رہتے ہیں ، اردو کی حمایت میں سال بھر مسلسل پوسٹ ڈالتے رہتے ہیں ، مبارکی صاحب نے بیگم کی گالیاں اور بیلن کی مار کھائی؛ لیکن غزلیں کہنا نہیں چھوڑا ؛ کیونکہ غزل اردو شاعری کی آبرو ہے اور شاعری اردو زبان کی آبرو ہے، اِس طرح مبارکی صاحب نے اپنی جان پر کھیل کر اردو زبان کی آبرو کو لُٹنے سے بچایا ہے ،مبارکی صاحب سے جلنے والے کہتے ہیں کہ دوسرے خدّامِ اردو نے اردو کی حمایت میں جلسے کِیے،جلوس نکالے،کھاتے پیتے بھوک ہڑتالیں کیں،جوتے پالش کیے، آخر مبارکی صاحب نے ایسا کون سا تیر مارا ہے کہ اُنہیں خادمِ اردو جیسے با وقار ایوارڈ سے نواز دیا گیا؟
تو حضرات!میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ دوسروں نے تو اردو کو اس کا حق دلانے کے لیے صرف جوتے پالش کیے ہیں؛ لیکن مبارکی صاحب نے اردو کی حمایت میں احتجاجاً کھانا پکایا ہے،برتن اور کپڑے دھوئے ہیں،جھاڑو لگائی ہے،گھر پونچھا ہے؛ لیکن وہ دوسروں کی طرح سستی شہرت کے بھوکے نہیں ہیں ؛اِس لیے وہ یہ سب کام تصویریں کِھنچوا کر نہیں کرتے؛ بلکہ خاموشی سے اپنے گھر کی چہار دیواری میں کرتے ہیں اور اِسی لیے میرا یہ ماننا ہے کہ مبارکی صاحب کے علاوہ اور کوئی اِس ایوارڈ کا حقدار ہو ہی نہیں سکتا ‘‘۔
صدرِ محترم کی باتیں سُن کر لوگوں کی آنکھیں بھر آئیں اور جذبات سے ایسے مغلوب ہوئے کہ تالیاں بجانا تک بھول گئے ، آخر میں نے ہی جذبات پر قابو پاتے ہوئے ہاتھ نیچے کر کے تالی بجائی، جسے سُن کر دوسرے لوگ بھی بیدار ہوئے اور ہال تالیوں کی آواز سے گونج اُٹھا۔اب صرف اظہارِ تشکّر باقی تھا، اس کے لیے میں نے پہلے ہی منتظمین سے بات کرلی تھی کہ یہ فرض میرا این آر آئی بیٹا انجام دے گا، جو اِن دنوں چُھٹّیاں لے کر ہندوستان آیا ہوا ہے ،ناظمِ جلسہ نے خادمِ اردو؛ بلکہ مجاہدِ اردو کے بیٹے کا نام پکارااور فرزندِ ارجمندِ خادم و مجاہدِ اردو نے اپنی تقریر شروع کردی:
’’ آنریبل پریسیڈنٹ،ریسپیکٹیڈ گیسٹس،لیڈیز اینڈ جنٹلمین!
فرسٹ آف آل آئی وُڈ لائیک ٹو ریکویسٹ یو ٹو ایکسیوز می فار اسپیکنگ اِن انگلش بِکاز آئی کین ناٹ اسپیک اردو پراپرلی، ایکچُولی آئی ہَیو بِین اے اسٹوڈِنٹ آف انگلش میڈیم بیک گراؤنڈ ، سو آئی کُڈ ناٹ لرن اردو ، بٹ آئی کین انڈراسٹینڈ اے لِٹِل بِٹ اردو‘‘…
خادمِ اردو کا بیٹا بیحد فلوءِنٹ انگلش میں تقریر کر رہا تھا،لوگ بے تحاشہ تالیاں بجا رہے تھے اور خادمِ اردو کا سینہ فخر سے چھپّن اِنچ کا ہورہا تھا ۔

گلے پڑی نماز

زین شمسی
رمضان شروع ہونے سے عین قبل متمول، صاحب ثروت اور تنومند مسلمانوں کی پیروی کرتے ہوئے میں بھی اس امید میں ڈاکٹر کی کلینک کے سامنے قطار بند تھا کہ شاید بلڈ ٹسٹ میں شوگر کا عنصر نکل آئے اور یوں میں اس پاک مہینہ میں فاقہ کشی سے نجات پا جاؤں، ہم جیسے کئی لوگ روزہ تو رکھتے نہیں،گھر میں کھانا نہیں بنتا؛اس لیے روزہ کے نام پر فاقہ کشی تے ہیں،اس فاقہ کشی کو لیگل طریقے سے ختم کرنے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ کوئی جھولا چھاپ پیتھولوجسٹ سے براہ راست یہ کہتے ہوئے کہ بھائی مجھے یقین کی حد تک اس بات کا شک ہے کہ میرا خون میٹھا ہوگیا ہے، تین دن سے دیکھ رہا ہوں چینٹیوں کی قطار میرے بستر کے ارد گرد طواف کرتی ہے اور باہر نکلتا ہوں تو مکھیاں ہمسفر ہوتی ہیں، ذرا خون چیک کر دیجیے؛تاکہ سند رہے کہ میں فاقہ کشوں کی صف میں کیوں شامل نہیں ہوں اور کیوں ٹاٹ لگے ہوٹلوں کے اندر لب مطبخ بریانی کی دیگوں میں منہ چھپائے ہوں ۔
عید میں بچوں کے نئے کپڑوں کی آس لگائے غریب طبی اداروں سے پیتھالوجی کے سند یافتہ پیتھولوجسٹ ایسے مریضوں کی یقین کی حد تک بنے شکوک کا پاس رکھتے ہوئے ان کے من مطابق رپورٹ دے دیتے ہیں کہ ان کی آمد و رفت بنی رہے؛ تاکہ بقرعید میں بھی قربانی کے کام آجائے؛بلکہ وہ اور کئی طرح کے ٹسٹ کا کمبو آفر بھی دیتے ہیں؛ تاکہ آئے ہوئے گاہک سے وافر فائدہ حاصل کر سکیں۔
نمبر آنے کے بعد مکمل اعتماد کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس اپنے بدن کی مٹھاس کا ثبوت لینے بیٹھ گیا،انہوں نے رپورٹ نکالی،میری طرف بڑھاتے ہوئے بولے،زین بھائی مبارک ہو،یہ مبارک رمضان آپ کے لیے بہت کار آمد ثابت ہونے والا ہے۔
میں نے تجاہل عارفانہ کے انداز میں پوچھا”رپورٹ منفی تو نہیں ڈاکٹر صاحب؟ ” ۔
“منفی ! ارے بھائی آپ کو بالکل شوگر نہیں ہے،ہاں کولسٹرال بہت زیادہ ہے، پورے رمضان تراویح پڑھ لیجیے،ان شاءاللہ بالکل فٹ ہو جائیں گے” ۔
“اللہ مجھے خراب نہیں ہونے دے گاکیا، پیتھولجسٹ اور ڈاکٹروں کی صورت میں بھی تبلیغیوں کو بٹھا رکھا ہے”، بے ساختہ میری زبان سے یہ جملہ اچھلا اور سامنے سے آ رہے حاجی حجت کے کان میں گرا ۔
“سب خیریت تو ہے،رپورٹ کیا کہتی ہے؟” رپورٹ تو جو بھی کہتی ہو حاجی صاحب, بس اتنا سمجھ لیجیے کہ جب جب روزہ بخشوانے کی کوشش کیجیے گا، نماز گلے پڑ جائے گی۔

اچھے دن

(انشائیہ)
مبارک علی مبارکی
آج آخرکار میں نے اُس دھوکے باز کو انفرینڈ کر کے بلاک کر دیا ؛ بلکہ اُس کے خلاف فیس بُک والوں کو رپورٹ بھی کردی ،ہُوا یوں کہ پرسوں اُس انفرینڈ شدہ فرینڈ نے صندوقِ داخلی یعنی اِنباکس میں ایک تصویری پوسٹ بھیجی اور کہا کہ جو شخص گیارہ لوگوں کو یہ پوسٹ سینڈ کرے گا، اُس کی سب سے بڑی تمنّا چوبیس گھنٹے کے اندر پوری ہو جائے گی ،میں نے سوچا اِس سنہرے موقع کو ہاتھ سے جانے دینا تو بہت بڑی بیوقوفی ہوگی ، بس فوراً پوسٹ کو شیئر کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ،اچانک خیال آیا کہ میٹرِک کا مارک شیٹ گُم ہونے پر اس کی ڈُپلی کیٹ کاپی نکالنے گیا تھا تو دو مہینے میں ڈپلی کیٹ مہیا کرنے کی فیس ایک سو روپئے تھی، جبکہ دو سو روپے میں ارجنٹ یعنی ایک مہینے میں ہی ڈپلی کیٹ فراہم کرنے کا آپشن بھی موجود تھا ، سو میں نے دو سو روپے دے کر ارجنٹ کاپی کے لیے درخواست جمع کردی تھی ،یہ خیال آتے ہی میں نے فیصلہ کیا کہ اِس بار بھی ارجنٹ کاپی کی درخواست ہی کر دیتا ہوں؛ تاکہ میری سب سے بڑی آرزو چوبیس کی بجائے بارہ گھنٹوں میں ہی پوری ہوجائے،بس پھر کیا تھا دھڑادھڑ اُس کمبخت دوست کا میسج سینڈ کرنا شروع کردیا اور پلک جھپکتے میں 22 لوگوں کو وہ کراماتی میسج سینڈ کردیا ؛تاکہ میری سب سے بڑی تمنّا آدھے وقت میں پوری ہوجائے اور میری طرح دوسرے لوگ بھی اِس کارِ خیر کا حصّہ بن سکیں ، میں نے جلدی جلدی میں یہ بھی نہیں دیکھا کہ میسج کس کس کوبھیج رہا ہوں، آخری میسج شام کے تقریباً سات بجے سینڈ کیا ہوگا ، بار بار گھڑی دیکھ رہا تھا کہ جلدی سے بارہ گھنٹے پورے ہوں اور…لیکن گھڑی کمبخت تو گویا بھارتیہ ریل ہوگئی تھی، چل ہی نہیں رہی تھی ،میرا دل اچّھے دنوں کے انتظار میں بے قرار ہُوا جارہا تھا؛لیکن میں نے اِس دیوانے کو سمجھایا کہ بھائی اِتنی بے صبری اچّھی نہیں ، تیس پینتیس سال بُرے دنوں کو برداشت کرلیا، تو کیا چند گھنٹے اور برداشت نہیں کرسکتے ،ذرا سا صبر کرو ، صبح سات بجے تو اچھے دن آ ہی جائیں گے ،میرے سمجھانے سے دیوانے دل کو ذرا سا قرار آیا؛ لیکن آنکھوں میں نیند نہیں آئی ، پتہ نہیں صعوبتِ دیرینہ سے بچھڑنے کا غم تھا یا راحتِ آیندہ سے ملنے کی خوشی، جس نے آنکھوں سے نیند چھین لی تھی ۔ خدا خدا کر کے صبح ہوئی ، پانچ بجے،پھر چھ بجے اور آخر سات بھی بج گئے؛ لیکن اچھے دنوں کا دُور دُور تک پتہ نہیں تھا ،رات آنکھوں میں کاٹی تھی ؛اِس لیے اب آنکھوں پر نیند کا غلبہ محسوس ہو رہا تھا، ویسے تو میں صبح چھ بجے ہی ڈیوٹی کے لیے نکل پڑتا ہوں؛ کیونکہ سات بجے کی ٹرین پکڑنی ہوتی ہے؛ لیکن گزشتہ شام بائیس لوگوں کو پیغام برائے تکمیلِ تمنّا شیئر کرنے کے بعد ہی یہ فیصلہ لے چکا تھا کہ آج ڈیوٹی کے لیے نہیں جاؤنگا ؛کیونکہ میں سُپر فاسٹ ٹرین سے ڈیوٹی پر جاتا ہوں، جو ہوڑہ اسٹیشن سے چھوٹتی ہے ،تو دو گھنٹے بعد کھڑگپور اسٹیشن پر ہی رُکتی ہے، میں نے سوچا سات بجے ٹرین چُھوٹے گی اور سات بجے ہی سب سے بڑی تمنّا پوری ہوگی،گھر والے کال کرکے اچھے دن آنے کی خبر دیں گے ،تو پہلی ٹرین سے واپس آنا ہوگا، پھر عزیز و اقارب کو خبر دینے اور باقی انتظامات کرنے کے لیے وقت بھی تو چاہیے؛ لہٰذا چھٹی لینا ہی مناسب لگا ، ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ سات بجنے کے باوجود اچّھے دنوں کا دُور دُور تک پتہ نہ تھا، سوچا شاید کچھ میسج ابھی منزلِ مقصود تک پہنچے ہی نہ ہوں؛ اِس لیے تھوڑا اور انتظار کرلینے میں کیا بُرائی ہے؟انتظار کرتے کرتے آٹھ بجکر 47 منٹ اور 36 سکنڈ ہوگئے ، شادیِ غم کی وجہ سے رات بھر سو نہیں سکا تھا؛ اِس لیے آخرکار نیند آگئی ،
اچانک خواب میں ایک چڑیل آئی اور کرخت آواز میں بولی’’ اسکول نہیں جانا ہے؟‘‘۔
میں نے خواب میں ہی جواب دیا’’نہیں،اچّھے دن آنے والے ہیں ‘‘۔
چڑیل شاید امیت شاہ کی طرح اپنی پارٹی کی کرسیِ صدارت پر براجمان تھی ، چیخ کر بولی’’ اوئے شیخ چِلّی! خواب دیکھنا چھوڑ دے ،کوئی اچھے دن وِن نہیں آنے والے ، سب جملہ بازی ہے ،اُٹھ اور چائے کے لیے دودھ لے کر آ ‘‘۔ آنکھیں کھولیں تو سامنے چڑیل،معاف کیجیے بیگم ہاتھ میں دودھ کا برتن لیے کھڑی تھیں۔ اب بتایئے،کیا ایسے دھوکے باز دوست کو انفرینڈ کرکے میں نے کوئی غلطی کی ہے؟