ادبیات

now browsing by category

 

فسانۂ آزاد کی ادبی اہمیت

عبدالباری قاسمیؔ
ریسرچ اسکالر شعبۂ اردودہلی یونیورسٹی دہلی
9871523432
abariqasmi13@gmail.com
فسانۂ آزاد پنڈت رتن ناتھ سرشارکی ایسی معرکۃ الآرا تصنیف ہے،جس نے نہ صرف یہ کہ سرشار کو تاریخِ اردو ادب کے صفحات میں ہمیشہ ہمیش کے لیے محفوظ کر دیا ؛بلکہ اردو ادب کو ایک نئی زبان،نیا اسلوب وانداز اور نئے طرزِ فکر سے آشنا کیا،سرشار نے اسیے ماحول میں آنکھیں کھولی تھیں جہاں داستان گوئی اور مافوق الفطرت عناصر پر یقین کرنے کا عام رواج تھا،عام طور پر داستان گو حضرات طلسم و سحر اور مافوق الفطرت عناصر کے ذریعہ اپنی کہانیو ں کو رنگین اور دلچسپ بنانے کی کوشش کرتے تھے ،مگر سرشار نے ایک نئی راہ نکالی اور اپنی شاہ کار تصنیف جسے کوئی داستانی ناول،کوئی صحافتی ناول،تو کوئی داستان اور ناول کے درمیان کی کڑی کہ کر پکارتا ہے ،اس میں ماحول و معاشرہ کی ترجمانی اور عکاسی اس انداز سے کی کہ پوری دنیائے اردو ادب حیران رہ گئی ،اپنے اس لاجواب تصنیف میں سرشار نے نہ صرف یہ کہ عمدہ زبان ،نئے الفاظ ،دلفریب محاورے ،فصیح وبلیغ جملے اور چست بندشیں شامل کرکے اپنی زبان دانی اور فنکاری کا ثبوت دیا ہے،وہیں اپنے قارئین کو بولنے کا سلیقہ اور معاشرہ کو سمجھنے کا طریقہ بھی بتلایا ،ان کا پلاٹ اگرچہ کمزور ہے ؛مگر کرداروں اور ان کے مابین ایک اچھوتے انداز سے مکالمہ کراکے اس کمی کو دور کرنے کی پوری کوشش کی ہے اور کامیاب بھی ہوئے ہیں ،ا س کی ادبی اہمیت کا اندازہ لگانے کیلیے صرف اتنا ہی کافی ہے کہ یہ پہلا ایسا شہ پارہ ہے جو کتابی شکل میں شائع ہونے سے پہلے قبولیت عام حاصل کرچکا تھا اور سرشار کو مبارکبادیوں کے سینکڑوں خطوط موصول ہونے شروع ہوگئے تھے،رتن ناتھ سرشار کا یہ داستانی ناول چوں کہ قسط وار اودھ پنچ اخبار میں شائع ہوا تھا ،اس لیے پلاٹ میں نحافت اور ضعف ہے ،مگر اس کی کمی مزاحیہ اور لازوال کردار خوجی نے کر دی ہے اور سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ جیسا کردار استعمال کیا ہے ویسی ہی زبان بھی،نواب کی گفتگو نوابی انداز میں ہے اور بھٹیارن کی اسی کی طرح ،اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ لکھنؤکے تہذیب و معاشرت کو سرشار کس قریب سے دیکھتے ،سمجھتے اور جانتے تھے ،انہوں نے سرور کی تقلید میں مسجع اور مقفی جملے ضرور استعمال کیے ہیں،مگر ایسا ماحول تیار کردیا ہے کہ قاری پرذرہ برابر اکتاہٹ کا احساس نہیں ہوتا اور وہ کچھ اور کچھ کے طلب میں غرق ہو جاتا ہے ہم اس مضمون میں مختصرا سرشار اور فسانہ آزاد اور اس کی ادبی اہمیت کا جائزہ لیں گے ۔
رتن ناتھ سرشار کا مختصر تعارف: پنڈت رتن سرشا ر کے والد کا نام بیج ناتھ در تھا ،سرشار کی پیدائش کے متعلق محققین نے مختلف آرا کا اظہار کیا ہے،پریم پال اشک نے ان کی تاریخ پیدائش ،۵؍ جون ۱۸۴۶ ؁ء لکھاہے جبکہ جمیل جالبی اور چکبست نے ۱۸۴۷ ؁ء قرار دیا ہے اور تاریخ وفات جمیل جالبی اور پریم پال اشک نے ۲۷؍ جنوری ۱۹۰۲ ؁ء اور چکبست نے ۲۱ ؍ جنوری ۱۹۰۳ ؁ لکھا ہے ،ان کا تعلق کشمیری پنڈت گھرانے سے تھا ،ان کے والد بغرض تجارت کشمیر سے ہجرت کرکے لکھنؤآگئے تھے اور پورے طور پر لکھنؤ کے تہذیب و معاشرت میں رنگ گئے تھے ،فارسی اور عربی کی تعلیم مدرسہ میں اور انگریزی تعلیم کنگ کالج لکھنؤمیں حاصل کی ،ادبی سفر کا آغاز ’’مراسلۂ کشمیر‘‘ سے کیا ،البتہ نئے طرز تحریر کی ابتدا اودھ اخبار سے کیا ،اس کے بعد مختلف اداروں میں ملازمت کرنے کے بعدحیدرآباد تشریف لے گئے اور وہاں بھی دبدبۂ آصفی کے نام سے ایک رسالہ نکالنا شروع کیا جو کچھ ہی عرصہ بعد بند ہو گیا اور وہیں انتقال بھی کیا ،سرشار کی بہت سی تصانیف اور بہت سے ترجمے ہیں ،جیسے شمس الضحی ٰ،فسانۂ آزاد،اعمال نامہ روس،جا م سرشار،سیر کہسار،کامنی،خمکدۂ سرشار،پی کہاں،بچھڑی دلہن ،شاخ بنات اور الف لیلہ کا ترجمہ کافی اہمیت کے حامل ہیں،مگر ان کی اصل مقبولیت فسانۂ آزاد کی وجہ سے ہوئی حالاں کہ مشہور ہے کہ سرشار لا ابالی پن میں رہتے تھے اور کاتب ان کا کالم لکھنے کے لیے ڈھونڈتا رہتا تھا ،اسی سے ان کی فنکاری کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے،اگر انہوں نے سنجیدگی اور حضوری دل سے اس شاہ کار تصنیف کو لکھا ہوتا تو اس کی اہمیت کیا ہوتی ؟ جمیل جالبی نے اس تعلق سے لکھا ہے کہ ’’یہی وجہ ہے کہ ان کی تصانیف میں خصوصاً فسانۂ آزاد میں بلا ضرورت تکرار بہت زیادہ ہے ،لیکن طباعی کی اسی فراوانی معلوم ہوتا ہے کہ ایک دریا ہے کہ بہتا چلا جا رہا ہے‘‘(۱)
فسانۂ آزاد۔ وجہِ تصنیف اور سن تصنیف: فسانۂ آزاد پنڈت رتن ناتھ سرشار نے اودہ پنچ اخبار میں ۱۸۷۸ ؁ء سے ۱۸۷۹ ؁ء کے درمیان قسط وار شائع کی تھی اور کتابی شکل میں پہلی مرتبہ ۱۸۸۰ ؁ء میں منظر عام پر آئی ،اس کی چارضخیم جلدیں ہیں جو سواتین ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل ہے ،اس کی وجہِ تصنیف کے تعلق سے بھی لوگوں نے مختلف خیالات کا اظہار کیا ہے،بعض حضرات نے اسے اصلاح معاشرہ سے تعبیر کیاہے تو بعض نے انہیں نثر کی دنیا کا حالیؔ قرار دے کر مصلح قوم قرار دینے کی کوشش کی ہے،مگر بہت ہی اہم وجہ پریم پال اشکؔ نے اپنی کتاب میں بیان کی ہے’’جب سرشار کھیری سے لکھنؤ آئے تو یہاں شب و روز یاران دقیقہ رس و صحیح نفس کی صحبت میں گزرتے تھے ،اس صحبت میں جہاں ایک سے ایک طرار اور حاضر جواب موجود ہوتا تھا وہیں منشی سجاد حسین ایڈیٹر اودھ پنچ اور پنڈت تربھون ناتھ ہجرؔ بھی شریک ہوا کرتے تھے ،اسی صحبت میں ایک روز پنڈت تربھون ناتھ ہجرؔ نے کہا کہ اگر کوئی ناول ایسا ہے کہ جس کا ایک صفحہ پڑھیے اور ممکن نہیں کہ بیس مرتبہ نہ ہنسیے تو وہ ڈان کوٹکسائٹ ہے ،اگر اردو میں اس طرز کا افسانہ لکھا جائے تو خوب ہے ،حضرت سرشار کے دل پر اس وقت کی بات ایسی کارگر ہوئی کہ اردو میں ڈان کوٹکسائٹ کے انداز پر مضامین لکھنے کا شوق پیدا ہوا چنانچہ اودھ اخبارمیں مختلف مضامین شائع ہونے لگے ‘‘(۲)اس کے علاوہ جمیل جالبی نے بھی اسی انگریزی ناول کو اس کا محرک قرار دیا ہے مگر دوسرے انداز میں مذکورہ اقتباس دیکھیے جالبی نے اس تناظر میں کیا بات کہی ’’یہ وہ تصنیف تھی جس نے سرشار کو حد درجہ متاثر کیا تھا اور انہوں نے اسی کے انداز و ہیئت میں فسانۂ آزاد لکھا‘‘(۳)۔
پلاٹ و کردار: اس شاہ کار تصنیف کے پلاٹ میں ویسے توکئی جان نہیں ہے؛ اس لیے کہ کمزور اور غیر مربوط ہے ،اس کے علاوہ بعض حضرات کے کرداروں پر بھی غیر سنجیدگی او ر غیر متانتی کا الزام عائد کرتے ہیں ،مگر یہ حقیقت ہے کہ فسانۂ آزاد کی اصل شناخت قصہ و کہانی کی وجہ سے نہیں بلکہ کرداروں کی وجہ سے ہے،اس کے کرداروں میں اصل ہیرو آزاد ہے اور دوسرا مقام خوجی کا ہے جو افسانوی دنیا کا ایک لازوال کردار ہے،اگر صحیح نقطۂ نظر سے غور کیا جائے تو اس داستانی ناو ل میں جان اور کشش اسی خوجی کی وجہ سے ہے ،ان کے علاوہ حسن آرا،سپہر آرا ،نواب،مصاحب،راوی،چپراسی،مرزا،اللہ رکھی،بوا زعفران وغیرہ ہیں،ڈاکٹر جمیل جالبی فسانۂ آزاد کوطویل ناول کی طرح قرار دیا ہے اور چھ پلاٹ کی نشاندہی کی ہے،’’۱۔آزاد اور حسن آرا کا قصہ ،۲۔دوسرا قصہ ہمایوں فر اور حسن آرا کی بہن سہ پہر کے عشق سے تعلق رکھتا ہے ،۳۔تیسرے قصہ میں نواب ذوالفقار علی خاں کی بٹیر بازی کا قصہ بیان کیا گیا ہے،۴۔اللہ رکھی بازاری عورت ہے جو زندگی میں مختلف طبقوں سے گذرتی ہوئی دکھائی جاتی ہے،۵۔خوجی کے آزاد کے ساتھ اور الگ رہ کر مختلف واقعات میں پھنسنے کا قصہ ہے،۶۔متعدد چھوٹے قصے جو محلات میں پیدا ہوتے ہیں اور ختم ہو جاتے ہیں ‘‘(۴)
اگر ان کرداروں پر تبصرہ کیا جائے تو بلا جھجک کہا جا سکتا ہے کہ خوجی کی شکل میں سرشار خو دہیں اور وہی اصل ان کے عین مزاج کے مطابق ہے جس تحریک کے تحت اس معرکۃ الآرا کتاب کی تصنیف کی ،پلاٹ کی کمزوری کی طرف جمیل جالبی اور پریم پال اشک دونوں نے اشارہ کیا ہے دیکھیے جالبی نے کیا تبصرہ کی ہے’’یہ سب پلاٹ نہایت درجہ نحیف ہیں اور ان کو ہزاروں صفحات پر پھیلاتے ہوئے سرشار لکھنوی معاشرے کی بھر پور عکاسی کرتے ہیں‘‘(۵)پریم پال اشک نے اسی بات کو اس انداز سے تحریر کیا ہے’’پلاٹ کے نقطۂ نظر سے نہایت کمزور اور ناقص ہے ،البتہ جتنے بھی کردار پیش کیے ہیں اس نے زندگی کی صحیح ترجمانی کی ہے‘‘(۶)۔
زبان : فسانۂ آزاد کی اصل خوبی اس کی زبان ہے،چو کہ سرشار نے لکھنؤ کے ماحول میں آنکھیں کھولی تھیں،ا س لیے ایک بھنگی سے لے کر نوابوں تک اور مردوں سے لے کر عورتوں تک ہر طبقہ اور صنف کی زبان کو کوبہت اچھی طرح جانتے تھے اور اس کا انہوں نے پورا حق بھی اداکیا ہے،جہاں جیسا کردار ہوتا ہے ویسی زبان بہ آسانی اختراع کر لیتے ہیں اور چوں کے انہوں نے مسلمان عورتوں کو بھی قریب سے دیکھا تھا اس لیے مسلمان اور ہندو دونوں گھرانوں کی عورتوں کے زبان کو بھی سلیقے سے ادا کرتے ہیں ،سرورؔ کی تقلید میں ابتدائی زبان مسجع ،مقفی اور رنگین ہے ،اس کے متعلق جالبی ؔ نے لکھا ہے کہ ’’سرشار ؔ کے بیان میں زبان کے لچھے ویسے ہی ہیں جیسے سرور کے ہاں ملتے ہیں ،مگر ان لچھوں میں واقعیاتی و حقیقی اور مزاحیہ عناصر نے بیان میں ایک نیا رنگ پیدا کر دیا ہے‘‘(۷)،پریم پال اشک نے فسانۂ آزاد کی زبان کا نقشہ اس انداز سے کھینچا ہے کہ ’’سرشار نے اپنے فن کے روپ میں اردو ادب کو زبان دی ،بولنے کاسلیقہ سکھایا ،نئے نئے محاورے ،نئے نئے الفاظ اور نئی نئی بندشیں ہی نہیں ؛بلکہ انہیں ادا کرنے کا ایک نیا ،لاجواب اور اچھوتا انداز بخشا ،سرشار اپنے فن میں طاق ہیں ،اس میں شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں ‘‘(۸)۔
اسلوب: سرشار کا زمانہ چوں کہ سرور کے بعد کا ہے ،اس لیے سرشار پر ان کا رنگ گہرا ہے ،ثقیل اور بھاری بھڑکم الفاظ کا استعمال خوب کرتے ہیں ،مگر ایسا انداز بیان اختیار کرتے ہیں کہ جس سے ان کے کلام میں ندرت او ررنگینی پیدا ہوجاتی ہے،بطور نمونہ ایک اقتباس’’ آزاد : بندہ پرور مجھے جو کچھ صلواتیں سنانا ہوسنالیجیے ،الو بنا لیجیے مگر برائے خدا ایسے طبیب النفس ،فخر بنی نوع انساں ،بلیغ نکتہ داں بزرگوار کے حق میں توکلمات خرافات زبان سے نہ نکالیے ‘‘(۹)
مزاح : سرشار نے چوں کہ ایک نئے انداز سے لکھنؤ کے معاشرت کی عکاسی اور اس پر چوٹ کی ہے،اس لیے جا بجا مزاحیہ باتوں کا سہارا لیتے ہیں اور ان کا کوئی کردارایسا نہیں ہے ،جس پر مکمل طور پر سنجیدگی ہو سب کے ذمہ کچھ نہ کچھ مزاح ضرور ہے اور سرشار کا سب سے اہم کرادر خوجی ت ومزاح کا امام ہے ،اس کا تعارف ہی اس انداز سے ہوتا ہے کہ قاری ہنسے بغیر نہیں رہ سکتا ’’ٹھگنا سا قد،منحنی سی گردن،لمبوترا چہرہ ،اس پر بکرے جیسی لمبی ڈاڑھی ،اور ساٹھ سال کی عمر ‘‘اس کے علاوہ خوجی اور آزاد کے درمیان جو گفتگو ہے وہ بھی مزاح کی عمدہ مثال ہے’’ خوجی : (آزاد سے ) اب طبیعت کیسی ہے؟ آزاد: مر رہا ہوں ،خوجی : الحمد للہ ،آزاد : خدا کی مار تجھ پر دل لگی کا بھی کیا بھونڈا وقت ہاتھ آیا ہے،جی چاہتا ہے اس وقت زہر کھالوں ،خوجی: نوش جاں اور اس میں تھوڑی سی سنکھیا بھی ملا لیجیے گا‘‘(۱۰)۔
مکالمہ نگاری : سرشار نے مکالمہ نگاری بڑی فنکاری سے کی ہے ،وہ مکالمہ میں گفتگو اس انداز سے پیش کرتے ہیں کہ کردار کا معاشرتی اور تہذیبی نقشہ بھی واضح ہو جاتا ہے،یہی ان کا کمال ہے کہ اگر کردار اشراف سے تعلق رکھتا ہے تو اس کی زبان بھی علمی ہوتی ہے او ر اگر بازاری ہے تو وہی بازاری اور ابتذال آمیز زبان اسے عطاکرتے ہیں ،اسی وجہ سے ان کی اس گرامایہ تصنیف میں جان پڑ گئی ہے ،ابتدا میں تو بیانات زیادہ ہیں مگر جوں جوں تصنیف آگے بڑھتی گئی مکالمات بڑھتے گئے ہیں ،اسی لیے جمیل جالبی نے تبصرہ کیا کہ ’’یہ تصنیف مکالموں کی وجہ سے زندہ ہے‘‘ ’’اس نے مکالموں سے اپنے کرداروں اور خصوصاً خوجی کے کردار کو زندۂ جاوید کرکے ہمیشہ کے لیے ہمارے ساتھ کر دیا ہے ،مکالمے اور کردار ہی اس تصنیف کو زندہ رکھیں گے ‘‘(۱۱)۔
لکھنوی معاشرت کی عکاسی: سرشار چوں کہ لکھنؤ کے طرز معاشرت اور وہاں کی تہذیب کو بہت اچھی طرح جانتے تھے ،اس لیے انہوں نے اپنے اس تصنیف میں لکھنؤ کی روبہ زوال تہذیب کی سچی نمائندگی کی ہے ،انہوں نے لکھنوی تہذیب کو اس انداز سے بیان کیا ہے کہ آج بھی ان کی اس کتاب کو پڑھ کر اس وقت کی تہذیب کا نقشہ دیکھ سکتے ہیں،انہوں نے ہر اعتبار سے اس تہذیب کی منظر کشی کرنے کی کوشش کی ہے،خواہ تعیش پسندی ہو،مذہبی عقائد یا پھر علمی اور ادبی ذوق کا معاملہ سب کو اسی انداز سے بیا ن کیا ہے ،جمیل جالبی اس تعلق سے اظہار خیال کیا ہے کہ ’’فسانۂ آزاد نے لکھنوی معاشرت کی ایسی بھرپور ترجمانی کی ہے کہ آج بھی ہم فسانۂ آزاد کے مطالعہ سے اس تہذیب کے خدو خال نمایاں کر سکتے ہیں‘‘(۱۲)،ڈاکٹر لطیف حسین نے لکھاہے کہ ’’سرشارکا فسانۂ آزاد غدر کے بعد کے انحطاط پذیر لکھنوی تمدن کی سچی تصویر ہے ‘‘(۱۳)۔
حقیقت نگاری : سرشارنے لکھنؤ کے معاشرہ و تہذیب کی سچی اور حقیقی منظر کشی کی ہے،مصنوعی اور مبالغہ آمیزی کا احساس خوب ہوتا ہے ،ان کے کرداروں میں بھی عیش پسندی اور لذت اندوزی کا رنگ جھلکتا ہے،مگر حقیقت ہے کہ اس وقت لکھنؤ کا ماحول ہی کچھ ایسا تھا او ظاہر سی بات ہے کہ جب کوئی ادیب روبہ زوال تہذیب کی منظر کشی کرے گا تو وہی چیزیں نگاہ میں آئیں گی ہی ،یہ الگ بات ہے کہ ان کی مزاح نگاری میں میں بے ڈھنگا پن کا احساس ہوتا ہے ،اس کے باوجود اس زوال پذیر معاشرہ پر مزاح کے سانچے میں ڈھال کر ایسا طنز کرتے ہیں کہ اس کی نظیر نہیں ملتی ،ان کی یہ معرکۃ الآراء کتاب طویل اور ضخیم ضرور ہے ،مگر انہوں نے صرف معاشرہ کی سچی تہذیبی جھلکیوں سے ہی صفحات پر کیے ہیں ،مافوق الفطرت عناصر کا بالکل سہارا نہیں لیا ہے یہ ان کا کمال ہے ۔سہیل بخاری نے سرور اور سرشارکا اس تناظر میں موازنہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ’’سرور کا لکھنؤ قبرستان ،وحشتناک ،ویران اور سنسان ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے غنیم کے حملے سے بیشتر مکیں اپنے اپنے مکان چھوڑ کر شہر سے نکل گئے ہیں ،سبھی کچھ موجود ہے ،مگر آدمی مطلق نہیں واں نام کو ،سرشار کے یہاں آدمیوں کا جنگل ہے اور واقعات کا سیلاب ،مختصر یہ کہ سرور سے زندگی اور سرشار سے موت پناہ مانگتی ہے ‘‘(۱۴)،ڈاکٹر لطیف حسین ادیب نے لکھا ہے کہ ’’سرشار حقیقت نگار تھے ،انہوں نے معیاری چیزوں کو چھوڑدیا اور جو کچھ وہ روزانہ اپنے گردو پیش دیکھ رہے تھے ،اس کی مرقع کشی کی ،سرشار کی تصنیفات اس نظر سے دیکھی جانے کی مستحق ہے ،ان کو معیارِ اخلاق یا معیار شرافت سمجھنا حددرجہ غلطی ہے ،وہ ایک زوال پذیر سو سائٹی کا نقشہ کھینچ رہے تھے اور یہ یاد رکھیے کہ زوال پذیر سوسائٹیوں کا کسی طرح معیار بلند نہیں ہوتا ‘‘(۱۵)۔
خلاصہ: فسانۂ آزاد جسے پنڈت رتن ناتھ سرشار نے اودھ اخبار میں قسط وار شائع کیا،اردو ادب میں بہت ہی بلند مقام رکھتی ہے،یہ الگ بات ہے کہ اس کے پلاٹ میں کمزوری ہے،مگر دوسرے فنی اور ادبی محاسن اس قدر موجود ہیں جو اس ضعف کو سامنے آنے نہیں دیتے ،زبان وبیان کی چاشنی ،نئے نئے الفاظ و محاورات اور عمدہ مکالمات و اسلوب کے ذریعہ سرشار نے لکھنؤ کی زوال آمادہ تہذیب کی ایسی منظر کشی کی ہے کہاس کی نظیر نہیں ملتی اور اس کے ادب میں بلند مقام ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہی ہے کہ نہ صرف یہ ا س کی ادبی اہمیت کا تمام نقادان فن نے اعتراف کیا ہے ،بلکہ آج تک ادبی دانش گاہوں کے نصاب کا حصہ ہے ،اس سے بڑھ کر مقبولیت کی دلیل اور کیا ہوسکتی ہے۔
حوالہ جات: (۱)۔تاریخ ادب اردو جمیل جالبی جلدچہارم حصہ دوم ص: ۱۳۴۸،(۲) رتن ناتھ سرشار ایک مطالعہ ص:۲۸،
(۳) تاریخ ادب اردو جمیل جالبی جلدچہارم حصہ دوم ص:۴۴۔۱۳۴۳،(۴)ایضاً ص: ۱۳۵۲،(۵) ایضاً ص :۱۳۵۳،(۶) رتن ناتھ سرشار ایک مطالعہ ص: ۵۴،(۷) تاریخ ادب اردو جمیل جالبی جلدچہارم حصہ دوم ص:۱۳۵۳،(۸)رتن ناتھ سرشار ایک مطالعہ ص:۵۸،(۹)فسانۂ آزاد تلخیص ص: ۱۲(۱۰) ایضاً ص :۱۱(۱۱)تاریخ ادب اردو جمیل جالبی۱۳۵۶،(۱۲)ایضاً ص:۵۵۔۱۳۵۶(۱۳)رتن ناتھ سرشار کی ناول نگاری ص:۳۹۵،(۱۴)اردو ناول نگاری مصنفہ سہیل بخاری(۱۵)رتن ناتھ سرشار کی ناول نگاری ۔
ABDULBARI,D-29,SHAHEEN BAGH,ABUL FAZAL ENCLAVE PART 2,JAMIA NAGAR,OKHLA,
NEW DELHI -25

زہر عشق کی ادبی اہمیت

عبدالباری قاسمی ؔ

زہر عشق نواب مرزاشوقؔ لکھنوی کی معرکۃ الاراء مثنوی ہے ،یہ مثنوی اختصار،شدت جذبات،زبان و بحان کی سادگی،محاورات کی برجستگی،مکالمہ نگاری،خوبصورت موسیقیت اور بہترین تہذیبی عکاسی کی وجہ سے ادب میں بہت اہم مقام رکھتی ہے اور اس کا شمار اردو کی اہم ترین مثنویوں میں ہوتا ہے،زہر عشق گرچہ ایک مختصر عشقیہ داستان ہے ،اس میں نہ بہت سے مناظر ہیں اور نہ ہی کرداروں کی بھر مار ،نہ مافوق الفطرت عناصر ہیں اور نہ ہی بادشاہ و ساحر ،اس کے باوجود مرزا شوقؔ نے اس انداز سے بیان کیا ہے کہ ان کی مہارت پر اچھے اچھے ادیب و شاعر انگشت بدنداں نظر آتے ہیں ،انہوں نے لکھنؤ کی بیگماتی زبان ،ضرب الامثال اور محاورات کو فنکارانہ انداز سے بیان کرنے کے ساتھ ساتھ لکھنؤ کی معاشرتی جھلکیوںں کو جس لطیف پیرایہ میں سمویا ہے قابل دید ہے ویسے نمونے خال خال ہی دکھائی دیتے ہیں ،زہر عشق کا واقعہ گرچہ روایتی ہی ہے؛مگر جذبات نگاری اس قدر اتم درجہ ہے کہ قاری اسے اپنا رنج و غم سمجھنے لگتا ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ ایک فرضی قصہ کو شوقؔ اصل اور حقیقت کا روپ دینے میں کامیاب ہو گئے ہیں تو غلط نہیں ہوگا، یہی وجہ ہے کہ بہت سے نقادان فن نے اس کی ادبی حیثیت و اہمیت کے اعتراف کے ساتھ ساتھ اس کے واقعہ کو بھی سچا قرار دینے پر مجبور ہوئے ہیں اور مرزا شوقؔ کے پہلے تذکرہ نگار عطاء اللہ پالوی نے تو اسے خود شوق ؔ کاذاتی واقعہ قرار دیا ہے ،اس میں ۴۵۵ اشعار ہیں بیان کا انداز بھی عام مثنویوں کی طرح ہی ہے؛مگر شوقؔ نے اپنے فن کو بروئے کار لاکر اسے منفردمقام پر کھڑا کر دیا ہے ورنہ اس میں کچھ خامیاں بھی ہیں اس کے باوجود انہوں نے جذبات نگاری اور سوزوگداز کے ذریعہ ان خامیوں پر پردہ ڈال دیا ہے اور قاری پرایسا گہرااثر ہوتا ہے کہ وہ فنی خامیوں پر توجہ نہیں دے پاتا اس مقالہ میں میں نے زہر عشق کا مختلف حیثیتوں سے جائزہ لیں گے جس سے جہاں اس کی ادبی مسلہ حیثیت واضح ہو جائے گی وہیں مرزا شوق ؔ کا ادبی مقام بھی نمایاں نظر آنے لگے گا ۔
نواب مرزا شوقؔ کی مختصر حالات زندگی:
حکیم تصدق حسین نام ،نواب مرزا عرفیت اور شوقؔ تخلص تھا ،انکے والد کا نام آغا علی خاں تھا ،خاندانی پیشہ طبابت تھا، 1783 ؁ء میں لکھنؤ میں پیداہوئے ،انہوں نے ایسے عہد میں آنکھیں کھولی تھیں کہ جب لکھنؤ میں ہر طرف شعر و سخن کا بول بالا تھا،اس ماحول نے انہیں بھی متاثر کیااور دیگر شعرا کی طرح غزلوں کے ذریعہ اپنی شعری سفر کا آغاز کیا اور خواجہ آتش ؔ کو اپنا استاذ بنایا ،شوخی،عیش پسندی اور مز اج میں رنگینی بچپن سے ہی تھی ا ور اس ماحول میں ان صفات کا پیدا ہونا بھی ناگزیر تھا ،واجد علی شاہ کے دربار سے وابستہ ہوئے جہاں انہیں پانچ سو روپیے وظیفہ ملتا تھا،جو ن 1871 ؁ء کو لکھنؤ میں ہی ان کا انتقال ہوا ۔
شعری سرمایہ:
شوقؔ نے چوں کہ شاعری کا سفر غزل سے شروع کیا تھا ؛اس لیے غزلوں کے کچھ نمونے اور ایک واسوخت اور مثنویات ملتے ہیں،انتخاب مرزاشوقؔ کے مرتب شاہ عبدالسلام نے ان کے غزلوں کے نمونے مختلف مقامات سے یکجا کرکہ اکتالیس اشعار تک پہنچایا ہے ؛مگر ان کی غزلوں میں مکمل طور پر مثنوی کا رنگ غالب ہے،ان کی غزلیہ شاعری شوخی و ندرت ،سوز و گدازاور وارفتگی سے خالی ہے۔ غزلیہ شاعری کا نمونہ ؂
جلوے نہیں دیکھے جو تمہارے کئی دن سے اندھیر ہے نزدیک ہمارے کئی دن سے
غزل کے علاوہ ایک واسوخت ان کا ملتا ہے ،اس میں اکتالیس بند مسدس کی ہیئت میں ہیں ،ان کے واسوخت میں بند ش کی چستی اور طبیعت کی روانی دیکھی جا سکتی ہے نمونہ ؂
اب تو ہے اور ہی کچھ چہرۂ زیبا کی بہار دن میں آرائش تن ہونے لگی سو سو بار
مثنویات شوق:
مرزا شوق ؔ کا اصل سرمایہ ء شاعری ان کی مثنویات ہیں ان کی مثنویوں کے متعلق خلیق انجم نے لکھا ہے کہ’’نواب مرِزا شوق لکھنوی کی مثنویاں دبستان لکھنؤ کے ادبی ذخیرے کا قابل قدر حصہ ہیں ،یہ ٹھیک ہے کہ کہانی کے لحاظ سے تو ان کی تینوں مثنویاں فریب عشق ،بہار عشق اور زہر عشق کا احوال ایک سا ہے کہ نہ واقعات کے پیچ و خم ہیں ،نہ کردار نگاری کی رنگا رنگی ؛لیکن زبان لکھنؤ کی نفاست اور لطافت کی جیسی آئینہ داری یہ مثنویاں کرتی ہیں وہ بات دوسروں کے یہاں اس انداز سے نظر نہیں آتی‘‘(۱)انکی مثنویوں کی تعداد کے متعلق محققین میں اختلاف ہے ،خم خانۂ جاوید میں ان کی مثنویوں کی تعداد چار لکھی ہے ،بہار عشق،زہر عشق،فریب عشق اور لذت عشق ،عبدالماجد دریابادی نے اس تعلق سے اپنا خیال ظاہر کیا ہے کہ ’’مثنویاں منسوب تو ان کی جانب کئی ہیں ؛لیکن لذت عشق کی زبان قطعا شوقؔ کی زبان نہیں ‘‘(۲)گیان چند جین نے اس کے متعلق لکھا ہے کہ’’ اس کی زبان شوق تو درکنار اس عہد کے دوسرے مثنوی نگاروں سے بھی پست ہے،اس کی زبان پکار پکار کر کہ رہی ہے کہ میں شوقؔ کی تراوش خامہ نہیں ہوں‘‘(۳)ان کے علاوہ حالیؔ ،ڈاکٹر ابوللیث صدیقی اور امداد امام اثر نے چار مثنویوں کو ان سے منسوب کیا ہے؛مگر شوقؔ کے پہلے تذکرہ نگارعطاء اللہ پاؤی اور رشید حسن خاں نے تین ہی مثنویوں کو ان سے منسوب کیا ہے اور عطاء اللہ پالوی نے چوتھے مثنوی کو شوق کے بھانجے آغا حسن نظمؔ کی طرف منسوب کیا ہے ۔
فریب عشق:
ویسے تو اس میں بھی اختلاف ہے کہ شوقؔ کی پہلی مثنوی کون سی ہے ؛مگر راجح قول کے مطابق شوقؔ کی پہلی مثنوی فریب عشق ہے یہ 1846 ؁ء میں مکمل ہوئی ،اس میں 428اشعار ہیں ،اس مثنوی کا تعارف عطاء اللہ پالوی نے اس انداز سے کرایا ہے’’اس مثنوی کے ذریعہ اہل لکھنؤ کو علی الاعلان اس سے آگاہ کیا کہ اس وقت کربلا ،درگاہ اور وہ سارے مقامات مقدسہ جہاں جہاں مذہبی آڑلے کر اجتماع مردوزن ہو کرتا ہے شبستان عیش و آوارگی کا اڈہ بنے ہوئے ہیں اور ہماری عورتیں وہاں ہر گز تزکیہ ء نفس کیلیے نہیں ؛بلکہ تسکین نفس کے لیے جایا کرتی ہیں ‘‘۔
بہار عشق:
یہ مرزا شوقؔ کی دوسری مثنوی ہے 1847 ؁ء میں منظر عام پر آئی،اس میں 842اشعار ہیں ،یہ بھی اس عہد کی تہذیبی عکاسی کی آئینہ دار ہے،اس میں زبان ،محاورے اور روز مرہ کی چاشنی کے ساتھ ساتھ سادگی اور سلاست کی عمدہ مثال ہے ،سراپا نگاری بھی اس میں خوب ہے عطاء اللہ پالوی نے اسے عجیب و غریب مثنوی قرار دیا ہے ۔
زہر عشق:
شوقؔ کی تیسری مثنوی زہر عشق ہے،اس کی بھی سن تصنیف میں مختلف آراء نظر آتے ہیں ،شاہ عبدالسلام نے 1860 ؁ء سے1882 ؁ء کے درمیان قرار دیا ہے ،نظامی بدایونی نے 1861 ؁ء؛مگر اس باب میں بھی راجح قول رشید حسن خاں کا ہے ،انہوں نے سن تصنیف 1861 ؁ء کا قریبی زمانہ قرار دیا ہے ،اس میں 455اشعار ہیں ۔
مثنویات شوق ؔ کا ماخذ:
شوق ؔ کی مثنویوں کے اصل ماخذ کیا ہیں؟ اس سلسلہ میں بھی محققین آپس میں بہت اختلاف آراء کے شکار ہوئے ہیں،بعض حضرات نے مثنویات مومنؔ کو ماخذ قرار دیا ہے تو بعض نے میر اثر کے خواب و خیال کو الطاف حسین حالیؔ بھی انہیں لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے خواب و خیال کو ماخذ قرار دیا ہے ،اس سلسلہ میں راجح قول گیان چند جین نے پیش کیا ہے کہ’’حقیقت یہ ہے کہ شوقؔ نے اپنی مثنویوں کا موضوع خود ہی اختراع کیا ،محض وصل کے بیان میں اس نے دوسرے شعراء کے کلام کو پیش نظر رکھا ،بہار عشق میں میرؔ کے انداز میں تو صیف عشق بھی ہے ،یہ خیال کرنا صحیح نہیں ہے کہ شوقؔ نے کسی ایک شاعر سے متاثر ہوکر یہ مثنویاں لکھیں؛ بلکہ اس نے میر اثر ،مومن اور شاید قلق ؔ سب کے شعلہ سے اپنا چراغ روشن کیا ‘‘(۴)گیان چند جین دوسری جگہ اس انداز سے مومن ؔ اور شوقؔ کی مماثلت کو بیان کرتے ہیں ’’مومن ؔ اور شوقؔ کی مماثلت محض وصل کے اشعار تک محدود نہیں ،یہ محض الفاظ یا متفرق اشعار کی مماثلت نہیں ؛بلکہ مفہوم اور موضوع کی یکسانی ہے جس سے کوئی شبہ نہیں رہتا کہ شوقؔ نے مومنؔ کی تمام مثنویوں کا مطالعہ کیا تھا،ان کے خیالات اور الفاظ اس کے دماغ میں گھومتے رہتے تھے ؛لیکن شوق ؔ کی کوثر سے دھلی زبان،وحدت تاثراور شدت جذبات اس کی مثنویوں کو مومنؔ سے کہیں آگے بڑھا دیتی ہے‘‘(۵)۔رشید حسن خاں نے حالیؔ کے قول خواب و خیال سے ماخوذ کو اس انداز سے رد کیا ہے کہ ’’حالیؔ نے یہ جو لکھا ہے کہ خواب وخیال کے اکثر مصرع اور شعر بہار عشق میں تھوڑے تھوڑے تفاوت سے موجود ہیں تو یہ بات کسی بھی لحاظ سے درست نہیں ‘‘(۶)ان اقوال سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مثنویات شوقؔ کے اصل ماخذ کیا ہیں؟؛مگر یہ حقیقت مسلم ہے کہ شاعر جن چیزوں کا مطالعہ کرتا ہے اس کا کچھ نہ کچھ اثر تو اس کے کلام میں آتا ہی ہے ،صرف اس بنا پر کسی کلام کو مکمل طور پر ماخذ قرار دینا درست نہیں اور رہا مسئلہ مرزا شوقؔ کا تو انہوں نے جس انداز سے اس عہد کی تہذیبی عکاسی کی ہے کہ نہیں لگتا کسی ایک کے کلام سے مکمل ماخوذ ہو ۔
زہر عشق کا قصہ:
ایک دولت مند تاجر کی نہایت حسین و جمیل لڑکی تھی جو اکلوتی تھی جس کی وجہ سے اس کے والدین اس سے بے انتہا محبت کرتے تھے ،اس کی خوبصورتی کو اس اندازسے شوق ؔ نے بیان کیا ہے ؂
ثانی رکھتی نہ تھی وہ صورت میں غیرت حور تھی حقیقت میں
سبز نخل گل جوانی تھا حسن یوسف فقط کہانی تھا
ایک مرتبہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ وہ لڑکی بام پر گئی ،وہیں ایک پڑوسی لڑکے سے نگاہ چار ہوئی اور دونوں ایک دوسرے کے عشق میں مبتلا ہو گئے ،شوق ماما کے ذریعہ لڑکی نے خط بھجواکر اپنی محبت کا اظہار کیا ،اس کے بعد خط و کتابت کا سلسلہ شروع ہو گیا اور چھپ کر ملاقاتیں بھی شروع ہو گئیں ؛مگر لڑکی کے والدین اس حقیقت سے واقف ہو گئے اور انہوں نے لڑکی کو بنارس بھیجنے کا فیصلہ کر لیا ،اس سے لڑکی بہت دلبرداشتہ ہوئی اور اس نے جدائی پر موت کو ترجیح دینے کا فیصلہ کر لیا ،پھر آخری ملاقات ہوئی،لڑکی نے اپنے فیصلے سے لڑکے کو آگاہ کیا اور مختلف نصیحتیں کیں ،لڑکے نے سمجھانے کی کوشش کی؛مگر وہ نہیں سمجھی اور اس سے رخصت ہونے کے بعد زہر کھا لیا،لڑکا ابھی پس و پیش میں ہی مبتلا تھا کہ اس کی زندگی کا خاتمہ ہو گیا اور شور برپا ہوا جس کی وجہ سے عاشق کو اندازہ ہواکہ شاید وہ اپنا فیصلہ وفا کر گئی ؂
مر گئی تھی جو مجھ پہ وہ گلفام زندگی ہو گئی مجھے بھی حرام
اور عاشق نے بھی زہر کھا لیا جس کی وجہ سے تین دن تک غشی طاری ر ہی،اسی دوران اس نے لڑکی کو خواب میں دیکھا کہ وہ اپنی وصیت یاد دلا رہی ہے ،فورا لڑکے کو ہوش آگیا اور لوگ مبارکباد دینے لگے ۔
زبان و بیان:
زبان و بیان کے اعتبار سے یہ مثنوی امتیازی مقام رکھتی ہے ؛اس لیے کہ شوقؔ لکھنؤ کی بیگماتی زبان ،ضرب الامثال اور محاورات پر کافی دسترس رکھتے تھے ،انہوں نے جس سادگی،صفائی،بے ساختگی اور برجستگی سے اپنی مثنوی لکھی ہے کہ قاری کو ذ رہ برابر بھی اکتاہٹ کا احساس نہیں ہوتا اور وہ ان کے زبان و بیان میں کھو جاتا ہے ،ڈاکٹر شمیم انہونوی نے اس تعلق اس انداز سے اظہار خیال کیا ہے کہ ’’میر انیس اور مرزا شوق نے زبان و بیان کے ایسے کارنامے پیش کیے جن کی مثال لکھنوی ادب میں ملنی محال ہے،شوق کی مثنوی کی سب سے خاص خوبی اس کی سادہ و شستہ زبان ہے جہاں تکِ زہر عشق کی زبان کا تعلق ہے اس دور کی کوئی بھی شعری زبان اس پر سبقت نہیں لے جا سکتی ‘‘(۷)۔
کھاتے ہو نہ پیتے ہو نہ سوتے ہو روز اٹھ اٹھ کے شب کو روتے ہو
نہیں معلوم کون ہے وہ چھنال کر دیا میرے لال کا یہ حال
میرے بچے کی جو کڑھائے جان سات بار اس کو میں کروں قربان
زہر عشق کے کردار :
اس مثنوی میں عاشق و معشوق دونوں کے والدین ایک شوق ماما ا ور عاشق کے چند دوستوں کو بطور کردار پیش کیا گیا ہے ،اس میں سب سے اہم ، مضبوط اور جری کردار لڑکی کا ہے،کمال یہ ہے کہ اس میں کسی بھی کردار کا نام نہیں ہے ،صرف مہ جبیں سے فراقؔ نے محبوبہ کا نام متعین کرنے کی کوشش کی ہے ،عام طور پر داستانوں میں عاشق کی طرف سے اظہار عشق ہوتا ہے اور عاشق کو اپنی محبوبہ کو پانے کے لیے صحراؤں کے خار چھاننے پڑتے ہیں؛مگر اس مثنوی میں اس کے بر عکس محبوبہ ہی کی طرف سے اظہار ہوتا ہے ،پھر خط کا جواب اس انداز سے دیتی ہے جیسے چھیڑنے اور چڑھانے لے لیے خط لکھا ہو اور بے محنت و مشقت حاصل بھی ہو جاتی ہے اور فراق و جدائی سے اس قدر نفرت کرتی ہے کہ بہت جلد اپنی جان بھی قربان کر دیتی ہے اور لڑکا آخر تک گھبراتا اور بدنامی سے ڈرتا نظر آتا ہے ؂
کہ گئی تھی جو وہ کہ کھاؤں گی زہر میں یہ سمجھا کہ ہو گیا وہی قہر
گو حیا سے نہ اس کا نام لیا دونوں ہاتھوں سے دل کو تھام لیا
جذبات نگاری:
اس مثنوی میں جذبات نگاری بہت شدید ہے ،شوق کا کمال ہے کہ اس انداز سے انہوں نے جذبات کی عکاسی کی ہے کہ موہوم چیزیں بھی محسوس معلوم ہونے لگتی ہے اور انہیں جذبات فیصلوں پر ہی اس کہانی یلا تمثیل کا انحصار خواہ عاشق کی طرف سے جذبات کا اظہار ہو یا معشوقہ اور والدین کی طرف سے سخت سے سخت دل کو پگھلانے اور آنسو بہانے کی صلاحیت رکھتی ہیں ،آخری ملاقات میں جو مہ جبیں کی زبانی نصیحت ہے ا س سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے ؂
اشک آنکھوں سے مت بہائیے گا ساتھ غیروں کی طرح جائیے گا
آپ کاندھا نہ دیجیے گا مجھے سب میں رسوا نہ کیجیے گا مجھے
آنسو چپکے سے دو بہا لینا قبر میری گلے لگا لینا
عاشق کی زبانی اس انداز سے جذبات کا اظہار ہے ؂
مجھ پہ یہ دن تو کبریا نہ کرے تم مرو میں جیوں خدا نہ کرے
جان دیدوگی تم جو کھا کر سم میں بھی مر جاؤں گا خداکی قسم
آخری ملاقات کے منظر کے متعلق خواجہ احمد فاروقی نے لکھا ہے کہ ’’یہ منظر نہایت دل دوز ہے اور اثر انگیزی کے لحاظ سے شاید ہی اس کی کوئی مثال اردو لٹریچر میں مل سکے ‘‘(۸)
لکھنؤ کی تہذیبی جھلکیاں:
شوقؔ کی اس مثنوی میں سوزو گداز ،عمدگئی زبان،سلاست،سادگی ،حسن بیان اورمکالمہ نگاری کے ساتھ ساتھ لکھنؤ کی تہذب کی عکاسی بھی نظر آتی ہے ،مسجدوں میں روشنی کرنا ،درگاہوں میں چوکی بھرنا ،نظر بد سے بچنے کے لیے کالا دانہ اتارنا ،رائی لون نکالنا ،جمعرات کو درگاہوں کو جانا ،نوچندی میلہ ،مارے غم کے بال کھلے رکھ کر میت کے ساتھ جانا ،بر پر قرآن پڑھنا ،فاتحہ دینا،مٹی دینا،بن بیاہی لڑکی کے جنازے پر سہرا باندھنا اور منت بڑھانا وغیرہ لکھنؤ کی تہذیب کا حصہ تھا ،یہ چیزیں اس مثنوی میں نظر آتی ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مرزا شوق ؔ لکھنؤ کی تہذیب کو کس قدر باریکی سے جانتے اور اس کو مثنوی میں بیان کرتے ہیں ۔
زہر عشق کی ادبی اہمیت:
زہر عشق کے اندر وہ تمام خوبیاں اتم درجہ موجود ہیں جن کا کسی ادبی شہ پارے میں پایا جانا ضروری ہے ،مرزا شوق نے زبان و بیان محاورات و ضر ب الامثال ،شدت جذبات ،مکالمہ نگاری ،منظر کشی اور لکھنؤ کی تہذیب کو جس انداز سے اس مثنوی میں سمویا ہے یہ صرف اور صرف ان کا ہی حصہ ہو سکتا ہے؛یہی وجہ ہے کہ بڑے سے بڑے نقادان فن نے نہ صرف یہ اس کی ادبی اہمیت و افادیت کو تسلیم کیا ہے ؛بلکہ معرکۃ الاراء اور چوٹی کی مثنویوں میں اس کو شمار کیا ہے ،خواجہ احمد فاروقی نے اس کے متعلق لکھا ہے کہ ’’مثنوی زہر عشق اردو شاعری میں زبان و بیان ،سیرت نگاری ،نفسی واردات اور اپنےِ خیالی رنگ کے اعتبار سے بڑی مکمل چیز ہے ،اس میں لکھنؤ کے زوال پذیر ماحول کی اچھی ترجمانی کی گئی ہے ،اس مرقع میں جتنی تصویریں ہیں و ہ صاف اور روشن ہیں ‘‘(۹)سید سجاد ظہیر نے ا س کی ادبی اہمیت کا اس انداز سے اعتراف کیا ہے ’’مرزا شوق ؔ کی مثنوی زہر عشق تاثر،سلاست،شیریں بیانی،حقیقت نگاری اور گہری الم ناکی کی وجہ سے اردو ادب میں شاہکار کی حیثیت رکھتی ہے ‘‘،زہر عشق کے اندر چند فنی خامیاں ضرور ہیں جذبات نگاری میں اس قدر بہ گئے کہ عورت کی زبانی ایسے الفاظ کہلوا دیے جو بازاری عورتیں کہتی ہیں ،اسی طرح قافیہ کے التزام میں بھی ان سے چوک ہوئی ہے ؂
خاک میں ملتی ہے یہ صورت عیش پھر کہاں ہم کہاں یہ صورت عیش
اس شعر میں ایک جگہ قافیہ ہے اور دوسری جگہ کہاں ہے ،حالاں کہ قافیہ بندی میں اتحاد لازمی چیز ہے ،اس کے باوجود زبان وبیان اور دیگر فنی محاسن کا انہوں نے اس مختصر مثنوی میں ایسا جادو بکھیرا ہے کہ اس کی خامیوں نے بھی خوبیوں کا لبادہ اوڑھ لیا ہے ،پروفیسر گیان چند نے اس کی ادبی اہمیت کا ان الفاظ میں اعتراف کیا ہے کہ’’ہیروئن نے دنیا کے فانی ہونے پر جو عبرت انگیز تقریر کی ہے اردو مثنویوں میں اس کا جواب نہیں ،ا ن اشعار میں وہ ساری کیفیات ہیں جس کی نظیر مشکل سے ہی کسی زبان کے ادب میں ملے گی ،معصوم آنسوؤں کی بوندیں اشعار کے قالب میں ڈھل گئی ہیں ،زبان و بیان کے اعتبار سے شوق کی یہ مثنوی بے مثال ہے‘‘(۱۰)،اس کی ادبی اہمیت کے مسلم ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہی ہے کہ سحرالبیان اور گلزار نسیم کی طرح اس مثنوی کی تعریف میں نقادوں نے اس قدر لکھا ہے کہ کسی طویل مثنوی کے متعلق بھی اس قدر نہیں لکھا گیا۔
خلاصہ:
مثنوی زہر عشق ایک مختصر عشقیہ مثنوی ہے ،جو نواب مرزا شوقؔ کی معرکۃ الآراء تصنیف ہے ،اس میں جذبات و احساسات کو کردار کی زبانی اس سادہ ،صاف اور نادر الفاظ کے ذریعہ بیان کیا گیا ہے کہ اس کی نظیر نہیں ملتی ،چوں کہ شوقؔ نے اپنی پوری زندگی لکھنؤ میں بسر کی ؛اس لیے وہاں کی بیگماتی زبان اور تہذیب اور محاورات و ضرب الامثال پر کافی مہارت رکھتے تھے انہوں نے نہایت اچھوتے انداز میں وہاں کی تہذیب کو اشعار کے قالب میں ڈھالا کہ پوری دنیائے اردو ادب اسے ہاتھوں ہاتھ لینے پر مجبور ہو گئی اور آج بھی ا س کی اہمیت و افادیت مسلم ہے ،بعض حضرات نے ان پر ابتذال کا بھی الزام عائد کیا ہے ؛مگر یہ صحیح نہیں ہے انہوں نے جس معاشرہ کی تہذیب کو اپنی مثنوی میں جگہ دی ہے اگر اس کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو خود بہ خود الزام بے کار محض ثابت ہو جائے گا ۔
حوالہ جات:
(۱) مثنویات شوق صفحہ نمبر ۹(۲)ز ہر عشق مرتبہ مجنوں گورکھپوری ص:۵۶(۳)اردو مثنوی شمالی ہند میں جلد دوم ص:۵۱۱(۴)ایضاً ص:۱۲۱(۵)ایضاً ۱۲۱(۶)مثنویات شوق ص: ۱۳۲(۷)مثنوی زہر عشق مرتبہ ڈاکٹر شمیم انہونوی ص:۲۱(۸)رسالہ نواب مرزا شوق (۹)زہر عشق شمیم انہونوی ص:۳۲(۱۰)اردو مثنوی شمالی ہند میں ۱۲۵۔
9871523432

تصوف اور بھکتی : تضاد و مماثلت


عزیز سہولہ
ریسرچ اسکالر۔ جے این یو ۔ نئی دہلی
انسان کی پیدائش کا مقصد خد رضائے الٰہی کا حصول ہے۔مختلف ادیان میں رضائے الٰہی کے حصول کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے جاتے رہے ہیں جن میں سے تصوف اور بھکتی دو اہم طریقے ہیں۔جہاں ایک طرف تصوف اسلامی عبادت و ریاضت کا طریقہ ہے تو وہیں دوسری طرف بھکتی خالص ہندومت میں قرب خداو ندی کے حصول کا ذریعہ خیال کیا جاتا رہا ہے۔
تصوف دراصل نام ہے تزکیہ نفس کااور احسان کا ، عبادت و ریاضت کا، مجاہدہ و مراقبہ کا، دنیا سے علیحدگی اختیار کرکے یاد خدا میں محو ہونے کا، جبکہ بھکتی کا تصور اپنے آپ کو مصیبت و مشقت میں ڈالنا، دنیا و مافیہا سے بالکل بیزار ہوکر ایسی جگہ عبادت وریاضت کے لیے تلاش کرنا جہاں کوئی شناسانہ ہو۔گویا یہ رہبانیت اور سنیاس کی ایک شکل ہے جو ہندومت میں کافی مقبول رہی ہے۔
ہندومت میں بھکتی کے مقاصد میں نروان حاصل کرنا، مایا جال سے مکتی حاصل کرنا، اگر اگلا جنم ہوا تو انسانی جسم میں عود کرآنا اور اچھے جیون کی کلپنا کرناوغیرہ شامل ہیں جبکہ اسلام میں تصوف کا مقصد عبادت و ریاضت اور رضائے الٰہی کے حصول کے ساتھ ساتھ بندوں کے ساتھ حسن سلوک ، رواداری ، یتیموں ، فقراء و مساکین اور دیگر خلق خداوندی کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرنا ہے ۔ تصوف کی اہمیت کے مد نظر پروفیسر محسن عثمانی لکھتے ہیں:
“تصوف کی حقیقت کے لیے قرآن میں تزکیہ نفس اور حدیث میں احسان کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حقیقت تصوف کے بغیر شریعت کا ظاہری نظام جسد بے روح اور لاشۂ بے جان ہے اور یہ روح تصوف دین کا لب لباب ہے اور یہ اس قد ر بیش قیمت ہے کہ جان دے کر بھی اس کا حصول سستا ہے
متاع وصل جاناں بس گراں است
گر ایں سودابجاں بودے چہ بودے”
یا مرزا غالب کے الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں:
جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا۔
قرآن مجیدمیں تزکیہ نفس پر بہت زور دیا گیا ہے اس لیے قلب کی صفائی اور اچھے اخلاق کے حصول پر نجات اور کامیابی کا انحصار ہے۔قرآن کی اس آیت میں اسی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے “قد افلح من زکّٰھا وقد خاب من دسّٰھا” یعنی جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا وہ کامیاب ہوا اور جس نے اپنے نفس کو خراب اور گندہ کیاوہ ناکام اور نامراد ہوا۔ اس لیے تصوف کے حاملین ہمیشہ تزکیہ نفس اور مکارم اخلاق کے حصول کی فکر میں رہتے ہیں۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ تصوف جن خصوصیات اور کیفیات سے عبارت ہے ان کی حیثیت جسم میں روح کی ہے ۔
مماثلت
تصوف اور بھکتی کی تعلیمات میں بہت سی چیزیں مشترک ہیں جن کا اندازہ ان کے عہد کے مطالعے سے کیا جاسکتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ دونوں تحریکات کا دور ایک نہیں رہا مگر پھر بھی کچھ وقت کے لیے ایک دوسر ے کی معاصررہی ہیں ۔ ہندوستان میں تصوف کی ابتداتقریبا گیارہوں صدی میں ہوئی جبکہ ہندوستان سے باہر یہ دسویں صدی میں مقبولیت حاصل کرچکا تھا۔بھکتی جو ہندومت اور بدھ مت کا ملاپ تھی او ر بدھ مت سے بہت زیادہ متاثر تھی جنوبی ہندوستان میں آٹھویں صدی سے ہی اس کی شروعات ہو چکی تھی۔دونوں کا علاقہ بھی الگ الگ تھا جہاں انہوں نے اپنی تبلیغ کا کام انجام دیا۔ تصوف کا زور شمالی ہندوستان میں زیادہ رہا ۔ پنجاب، سندھ او ر بنگال میں سہروردی سلسلہ ، دہلی اور دوآبہ کے علاقے میں چشتیہ سلسلہ اور بہار میں فردوسی سلسلہ کا بہت زیادہ زور پر رہا جبکہ جنوبی ہند سے شروع ہوئی اور آہستہ آہستہ تمام ہندوستان میں پھیل گئی۔اس لیے انہوں نے اپنی تبلیغ مختلف زبانوں میں کی ، ان کی تعلیمات کے طور طریقے مختلف تھے مگر ان کے خیالات اور تعلیمات ایک تھیں۔تصوف اور بھکتی مندرجہ ذیل نکات میں مماثلت رکھتے ہیں:
*۔ وحدانیت:
تصوف اور بھکتی دونوں میں یہ نظریہ مشترک ہے کہ خدا ایک ہے اور مراقبہ و عبادت کے ذریعے ہی اس تک رسائی ہو سکتی ہے، خدا کے بہت سارے نام ہیں مگرپھر بھی وہ ان سارے ناموں کے باوجود ایک ہے۔یہ دونوں مذاہب یعنی اسلام اور ہندومت کے درمیان کی کھائی کو اس بات کے ذریعے ختم کرنا چاہتے ہیں کہ خدا ایک ہے اور ایک جیساہے اگر چہ اس کے بہت سے نام ہیں۔
*۔ استاد و شاگرد کا رشتہ :
دونوں نے اس بات پر زور دیا کہ قرب الٰہی کاحصول اس وقت زیادہ ممکن ہے جب کسی پیر یا گرو سے رہنمائی حاصل کی جائے جو ان تک علم کی رسائی کا ذریعہ ہو اور قرب خداوندی کے حصول کے راستوں کی طرف رہنمائی کرے۔ اس طرح دونوں میں پیر اور گرو کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ یہیں سے پیر مرید اور گرو ششیہ کی روایت شروع ہوئی۔یہ خیال کیا جاتا رہاہے کہ تصوف اور بھکتی کے طریقے میں ایسے روحانی پیر یا گرو کی رہنمائی بہت ضروری ہے جو خود علم رکھتا ہو اور اس مقام پر پہنچ گیا ہو کہ جہاں وہ براہ راست خدا سے ہم کلام ہو سکے۔ پیر مرید کے رشتے میں مرید کو مجاہدہ کے راستے پر چلنا ہوتا ہے خواہ وہ اسمائے خداوندی کاورد اور ذکر کرکے ہو یا جنانا(وہ علم جس کا ذکر ویدوں اور اپنشدوں میں آیا ہے۔ یہ وہی علم ہے جس کو کرشن جی نے راج ودیا کہا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی انسان اپنی پوری زندگی میں صرف یہی علم حاصل کرے اور اسی کی پریکٹس کرے تو اس کا مقصد پورا ہو گیا) کے ذریعے۔گرو ششیہ پرمپرا میں ششیہ کو پہلے اپنے آپ کو علم حاصل کرنے کے لیے تیار کرنا ہوتا ہے اورساری زندگی بھکتی کے راستے پر چلنے کے لیے تیار ہونا پڑتا ہے۔ گرو کے الفاظ اس کے لیے خدا کے الفاظ ہوتے ہیں۔گرو کا شکریہ ادا کرنے کے لیے ششیہ کو سیوا (خدمت)، ستسنگ (نیک انسان کی صحبت اختیار کرنا) اور بھجن کے لیے تیار ہونا پڑتا ہے۔کبیر نے پیر ومرید اور گرو ششیہ کے رشتے کی اہمیت کے بارے میں کہا ہے کہ اگر خدا اور گرو دونوں کسی ایسے انسان کے سامنے آجائیں جو معرفت حاصل کر چکا ہو تو اسے پہلے گرو کے سامنے جھکنا چاہیے کیونکہ یہ گروہی ہے جس نے اسے قابل بنایا کہ وہ اس خداکو دیکھ سکے جو خود اس کے اندر موجود ہے۔
*۔ علما ء او ربرہمنوں کی مخالفت:
تصوف اور بھکتی دونوں پرکٹّر علماء اور برہمنوں نے شدید نکتہ چینی کی ہے کیونکہ انہوں نے بھی ان کی کوئی پرواہ نہیں کہی۔ اکثر صوفیا اور بھکتی سنتوں نے بھی ان علماء اور برہمنوں پر تنقید کی ہے جنہوں نے لوگوں کو اندھیرے میں رکھا اور مذہبی صحائف کی غلط تفسیر و تشریح کی۔ دونوں میں اندھ وشواس، نسل، ذات، مذہب، جنس کی بنیاد پر کیے جانے والے امتیازات کی مخالفت کی گئی ہے۔
*۔ تصوف اوربھکتی میں رسومات کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی ہے بلکہ اس کے مقابلے انسانی خدمات کو زیادہ بڑی روحانی قربانی تصور کیا گیا ہے۔حضرت نظام الدین اولیاؒ کے مطابق عقیدت و دینداری اور جاں نثاری دو طرح کی ہوتی ہے ۔ایک لازمی اور دوسری متعدی۔ لازمی میں فائدہ اکیلے صرف عقیدت مند کو ہی پہنچتا ہے۔ اس قسم میں دعائیں ، اذکار، روزے، حج اور تسبیح پھیرنا وغیرہ شامل ہیں جبکہ متعدی میں دوسرے کی ضروریات کو مرکزیت حاصل ہوتی ہے ، اس عقیدت مندی کا اظہار دوسروں کی ضروریات اپنے پیسے سے پوری کر کے، لوگوں کے تئیں ہمدردی اور پیار ومحبت کا اظہار کر کے کیا جاتا ہے اور اس کا اجربے شمار ہے۔8
*۔ دونوں اس بات پر زوردیتے ہیں کہ دنیاوی زندگی مایا ہے اور یہ اس کی چمک دمک انسانی جسم کی طرح فانی ہے اور یہ دوبارہ خاک میں مل جائے گا۔کہا جاتا ہے کہ انسانی زندگی ایک خواب ہے ، ہو سکتا ہے ۶۰ سال ہو ، ہوسکتا ہے ۷۰ سال ہو یا اس سے کچھ زیادہ ہو ۔ جس دن انسان مرتا ہے یہ خواب ٹوٹ جاتاہے اور انسان کو محسوس ہوتاہے کہ اس نے سارا وقت مایا کے پیچھے بھاگنے میں گنوا دیا اور اس نے وہ کام کیا ہی نہیں جس کو کرنے کے لیے اسے کہ خوبصورت جسم عطا کیا گیا تھا۔تصوف اور بھکتی کے اصولوں کے مطابق انسانی جسم میں دس دروازے (سوراخ)ہوتے ہیں جن میں سے نو تو قدرتی ہوتے ہیں لیکن دسواں دروازہ وہ ہوتاہے جہاں سے خدائی نور داخل ہوتاہے اسی کو گرو نانک نے دسم دوار کہا ہے۔
*۔ بھکتی اور تصوف کا یہ ایک نظریہ ہے کہ خدا ہر ایک انسان کے اندر ہے وہ مسجدو مندرمیں نہیں ہے۔صرف عبادت وریاضت کرنا، مقدس صحائف کو پڑھنااور رسومات پر عمل کرناخدا سے ملاپ اور معرفت حاصل ہونے کی گارنٹی نہیں ہے۔اسی وجہ سے انہوں نے انسان دوستی اور مساوات پر بھی بہت زور دیا کیونکہ ان کی نظر میں اب انسان برابر ہیں۔
*۔ مقامی زبانوں کااستعمال:
تصوف اور بھکتی دونوں کے حاملین نے اپنی تعلیمات اور تبلیغ کے لیے مقامی زبانوں کا استعمال کیا جس سے مقامی اور ورناکولر زبانوں کا فروغ ہوا۔ یہ اسی زمانے کی بات ہے جب امیر خسرو نے فارسی اور ہندوی دونوں زبانوں میں اپنی نظمیں کہنا شروع کی تھیں۔وہ ایک مصرعہ فارسی میں لکھتے اور دوسرا ہندوی میں۔ بالکل اسی طرح ہندوستان کے مغربی حصے میں ایکناتھ اور رام دیو جسے بھکتی سنت سنسکرت کے استعمال پر سوال اٹھارہے تھے اور وہ کہہ رہے تھے اگر سنسکرت کو خدا نے بنایا ہے تو پھر پراکرت کو کس نے بنایا ہے۔اس لیے تصوف اور بھکتی سے تعلق رکھنے والے تقریباتمام حضرات ہندوی زبان کا ہی استعمال کررہے تھے۔
*۔ سلسلے اور خانوادے :
تصوف اور بھکتی دونوں میں ان کے مختلف افکار و نظریات کی بنا پر مختلف سلسلے ملتے ہیں ۔ تصوف میں جیسے سہروردی، چشتی، قادریہ، فردوسی اور نقش بندی وغیرہ۔اسی طرح اس دور کی بھکتی بھی دوحصوں میں بنٹی ہوئی تھی۔ جس کی پہلی شکل جنوبی ہندوستان آٹھویں صدی کے بعد سے شنکر آچاریہ سے شروع ہوئی۔ بعد میں اس کا احیاء بارہویں صدی میں راما نجا نے کیا اور چودہویں پندرہوں صدی تک یہ سارے شمالی ہندوستان میں پھیل گئی۔اس عہد کے سب سے نمایاں بھکتی سنت نام دیو، گیان دیو، رمن دیو، ولبھ چاریہ ، ایکناتھ ، چیتنیہ، کبیر ،روی داس، رائے داس اورنانک تھے۔ ان سب کاتعلق نرگن اسکول سے تھا جبکہ بھکتی کا دوسرااسکول سگن تھا جس میں میرا بائی، سہجو بائی اور تلسی داس بہت مشہور ہوئے ہیں۔ نرگن اسکول کے برخلاف ان لوگوں نے شری کرشن اور رام کی شکل میں مورتی پوجا کی۔
*۔ خدا سے متعلق شاعری، موسیقی اور ادب کو بڑھاوا دیا۔
*۔ سماج میں موجود مروجہ رسومات پر چوٹ کی۔
تضاد و مغایرت
لیکن ان تمام مماثلتوں کے باوجود اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ تصوف اور بھکتی کا مذہبی پس منظر الگ الگ ہے۔ بھکتی ایک شخصی خدا کی عبادت سے عبارت ہے اس لیے جنہوں نے شخصی خدا کی عبادت سے انکار کیاہے انہوں نے گرو میں الوہی صٖفات تلاش کر لی ہیں جبکہ تصوف میں شخصی خد ا کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے لہٰذا تصوف اور بھکتی کو ایک نہیں کہا جاسکتا۔ تصوف اور بھکتی کے تضا دکو مختصرا اس طرح سمجھا جاسکتا ہے:
*۔ تصوف قرآن و سنت کو چھوڑ کر خدا تک پہنچنے کی راہ نہیں ہے بلکہ اتباع سنت شریعت میں اخلاص کی راہ ہے جبکہ بھکتی نجات کی مستقل رہ تسلیم کر لی گئی ہے ۔ اس میں نہ پوجا پاٹھ کی پابندی ہے اورنہ عبادت وریاضت کی ۔ اگر عشق سچا ہے تو سچے عاشق کی نجات یقینی ہے خواہ وہ کتنا بھی گناہ گار کیوں نہ ہو۔
*۔ الوہیت:
تصوف میں قرب خداوندی تصور الوہیت میں شرکت کے ادنی سے ادنی احتمال سے بھی پاک ہے جبکہ بھکتی میں شرکت کا تصور موجود ہے۔
*۔ رسالت:
تصوف اور بھکتی میں عقیدہ توحید کی طرح عقیدہ رسالت میں بھی تضاد ہے ۔ اسلام میں انبیاء ور سل کے مبعوث ہونے کا عقیدہ ہے جبکہ بھکتی میں خدا اوتار کی شکل میں انسانی جسم میں ظہور پذیر ہوتاہے۔
*۔ آخرت:
دونوں میںآخرت کے بارے میں بھی تضاد ہے۔ تصوف کے مطابق ایک دن سب کو مرنا ہے اور ایک مقررہ وقت پر سب کو دوبارہ زندہ کیا جا ئے گا، حساب کتاب کیا جائے گا اور اچھے برے اعمال کے حساب سے اچھی یا بری زندگی ملے گی جو ابدی ہوگی لیکن بھکتی میں موکش یا نجات کا مطلب جیو آتماکا پرماآتما میں مل جاناہے اورجب تک ایسا نہیں ہوتا روح اپنے اعمال کے مطابق بار بار جنم لیتی رہتی ہے۔
اس سلسلے میں شمیم طارق صاحب کا یہ اقتباس نقل کرنا مناسب سمجھتا ہوں:
“عشق ہی دونوں کا مطلوب اور ایک ایسا درد ہے جو ہر درد کا درماں بن جاتا ہے۔ اس کے حاصل ہوتے ہی نفس کی ساری کدورتیں مثلاخودبینی، تن پروری،کینہ، حسد ، بغض وعداوت، دغا و مکر، نخوت وناموس ختم ہو جاتی ہیں۔ اس کے باوجود تصوف اور بھکتی کو ایک سمجھنا بہت بڑا مغالطہ ہے۔ دونوں کا مذہبی پس منظر اوراس پس منظر میں خداکا تصور الگ الگ ہے۔ بھکتی کی معراج آتما اور پر ماتما کا ملاپ ہے جبکہ و ہ تصوف جس کو سلوک راہ نبوت کہا گیا ہے خدا اور بندہ خدا میں دوئی یا عبودیت کی انسانیت کاحاصل قرار دیتا ہے۔بھکتی میں خدا تک پہنچنے کی اتنی ہی راہیں تسلیم کی گئی ہیں جتنی انسان کے جسم میں سانسیں ہیں، جبکہ صوفیا اتباع سنت و شریعت کو ضروری قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک استدراج یا طلب مدارج اور حصول مدارج بھی لازم و ملزوم نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ضروری نہیں کہ جو بھی مدارج کی طلب کرے اس کو اس کا حصول ہو جائے۔ تصوف اسلامی عقیدے کے متوازی کوئی اور عقیدہ اختیار کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ عقیدہ و عمل میں اخلاص کے ساتھ ایک طر ف اللہ سے اوردوسری طرف اس کے بندوں سے مخلصانہ رشتہ قائم کرنے کا نام ہے۔بھکتی میں قلبی واردات کے لیے کوئی قد غن نہیں ہے جبکہ صوفیا کسی ایسے کشفی علم کے قائل نہیں ہیں جس سے وحی کی اہمیت و حیثیت کی نفی ہوتی ہے۔ “َ ۔
کتابیات
تصوف اور بھکتی۔شمیم طارق۔انجمن اسلام اردو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ،ممبئی۔1999
اردو شاعری میں تصوف اور روحانی اقدار۔ڈاکٹر رضا حیدر۔غالب انسٹی ٹیوٹ۔ نئی دہلی۔2004
تصوف کے مسائل اور مباحث ۔ ڈاکٹرمرزا صفدر علی بیگ ۔الیاس ٹریڈرس۔شاہ علی بنڈ روڈ۔حیدرآباد۔1983
تصوف اور اہل تصوف۔مولانا سید احمد عروج قادری۔مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز۔نئی دہلی۔2001
مسائل تصوف۔میکش اکبر آبادی۔انجمن ترقی اردو (ہند)نئی دہلی۔2000

اردوادب کا عظیم باب ۔۔۔مرزا غالبؔ !

فروری کو مرزا غالبؔ کی یومِ وفات پر خصوصی مضمون
        محمد عباّس دھالیوال
اہل ادب میں جب کبھی شاعری کی بات چلتی ہے تو ایک نام جو خود بخود ذہن میں گردش کر جاتا ہے وہ ہے مرزا غالبؔ ۔۔! ایسا لگتاہے کہ مرزا غالب کے بغیر ہمارا اردو ادب اتنا ہی ادھورا ہے ،جتنا کہ محبت بے مثال نشانی تاج محل کے بغیر ہندوستان ۔! بات خیالات کی ندرت کی ہو یا تخیلِ اڑان کی یا پھر جدید نثر کے موجد کی ،غالب ہر جگہ سرفہرست زبان وادب کی امامت کرتے نظر آتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آج ڈیڑھ سو سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی، غالب کی نہ صرف شاعری بلکہ ان کی نثر کا جادو بھی اہل ادب کے سر چڑھ کر بولتا ہے یعنی اہل ادب میں غالب آج بھی اسی ذوق و شوق کے ساتھ پڑھے اور پڑھائے جاتے ہیں جو آج سے سو ڈیڑھ سو سال پہلے پڑھے یا پڑھائے جاتے تھے ایسا لگتا غالب کی تخلیقات کو ادبی دنیا میں کبھی زوال نہیں۔۔!اپنے جس منفرد انداز بیاں کے چلتے غالب آج بھی اہل ادب کے دلوں میں گھر کیئے ہوئے ہیں،اس منفرد انداز بیاں کا نہ صرف انھیں احساس تھا بلکہ اپنے ہم عصر شعراء سے جداگانہ روش اختیار کر کے چلنے پہ انھیں ناز بھی تھا یہی وجہ ہے کہ وہ اس بات کی خود اپنے منھ سے وضاحت کرتے نظر آتے ہیں کہ
ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور
قابل ذکر ہے کہ غالب کو اپنی فارسی شاعری پہ بے حد ناز تھا ۔لیکن انکی مقبولیت کا باعث انکا اردو واحد دیوان بنا ۔اس دیوان کی بدولت آج وہ اردو زبان ہی نہیں بلکہ دنیا کی دوسری زبانوں کے شعراء پر بھی فوقیت اور بر تری حاصل کیئے ہوئے ہیں۔
آج ہم غالب کی شاعری کے مختلف رنگوں پہ بات کرنے کے ساتھ ساتھ انکی نثریعنی اردو کا بیش قیمت سرمایہ سمجھے جانے والے ان کے خطوط پہ بھی روشنی ڈالنے کی کوشش کریں گے۔اس سے پہلے کہ ہم غالب کے کلام کو زیربحث لائیں ۔آئیے مختصراً ان کے حالات زندگی پر ایک نگاہ ڈالیں۔
مرزا غالب کا اصل نام اسد اللہ خاں بیگ تھا اور آپ کے والد کا نام عبداللہ بیگ تھا۔آپ کی پیدائیش 27دسمبر 1797کو آگرہ میں ہوئی ،غالب بچپن میں ہی یتیم ہوگئے ،اس کے بعد آپ کی پرورش آپ کے چچا نصراللہ بیگ نے کی ۔غالب ابھی آٹھ سال کی عمر کو ہی پہنچے تھے کہ آپ کے چچا بھی اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔اس کے بعد نواب احمد خاں نے آپ کے خاندان کا انگریزوں سے وظیفہ مقرر کروادیا،اسی بیچ 1810میں تیرہ سال کی عمر میں آپ کی شادی نواب احمد بخش کے چھوٹے بھائی مرزا الہی بخش کی بیٹی سے کر دی گئی ۔شادی کے بعد غالب نے اپنے آبائی وطن کو خیر باد کہتے ہوئے ہمیشہ ہمیش کے لیے دہلی میں مستقل سکونت اختیار کی اورتمام عمر اسی دہلی شہر میں فکر معاش و فکر روزگا ر کی جدو جہد میں صرف کردی ۔اسی بیچ ایک لمبے عرصہ کے بعدبہادر شاہ ظفرکے دربار میں بطور استاد شاعر جگہ ملی اوراس دوران آپ نجم الدولہ ،دبیرالملک ،مرزا نوشہ، اسد اللہ خان غالب بہادر نظام جنگ جیسے خطابات سے سرفراز ہوئے اور آخر کاراردو و فارسی زبان کا یہ عظیم شاعریعنی مرزاغالب 15فروری 1869کو اس جہان فانی سے رخصت ہوگئے اور اس وقت دہلی میں ہی نظام الدین کے قریبی قبرستان میں مدفن ہیں۔
غالب کی شاعری میں جا بجا قلندرانہ صوفیانہ رنگ ملتا ہے ایک شعر دیکھیں کہ
ہاں۔! بھلا کر تیرا بھلا ہوگا
اور درویش کی صدا کیا ہے
اس مختصرسی زندگی میں انسان کوکیا کیاتکلیفیں اور دکھ برداشت کرتا ہے کہ ایک قوت ایسا بھی آتا ہے کہ انسان زندگی میں ملے مسلسل دکھوں و رنج سے دل برداشتہ ہو کر رونے کو مجبور ہو جاتا ہے اور پھر وہ بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ
دل ہی تو نہ سنگ وخشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں
انھیں اس بات کا بھی احساس ہے کہ اللہ نے جس مقصد کے لیے انھیں اس دنیا میں بھیجا تھا اس کا حق اس سے شاید ادا نہ ہو سکا۔اسی کے چلتے وہ خود پہ طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ
کعبہ کس منھ سے جاؤ گے غالب
شرم تم کو مگر نہیں آتی
اسی غزل کے ایک دوسرے شعر میں موت کے معین و مقرر ہونے کی حکانییت کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ
موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
غالب کو اس بات کا بھی احساس تھا کہ اللہ پاک نے جو عقل سلیم اور تصوفانہ طبیعت وصلاحیت انھیں عطاکی ہے اگر وہ اس کا صحیح طریقہ سے یعنی خدا کے بتائے ہوئے احکام کے مطابق استعمال کرتے تو آج وہ یقیناًایک ولی کی حیثیت میں ہوتے۔ملاحظہ فرمائیں۔
یہ مسائلِ تصوف یہ تیرا بیان غالب
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
غالب کے کچھ اشعار ایسے بھی ہیں جن میں وہ صحابہ کی سوچ و فکر پہ پہرا دیتے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں۔جیسے کہ حضرت ابو بکرؓ جنکے تعلق سے اللہ کے آخری پیغمبر حضرت محمد ﷺ نے دنیا میں ہی جنتی ہونے کی بشارت دی ہے اس کے باوجود ابو بکرؓ یوم حشر میں اللہ کی بارگاہ میں پیش ہونے سے کس قدر ڈرتے تھے کہ فرمایا کرتے تھے کہ کاش میں کوئی درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا ،کبھی فرماتے کاش میں کوئی گھاس ہوتا کہ جانور اس کو کھالیتے ،کبھی فرماتے کاش میں کسی مومن کے بدن کا بال ہوتا۔ایک مرتبہ باغ میں تشریف لے گئے اور ایک جانور کو بیٹھا دیکھ کر ٹھنڈا سانس بھرا اور فرمایا کہ تو کس قدر لطف میں ہے کہ کھاتا ہے پیتا ہے ،درختوں کے سائے میں پھرتا ہے اور آخر میں تجھ سے کوئی حساب کتاب نہیں۔کاش ابوبکرؓ بھی تجھ جیسا ہوتا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مذکورہ واقع میں پیش کیے خیالات کی ترجمانی غالب نے اپنے درج ذیل اشعار میں کچھ اس انداز میں کی ہے کہ
نہ تھا کچھ تو خدا تھا ،کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے ،نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
غالب کو ا حساس تھا کہ ایک دن موت آنی ہے اور اس کے بعد انسان کو اپنے اچھے برے اعمال کا اللہ کے یہاں روز محشر میں حساب دینا ہے یہی وجہ ہے کہ اپنے وجود پہ پچھتاوے کا اظہار کرتے ہیں اور کہتے ہیں جب دنیا میں کچھ بھی نہیں تھا تو خدا تھا اگر یہ دنیا کی سبھی چیزیں انسان وغیرہ وغیری نہ ہوتے ،تب بھی خدا کی واحد ذات ہوتی ۔لیکن میرے ہونے نے گویا مجھے ہلاکت میں ڈال دیا ہے اگر میں دنیا میں پیدا نہ ہوا ہوتا تو روزِ جزا میں حساب کتاب دینے سے بچ جاتا ۔
ایک دوسرے شعرمیں پھر انہیں موت کے بعد روزِ قیامت گناہوں کی وجہ سے یا اللہ کی نافرمانی کرنے کی وجہ رسوا ہونے کا ڈر ستا رہا ہے اسی لیے وہ کہتے ہیں کہ
ہوئے مر کے ہم جو رسوا ،ہوئے کیوں نہ غرقِ دریا
نہ کبھی جنازہ اٹھتا ،نہ کہیں مزار ہوتا
اپنے ایک شعر میں غالب نے صاف کردیا ہے کہ جب تک انسان اس دنیا میں زندہ رہتا ہے تو زندگی نما اس قید خانہ میں سزا کی مانند اس کے ساتھ غم لگے رہتے ہیں اور موت سے پہلے ان غموں یا آزمائیشوں سے چھٹکارہ پانا مشکل ہے ۔اس لیے وہ انسان کو زندگی میں غموں کے ساتھ صبر وتحمل کے ساتھ گزر بسر کرنے کا درس دیتے نظر آتے ہیں۔ملاحظہ فرمائیں
قیدِ حیات و بند غم ،اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں
غالب میں یہ صفت تھی کہ اچھا شعر کسی کا بھی ہو وہ داد دینے میں ذرا بھی بخل نہیں کرتے تھے کئی مرتبہ تعریف اس قدر کرتے کہ وہ مبالغہ آرائی محسوس ہونے لگتی ،جب انھوں نے مومن کا یہ شعر سناکہ
تم میرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
تو برجستہ کہا کہ’’ کاش مومن میرا سارا دیوان مجھ سے لے لیتا اور یہ شعر مجھ کو دے دیتا‘‘
ایک دفعہ داغ کا یہ شعر بار بار پڑھتے اور خوب تعریف کرتے کہ
رخ روشن کے آگے شمع رکھ کر وہ یہ کہتے ہیں
ادھر جاتا ہے دیکھیں یا اِدھر پروانہ آتا ہے
خدائے سخن میر تقی میرؔ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے غالب کہتے ہیں کہ
ریختہ کے تمہیں استاد نہیں ہو غالب
کہتے ہیں کہ اگلے زمانے میں کوئی میربھی تھا
اس سے پہلے کے ہم غالب کے خطوط یا ان کے طرز تحریر کو زیر بحث لائیں ۔ہم اردو کے جدید شاعر اور پہلے نقاد و سوانح نگاریعنی مولانا الطاف حسین حالی جن کا شمار غالب کے ہونہار شاگردوں میں ہوتا ہے انہوں نے مرزا غالب کی زندگی کے شب وروز کو بہت قریب سے دیکھا۔وہ لکھتے ہیں کہ ’’ مرزا غالب کے اخلاق نہایت وسیع تھے وہ ہر ایک شخص جو ان سے ملنے جاتا تھا،بہت کشادہ و خندہ پیشانی سے لتے تھے ،جو شخص ان سے ایک دفعہ مل آتا تھا،اس کو ہمیشہ ان سے دوبارہ ملنے کا اشتیاق رہتا تھا۔دوستوں کو دیکھ کر باغ باغ ہو جاتے تھے۔انکی خوشی سے خوش اور انکے غم سے غمگین ہوجاتے تھے۔اس لیے انکے دوست جو ہر ملت و مذہب سے تعلق رکھتے تھے،نہ صرف دہلی میں بلکہ تمام ہندوستان میں بے شمار تھے۔‘‘حالی نے یاد گارغالب میں مرزاغالب کو ’’حیوان ظریف ‘‘ کہا ہے۔غالب کے ساتھ دوست احباب اگر رسماً بھی بات کرتے تو آپ اس میں بھی ظرافت کا پہلو نکال لیتے ۔ایک دفعہ جب رمضان گزر چکا تو قلعے میں گئے۔مرزا تم نے کتنے روزے رکھے ؟توغالب نے کہا ’’پیرو مرشد۔! ایک نہیں رکھا۔‘‘
مرزا غالب کے خطوط کے مطالعہ کے بعد یہ بات ثابت ہو جاتی ہے۔کہ ان کی تحریر میں ’’آورد نہیں‘‘ بلکہ آمد ہے ۔یہی وجہ ہے کہ حالی لکھتے ہیں کہ’’مرزا سے پہلے نہ کسی نے خط کتابت کا یہ انداز اختیار کیا اور نہ ان کے بعد کسی سے اس کی پوری پوری تقلید ہو سکی۔‘‘
بے شک غالب جدید اردو نثر کے موجد تھے آپ کی اس خصوصیت کا ذکر کرتے ہوئے شبلی نعمانی لکھتے ہیں کہ’’اردو انشاء پردازی کا آج جو انداز ہے جس کے مجدد اور امام سر سید مرحوم تھے اس کا سنگ بنیاد دراصل مرزا غالب نے رکھا تھا۔‘‘اسی ضمن میںیعنی مکاتیب غالب کی صفت بیان کرتے ہوئے شیخ اکرم کہتے ہیں کہ’’غالب نے دہلی کی زبان کو تحریری جامہ پہنایا اور اس میں اپنی ظرافت کی گلکاریاں کیں کہ اردو معلی خاص و عام کو پسند آئی اور اردو نثر کے لیے ایک طرزِ تحریر قائم ہو گیا ۔جس کی پیروی دوسروں کے لیے لازم تھی۔‘‘
دراصل غالب کے خطوط انکی زندگی اور اس وقت کے سیاسی عروج و زوال کے دستاویزاہیں۔وقار عظیم اس ضمن میں لکھتے ہیں کہ’’غالب کے خط جتنے زیادہ ان کے عہد کے سیاسی تہذیبی اور معاشرتی انقلاب کی دلکش روداد ہیں۔اس سے بھی زیادہ لکھنے والے کی زندگی کا آئینہ ہیں۔اس آئینے میں غالب کی بھرپور زندگی کا عکس دیکھائی دیتا ہے‘‘
غالب نے جس منفرد طرز تحریر کو ایجاد کیا اسکو آج کی زبان میں ا مکتوب نگاری کا دبنگ انداز کہہ سکتے ہیں غالب خود لکھتے ہیں کہ ’’میں نے وہ انداز تحریر ایجاد کیا ہے کہ مراسلہ کو مکالمہ بنا دیا ہے۔۔‘‘
غالب کے خطوط میں جو لطافت کی چاشنی پائی جاتی ہے یہ انھیں کا حصہ تھا۔دراصل غالب خطوط کو روح کی خوراک سمجھتے تھے ایک خط میں لکھتے ہیں کہ’’تمہارے خط کے آنے سے وہ خوشی ہوتی جو کسی دوست کے دیکھنے سے ہو۔۔‘‘ایک اور خط میں تفتہؔ کو لکھتے ہیں’’میں اس تنہائی میں صرف خطوں کے سہارے جیتا ہوں۔یعنی جس کا خط آیا۔میں نے جانا وہ شخص تشریف لایا۔خدا کا احسان ہے کہ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جو اطراف جوانب سے دوچار خط نہیں آرہتے ہوں۔۔دن انکے پڑھنے میں اور جواب لکھنے میں گزر جاتا ہے‘‘
خط لکھتے وقت ضرور سوچتے کہ مکتوب الیہ انکے خط کے جواب کیا لکھ سکتاہے اور انکو اس کے جواب میں پھر کیا لکھنا ہے چنانچہ ایک شعر میں کہتے ہیں کہ
قاصد کے آتے آتے ایک خط اور لکھ رکھوں
میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں
اسی طرح انکے کلام میں مختلف جگہ اس کی جھلکیاں صاف دیکھی جاسکتی ہیں جن سے انکی خطوط سے رغبت کا صاف پتا چلتا ہے۔ملاحظہ فرمائیں چند اشعار۔۔
خط لکھیں گے گر چہ مطلب کچھ نہ ہو
ہم تو عاشق ہیں تمہارے نام کے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر لکھوائے کوئی اس کو خط تو ہم سے لکھوائے
ہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے
ایک مفکر نے کہا ہے کہ’’کسی فن پارے پر برسوں گذر جائیں اور تب بھی پڑھا جاتا رہے تو یہ اس کی عظمت کی دلیل ہے ‘‘ مفکر کا مذکورہ قول یقیناغالب کی تخلیقات پہ بالکل صادق آتا ہے۔اس لیے کہ ابھی حال ہی میں گوپی چند نارنگ کی غالب سے وابستہ(معنی آفرینی ،جدلیاتی وضع ،شونیتا اورشعریات ) اردوزبان کی کتاب کا ترجمہ انگریزی میں سریندر دیول نے (GHALIB ..Innvative Meanings and the Ingenious Mind)کے نام سے کیا ہے۔ جو کہ گزشتہ مہینے ہی آکسفورڈیونیورسٹی پریس کی جانب سے قارئین کے لیے منظر عام پہ لائی گئی ہے۔اس کتاب کے مطالعہ کے بعد اپنا تاثرپیش کرتے ہوئے معروف نغمہ نگار و فلم ساز گلزار لکھتے ہیں(After reading this book one feels enriched and englightened by a master scholer”s word on Ghalib)
غالب وہ عظیم شخصیت تھے جنکی شاعری و نثر وقت مقام اور زبان کی قید سے آزاد ہے۔اور انکی تخلیقات میں وہ حسن و دلکشی پوشیدہ ہے جس کو ادب کی دنیا میں انشااللہ رہتی دنیا تک زوال نہیں ۔۔۔
آخر میں غالب کے الفاظ میں ہی انکو خراج عقیدت پیش کرنا چاہوں گا کہ
ہوئی مدت غالب مر گیا پر یاد آتا ہے
وہ ہر اک بات پہ کہنا ،کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا
ٌمالیر کوٹلہ ،ضلع سنگرور،پنجاب *
Ph. 09855259650
Abbasdhaliwal72@gmail.com

انقلابی شاعر فیض احمد فیضؔ فن و شخصیت

فیض احمد فیض کی یومِ پیدائیش 13فروری کے ضمن میں خصوصی مضمون

                                                                                                                                                         محمد عبّاس دھالیوال
اردومیں جب بڑے شعراء کی بات چلتی ہے تو غالبؔ اور اقبال کے بعد بیسویں صدی کے سب سے بڑے شاعر کے طورپر فیض احمد فیضؔ کا    نام سرِ فہرست ابھر کرسامنے آتا ہے۔فیض کی پیدائیش ہندوستان کی تقسیم سے قبل سیالکوٹ موجودہ پاکستان کے معزز گھرانے میں 13 فروری 1911ء کو ہوئی ،آپ کے والدچودھری سلطان محمد خان اپنے وقت کے ایک نامی بیرسٹر تھے۔فیض نے ابتدائی مذہبی تعلیم مولوی محمدابراہیم میر سیالکوٹی سے حاصل کی۔اسکے بعد 1921ء میں آپ نے اسکاچ مشن اسکول سیالکوٹ میں ایڈمیشن لیا اور 1927ء میں میٹرک کا امتحان پہلے درجہ میں نمایاں پوزییشن کے ساتھ پاس کیا ،ساتھ ہی آپ نے عربی اور فارسی کی تعلیم بھی حاصل کی اور ایف ۔اے کا امتحان بھی وہیں سے پاس کیا ۔یہاں قابل ذکر ہے کہ شمس الحق جنھوں نے کبھی علامہ اقبال کو پڑھایا تھا ،اسی قابل استاد کی ذات سے فیض احمد فیض بھی مستفیض ہوئے .۔بی ۔اے اور ایم ۔اے انگلش کا امتحان اس وقت نے نامی ادارہ گورمنٹ کالج لاہور سے پاس کیا ۔اسکے بعد فیض نے اورینٹل کالج لاہور سے 1932ء میں فارسی میں ایم ۔اے کی۔اسی بیچ آپ کی ملاقا ت ڈاکٹردین محمد تاثیر کی لندن نزاد بہن ایلسا سے ہوئی ،ایلساجو کہ کیمونسٹ پارٹی کی سرگرم رکن تھیں ۔انھیں سے 1941میںآپ کی شادی ہو گئی اور دو بیٹیاں سلیمہ اورمنیزہ ہاشمی پیدا ہوئیں۔ 1942.ء میں فیض احمد فیض کی بطور کیپٹن فوج میں تقرری ہوئی اور اس فیلڈ میں بھی اپنی قابل قدر خدمات دیتے ہوئے آپ نے لیفیٹینٹ کے عہدے تک ترقی حاصل کی۔1947ء میں آپ فوج سے مستعفی ہو کر واپس لاہو ر تشر یف لے آئے ۔فیض نے ایک مدت تک جلاوطنی کی زندگی گزاری، 9 مارچ 1951 ء کو آپ کو راولپنڈی سازش کیس میں معاونت کے الزام میں حکومتِ پاکستان نے گرفتار کر لیا۔اِس دوران فیض نے اپنی زندگی کے چار سال سرگودھا ،ساہیوال،حیدرآباد اور کراچی کی جیل میں کاٹے زنداں نامہ کی بیشتر نظمیں فیض کی جیل کے دنوں کی ہی سر گزشت بیان کرتی ہیں اسکے بعد آخر کار انھیں 12اپریل 1955 ء کو جیل سے رہا کر دیا گیا ۔
1959ء سے 1962تک فیض نے پاکستان آرٹس کونسل میں بطور سیکریٹری اپنی خدمات دیں ۔پھر لندن چلے گئے اور واپسی پر 1964میں عبداللہ ہارون کالج کراچی میں بطور پرنسپل اپنی خدمات بحسنِ خوبی انجام دیں۔فیض کے متعلق یہ بات ادبی حلقوں میں مشہور ہے کہ وہ آزادی کے شاعر تھے۔انھیں مزاحمت کا شاعر گردانا جاتا ہے۔فیض نے جہاں ویت نام میں امریکہ کے خلاف مزاحمت کی حمایت کی وہیں انھوں نے فلسطین کی تحریکِ مزاحمت کی بھی بھرپور حمایت کی اور اسکے لیے گیت بھی لکھے،اسکی شاید بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ فلسطین کی تحریکِ آزادی کے قائد یاسر عرافات بھی ایک سوشلسٹ تھے اور انکی شہرت ایک روس نواز رہنما کی تھی۔لیکن جب سوویت یونین نے افغانستان میں مداخلت کی تو فیض کی خاموشی پر تنقید کرنے والے کہتے ہیں کہ افغانستان کی جدو جہد آزادی کے لیے انھوں نے نہ کوئی نظم لکھی ،نہ مضمون تحریر کیا،نہ ہی کوئی بیان جاری کیا۔
اس سے پہلے کہ ہم فیض کی شاعری کو مطالعہ میں لائیں آئیں ہم دیکھیں کہ خود فیض شاعر کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ’’ شاعر کا کام محض مشاہدہ ہی نہیں،مجاہدہ بھی اس پر فرض ہے،گردو پیش کے مضطرب قطروں میں زندگی کے دجلہ کا مشاہدہ،اسکی بینائی پر ہے،اسے دوسروں کو دکھانا اس کی فنی دسترس پر،اس کے بہاؤ میں دخل انداز ہونا اس کے شوق کی صلاحیت اور لہوکی حرارت پر۔اور یہ تینوں کام مسلسل کاوش و جدو جہد چاہتے ہیں‘‘
آئیے اب ہم فیض کے کلام کو دیکھتے ہیں جس کلام کی بدولت وہ اپنے ہم عصر شعراء کے بیچ موجود ہوتے ہوئے بھی وہ اپنے فن میں ا
ن سے جدا منفرد نظر آتے ہیں۔
خزاں وبہار کو کیا خوب انداز میں پیش کیا ہے ملاحظہ فرمائیں۔
اب وہی حرف جنوں سب کی زباں ٹھہری ہے
جو بھی چل نکلی ہے وہ بات کہاں ٹھہری ہے
آتے آتے یوں ہی دم بھر کو رکی ہوگی بہار
جاتے جاتے یوں ہی پل بھر کو خزاں ٹھہری ہے
ایک اور جگہ فیض کا منفرد رنگ دیکھیں کہ
کسی کا درد ہو کرتے ہیں تیرے نام رقم
گلہ ہے جو بھی کسی سے ترے سبب سے ہے
اگر شرر ہے تو بھڑکے،جو پھول ہے تو کھلے
طرح طرح کی طلب ، تیرے رنگِ لب سے ہے
کہاں گئے شب فرقت کے جاگنے والے
ستارہء سحری ہم کلام کب سے ہے
ایک اور جگہ کچھ اس انداز میں محبوب سے ہم کلام ہیں کہ
شرحِ فراق،مدحِ لبِ مشکبو کریں
غربت کدے میں کس سے تری گفتگو کریں
یار آشنا نہیں کوئی ٹکرائیں کس سے جام
کس دلربا کے نام پہ خالی سبو کریں
سینے پہ ہاتھ ہے ، نہ نظر کو تلاشِ جام
دل ساتھ دے تو آج غمِ آرزو کریں
کب تک سنے گی رات،کہاں تک سنائیں ہم
شکوے گلے سب آج ترے روبرو کریں
’’تر دامنی پہ شیخ ،ہماری نہ جائیو‘‘
دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں
ایک جگہ فیض کہتے ہیں کہ
متاعِ لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے
کہ خونِ دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے
زباں پہ مہر لگی ہے تو کیا کہ رکھ دی ہے
ہر ایک حلقہء زنجیر میں زباں میں نے
مفلسی کی تشریح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ
مفلسی میں وہ دن بھی آئے ہیں
ہم نے اپنا ملال بیچ دیا
محبوب کو یا د کرنے کا بہانہ دیکھیں کہتے ہیں کہ
تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں
کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں
ایک اور جگہ یاد کے تعلق سے کہتے ہیں کہ
کر رہا تھا غمِ جہاں کا حساب
آج تم یاد بے حساب آئے
ایک جگہ کچھ اس طرح سے رقمطراز ہیں کہ
کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں کب ہات میں تیرا ہات نہیں
صد شکر کہ اپنی راتوں میں اب ہجر کی کوئی بات نہیں
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی بات نہیں
گر بازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگا دو ڈر کیسا
گر جیت گئے تو کیا کہنے ہارے بھی تو بازی مات نہیں
بہار اور خزاں کے پل بھر کے ٹھہرنے کا کیا خوب سماں باندھا ہے۔
اب وہی حرف جنوں سب کی زباں ٹھہری ہے
جو بھی چل نکلی ہے وہ بات کہاں ٹھہری ہے
آتے آتے یوں ہی دم بھر کو رکی ہوگی بہار
جاتے جاتے یوں ہی پل بھر کو خزاں ٹھہری ہے
غمِ روزگا کا ایک جگہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ
دونوں جہاں تیری محبت میں ہار کے
وہ جا رہا ہے کوئی شبِ غم گزار کے
دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کر دیا
تجھ سے بھی فریب ہیں غم روزگار کے
ہجر و فراق کے موضوع ایک جگہ کیا خوبصورت انداز میں قلم بند کیا ہے آپ بھی ملاحظہ فرمائیں۔
شام فراق اب نہ پوچھ آئی اور آکے ٹل گئی
دل تھا کہ پھر بہل گیاجاں تھی کہ پھر سنبھل گئی
بزم خیال میں ترے حسن کی شمع جل گئی
درد کا چاند بجھ گیا ہجر کی رات ڈھل گئی
اردوادب کو اپنی منفر د قسم کی انقلابی شاعری کی سے روشناس کرنے والایہ شعر و ادب کی دنیا کامنور ستارہ یعنی فیض احمد فیض آخر کار 20نومبر1984کو لاہور میں اس دنیائے فانی سے ہمیشہ ہمیش کے لیے غروب ہو گیا ۔
*مالیر کوٹلہ ،ضلع سنگرور پنجاب
Phone.09855259650
abbasdhaliwal@gmail.com

گل بہ داماں ہوئی جاتی ہے سرزمینِ دکن

حیدرآباد میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے چھبیسویں اجلاس کا انعقاد

عبدالرشید طلحہ نعمانیؔ

“حیدرآباد دکن” اپنی تہذیبی روایات،گوناگوں خصوصیات اور ثقافتی امتیازات کی بناء پر نہ صرف برصغیر؛بلکہ دنیابھر میں اپنی نمایاں شناخت اور منفرد پہچان رکھتاہے۔
اردو ادب کی نشوونما کے حوالے سے اولین حیثیت رکھنے والے اس خطۂ ارض میں جہاں مختلف تحریکوں کو پھلنے پھولنےاور محدود سے لامحدود ہونے کا موقع ملا وہیں ملی تشخص،شعائر اسلام کے تحفظ اور شریعت مطہرہ کی صیانت کے لیے تازہ اور گرم خون بھی وافر مقدار میں یہیں سے مہیا ہوا ،یہاں کے بیدارمغز،علم دوست اور علماء پرور مسلمانوں اور حکمرانوں نےملک و ملت کی تعمیر و ترقی کےتئیں پورےجوش وخروش کے ساتھ ؛جس دینی غیرت اور ایمانی حمیت کا مظاہر کیا اس کی نظیر پیش کرنےسے تاریخ ہند عاجز و قاصر ہے۔
دکن کی تاریخی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ بزرگان دین کا مسکن ومدفن ،محققین و  مصلحین کا منبع و مرکز اور  علم وفضل کا ہر دور میں گہوارہ  ومرجع رہاہے؛اسی لیےموقع بہ موقع مختلف ادیبوں اور شاعروں نے اس سرزمین  کے گن گائے ہیں ،پوری دل چسپی کے ساتھ یہاں کی روایات کا ذکر کیاہے اور  حالی مرحوم نےتو اس کی مقناطیسی کشش اور جاذبیت و دل کشی  کا اس طرح اظہار کیاہے  ؎
یہ مقولہ ہند میں مدت سے ہے ضرب المثل
جو کہ جا پہچا دکن میں بس وہیں کا ہو رہا
جانشین فصیح الملک حضرت داغ دہلوی جو میر محبوب علی خان آصف سادس کے استاد تھے، حیدرآباد دکن آکر یہیں کے ہو رہے پھر یہاں کی آب و ہوا،ماحول و معاشرہ،پھل پھول اور دیگر امتیازی خصوصیات پر سینکڑوں اشعار لکھے،ایک مقام پرفرماتے ہیں ؎
نر گسِ باغ کو بھی ہم نے نہ دیکھا بیمار
حیدرآباد کی کیا آب و ہوا اچھی ہے
حیدرآباد رہے تابہ قیامت قائم
یہی اب داغ مسلمانوں کی اِک بستی ہے
1910عیسوی میں شاعر مشرق علامہ اقبال حیدرآباد دکن آئے،اور یہاں کی سرسبز و شاداب ،زرخیزو مردم ساز سرزمین سےمتاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے،نتیجۃً اس سفر کی یاد گار میں دو معرکتہ الآراء طویل نظمیں لکھیں ،ایک نظم سے چند منتخب اشعار ملاحظہ فرمائیں! ؎
خطہ جنت فضا جس کی ہے دامن گیردل
عظمتِ دیرینہ ہندوستان کی یادگار
جس نے اسم اعظم محبوب کی تاثیر سے
وسعت عالم میں پایا صورتِ گردوں وقار
شاعر انقلاب جوش ملیح آبادیـــــ جن کی شاعری حیدرآباد دکن کے علمی ماحول میں پروان چڑھی اور جوان ہوئیـــــ نےجب سقوطِ حیدرآباد کے بعد اس سرزمین پر دوبارہ قدم رکھا تو اس خطۂ ارضی سے اپنے بےپناہ تعلق،اہلِ دکن کے ساتھ اپنی گہری وابستگی ، والئ ریاست سے شکوہ شکایت، باشندگان دکن سے اپنی بےاندازہ محبت اور حیدرآباد کے ذرہ ذرہ سے جذباتی لگاؤکو ایک نظم میں اس طرح بیان کیا:   ؎
حیدرآباد! اے فگارِ گل بداماں السلام
السلام اے قصۂ ماضی کے عنواں السلام
تو نے کی تھی روشنی میری اندھیری رات میں
مہر و ماہ خوابیدہ ہیں اب بھی ترے ذرات میں
میرے قصرِ زندگی پر اے دیارِ محترم
تو نے ہی کھولا تھا ذوقِ علم کا زریں علم
آمدم برسر مطلب:
اسی مردم ساز اور زرخیز سرزمین پر اسلامیان ہند کی واحد نمائندہ تنظیم ،مسلمانوں کے دلوں آواز،مختلف مسالک  کا حسین وجمیل امتزاج” آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ” کا 26واں اجلاس عام9/10/11فبروری کو نہایت تزک واحتشام کے ساتھ منعقد ہونے جارہاہے۔
حالات حاضرہ کو سامنے رکھتے ہوئےموضوع کی حساسیت کے پیش نظر ہرزبان اسی کے ذکر سے تر  ،ہرنظر اسی جانب مرکوز ،دل و دماغ اسی  فکر میں غلطاں کہ اس بار حیدرآباد میں منعقد ہونے والا یہ اجلاس مسلمانوں کے لیے  کیا پیغام  لائے گا ؟طلاق ثلاثہ سے متعلق کیا حکمت عملی اختیار کی جائے گی ؟بابری مسجد کے حوالے سے کیا لائحہ عمل بنایا جائے گا ؟ وغیرہ وغیرہ
پرسنل لا بورڈ کے ذرائع نے بتایاکہ اس سہ روزہ پروگرام میں  پہلے دن بورڈ کی مجلس عاملہ کا اجلاس منعقد ہوگا اور بقیہ دو دن تک اجلاس عام رہے گا؛ جس میں طلاق ثلاثہ بل پرغور وخوض کیا جائے گا۔بورڈ کے اس اجلاس میں مثالی نکاح نامہ میں جوڑے جانے والے نئے کالم پر غور و خوض کیا جائے گا جس کے تحت مرد کو یہ وعدہ کرنا ہوگا کہ وہ ، بیک وقت تین طلاق نہیں دے گا ،مثالی نکاح نامہ میں اس نئے کالم کے اضافہ سے طلاق ثلاثہ کی روک تھام میں مدد ملے گی ۔ مسلم پرسنل لا بورڈ‘ اس بل کو جس میں طلاق ثلاثہ کو جرم قرار دیا گیا ہے ، مسلم پرسنل لا ء میں مداخلت تصور کرتا ہے ۔ بورڈ، اصلاح معاشرہ میں پیش رفت کا بھی جائزہ لے گا،ملک بھر میں اصلاح معاشرہ کیلئے مہم چلائی جارہی ہے؛جس کا اہم مقصد سماجی برائیوں جیسے جہیز کی لعنت اور طلاق ثلاثہ کے خلاف عوام میں شعور بیدار کرنا ہے ۔ اجلاس میں بورڈ‘ ملک کی مختلف عدالتوں میں مسلم پرسنل لاء سے مربوط معرض التواء درخواستوں کا بھی جائزہ لےگا اور اس بات کی کوشش کی جائے گی کہ کس طرح شریعت کا تحفظ کیاجائے۔
علاوہ ازیں سوشیل میڈیا پلیٹ فارم کے موثر استعمال پر بھی غور ہوگا ۔ بورڈ کے سہ روزہ اجلاس میں 600 کے قریب ممتاز مسلم شخصیتیں شرکت کریں گی ؛ جن میں مذہبی اسکالرس، مسلم تنظیموں کے سربرہان ، سیاست داں، وکلاء، ماہرین تعلیم اور مختلف شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے مسلم دانشور شامل ہیں۔ بورڈ کی 51رکنی مجلس عاملہ میں 5 خاتون ارکان بھی شامل ہیں۔ مجلس عاملہ کا اجلاس9فروری ( جمعہ ) کی شام منعقد ہوگا ۔ سکریٹری جنرل مولانا سید ولی رحمانی بورڈ کی سرگرمیوں اور گذشہ سال منعقدہ بورڈ کی مجلس عاملہ کے اجلاس کی روئیداد پیش کریں گے ۔ بورڈ کے اجلاس عام میں جو دوسرے دن منعقد ہوگا، بورڈ کے ارکان اور مدعوین شرکت کریں گے ۔ بورڈ کے تاسیسی ارکان کی تعداد 102 ہے جبکہ جنرل ارکان149 ہیں ان میں30، خاتون ارکان بھی شامل ہیں۔ اجلاس میں بعد مشورہ سالانہ بجٹ منظور کیا جائے گا ۔ بورڈ کی تمام ذیلی کمیٹیوں جیسے بابری مسجد ، اصلاح معاشرہ اور شعبہ خواتین کے صدور، اپنی رپورٹ پیش کریں گے۔دکن کالج آف میڈیکل سائنسس کنچن باغ میں منعقدشدنی مسلم پرسنل لا بورڈ کے اجلاس کی تیاریاں تقریباً مکمل ہوچکی ہیں، کالج کی تعمیر جدید انڈور اسٹیڈیم میں جہاں بورڈ کا اجلاس منعقد ہوگا ‘ بڑے پیمانے پر انتظامات کئے گئے ہیں۔ تین روزہ اجلاس کا اختتام ‘ دارالسلام میں منعقد شدنی جلسہ عام سے ہوگا ۔ یہ جلسہ عام11فروری کو دارالسلام میں مقرر ہے۔
اس موقع پر مناسب ہوگا کہ یہاں بورڈ کے قیام کا پس منظر اور اس کے اہداف و مقاصد پر بھی مختصر روشنی ڈالی جائے ۔
بورڈ کے قیام کا پس منظر :
ہندوستان میں صدیوں مسلمانوں کی حکومت رہی؛اسی لیےزندگی کے بہت سے شعبوں میں اسلامی قانون نافذالعمل رہا ؛لیکن بدقسمتی سے جب انگریز اس ملک پر مسلط ہوئے تو ایک منظم سازش کے تحت  آہستہ آہستہ قانون اسلامی کے مختلف شعبوں کو ختم کیاجاتارہا ، سب سے پہلے 1866ء میں حکومت برطانیہ نے فوجداری قانون کو ختم کیا، پھر قانون شہادت اور قانون معاہدات منسوخ کئے، بالآخر نوبت بہ ایں جا رسید کہ  ’’معاشرتی قوانین‘‘ مثلاً نکاح وطلاق، خلع و میراث وغیرہ میں ترمیم و تنسیخ کی بات ہونے لگی، مسئلہ پر غور وخوض  کے لئے حکومت برطانیہ نے ’’رائل کمیشن ‘‘ مقررکیا جس کی تقریباًچارنشستیں ہوئیں؛ لیکن ہر بار وہ اسی نتیجہ پر پہنچا کہ ان قوانین کا مذہب سے گہرا تعلق ہے، اس لئے ان قوانین میں کوئی تبدیلی براہ راست مذہبی امور میں مداخلت اور مذہبی آزادی کو مجروح کرنے کے مترادف ہے ، چناں چہ انگریز ایسا کوئی قدم اٹھانے سے بازرہے اور انہوں نے طے کیا کہ ان مسائل میں مسلمان ’’قانون شریعت‘‘ پر اورہندو’’دھرم شاستر‘‘ پر عمل کریں گے۔
اسی اثناء میں ایک واقعہ پیش آیا کہ عدالت میں ایک مسلمان لڑکی نے اپنے والد کے ترکہ میں میراث کے لئے مقدمہ دائر کیا ، ظاہر ہے کہ شریعت اسلامی کے نقطۂ نظر سے بیٹی لازمی طورپر اپنے باپ کے متروکہ میں وارث ہوتی ہے ، بھائی نے اس مقدمے میں جواب دیا کہ چوں کہ میں نسلی طورپر فلاں ہندوقوم سے تعلق رکھتا ہوں اور ہندوؤں کے یہاں لڑکیوں کو باپ کے ترکے میں حصہ نہیں ملتا، یہی رواج ہمارے خاندان میں چلا آرہا ہے اس لئے مجھ پر قانون شریعت کا نفاذ نہیں ہونا چاہئے، چناں چہ عدالت نے رواج کو اصل مانتے ہوئے بھائی کے حق میں فیصلہ دیا اور لڑکی کو اپنے باپ کے ترکہ سے محروم رکھا جو قطعاً اسلامی مزاج  کے خلاف تھا۔
ظاہر ہے اسلامی نقطہ نظر سے یہ عورتوں کے ساتھ نہایت ظلم کی بات ہے کہ محض عورت ہونے کی بنا پر اسے میراث سے محروم کردیا جائے، یہ وہ وقت تھا کہ تمام علماء چیخ پڑے اور پورے ہندوستان میں آواز اٹھائی گئی،ہمارے اکابر علماء نے بڑی زبردست جدوجہد کے بعد شریعت اپلی کیشن ایکٹ پاس کرایا، اور ہمارے اکابر مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالمحاسن سجادؒ ، حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ، شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ، اور حضرت مولانا کفایت اللہ صاحب صدرجمعیۃ العلماء ہند اوردیگر علماء ومشائخ کی مسلسل اور متحدہ کوششوں سے 1937ء میں شریعت اپلیکیشن ایکٹ‘‘ بنا ، اس قانون کے مطابق یہ فیصلہ کیاگیا کہ’’نکاح، طلاق، خلع، ظہار، مباراۃ، فسخ نکاح، حق پرورش ،ولایت ، حق میراث ،وصیت ،ہبہ اور شفعہ‘‘ سے متعلق معاملات میں اگر دونوں فریق مسلمان ہوں تو شریعت محمدیﷺ کے مطابق عمل درآمد ہوگا، خواہ ان کا عرف اور رواج کچھ بھی ہو اور قانون شریعت کو عرف ورواج پر بالادستی ہوگی۔
دستور کے نفاذ کے کچھ ہی سالوں بعد سے یکساں سول کوڈ کی آواز اٹھنے لگی اور ایسے گمراہ فکرلوگوں کو اس مقصد کے لئے استعمال کیا جانے لگا جن کو نہ اپنی قوم میں کوئی اعتماد حاصل ہے اور نہ قانون شریعت سے وہ صحیح طورپر آگاہ ہیں بالآخر 1972ء میں متبنی بل پیش ہوا جس کا مقصد بلا تفریق مذہب ملک کی تمام قوموں کے لئے متبنی کو اپنی اولاد کا درجہ دینا قرارپایا اور ان کو لے پالک لینے والے مردوعورت کے ترکہ میں وارث قراردیا گیا۔ظاہر ہے کہ یہ قانون نہ صرف اسلام کے خلاف ہے بلکہ عقل وخرد کے بھی خلاف ہے کیوں کہ والدین اور اولاد کا رشتہ ایسا نہیں کہ صرف زبان سے وجود میں آجاتا ہو یہ ایک فطری رشتہ ہے اور ایک فطری محبت جو والدین اور اولاد میں ہوا کرتی ہے اس مصنوعی رشتے کی وجہ سے پیدا نہیں ہوسکتی۔
چناں چہ پورے ہندوستان میں مسلمانوں کے تمام ہی مکاتب فکر نے اس قانون کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی، ان حالات کے نتیجے میں حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب ؒ نے داراالعلوم دیوبند میں اجلاس بلایا، حضرت امیر شریعت مولانا سید شاہ منت اللہ صاحب رحمانی ؒ نے بڑے خطرے اور اس کی نزاکتوں کو محسوس فرمایا اور اس وقت کے اکابر علماء دیوبند اور دانشوراور قانون داں بھی اکٹھاہوئے ، انہوں نے بعض اہم فیصلے کئے، انہی میں سے ایک اہم فیصلہ ممبئی میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے کنوشن کے انعقاد کا تھا جسے وہاں کے علماء ،دانشوروں ،مسلم سماجی کارکنوں اورمختلف جماعتوں کے ذمہ داروں نے حسن وخوبی کے ساتھ27۔28 دسمبر1972ء میں مہاراشٹرکالج میں منعقد کیا، اس کنونشن کے نتیجے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا قیام عمل میں آیا۔
اس اجلاس میں بہ اتفاق رائے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا اور 17اپریل 1973ء کو حیدرآبادمیں منعقدہ اجلا س میں بورڈ کی تشکیل عمل میں لائی گئی۔ بورڈ کے قیام کے سلسلہ میں حیدرآباد سے سالارملت سلطان صلاح الدین اویسی ؒ ، مولاناحمید الدین عاقل حسامی ؒ، مولانا سلیمان سکندر ؒ اور مولانا عبد العزیز ؒ کے نام نمایاں تھے جنہیں بورڈ کے اولین تاسیسی ارکان کی حیثیت حاصل ہے۔ پرسنل لا بورڈ کے قیام کو حقیقت میں بدلنےکےلیے باشندگان حیدرآباد نے پہل کی 7 اور 8 اپریل1973 کو بورڈ کے قیام کا پہلا اجلاس عام یہاں منعقد ہوا۔ بورڈ نے اپنے قیام کے بعد سے ہی اپنی موثر نمائندگی اور جہد مسلسل کے ذریعہ ملک میں شریعت کی حفاظت کے لئے کوئی کسرنہیں چھوڑی ۔ حیدرآباد نے جہاں بورڈ کے قیام ، اس کے تنظیمی و مالیاتی ڈھانچے کے استحکام میں گرانقدر خدمات فراہم کی ہیں وہیں اس نے قومی سطح پر مسلمانوں کی نمائندگی کے لئے قیادتیں بھی فراہم کیں۔ حیدرآبادنے 2002 میں بورڈ کے اجلاس عام کی میزبانی کی ۔ یہ اجلاس 23جون 2002ء کو منعقد  ہوا؛جس میں موجودہ صدر حضرت مولانا سید رابع حسنی ندوی کا بحیثیت صدر انتخاب عمل میں آیاتھا۔ 2011 میں حیدرآباد نے پرسنل لا بورڈ کی عاملہ کے اجلاس کی میزبانی کی یہ اجلاس بھی تاریخ ساز ثابت ہوا، اس اجلاس میں بابری مسجد کے مقدمہ کی پیروی کے لئے بورڈ کو گرانقدر رقم بھی حوالے کی گئی۔
بورڈ کے اغراض و مقاصد:
ہندوستان میں مسلم عائلی قوانین کے تحفظ اور شریعت ایکٹ کے نفاذ کو قائم اور باقی رکھنے کے لیے مؤثر تدابیر اختیار کرنا۔
بالواسطہ،بلا واسطہ یا متوازی قانون سازی؛جس سے قانون شریعت میں مداخلت ہوتی ہو، علاوہ ازیں کہ وہ قوانین پارلیمنٹ یا ریاستی مجلس قانون ساز میں وضع کیے جا چکے ہوں یا آئندہ وضع کیے جانے والے ہوں یا اس طرح کے عدالتی فیصلے جومسلم عائلی قوانین میں مداخلت کا ذریعہ بنتے ہوں،انھیں ختم کرنے یا مسلمانوں کو ان سے مستثنیٰ قرار دینے کی جدوجہد کرنا۔
مسلمانوں کو عائلی و معاشرتی زندگی کے بارے میں شرعی احکام و آداب، حقوق و فرائض اور اختیارات و حدود سے واقف کرانا اور اس سلسلے میں ضروری لٹریچر کی اشاعت کرنانیزشریعت اسلامی کے عائلی قوانین کی اشاعت اور مسلمانوں پر ان کے نفاذ کے لیے ہمہ گیر خاکہ تیار کرنا۔
مسلم پرسنل لا کے تحفظ کی تحریک کے لیے بہ وقت ضرورت مجلس عمل بنانا، جس کے ذریعے بورڈ کے فیصلے درآمد کرنے کی خاطر پورے ملک میں منظم جدوجہد کی جا سکے۔
علما اور ماہرین قانون پر مشتمل ایک مستقل کمیٹی کے ذریعے مرکزی یا ریاستی حکومتوں یا دوسرے سرکاری و نیم سرکاری اداروں کے ذریعے نافذ کردہ قوانین اور گشتی احکام یا ریاستی اسمبلیوں اور پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے والے مسودات قانون کا اس نقطہ نظر سے جائزہ لیتے رہنا کہ ان کا مسلم پرسنل لا پر کیا اثر پڑتا ہے۔
مسلمانوں کے تمام فقہی مسلکوں اور فرقوں کے مابین خیر سگالی، اخوت اور باہمی اشتراک و تعاون کے جذبات کی نشو نما کرنا اور مسلم عائلی قوانین کی بقا و تحفظ کے مشترکہ مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے ان کے درمیان رابطے اور اتحاد و اتفاق کو پروان چڑھانا۔
نئے مسائل کے پیش نظر مسلمانوں کے مختلف فقہی مسالک کے تحقیقی مطالعے کا اہتمام کرنا اور شریعت اسلامی کے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے کتاب و سنت کی اساس پر ماہرین شریعت اور فقہ اسلامی کی رہنمائی میں پیش آمدہ مسائل کا مناسب حل تلاش کرنا۔
بورڈ کے مذکورہ بالا اغراض و مقاصد کے حصول کے لیے وفود کو ترتیب دینا، مطالعاتی شرائط (study terms) تشکیل دینا، سیمینار، سمپوزیم، خطابات، اجتماعات، دوروں اور کانفرنسوں کا انتظام کرنا۔ نیز ضروری لٹریچر کی اشاعت اور بہ وقت ضرورت اخبارات و رسائل اور خبرناموں وغیرہ کا اجرا اور اغراض و مقاصد کے لیے دیگر ضروری امور انجام دینا۔(ویکیپیڈیا)

اردو ادب اور لوک گیت

عزہ معین

ریسرچ اسکالر شعبئہ اردو دہلی یونیورسٹی دہلی
اردو لوک ادب کیا ہے اس کی مکمل تفہیم اور تدارک کے لئے سب سے پہلے ادب کیا ہے اس کو سمجھنا ضروری ہے.یہاں بنیادی طور پر دو ہی الفاظ کلیدی ہیں.ایک لوک ہے اور دوسرا ادب. میرے خیال میں ان دونوں کی تعریف سے لوک ادب کا مطلب بھی بہت حد تک واضح ہو جائے گا.ادب کیا ہے اس حوالے سے ہمارے ادیبوں نے مختلف آرا اور خیالات پیش کئے ہیں اس لئےاس کی مختلف تعریفیں سامنے آئی ہیں. کسی نے کہا کہ ادب سماج کا آئنہ ہوتا ہے. کسی نے کہا کہ یہ خیالات و احساسات کی ترجمانی کا ذریعہ ہے کسی نے اس کو خوبصورت الفاظ کے مناسب استعمال کا نام دیا تو کسی نے اسے سکون کا باعث قرار دیا. اور کبھی تحریرکی شکل میں دریافت ہر متن کو ادب سے تشبیہ دی گئی.بزرگوں کی مانیں تو ادب کی تخلیق کے پسِ پردہ کوئی نہ کوئی خواہش پنہاں ہوتی ہے. اکثر و بیشتر جب کو ئی فن پارہ تخلیق پاتا ہے تو در اصل اس کی وجہ کوئی دیرینہ امید و نامیدی کی کشمکش کا ملا جلا ایک حسین امتزاج ہوتا ہے. بیشتر ادب شدید خواہش کے زیر اثر وجود میں آتا ہے. تخلیق کی خواہش انسان کی فطرت ہے۔ اسی جبلی خواہش سے آرٹ پیدا ہوتا ہے۔ آرٹ اور دوسرے علوم میں یہی فرق ہے کہ اس میں کوئی مادی فائدہ مقصود نہیں ہوتا۔ یہ بے غرض مسرت ہے۔ ادب آرٹ کی ایک شاخ ہے جسے “فن لطیف” بھی کہہ سکتے ہیں۔ میتھو آرنلڈ کے نزدیک وہ تمام علم جو کتب کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے، ادب کہلاتا ہے۔کارڈ ڈینل نیومین کہتا ہے “انسانی افکار ، خیالات اور احساسات کا اظہار زبان اور الفاظ کے ذریعے ادب کہلاتا ہے”۔ نارمن جودک کہتا ہے کہ “ادب مراد ہے اس تمام سرمایہ خیالات و احساسات سے جو تحریر میں آچکا ہے اور جسے اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ پڑھنے والے کو مسرت حاصل ہوتی ہے۔”

یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ ادب اپنی تمام تر جزوئیات مثلا لفظیات، نحویات ، ساختیات اور دیگر اعتبار سے معیاری ہوتا ہے اور جس کو ادبی معیار کی سخت سے سخت کسوٹی پر بھی پرکھا جا سکتا ہے . لوک ادب کیا ہے؟ لوک ادب میں بھی کسی نہ کسی احساس اور خیال کو ہی بیان کیا جاتا ہے لیکن یہ ادب تسلیم شدہ معیار کے مطابق نہیں ہوتا ہے.
.در اصل قاری کی مختلف کیٹگریز ہوتی ہیں.لفظ “لوک” سے بھی ایک خاص قسم کے قاری کا تصور ذہن میں ابھرتا ہے.ہر انسان بنیادی طور پر باذوق ہوتا ہے. اپنے ادبی ذوق کی تسکین کے لئے ہر انسان اپنے اپنے معیار اور ماحول کے مطابق یا تو ادب تخلیق کرتا ہے یا پھر تخلیق شدہ ادب سے لطف اندوز ہوتا ہے.
لوک ادب کی تعریف اب تک واضح ہوگئی ہے تقریبا ً سب ہی مقالہ نگاران اور صدور صاحبان نے مکمل طور پر اس پر روشنی ڈالی ہے لیکن میرا نظریہ زرا سا الگ ہے ممکن ہے قابل قبول نہ ہو لیکن اپنے خیالات کو آپ کے سامنے رکھ کر شاید کچھ میری معلومات میں بھی اضافہ ہو جائے.
پروفیسر محمد حسن کے الفاظ میں
” وہ ادب جس کو عوام نے جنم دیا ہولوک ادب ہے. ”
پروفیسر محمد حسن کو یہاں واضح کرنا چاہئے تھا کہ عوام سے انھوں نے کیا مراد لیا ہے کیا معیاری ادب تخلیق کر نے والے مصنف عوام میں شامل نہیں ہیں؟ اس لئے میرا یہ ماننا ہے کہ صرف عوام کہہ دینے سے بات واضح نہیں ہوتی. بلکہ اس کے ساتھ یہ اضافہ کرنا بھی ضروری ہے کہ وہ عوام جو زبان کے اصول یا ہم کہہ سکتے ہیں لفظیات سے ناواقف ہو.
یعنی لوک ادب وہ ادب ہے جو کسی بھی خاص علاقہ کی عوام، انپڑھ عوام جو ملک کی معیاری زبان سے ناواقف ہوتے ہیں کے ذریعہ وجود میں آتا ہے.
لوک ادب پہ بات کرتے ہوئے ہمیں کچھ بنیادی چیزوں کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے وہ یہ کہ لوک ادب اور وہ ادب جس کا مطالعہ متعلقہ زبان کے ماہرین کرتے ہیں ان میں بہت فرق ہے.یہ جو لوک ادب ہے اس کی لفظیات،نحویات، اس کے محاورے ،استعارے، اسلوب اور ساخت بہت مقامی ہوتے ہیں.لیکن وہ ادب جو میر اور غالب کے ہاتھوں پرورش پاکر ہم تک پہنچا ہےوہ اپنی ساخت اور زبان کے اعتبار سےمقامی نہیں ہوتا ہے .ہر علاقہ اور ہر طبقہ اور ہر سماج کے لوگ اس کی چاشنی اس کی آفاقیت محسوس کر سکتے ہیں.جب کہ لوک ادب کی معنویت ایک مخصوص طبقہ تک ہی محدود رہتی ہے.اس کی رسائی عالمی ادب تک نہیں ہو سکتی.اس کو ہم آسان زبان میں کہہ سکتے ہیں کہ میر غالب، اقبال اورپریم چند کو سنبھل کے قاری بھی اتنی ہی دلچسپی سے پڑھتے ہیں جتنا ہندوستان کے کسی دوسرے صوبہ کے کسی بھی چھوٹے شہر کا قاری سمجھتا ہے. لوک ادب سے ہمیں یہ نہیں سمجھنا چاہئےکہ اس کی معنویت کو میر ،غالب ،پریم چند اور ان جیسے دوسرے ادیبوں کے شہ پاروں کے مد مقابل سمجھا جائے.
اردو ادب میں روز بہ روز عوامی ادب کو شامل کرنے کی روش عام ہوتی جارہی ہےایک عرصہ تک پاپولر ادب کو ادب سے الگ رکھا گیا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ابن صفی اور ان جیسے مقبول مصنفین کو ادب کے مین اسٹریم میں لانے کی کوشش ہوتی رہی .کچھ عرصہ قبل تک ابن صفی کو ادب میں گنا جانا اشتعال کا باعث تھا.لیکن آج باضابطہ پی ایچ ڈی کی جارہی ہے .عوامی ادب کے زمرے میں ایسی بہت سی چیزیں داخل کر دی گئی ہیں جن کو ادب کہنا بھی ادب کی بے ادبی ہے.لیکن ابھی بھی کچھ لوگ باحیات ہیں جو اس نظریہ کو بالکل غلط سمجھتے ہیں. عوامی ادب کی زبان اورادب کی عمومی طرزِ تحریر دریا کے دو الگ الگ کنارے ہیں انھیں ملانا وہ بھی ایک دو چیزوں کی مناسبت کی وجہ سے بالکل بے بنیاد بات ہے.لوک ادب پڑھنے اور اس پر تحقیق کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے. اس پر ریسرچ کرنا ایک الگ بات ہے لیکن تحقیق کرتے ہوئے جذبات کی رو میں بہہ کر اس کو ادب سے نہ جوڑا جائے. مجھے یہ خدشہ اس لئے لاحق ہےمجھے یہ خدشہ اس لئے لاحق ہے کہ عام طور جب کسی موضوع پر تحقیق کی جاتی ہے تو اس کے ساتھ ایک انجانی سی محبت پیدا ہو جاتی ہے اور اس محبت میں زمین کو آسمان اور آسمان کو زمین کہہ دیا جاتا ہے. ا
لوک گیت کا مطالعہ کرنا اور اس کا شمار ادب کے زمرے میں کرنا دو بالکل مختلف زاوئے ہیں.مجھے اس سے سراسر اختلاف ہے کہ ہر اس چیز کو ادب کے زمرے میں رکھ دیا جائے جس کا ہم مطالعہ کرتے ہیں یا جس پر ہم گفتگو کرتے ہیں. زبان و بیان کی بنیاد پر ایک حد فاصل ہمیشہ قائم رہنی چاہئے. لوک ادب یا عوامی ادب وغیرہ یہ کیا ہے اس میں بے حد گنجائش ہے کہ اس کو ادب کے زمرے میں نہ رکھا جائے. ادب کی تعریف میں دریافت بعض نشانیوں کے لوک ادب میں ہونے کے باوجود بھی یہ ہضم نہیں ہوتا کہ اس کو اٹھا کر سر کا تاج بنایا جائے. الا یہ کہ اس میں خود ادب کے زمرے میں شامل ہونے کے امکانات پوشیدہ ہوں. اس تعلق سے یہاں نظیر اکبر آبادی کو پیش کیا جا سکتا ہے. ایک عرصے تک ان کے کلام کو عوامی ادب کا نام دیکر ادب سے دور رکھا گیا. ان پر گفتگو کرنا بے ادبی سمجھی گئی. لیکن مرور ایام نے ان کے کلام کو ادب کا بہترین سرمایہ قرار دیا. ایسا اس لئے ممکن ہو سکا کہ ان کا کلام عوامی ہونے کے باوجود ادب کے بنیادی تقاضوں سے لبریز تھا. ایک وقت تھا کہ نظیر اکبر آبادی کو کوئی نہیں جانتا تھا لیکن جب ادبی نقطئہ نظر سے ان کے سرمائے کو سراہا گیا تو ان سے آج پوری ادبی دنیا واقف ہے. اسی طرح لوک گیت کو ہم ادب میں شمار کر سکتے ہیں اس میں سماج کی عکاسی ملتی ہے.لوک گیت ہر موقع محل کے اعتبار سےپڑ ھے جاتے ہیں اور اسی اعتبار سے ان میں بیانیہ پایا جا تاہے.اس کی دریافت نہ صرف ہندوستان بلکہ پاکستان نیپال بنگلہ دیش اور دیگر ممالک میں بھی کی گئی ہے بالخصوص ہندوستان میں گیتوں کا وسیع ذخیرہ موجود ہے.ہر دو چار کلو میٹر کے بعد لوک گیت کی زبان اور بیانیہ میں فرق ملتا ہے.ہر اسٹیٹ صوبہ کی تاریخ ہم اس کے ذریعہ حاصل کر سکتے ہیں.لوک گیت کی اہمیت اس لئے بڑھ جاتی ہے کہ اس میں عام طور وہ باریک اور چھوٹے چھوٹے مگر اہم حقائق بیان ہوتے ہیں جہاں تک ایک ایک مستند مصنف کی رسائی نہیں ہو پاتی.خواتین جو شادی بیاہ،بچوں کی پیدائش اور دوسرے مواقع کی مناسبت سے جو گیت گاتی ہیں ان میں واقعات کے نہایت ہی باریک پہلووں کو سمو لیتی ہیں جن کا نمونہ کسی افسانے اور ناول میں نہیں ملتا.لیکن ان سب کے باوجود ہم پھر بھی کہیں گے کہ ادب میں لوک گیت کو شامل کرنا کسی بھی طور پر مناسب نہیں.اس راہ میں مانع گیت کی زبان ہے جس کی حیثیت بہت سطحی ہوتی ہے. کیوں کہ ان کی زبان قصائد سے بھی زیادہ مشکل اور نابلد ہوتی ہے.لوک گیت میں زبان تو مشکل استعمال ہوتی ہی ہے ساتھ ہی اس میں الفاظ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے.لوک ادب اور گیت کی ایک چیز بہت اچھی اور قابل تعریف ہے اس میں سلینگ الفاظ زندہ رہتے ہیں.
اردو میں لوک ادب کی روایت سب سے قدیم رہی ہے اردو کے اولین نمونے انھیں گیتوں میں دریافت کئے گئے. دکنی اردو میں صوفیاء کی تحریریں مثلاً خواجہ بندہ نواز کی مثنویاں لوک گیت کے زمرے میں شامل کی جاسکتی ہیں اور بھی اسی طرح کی تحریریں لوک ادب سے نسبت رکھتی ہیں.
شادی کے موقع پر گائے جانے والے گیت اپنے اندر مکمل سماج اور رسوم و عقائد کو سمیٹے ہوئے ہوتے ہیں. اس موقع پر دو سے تین مہینہ پہلے سے گھروں میں عورتیں ان گیتوں کو ڈھولک کی تھاپ پر گانا شروع کردیتی ہیں. منگنی میں گائے جانے والے گیت ابٹن میں گائے جانے والے مہندی کی رسم اور منڈھے کی رسم پھر آرسی مصحف رسم کے گیت پھر دلہن کے دوسرے گھر پہنچنے پر گائے جانے والے گیت وغیرہ اپنے ساتھ ایک تہذیب سمیٹے ہوئے ہوتے ہیں.
چمن میں کس کی شادی ہے خوشی سے لوگ آتے ہیں
سونے روپے کے تھالوں میں بھرائی کھیر کے پیالے
لے جاو اس مجالس میں خوشی سے کھاتے ہیں
اس کے جیسے ہزاروں گیت پڑھے اور کچھ اشعار یہاں کوٹ کرنے کے لئے تلاش کئے لیکن معاف کیجئے گا میری نظر میں کوئی بھی شعر نہ جچا کہ یہاں پیش کر سکوں .
حال ہی میں دیوندر ستیارتھی کی اہلیہ نے ان کی ایک کتاب شائع کی ہے.اس کتاب میں ہندوستان کے مختلف علاقے کی گیتوں کو اکٹھا کیاگیا ہے. انہوں نے ملک کے دور دراز علاقوں کا سفر کرکے نہ صرف گاوں گرام سے گیتوں کو نکال کر پیش کیا بلکہ شہروں میں دبے ہوئے ذخیرے کو بھی یکجا کیا. جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا لوک ادب پہ گفتگو کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے.محدود دائرے میں اس کی معنویت سے بھی کوئی انکار نہیں ہو کر سکتا.

یونس ایمرے – ترکوں کا محبوب و مقبول شاعر

سلمیٰ اعوان

باتوں کی بحث میں اچانک یونس ایمرے Yunus Emre کا ذکر آگیا۔خاتون نے اناطولیہ کے اس درویش، صوفی اور خداداد صلاحیتوں کے حامل شاعر کا      ذکرجس محبت اور شوق سے کیا اُس نے آتش شوق کو گویا بھڑکا سا دیا۔انہوںنے ان کی عوامی اور وحدت میں ڈوبی ہوئی شاعری کے چند ٹکڑے سُنائے اور ایک دلچسپ واقعہ بھی۔زمانہ تو مولانا جلال الدین رومیؒ کا ہی تھا۔کہتے بھی انہیں رومی ثانی ہے، مگر دونوں عظیم شاعروں میں فرق ذریعہ اظہار کا تھا۔مولانا رومی کا کلام اُس وقت ترکی کی شہری اشرافیہ کی مروجہ ادبی زبان فارسی میں ہونے کی و جہ سے خاص الخاص تھا جبکہ یونسEmre کے ہاں ذریعہ اظہار اُن کی عام لوگوں کی، یعنی دیہی علاقوں میں بولی جانے والی ترکی زبان میں ہی تھا۔زبان سادہ ،مفہوم واضح، تشبہات، استعارے عام فہم اور زبان زد عام ہونے والے کلام میں غنائیت اور نغمگی کا بہائو اس درجہ تھا کہ صوفیاء کی محفلوں میں جب گایا جاتا تھا، تو لوگ و جد میں آجاتے تھے۔
یونس ایمرے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بہت شریں گفتار اور لحن دائودی کا سا کمال رکھتے تھے۔کبھی اگر دریا کے کنارے قرأت سے قرآن پاک پڑھتے تو بہتا پانی رک جاتا تھا۔ بہت دلچسپ ایک واقعہ بھی سُن لیجیے، یونس اُمرے کے قونیہ سفر کے دوران کہیں مولانا رومیؒ سے ملاقات ہوئی تو مولانا نے اُن سے اپنی مثنوی کے بارے میں دریافت کیا۔یونس ایمرے نے کہا ’’بہت خوبصورت ،بہت عظیم ،بہت اعلیٰ شاہکار ۔میں مگر اسے ذرا مختلف طریقے سے لکھتا ۔‘‘مولانا نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا’’بتائو ذرا کیسے۔‘‘یونس بولے ’’میں آسمان سے زمین پر آیا ۔گوشت پوست کا لباس پہنا اور خود کو یُونس ایمرے کا نام دیا۔‘‘
ترکی کے اس مقبول اور اہم ترین شاعر کا زمانہ لگ بھگ1238ء تا 1320 ء کا ہے۔مقام پیدائش صاری کوئے نامی گائوں میں ہوئی۔اس زمانے میں قونیہ پرسلجوق ترکوں کی حکومت تھی۔مولانا رومی شمس تبریزؒ سے متاثر تھے۔ایسے ہی یونس ایمرے نے چالیس سال اپنے استاد شیخ تاپدوک ایمرے Tapduk Emre کے قدموں میں گزار دئیے۔اُن کی زیر نگرانی انہوںنے قرآن و حدیث کے علم میں کمال حاصل کیا۔طریقت کے اسرار و رموز سے شناسا ہوئے۔ اُن کے کلام میں رباعی،گیت،نظمیں ،غزلیں سبھی نظر آتی ہیں۔ذرا دیکھئے کلام کی سادگی اور حُسن۔ ایک لفظ ہی چہرے کو روشن بنا سکتا ہے اُس شخص کیلئے جو لفظوں کی قدرو منزلت جانتا ہے جان لو کہ لفظ کب بولنا ہے اور کب نہیں ایک اکیلا لفظ دنیا کی دوزخ کو آٹھ بہشتوں میں بدل سکتا ہے یونس ایمرے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انسان کو زندگی محبت و پیار کے اصولوں پر گزارنی چاہیے۔ان کی فلاسفی میں اُونچ نیچ او ر تفریق کہیں نہیں۔یہ صرف انسانوں کے اعمال ہیںجو انہیں اچھا یا بُرا بناتے ہیں۔زندگی عفو ودرگزر ،حلیمی اور رواداری جیسے جذبات کے تابع ہونی چاہیے۔
ان کا عقیدہ تھا کہ خدا تک پہنچنے اور بخشش کا راستہ اکابرین دین،مختلف مذہبی اور مسلکی فرقوں کے اماموں کے ذریعے نہیں بلکہ یہ انسان دوستی اور احترام انسانیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ہر مذہب اور ہر مذہبی فرقے کا دوسرے کو جہنمی کہنا اور سمجھنا بہت غلط ہے۔دنیا کا ہر مذہب انسانیت کی بھلائی کا درس دیتا ہے۔ان مذاہب اور انسانوں کے احترام سے خدا سے سچا عشق پیدا ہوتا ہے۔ان کا یہ کہنا کتنا خوبصورت ہے۔دین حق سر میں ہے سر پر رکھی جانے والی پگڑیوںاور دستاروںمیں نہیں۔یونس ایمرے عشق حقیقی کے پرستار اور اسیر تھے۔شاعری میں صوفیانہ علم، عجزو انکسار اور انسانیت کا بے پناہ جذبہ نظرآتا ہے۔
یونس ایمرے ترکوں میں بہت ہر دل عزیز ہیں۔دراصل اُن کی شاعری ترکوں کے قومی مزاج کی خوبصورت عکاس ہے۔ترک قوم کی دلیری اور خودداری کا اظہار ہے۔یہی و جہ ہے کہ ان کے اشعار خاص و عام کی زبانوں پر ہیں۔بیرونی دنیا میں اب ان پہچان ہورہی ہے۔ اس کی و جہ دراصل اُن کا کلام اپنی مادری ترکی زبان میں ہے۔ان کے ہم عصر مولانا رومیؒ کا کلام فارسی میں ہونے کی و جہ سے وہ برصغیر اور وسط ایشیا کی ریاستوں میں بہت زیادہ ہر دل عزیز ہیں،تاہم اب انگریزی ترجمے کی و جہ سے یونس ایمرے کے قارئین ان کی خداداد صلاحیتوں سے آگاہ ہورہے ہیں۔اُن کے فن اور کلام کی سادگی، برجستگی اور فلسفے سے واقف ہو رہے ہیں۔ ہم بھی شکر گزار ہوئے کہ انہوںنے ہمیں وقت دیا اور ہمیں ایک عظیم ہستی سے ملوایا۔
(سلمیٰ اعوان کے سفر نامے ’’ استنبول کہ عالم میں منتخب‘‘ سے مقتبس)

فتح پور کا تخلیقی طور


حقانی القاسمی
وہ شہر کبھی نہیں مرتے، جس کی شمعوں سے بہت سے ذہنی منطقے فروزاں ہوں اور جس کی روشنی کا دائرہ صرف شہر میں نہیں بلکہ پوری کائنات تک پھیلا ہوا ہو۔ نثری اور شعری سطروں میں جس شہر کی سانسیں چلتی رہتی ہوں، اس شہر کی قسمت میں فنا نہیں لکھا ہوتا۔ گنگا اور جمنا جیسے دو مقدس دریاؤں کے کنارے، الہ آباد اور کانپور جیسے اہم شہروں کے درمیان واقع فتح پور ہسوا، ایک ایسا شہر ہے جس کی پرانی تاریخ عظمتوں کی عبارتوں سے روشن ہے اور جدید تاریخ بھی اس عظمت کے تسلسل کو قائم رکھے ہوئے ہے۔
ویدک عہد میں یہ سرزمین انتردیش یعنی زرخیز سمجھی جاتی تھی۔ امتداد زمانہ کے باوجود اس کی زرخیزی قائم ہے۔ ویدک عہد کا یہ وہ درخشاں اور تاباں شہر ہے جس کے کئی علاقے آثار قدیمہ کے اعتبار سے نہایت ہی اہمیت کے حامل ہیں کہ وہاں سے 800 قبل مسیح کی اشیا برآمد ہوئی ہیں۔ موریا کشن گپتا عہد کے آثار کی موجودگی عہد قدیم میں اس شہر کے ترقی یافتہ ہونے کی علامت ہے۔ جس شہر کے تذکرے پران اور ہندوؤں کے مقدس صحیفوں میں ہوں اور جہاں کے ایک علاقے کی زیارت مشہور چینی سیاح ہیونگ سان نے کی ہو، جس کے بارے میں جنرل کرمنگھم نے لکھا ہو تو اس سرزمین کی عظمت کے بارے میں کسی کو کیسے شک ہو سکتا ہے۔ یہی تذکرے کسی بھی زمین کو ابدیت اور تاریخی معنویت عطا کرتے ہیں۔ شہر ایسے ہی حوالوں میں سانس لیتا ہے تو اسے زندگی نصیب ہوتی ہے اور ایسے حوالے شہروں کی زندگی سے خارج ہو جائیں تو ایسے شہر اجاڑ اور ویران کہلاتے ہیں۔
فتح پور کی عظمتوں کے حوالے مختلف سطحوں پر نمایاں ہیں۔ اسی سرزمین میں اسنی اور بھتورا کے دومقدس گھاٹ بھی ہیں، جن کا ذکر پران میں ملتا ہے۔بودھی ادب میں بھی فتح پور کے علاقوں کا ذکر نمایاں طور پر ہے۔ یہ شہر اپنے جلو میں عظمتوں کے بہت سے آثار سمیٹے ہوئے ہے۔ اب بھی کچھ مقامات ایسے ہیں جہاں تاریخی عظمتوں کے نقوش کندہ ہیں۔ فتح پور کا 52 املی، ان 52 مجاہدین آزادی کی یاد تازہ کرتا ہے جنہیں انگریزوں کے دور میں املی کے درخت پر پھانسی دی گئی تھی۔ یہیں بھتورا نامی وہ مقام بھی ہے جہاں گنگا کے بہاؤ کا رخ بدل جاتا ہے اور اس کی وجہ سے اس کی تقدیسی معنویت بدل جاتی ہے۔ ہتگام جیسا قصبہ بھی ہے جو گنیش شنکر ودیارتھی اور اقبال ورما سحر جیسی شخصیتوں کا مسکن ہے۔ تندولی ایک ایسی جگہ ہے جس کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ افراد جو پیراسائیکلوجی کی پریشانیوں سے دوچار ہیں، جو سانپ، کتے کے کاٹنے کی وجہ سے اذیتوں میں مبتلا ہوتے ہیں انہیں اس گاؤں کے باباجھام داس کے مندر میں راحت ملتی ہے۔ راجہ وینوکی کے نام پر آباد بندکی وہ جگہ ہے جوشہید وطن جودھا سنگھ اور راشٹر کوی سوہن لال دیویدی کا مستقر ہے۔ فتح پور کا کھجوا ایسا علاقہ ہے جو مغل عہد میں بہت ہی اہمیت کا حامل تھا۔ یہیں کوڑا جہان آباد بھی ہے جہاں سے حسرت موہانی کی ابتدائی تربیت کا تعلق ہے۔
زمینوں کی زندگی ایسے ہی آثار اور عظمتوں پر منحصر ہوا کرتی ہے۔ فتح پور کو بہت سی سطحوں پر عظمتیں، رفعتیں اور بلندیاں نصیب ہیں۔ علوم و فنون، مذہبیات، ادبیات ہر اعتبار سے یہ علاقہ زرخیز اور روشن ہے۔ علامہ نیاز فتح پوری نے اس شہر کی تاریخی معنویت پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’یہ قدیم شہر ہے جو کسی وقت قنوج کی حکومت سے وابستہ تھا۔ یہاں کے ہندو فرمانروا جو راجگان ارگل کہلاتے تھے۔ قنوج کے باج گزار تھے۔ جب 1193 میں معز الدین بن سام غوری نے اس حکومت کو ختم کیا تو اس کے آخری فرمانروا جے چند نے اپنا خزانہ یہیں منتقل کر لیا تھا۔ اس کے بعد مسلمانوں کے عہد میں یہ حکومت جونپور اور صوبہ کوڑا سے متعلق ہو گیا لیکن راجگان ارگل کا وجود پھر بھی باقی رہا۔ اس کے بعدعہد مغلیہ میں جب ہمایوں اور شیر شاہ کے درمیان جنگ شروع ہوئی تو راجہ ارگل نے شیرشاہ کاساتھ دیا اور آخرکار مغل حکومت نے اسے ختم کر دیا۔ اکبر کے زمانے میں ضلع فتح پور کا نصف حصہ سرکار کوڑا سے متعلق تھا اور نصف مشرقی حصہ سرکار کڑا سے۔ عہد مغلیہ میں یہاں بمقام کھجوا دو بار جنگ ہوئی۔ پہلے اورنگ زیب اور شاہ شجاع کے درمیان 1659 میں، پھرفرخ سیر اور عزالدین جہاں دار کے بیٹوں کے درمیان۔ اورنگ زیب کے زمانے میں نواب عبدالصمد خاں یہاں کے حاکم تھے، جن کا مقبرہ اب بھی شکستہ حالت میں موجود ہے۔ زوال عہد مغلیہ میں صوبہ دار اودھ کا تسلط یہاں قائم ہو گیا۔ 1736 میں جاگیردار کوڑا کے اشارے پر مرہٹوں نے تاخت کی اور 1750 تک یہاں قابض رہے۔ اس کے بعد یہ علاقہ خوانین فتح گڑھ کے قبضے میں آ گیا لیکن 3 سال کے بعد نواب صفدر جنگ متصرف ہو گیا۔ اس کے بعد 1765 میں شاہ عالم کو مل گیا لیکن جب وہ مرہٹوں کا دست نگر ہو گیا تو انگریزوں نے اسے50لاکھ میں نواب وزیر اودھ کے ہاتھ فروخت کر دیا، لیکن چونکہ نواب وزیر رقم خراج ادا نہ کر سکا اس لئے 1801 میں سرکار کوڑا اور سرکار الہ آباد پر انگریزوں نے قبضہ کر لیا۔ جب 16؍جنوری 1857 کو کانپور میں ہنگامہ شروع ہوا اور 8کو الہ آباد کے خزانے کا گارڈ فتح پور سے گزرا تو اسے لوٹ لیا گیا اور یہاں بھی لوٹ مار شروع ہو گئی۔ انگریز حکام یہاں سے بھاگ کر باندہ چلے گئے اور پورے ایک مہینے تک پورا ضلع انقلاب پسندوں کے قبضے میں رہا۔ 11؍جولائی کو جنرل ہویلاک نے انہیں بمقام باندہ شکست دے کر پھراپنا تسلط قائم کر لیا اور لکھنؤ کی حکومت ختم ہونے کے بعد اس طرف کے سارے علاقے پر انگریزوں کی مستقل حکومت قائم ہو گئی۔ (سال نامہ ’نگار‘ پاکستان1963)
نیاز فتح پوری کا یہی وہ شہر ہے جس سے علوم و اد بیات کے روشن ستاروں کا رشتہ ہے۔ اردو ڈرامے کے اولین معمار عبداﷲ فتح پوری، ہندی ڈرامے کی ممتاز شخصیت اصغر وجاہت، تحقیق و تنقید کے معتبر نام نیاز فتح پوری، فرمان فتح پوری، ابو محمد سحر، مظفر حنفی، یعقوب یاور فکشن میں امراؤ طارق، شاعری کے باب میں مولانا ابوسعید ایرایانی (فاضل دیوبند)، عطا علی خاک فتح پوری، نشتر، سحر، علی اوسط رشک، زیبا کوٹی، غلام مرتضیٰ راہی، فاروق ارگلی، ظفراقبال ظفر، حباب ہاشمی جیسی شخصیتوں کا تعلق اسی شہر سے ہے۔ آزادی کے لئے اپنی جان کی قربانی دینے والے حکمت اﷲ خاں بھی اسی شہر کے ہیں اور فتح پور کی عظمت کو ایک نئی جہت اس طور پر بھی مل جاتی ہے کہ ندوۃ العلما لکھنؤ کاتاسیسی تعلق بھی اسی شہر سے جڑا ہوا ہے کہ مولانا سید شاہ ظہور الاسلام اسی شہر کے تھے اور بقول فرمان فتح پوری بعض تاریخی حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ مولانا فی الواقع ندوۃ العلما کے محرک اور بانی تھے۔
علامہ نیاز فتح پوری (لیاقت علی خاں) اس شہر کی عظمت کا نشان امتیاز ہیں، جنہوں نے ادبیات کو نئی لہریں عطا کیں اور جنسیات کو نیا ارتعاش۔ ’نگار‘ جیسے مجلے سے ادبی مباحث کو تحرک بخشا۔ ترکی کی مشہور شاعرہ نگار بنت عثمان سے متاثر ہو کر انہوں نے اپنے مجلے کا نام ’نگار‘ رکھا تھا۔ جس کی تجویز ل۔احمد، ڈاکٹر ضیا عباس ہاشمی، مخمور اکبرآبادی، ملک حبیب احمد خاں، مقدس اکبرآبادی، شاہ دلگیر اکبرآبادی کی موجودگی میں رکھی گئی تھی۔ 1921 میں آگرہ سے شروع ہونے والا یہ رسالہ اتنا مقبول ہوا کہ اس نے لوگوں کی فکر و نظر کے زاویے تبدیل کر دیے۔ ایک ہمہ جہت رسالہ جس میں ادبیات کے علاوہ دیگر موضوعات پر بھی مضامین شامل ہوتے تھے۔ معاشرے کو مختلف علوم و فنون سے روشناس کرانے کا سہرا اسی رسالے کے سر ہے۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ آج کے اس عہد زوال میں پھر نیاز اور نگار کی ضرورت ہے کہ ہمارے عہد میں ذہنی تاریکی بڑھ گئی ہے اور تنگ نظری کا دائرہ پھیلتا جا رہا ہے۔ نیاز فتح پوری ایک روشن خیال نان کنفرمسٹ اور آزاد طبع ادیب تھے۔ وہ مدرسہ اسلامیہ فتح پور، ندوۃ العلما لکھنؤ اورمدرسہ عالیہ رام پور کے فیض یافتہ تھے، مگر مدرسے کا ان کے ذہن پر اتنا منفی اثر پڑا کہ وہ ملحد قرار پائے۔ انہوں نے خود لکھا ہے کہ ’’میرا تجربہ مولویوں کے باب میں تلخ سے تلخ ترہوتا گیا اور میں نے سمجھ لیا اس طبقے کی طرف میں کبھی مائل نہیں ہو سکتا۔ ان کی رعونت، ان کا تقشف، ان کا فرعونی انداز گفتگو، ان کا یہ عقیدہ کہ مذہب کو عقل سے کوئی لگاؤ نہیں اور ان کا یہ پندار کہ وہ عام سطح سے بہت بلند ہیں اور ہر شخص کا فرض ہے کہ انہیں دیکھتے ہی وہ سربسجود ہو جائے، مجھے ان سے متنفر کرتا جا رہا تھا اور میں بار بار یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا تھا کہ اگر یہ واقعی مذہبی تعلیم کا نتیجہ ہے تو مذہب سے زیادہ نامعقول چیز دنیا میں کوئی اور نہیں ہو سکتی اور اس سلسلے میں مجھے مذاہب کے تقابلی مطالعے کا شوق پیدا ہوا۔ میں نے مذاہب کا مطالعہ صرف اس نقطہ نگاہ سے شروع کیا کہ اخلاق کی عملی تعلیم کے لحاظ سے اس کا درجہ کیا ہے اور اس نے مجھے مولویوں سے اور زیادہ متنفر کر دیا کیونکہ جس حد تک اخلاق کا تعلق ہے، میں نے ان میں کوئی بات ایسی نہیں پائی جسے بعید ترین تاویل کے بعد بھی اسلام اور بانی اسلام کی بلند تعلیم اخلاق سے منسوب کیا جا سکے۔ میں جس وقت ان کے بطون کا تصور کرتا تھا تو مجھے بالکل سیاہ پتھر کی طرح نظر آتا تھا اور میں ایسا محسوس کرتاتھا کہ ان کی روح بالکل اجاڑ ہے اور ان کا دل بالکل ویران۔‘‘
مولویوں کے تعلق سے نیاز فتح پوری کے جو محسوسات اور جذبات ہیں ان کی صداقت میں آج بھی کمی واقع نہیں ہوئی ہے کہ تقریباً مولویوں کا 80 فیصد طبقہ تنگی چشم حسود کا شکار ہے اور کشادگی کی اتنی کمی ہے کہ غیر ضروری اور فروعی مسائل میں جنگ و جدل کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ جن صفات کی وجہ سے نیاز فتح پوری کے دل میں مولویوں کے لئے نفرت پیدا ہوئی، وہ صفات آج بھی بہت سے مولویوں میں موجود ہیں۔ مولویوں سے اسی نفرت کے ردعمل کے طور پر نیاز کی وہ تحریریں وجود میں آئیں جن کی وجہ سے نیاز لامذہب اور ملحد قرار دیے گئے۔ زاہد تنگ نظر نے انہیں کافر جانا مگر حقیقتاً نیاز فتح پوری مذہب کو عقلی اور منطقی نقطہ نظر سے سمجھنا چاہتے تھے۔ ’نقوش‘ لاہور کے مدیر محمد طفیل نے نیاز فتح پوری کی دہریت کا دفاع کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’بچپن ہی میں یہ سنا تھا کہ ’لکھنؤ میں ایک کافر نیاز نامی بھی ہے، جو ایسی باتیں لکھتا ہے جو اسلام کا بدترین دشمن بھی نہیں لکھ سکتا۔ اس وقت ان کے خلاف جلسے ہوتے تھے۔۔۔ تقریریں ہوتی تھیں۔۔۔ کیا خبر تھی کہ جب اس کافر و ملحد سے ملاقات ہو گی تو وہ کئی عابدوں سے بہتر انسان ثابت ہو گا۔‘‘ آگے محمد طفیل لکھتے ہیں کہ ’’جہاں تک میرا خیال ہے نیاز صاحب اندر سے بڑے مذہبی آدمی ہیں۔ انہوں نے اب تک مذہب کے بارے میں جو کچھ اور جتنا کچھ لکھا اس میں صرف جھوٹی مذہبیت کو جھنجھوڑا، بنے ہوئے خدائی فوجداروں کے مذہبی پندارکو آئینہ دکھایا، نیاز صاحب کوئی کافر وافر نہیں ہیں بلکہ معاملہ صرف اتنا نظر آتا ہے: کافر ہوا میں دین کے آداب دیکھ کر۔‘‘
نیاز فتح پوری پر مولوی طبقے کی برہمی کا کچھ بھی اثر نہیں پڑا۔ وہ اپنے معتقدات اور نظریات پر اٹل رہے۔ رموز دین سے ناواقف مولویوں کی دشنام طرازیوں کا جواب دلیلوں سے دیتے رہے اور آخر میں صاف صاف یہ کہہ دیا کہ : ’’نازم بہ کفر خویش کہ بہ ایماں برا برست‘‘
نیاز فتح پوری کی نظر بہت وسیع اور گہری تھی۔ ان کے یہاں خرد افروزی اور حریت فکر کی رو روشن تھی۔ ان کی فکر میں اس نوع کا تصلب اور تعصب نہیں تھا جس کی وجہ سے ذہنی دائرے سکڑنے اور سمٹنے لگتے ہیں اور اپنے سوا ہر کوئی غلط اور باطل نظر آنے لگتا ہے۔ ادبیات میں بھی ان کے یہاں یہی توسع تھا۔ جنسیات کے باب میں تو یہ توسع اور بھی نمایاں ہے کہ وہ صاف صاف کہتے ہیں کہ ’’جنسیات کی اہمیت اور تمام علوم کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔‘‘ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ ’’جس طرح انسان نے اپنی اور تمام خواہشات میں اعتدال پیدا کرنے کے لئے تعقل کے ذریعہ سے متعدد علوم و فنون کی بنیاد ڈالی اسی طرح اس نے اپنی خواہش جنسی کو جائز حدود میں رکھنے کے لئے جنسیات کو پیدا کیا اور اگر انصاف سے کام لیا جائے تو ماننا پڑے گا کہ اس علم کی اہمیت اور تمام علوم کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے کیونکہ تمدن کا بڑا ہنگامہ اسی خواہش پر منحصر ہے۔‘‘
جنسیات آج کی زندگی کا نہایت حساس اور اہم موضوع ہے، اسی لئے نیاز فتح پوری نے ’ترغیبات جنسی‘ کے نام سے کتاب تصنیف کی جو جنسی مسائل و موضوعات پر نہایت عالمانہ تصنیف سمجھی جاتی ہے۔یہ کتاب ہیولاک ایلس کی کتابوں سے مستفاد ہے، مگر جنسیات پر واتسائن، کلیان مل، پنڈت کوکا اور بھوگ پھل، شوہر کا رہنما، لذت النسا، قانون مواصلت اور جنس لطیف جیسی کتابوں سے ذرا مختلف ہے۔ شمیم رضوی نے بہت صحیح لکھا ہے کہ ’’ترغیبات جنسی اپنی نوعیت کی اردو زبان میں واحد کتاب ہے۔ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد کوئی اور کتاب نظر آتی ہے۔ جس میں اتنی تفصیل سے شادی، اعضائے جنسی کی پرستش، قحبگی، ہم جنس پرستی، جانوروں سے لطف اندوزی کی ابتدا و ارتقا سے مثالوں اور مستند حوالوں کے ساتھ بحث کی گئی۔ ان موضوعات پر یہ منفرد اور مستند کتاب ہے۔‘‘ علامہ نیاز فتح پوری کی ترغیبات جنسی، ادب جنسیات میں ایک بیش بہا اضافہ ہے۔ نیاز فتح پوری فکشن نگار بھی تھے، شاعر بھی اور نقاد بھی۔ ’نگار‘ ان کا ایسا رسالہ تھا جس کے خصوصی شماروں نے پوری اردو دنیا میں دھوم مچائی۔ غالب نمبر، تنقیح اسلام نمبر، علوم اسلامی اور علمائے اسلام نمبر ایسے شمارے تھے، جس کی وجہ سے علمی دنیامیں تحرک کی ایک فضا قائم ہوئی۔ غالبیات ان کا خاص موضوع تھا۔ غالب پر لکھے گئے ان کے تمام مضامین کا انتخاب فرمان فتح پوری نے ’غالبیات نیاز فتح پوری‘ کے نام سے شائع کرایا۔
اسی خاک سے دو ایسے مثنوی نگاروں کا بھی تعلق ہے جن کی مثنویاں ہندوستانی تہذیب و تمدن سے روشناس کراتی ہیں۔ ان میں ایک مثنوی تو ایسی ہے جس میں فتح پور ہسوہ کو موضوع بنا کر اسے حیات جاودانی عطا کی گئی ہے اور یہ مثنوی عطا علی خاک کی ہے۔ گلدستہ مسرت کے نام سے یہ مثنوی فتح پور ہسوہ کے ایک حقیقی واقعہ پر مبنی ہے جو مطبع نظامی کانپور سے 1285 میں شائع ہوئی تھی۔واحد علی وحید کے ایک قطعے سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہ مثنوی فتح پور ہسوہ کے پس منظر میں ترتیب دی گئی ہے:
وحید مثنوی جو یہ عطا علی نے کہی
معاملہ ہے قریب جوار ہسوا کا
حسن کا قصہ ہے روپا ہے اس کی جان عزیز
یہ قصہ دید کے لائق ہے دل ہے شیدا کا
اس مثنوی پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے اردو کے ممتاز ناقد پروفیسر گوپی چند نارنگ نے لکھا ہے کہ ’’ہسوہ کے قریبی علاقے میں ایک گل فروش رہتا تھا اس کی نوجوان بیٹی روپا اپنے حسن و جمال کی بدولت گاؤں بھر میں مشہور تھی۔ کمسنی میں اس کی شادی ہو گئی تھی لیکن ابھی گونا نہیں ہوا تھا اور وہ ماں باپ ہی کے گھر رہتی تھی۔ صبح و شام گاؤں کے کنوئیں سے پانی بھر لانا اس کا معمول تھا۔ اس کنوئیں کے قریب زمیندار کے کارندے شیخ حسن کا مکان تھا۔ ایک دن ناگہاں دونوں کا سامنا ہوا اور روپا دل و جان سے حسن پر فدا ہو گئی۔‘‘ وارفتگی اور شیفتگی کی اس کیفیت کو عطا علی خاک نے یوں بیان کیا ہے:
ہوش جاتے رہے نگاہ جو کی
ہل گیا آسمان آہ جو کی
تھی وہ لیلیٰ مگر بنی مجنوں
چشم بیمار سے وہ روئی خوں
پانی چھڑکا نہ ہوش میں آئی
اور بھی آگ اس نے بھڑکائی
لائے گھر تک ولے جگر تھانبے
کوئی بازو کوئی کمر تھانبے
کی دوا جس نے جو کہ بتلائی
لیک آئی نہ کچھ توانائی
بڑھی دو دن میں ایسی بیماری
جیسے برسوں کا کوئی آزاری
نہ کھلا اس کا کچھ بھی راز بطون
بڑھ چلا رفتہ رفتہ اور جنون
نارنگ صاحب لکھتے ہیں ’’روپا عشق میں وارفتہ و بیخود ہو چکی تھی اس نے حسن سے صاف صاف کہہ دیا کہ وہ اس کے بغیر ایک پل بھی زندہ رہنے کو تیار نہیں، لیکن حسن راہ عشق کو وضع احتیاط سے طے کرنا چاہتا تھا، وہ بغیر کسی قسم کا وعدہ کیے اپنے مکان پر لوٹ آیا۔ غرض اس کی بے التفاتی سے روپا کی حالت روز بروز بگڑنے لگی۔‘‘ (ہندوستانی قصوں سے ماخوذ اردو مثنویاں۔ ص294-96)
عطا علی خاک کی یہ پوری مثنوی روپا کی شوریدہ سری اورجنون عشق کی داستان ہے۔ روپا اپنے عاشق کی خاطر مذہب تبدیل کر کے حسن کے آنگن کی بہار اور دامن کی کلی بن کر اپنے بے کلی کے زنداں سے باہر نکل آتی ہے۔ عطاعلی خاک اس کیفیت کو اظہار کا پیکر یوں عطا کرتے ہیں:
مل گئی اپنے دل ربا سے وہ
چھوٹی رنج وغم و جفا سے وہ
دونوں جانب عجب کلام رہے
وصل سے دونوں شاد کام رہے
پروفیسر گوپی چند نارنگ نے اس مثنوی پر بھرپور تبصرہ کرتے ہوئے عطا علی خاک کی بدنصیبی کا شکوہ بھی حلقہ ارباب وفا سے یوں کیا ہے کہ ’’عطا علی خاک اردو کے ان بدنصیب شاعروں میں ہیں، جو لطف سخن کے باوجود قبول عام سے محروم رہے۔ ان کی مثنوی میں ادبی شان موجود ہے۔ قصے کو انہوں نے بڑی سادگی، سلاست اور روانی سے نظم کیا ہے اور بعض مقامات پر نہایت شگفتہ و شیریں اشعار بھی نکالے ہیں۔ واقعات کے تسلسل میں کہیں جھول نہیں۔ روپا کے کردار کو ایسی خوش اسلوبی سے پیش کیا ہے کہ اس کی صورت کے بنیادی اوصاف نمایاں طور پر سامنے آ جاتے ہیں لیکن ان خوبیوں کے باوجود یہ مثنوی مشہور تو کیا غالباً اپنے حلقے میں معروف بھی نہ ہوئی۔‘‘ (اردو مثنویاں۔ ص298-99)
دوسرے مثنوی نگار اقبال ورما سحر ہتگامی ہیں، جن کی مثنوی ’نیرنگ سحر‘ زمانہ پریس کانپور سے 1916میں شائع ہوئی۔ 9 ابواب پر منقسم یہ مثنوی کالی داس کی شکنتلا سے مستفاد ہے اور گلزار نسیم کی بحر میں لکھی گئی ہے۔ پروفیسر گوپی چندنارنگ نے اس مثنوی کے بارے میں یوں اظہار خیال کیا ہے کہ ’’سحر نے یہ قصہ کالی داس کی شکنتلا سے اخذ کیا ہے۔ یہ مثنوی وشوامتر کی ریاضت اور شکنتلا کی پیدائش کے بیان سے شروع ہوتی ہے۔ روایتی قصوں میں دشینت اور شکنتلا کی پہلی ملاقات کا ذکر مختلف پیرایوں میں آیا ہے۔ اقبال ورما سحر نے بھی اس سلسلے میں رنگ آمیزی کی ہے۔ خود ان کا بیان ہے کہ یہ نظم قریب قریب بالکل میری طبع زاد ہے۔ اصلی ڈرامہ سنسکرت شکنتلا کالی داس کی تقلید صرف اس حد تک کی گئی ہے جہاں تک محض خاص واقعات کا تعلق ہے نیز قصے کا تسلسل قائم رکھنے کے لئے مجھے چند ابواب کا بطور خود اضافہ بھی کرنا پڑا ہے۔‘‘ (اردو مثنویاں ص 66)
گوپی چند نارنگ نے سحر کے کچھ نمونے بھی دیے ہیں جن میں ایک نمونہ یہ بھی ہے:
وہ محو نظارہ پری رو
یعنی دشینت شاہ خوش خو
دیکھی جو وہ شان حسن دل سوز
الفت ہوئی دل میں آتش افروز
مفتون شکنتلا ہوا وہ
دلدادہ دلربا ہوا وہ
ادب انقلاب کے باب میں بھی اس سرزمین کی فضا بہت ہموار رہی ہے کہ یہیں سے وہ انقلابی شرارہ اٹھا جس نے زمینداروں، سرمایہ داروں اور بیوروکریسی کے خرمن کو خس و خاشاک کر ڈالا، جس کی زندگی کا ایک ہی مشن تھا ناانصافی، جبر اور ظلم کے خلاف جنگ۔ جس نے اپنے قلم سے وہ کام لیا جو لوگ تلواروں سے لیتے ہیں۔ اپنی تحریروں سے نوجوانوں کے دلوں میں ا نقلاب کی شمع روشن کر دی جس کا ایک ایک لفظ انگریزی استعماریت کے خلاف آگ اگلتا تھا وہ تھے ایک جراتمند، بے باک اور نڈر صحافی گنیش شنکر ودیارتھی (26؍اکتوبر 1890۔ 25؍مارچ 1931)، جو ہندی روزنامہ ’پرتاپ‘ کے بانی مدیر تھے۔ پنڈت مہاویر پرساد دیویدی کی رہنمائی میں اپنے صحافتی سفر کا آغاز کرنے والا یہ انقلابی صحافی مظلوموں اور بے کسوں کے حق میں آوازیں بلند کرتا رہا اور جبر کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے لوگوں کے لئے تحریکیں چلاتا رہا، جس کی پاداش میں جیل کی صعوبتیں برداشت کیں۔سرسوتی جیسے مشہور ادبی مجلے کے سب ایڈیٹر کی ذمہ داری نبھائی اور 1913 میں کانپور سے مشہور ہفت روزہ ’پرتاپ‘ کی بنیاد ڈالی اور پوری زندگی قومی ہم آہنگی اور یکجہتی کے لئے سرگرم رہا۔ کانپور کے فرقہ وارانہ فساد میں ہندوؤں اور مسلمانوں کی جان بچاتے ہوئے اس نے وطن کی یکجہتی کے لئے اپنی جان قربان کر دی۔ ان کی عظیم شہادت کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے مہاتما گاندھی نے ’ینگ انڈیا‘ میں لکھا کہ ’’یہ ایک عظیم انسان کی شہادت تھی۔‘‘ گنیش شنکر ودیارتھی نے ’پرتاپ‘ کے ذریعہ لوگوں کے ذہنوں میں انقلاب کی جوت جگائی۔ بابو جے نرائن لال، شریمتی گومتی دیوی کے فرزند ودیارتھی ہندوستان کی ترقی اور اس کے وجود کے لئے قومی ہم آہنگی کو لازمی سمجھتے تھے۔ انہی کے اخبار ’پرتاپ‘ نے 4؍ستمبر 1916کو ایک خصوصی شمارہ ’بھارتیہ‘ نکالا تھا، جس پر بھارت ماتا کی چھوی تھی۔ 60 صفحات پر محیط اس خصوصی شمارے کے قلم کاروں میں مہاویر پرساد دیویدی، میتھلی پرساد گپتا، منشی پریم چند، ودھیاوتی سیٹھ بی اے، سید حیدر حسین، بدری ناتھ بھٹ بی اے، سریمتی بالاجی، ستیہ نرائن کوی رتن اور جناردھن بھٹ بی اے تھے۔ گنیش شنکر ودیارتھی الہ آباد جیسے ثقافتی، ادبی اور سیاسی مرکز میں تھے، جہاں سوراج، کرم یوگی اور ابھودیہ سے وابستگی کی وجہ سے ان کا سیاسی اور سماجی شعور بہت بلندہو گیا تھا۔ ان کی وفات کے بعد کانپور میں ان کے نام پر ایک میڈیکل کالج قائم کیا گیا جس کا سنگ بنیاد اس وقت کے صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹرراجندر پرساد نے رکھا تھا۔ اس کالج کے پہلے پرنسپل ڈاکٹر ایس این ماتھر تھے۔ ہندوستان کی سیاسی، انقلابی شخصیتوں میں گنیش شنکر وودیارتھی کا نام نمایاں ہے۔ ان پر انگریزی اور ہندی میں کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ ایم آئی راجسوی نے ہندی اور ڈاکٹر ایم ایل بھارگو نے انگریزی میں ان پر کتابیں لکھی ہیں جس سے ان کے افکار کو سمجھنے میں آسانی ہو سکتی ہے۔
یہاں کی فضاؤں میں اب بھی وہی انقلابی روح زندہ ہے جو روح سوہن لال دیویدی جیسے انقلابی شاعر نے پھونکی تھی۔ بندکی سے تعلق رکھنے والے سوہن لال دیویدی راشٹر کوی تھے، جن کے انقلابی نغموں کی گونج پورے ہندوستان میں سنائی دیتی ہے۔ ان کی نظموں میں جو جوش و جذبہ ہے، ولولہ اور امنگ ہے وہ آج بھی ہمارے احساس میں آگ لگا دیتا ہے۔ سوہن لال دویوی کی انقلاب آفریں کویتائیںآج بھی نوجوانوں میں نیا جوش و امنگ پیدا کر رہی ہیں۔ ان کی نظموں کو پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہم میدان جنگ میں ہوں اور دشمن کو للکار رہے ہوں۔ انہیں کی نظم ’’بڑھے چلو بڑھے چلو‘‘ کا ایک بند ہے:
نہ ہاتھ ایک شستر ہو
نہ ہاتھ ایک استر ہو
نہ اننہ ویر وستر ہو
ہٹو نہیں ڈرو نہیں
بڑھے چلو بڑھے چلو
ایک اور بند میں جذبے کو یوں للکارتے ہیں:
گگن اگلتا آگ ہو
چھڑا مرن کا راگ ہو
لہو کا اپنے پھاگ ہو
اڑو وہیں گڑو وہیں
بڑھے چلو، بڑھے چلو
’’کھڑا ہمالیہ بتا رہا ہے‘‘ ان کی دوسری مشہور نظم ہے جو انقلابی آہنگ سے معمور ہے:
کھڑا ہمالیہ بتا رہا ہے
ڈرو نہ آندھی پانی میں
کھڑے رہو تم اونچل ہو کر
سب سنکٹ طوفانی میں
اسی روایت کی توسیع آج کی ہندی صحافت اور شاعری میں دیکھی جا سکتی ہے۔ جس کی ایک نمایاں مثال کنہیا لال نندن بھی ہیں۔ جن کا ادب اور صحافت دونوں سے ہی مضبوط رشتہ رہا ہے۔ ’دھرم یگ‘ سے انہوں نے اپنے صحافتی سفر کا آغاز کیا او ر ’پراگ، ساریکا، دنمان‘ جیسے موقر رسالوں سے وابستگی رہی۔ نوبھارت ٹائمز کے فیچر ایڈیٹر رہے۔ کنہیا لال نندن نے صحافت اور ادب میں جو شہرت اور عظمت حاصل کی ہے، وہ بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔ ان کی اہم کتابوں میں گھاٹ گھاٹ کا پانی، آگ کے رنگ، گزرا کہاں کہاں سے (خود نوشت) اور بنجر دھرتی پر اندر دھنش اہم ہیں۔ پدم شری اور بھارتیندو ایوارڈ سے سرفراز کنہیا لال نندن کا سب سے اہم کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے اردو کے جدید اور نمائندہ شاعروں کو ہندی حلقوں میں متعارف کرایا۔ احمد فراز، کرشن بہاری نور، بشیر بدر، امیر قزلباش، ندا فاضلی کے شعری انتخابات ہندی میں اپنے تعارف کے ساتھ اس طرح پیش کئے کہ ہندی داں طبقہ نہ صرف ان شاعروں سے مانوس ہوا بلکہ اردو شاعری کے تئیں ان کی سوچ میں بھی تبدیلی پیدا ہوئی۔ ایک نیا ذائقہ اور ایک نئی لذت کا انہیں احساس ہوا۔ کنہیا لال نندن اردو کی غزلیہ روایت سے نہ صرف آگاہ تھے بلکہ ان کی تفہیم کا انداز بھی نرالا تھا۔ انہوں نے ان شاعروں کے حوالے سے جو تاثرات لکھے ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ اردو شاعری کے رمز و روح سے وہ اچھی طرح واقف تھے۔ مشہور جدید شاعر ندا فاضلی کے بارے میں وہ لکھتے ہیں ’’بھارت کے اردو شاعروں میں ندا فاضلی آج کے مہتوپورن نام ہیں۔ انہوں نے نئی شیلی میں نئے وشیوں پر لکھ کر شاعری کو ایک نیا موڑ دیا ہے۔ ان کے کلام میں دیش کی زندگی اپنے لوک رنگوں کے لباس میں پوری طرح موجود ہے۔‘‘
اردو غزلیہ شاعری کے اہم نام بشیر بدر کے بارے میں ان کا تاثر یہ ہے کہ ’’بشیر بدر محبت کے شاعر ہیں اور ان کی شاعری کا ایک ایک لفظ اس کا گواہ ہے۔ محبت کا ہر رنگ ان کی غزلوں میں موجود ہے۔‘‘
امیر قزلباش کی شاعری کو انہوں نے ’ندی کے پاس اجالا‘ کا عنوان دیتے ہوئے بہت ہی خوبصورت انداز میں ان کا تعارف یوں کرایا ہے ’’ امیر آغا قزلباش اردو شاعری میں ایک ایسی شخصیت کا نام ہے جو سنسکرتی، سنسکار اور پرمپرا کی سیما کو ذہن میں رکھ کر اپنی بات کہنے کے لئے زمین تلاشنے میں وشواس کرتے ہیں۔ غزل کہیں یا نظم امیر اپنے تلخ تجربات کی نمائندگی اس خوبصورت انداز میں کرتے ہیں کہ شاعری کا سوندریہ زخمی نہ ہونے پائے۔‘‘
پاکستان کے مشہور شاعر احمد فراز کی شاعری پر نندن جی نے یوں نگاہ لطف ڈالی اور اس کی روح کو عوام کے روبرو کر دیا کہ ’’ہجرت، غم دوراں اور غم جاناں کے اتیرکت اگر فراز نے کیول عشق پر بھی شعر کہے ہیں تو بھی فراز نے ان میں روایتی حسن و عشق سے دور جیتی جاگتی دنیا کے لوگوں کے عشق، ان کی جدائی، ان کے ملن کو کچھ اتنے خوبصورت انداز میں ڈھالا ہے کہ سننے والا اس میں اپنے آپ کو ڈھونڈھنے لگتا ہے۔ کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ محبوب کو سامنے بٹھا کر بات کی جا رہی ہے۔ ان کی تمام غزلیں اور ان کے اشعار اس کی تائید کرتے نظر آتے ہیں:
وہ ٹھہرتا کیا کہ گزرا تک نہیں جس کے لئے
گھر تو گھر ہر راستہ آراستہ میں نے کیا
یہ دل جو تجھ کو بظاہر بھلا چکا بھی ہے
کبھی کبھی تیرے بارے میں سوچتا بھی ہے
کنہیا لال نندن کی نظمیہ شاعری کا ایک مجموعہ اردو میں ’سمے کی دہلیز‘ کے عنوان سے مکتبہ استعارہ نئی دہلی کے زیر اہتمام شائع ہوا۔ پروفیسر گوپی چند نارنگ نے اس مجموعے پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے ان کی شاعری کی ایک خاص جہت ہندوستانیت پر یوں روشنی ڈالی تھی کہ ’’یہ شاعری بھارت کی تہذیبی اور ثقافتی فضا میں سانس لیتی ہے اور اس کی ایک ایک سطر میں بھارتییتا مضمر ہے۔ انہوں نے اپنی مٹی، اپنے ملک بھارت کی تہذیبی، اساطیری، ثقافتی تاریخ کو اپنی تخلیق میں تشکیل دیکر ایک مخلصانہ کارنامہ انجام دیا ہے۔‘‘
کنہیا لال نندن کی ایک مشہور نظم ہے ’’کہیں کچھ فرق نہیں پڑتا‘‘ یہ نظم ان کے احساس و اظہار کے حسن کی گواہی دیتی ہے:
لیکن آدمی تو نہیں سیکھ پایا
اب تک اپنے ہی پسینے کی زبان
اس لئے چل رہا ہے
یہ سارا تماشہ
سمے ایک کونے پر کھڑا
دور سے مسکرا رہا ہے
اور آدمی ہے
کہ جغرافیہ
اور بھاشا کی سرحدیں لانگھ کر لگاتار
آدمی کو ہی کھا رہا ہے
کہیں کچھ فرق نہیں پڑتا
کنہیا لال نندن یکم جولائی 1933 میں فتح پور میں پیدا ہوئے تھے اور 25؍ستمبر 2010 میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ایک متحرک اور فعال صحافی اور شاعر تھے جنہوں نے اپنی آتم کتھا میں اپنی زندگی کی بہت سی سچائیوں کو درج کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنے بارے میں لکھا ہے ’’میں کنہیا لال تیواری عرف کنہیا لال نندن ولد یدو نندن ساکن موضع پرسدیوپور، پرگنہ بندکی، ضلع فتح پور، اتر پردیش۔‘‘ انہوں نے ساہتیہ سنسکار کے شہر الہ آباد سے بہت کچھ فیض حاصل کیا۔ بمبئی اور دہلی میں نئے افق اور نئے آسماں کی جستجو کرتے ہوئے وہ بلندی حاصل کر لی جو بڑی مشکل سے ملتی ہے۔
ہندی صحافت اور ساہتیہ میں جو شہرت و کامرانی کنہیا لال نندن کو ملی کچھ اتنی ہی شہرت اردو ادب اور صحافت میں فاروق ارگلی کو بھی نصیب ہوئی، جن کا لوح و قلم سے نہایت مضبوط رشتہ ہے، جو مختلف اخبارات اور رسائل سے وابستہ رہے۔ تقریباً ڈیڑھ سو ناول لکھے۔ ہندی اردو دونوں زبانوں میں کثرت سے لکھا۔ ہر موضوع پر لکھا۔ رحمن نیر کے رسالے ’روبی‘ کے مدیر کی حیثیت سے ان کی شناخت مستحکم ہوئی جس کا دلیپ کمار نمبر بیحد مقبول ہوا اور بقول ڈاکٹر فیروز دہلوی ’’فاروق نے دلیپ کمارکو شہنشاہ جذبات کے نام سے مخاطب کیا اور یہیں سے دلیپ کمار کے نام کے ساتھ شہنشاہ جذبات لکھا جانے لگا۔‘‘
’روبی‘ کے علاوہ پندرہ روزہ ’تیزگام‘ کے ایڈیٹر بھی رہے۔ یہ پندرہ روزہ اخبار انہوں نے سریش کمار کے تعاون سے نکالا تھا، جو بابو جگ جیون رام کے فرزند تھے۔ فاروق ارگلی عالمی اردو کانفرنس کے بانی علی صدیقی کے ادبی مشیر بھی رہے اور ان کے اردو مورچہ میں اپنی صحافت کے جوہر بھی دکھاتے رہے۔ فاروق ارگلی نے شاعری کی تو ’’عبارت سر دیوار اور لوح آب رواں‘‘ جیسے مجموعے منظر عام پر آئے اور مضامین لکھے تو ’فخر ادب، فخر وطن اور فخر خواتین‘ جیسے سلسلے شروع ہوئے۔ کتابیں مرتب کیں تو اتنی کہ ان کی فہرست بہت طویل ہو جائے گی۔ فاروق ارگلی کی تعلیم بس واجبی سی ہے مگر انہوں نے اپنے مطالعے سے علوم و فنون کے بیشتر ذخیرے کو اپنے وجود میں اس طرح جذب کر لیا ہے کہ بات کسی بھی موضوع پر ہو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ ان ہی کا اختصاص ہو۔ مطالعے کی وسعت نے ان کے قلم کو تازگی اور توانائی عطا کی ہے، اس کا ثبوت ان کی تحریریں ہیں۔ اتنی توانائیاں ایک شخص میں بہت کم دیکھی گئی ہیں۔ ان کی مرتب کردہ کتابوں میں جہان خسرو بھی ہے جو اس اعتبار سے اہم ہے کہ اس میں وہ تمام تحریریں شامل ہو گئی ہیں جس سے امیر خسرو کی تفہیم میں کوئی تشنگی نہیں رہ جاتی۔ فاروق ارگلی نے ’جہان خسرو‘ کے ذریعہ خسرویات میں اضافہ ہی نہیں کیا بلکہ ایک طرح سے آج کی منجمد اور ذہنی و فکری طور پر غیر متحرک دور میں امیر خسرو کی بازیافت کا ایک اہم فریضہ بھی انجام دیا ہے۔ جس طرح امیر خسرو کی شخصیت متنوع ہے، اسی طرح اس کتاب میں بھی تنوع کا خیال رکھا گیا ہے اور امیر خسرو سے متعلق وہ تمام تفصیلات درج کی گئی ہیں جس سے خسرو کے مکمل ذہنی، فکری وجود سے نہ صرف ملاقات کا احساس ہوتا ہے بلکہ ان کی پوری تخلیق اور احساس و ادراک سے مکمل معانقے کی صورت بھی نکل آتی ہے۔ فاروق ارگلی نے امیر خسرو کے حالات، امیر خسرو کی شاعری، امیر خسرو اور ہندوی زبان، تصوف اور امیر خسرو، خسرو کے دیوان، شاہکار مثنویاں، خمسہ خسرو، نثر خسرو، موسیقی اور خسرو اور میزان تحقیق کے ضمنی عنوانات کے تحت تمام اہم مضامین اور مقالات جمع کر دیے ہیں، جنہیں پڑھتے ہوئے قاری نہ صرف معلومات کی موتیاں حاصل کرتا ہے بلکہ قاری کا تخلیقی احساس بھی جاگ اٹھتا ہے اور ذہن ایک نئے ارتعاش کی لذت بھی محسوس کرتا ہے۔ امیر خسرو پر یوں تو بہت سی کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں مگر کچھ نہ کچھ کمی کا احساس ضرور ہوتا ہے، اس کتاب میں کوشش کی گئی ہے کہ امیر خسرو کی متنوع اور گوناگوں شخصیت کے تمام جوانب کا احاطہ ہو جائے اور کوئی بھی پہلو تشنہ نہ رہے۔ اس میں جن صاحبان فضل و کمال کے مضامین ہیں وہ اپنے متعلقہ میدانوں میں امتیازی شناخت رکھتے ہیں۔ پروفیسر وحید مرزا، ڈاکٹر نذیر احمد، عبدالستار دلوی، گیان چند جین، پروفیسر گوپی چند نارنگ، مولانا حبیب الرحمن شیروانی، پروفیسر سلیمان اشرف، پروفیسر حسن عسکری، پروفیسر نثار احمد فاروقی، حافظ محمود شیرانی، ڈاکٹر سید ظہیر الدین مدنی، شہاب سرمدی، یہ سب دنیائے تحقیق و تنقید کے معتبر نام ہیں اور جنہوں نے خسرو کی تفہیم کا حق ادا کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ امیر خسرو کی 100 فارسی غزلوں کا انتخاب معہ ترجمہ اور جواہر سخن کے تحت منتخب کلام خسرو اور ترجمہ ہے۔ امیر خسرو کی پوری فکری اور فنی جہتوں کی تفہیم کے لئے یہ تمام مضامین نہ صرف مفید ہیں بلکہ لکھنے والوں کی وسیع تر فکر اور قوت اظہار کا بھی ثبوت مہیا کرتے ہیں۔ خسرو شناسی کے ضمن میں یقیناًیہ کتاب دستاویزی اور حوالہ جاتی حیثیت کی حامل ہے۔ یہ کتاب امیر خسرو کے تخلیقی باطن کی سیر کراتی ہے اس لئے اس کتاب کی معنویت اور اہمیت کبھی کم نہیں ہو سکتی کہ امیر خسرو ایک شاعر، تخلیق کار، فن کار یا تحفتہ الصغر، وسط الحیات، غرۃ الکمال، نہایت الکمال، بقیہ نقیہ، قران السعدین، دولرانی خضر خاں، مفتاح الفتوح، نہ سپہر، خالق باری، شیریں خسرو، مجنوں لیلیٰ کے مصنف ہی نہیں بلکہ ایک نئی تہذیب اور نئے سماج کے بنیاد گزار بھی تھے۔ ایک امتزاجی ذہن کے حامل جنہوں نے ہندوستان کی منتشر تہذیبی اور سماجی فکر کو ایک مربوط، منظم اور اجتماعی صورت عطا کی۔ ان کی تخلیقی فکر میں اجتماعیت تھی اور وہ فکری اور لسانی امتزاجیت کی بہترین مثال تھے۔ آج جبکہ عالمی سطح پر یہ کائنات تہذیبی، ثقافتی بحران سے گزر رہی ہے ایسے میں امیر خسرو کی روشنی اور نغمے کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ آج کی فضا کو امیر خسرو کے تازہ اور شیریں نغموں کی تلاش ہے کہ ایسے ہی نغموں سے ہندوستان کے تکثیری سماج کی سنگ دلی کو توڑا جا سکتا ہے اور ایک جمہوری طرز فکر اور طرز احساس کی تشکیل کی جا سکتی ہے۔
فاروق ارگلی کی دوسری اہم کتاب ہے ’اردو ہے جن کا نام ‘ جو فخر ادب کے تحت روزنامہ راشٹریہ سہارا نئی دہلی میں شائع ہوتا رہا۔ یہ پہلا سلسلہ تھا جو زندہ اور معاصر ادبی شخصیات کے احوال و آثار پر محیط تھا۔
ہم عصر اردو ادب کے متنوع منظر نامے کی تفہیم میں یہ کتاب معاون ثابت ہو سکتی ہے کہ مربوط اور مبسوط طور پر کوئی ایسی کتاب نہیں لکھی گئی جس نے ہمارے عہد کے اساطین کے آثار کی تفہیم کا حق ادا کیا گیا ہو جن 74 اشخاص (خواجہ حسن ثانی نظامی، مولانا اخلاق حسین قاسمی، پروفیسر گوپی چند نارنگ، شمس الرحمن فاروقی، پروفیسر محمد حسن، پروفیسر مسعود حسین خان، پروفیسر قمر رئیس، ڈاکٹر تنویر احمد علوی، ڈاکٹر کمال احمد صدیقی، پروفیسر مختار الدین احمد، صدیق الرحمن قدوائی، ڈاکٹر خلیق انجم، پروفیسر سید محمد عقیل، پروفیسر حامدی کاشمیری، پروفیسر عبدالحق، پروفیسر زاہدہ زیدی، پروفیسر شمیم حنفی، وہاب اشرفی، لطف الرحمن، شکیل الرحمن، مظفر حنفی، کلیم عاجز، ظفر احمد نظامی، ملک زادہ منظور احمد، شارب ردولوی، ضمیر حسن دہلوی، پروفیسر صادق، غلام نبی خیال، عابد رضا بیدار، مظہر امام، ساحل احمد، گلزار دہلوی، دیوندر اسر، جوگیندر پال، نند کشور وکرم، صغریٰ مہدی، نامی انصاری، ستیہ پال آنند، نیر مسعود، مجتبیٰ حسین، بیکل اتساہی، مخمور سعیدی، بشیر بدر، عابد سہیل، جمنا داس اختر، بلراج ورما، کشمیری لال ذاکر، رتن سنگھ، شیخ سلیم احمد، ساغر خیامی، اظہار اثر، م م راجندر، کیول دھیر، ڈاکٹرمحمد فیروز، علیم صبا نویدی، عظیم امروہوی، منور رانا، ہلال سیوہاروی، عشرت قادری، شاہد ماہلی، ساجد رشید، وقار مانوی، شباب للت، بشر نواز، نور جہاں ثروت، فیاض رفعت، کلدیپ گوہر، متین طارق باغپتی، انیس انصاری، گربچن چندن، دیپک قمر، بھگوان داس اعجاز، ابرار کرتپوری، انیس مرزا) کے حوالے سے یہ کتاب تشکیل دی گئی ہے ان میں بیشتر اپنے احساس و اظہار کے باب میں انفرادیت کے حامل ہیں۔ معاصر تخلیقی و تنقیدی سیناریو کی تفہیم کے باب میں ایک روشن حوالے کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ تذکراتی نوعیت کی کتاب ہوتی تو صرف ارباب تحقیق ہی کے کام آتی یا سوانحی لغت اور قاوس تیار کرنے والوں کے لئے مفید ہوتی مگر یہ تنقیدی نوعیت کا کام ہے اس میں تذکرے جیسی تنقید نہیں ہے بلکہ تخلیقی کار کی روح اور ضمیر تک رسائی ہے۔ تخلیق کاروں کی داخلی حسیات اور باطنی کیفیات کے تلاطم کو محسوس کرنے کی کوشش ہے۔ تخلیقی مرکزیت کی جستجو نے کتاب کی معنویت کو منور کر دیا ہے۔ یہ اوروں سے یہ الگ ہے کہ اس میں اپنا ذہن، اپنی لفظیات، اپنی فکر اور اپنی آنکھیں روشن ہیں۔ دریوزاگران ادب کے انبوہ سے الگ یہ کتاب نئے عہد کے منفی تصورات اور ادبی معاشرے پر اس کے پڑنے والے اثر سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔ ادبی معاشرے کو صارفیت سے محفوظ رکھنے اور تاریخی، تہذیبی روایت سے ذہنوں کا رشتہ جوڑنے کے لئے فاروق ارگلی نے اچھی ترکیبیں نکالی ہیں۔ قاری کی بدلتی ترجیحات کے ماحول میں ادبی تاریخ نویسی کا یہ نیا سلسلہ ہے۔ کتاب میں شامل چراغوں سے ادب کی تیرگی میں شاید کچھ کمی واقع ہو کہ یہ چراغ بھی پرانے چراغوں کا تسلسل ہیں، ان کی روشنی سے بھی ادب کی تابناکی میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ تسلیم کیا جانا چاہئے کہ اگر اعتراف کی روایت ہی ختم ہو گئی تو ادب کے کارزیاں کا سلسلہ ہی رک جائے گا۔ کتاب میں تخلیقی شہ پاروں کی تائین قدر کے ساتھ تخلیقی کاروں کے سوانحی کوائف اور ادبی آثار سے قاری کی آگہی میں اضافے کی صورت پیدا کی گئی ہے۔ اردو زبان کا مستقبل ان ہی اشخاص اور افکار سے روشن ہے کہ عصری ادبی منظرنامے میں یہ نام اہمیت اور اعتبار رکھتے ہیں اور کسی نہ کسی زاویے سے انہوں نے ادب میں اضافہ نہ صحیح مگرتخلیق کے سلسلہ تحرک کو جاری رکھا ہے اور اس عہد جمود میں یہ بھی بہت بڑی بات ہے۔ یوں بھی ہمارے عہد میں ناقدوں کے مقتولین کی تعداد خاصی زیادہ ہے۔ بہت سے معتبر نام تنقیدی حوالوں سے ہی خارج ہیں۔ اس کتاب میں جن شخصیات کے تخلیقی امتیازات اور حاصلات کی تفصیل ہے ممکن ہے کہ ان میں سے بعض افراد کے شب و روز ستائش کی تمنا اور صلے کی پرواہ میں گزرتے ہوں مگر بیشتر افراد میں بے نیازی اور قلنددانہ صفت ہے۔ مختلف الطبع افراد کے یہاں انفرادیت اور امتیاز کے نقوش کی تلاش کا یہ عمل اتنا آسان نہیں ہے۔ انفرادیت کے الگ الگ رنگ ہوتے ہیں ا ور اس کی نوعیت بھی مختلف ہوتی ہے اور ویسے بھی ادیبوں کے لئے کوئی میزان مقرر نہیں ہے اور نہ ہی انہیں عام ترازوؤں میں تولا جا سکتا ہے۔ فاروق ارگلی نے جن شخصیات کے بارے میں لکھا ہے ان میں سے بعض کے ساتھ تو واقعتاً بہت سی سطحوں پر ناانصافیاں ہوئی ہیں۔ ان کی خدمات کا کماحقہ اعتراف نہیں کیا گیا۔ تنقیدی مقالات میں بھی تحسین و ستائش نہیں کی گئی۔ ’اردو ہے جن کا نام‘ ہمارے عہد کی ثقافتی تخلیقی تاریخ ہے۔ اس میں 20ویں صدی کے اواخر اور 21ویں صدی کے اوائل کے ادبی نقوش مرتسم ہیں۔ یہ نئے ہزاریے کی تخلیقی فکر کا انعکاس بھی ہے اور ارتعاش بھی۔ یہ محض کتاب نہیں بلکہ مستقبل کے لئے ایک بہترین خزانہ ہے۔ اگر یہ خزانہ غائب ہو جائے تو ہمارے ادب کا بہت بڑا زیاں ہو گا۔ فاروق ارگلی نے اسے زیاں سے بچانے کی ایک خوبصورت ترکیب نکالی اور روزنامہ راشٹریہ سہارا میں فخر ادب کا سلسلہ شروع کیا۔ یہ کارنامہ بہت بڑا ہے اس کارنامے پر کوئی دعائیں دے یا نہ دے مگر مستقبل کے ہاتھ دعاؤں کے لئے ضرور اٹھیں گے کہ ہمارے ادب کے مستقبل کی بہت ساری روشنی کا انحصار اسی پر ہے۔
فاروق ارگلی تنقیدی و توصیفی بیان میں کہیں کہیں افراط و تفریط کے شکار بھی ہوئے مگرایسا شعوری طور پر نہیں ہوا۔ انہوں نے ہر فنکار کی داخلی قوتوں کی جستجو کی ہے اور ان کی تخلیقی رعنائیاں تلاش کرنے میں کامیابی بھی حاصل کی ہے۔ آنے والا عہد ہمارے عہد کی تخلیقی آہٹوں اور استعارات سے محروم نہ ہو اس کے لئے ایک ایسی تنقیدی تاریخ کی تشکیل ضروری تھی جس میں ادب کے نمایاں فنکاروں کے آثار و افکار کے حوالے سے تنقیدی اشارے موجود ہوں۔ فاروق ارگلی کے تجسس آشنا ذہن نے وہ راہ تلاش کر لی جس راہ میں ادب کے لئے روشنی ہی روشنی ہے۔ انہوں نے ہر تخلیق کار کے مینٹل اسپیس کی امتیازی خصوصیات کو اپنی تحریروں میں پیش کر دیا ہے۔ ادب کے مختلف سلسلوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی شمولیت کی وجہ سے کتاب میں تنوع پیدا ہو گیا ہے۔ اس کتاب کے ذریعہ ہمارے ادب کو ایک نئی صبح ملی ہے جس سے ذرا دیر پہلے شایدصرف رات ہی رات تھی۔
فکشن کے باب میں ایک نمایاں نام ’امراؤ طارق‘ کا ہے جو پاکستان ہجرت کر گئے اور وہاں ان کے افسانوی مجموعے ’بدن کا طواف‘ (1980) کو آدم جی ادبی انعام ملا۔ معتوب ان کا مشہور ناول ہے۔ انہوں نے اپنے افسانوی مجموعے کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’یہ وہ دور تھا جب فکشن میں علامت نگاری اس قدر آ گئی تھی کہ روایتی افسانہ نگار گوشہ نشین ہو گئے تھے چنانچہ ’بدن کا طواف‘ کی تقریب رونمائی میں زاہدہ حنا نے اپنی تقریر میں کہا کہ امراؤ طارق کہانیاں لکھتے ہیں، کہانیوں کے ساتھ برا کام نہیں کرتے۔‘‘ (بحوالہ ’گفتنی‘ اوّل مرتبہ سلطانہ مہر ص 47)
امراؤ طارق صرف افسانہ نگار ہی نہیں بلکہ گہرا تنقیدی شعور بھی رکھتے ہیں۔ جدیدیت اور افسانے کی بابت ان کا خیال ہے کہ جدیدیت جس نے افسانے میں علامت، رمزیت اور فکشن میں کہانی کو زیریں سطح پرر کھ کر اپنی بات کہنے کی بنیاد ڈالی، ناپختہ کہانی کاروں کے ہاتھوں معمہ بن گئی اور فکشن ایک ایسا آسان ذریعہ اظہار بن گیا جس میں جو کچھ جیسے چاہو کہہ لو اور کچھ نہ کہو اور اصرار کرو کہ پڑھنے والا خود نتائج اخذ کرے چنانچہ کہانی فکشن سے یکسر غائب ہو گئی اورجدید افسانہ نگاروں نے قاری سے ہوم ورک کا مطالبہ شروع کیا۔ چنانچہ فکشن کا قاری سے رشتہ ٹوٹ گیا اور فکشن چیستاں بن گیا۔‘‘
امراؤ طارق کے افسانوں کے حوالے سے پروفیسر غفور شاہ قاسم کا یہ خیال نہایت بصیرت افروز اور معنی خیز ہے کہ ’’امراؤ طارق کے افسانے کسی ناپختہ ذہن کی خوش فہمیوں کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک پختہ اور باشعور تخلیقی فنکار کے ذہنی تجربوں اور مشاہدات کا حاصل ہیں۔ ان کے افسانوں میں خیالات اور الفاظ قدم سے قدم ملا کر چلتے ہیں۔ کہیں احساس نہیں ہوتا کہ الفاظ افسانہ نگار کی گرفت سے آگے بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور خیالات پیچھے رہ گئے ہیں۔ موضوع اور مواد کے نقطہ نظر سے دیکھئے تو پہلی ہی نظر میں اندازہ ہو جاتا ہے کہ افسانہ نگار نے اپنی تخلیقی انگلیاں معاشرہ کی نبضوں اور دکھتی رگوں پر رکھ دی ہیں۔ اس نے ساز حیات کے تقریباً تمام بیمار تاروں کو چھیڑا ہے اور گرد و پیش کی زندگی کے سارے بیمار منظر اس کے پیش نظر رہے ہیں۔ (پاکستانی ادب: شناخت کی نصف صدی ص 233)
امراؤ طارق کی دیگر کتابوں میں خشکی پر جزیرے (1980)، فوجداری قوانین کے بنیادی اصول (1995)، تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے (1995)اور خاکوں کا مجموعہ ، دھنک کے باقی ماندہ رنگ، تاروں پہ لکھے نام، فرمان فتح پوری حیات و خدمات قابل ذکر ہیں۔ وہ ’برگ گل‘ کے مدیر بھی رہے۔ سید امراؤ علی (امراؤ طارق) 15؍مارچ 1932میں موضع شاہ پور ضلع فتح پور ہسوہ میں پیدا ہوئے۔ مشرقی پاکستان ہجرت کی اور پھر کراچی پہنچے جہاں سے انہوں نے پالیٹیکل سائنس میں ایم اے کیا اور ایل ایل بی کی ڈگریاں لیں۔ وہ پاکستان میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولس کے عہدے پر فائز تھے۔
فتح پور سے ہی یعقوب یاور (ریڈر شعبہ اردو بنارس ہندو یونیورسٹی) جیسے محقق، ناقد، فکشن نگار اور مترجم کا تعلق ہے، جنہوں نے اردو کی ثروت میں گرانقدر اضافہ کیا ہے۔ مغرب کے جن شاہکاروں کے تراجم کے ذریعہ اردو کو بیش بہا خزینہ عطا کیا ہے ان میں ڈاکٹر ژواگو (بورس پاسترناک)، رقص اجل (کین فالیٹ)، درۂ خیبر کے اس پار (کین فالیٹ)، اقلیم اسود (ماریو پوزو) اور مشہور جاسوسی ناول نگار اگاتھا کرسٹی کے ناولوں کے تراجم طاق نسیاں، شب گزیدہ، زہراب نیل قابل ذکر ہیں۔ ہینرک ابسن کے ڈرامے کا ترجمہ پتلی گھر بھی یعقوب یاور کی خدمات جلیلہ کے ذیل میں قابل ذکر ہے۔انہوں نے ہرمن ہیس کے ناول سدھارتھ کا اردو میں ترجمہ کیا اور یہ ترجمہ بہت ہی مقبول ہوا۔ جرمنی کے مشہور نوبل انعام یافتہ ناول نگار اور شاعر ہرمن ہیس (18؍جولائی 1978۔ 9؍اگست 1962 ) کا یہ ناول ’سدھارتھ‘ جسم سے آتما تک کے سفر کی داستان ہے اور ایک ایسے کردار کے حوالے سے جس کے وجود میں تشنگی تھی اور ذہن میں تجسس، جس کے ذہن میں ہزاروں پرشن کے آتش فشاں دہکتے تھے اور من میں ہزاروں سوالات کے جوار بھاٹا۔ وہ ہر ہر قدم پر ٹھہرتا، سوچتا، تفکر، تدبر کرتا، منطق و معروضیت تلاش کرتا جاتا، وہ تشکیک و تذبذب کی دھند میں لپٹا ہوا ایک ایسا انسان تھا، جو عین الیقین کی منزل کی طرف گامزن تھا۔ غیر معمولی متحرک ذہن رکھنے والا سدھارتھ عظیم وجود کی داخلیت کی تلاش میں نکل پڑا تھا اور اس طویل یاترا میں اس کے متجسس ذہن میں رہ رہ کرسوالات اٹھتے تھے۔ ہرمن ہیس کے اس ناول کی اساس گوتم بدھ کی فکر اور فلسفہ ہے۔ بدھ افکار و تصورات کو اس نے اپنے اندر مکمل طور سے جذب کرنے کے بعد ناول کے قالب میں ڈھالا ہے۔ مشرقی تہذیب و ثقافت اور فکر کے تئیں ایک مغربی ذہن کی اس قدر بیداری قابل رشک ہے۔ ہرمن ہیس نے گوتم اساس فکر پر ناول لکھ کر مشرقی نابغاؤں اور نادرہ روزگار تخلیقی ذہانتوں کو زبردست چیلنج دیا ہے۔ یہ اہل مشرق کو مغرب کے ایک عظیم، زرخیز تخلیقی ذہن کا ایک گراں بہا تحفہ ہے۔ وہ اہل مشرق جن کے ذہنوں میں نئے شہر طلوع ہو گئے ہیں اور شراوستی اور تکشیلا غروب ہوتے جا رہے ہیں۔ یعقوب یاور نے ہرمن ہیس کے اس ناول کا ترجمہ کر کے اہل مشرق کو مغربی دانش سے روشناس کرایا ہے۔انہوں نے تخلیقیت سے مملو اردو کا خوبصورت پیرہن اس ناول کو عطا کیا ہے۔ یاور ترجمے کے آداب سے واقف ہی نہیں بلکہ تخلیقی ترجمے کے رمز آشنا بھی ہیں اس لئے ناول پڑھتے ہوئے کہیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ اس کا مصنف ہندوستان سے دور جرمنی کے کسی دور افتادہ علاقے کا ہو گا بلکہ ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہندوستانی روح، ماحول، فضا اور یہاں کی تہذیبی روحانی، ثقافتی اقدار سے آشنا ایک شخص نے یہ ناول لکھا ہے۔
یعقوب یاور ایک مترجم ہی نہیں بلکہ سنجیدہ ذہن ناقد بھی ہیں۔ انہوں نے جہاں آغا حشر کاشمیری کے ڈراموں کا کلیات مرتب کیا وہیں انہوں نے بہت سی کتابوں کے ذریعہ اپنی تنقیدی بصیرتوں کا ثبوت بھی دیا۔ ان کی ایک اہم تنقیدی کتاب تحریک و تعبیر بھی ہے۔ یہ کتاب کوہستان ادب کے دامن میں واقع وادئ تخلیق کے ایک باشندے کی بیداری اور کارگزاری کا لیکھاجوکھا ہے، جس میں تخلیق کے براہ راست مطالعے کی بنیاد پر ادب کی تفہیم کے اس در کو کھولنے کی کوشش کی گئی ہے جسے پیشہ ور نام نہاد ناقدوں نے بند کر رکھا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’نااہل ناقدوں کی کثرت اور سربراہی نے ادب کو چوں چوں کا مربہ بنا دیا ہے اور نام نہاد تنقیدی بالادستی تخلیق کے لئے مہلک ہے۔‘‘ اس کتاب میں 12 ادبی مضامین شامل ہیں۔ انہوں نے 20 ویں صدی کے کچھ ادبی رجحانات، ترقی پسندی، کل اور آج، ترقی پسندوں کی بھوپال کانفرنس، جدید ادبی تحریک ایک جوابی سازش جیسے خوبصورت مضامین لکھے ہیں۔ اس کتاب میں مجاز کا تصور انقلاب، مجروح کی غزل، محمدعلی تاج، کیف بھوپالی، شاہد اختر کی ترقی پسندی، فضل تابش کی شاعری، ڈاکٹر ناظم جعفری عام تنقیدی معیار اور نوعیت کے اعتبار سے اہم اور فکر انگیز ہیں۔ ڈاکٹر یعقوب یاور نے اپنے طور پر ادب کی تفہیم کے لئے جو زاویہ اپنایا ہے وہ قابل ستائش ہے۔ ان کی تنقیدی سوچ سے اختلاف ممکن ہے مگر ان کا جو معروضی اور مدلل انداز بیان ہے اور جو صاف ستھری پر اثر زبان ہے اس سے انکار ممکن نہیں۔
فتح پور کا شعری منظرنامہ بھی بہت تابناک ہے۔ قدیم دور میں تو ایک کہکشاں آباد تھی، نئے دور میں بھی ستاروں کی کمی نہیں ہے۔ یہیں کے ایک شاعر غلام مرتضیٰ راہی نے گوکہ شاعرانہ تعلی کے تحت یہ شعرکہا ہے کہ
نہ ہوتا ہند میں راہی اگر نیاز کے بعد
ادب کے نقشے میں ملتا نہ فتح پور کہیں
مگر یہ سچ ہے کہ تخلیق سے ہی کسی بھی سرزمین کو نقشے میں جگہ ملتی ہے، زمین کی زندگی کا حوالہ یہی تخلیق ہوتی ہے۔ گوکہ فتح پور کی تخلیقی شہرت صرف راہی سے نہیں ہے مگر راہی فتح پور کی شہرت کا ایک وسیلہ ضرور ہیں۔ ان کے کئی مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ ’لاکلام‘ ان کا ایک معتبر شعری مجموعہ ہے جسے ہمارے عہد کے ذہین شاعر و ادیب معین شاداب کی نئی تنقیدی نگاہ نے یوں پرکھا ہے کہ لاکلام اپنے عہد سے مکالمہ کرتا نظر آتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں ’’غلام مرتضیٰ راہی نے غزل کے جو پیکر تراشے ہیں وہ لبوں سے نہیں بلکہ آنکھوں سے گفتگوکرتے ہیں۔ ان کی زبانیں نہیں بلکہ جذبے بولتے ہیں، دھڑکنیں گویا ہوتی ہیں، وہ گفتگو وہ کلام جسے سماعت نہیں بلکہ محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ان کی غزلیں ایسے ہی غیر محسوس نغموں کو سننے کی کوشش ہے۔ غلام مرتضیٰ راہی کے اشعار پڑھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ فکر کے تیشے سے لفظ تراش تراش کر تعمیر کیے گئے ایسے صنم خانے ہیں جو شہر طلسمات آباد کرتے ہیں۔‘‘ (مجلہ استعارہ نئی دہلی، اپریل جون2001 ص 320)
غلام مرتضیٰ راہی کے ہر مجموعے کا نام ’لا‘ سے شروع ہوتا ہے مثلاً لامکان‘ لاریب‘ لاشعور‘ لاسخن اور یہی لا ان کے تخلیقی وجود کا اثبات ہے۔ ان کی خود نوشت راہی کی سرگزشت (2009) کے عنوان سے شائع ہو چکی ہے۔
اسی شہر سے طبع صائب اور ذہن ثاقب رکھنے والے شاعر انیس انصاری کا بھی رشتہ ہے۔ جن کی ایک نظم کم از کم انسان کے حساس وجود اور آتما کو مرتعش اور مضطرب کرنے کے لیے کافی ہے:
کیا تیرے شہر میں
نادیدہ خودر و دیوار
دیکھتے دیکھتے اُگ آتی ہے انسانوں کے بیچ
کسی دیوار کی کالک میں کہیں رنگ ترے جذب ہوئے
موسم عشق میں اس بار صلیبیں ہی اگیں
خوف کے کہرے میں آنکھوں کی چمک ماند ہوئی
خواہش وصل روایت کے اندھیروں میں گرفتار ہوئی
کیا تیرے شہر میں اب خوف کی سرداری ہے
یہ نظم ان کی ذہنی حساسیت کا بھرپور ثبوت ہے۔ ان کی تخلیقی زنبیل میں اسی نوع کے جذبات و احساسات ہیں، جو قاری کے ذہن کا حصہ بن جاتے ہیں اور ان کی سکڑی، سمٹی اور سہمی ہوئی شریانوں کو حرکت و عمل کا پیغام دے جاتے ہیں۔ یہ خوفزدہ محبوس ماحول سے باہر نکال کر جذبے کو زندگی اور توانائی دینے والی شاعری ہے۔ شمس الرحمن فاروقی نے ان کی تخلیقی جراْت و شہامت کو سراہتے ہوئے اپنے مخصوص تنقیدی اسلوب میں نہایت خوب صورت اشارے کئے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’معاصر زندگی کے مسائل، الجھنیں اور المیے جس خوبی سے ان کے کلام بالخصوص نظم میں منعکس ہوئے ہیں اس کی مثال جدید شاعری میں نہیں ملتی۔ بھیونڈی، ملیانہ، ہاشم پورہ (میرٹھ) بابری مسجد کی شہادت، یہ ایسے واقعات نہیں جن پر بے باکی سے قلم اٹھایا جا سکے اور شاعر اگر خود سرکاری افسر ہو تو اس کی حق گوئی یکرنگ کے الفاظ میں:
حق کہے جو کوئی سو مارا جائے
راستی ہے گی دار کی صورت
کی مصداق بن سکتی ہے لیکن انیس انصاری کی حق پسندی اور اخلاقی جراْت ان مراحل کو ہنستے ہنستے طے کر گئی ہے۔ ان کے مجموعے میں بھی جگہ جگہ اشارے چمک اٹھتے ہیں:
کوفہ نے چلائی تھی عجب رسم ستم زاد
دجلہ میں بہایا تھا ہلاکو نے لہو کو
اب پھر سے لہو رنگ ہوئیں میری زمینیں
وہ کابل و گجرات ہو، بصرہ ہو کہ بغداد
میں کس جگہ اس درد کو لے جاؤں چھپا کر
اک فوج غلاموں کی بچی ہے سو ہے آزاد
(درد ابھی محفوظ نہیں)
انیس انصاری ایک ایسے غزل گو ہیں جنہوں نے موضوعی سطح پر اپنے ممیزات کا ثبوت پیش کیا ہے۔ پروفیسر فضل امام نے ان کی غزلیہ شاعری میں تین ایسے عناصر کی نشاندہی کی ہے جس سے انفرادیت مستحکم ہوتی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ’’انیس انصاری کی غزل میں تین عناصر ایسے ہیں جو بحیثیت مجموعی اسے عام شاعری کے مضامین سے ممتاز اور ممیز کرتے ہیں۔ ان میں سب سے پہلا عنصر غزل کے مضمون کی عمومیت کا ہے جو شعر و ادب کے موضوعات عام انسانی دلچسپیوں سے ماخوذ ہیں۔ ان میں واقعات کی تہیں ملتی ہیں اور زمان و مکان کی نشاندہی کرتا ہے۔ دوسرا عنصر داخلی اور خارجی کیفیات کے حسین امتزاج سے مملو ہے جس میں شاعر کی ذہنی عکاسی ہوتی ہے۔ تیسرا عنصر حیات انسانی کے خد و خال پر تبصرہ ہے۔‘‘ (انیس انصاری: ادراک اور وجدان کا شاعر)
فاروق ارگلی نے سچ لکھا ہے کہ ’’انیس کا فکری افق خاصا وسیع ہے اور ان کے ہاں موضوعات کی بہتات ہے، کیونکہ ان کے عہد کی زندگی، حالات، تغیرات اور لحظہ بہ لحظہ بدلتی ہوئی کیفیات سے عبارت ہے۔ مذہب، تہذیب، نسل اور علاقائیت کی تفریق انسانیت کو خانوں میں بانٹ رہی ہے تو حساس شاعر کے نازک ذہن میں سوال سر اٹھاتا ہے:
جہاں در تھا وہاں دیوار کیوں ہے
الگ نقشے سے یہ معمار کیوں ہے
سماج میں تعصب، نفرت اور عداوت کا چلن دیکھ کر شاعر پوچھنا چاہتا ہے:
بہت آسان ہے مل جل کے رہنا
ندی اور دھار میں تکرار کیوں ہے
اور جب وہ یہ محسوس کرتا ہے کہ سرزمین کی آزادی اور تعمیر و ترقی کے لئے سب مل جل کر آگے بڑھے تھے، سب کی قربانیاں برابر کی تھیں، مگر ایک ذہنیت ناانصافی اور دغابازی کا رویہ اختیار کرتی ہے تو رہا نہیں جاتا، پوچھنے پر مجبورہو جاتا ہے:
تمہارے ساتھ ہم آگے بڑھے تھے
ہماری پیٹھ پر یہ وار کیوں ہے
پڑوسی ہو تو پھل یا پھول لاتے
تمہارے ہاتھ میں تلوار کیوں ہے
انیس انصاری کو غزل کے نرم و نازک لہجے میں اپنے عہد کی خوفناک حقیقتوں کو بڑے فنکارانہ انداز میں تراش کر بیان کرنے میں مہارت حاصل ہے۔ (اردو ہے جن کا نام ص 537)
شمس الرحمن فاروقی، نیر مسعود، وارث کرمانی جیسے مشاہیر نے ان کی تخلیقی انفرادیت کا اعتراف کیا ہے۔ وارث کرمانی نے اپنے بصیرت افروز مضمون میں لکھا ہے کہ ’’انیس انصاری کا دائرہ تخیل خاصا وسیع ہے۔ ان کی بصیرت حیات و کائنات کے مختلف پہلوؤں پر گہری نظر رکھتی ہے جو ان دنوں شعرا میں کم سے کم دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری کی اڑان محدود و مشروط ہے لیکن انیس انصاری ان پختہ اور رچے ہوئے شاعروں میں سے ہیں جو شاعری کے اعلیٰ مقاصد سے واقف ہیں۔‘‘
انیس انصاری نے نثر میں بھی اپنے جوہر دکھائے ہیں۔ فرقہ واریت کا تجزیہ جسٹس سید محمود اور فطری قوانین، ہندوستانی مسلمانوں کا تعلیمی پچھڑا پن، میر تقی میر اور ان کی ہم عصر ہندی شاعری، اودھ کی تہذیب کے عروج و زوال، ان کے اہم مضامین ہیں۔
بندکی فتح پور میں یکم جولائی 1949 کو پیدا ہونے والے مجاہد آزادی محمد یوسف انصاری کے فرزند انیس انصاری مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے فیض یافتہ ہیں۔ وہاں سے ایل ایل بی، ایل ایل ایم کی ڈگریاں حاصل کیں۔ وہیں کے شعبہ قانون میں لیکچرر بھی رہے۔ اسی دوران سول سروسیز کے امتحان میں چوتھی پوزیشن حاصل کر کے انکم ٹیکس افسر کی حیثیت سے سرکاری ملازمت کا آغاز کیا۔ اناؤ، بجنور جیسے مختلف اضلاع میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بھی رہے مگر شعر و ادب سے غیر معمولی لگاؤ برقرار رہا۔ ’درد ابھی محفوظ نہیں‘ ان کا وہ مجموعہ ہے جس کی ادبی حلقوں میں کافی پذیرائی ہوئی۔ اس کے علاوہ ’شہر سراب، سورج کا سفر، جنگ اور محبت کے درمیان، اگلے موسم کی خوشبو، زندگی وصل ہے، تیسرے دن کا سورج‘ ان کے مجموعے ہیں، جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ انیس انصاری تخلیقی سطح پر نہایت فعال و متحرک ہیں اور فتح پور کی عظمتوں کو اپنے تخلیقی نور اور طور سے نئی نشانیاں اور منزلیں عطا کر رہے ہیں۔
فنون لطیفہ میں بھی فتح پور پیچھے نہیں ہے۔ یہیں کے ایک سپوت خالد بن سہیل فنون لطیفہ کے افق پر سورج کی طرح چمک رہے ہیں۔ نوجوان مصور خالد بن سہیل کے ’تخلیقی عجائبات‘ کا خوبصورت رنگ محل دیکھ کر آرٹ کی دنیا بھی حیرت زدہ ہے۔ اپنے موئے قلم کی شاعری سے مسمرائمز کرنے والا یہ نوجوان فنکار درحقیقت وہ سنگ پارس ہے جس کے دست معجز نما نے رنگوں کے معجزے دکھائے ہیں اور دھنک رنگ خوابوں کو نئے نئے کینوس عطا کئے ہیں اور اس پر مقدس خوابوں کی لکیریں کھینچ کر سماج اور سیاست کے سفاک اندھیروں کے خلاف ’حرف جہاد‘ روشن کیا ہے۔
خالد بن سہیل نے اپنی تخلیقی ذہانت اور تکنیکی مہارت سے مصوری کو نئی سمت دی ہے اور آرٹ کی دنیا کو نئے امکانات کی بشارت بھی دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سوامی ناتھن، علی سردار جعفری، کملیشور، قمر رئیس، شہریار، جگن ناتھ، شمس الرحمن فاروقی، کیشو ملک، وسنت آیر اور فرحت احساس، یہ معتبر نام بھی خالد کی تخلیقی فطانت کا اعتراف کرتے ہیں اور ان کی ذہانت کی داد دیتے ہیں۔
خالد کا امتیاز یہ ہے کہ انہوں نے مصوری کے فن کو جہاں نئے امکانات عطا کئے ہیں، وہیں انہوں نے عبدالرحمن چغتائی اور صادقین کی روایت کو آگے بڑھانے کا کام کیا ہے۔ خالد کی کثیر الابعادی شخصیت کا ہی کرشمہ ہے کہ انہوں نے سہ الابعادی پینٹنگز کے ذریعہ ہمیں تہذیبی و ثقافتی جمالیات کا ’نگار خانہ‘ عطا کیا ہے تو وہیں امیر خسرو، ریختی اور علی سردار جعفری کے شاعرانہ احساسات کو تصویری قالب میں ڈھال کر ان کے لفظوں کے آہنگ کو ایک ایسا خوبصورت رنگ عطا کیا ہے جومختلف لسانی حد بندیوں اور شناختوں میں جکڑی ہوئی دنیا کے لئے بھی قابل فہم ہے کہ ’رنگوں کی زبان‘ ہی ایک ایسی عالمی زبان ہے جو پوری دنیا کی آنکھیں سمجھتی ہیں، جسے کسی ملک یا کسی جغرافیے میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ خالد نے انسانیت کو ایک ڈور میں باندھنے کے لئے مصوری کے موثر اور طاقتور میڈیم کو اپنایا اور ریختی، خسرونامہ اور جعفری کی نظموں کی تصویری نمائش کے ذریعہ تمام لسانی زنجیروں کو توڑ کر انسانی آنکھوں تک ان کا وہ پیغام محبت پہنچا دیا جو مختلف زبانوں میں ترجمے کے بعد اپنا حقیقی اثر کھو بیٹھتا۔ یہ مصوری ہی کا معجزہ ہے کہ ہر ایک فلسفہ اور تصور اس میں ڈھل کر آسان اور عام فہم ہو جاتا ہے بشرطیکہ وہ آرٹ تجریدی نہ ہو۔
خالد بن سہیل چونکہ کمرشیل آرٹسٹ نہیں ہیں بلکہ وہ اپنی آتما کو سکون دینے کے لئے، یہ سب کچھ کرتے ہیں اس لئے ان کی پینٹنگ میں انسانیت پسندانہ تناظر ملتا ہے۔ ان کی مصوری ہماری تہذیبی، ماحولیاتی روایات اور سماجی و سیاسی تضادات کی عکاسی کرتی ہے۔ وہ ایک بیدار ذہن اور طبع رسا رکھنے والے مصور ہیں۔ عصری، سماجی، سیاسی حالات سے انتہائی باخبر اور ماضی کی قدیم تہذیبی روایات سے بھی آگاہ ہیں۔ ماضی اور حال پر گہری نظر نے انہیں مستقبل شناس بنا دیا ہے۔ اس لئے خالد کی اکثر پینٹنگز میں مستقبلیت کا عکس نظر آتا ہے جو کہ انسانیت کی بقا میں مضمر ہے۔ مستقبل کے وژن اور بقائے انسانیت کے تصور نے ہی انہیں انسان دشمن قوتوں کے خلاف تصویری جہاد چھیڑنے کی تحریک دی ہے۔ خالد کی پینٹنگ ’اذان‘ ہو یا ’دھرتی ماں‘، ’صلیب پر لٹکی ہوئی زندگی ہو یا الو کا بسیرا‘، ’شیولنگ ہو یا نیرے ہوئے سر‘ یا آرٹ فار سیکولرازم سیریز کوئی بھی پینٹنگ، سبھی میں انہوں نے سماجی اور سیاسی منافرت اور تشدد کے خلاف زبردست احتجاج کیا ہے اور احتجاج کے اسی رنگ نے انہیں ہم عصر فنکاروں میں ایک امتیاز بخشا ہے کہ خالد نے ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کے تحفظ اور دھرتی ماں کے تقدس کے لئے مصوری کا سہارا لیا ہے اور بلاخوف و خطر اور لومۃ لائم فرقہ پرستی کے ہر اس رنگ کے خلاف اپنے برش کا ہتھیار استعمال کیا ہے جو انسانیت کے لئے زبردست خطرہ ہے اور صحیح معنوں میں اپنی پینٹنگز کے ذریعہ سیکولرازم کے انسانی اقدار کی تشریح کی ہے۔ ایک طرف انہوں نے ’اذان‘ کے ذریعہ مسلمانوں کے مذہبی جنون کو نشانہ بنایا ہے کہ لاشوں کے ڈھیر پر کھڑے ہو کر اذان دینے سے خدا خوش نہیں ہو گا تو وہیں شیولنگ کی پینٹنگ سے ہندو فرقہ پرست سماج سے یہ سوال کیا ہے کہ کیا خون سے نہائے شیولنگ میں بھگوان واس کرے گا؟ اور پھر ’الو کا بسیرا‘ تصویر میں بھارت ماں کے سر پر الو کا بسیرا دکھا کر یہ واضح کر دیا ہے کہ بھارت ماتا کے سر پر جب تک فرقہ پرستی کا سایہ منڈلاتا رہے گا تب تک اجڑنا اس کا مقدر ہے۔ فرقہ وارانہ فسادات کی ہولناکیوں اور مذہبی جنون کی خون آشامیوں کو خالد نے اپنے کینوس پر بڑی ہی فنکاری کے ساتھ اجاگر کیا ہے کہ کینوس پر ابھرتی لکیریں انسانیت کا روشن نقطہ نظر آتی ہیں جو تاریکیوں کے خلاف آمادۂ جنگ ہیں۔ ممتاز صحافی، شاعر اور کالم نگار جناب فرحت احساس نے خالد کے فن کا تجزیہ کرتے ہوئے صحیح نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ’’ہم پچھلے کئی برسوں سے دھیرے دھیرے کئی دشمنوں کے نرغے میںآئے ہیں، ان دشمنوں میں سب سے بڑا دشمن فرقہ وارانہ نفرتوں کا وہ سفاک اندھیرا ہے جو ہمارے دلوں، دماغوں اور ہمارے انسانی احساس کو تاریک کر رہا ہے، اس دشمن سے کئی سطحوں پر لڑائی جاری ہے۔ اس لڑائی میں عام شہری بھی ہیں، ادیب، شاعر اور فنکار بھی۔ خالد بن سہیل ان نوجوان مصوروں میں ہیں جنہوں نے انسان اور زندگی کے خلاف نفرتوں اور بدصورتی کی اس سازش کو بڑی گہرائی سے محسوس کیا ہے اور اپنی تصویروں میں ڈھالا ہے۔ ان تصویروں میں صلیب پر لٹکی ہوئی زندگی، اذان، سایہ بوم، نفرتوں سے مسنح چہروں، موت کی خوفناک پرچھائیاں، زندگی میں بڑھتی ہوئی بے معنویت اور بے رحمی اور مذہب کے انسان کش استعمال کے مختلف بھیانک عکس پیش کرتی ہیں۔ خالد کے لئے فن انسانی زندگی کو تمام بدصورتیوں سے پاک کرنے اور اس کے بنیادی حسن کو اندھیروں کی گرفت سے نجات دلانے کی ایک مسلسل جدوجہد کا وسیلہ ہے۔‘‘
خالد بن سہیل کی تصویروں کا بنیادی سروکار دنیا کو شہر خموشاں میں تبدیل کرنے کی سائنسی، سماجی، سیاسی سازشوں کے خلاف احتجاج درج کرانا ہے اور زمین کے تقدس کو بچانا ہے اور دوسروں کی موت میں اپنی زندگی تلاش کرنے والوں کو ان کی اصل حقیقت سے روشناس کرانا ہے اور خود تباہی کے خطرناک عمل سے پوری انسانیت کو نجات دلانا ہے۔ یہی ان کے آرٹ کا مقصد ہے اور اسی مقصدیت میں ان کا آرٹ بھی زندہ ہے۔
خالد نے آرٹ کے ذریعہ ہمارے اجتماعی شعور کو بیدار کیا ہے اور ہمارے محسوسات کو رنگوں کی مدد سے کینوس پر اتارا ہے اور رنگوں کا اتنا خوب صورت تخلیقی استعمال کیا ہے کہ آرٹ کے نقاد بھی یہ ماننے پر مجبور ہیں کہ خالد نے بہت مختصر عرصے میں مصوروں کے ہجوم بے کراں میں اپنی ایک انفرادی پہچان بنا لی ہے، مصوری میں اک ایسا چہرہ طلوع ہوا ہے جو بھیڑ میں بھی الگ سے پہچانا جائے گا کہ یہ وہ مصور فردا ہیں جنہوں نے مستقبل میں اپنے خوابوں کے وہ رنگ بھرے ہیں کہ جنہیں صدیوں کی تناسخی گردشیں بھی ختم نہیں کر سکیں گی۔
خالد بن سہیل نے اپنی پوری زندگی فنون لطیفہ کے لئے وقف کر دی ہے۔ ایک طرف انہوں نے مصوری کی دنیا میں ملک گیر شہرت حاصل کی ہے تو دوسری طرف آرٹ اینڈ کاسٹیوم ڈائرکشن میں بھی اپنے جوہر دکھائے ہیں جن سیریلوں میں انہوں نے آرٹ ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کیا ہے ان میں علی سردار جعفری کی ’کہکشاں‘ مشہور سیریل ’پھٹیچر‘ ٹیلی فلم ’فخر الدین علی احمد‘ اور ’میرے بھی ہیں کچھ خواب‘ فیچر فلم ’سردار پٹیل کے نام قابل ذکر ہیں۔ آرٹ ڈائریکشن کی دنیا میں ان کی شہرت کے محض یہ چند حوالے ہیں مگر ان کی شناخت کا سب سے بڑا حوالہ ان کی وہ پینٹنگز ہیں جنہوں نے آرٹ کی دنیا میں زبردست دھماکہ کیا ہے۔ پوکھران کے نیوکلیائی دھماکے پر انہوں نے اپنی پینٹنگ کے ذریعے جو زبردست احتجاج کیا تھا وہ ہندوستان کے انگریزی اور دیگر رسائل و جرائد پڑھنے والوں کے ذہن میں تازہ ہو گا۔ ادھر ’مدر کرگل‘ نے بھی خاصی دھوم مچائی ہے۔ اس پینٹنگ نے ان کی مثبت انسانی سوچ اور دھرتی ماں سے پیار پر ایک اور مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ ’مدر کرگل‘ خالد بن سہیل کا وہ شاہکار ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک کرگل کی تباہیاں، ہولناکیاں لوگوں کے ذہنوں پر دستک دیتی رہیں گی تب تک یہ مصوری بھی لوگوں کے ذہنوں میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتی رہے گی کہ ’مدر کرگل‘ نوعیت، تکنیک اور سوچ کے اعتبار سے سب سے منفرد اور شاہکار مصوری ہے جس میں مصور نے انسانیت کی بقا کے تصور کو پھر کینوس پر منعکس کیا ہے۔
خالد بن سہیل ان دنوں ’فکشن سیریز‘ پر کام کر رہے ہیں۔ مصوری کے علاوہ شاعری سے بھی ان کو شغف ہے۔ ان کی نظمیہ شاعری کا مجموعہ ’مونولاگ‘ کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔

جونپور کا تخلیقی نور

حقانی القاسمی
وقت تاریخ کے نقشے بدل دیتا ہے اور تاریخ شہروں کے نقشے بدل دیتی ہے!
انسانوں کی طرح شہروں کے آداب اور اسالیب بھی بدلتے رہتے ہیں مگر بقول قرۃ العین حیدر ’خیالات کے صنم خانے ہمیشہ آباد رہیں گے۔‘
ماضی میں ایسا ہی ایک صنم خانہ جونپور بھی تھا۔ برسوں تک اس شہر کو مرکزیت اور مرجعیت نصیب تھی۔یہ وہی شہر تھا جو مدینۃ العلم والعلما کہلاتا تھا اور جسے شاہجہاں نے ’شیراز ہند‘ کا خطاب دیا۔
یہی وہ سرزمین تھی جس کا شہرہ ایران اور عرب تک تھا اور جس کی رعنائی افکار اور لذت اسرارکی روشنی پورے ہندوستان میں تھی۔ مولوی کرامت علی، سخاوت علی، غلام حسین کے افکار سے کتنے شہر روشن ہوئے۔ مہدوی تحریک کا نقطہ آغاز بھی یہی شہر ہے جس کے بانی سید محمد جون پوری تھے۔ فتاویٰ عالم گیری کی تدوین و ترتیب میں بھی جونپور کے علما ہی نے حصہ لیا تھااور پہلی جلد مولوی جلال الدین مچھلی شہری نے مرتب کی تھی۔ اسی سرزمین سے فیض حاصل کرنے والے شیر شاہ سوری نے ہندوستان میں اقتدار و اختیار کی ایک نئی تاریخ مرتب کی اور مواصلاتی نظام کو جی ٹی روڈ بنا کر ایک نئی شکل دی۔
آخر کوئی تو وجہ کشش رہی ہو گی کہ علما و مشائخ نے تیموری حملے کے بعد دلی چھوڑ کر اس شہر کا رخ کیا تھا، کیسے کیسے جید علما اور صوفیا اس زمین میں قیام پذیر ہوئے اور یہاں کی مٹی کو مفتخر کیا۔ قاضی شہاب الدین دولت آبادی، شیخ حسن طاہر، شیخ معروف جونپوری، شیخ بہاؤ الدین جونپوری، مولانا الہ داد، شیخ ادھن جونپوری، شیخ محمد حسن جونپوری، شیخ علی بن حسام الدین، شیخ محمد عیسیٰ،شیخ ابوالفتح جونپوری،سید علی یہ وہ ہستیاں تھیں جو علم و تصوف کے میدان میں ممتاز تھیں اور جن کی روحانیت سے جونپور کی زمین سرشار اور شاداب رہی۔اسی جونپور میں قاضی شہاب الدین دولت آبادی کی قبر بھی ہے جن کے بارے میں شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے اخبارالاخیار میں لکھا ہے کہ ’آپ کے زمانے میں اگر چہ بڑے بڑے شہیر فی الآفاق اکابر موجود تھے جو آپ کے اساتذہ اور ہم عصر تھے لیکن خدا تعالیٰ نے جو شہرت اور مقبولیت آپ کو عطا فرمائی تھی وہ کسی اور کو نہیں ملی ،آپ کی تصنیفات میں ایک کتاب مشہور کتاب کافیہ کا حاشیہ ہے جو اپنی مثال آپ ہے اور وہ حاشیہ آپ کی زندگی ہی میں تقریباً تمام جہان میں شہرت پذیر ہو گیا تھا۔ اسی طرح علم نحو میں آپ کی ایک کتاب بنام ارشاد ہے ،جس میں مسائل کے تحت امثلہ بھی بیان کی ہیں ۔اور ایک اچھوتے طرز پر یہ کتاب لکھی ہے۔اس کی عبارت میں تسلسل اور نہایت عمدگی ہے‘‘۔
مولانا الہ دادجو قاضی شہاب الدین کے شاگرد اور راجی حامد شاہ کے مرید تھے،ان کا شمار بھی یہاں کے اہم علما میں ہوتا ہے۔اخبار الاخیار کے مطابق کافیہ، ہدایہ،بزدوی اور مدارک کی شرح لکھی ،طالب علمی ہی کے زمانے سے تحریروتنقیح پر قدرت رکھتے تھے۔ان کے علاوہ شیخ حسن طاہر جن کا تولد بہا ر میں ہوا تھا جونپور کے معروف عالموں میں سے تھے۔اس طرح کی اور برگزیدہ شخصیات کی وجہ سے جونپور میں وجدانی اور روحانی چشموں سے فیض پانے والوں کی کمی نہیں تھی۔وہاں زندگی تھی ،محبت معرفت اور نگاہ تھی ۔لیکن بعد میں خوشبوؤں کے یہ سلسلے ختم ہوئے گو کہ اب بھی کچھ اثر باقی ہے۔
بہر زمیں کہ نسیمے ززلف او زدہ است
ہنوزازسر آں بوئے عشق می آید
یہی وہ سرزمین تھی جہاں نکہت ونور کی ایک کہکشاں آباد تھی۔ قرۃ العین حیدر نے لکھا ہے ’شرقیہ سلطنت، ہند میں تہذیب کا عظیم الشان مرکز بنی ہوئی تھی۔ جونپور ’شیرازہند‘ کہلا رہا تھا۔ اس سلطنت کو قائم ہوئے ابھی فقط 70 سال گزرے تھے۔ صاحبقراں کے حملے کے بعد کی گڑبڑ سے فائدہ اٹھا کر ملک الشرق خواجہ جہاں نے اس کی بنیاد ڈالی تھی۔ اس کے سلاطین اپنے آپ کو غیر ملکی نہیں گردانتے تھے۔ دکن کی بادشاہتوں کی مانند، ان کی حکومت بھی خالص ہندی حکومت تھی۔ انہوں نے خوبصورت عمارتیں بنائی تھیں۔ گلاب کے باغ لگائے تھے۔ دور دور سے اہل علم آ کر جونپور میں جمع ہو رہے تھے۔‘ (آگ کا دریا۔ ص126)
اوررشید احمد صدیقی نے لکھا ’جونپور تاریخی شہر ہے۔ وہاں شاہان شرقی کے آثار اب تک موجود ہیں۔ کئی جید مسجدیں ہیں، مزارات اور مقبرے ایک عالیشان قلعہ، عیدگاہ، پل، پختہ سرائے اور کتنے سارے کھنڈر شاہی زمانے کے دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ دریائے گومتی وسط شہر سے گزرتا ہے، جس پر شاہی زمانے کا بڑا مضبوط پل ہے۔ برسات میں با لضرور طغیانی آتی ہے۔ یہ زمانہ شہر میں تردد اور تفریح دونوں کا ہوتا ہے۔ شہر سے متصل شاہان شرقی کا ویران قلعہ ہے۔ کتنا اونچا، مستحکم اور شاندار پل جس کے ایک سرے پر پبلک لائبریری کی دو منزلہ عمارت، جس کی دیوار کے ایک رخ پر دریا کا اتار چڑھاؤ ظاہر کرنے کے لیے نمبر لگا دیے گئے ہیں۔ (آشفتہ بیانی میری۔ ص 21-22)
مگر وقت بدلتا ہے تو پھر تاریخ بھی تبدیل ہو جاتی ہے اور زمین بھی اپنی کیفیت بدل لیتی ہے،چمیلی ،کیسری کیوڑا،خس کاشت کر نے والی زمین مکئ اور آلو اگانے لگتی ہے۔ ’تخیل‘ عروج تلذذ کے نقطہ پر مرکوز ہو جائے تو یہی حال ہوتا ہے۔
جونپور کے عروج نے زوال کا منظر بھی دیکھا۔ وہی جونپورجوسلطنت شرقیہ کا دارالسلطنت تھا، اسے 1362 میں فیروز شاہ تغلق نے جونا شاہ کے نام پرآباد کیا تھا۔ سلاطین شرقیہ کے ذوق جمال اور نفاست پسندی کا مظہر وہ عمارتیں ہیں جن کی تابناکی میں کمی ضرور آئی ہے مگر اب بھی ان عمارتوں کے نقوش عہد رفتہ کے جلال و جمال کی داستانیں سناتے ہیں۔سلطان ابراہیم شاہ کی تعمیر کردہ قدیم اٹالہ مسجد، شاہی مسجد، لال دروازہ مسجد اور400سال پراناشاہی پل جو شہنشاہ اکبر نے بنوایا تھا دوسری بہت سی عمارتیں اور جن میں تہذیب سانس لے رہی ہے۔
تہذیب کو تلاش نہ کر شہر شہر میں
تہذیب کھنڈروں میں ہے کچھ پتھروں میں ہے
پرشکوہ عمارتوں کے ساتھ ساتھ علم و فضل کی کہکشاں بھی آباد تھی، فلسفے کی مشہور کتاب ’شمس بازغہ‘ کے مصنف ملا محمود فاروقی جونپوری (م 1632)اور شیخ عبدالرشید جیسی شخصیتوں کی زادگاہ جونپور کے امتیازات علمی دنیا میں روشن ہیں جن کے بارے میں شیخ محمد افضل جونپوری کا قول تھا کہ ’’تفتا زانی اور جرجانی کے بعدملا محمود جونپوری اور شیخ عبدالرشید جونپوری کی جامعیت کے دو فاضل ایک شہر میں جمع نہیں ہوئے۔‘‘(تذکرہ ،مولانا ابو الکلام آزاد)
شعر و ادب کی دنیا میں بھی جونپور کو عظمت حاصل رہی ہے۔ اردو کی تاریخوں میں یہاں کے تخلیق کاروں کا ذکر ہو یا نہ ہو مگر حضرت حفیظ جونپوری کا یہ شعر زبان زد خاص و عام ہے اور اس کی شہرت کسی تذکرے یا تنقید کی رہین منت نہیں ہے۔ وہ شعر ہے
بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے
ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے
اسی غزل کا ایک اور شعر عجب سی کیفیت سے سرشار ہے
پی لو دو گھونٹ کہ ساقی کی رہے بات حفیظ
صاف انکار سے خاطر شکنی ہوتی ہے
جونپورکی فضامیں موسیقیت اور نغمگی تھی کیونکہ یہاں کا سلطان حسین شرقی موسیقی کا دلدادہ تھا،راگ خیال کے موجدحضرت سلطان شرقی ہی تھے جن کے دور میں قوالی بہت مقبول تھی۔ قرۃ العین حیدر نے لکھا ہے کہ ’کشمیر کے زین العابدین اور گوڑ کے علاء الدین حسین شاہ کی طرح جونپور کا حسین شرقی بھی انہی سنکی لوگوں میں سے تھا، جن بادشاہوں نے مزید بت شکنی کے بجائے ان پوتھی پتروں میں دلچسپی لینا شروع کر دی۔ حسین شرقی کو جب بھی دلی کے سلطان بہلول اور سلطان سکندر سے جنگ کرنے سے فرصت ملتی وہ اپنا طنبورہ لے کر بیٹھ جاتا۔ راگوں کی دنیا کی نئی نئی سیاحتیں کرتا یا قدیم نسخوں کی ورق گردانی میں مصروف رہتا۔ (آگ کا دریا۔ ص 122)
’سلطان حسین کے دوسرے وفادار امرا اور افسروں کے ساتھ بیٹھ کر منصوبے بناتا تھا کہ جونپور کی سلطنت دوبارہ کس طرح حاصل کی جائے۔ جونپور میں اب دلی کا ایک شہزادہ تخت پر بیٹھا تھا۔ سلطنت شرقیہ کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ شیراز ہند اجڑ چکا تھا۔‘ (آگ کا دریا۔ ص 136)
’ابوالمنصور کمال الدین قاضی شہاب الدین جونپوری کا جانشین، مؤرخ محقق اب سیاسی سازشوں کا بھی ماہر ہو گیا۔ دن رات وہ سلطان کے ساتھ سر جوڑے بیٹھا ترکیبیں سوچا کرتا۔ دلی کے سلطان کو کس طرح زیر کیا جائے۔ اب سلطان بہلول مر چکا تھا اور اس کا خوبصورت شاندار بیٹا سکندر ہند کا بادشاہ تھا۔ جس کی ماں کا نام ہیماوتی تھا جو شرع محمدی کا بڑا پابند تھا۔ جو اپنے باپ سے بھی زیادہ طاقتور بادشاہ تھا۔ سلطان حسین اپنی جوڑ توڑ کے ذریعہ کئی بار جونپور میں باربک شاہ کے خلاف بغاوت کر وا چکا تھا۔ اب کی مرتبہ اس نے جوکا سے مل کر ایک بڑی بغاوت کا منصوبہ بنایا۔۔۔ چند روز بعد انہوں نے بغاوت کا علم بلند کیا اور سلطان سکندر ان کی سرزنش کے لیے جونپور پہنچا اور حسین شرقی کو دوبارہ شکست ہوئی اور سنگیت کار بادشاہ جس کی آدھی عمر راگ تخلیق کرنے کے بجائے میدان کارزار میں لڑتے لڑتے گزری ایک مرتبہ پھر بہار کی طرف واپس لوٹا۔ اب کمال کا جی اچاٹ ہو گیا اس نے جس قدر خونریزی دیکھی تھی، اس نے اتنے انسانوں کو قتل کیا تھا، اس نے اتنی بے بس عورتوں کو روتے دیکھا تھا، اس نے سلطان حسین کے امرا کو اس حالت میں سلطان سکندر کے سامنے جاتے دیکھا تھا کہ عمامے ان کی گردنوں میں رسیوں کی طرح بندھے تھے اور وہ پا پیادہ قیدیوں کی مانند فاتح کے ساتھ پیش کیے جا رہے تھے۔ یہ لوگ جو عالم، شاعر اور اہل قلم تھے اور ان کا فاتح بھی علم دوست اور شاعر تھا۔ لیکن کتابیں بیکار تھیں، علم فضول تھا، فلسفے بے معنی تھے کیونکہ انسان کا خون ان سب چیزوں کے باوجود بہتا تھا۔‘ (آگ کا دریا۔ ص 137)
’انسانیت کس طرح ساری کی ساری خون کے سمندر میں ڈوبی ہوئی تھی۔ تاریخ سے اس کو جس قدر دلچسپی تھی اب اتنی ہی نفرت ہو گئی۔ اس نے سلاطین کے نسب ناموں اوران کے ادوار اور ان کی سلطنتوں کے واقعات کو بھول جانا چاہا۔ اس نے یہ بھی فراموش کرنا چاہا کہ سلطان کی بھانجی جنگی قیدی کی حیثیت سے اب دلی میں تھی اور سلطان سکندر کے حرم میں داخل کی جا چکی ہو گی۔ اس کے دوست اودے سنگھ راٹھور نے اسے غیرت دلائی، کیسے بے شرم ہو، تمہاری شہزادی دلی میں ہے اور تم بہار میں چین سے بیٹھے ہوئے ہو، اسے چھڑا کر لاؤ، جاکر سلطان سکندر کو قتل کرو یا مجھے اجازت دو میں اس کا کام تمام کر دوں، شہزادی کو واپس لے آؤں۔ کمال یہ سب باتیں سنتا اور خاموش رہتا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اب کون سا راستہ اختیار کروں۔ بہار سے غریب الوطن سلطان حسین نے بنگال کا رخ کیا۔ کمال اس کے ساتھ ساتھ رہا گوڑ کے سلطان حسین شاہ نے جونپور کے شکست خوردہ بادشاہ کو اپنے یہاں پناہ دی، جس کے سارے پرانے ساتھی بچھڑ چکے تھے، جس کا کتب خانہ تباہ ہو گیا تھا، خالی طنبورا اب جس کا رفیق تھا۔ طنبورا کبھی اس سے دغا نہیں کرے گا۔ (آگ کا دریا۔ ص 138)
شہروں کی جس طرح تاریخ بدلتی ہے اسی طرح تخلیق کی ہےئت و ماہیت بھی تبدیل ہو جاتی ہے۔ تاریخ کی طرح تخلیق بھی نشیب و فراز اور مدوجزر سے گزرتی ہے۔ وہی جونپور جس کا اپنا فسانہ تھا، فسوں تھا، سحر تھا، اسرار تھے، رفتہ رفتہ جونپور کے سارے جادو ختم ہوتے گئے، اب وہ بھی ہندوستان کے دوسرے شہروں کی طرح بس ایک شہر ہے، جس کا ماضی اب تاریخ کے اوراق میں منجمد ہے۔ شاندار ماضی نے اسے روشن حال نہیں عطا کیا اسی لیے جونپور بھی عہد زوال میں ہے اور زوال کی وجہ قوت تخیل کی کمی ہے۔ یہ وہی قوت ہے جو عروج و اعزاز عطا کرتی ہے۔
تخیل کمزور ہو جائے تو شہر کی عظمتیں منسوخ یا محجوب ہونے لگتی ہیں۔ شہر سے سوز ختم ہو جائے تو اس کا تخلیقی رومان اور گلیمر بھی ختم ہو جاتا ہے۔مگرالفاظ میں بڑی قوت ہوتی ہے کہ لفظ زندہ رہیں گے ۔کچھ لفظ اب بھی زندہ ہیں جس کی وجہ سے جونپور کو بھی زندگی نصیب ہے۔ ان لفظوں کے سلسلے ماضی بعید سے جڑے ہوئے ہیں۔ اسی سلسلہ لفظ و خیال میں بہت سے نام روشن ہیں۔ ایک نام فخر مشرق شفیق جونپوری کا بھی ہے جن کے والدانیق جونپوری داغ کے شاگرد تھے اور جن کا یہ شعر ایک خاص کیفیت کا حامل ہے:
کلیسا میں وہ رہتے ہیں نہ کعبے میں قیام ان کا
بہ رب کعبہ کہتا ہوں میرا دل ہے مقام ان کا
ان کے صاحبزادے شفیق جونپوری نے اس سرزمین کو ایک نیا نشان عظمت عطا کیا ہے۔ ایک محب وطن شاعر جن کے بارے میں سید احتشام حسین نے لکھا ہے کہ ’یہ شفیق جونپوری کی انفرادیت ہے کہ انہوں نے حسرت موہانی سے سلاست، نشاط و غم اور عشقیہ عناصر کو لیتے ہوئے بھی اپنی راہ الگ رکھی ہے151 شفیق کی غزلوں میں سوز و گداز، لطف و پاکیزگی، انداز بیاں کی ندرت و سادگی سب کچھ ہے، خیالات کا پرلطف بیان اور کلام کی سادگی و صفائی شفیق کی سب سے بڑی شاعرانہ خوبی ہے۔‘ مٹی کی محبت سے معمور شفیق جونپوری کی نظم کے یہ چند بند ثبوت کے طور پر پیش کیے جا سکتے ہیں:
بلا رہی ہو کراچی میں تم ہمیں لیکن
وہاں وطن کا نظارہ کہاں سے پائیں گے
بجا کہ ساحل راوی ہے پربہار مگر
یہ گومتی کا کنارہ کہاں سے لائیں گے
درست ہے کہ ملیں گے نئے نئے احباب
وہ جونپور ہمارا کہاں سے لائیں گے
کہاں ملے گا بنارس کی صبح کا منظر
اودھ کی شام دل آرا کہاں سے لائیں گے
جب قبریں اپنے بزرگوں کی یاد آئیں گی
بتاؤ ضبط کا یارا کہاں سے لائیں گے
جگر مرادآبادی نے سچ لکھا ہے کہ ’شفیق جونپوری صحیح شعریت کے سرمایہ دار ہیں۔ سادگی اور پرکاری ان کی خاص صفت شعری ہے۔ صداقت و واقعیت ان کے ہاتھ سے کسی جگہ نہیں جاتی، یہ ان کے مذاق سلیم کی دلیل ہے۔‘ ماہنامہ ’وحید العصر‘، ماہنامہ ’طارق‘، روزانہ ’اخبار مشیر‘ کے مدیر اور مولانا حسرت موہانی کے رسالے ’‘اردوئے معلی‘ کی مجلس ادارت کے رکن شفیق جونپوری کی شاعری کا کینوس بہت وسیع ہے۔ ان کی فنی عظمت کا اعتراف اس زمانے کے مشاہیر نے کیا ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ مولانا حسرت موہانی جو ان کے استاد تھے، انہوں نے اپنے رسالے اردوئے معلی کا ایک خاص شمارہ شفیق جونپوری پر نکالا۔ استاد کی طرف سے کسی شاگرد کو اس سے بہتر تحفہ شاید ہی نصیب ہوا ہو۔ (تفصیل کے لیے: تابش مہدی کی کتاب ’شفیق جونپوری ایک مطالعہ‘)
لفظوں سے شہرکوروشنی اور قوت عطا کرنے والوں میں اسی شہر کے سپوت سلام مچھلی شہر کا نام بھی روشن ہے، جنہوں نے اپنی نظموں کے ذریعہ اردو ادب کی فکری اور فنی ثروت میں اضافہ کیا۔ کسانوں، مزدوروں کے مسائل، محرومیوں کے موضوعات پر نظمیں لکھیں۔ تہذیبی قدروں کی تبدیلی پر افسوس کا اظہار کیا۔ صنعتی مشینی زندگی اور کلچر کو اپنے طنز کا نشانہ بنایا۔ سلام کا ذہن ہمیشہ انتشار میں اتحاد تلاش کرتا رہا۔ ان کی نظمیں ’سڑک بن رہی ہے، مٹی کا گھر اور تیسری قوت‘ بہت مشہور ہیں۔ پروفیسر ملک زادہ منظور احمدنے اپنی خود نوشت ’رقص شرر‘ میں لکھا ہے کہ ’سلام مچھلی شہری کی شخصیت اور فن کا مذاق، مجاز کا یہ لطیفہ سنا کر نہیں اڑایا جا سکتا کہ ’نام عبدالسلام، تخلص سلام، شاعری وعلیکم السلام‘ اور نہ ان کی ذاتی زندگی کی بے اعتدالیوں کو بیان کر کے ان کی اہمیت کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اردو کے ان چند شعرا میں جو اپنے لب و لہجہ اور لفظیات کی بنا پر پہچانے جاتے ہیں، ان میں سلام بھی شامل ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی شخصیت بہت ہی ہنگامہ پرور رہی ہے اور خصوصیت کے ساتھ شراب کے نشے میں وہ کیا کر گزریں اس کا بھی اندازہ نہیں کیا جا سکتا تھا، مگر اس کے باوجود ان کا خلوص، ان کی بے تکلفی اور ان کی بے ریائی دل کو اپنی جانب کھینچتی تھی اور ان کے چہرے پر بھولے پن اور معصومیت کی جو ایک فضا تھی وہ اچھی لگتی تھی۔‘ (ص 136)
ان کا مجموعہ ’وسعتیں‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ انہوں نے وطن کی مشترک تہذیب کے روشن نشان، اردو زبان کے عظیم شاعر، دیار تاج کے سراپا شعلہ گل، نغمہ شبنم، غالب کو یوں خراج پیش کیا:
وہ غالب جس نے اردو شاعری کو دلکشی بخشی
ضیائے علم و دانش دے کے تازہ زندگی بخشی
وہ غالب حسن کار زہرہ اردو جسے کہئے
گلستان ادب میں جان رنگ و بو جسے کہئے
وہ جس نے بربط ہندی پہ نغمات عجم گایا
وہ جو حافظ کو بھی فردوس خسرو کے قریں لایا
آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ سلام مچھلی شہری کے بارے میں ممتاز ناقد خلیل الرحمن اعظمی نے لکھا ہے کہ گلاب باڑی ،سڑک بن رہی ہے، ڈرائنگ روم، پیتل کا سانپ وغیرہ ایسی نظمیں ہیں جن میں زندگی کے تجربات سادہ ہیں لیکن طرز فکر میں انفرادیت ہے۔‘
لفظوں کی ایک روشنی اور ہے جس کا نام ہے رشید احمد صدیقی (24؍دسمبر 1892، 15؍جنوری 1977)جن کا تعلق جونپور کے مڑیاہوں سے تھا۔علی گڑھ کے فیض یافتہ اردو کے ممتاز طنز نگار تھے۔ان کی ذہنی فکری تشکیل میں سب سے زیادہ حصہ علی گڑھ ہی کا تھا۔خود ان کا کہناہے :
’’میرا خیال کچھ ایسا ہے کہ میری پسندوناپسند،رہن سہن،گفتار کردار،اور فکر و نظرجسے بحیثیت مجموعی شخصیت کہہ سکتے ہیں،سب کچھ علی گڑھ میں ڈھلیں ۔اس میں شک نہیں کہ اپنی سیرت کی تعمیر و تشکیل کے لیے بہت کچھ خام مواد اپنے گھر اور اسکول سے لایا تھا لیکن اس کو تب وتاب ،رنگ وآہنگ ،لمس ولذت اور صورت و معنیٰ علی گڑھ نے دیے۔‘‘
رشید احمد صدیقی کی نظر میں علی گڑھ ہی وہ جگہ تھی ’’جہاں نہ صرف اچھی صلاحیتوں کو برگ وبار لانے کا موقع ملتا ہے بلکہ یہ صلاحیتیں یہاں پیدا بھی کی جاتی ہیں۔میرا تو یہاں تک خیال ہے کہ جن بعض اچھی استعدادوں کو پیدا کر نے میں فطرت بخل کرتی تھی یہ دانش گاہ اسے بڑی فیاضی سے اپنی طرف سے پورا کردیتی تھی۔‘‘
رشید احمد صدیقی کی ہر تحریر میں علی گڑھ کہیں نہ کہیں سے ضِرور آجاتاہے ،ان کے نزدیک اردو اور تہذیب کا دوسرا نام علی گڑھ ہے۔ایک خاکے میں لکھتے ہیں’’فاروق صاحب علی گڑھ کے اس زمانے کے طلبا میں سے تھے جب ہم سب علی گڑھ کو مسلمانوں کا اندلس اور یونان سمجھتے تھے ،کیسے کیسے ذوق و ذہن اور ہمت وحوصلہ کے طالب علم یہاں تھے۔کتنے قیمتی اور قوی عوامل وعناصر اور کیسی کیسی صحتمند اور صحت بخش فضا میں ان کی ذہنی اور اخلاقی تربیت ہوتی تھی۔ان میں سے کس کس کا نام لوں اور کہاں تک اس کی تفصیل سناؤں۔علی گڑھ کے اس زمانے کے رندان با صفاان کو جانتے پہچانتے ہو ں گے،موجودہ صدی کے ابتدائی تیس پینتیں سال میں جتنے نامور طلبا اس ادارے سے فارغ التحصیل ہوئے وہ پھر کبھی دیکھنے میں نہ آیا جیسے اقدار اعلیٰ کے وہ سانچے ٹوٹ چکے ہوں،جن میں نوجوانوں کی سیرت وشخصیت ڈھلتی تھی یا وہ روایات اپنا اعتبار کھو چکی ہوں جن میں ہماری فکرو نظر بالیدہ ہوئی تھی، جس نسل کا ذکر کر رہا ہوں اس تہذیب کی شکست وریخت سے بر آمد ہوئی تھی جس کو تاریخ میں ایسی تہذیب قرار دیا گیا ہے جو اپنی ترکیب و توانائی اور تازگی کے اعتبار سے تہذیب ہی نہیں تحریک بھی ہے۔یہ تہذیب اور ایسی تہذیب ختم نہیں ہوتی بلکہ کلام الٰہی کے لفظوں میں اپنی شان بدلتی رہتی ہے۔‘‘
رشید احمد صدیقی علی گڑھ میگزین کے ایڈیٹر بھی رہے،سہیل جیسا معیاری مجلہ بھی شائع کیا جسے انہوں نے شاعروں اور نثر نگاروں کی ’تالیف قلوب‘ کا ذریعہ نہیں بنایا۔ان کی تصنیفات میں خنداں،طنزیات و مضحکات،گنجہائے گراں مایہ ،جدید غزل ،غالب کیِ شخصیت اور شاعری،اقبال شخضیت اور شاعری اور آشفتہ بیانی میری اہم ہیں۔خلیل الرحمان اعظمی نے انہیں تمدنی نقاد قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’انہیں ہر نقاد نے ہماری زبان کا بہترین طنزنگار تسلیم کیا ہے،ان کی فلسفیانہ نظر،خیال انگیزی ،موضوعات کی وسعت ،نفسیاتی لا تعلقی ،ان کی انسانیت اور لہجے کی مرحمت وآسودگی کا اعتراف سب نے کیا ہے‘‘
وہ جونپور جو کبھی معقولات ومنقولات کا گہوارہ تھا اور جہاں کی فضاؤں میں مابعدالطبعیاتی اثرات غالب تھے وہیں کی فضاؤں میں وہ آوازیں بھی گونجیں جن کا رشتہ ترقی پسندانہ فکر وفرہنگ سے تھا ۔سجاد ظہیر جو ترقی پسند مصنفین کے معماروں میں سے ہیں اور جنہوں نے لندن میں ترقی پسندی کے اولین منشور پر ملک راج آنند ،ڈاکٹرجیوتی گھوش ،ایس این سنہا،ڈاکٹر ایس اے بھٹ اور ڈاکٹر محمد دین تاثیر کے ساتھ دستخط کیے تھے ان کا تعلق بھی جونپور کے موضع بڑا گاؤں سے تھا۔زمینداروں کے اس گاؤں میں ان کا پورا خاندان آباد تھا مگر انہوں نے جاگیردارانہ نظام سے اپنا رشتہ توڑکر محروموں، مظلوموں اور بیکسوں سے اپنا تعلق جوڑلیااور دنیائے ادب کو لندن کی ایک رات،انگارے ،روشنائی ،پگھلا نیلم اور ذکر حافظ جیسی تصنیفات سے مالا مال کیا ،ان کے بارے میں اشفاق حسین نے لکھا تھا:
’’اگر وہ ہندوستان کے عہدقدیم میں پیدا ہوتے تو لوگ انہیں دیوتا مان کر پوجا کر نے لگتے ،اگر وہ قرون وسطیٰ میں پیدا ہوتے تو صوفیائے کرام کے اس گروہ سے تعلق رکھتے جو اپنی وسیع المشربی اور انسان دوستی کی بدولت مرجع خلائق بن جاتے مگر بنے بھائی کوتو بیسویں صدی میں پیدا ہوکر سجاد ظہیر بنناتھا اور عہد حاضر کے شمرو یزید سے لڑنا تھا ۔‘‘
اور بھیشم ساہنی جیسے روشن خیال ادیب نے اعتراف کیا :
’’وہ پکے کمیونسٹ تھے اور ان کے عقائد کے بارے میں کوئی چیز میکانکی نہ تھی ،ان کی وسیع النظری ،ان کا صحیح معنوں میں سیکولر انداز فکر ،ان کی گہری انسان دوستی سب ان کے کردار کا لازمی جزتھیں۔ (’’بحوالہ نصیر الدین ازہر،سجاد ظہیر حیات اور خدمات‘‘)
اسی ترقی پسندانہ اقدار اورفکر کے حامل تھے احمد مجتبیٰ زیدی وامق جونپوری (23اکتوبر1909۔21نومبر 1998)جن کی شہرت کا ایک حوالہ بھوکا ہے بنگال جیسی نظم ہے ۔
بھوکا ہے بنگال رے ساتھی بھوکا ہے بنگال
کوٹھریوں میں گاجے بیٹھے بنیے سارا اناج
سندر ناری بھوک کی ماری بیچے گھر گھر ناج
چوپٹ نگری کون سنبھالے چار طرف بھونچال
قحط بنگال پر تلوک چند محروم اور جگر مراد آبادی نے بھی نظمیں لکھیں مگر وامق کو زیادہ شہرت ومقبولیت نصیب ہوئی ۔جرس ،چیخیں،شب چراغ اور سفر تمام ان کے شعری مجموعے ہیں اور گفتنی نا گفتنی ان کی خود نوشت سوانح حیات ہے۔
اسی جونپورسے شہاب جعفری کا بھی تعلق ہے جو ترقی پسند نظریے کے حامل تھے اور جن کا یہ شعر بہت مشہور ہے
چلے تو پاؤں کے نیچے کچل گئی کوئی شے
نشے کی جھونک میں دیکھا نہیں کہ دنیا ہے
شہاب جعفری نے اپنی شاعری میں سورج کو بطور اسطور استعمال کیا ’ سورج کا شہر‘ ان کا مشہور مجموعہ ہے۔بلوا گھاٹ جونپور سے ان کا وطنی تعلق ہے۔2جون 1928میں پیدا ہوئے اور یکم فروری 2002 میں دلی میں ان کا انتقال ہوا ۔
امین اشرف جیسے ممتاز غزل گو شاعر کے تخلیقی ذہن کی تشکیل بھی جونپور کی فضا ہی میں ہوئی ،انہوں نے ایک جگہ لکھا ہے’’جونپور آتے آتے میرا شعری ذوق اور بھی نکھر گیا۔شفیق جونپوری میلاد شریف بہت اچھا پڑھتے تھے ،تقریر کے دوران پختہ اشعار کثرت سے پڑھتے۔یاد ہے کہ ایک مقامی مشاعرے میں انہوں نے ایک غزل ترنم سے سنائی تھی جس کا مطلع تھا:
شام آئی اور یاد تیری دلنشیں ہوئی
پھر کیاخبر کہ صبح ہوئی یا نہیں ہوئی
اس شعر نے میرے دل اور دماغ پر جادو کا سا اثر کیا،عجب وارفتگی کا عالم طاری تھا ،جونپور میں جب تک رہا شفیق جونپوری سے برابر ملتا رہا ،ان کے چھوٹے بھائی ربانی بھی شاعر تھے اور میرے دوست اور ایک شاعر تھے کامل شفیقی ،اس طرح ہم لوگوں کا ایک ادبی حلقہ بن گیا تھا جس میں غلام سمنانی اور انور صدیقی کی شمولیت نے چار چاند لگا دیے‘‘ (میرا تخلیقی سفر مشمولہ تحریر نو، ممبئی جنوری 2010)۔ پروفیسر امین اشرف کے شعری مجموعے جادۂ شب اور بہار ایجاد ان کی تخلیقی انفرادیت کے ثبوت ہیں
جونپور سے ہی تعلق ہے فرحت زیدی کا جو اب اڑیسہ میں اردو کے حوالے سے الگ شناخت رکھتے ہیں ۔داکٹر حفیظ اللہ نیولپوری نے لکھا ہے کہ ’’ان کا ذہنی رشتہ شعرو ادب کی روایتی قدروں سے مربوط و مستحکم ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں اخلاقی قدریں صاف اور عیاں ہیں۔انہوں نے جدید شاعری کے بحرانی دور میں جدید رنگ کی غزلیں بھی کہی ہیں لیکن صرف طنزاً کیونکہ بنیادی طور پر ان کا مزاج کلا سیکل ہے۔‘‘
فرحت زیدی کے چند اشعار ان کی افتاد طبع اور ان کے نفسی میلان و تخلیقی رجحان کے ثبوت کے طور پر پیش کیے جا سکتے ہیں۔
مانا کہ راستوں کو نہ تبدیل کر سکے
ہم کاروان نو کی تشکیل کر سکے
احکام وقت کی وہی تعمیل کر سکے
اپنے ضمیر کی بھی جو تذلیل کر سکے
الفاظ کیا وہ ایک اشارہ بھی ہے بہت
جو ان کہے فسانوں کی ترسیل کر سکے
نئی تہذیب کی یہ روشنی ہے
جو ہر سو تیرگی پھیلی ہوئی ہے
چراغوں سے ہی گھر جلنے لگے ہیں
ہوا کچھ اس طرح چلنے لگی ہے
اردو کے تنقیدی منظرنامے کی تابانی میں بھی جونپور کا حصہ رہا ہے۔پاکستان کے پروفیسر مجتبیٰ حسین جہاں اپنی تنقیدی تحریروں کے حوالے سے مستحکم شناخت رکھتے ہیں،وہیں ہندوستان میں اردو کے ایک معتبر اور مستند تنقید نگار کا تعلق بھی جونپور سے ہی ہے جن کا آبائی وطن اعظم گڑھ کا علاقہ ماہل ہے مگر ان کی پیدائش جونپور میں ہوئی ،اس تنقید نگار کا نام ہے پروفیسر احتشام حسین ،جن کی کئی تنقیدی کتابیں آج بھی طلبا اور اساتذہ کے لیے مشعل راہ ہیں اور جن کی تنقیدی نظر کا اعتراف جہان کو ہے۔اردو ادب کی تنقیدی تاریخ ان کی اہم کتاب ہے۔اس کے علاوہ ساحل اور سمندر ،سفرنامے میں امتیازی حیثیت کا حامل ہے۔
اردو ادبیات کے علاوہ دیگر علوم وفنون میں بھی جونپور کی خدمات روشن رہی ہیں اور بہت سے اہم نام اسی خطۂ شیراز سے جڑے ہوئے ہیں،علامہ ابراہیم بلیاوی شیح الہند کے تلمیذ رشید تھے جنہیں معقولات پر درک کامل تھا ۔ سلم العلوم جیسی دقیق کتاب پر حاشیہ ،ضیاء النجوم کے نام سے لکھا اور میبذی پر بھی حواشی لکھے دار العلوم دیو بند کے صدر مدرس جو صدرا اور شمس بازغہ ،قاضی مبارک، حمداللہ کا درس دیا کرتے تھے ایسی عظیم شخصیت کا تعلق بھی جونپور سے رہا ہے کہ آپ کا خاندان برسوں تک جونپور میں قیام پذیر رہا اور پھر بلیا میں مستقل سکونت اختیار کی۔ مزار قاسمی دیوبند میں مدفون علامہ ابراہیم کی ابتدائی تعلیم بھی اسی شہر جونپور میں ہوئی تھی۔
اردو ترجمہ اور تصنیف کے حوالے سے ایک معتبر نام عبداللہ عمادی کا ہے جنہوں نے مسعودی کی مروج الذہب ،طبری کی تاریخ الرسل والملوک ،ابن حزم اندلسی کی الملل والنحل اور ابن قتیبہ کی المعارف کے اردو ترجمے کیے ۔یہ حیدر آباد کے دارالترجمہ سے وابستہ رہے ،شیخ عبدالقادر عمادی کی تاریخ جونپور کا تر جمہ بھی کیا ،جو شائد غیر مطبوعہ ہے۔ان کے والد محمد افضل کا شمار جونپور کی معروف شخصیات میں ہوتا ہے۔ان کے جد امجد عماد عمادی کا تعلق بھی جونپور ہی سے تھا ۔
جدید عربی ادب کے ماہر اورحکومت ہند کے عربی مجلہ ثقافت الہند کے سابق مدیر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ عربی کے پروفیسر زبیر احمد فاروقی کا تعلق بھی صبر حد جونپور سے ہے۔ان کا مقالہ عربی ادب میں دارالعلوم کا حصہ حوالہ جاتی حیثیت رکھتا ہے۔علمی و ادبی مطالعہ ان کے اہم مقالات کا مجموعہ ہے۔ انہوں نے زبیر رضوی کے رسالہ ذہن جدید میں فلسطینی تخلیق کاروں کے ترجمے بھی کیے جو بہت مقبول ہوئے۔ان کے ترجموں کی تعداد اچھی خاصی ہے۔دارالعلوم دیوبند کے فیض یافتہ زبیر احمد فاروقی کو صدر جمہوریۂ ہند نے عربی ایوارڈ سے سرفرازکیا تھا۔ساہتیہ اکادمی نے ان کی ایک کتاب ’عربی شاعری کی نئی آوازیں‘ شائع کی ۔اس طرح ترجمے کے ذریعہ انہوں نے اردو ادب کی ثروت میں اضافہ کیا۔
جونپور ہی کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ سائنسی علوم کے میدان میں یہاں کی کئی شخصیتوں کو عالمی سطح پر شناخت اور اعتبار حاصل ہے۔ان میں سب سے اہم شخصیت پروفیسر محمد شفیع کی ہے جو زرعی جغرافیے کے میدان میں عالمی سطح پر ممتازہیں۔علی گڑھ مسلم یونیور سٹی کے شعبۂ جغرافیہ کے صدر اور کارگزار وائس چانسلر محمد شفیع انٹر نیشنل جغرافیہ کانفرنس کے نائب صدر بھی رہے۔ان کے علاوہ پروفیسر بلقیس بانو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں شعبۂ بایو کیمسٹری سے وابستہ ہیں ۔باہر کے مقتدر سائنسی مجلات میں ان کے تحقیقی مقالے شائع ہو چکے ہیں ۔انہیں لندن میں کامن ویلتھ فیلو شپ بھی ملا انہوں نے پرو ٹین اور ذیابیطس پر اہم تحقیقات پیش کی ہیں اور مختلف بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت بھی کی ہے۔سائنسی ادب کے حوالے سے ایک اہم نام محمد خلیل کا بھی ہے جو پہلے سائنس کی دنیا کے ایڈیٹر تھے جنہوں نے ماحولیات ،نباتات ،حیوانات اور علم طیور پر اہم مضامین لکھے ۔اردو زبان میں سائنس کو مقبول بنانے میں ان کی خدمات سے انکار ممکن نہیں۔محمد خلیل کو بہت سے ایوارڈ بھی مل چکے ہیں جن میں غالب ایوارڈ ،این سی ای آرٹی ایوارڈ کے علاوہ ncstc نیشنل ایوارڈ قابل ذکر ہیں محمد خلیل کی ایک کتاب انوکھے پرندوں کی دنیا ہے جس میں انہوں نے پینگوئن ،پھول سنگھی،البطراس ،ٹوکان مٹری،بہشتی چڑیا ،امریکی بگلا ،ہنس، جہازی چڑیا،کیوی،لق لق،پپیہا،کوئل ،گدھ،ہدہد،کے بارے میں نہایت معلوماتی تفصیلات درج کی ہیں ۔بچوں کے سائنسی ادب میں یہ کتاب ایک اہم اضافہ ہے ۔
جونپور ہی سے علی گڑھ کے وائس چانسلر سر شاہ محمد سلیمان (3فروری 1886۔12مارچ 1941)کا بھی تعلق ہے ۔جو الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بھی رہے اور جنہوں نے کیمبرج یونیور سٹی سے تعلیم حاصل کی تھی ۔ان کا تعلق ملا محمود جونپوری کے خانوادے سے تھا۔شوق قدوائی کی مثنوی عالم خیال کی ترتیب تدوین بھی کی مگر ان کا بنیادی میدان ریاضیات تھا ۔ریاضیاتی تحقیق میں ان کی خدمات قابل تحسین ہیں ۔خاص طور پر نیوٹن کے نظریۂ کشش اور آئنسٹائن کے نظریۂ اضافت کے تعلق سے ان کی تحقیق کچھ اور سمتوں کا اشارہ کرتی ہے۔
جون پور کے علمی افق کی تابانی میں پروفیسر آر ایل سنگھ، پروفیسر محمد جمیل، ڈاکٹر فضل الرحمن، پروفیسر محمد شکیل، اشتیاق احمد، ظہیر الدین علوی، عبدالمجید، طفیل الرحمن انصاری، محمد یعقوب اور پروفیسر رویندر بھرمر اور منور علی (کراکت)کے حصے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
***
Mob.: 9891726444
haqqanialqasmi@gmail.com

چشم و چراغ عالم اعظم گڑھ


حقانی القاسمی
عظمتیں بھی ہجر ت کرتی رہتی ہیں ۔
اس لئے اگر مغرب کا اندلس اجڑ گیا ، مشرق کا اعظم گڑھ آباد ہوگیا تو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں۔ دلی نہ اجڑتی تو لکھنؤ آباد نہ ہوتا۔ڈ علوم و فنون، تہذیب و تمدن کو بھی نئے مکانوں ، نئے زمانوں ا ور نئے قدر دانوں کی تلاش رہتی ہے اور اسی تلاش کے نتیجے میں یہ اپنا مستقر بدلتے رہتے ہیں۔ کبھی مغرب تو کبھی مشرق کبھی شمال کبھی جنوب ۔علوم و فنون کی محافظت نہ ہو تو مہاجرت مجبور ی بن جاتی ہے۔یہ ایک فطری عمل ہے۔ علوم و فنون کا ارتقائی سفر ٹھہر جائے تو کائنات ایک تاریک خلا میں تبدیل ہو جائے گی۔
اعظم گڑھ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس کا ہر قصبہ مانک مول ہے۔ اگر علم سونا ہے تو اعظم گڑھ یقیناًسونا اگلنے والی زمین ہے جسے راجہ بکرما جیت سنگھ کے بیٹے راجہ اعظم خان نے 1665میں آباد کیاتھا۔ اسکی دلچسپ تفصیل حاجی شاہ افضال اللہ قادری نے اپنی کتاب’ تاریخ اعظم گڑھ‘ میں لکھی ہے:
’’شہنشاہ جہانگیر کے دور میں قصبہ مینہ نگر کے متصل موضع کھجوری کے معزز گوتم چھتری خاندان سے شری راجہ ابھیمن سنگھ نے آگرہ جا کر اسلام قبول کر لیا، دولت خاں اسلامی نام سے موسوم ہوئے اور اپنی خدادادقابلیت و صلاحیت سے کافی شہرت پائی، شہنشاہ جہانگیر نے راجہ ابھیمن سنگھ ( دولت خاں) کو سر کار جونپور و الہ آباد کا صوبہ دار مقرر کیا، تزک جہانگیری کی عبارت درج ذیل ہے:‘‘
’’دولت خاں فوجداری بہ صوبہ جونپور و صوبہ الہ آباد متعین یا فتہ بود، آمدہ ملازمت نمود منصب اوکہ ہزاری بود پانصد افزود شد۔‘‘
دولت خاں کی حیثیت قبول اسلام کے قبل بھی نہایت شاندار پر شکوہ تھی، وہ دولت و ریاست کے لحاظ سے بھی ممتاز تھے، جونپور و الہ آباد کی گورنری کے بعد شہنشاہ جہانگیر نے ان کو اعظم گڑھ میں بائیس پر گنہ جات جاگیر میں دیے تھے، اب ان بائیس پرگنہ جات میں کچھ ضلع غازیپور ، بلیا اور فیض آباد کے ضلعوں میں شامل ہو گئے ہیں۔
دولت خاں لا ولد فوت ہوئے، انھوں نے اپنی حیات ہی میں ساری ریاست اپنے بھتیجے راجہ ہر بنس سنگھ کو عطا کردی تھی، اعظم گڑھ کے شاہی پل( بڑا پل) سے پچھم ایس۔ ایس۔پی اعظم گڑھ کے بنگلہ سے دکھن جانب ان کی کوٹ یا چھاؤنی تھی، انہیں کے نام سے موضع ہر بنس پوروتپہ ہربنس پور آباد اور اب تک موجود مشہور ہے، راجہ ہر بنس سنگھ کے لڑکے راجہ بکر ما جیت سنگھ تھے، جنہوں نے اپنے حقیقی بھائی کو قتل کر دیا تھا، اس اقدام جرم کی پاداش میں اورنگ زیب کی فوج نے راجہ بکرما جیت سنگھ کو گرفتار کر کے دارالخلافہ دہلی پہنچایا، وہاں جا کر انھوں نے اسلام قبول کر لیا، بعد رہائی واپس ہوئے اور انھوں نے ایک مسلم خاتون سے شادی کر لی، ان کے بطن سے دو لڑکے پیدا ہوئے جن کا نام راجہ اعظم خاں، راجہ عظمت خاں تھا، اپنے قلعہ میں اقامت گزیں ہوئے، راجہ اعظم خاں نے 1665میں اس جگہ کا نام اپنے نام کی نسبت سے اعظم گڑھ رکھا اور بسایا، راجہ عظمت خاں نے اپنے نام کی نسبت سے موضع کو نڈر عظمت پور بسایا، دوسرا قصبہ عظمت گڑھ آباد کیا۔ (تاریخ اعظم گڑھ ص 35)
عہد تیموریہ میں بسنے والا یہ وہ شہر ہے جس کے چھوٹے چھوٹے قصبات نے ایسے ایسے آفتاب و مہتاب کوجنم دیا ہے جنکی ضوفشانی پوری علمی کائنات میں ہے ۔مبدا فیاض کے الطاف و عنایات کی مظہر یہ وہ سر زمین ہے جس کی عظمتوں کے نقوش پوری علمی کائنات میں مر تسم ہیں ۔ حیرت ہوتی ہے کہ یہاں کے چھوٹے چھوٹے قصبا ت سے آفاقی اور عالمگیر شہرت کی حامل شخصیتوں نے جنم لیا اور نظام افکار و اقدار پر اپنے گہرے اثرات مرتب کئے۔
چریا کوٹ ایک معمولی سا قصبہ رہا ہو گا۔ مگر وہاں سے قاضی عنایت رسول عباسی چریاکوٹی ، مولانا فاروق چریا کوٹی جیسی شخصیتوں کا تعلق ہے۔
حضرت راجہ سید مبارک شاہ (م 965ھ)کے نام پر بسا ہوا مبارکپورچھوٹا قصبہ ہے جو پہلے قاسم آباد کہلاتا تھا۔ اس قدر زرخیز ہے کہ وہاں کی زمین سے مولانا عبدالرحمن مبارکپوری(صاحب تحفۃ الاحوذی) ، مولانا عبدالسلام مبارکپوری (تاریخ المنوال کے مصنف)، مولانا عبید اللہ مبارکپوری( مرعاۃ المفاتیح کے مصنف)، مولانا صفی الرحمن مبارکپوری (سیرت پر سب سے اچھی تصنیف الرحیق المختوم کے مصنف)، اور قاضی اطہر مبارکپوری جیسے ذی علم آفاقی شہر ت یافتہ افراد نے جنم لیا، ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جن کی عظمت کا اعتراف بلا لحاظ مسلک و ملت پوری علمی دنیا نہ کرتی ہو۔ ایک چھوٹے سے قصبے میں ایسی بڑی بڑی شخصیتوں کی موجودگی اس کی عظمت پر مہرثبت کرنے کے لئے کافی ہے ۔[ اس قصبے پر رشک کرنے کے لئے قاضی اطہر مبارکپوری کی دیار پورب میں علم و علماء اور تذکرہ علماء مبارکپور کا مطالعہ مفید ثابت ہوگا۔]
بندول چھوٹا سا قصبہ ہے مگر اس نے ایک ایسی شخصیت کو جنم دیا جس کی فکر نے پور ے عالم اسلام میں انقلا ب بر پا کیا ہے ، وہ شخصیت شبلی نعمانی کی ہے جو اردو کے عناصر خمسہ میں سے ایک ہیں باقی چار سر سید ، ڈپٹی نذیر احمد ، مولانا حالی اور مولوی محمد حسین آزادہیں۔ دنیا انھیں مورخ ،سیرت نگار ، نقاد، اور مورخ کی حیثیت سے جانتی ہے۔جن کے بارے میں پروفیسر خورشید الاسلام نے لکھا تھا کہ شبلی پہلا یونانی ہے جس نے ہندوستا ن میں جنم لیا۔
اسی طرح اعظم گڑھ کے اور بھی قصبات اور دیہات ہیں جہاں سے عظمتوں کو معتبر نام ملے ہیں۔ میجواں نے کیفی اعظمی جیسے ممتاز ترقی پسند اور معتبر شاعر کو جنم دیا تو پھریہا مفسر قرآن حمید الدین فراہی جیسی عظیم شخصیت کی زاد گاہ ہے۔یہیں کی تحصیل گھوسی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں سیتا کنڈ ہے ، زمانۂ بن باس میں رام چندرجی یہاں تشریف لائے تھے اور یہاں ارجن و بھیم بھی آئے تھے۔(بحوالہ تاریخ اعظم گڑھ) اسی اعظم گڑھ میں سونر ہڑی بھی ہے جہاں سے آلہا اودل کا تعلق ہے جو بہار ،بنگال کے دیہاتوں میں بہت مشہور ہے۔ اعظم گڑھ کا ماہل بھی بہت معروف ہیں جو یہیں سے پروفیسر احتشام حسین جیسے نقاد اور شاہد ماہلی جیسے شاعر کا تعلق ۔ اسکے علاوہ اس کی شناخت وہ شخصیت بھی ہے جس سے بہت کم لوگ واقف ہیں ان کانام حسن علی ماہلی ہے جو ایسٹ انڈیا کمپنی کے قائم کردہ فورٹ سینٹ جارج کالج مدراس میں شعبہ فارسی کے مدرس تھے۔ اور ان کے رفقا میں تراب علی نامی شمس الدین احمد ، محمد مہدی واصف اور مرزا عبدالباقی وفا جیسی شخصیتیں تھیں جن کے علمی کارنامے کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ خاص طور پر محمد مہدی واصف 300کتابوں کے مصنف تھے جن کا سب سے بڑا کارنامہ انگریزی ، فارسی ہندوستانی لغت کی ترتیب اس کے علاوہ دلیل ساطع کے نام سے سنسکرت ہندی فارسی لغت تصنیف کی اور مناظراللغات کے نام سے فارسی اردو لغت مدون کیا۔ یہاں کی زمین کا ذرہ ذرہ آفتاب و مہتا ب ہے ۔ ہر طرف علم کی بہار ہے ۔اور اسی علم نے اس کے نصیب میں عظمت جاوداں لکھ دی ہے۔
علوم وفنون کی مختلف شاخوں میں یہاں کے مکینوں نے بلند مقام حاصل کیا ہے۔ ہر شعبۂ حیات میں اسے سبقت حاصل ہے۔ مذہبیات ہو یا ادبیات ، نثر ہو یا شاعری، فکشن ہو یا تنقید، تاریخ ہو یا تہذیب ، اعظم گڑھ نے عظمتوں کی روشن عبارتیں تحریر کی ہیں۔ اقبال سہیل نے یہاں کے ہر ذرے کو نیر اعظم کہا تھا۔ اور غلط نہیں کہا تھا کہ یہاں ہر شخصیت کے دروں میں ایک آفتاب پنہاں ہے۔
شاہ عبدالغنی پھولپوری خلیفۂ اجل مولانا اشر ف علی تھانوی، صاحب بہار شریعت مولانا شاہ امجد علی گھوسوی، مولانا ابواللیث ندوی( چاند پٹی) مولانا صدر الدین اصلاحی( سیدھا سلطان پور) ، مولانا امین احسن اصلاحی ( بمہور) ، مولانا عبدالسلام ندوی ( علاؤ الدین پٹی) ، سر شاہ سلیمان (مسلم یونیور سٹی علی گڑھ کے چھٹے وائس چانسلر ، ساکن ولید پور بھیرا، مولانا عبدالرحمن پرواز اصلاحی، مولانا ضیاء الدین اصلاحی، مولانا مجیب اللہ ندوی، بریگیڈ یئر عثمان ، پنڈت اجودھیا سنگھ ہر یودھ ،عالمی شہرت یافتہ سائنسداں پروفیسر شمیم جیراج پوری (مولانا اسلم جیراجپوری کے پوتے اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدر آباد کے پہلے وائس چانسلر) ان میں سے ہر شخصیت اپنی ذات میں انجمن ہے۔ انہیں جیسی شخصیات نے اعظم گڑھ کو چشم و چراغ عالم بنایا ہے۔ دارالمصنفین اعظم گڑھ ،جامعہ اشرفیہ مبارکپور، جامعۃ الفلاح بلریا گنج ، احیاء علوم مبارکپور اور مدرسۃ الاصلاح سرائے میر جیسے اداروں کی وجہ سے اسکی روشنی کا دائرہ پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔
راہل سانکرتاین
اسی مٹی کے مہتاب راہل سانکرتیاین تھے جن کا وطن پنداہا اعظم گڑھ تھا۔جنہوں نے اپنے وطن ہی نہیں پوری دنیا میں اپنے دانش کے چراغ سے روشنی پھیلائی اور ایسے کارنامے انجام دیئے کہ دنیا نے انہیں ایک دانشور اور مفکر کی حیثیت سے تسلیم کیا۔ ادب ، سماج ا ور سیاست میں ایک ایسی لہر پیدا کی کہ دنیا عش عش کرنے لگی۔تقریبا وہ تیس زبانوں کے ماہر تھے۔مگر اردو زبان نے ان کی شخصیت کو ایک نئی جہت دی۔ اور ان کی متحرک شخصیت کی تشکیل میں ایک اہم کردار ادا کیا ۔ اردو کے ہی ایک شعر نے ان کی دنیا بد ل دی۔ پر بھاکر ماچوے نے لکھا ہے کہ’’
جب وہ اپنے آبائی گاؤں کے مدرسے میں اردو سیکھ رہے تھے تو ’’ نوازندہ‘‘ کی ایک کہانی ’’ خود آرائی کا نتیجہ‘‘ میں ایک شعر ان کو بہت بھا گیا تھا اور وہ ان کے دل پر نقش ہو گیا تھا۔ اپنی خود نوشتہ سوانح میں انھوں نے اسے کئی بار دہرایا ہے:
سیر کر دنیا کی غافل زندگانی پھرکہاں
زندگانی گر کچھ رہی تو نوجوانی پھر کہاں
او رشاید یہ اسی کا اثر تھا کہ ’’ ہمیشہ حرکت میں رہو‘‘ ایک جگہ مت رکو‘‘ ان کی زندگی کا اصول بن گیا۔ یہ شوق سفر و حرکت انھیں اندر ہی اندر اکساتا اور ترغیب دیتا رہا کہ گھر گرہستی کی آسودہ و مطمئن پھیکی زندگی سے دور رہیں چنانچہ وہ کبھی کہیں ایک مقام پر جم کر نہیں رہے، ہمیشہ حرکت میں رہے اور خانہ بدوشوں جیسی زندگی گزار دی۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ ، ایک ملک سے دوسرے ملک ایک لسانی علاقے سے دوسرے لسانی علاقے ، انسانی تلاش کے ایک میدان سے دوسرے میدان میں پیہم چلا چل ۔ وہ کبھی کچھ جمع کر کے رکھنے کے قائل نہیں رہے ،تلاش علم ان کی کبھی نہ بجھنے والی پیاس تھی‘‘
اردو کے اسی ایک شعر نے ان کے بحر کی موجوں میں اتنا اضطراب پیدا کیا کہ ان کے قدم کہیں ٹھہرے نہیں ،وہ جمنوتری گنگوتری تک پہنچے ،ہمالیہ کا درشن کیا، لداخ ، انورادھا پور، پولنا مرو ، کولمبو، لندن ، پیرس ، جرمنی، لاہسہ، چانگ، ساکیہ، ننام ، نیپال ، سنگاپور، ہانگ کانگ، شنگھائی، کوبے، ٹوکیو، کویاسان ، تہران ، اصفہان ، شیراز کے نہ صرف اسفار کئے بلکہ سفر نامے بھی لکھے ۔
اسی سیاحت نے ان کی ذہنی رومیں تبدیلیا ں پیدا کیں اور نئے افکار سے ان کا ذہن آشنا ہوا۔ کھلی آنکھوں سے انھوں نے پوری دنیا کے تہذیبی ، لسانی اور فکری و علمی منظر نامے کو دیکھا جس سے ان کے قلب و نظر کو نئی وسعتیں ملیں ۔ اور عرفان وآگہی کا دائرہ وسیع ہوا ۔ سیاحتی تجربات نے ان کے افکار او ر اقدا رمیں تبدیلی بھی پیدا کی ۔ وہ ایسے اشخاص سے متاثر ہوئے جو سماجی مسلمات اور مذہبی مفروضات کے مخالف تھے۔ راہل، پنڈت رام اوتار شر ما سے بھی فکر ی طور پر متاثر ہوئے جو ویدوں کو نہیں مانتے تھے اور نہ ہی ان کا دیوی دیوتاؤں پر یقین تھا۔ایک راسخ العقیدہ بر ہمن گھرانے میں پیدا ہونے والے راہل بھی انہی کی روش پر چل پڑے اور مختلف مذہبی نظریات اور عقائد کے تجربات کرتے ہوئے آخر میں مارکسسٹ ہو گئے۔ اور سوشلزم پر ان کا یقین پکا ہو گیا۔
راہل سانکرتیاین عربی ، فارسی کے علاوہ تیس اور زبانیں بھی جانتے تھے۔ انھوں نے سب سے بڑا کارنامہ جو انجام دیا وہ یہ کہ سنسکرت میں تبتی زبان کا قاعدہ مرتب کیا۔ اور اس طرح عالمی سطح پر اپنی علمیت اور قابلیت کے جوہر دکھائے۔ پر بھاکر ماچوے نے لکھا ہے کہ :
راہل نے سنسکرت میں تبتی زبان کا قاعدہ اور اس کی گرامر لکھ کر ایک بہت اہم کام انجام دیا کہ اس کی مدد سے دھرماکرتی ، سو باندھو اور دسنگا جیسے بدھسٹ منطق دانوں کے کارناموں کی ازسر نوترتیب و تد وین ہو سکی اور ان کو محفوظ رکھا جا سکا۔ شیر بالٹسکی بدھسٹ منطق کے عالم و ماہر روسی مصنف اپنی لینن یونی ور سٹی کی یادداشتوں میں لکھتے ہیں کہ ’’ خود ان کے علاوہ دنیا میں صرف ایک ہی شخص اور ہے جو اس موضوع پر مہارت رکھتا ہے اور وہ راہل سنکر تیاین تھے۔ ایک بدھسٹ اسکالر کی حیثیت سے سوویت روس نے ان کو لینن گراڈیونی ور سٹی میں پڑھانے کی دعوت دی اور اپنے آخری ایام زندگی میں انھوں نے سری لنکا و دیا لنکا ر یونیورسٹی میں بھی بدھ ازم اور فلاسفی پر لکچر ر دیے لیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہندوستان کی کسی یونیورسٹی نے دعوت دینا تو در کنار ، ان کو پڑھانے کی اجازت بھی نہیں دی اس لئے کہ ان کے پاس کوئی باقاعدہ ڈگری نہیں تھی، یہ ہماری تنگ نظر اکیڈمک بیورو کریسی کا کتنا بڑا المیہ ہے۔‘‘
تنگ نظر اکیڈمیک بیورو کویسی نے کتنے جوہر قابل کو تباہ و برباد کیا، یہ الگ داستان ہے۔ یہاں صرف اتنا کہا جا سکتا ہے کہ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود دانش اپنے اعتراف کی راہ خود تلاش کر لیتی ہے جس کی نمایاں مثال راہل سنسکر تائین تھے۔
’گنگا سے اولگا‘ تک لکھنے والے راہل سچے انسان دوست تھے۔ انھوں نے مختلف موضوعات پر کتابیں لکھی ہیں۔ سفرنامہ، تاریخ، فلسفہ ، لسانیات ، عمرانیات، سیاسیات، ان کی دلچسپی کے موضوعات تھے او ر ان موضوعا ت پر کتابیں بھی ہیں ۔ وہ ایک روشن ضمیر دانشور او ر مورخ تھے جنہوں نے اپنے پورے عہد کی سماجی ، سیاسی اور علمی تاریخ مرتب کر د ی ہے۔مدھیہ ایشیا کا اتہاس، رگ ویدک آریہ ، اکبر، بھارت کے انگریز ی راج کے سنستھاپک، رامائن اور مارکسواد، ان کی وہ کتابیں ہیں جن سے ہمارے عہد کو روشنی مل سکتی ہے۔
انھوں نے اعظم گڑھ کی برا کتھا بھی لکھی ہے اور بدھا چاریہ ، دھما پد، ما جھما نکایا، درگا نکایا، اسلام دھرم کی روپ ریکھا جیسی کتابیں بھی لکھیں اور خاکے لکھے تو ڈاکٹر کے ایم اشرف، محمد شاہد، سید جمال الدین بخاری، مبارک ساگر، ڈاکٹر زیڈ اے احمد، محمود الظفر ، اور فضل الٰہی قربان کو فراموش نہیں کیا۔ کیدار ناتھ پانڈے پوری دنیاکا سفر کرتے کرتے راہل سانکرتیاین بن گئے۔ اسفار نے انھیںآفاقی وژن بھی عطا کیا اور عالمی بصیرت سے بہرہ ور کیا مگر ان کا اصرار مقامیت اور علاقائیت پر رہا۔یہ بہت نقطے کی بات ہے خاص طور پر آج کے تنقیدی ڈسکورس کے تعلق سے راہل کی یہ روش ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہے ۔ شاید پیراڈائم شفٹ کی راہ بھی دکھا رہی ہے۔ پر بھاکر ماچوے نے لکھا ہے:
’’ وہ ایسے آرٹ اور ادب کے سخت مخالف تھے جو صرف سنگ مر مر کے اونچے میناروں میں بند رہے اور صرف معززین اور شرفا کے لئے لکھا جائے۔ ایک موقعہ پر شاعری میں مقامی اور علاقائی رنگ پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے راہل لکھتے ہیں:
’’ ہندی ادب میں تنوع کی کمی ہے اس لئے ایسا لگتا ہے جیسے ہندی ادیب خواہ ان کا تعلق بہار کے میدانوں سے ہو یا پہاڑی علاقوں سے مار واڑ کے ریگستانوں سے ہو یا جبل پور کے وندھیا چل کے جنگلوں سے ، سب نے جیسے آپس میں سازش کر رکھی ہے کہ کوئی کبھی اپنی شاعری میں کسی مقامی منظر کو داخل نہیں ہو نے دیگا۔‘‘
جس مٹی نے ایسے سپوت کوجنم دیاہوبھلا وہ مٹی کیوں نہ ناز کرے۔اعظم گڑھ کے ناز کرنے کو حوالوں کی کمی نہیں ہے۔
کیفی اعظمی
اعظم گڑھ کا ایک روشن حوالہ کیفی اعظمی بھی تھے جنہوں نے
زندگی بھر انسانیت کے درد کو اپنے سینے میں محسوس کیا اور اس درد کی ترسیل کی۔ وہ ترقی پسند تحریک کے آخری سپہ سالار تھے۔ ان کی آنکھوں میں جو خواب تھے بہت مقدس تھے۔ وہ سچ مچ ایک عظیم انسان تھے اور اس انسانی تحریک سے جڑے ہوئے تھے جس نے بحر ظلمات میں اپنی روشنی فکر کے گھوڑے دوڑائے اور انسانی شعور اور احساس کو ایک ایسا وژن دیا جس میں انسانیت کی فلاح و بہبود مضمر تھی۔
کیفی اعظمی نے اس ہندوستان میں 1929میں جنم لیا جو غلام تھا، جوانگریزوں کی قید میں تھا اور پھر اپنے انقلابی نغموں سے تحریک آزادی کی جد و جہد میں حصہ لیا۔ ملک آزاد ہوا تو ان کی آنکھوں میں ایک ہی سپنا تھا ، سوشلسٹ ہندوستان کا سپنا۔ یہ سپنا تو پورا نہیں ہوا مگر انھوں نے اس ہندوستان کو ضرور دیکھا جس نے ان کے پورے وجود کو دکھوں میں تحلیل کر دیا اور جب ملک کا سماجی، سیاسی جغرافیہ بدلا اور فرقہ واریت، فسطائیت ،مذہبی تشدد پسندی کی لہر پھیلنے لگی، ہندوستان جلنے لگا، ہر طرف خون کی ندیاں بہنے لگیں، بے گناہ مارے جانے لگے اور انسانیت کا قتل عام ہونے لگا تو کیفی اعظمی کے قلب سوزاں میں تیز انی سی لگی اور انھوں نے محسوس کیا کہ اب یہ ان کے خوابوں کا ہندوستان نہیں رہا۔ جس ہندوستان کی آزادی کے لئے انھوں نے آزادی کی جنگ لڑی تھی۔ وہ ہندوستان تو عالمی نقشے سے غائب ہے۔ وہ کوئی اور ہندوستان ہے جو رام اور کرشن، نانک اور چشتی کی دھرتی میں مدغم ہو گیا ہے اور ہندستان کی مشترکہ تہذیب کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے، جن آنکھوں نے یہاں بھگت سنگھ، مولانا محمد علی جوہر، مولانا ابوالکلام آزاد، پنڈت جواہر لال نہرو اور نہ جانے کیسے کیسے انقلابیوں کو دیکھا تھا۔ انہیں آنکھوں نے جب چھ دسمبر کو بابری مسجد کے انہدام کا منظر دیکھا تو ان کا پورا تخلیقی ذہنی وجود، اس سانحہ سے لرزہ بر اندام ہو گیا۔ انھوں نے رام جی کے ہندوستان کو مرتے اور نئے ہندوستان کو جنم لیتے ہوئے دیکھا تو وہ پکار اٹھے:
رام بن باس سے لوٹ کے جب گھر میں آئے
یاد جنگل بہت آیا جو نگر میں آئے
رقص دیوانگی آنگن میں جو دیکھا ہو گا
چھ دسمبر کو سری رام نے سو چا ہو گا
اتنے دیوانے میرے گھر میں کیسے آئے
پاؤں سر جو میں ابھی رام نے دھوئے بھی نہ تھے
کہ نظرآئے وہاں خون کے گہرے دھبے
پاؤں دھوئے بنا سر جو کنارے سے اٹھے
راجدھانی کی فضا آئی نہ راس مجھے
چھ دسمبر کو ملا دوسرا بن باس مجھے
امام الہندرام کے ہندوستان کی موت ، دراصل ہندوستان کی آتما کی موت تھی
اور جس دھرتی کی آتما مر جاتی ہے اس دھرتی میں زندہ رہنے کا کوئی جواز نہیں رہ جاتا ۔ کیفی اعظمی کو اس بات کا شدت سے احساس تھا کہ وہ ملک جسے اس کے سپوتوں نے اپنے خون سے سینچا اور سنواراتھا۔ اب وہی خونی ملک بن گیا ہے۔ وہ ہر طرف لہو کا منظر دیکھتے تھے او ر ان کی حساس آنکھیں لہو رونے لگتی تھیں۔ چاہے وہ لہو کسی بھی سطح پر بہتا ہو، ان کے لئے بہت ہی دردناک تھا۔ وہ مشترکہ گنگا جمنی تہذیب کے آدمی تھے۔ ان کے دل میں انسانی محبتیں تھیں۔ اس لئے جہاں کہیں بھی منافرت کے منظر دیکھتے وہ اداس ہو جاتے اور کیفی اعظمی کے ذہن و احساس کی تختی پر یہ اشعار یوں ابھرتے:
عزا میں بہتے تھے آنسو یہاں لہو تو نہیں
یہ کوئی اور جگہ ہو گی لکھنؤ تو نہیں
یہاں تو چلتی ہیں چھریاں زبان سے پہلے
یہ میر انیس کی آتش کی گفتگو تو نہیں
ٹپک رہا ہے جو زخموں سے دونوں فرقوں کے
بغور دیکھو یہ اسلام کا لہو تو نہیں
کیفی اعظمی کی شاعری میں انسانی درد مندی کے چراغ روشن ہیں اور یہ دردمندی فیضان ہے اس نظریئے سے وابستگی کا جس نے انسانی مساوات، معاشی برابری کا علم لہرایا۔ کیفی اعظمی مولوی بننے کے بجائے اس لئے مارکسی بن گئے کہ انھوں نے اپنی آنکھوں سے جبر و ستم کے مناظر دیکھے تھے، جا گیر داروں کے مظالم دیکھے تھے، سرمایہ داروں کی ستم رانی دیکھی تھی ۔ اس وقت ان کے لئے مارکسی نظریہ حیات ہی واحد ذریعہ نجات نظر آیا۔ اس لئے انھوں نے زندگی بھر اس تحریک کی ترجمانی کی جس نے مزدوروں اور محنت کشوں کے حقوق کیلئے لڑائیاں لڑیں اور ان کی آنکھوں کو وہ سپنے دیئے جس سے وہ بہتر اور با عزت زندگی جی سکیں۔ کیفی اعظمی کی شاعری میں ان محنت کشوں کا درد بھی موجزن ہے۔ یہ ان کی انسانیت پسندی کا ایک روشن ثبوت ہے۔ سقوط ماسکو کے بعد جہاں بہت سے مارکسی اس درد سے دور ہو گئے وہیں کیفی اعظمی نے اپنے نظریئے پر استقامت کا ثبوت دیا۔ سیاسی زوال کو جن لوگوں نے نظریاتی موت سے تعبیر کیا، وہ آج اچھی طرح سمجھ رہے ہیں کہ مارکسی ازم کا تصور ایسا تھا جو کبھی مرنے والا نہیں ہے بلکہ ہمیشہ کسی نہ کسی شکل میں زندہ رہے گا اور کیفی اعظمی نے اس ایقان اور ایمان کے ساتھ آخر تک اس نظریئے کے ساتھ وفاداری نبھائی اور جب آخری وقت آیا تو ان کے بدن سے لپٹا ہوا سرخ پرچم بھی تھا۔ کیفی اعظمی کی شاعری منافرت کے سینوں کو چیر کر اس میں محبتوں کے بیچ بونے والی شاعری ہے۔ ان کی شاعری ہمیشہ زندہ رہنے والی شاعری ہے۔ کیونکہ اس شاعری میں مقد س خواب ہیں اور خواب ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
کیفی اعظمی کا تعلق اس انقلابی قافلے سے رہا ہے، جس کی آنکھوں میں نئے انسان کے خواب ، نئے عہد کی بشارتیں تھیں۔ یہ شاید وہی قافلہ تھا جس نے یوسف بے کارواں کو’’ غیابتہ الجب ‘‘ سے نکالنے کی کوشش کی تھی۔ ’ہیومنزم‘ کیفی اعظمی کا شعر ی شناس نامہ ہے۔ اس تمام انسانی سلسلے سے ان
کا ذہنی و فکری رشتہ جڑ اہے جس کا مبدا حضرت آدم ہیں تو منتہا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام اور اہل بیت ہیں۔
ایک دو بھی نہیں چھیس دیئے
ایک ایک کر کے جلائے میں نے
ایک دیا نام کا ایک جہتی کے
روشنی اس کی جہاں تک پہنچی
قوم کو لڑتے جھگڑتے دیکھا
ماں کے آنچل میں ہیں جتنے پیوند
سب کو ایک ساتھ ادھیڑ تے دیکھا
دور سے بیوی نے جھلا کر کہا
تیل مہنگا بھی ہے، ملتا بھی نہیں
کیوں دیئے اتنے جلا رکھے ہیں
اپنے گھر میں نہ جھروکہ نہ منڈیر
طاق سپنوں کے سجارکھے ہیں
آیا غصہ کا ایک ایسا جھونکا
بجھ گئے سارئے دیئے
ہاں مگر ایک دیا نام ہے جس کا امید
جھلملاتا ہی چلا جاتاہے
ان کے یہاں یہی رجائیت روشن تھی، انہیں احساس تھا کہ ہر رات کے نصیب میں سحر ہے اور یہ کہ لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے۔
معین احسن جذبی
مبارک پور کے معین احسن جذبی( 21اگست 1912، 13فروری 2005) ایسے شاعر ہیں جن کے شعروں کی گونج ایوان اقتدار میں سنائی دیتی ہے۔ ان کے یہ چند شعر تو زبا ن زد خلائق ہیں اور ضرب الامثال کی حیثیت رکھتے ہیں:
جب کشتی ثابت و سالم تھی ، ساحل کی تمنا کس کو تھی
اب ایسی شکستہ کشتی کو ساحل کی تمنا کون کرے
اے موج بلا ان کو بھی ذرا دو چار تھپیڑے ہلکے سے
کچھ لوگ ابھی تک ساحل سے طوفاں کا نظارہ کرتے ہیں
مرنے کی دعائیں کیوں مانگو ں جینے کی تمنا کون کرے
یہ دنیا ہو یا وہ دنیا ، اب خواہش دنیا کون کرے
فروزاں ، سخن مختصر اور کداز شب ان کے شعر ی مجموعے ہیں ۔ حالی کا سیاسی شعور ان کا تحقیقی مقالہ ہے ۔وہ آجکل نئی دہلی کے اسسٹنٹ ایڈیٹر بھی رہے۔ اور مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں ریڈر بھی ۔ پہلے ملال تخلص تھا بعد میں جذبی ہوئے ۔ ترقی پسند تحریک سے وابستہ رہے، بعد میں بیزار بھی ہوئے اور یہ ایک فطری رد عمل ہے۔
کسی بھی نظر یاتی نظام سے وابستگی یا بر گشتگی عصری دنیا میں اب کوئی معنی نہیں رکھتی۔ کیونکہ نظریے سے بر ہمی، بیزاری یا دل بستگی پیوستگی میں اپنی ذاتی پسند اور نا پسند بھی شامل ہوتی ہے اور ماحول فضا کابھی کچھ دخل ہوتا ہے۔ میرا ماننا یہ ہے کہ محض کوئی بھی فکر یاتی نظام کسی بھی تخلیقی فن پارے کو دوام عطا نہیں کر سکتا۔ یا کوئی بھی نظریاتی نظام کسی تخلیقی فن پارے کے عروج یا تنزل، ارتقاء، و انحطاط کافیصلہ نہیں کر سکتا کہ جتنی بھی نظریاتی تحریکیں اور رجحانات ہیں، سب پر خود نزع کی کیفیت طاری ہے۔ نظریے، مرتے اور جنم لیتے رہتے ہیں مگر سچی تخلیق ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ کسی بھی تخلیق کی حرکیت ہی اسے حیات عطا کرتی ہے۔ معین احسن جذبی کا کسی نظریاتی تحریک سے انسلاک و اتصال ہے یا نہیں؟ یہ مسئلہ آج کی دنیا میں زیادہ اہمیت کا حامل نہیں رہا۔ اصل بات ان کے تخلیقی نظام، اس کے درو بست اور اس کے توازن اور تناسب کی ہے۔ جذبی اس لحاظ سے ایک اہم شاعر ہیں کہ ان کا فن یا آرٹ کسی نظریے کی بیساکھی کے سہارے بلند نہیں ہوا ہے۔ بلکہ ان کی تخلیق کی بلند قامتی میں ان کے سوز دروں ، آتش نہانی اور خون جگر کا حصہ ہے۔ ان کا تخلیقی رنگ و�آہنگ الگ سے ہی پہچانا جاتاہے۔ انھوں نے زندگی کے رنگا رنگ تجربات اور بو قلموں مشاہدات کو اپنے احساس و اظہار کا پیر ہن عطا کیا ہے۔ صر ف یاس آگیں تخیل یا حزنیہ لے کسی شاعر کو ابدیت کی معراج نہیں عطا کرسکتی۔ اس لئے معین احسن جذبی کی شاعری میں صرف انہی چیزوں کے حوالے تلاش کرنا ایک کار بے مصرف ہی کہلائے گا۔ جذبی کی شعری انفرادیت کی تلاش کے لئے زیادہ پیچ و تاب کھانے کی قطعی ضرورت نہیں۔ ان کے شعری مجموعے ان کی انفرادیت کا اظہار نامہ ہیں۔
ہر بڑا تخلیق کار نظریاتی، مکانی و زمانی محدودات و تعینات سے ماورا ہوتا ہے۔ جذبی بھی ایسے ہی شاعر ہیں جنہیں کسی خاص زمانی مکانی، نظریاتی حصار میں قید نہیں کیا جا سکتا کہ تخلیق اسیر ی نہیں، آزادی کا نام ہے۔ ترقی پسند آواں گا رد غزلیہ شاعری کے افق پر جذبی ایک مہ کامل اور ماہتاب درخشاں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جذبی نے جذبہ ، احساس ، اظہار ، تخیل، بیان کی سطح پر اپنی انفرادیت اور علیحدہ شناخت بر قرار رکھی ہے۔ وہ ہجوم بیکراں کا حصہ نہیں بنے ہیں۔ لیکن المیہ اور وقت کی ستم ظریفی یہ ہے کہ ان کی اعلیٰ معیاری شاعری کے باوجود انہیں Underrattedکیا گیا۔ اور ان سے کم تر درجے کے شاعروں کو عظمتوں کے فلک الافلاک پر بٹھا دیا گیا۔ جب کہ ان کی شاعری میں ابدیت کی قوت موجود ہے اور ان کا شعری سر مایہ اجتماعی حوالے کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔ ان کی شاعری ہمیشہ قدر و قیمت کی نقاہ سے دیکھی جائے گی اور ان کا تخلیقی استمرار بھی بر قرار رہے گا۔ ان کی شاعری کا حسن و انبساط کبھی کم نہیں ہو سکتا:
یہ پھول وہ ہیں کہ شاید کبھی نہ مر جھائیں
جذبی نے بالکل صحیح کہا ہے۔ ان کا نغمہ وقتی فغاں نہیںَ بلکہ ابدی نغمہ ہے جو ساز حیات پر ہمیشہ تھرکتار ہے گا۔ ان کی شاعری کے چمن میں جو پھول ہیں اس کی خوشبو ہمیشہ مشام جاں کو معطر کرتی رہے گی۔
رحمت الٰہی برق اعظمی
اعظم گڑھ کے ممتاز سخن وروں میں ان کا بھی شمار ہے ۔ انہوں نے مختلف اصناف سخن وطبع آزمائی کی۔ان کی شاعری پڑھتے ہوئے ممتاز ناقد محمد حسن عسکری کی وہ بات ذہن میں گونجنے لگتی ہے جو انہوں نے فراق گورکھپوری کے تعلق سے کہی تھی۔ کہ فراق کی شاعری کی خوبی یہ ہے کہ بھر پور سانس کی شاعری ہے ان کی شاعری کی سانسیں چھوٹی اور بڑی نہیں ہیں۔ اور عسکری صاحب نے بھی شاعری کے سانس کے اثرات کے بارے میں اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ سانس کا نظام درست نہ ہوتو شاعری اچھی نہیں ہو سکتی۔ برق اعظمی کی شاعری کی بھی وہ خوبی ہے کہ اس میں سانس یا سارس کی پروبلم نہیں ہے ۔انھوں نے تضمینیں بھی لکھی ہیں اور تاریخی قطعات بھی لکھے ہیں اور دونوں مشکل معرکیں ہیں وہ یقینی طورپر ان یک لسانی شاعروں سے مختلف ہیں جو چند بحور و اوزان تک ہی موقوف و محدود ہیں۔ مگر برق اعظمی کا دائرہ سخن صحرا کی طرح وسیع اور بسیط ہے ۔ ان کی تخلیقی شعلگی اور شعری آتش فشانی کا اندازہ مختلف اسالیب اور اصناف میں لکھی گئی شاعری سے ہوتا ہے۔ انھوں نے لکھنو اور دہلی دونوں دبستانوں سے استفادہ کیا ہے ۔ تنویر سخن ان کا مجموعہ کلام ہے جس میں انھوں نے عالم خواب و خیال میں عارف رومی اقبال اور غالب سے گفتگو کی ہے۔ حضرت عبدالرحمن جامی ، خواجہ عثمان ہارونی ، حضرت امیر خسرو، نصیر الدین چراغ دہلوی، اور فخر الدین عراقی،کی غزلوں پر جو تضمین انھوں نے لکھی ہیں وہ بہت کامیا ب ہیں اور اس بات کی دلیل برق اعظمی کا مطالعہ مختلف ادبیات کو محیط ہے۔ خواجہ عثمان ہارونی کی غزل پر ان کی تضمین کچھ یوں ہے۔
میر سینہ رہے کب تک امین راز ہمرازاں
سہی جاتی نہیں اب تو سخن چینئ غمازاں
خبر لے اب طبیب حالت نا ساز نا سازاں
بیا جاناں تماشا کن کہ در انبوہ جانبازاں
بصد سامان رسوائی سر بازار می رقصم
برق اعظمی ( 1911-1983) کے کلام میں جو سادگی ، شیرینی، سوز اور ساز ہے وہ انہیں زندہ رکھیں گے۔ شاعر مشک بار ہو ، مثل گل اور گلاب ہوتو اس کی خوشبو دور دور تک پھیلتی ہے۔
اعجاز اعظمی
نئے نکات اور جزیروں کی جستجو اعظم گڑھ کی سر شت میں شامل ہے۔ نئی رہگذر اور نئے امکان کی تلاش ہی انفرادیت کے نقوش مرتسم کرتی ہے۔ یا انبوہ میں اختصاص عطا کرتی ہے۔سخن کے بیچ اعجاز اعظمی کا معاملہ بھی یہی ہے کہ انھوں نے خود کو مروجہ لفظوں یا شبدوں کے حصار میں قید نہیں رکھا اورنہ ہی اپنی فکر کو کسی ازم سے زنجیر کیا ۔ وہ آزادہ روی کے ساتھ لفظ و خیال کے سلسلے جوڑتے گئے اور اس طر ح محسوسات کی ایک نئی دنیا خلق ہوتی گئی۔اور لسانی سطح پر تجربوں سے شاعری بھی ایک نئی لذت سے ہمکنار ہوئی۔ دوسری زبان کے لفظوں کے وصال سے نظم نکھر نکھر سی گئی اور قاری ایک نئے منطقے سے محظوظ بھی ہوا ۔ ایسی بہت سی نظمیں ہیں جن میں اعجاز اعظمی نے اپنی لسانی ہنر مندی سے نئی کیفیت پیدا کر دی ہے :
راسا سائنگ (۱) کی دھن پر
اک انّا ڈارا(۲) ڈانس کرے
جیسے گاؤں کی گوری چھپ کر
پیتم سے رومانس کرے
جنگل میں منگل کامنظر
نو آبا د علاقوں میں
نئی نئی سڑکوں پر ابھرے
نئے نئے شاپنگ سنٹر
نیو اکنامک پالیسی میں
جنتا کا وشواس بڑھا
نئی نئی آشائیں جا گیں
نئی دشا کا باب کھلا
روزی روٹی کے رستے کی
سب بادھائیں دور ہوئیں
قد م قدم دور ہوئیں
قد م قدم منزل کی خوشبو
سب کے من کو بھائے
جو جاگے سو پائے بھائی
جو سوئے پچھتائے
یہی دعا ہے شاعر کی
ان دو لفظوں کے دیپ جلیں
دو شہروں کی بھٹکی روحیں
پھر آپس میں گلے ملیں
مدھر ملن کے لاگیں میلے
اعظم گڑھ سے پورٹ ڈکسن تک
من بھاون یادوں کے ریلے
اعظم گڑھ سے پورٹ ڈکسن تک
اعجاز اعظمی نے راسا سائنگ (ملائی لفظ جو احساس محبت کے معنی میں ہے) اورانّا ڈارا(بمعنی کنواری) جیسے نا مانوس لفظ سے قرب و انسیت کی کتنی اچھی فضا پیدا کی ہے۔ اس طرح کے لسانی تجربوں سے زبان کی وسعتوں میں نہ صرف اضافہ ہوتا ہے بلکہ ہمارے احساسات اور جذبا ت کو بھی نئی تعبیر ملتی ہے۔ اعجاز اعظمی کے یہاں اجنبیت سے مانوسیت کا ماحول خلق کرنے کا شعری رویہ بہت سی نظموں میں ملتا ہے۔ کنی پوٹا دنگ گا اور موت کا کھیل ایسی ہی نظمیں ہیں جن میں نامانوس لفظوں کے باوجود تر سیلیت کسی بھی سطح پر مجروح نہیں ہوئی ہے:
کرو نینوں سے بات
رکھو تن پر نہ ہاتھ
کہے مدراسی نار
کنی پوٹا دنگ گا
(کنی پوٹا دنگ گا)
میرے احساسات کے ٹینکر پر
ہائیلی انفلیم ایبل (ا) کی تختی آویزاں ہے
پھر بھی تم ادھر
جلتے ہوئے سگریٹ کے ٹکڑے
پھینک رہے ہو
کہیںیہ مذاق موت کا کھیل نہ بن جائے
کہیں تمہیں بھی اپنے دامن کو
بچانے کاموقع نہ مل پائے
تو پھر کیا ہوگا
لفظیات کی سطح پر تولید اور تجدد کا یہ عمل تو انہیں منفرد قرار دیتا ہی ہے موضوعات کی سطح پر بھی ان کے یہاں مشاہداتی اور تجرباتی تنوع ہے انھیں بھیڑ سے الگ کرنے کے لئے کافی ہے۔دوسرے ملک کے آسمانوں میں اپنی زمین کے شبد سورج اور فکر ستاروں کی تلاش بھی انھیں ایک نئی شناخت اور نقطۂ اتصال سے آشنا کرتی ہے۔ اور یہی شناخت کی وحدت انہیں اس تقسیم سے بچاتی ہے جو اکثر ذہنوں میں کلچر اور تہذیب کے تعلق سے بہت سے واہموں میں مبتلا کرتی ہے۔ اعجاز اعظمی نے شناخت کی اس مصنوعیت کومسترد کر کے اجنبی نقطوں میں قربت اور مماثلت تلاش کر لی ہے:
اپنے کمراواں کے کھیتوں کی مہک
ارضِ ڈکسن کے ہر اک دانے میں ہے
اعجاز اعظمی کی نظموں سے ان کے حساس تخلیق وجود کا پیکر ابھرتا ہے۔ایک ایسا وجود جس کے دل میں سارے جہاں کے در د کی آگ سلگ رہی ہے۔ اور وہ دل اپنے کینوس پر اپنے عصر کے واردات واقعات ، اور سانحات کو نقش کر رہا ہے۔شاعر کی بیدار نگہی اسے عالمی گاؤں سے جوڑ دیتی ہے۔اعجاز کی نظموں میں عصر ی واردات کی ایسی بہت سی تصویریں نمایاں ہیں جن میں ان کا ذہنی کرب بھی اپنی پوری شدت کے ساتھ نظر آتا ہے۔ایک نظم کا یہ انقلابی اور احتجاجی لہجہ دیکھئے :
یہ لبنان میں آج کیا ہو رہاہے
جدھر دیکھئے صرف بم گر رہا ہے
میں جل رہے ہیں مکاں جل رہے ہیں
سیاست زدہ جسم و جاں جل رہے ہیں
یہ مظلومیت کے نشاں جل رہے ہیں
ہے فینٹم لڑاکو جہازوں کے ذریعہ
کئی دن سے عربی محلوں پر یورش
جو عربوں کے پٹرول سے چل رہے ہیں
یہا ں شرقِ اوسط میں صد ہا برس سے
یہ بازی گراں سامراجی درندے
سدا کشت و خوں میں ملوث رہے ہیں
وہی سامر اجی درندے جواب بھی
صیہونیت کے لبادے پہن کر
فلسطینیوں کو ذبح کر رہے ہیں
نئے شرق اوسط کی تاریک راتوں
کے بوجھل افق سے
نہا یا ہوا خون میں سرخ سورج
ابھرنے لگا ہے
ابھر کر رہے گا
شہیدوں کا خوں
رنگ لا کر رہے گا
عالمی سامراجی سیاست کی سفاکی کے ساتھ ساتھ انہیں سماجی اقدار کی زبونی اور زوال کا بھی احساس ہے۔ جس کی شکلیں سیکس فار سیل اور تہذیب ڈالر جیسی نظموں میں دیکھی جا سکتی ہیں۔
کہیں چھلکتی ہے میکدوں میں
کہیں سر عام ڈھل رہی ہے
نئی گپھاؤں میں۔۔۔۔۔۔
حرم سراؤں۔۔۔۔۔۔
نگار خانوں میں چشم و لب سے
کشید ہو کر پگھل رہی ہے
دبی دبی خواہشوں کے کوندے
لپک رہے ہیں دل جواں میں
حصول نان جویں کی چاہت
رباب دل میں شرر فشاں ہے
مہکتے گلزار جسم و جاں میں
گداز و شیریں
جوان و نغمہ نواز گوشے
حدیث آدم سنا رہے ہیں
ازل سے اب تک
خدا کے بندے
خد ا کی اس پاک سر زمیں پر
گناہ آدم اگا رہے ہیں
(سیکس فار سیل)
یہ ڈالر کیا ہے؟
میرا حال و مستقبل
اسی ڈالر کی نسبت سے
مری پہچان ہوتی ہے
یہ نمبر دو کے دھندے کی کرامت ہے
تقاضا ہے یہی تہذیب نو کا
سابقہ قدر یں بدل ڈالو
زمانہ جب بدلتا ہے
تو قدریں بھی بدلتی ہیں
سمجھ کر وقت کے تیور
نئی تہذیب میں ڈھل جا
اسی میں سر خروئی ہے
یہی معیار ہستی ہے
یہی تہذیب ڈالر ہے
اعجاز اعظمی نے گویا کہ نظم اور غزل دونوں میں طبع آزمائی کی ہے۔ مگر ان کے نظمیہ اظہار میں نئی دشائیں ملتی ہیں۔ جبکہ غزلیہ شاعری کلاسیکیت کی سمت میں سفر کرتی نظر آتی ہے۔ غز ل میں بھی انھوں نے کہیں کہیں ذولسانی تجرے کئے ہیں۔ جو ان کی لسانی مہارت کا ثبوت ہیں جیسے غزل کایہ شعر:
کرتے ہو ڈس گریس مجھے کیوں گلی گلی
دس ایٹی چیوڈ از ان فرینڈلی
ان کی کئی غزلیں داخلی احساسات اور تجربات کی عکاسی کرتی ہیں۔غزل کے یہ چند شعر ان کے باطنی ارتعاشات کی خوبصورت ترجمانی
کرتے ہیں۔
برہ کی آگ میں میرا کنوارا پن سلگتا ہے
کہ تجھ بن اے ساجن میرا جیون سلگتا ہے
تمہار ی جب مدھر یادیں مجھے آکر ستاتی ہیں
میر ی انگڑائیوں کی آنچ سے درپن سلگتا ہے
اعجاز کی شاعری میں طنز کی نشتریت اور مزاح بھی ہے۔ انھوں نے اپنی شاعری کو نئے تجربوں سے سجایا اور سنوارا ہے۔ ان کا مجموعہ کلام’’ اعجاز سخن‘‘ ان کی تخلیقی ہنر مندی کا مکمل اظہاریہ ہے۔ان کے لفظیاتی اور فکریاتی نظام پر گفتگو طوالت چاہتی ہے المختصر یہ کہ اعجاز اعظمی ہمارے عہد کے ان شاعروں میں ہیں جنہیں سنجیدگی سے پڑھا جائے تو سخن کے بہت سے نکتے اور تخلیقی فکر و اسلوب کے جوہر تابدار سامنے آئیں گے۔
عزم سہر یاوی
اعظم گڑھ کی زمین شہر سخن کا ایک کا اہم نام ابوالفیض عزم سہریاوی کا بھی ہے جن کے اشعار ندرت فکر اور جدت اظہار کی گواہی دیتے ہیں اور جنہوں نے خود کو مخصوص موضوعات میں مرتکز نہیں کیا ہے۔ان کے طائر خیال کی پرواز بھی بلند ہے اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اپنے سخن کو آسماں کیا ہے اور شبد ستاروں سے ایک خوبصورت کہکشاں سجائی ہے۔
ان کی فکر کا ئنات سے رشتہ جوڑتے ہوئے ذہن پر بہت سی حقیقتیں منکشف ہوتی ہیں بالخصوص وہ حقائق جو ذہن رسا سے ہی معرض وجود میں آتے ہیں۔ عزم سہریاوی نے حیات اور کائنات کے اسرار کو اظہار کا پیکر عطا کیاہے۔ ان کے یہاں زندگی اپنی مختلف شکلوں میں رونما ہوتی ہے۔ان کے چند اشعار سے ان کے فکری کینوس کو بآسانی سمجھا جا سکتا ہے۔
کبھی مندر میں پروہت،کبھی گرودوارے میں سنت
ہم نے دیکھا ہے اسے روزاک ہر مٹ کی طرح
اس پہ اے عزم بھروسہ بھی کریں تو کیسے
رنگ ہر روز بدلتا ہے جو گرگٹ کی طرح
…………………
دیے جلاؤ ذرا روشنی تو ہونے دو
کبھی یہ ختم غم زندگی تو ہونے دو
اب ایک ساتھ ہی مل جل کے بیٹھ لیں ہم تم
اس انجمن میں ذرا دل لگی تو ہونے دو
…………………
یہ بستی ہے نئے لوگوں کی شاید
یہاں پہچانتا کوئی نہیں ہے
مری باتوں کے قائل تو سبھی ہیں
مگر اب مانتا کوئی نہیں ہے
…………………
وہ سنپولے ہیں زہر میں ڈوبے
موقع ملتے ہی کاٹ لیتے ہیں
ہم میں ایسے بھی لوگ ہیں کتنے
غم جو اوروں کے بانٹ لیتے ہیں
…………………
یہ معاشرے کے وہ مشاہدے ہیں جو شاعری میں ڈھل گئے ہیں۔ایسے ہی مشاہدوں سے تخلیق میں تنوع پیدا ہوتا ہے اور تازگی آتی ہے۔عزم کے یہاں موضوعی سطح پر ایسا ہی تنوع نظر آتا ہے۔ان کی شاعری میں طنز کی زیریں لہر ملتی ہے۔خاص طور پر عصری واردات اور وقوعات کے حوالے سے ان کے یہاں ایسے اشعار ملتے ہیں۔ان اشعار میں ان کے طنز کے نشتر کو ہر حساس دل محسوس کر سکتا ہے۔
دین و ملت خاک سب نام و نسب
فہم سے کچھ کام لے اے بے ادب
ہے کسی شئے کو ثبات دائمی؟
کام لے گا عقل سے تو اور کب
ہو گئے اطفال نو سارے کے سارے بے ادب
مسئلہ علم و ادب کا ملت بیضا ہے اب
دین و مذہب کچھ نہیں نام و نسب سے فائدہ
منفعل ہے آسمان دل زمیں ہے مضطرب
عزم سہریاوی نے لسانی سطح پر بھی کچھ الگ تجربے کئے ہیں جو دوہے کی شکل میں سامنے آئے ہیں،یہ دوہے ان کی فکری جزالت اور لسانی لطافت کا خوبصورت نمونہ ہیں۔
ہے مورکھ نادان تو سوکھے پیڑ سمان
پات،پشپ جس پر نہیں پھل سے بھی اگیان
پشپ بھانت ادھروں پر سائیں سجی رہے مسکان
مانو شریسٹھ یہی ہے جس کا جیون دیپ سمان
جدید معاشرے کی نفسیات اور تہذیبی تبدیلی سے آگاہ عزم سہریاوی معاشرے کے انتشار اور انارکی سے متفکر ہیں اسی لئے وہ معاشرے میں صالح قدروں کی بات کرتے ہیں اور ہر اس نظر اور نظریے کو مسترد کرتے ہیں جس سے معاشرے کی ساخت مجروح ہوتی ہے۔فسادات،نفرتیں ،دوریاں جس سے معاشرتی اکائی متاثر ہوتی ہے ان کے خلاف ،ان کی شاعری شمشیر برہنہ ہو جاتی ہے۔چند اشعار سے ان کی فکر مندی کے آثار نمایاں ہیں۔
کوبہ کو سارے نگر میں مفلسی کا راج ہے
روز و شب کیسے غریبوں کے بسر ہوتے رہے
تھے سبھی مرعوب دہشت گردوں کے شہر میں
ہر طرف ظلم و تشدد سر بہ سر ہوتے رہے
رقص میں تھیں اپسرائیں لوگ تھے نوحہ کناں
حاکم جابر کے سب زیر اثر ہوتے رہے
قصر میں اغیار کے تھا رقص کا عالم ہنوز
اور سارے شہر میں دنگے ادھر ہوتے رہے
عزم سہریاوی کہنہ مشق شاعر ہیں اور ان کی شعری حسیت کی تشکیل میں اس مردم خیز خطے کا عمل دخل ہے جہاں سے جانے کتنے آفتاب و مہتاب نے جنم لیا،علامہ شبلی،علامہ فراہی اور علامہ اقبال سہیل کی سر زمیں اعظم گڑھ سے تعلق رکھنے والے عزم سہریاوی کا یہ دوسرا مجموعہ ہے۔ اس سے قبل’ سحاب رحمت ‘کے نام سے حمد و نعت کا مجموعہ مقبول ہو چکا ہے۔’طلوع سحر‘ان کی غزلیات کا مجموعہ ہے،جس میں وہ اپنے غزلیہ آہنگ میں مختلف اور معتبر انداز میں سامنے آتے ہیں۔انہوں نے اپنے مجموعے کے حوالے سے جو کہا ہے اس میں شاید کچھ لوگوں کو تعلی نظر آئے،مگر ان کی شاعری کی سطریں ان کی صداقت کا ثبوت پیش ہیں۔وہ اشعار یہ ہیں:
ملیں گے اور بھی مجموعۂ سخن لیکن
کوئی بھی ان میں ’طلوع سحر‘ نہیں ہوگا
تمام لفظ و معانی ہیں جس کے لعل و گہر
کہ لفظ لفظ کوئی بے اثر نہیں ہوگا
فکری اعتبار سے یہ اردو شاعری کی نئی سحر ہے کہ ہماری شاعری بہت دنوں تک رات کی قید میں رہی ہے۔
y
اعظم گڑھ کی سر زمین میں ادبی تنقید کو بھی کئی معتبر نام دیے ہیں۔ جن کے بغیر اردو تنقید کی تاریخ مکمل نہیں ہو سکتی۔ شبلی تو تنقید کا ایک بڑا نام ہے ہی بعد میں خلیل الرحمن اعظمی، پروفیسر احتشام حسین جیسی شخصیتوں نے تنقیدی افق کو تابانی عطا کی اور اپنی تنقیدی نظریات سے اردو کے سرمایہ نقد میں گراں بہا اضافے کئے۔ پروفیسر خلیل الرحمن اعظمی کی کتاب اردو میں ترقی پسند تحریک ایک حوالہ جاتی حیثیت رکھتی ہے ۔ تومارکسی نقاد احتشام حسین کی کئی تنقیدی کتابیں ہیں جن میں وہ اپنے تنقیدی تشخص کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ تنقیدی جائزے ، روایت اور بغاوت ، ادب اور سماج، تنقید اور عملی تنقید ، ذوق ادب اور شعور، اردو دب کی تنقیدی تاریخ، یہ وہ کتابیں ہیں جن سے احتشام حسین کی سماجی تنقیدکے زاویے روشن ہوتے ہیں اور ان کی انفرادیت بھی واضح ہوتی ہے۔ انھوں نے ایک بہت اچھی بات لکھی ہے کہ قدیم ادب ہمارے لئے صرف ایک مقدس ترکے کی حیثیت سے قابل احترام نہیں ہے بلکہ اس میں فطرت اورسماج کی رجعت پسند طاقتوں پر قابو پانے کی جس جد وجہد کا مظاہر ہ شعوری یا غیر شعوری طور پر ہوتا ہے اس سے انسانی شعور کی تاریخ مرتب ہوتی ہے۔
منظر اعظمی بھی تنقید کا ایک بڑانام ہے۔ جن کی کتاب اردو ادب کے ارتقاء میں تحریکوں ا و رجحانوں کا حصہ عصری دانش گاہوں میں ماخذ اور مرجع کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔
ڈاکٹر افغان اللہ خان(خالص پور) بھی اردو کے اہم ناقد ہیں۔ کورکھپور یونیور سٹی کے صدر شعبہ اردو سے انھوں نے فراق کی شاعری پر بہت وقیع کام کیا ہے۔طراز ظہیری ( غدر کے چشم دیدہ حالات) بھی ایک اہم کارنامہ ہے۔
y
اعظم گڑھ کی کچھ ایسی شخصیتیں بھی ہیں جنہوں نے دوسرے ملکوں کی زمین سخن کو آسماں کیا۔ ایسی شخصیتوں میں سبط حسن ، فہیم اعظمی، نجم الحسن رضوی، اور فضا اعظمی کے نام نمایاں ہیں۔
سبط حسن
سبط حسن 31جولائی 1916، 20اپریل 1986 ، اعظم گڑھ کے موضع انباری میں پیدا ہوئے تھے۔ جنہوں نے صحافت کی دنیا میں ایک الگ شناخت قائم کی اور ترقی پسند تحریک کے اہم ستون کی حیثیت سے انھوں نے جو خدمات انجام دی ہیں وہ نا قابل فراموش ہیں ۔ مختلف اخبارات اور رسائل سے ان کی وابستگی رہی ۔ بمبئی کرانیکل ، نیشنل ہیرالڈ، نیا پرچم، نیا ادب، پائنیر لکھنؤ، پیوسلس وار، قومی جنگ سے وابستہ رہے۔ امروز اور پاکستان ٹائمز کے کالم نگار کی حیثیت سے عوامی سطح پر مقبول ہوئے ہیں۔ سبط حسن لیل و نہا کے ایدیٹر بھی رہے۔ وہ مکمل طور پر ترقی پسند انہ نظریات کے حامل تھے۔ ان کی کتابوں میں موسی سے مارکس تک بہت مشہور ہوئی۔ اسکے علاوہ ماضی کے مزار کو بے پناہ مقبولیت ملی۔ ان کے علاوہ شہر نگار اں پاکستان میں تہذیب کا ارتقاء،انقلاب ایران ، افکار تازہ، ادب اور روشن خیالی ، سخن در سخن ،ان کی اہم کتابیں ہیں۔ سبط حسن کی حیثیت ایک دانشور صحافی کی حیثیت سے مسلم ہے۔ ان کی کتابوں سے جو روشنی کی کرنیں پھوٹی ہیں وہ تاریک زدہ معاشرے کوروشن کرنے کی قوت رکھتی ہیں۔
فضا اعظمی
فضا اعظمی ہندوستا ن سے ہجرت کر گئے مگر ان کا دل اعظم گڑھ کی فضاؤں میں اٹکا رہا ، جسمانی ہجرت ذہنی ہجرت میں تبدیل نہ ہو سکی۔ اپنے وطن سے محبت کا احساس قائم رہا۔ انھوں نے تخلیقی سطح پر جو امتیازات نقش کئے ہیں۔ اسکا اعتراف سبھی کرتے ہیں۔ جو دل پہ گذری ہے، کرسی نامہ پاکستان ، مرثیہ مرگ ضمیر، تیری شباہت کے دائرے میں، آواز شکستگی ، خاک میں صورتیں، مثنوی زوا ل آدم، شاعر محبوب اور فلسفی، مثنوی عذاب و ثواب ان کی اہم تخلیقات ہیں۔ خاک میں صورتیں ان کی ایک طویل نظم ہے جو عورتوں پر ہونے والی زیادتیوں کے خلاف ایک احتجاجیہ ہے۔ پروفیسر انور سدید نے لکھا ہے کہ ایسی پر اثر طغیانی نظم اردو ادب میں پہلے نہیں لکھی گئی ہے اور اب منظر عام پر آ گئی ہے تو حکمرانوں پر لازم ہے کہ وہ خود اس کی تلاوت کریں اور اسکولوں ، کالجوں میں اسکی باقاعدہ تدریس کا انتظام بھی کریں۔( بحوالہ شازیہ ناہید عامر، فضا اعظمی کی طویل نظم، خاک میں صورتیں، مشمولہ، عالم رنگ ادب کراچی،17-18)
مگر ان سب میں سب سے زیادہ مشہور اور مقبول ان کی کتاب عذاب ہمسائیگی ہے۔ جو اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں شائع ہو چکی ہے۔ یہ کتاب برصغیر کے ماضی کے میٹا مورفوسس(Metamorphosis) کا تخلیقی اکتشاف ہے۔اس برصغیر کا، جو دوحصوں میں بٹ چکا ہے اور اپنے تہذیبی، تاریخی،فکری محور سے انحراف اور انقطاع کے عمل میں جنون کی حد تک منہمک ہے۔
یہ مثنوی ایک ایسے تخلیق کار کے ذہنی اضطراب کا اظہار ہے جس نے استبعادی طریق کا ر(Paradoxical Technique)سے پوری صورتِ حال واضح کردی ہے۔یہ انتشار اور افتراق کے تعلق سے لکھی گئی یہ ایک ایسی مثنوی ہے جس میں برصغیر کے ڈائلماکو فنکارانہ ہنرمندی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
فضااعظمی کا تعلق گوکہ پاکستان کی سرزمین سے ہے مگر ان کی اساس ہندوستان ہے۔ یہاں کی تاریخی،تہذیبی،ثقافتی روایت سے وہ نہ صرف آگا ہ ہیں بلکہ یہاں کی اساطیریت اور تاریخیت کے بھی رمزشناس ہیں۔انھیں ہندوستان کی وِشال سبھیتا،سنسکرتی اور تہذیبی وحدت واشتراک کا بھی پورا گیان ہے۔ انھوں نے اس ملک کے شناس نامے کو اس کے مکمل تہذیبی، تاریخی سیاق وسباق میں پیش کرتے ہوئے معاصر احوال اور سلسلہ واقعات کی تصویر دورنگوں سے بنائی ہے۔ منفی اور مثبت151 ان دونوں رنگوں سے انھوں نے برصغیر کے موجودہ سماجی، سیاسی منظرنامے کو منقش کیاہے۔
عذاب ہمسائیگی، ایک تخلیقی انتفاضہ بھی ہے کہ تخلیق کار نے جنگ اور مذہبی جنون کے انہدام اور امن کے استحکام کے لیے آواز بلند کی ہے۔ یہ پوئٹری برصغیر کےPharisaic Politicsکے خلاف ایک نہایت شدید حسّیاتی تخلیقی ردِّ عمل ہے۔ فضا اعظمی نے ماضی کو نقطۂ حوالہ بناکر برصغیر کی سچویشن کا اظہار کیاہے۔یہ ایک طرح سے Juxapositional Poetryہے جس میں Poetic Personaنے مختلف Tonesکا استعمال کیاہے اور جذبات کے اعتبار سے لفظیات اور لہجے کا انتخاب کیاہے:
کرو تم یاد اس دن کوکہ جب اس کے نتیجے میں/جنونِ مذہبی کی ایک ایسی آگ بھڑکی تھی/کہ جس سے فرقہ وارانہ فسادوں کا/وہ خونیں سلسلہ جاری ہوا جس نے/ہزاروں ماؤں بیٹوں کو،ہزاروں بھائی بہنوں کو/ہزاروں بے گنہ، معصوم لوگوں کو/تہِ شمشیرِ ظلم وبربریت قتل کرڈالا/مکانوں کو جلاڈالا/کہ جس نے مسجدوں، گرجاگھروں کو گردواروں کے تقدّس کو مٹاڈالا/انھیں مسمار کرڈالا/اور اس بھٹّی کے شعلوں نے جلا کر خاک کرڈالا/تمھارے دعوئ جمہوریت کو/تمھارے دعوئ سیکولرحکومت کو/تمھارے دعوئ منشورِ اعلی کو/ اور دستور میں محفوظ بنیادی حقوقِ آدمیّت کو /تمھاری فکر کی، وحدت کو اورقومی تصوّر کو
یہ شاعری ایک سوال نامہ بھی ہے جو اس انسانی عدالت میں پیش کیاگیاہے جس کی بنیاد پنج شیل، بقائے باہم اور جمہوریت پر رکھی گئی ہے اور جہاں کا معاشرہ کثیرالعناصر ہے۔ فضا اعظمی نے اس مثنوی کے ذریعے تضادات کے امتزاج کا تصور پیش کیاہے۔ اور اجتماع ضدین کو سالمیت اور کائنات کے استحکام اور مستقبل کی بقا کے لیے ضروری قرار دیاہے۔ فضا اعظمی کی یہ مثنوی ہندوہیومنزم کی ہسٹری سے نکات پیش کرتے ہوئے ہیومنزم اوررواداری سے انحراف کے منطقی انجام کو بھی اُجاگر کرتی ہے۔ جو بابری مسجد کے انہدام یا گجرات کے فسادات کی شکل میں سامنے آیا۔ انھوں نے روشن حوالوں سے آج کے عہد کی تاریکی اورچیرہ دستی کو اپنی مثنوی کا موضوع بنایاہے۔
’عذاب ہمسائیگی‘ ہندوستان اور پاکستان کے رشتوں کے حوالے سے امن کی پہل بھی ہے اور دونوں متحارب اور متصادم ملکوں کومفاہمت کی دعوت دینے کی کوشش بھی:
چلوآؤ، بڑھاؤ ہاتھ تم اپنا/ہمارا ہاتھ حاضر ہے/بڑھو اک قدم،ہم دوقدم بڑھنے کو حاضر ہیں/نظر ہم سے ملاؤ، ہم گلے ملنے کو حاضر ہیں
فضا اعظمی نے گوکہ اس مثنوی میں ہندوستان کو ہدف بنایاہے اور تہذیبی،تاریخی سیاق و سباق سے انحراف پر نکتہ چینی کی ہے مگر پاکستان کی پالیسیوں پر بھی نکتہ چینی کی ہے:
ہمیں اقرار ہے، ہم میں بھی کچھ ایسے عناصر ہیں
جنونِ برتری جن کی رگ وپے میں سرایت ہے
جنونِ مذہبی اعصاب پر جن کے مسلّط ہے
مگر ہم نے کبھی اپنی زمامِ سلطنت سونپی نہیں ان کو
کبھی ہم نے انھیں حاوی نہیں ہونے دیا خود پر
کبھی بھی انتخابی مرحلوں سے وہ نہیں اُبھرے
کبھی بھی فوقیّت ان کو نہیں حاصل ہوئی ایوان و مجلس میں
فضا اعظمی نے کسی ایک خاص ملک کے شہری ہونے کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک امن پسند انسان ہونے کی حیثیت سے اپنا مدعا دونوں ملکوں کے اربابِ سیاست اور اہلِ دانش وبینش کے درمیان رکھاہے۔یہ ایک انسانی اظہار (Human Utterence)ہے۔ یہ اُس ہیومن کلچر کی وکالت ہے جو کائنات کو مربوط اور منظم رکھتاہے۔یہ دو ملکوں کے غیرمصالحانہ اور جارحانہ رویّے کے خلاف ایک انسانی ضمیر کی آواز ہے۔
’عذابِ ہمسائیگی‘ فضا اعظمی کے جذباتی تموج اور فکری طغیان کی ایک بہترین مثال ہے۔ اس میں امن کا ایک خواب نامہ ہے ۔اس مثنوی کا نام انھوں نے عذاب ہمسائیگی رکھاہے۔ خوابِ ہمسائیگی ہوتا تواس کی معنویت مختلف ہوتی کہ ہمسائیگی کے خواب، دکھ، درد، آنسو مشترک ہوتے ہیں۔ مگرالمیہ یہ ہے کہ ہمارے خواب ٹکڑوں میں بٹ گئے ہیں، اب صرف عذاب ہی مشترک ہے۔
فضا اعظمی نے اس کشمکش کو مثنوی کا مرکزی کردار بنایاہے جو دو ملکوں کے درمیان جاری ہے۔ یہ Conflictہی ان کی شاعری کا بنیادی او رمرکزی نقطہ ہے اور اسی کنفلکٹ کی وجہ سے برصغیر میں سیاسی بحران اور کرائسس ہے۔اعظمی صاحب نے برصغیر کو اسی بحران سے نجات دلانے کی تخلیقی سطح پر کوشش کی ہے۔ اب یہ اہلِ سیاست پر منحصر ہے کہ وہ ایک تخلیق کار کے ردعمل کو کس طور پر محسوس کرتے ہیں اور اس سے ان کے باطن میں ارتعاش پیدا ہوتا بھی ہے یا نہیں۔ دراصل اسی ارتعاش اور Vibrationکی کمی کی وجہ سے انسانی ذہنوں میں جنگ جاری رہتی ہے۔
ہندوستان اور پاکستان کے مابین ایک تصوراتی جنگ ہے۔ حقیقی جنگ کا خاتمہ ہوبھی جائے توتصوراتی جنگ کا خاتمہ مشکل ہے۔ دونوں ملکوں کے امن پسندوں کو چاہیے کہ حقیقی جنگ کے خلاف آواز بلند کرنے کے بجائے ذہنوں کے مابین جاری جنگ کے خاتمے پر زور دیں۔ اور میرا خیال ہے کہ فضا اعظمی نے اس مثنوی کے ذریعے اسی نظریاتی اور تصوراتی جنگ کے خاتمے اورامن کے قیام پر زور دیاہے۔
فضا اعظمی کی یہ مثنوی اتنہا پسندانہ مذہبی جنون اور سیاسی جارحیت کے خلاف ایک غیرمصالحانہ شاعری (Intransigeant Poetry) ہے۔ امن کے لیے یہ غیرمفاہمانہ رویہ، اپنے اندر ایک مثبت پہلو رکھتاہے کہ جارحیت پسندوں کے خلاف غیرمصالحانہ اور قدرے جارحانہ رویہ اختیار کرنا بھی ایک طرح سے جہاد ہے۔ اسے ہی شاید اعلاء کلمۂ حق عند سلطان جائر کہا جاتاہے۔
فضا اعظمی کی یہ مثنوی تمام تر شعری لوازمات (Poetic Paraphernalia) سے مزین ہے۔ اس میں رجزیہ آہنگ بھی ہے اور عنتری مرحبی لہجہ بھی۔ دیکھا جائے توصحیح معنوں میں فضا اعظمی کی مثنوی عذابِ ہمسائیگی بانگِ درا بھی ہے اور ضربِ کلیم بھی:
تمہارا دل بھی گھائل ہے، ہمارا دل بھی زخمی ہے
یہ ہم پر ہے اسے مرہم کریں یا پھر لہوکرلیں
سرتسلیم بھی ہے، پنجہ رزم ودغا بھی ہے
جو چاہو سر کو خم کرلیں جو چاہو دوبدو کرلیں
***
فہیم اعظمی
فہیم اعظمی میں پاکستان کی مجلاتی صحافت میں نہ صرف اپنے گہرے اثرات مرتب کئے ہیں بلکہ صریر نامی رسالے کے ذریعہ ادب کے نئے مباحث کا آغاز کیا اور ادبی جمود کو توڑا۔ نئے تجربے کئے ۔ فکشن میں بھی ان کا تجربہ جنم کنڈلی جیسے ناول کی شکل میں سامنے آیا جسے ا ینٹی ناول قرار دیا گیا ۔ کیونکہ اس میں علامتی تجربے کئے گئے اور ناول کی عمومی روش کے خلاف ایک نیا ٹکنیکی تجربہ کیا گیا۔ فہیم اعظمی ایک ناقد کی حیثیت سے شناخت رکھتے ہیں۔ ان کا مولد چما نوا ں اعظم گڑھ ہے اور مدفن کراچی۔ نجم الحسن رضوی
نجم الحسن رضوی انگریزی کے صحافی ہیں خلیج ٹائمز سے وابستہ مگر اردو فکشن میں بھی ان کا نام اعتبار کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ چشم تماشا ، ہاتھ بیچنے والے ان کے مشہور افسانوی مجموعے ہیں۔انھوں نے فکشن کو عصری مسائل اور حالات سے جوڑ کر فکشن کی معنویت کو اور مستحکم کیاہے۔ ان کے افسانوی اسلوب اور مواد کے حوالے سے ناقدین کی رائے بہت اچھی ہے۔
y
عصری صحافت میں بھی اعظم گڑھ سے تعلق رکھنے والے افرا د کی کثرت ہے جنہوں صحافت کو نئے نشانات دیے اور اس کے مجموعی اسلوب اور انداز کو بھی تبدیل کیا ہے۔ایسے صحافیوں میں محفوظ الرحمن ، ڈاکٹر ظفرالاسلام خان (ملی گزٹ انگریزی) کے نام نمایاں ہیں ۔
محفوظ الرحمن
ان کا شمار ان صحافیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اردو صحافت کو وژن(Vision)اور وزن عطا کیا، جنہوں نے آخری سانس تک قلم کی آبرو او ر آن کو قائم رکھااو راپنی تحریروں سے اس معاشرے کو بیدار کیا جو برسو ں سے ’آدھی نیند‘ میں تھا ۔وہ ایک ایسی شخصیت تھے جن کا باطن بیدار تھا اور جنہوں نے ہمیشہ صحافتی اخلاقیات Codes and Canons of Journalism کا پاس رکھا ۔ان کی قناعت پسندی ،ایثار ، خلوص او رمہر ووفا کو دیکھتے ہوئے ایسا محسو س ہوتا ہے کہ جیسے وہ ہمارے عہد میں صحافت کے خیالی کردارہوں جو داستانوں، ناولوں اور افسانوں میں تو مل جاتے ہیں مگر حقیقی زندگی میں چراغ رخ زیبا لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل پاتے۔ مادیت ،صارفیت اور بازاری معیشت کے اس دور میں مادی آسائش کی چھاؤں کے بجائے قناعت کی کڑی دھوپ میں جو شخص کھڑا نظر آئے، وہ آدمی نہیں، فرشتہ ہو گا اور یقیناًمحفوظ الرحمن میں وہ ساری خوبیاں تھیں جو انہیں سب سے مختلف اور ممتاز بناتی ہیں۔ جلال الدین اسلم نے بالکل صحیح لکھا ہے کہ ’’آج جب کہ شعبہ زندگی کو تاجرانہ سوچ نے پوری طرح مسخر کر رکھا ہے اور زرد صحافت لوگوں کی رگوں میں خون کی طرح رواں دواں ہے ،ایسے میں مشنری صحافت کا لرزہ براندام ہونا یقیناًتعجب وحیرت کی بات نہیں ۔ایسے طوفان بلا خیز حالات میں بھی آبروئے صحافت محفوظ الرحمن نے جنھیں مرحوم کہتے اور لکھتے کلیجہ منہ کو آتا ہے کبھی بھی اور کسی حال میں بھی پیشہ صحافت کی حرمت وتقدس پر آنچ نہیںآنے دی اور نہ ہی کسی بڑی شخصیت کے سامنے اپنے قلم کو سرنگوں ہونے دیا ۔‘‘
محفوظ الرحمن کی تحریروں سے ہمارے معاشرے میں ایک نیا تحرک اور ارتعاش پیدا ہوا اور ان کی معروضی اور غیر متعصبانہ طرز فکر سے ایک بڑا حلقہ متاثر ہوا۔ ان کی سیاسی تحریروں میں دانش و آگہی کی موجیں رواں تھیں۔جب کہ آج کے صحافی مطالعات اور تمرین ہائے بیانی کے باب میں نہات کوتاہ دست واقع ہو ئے ہیں ۔ معصو م مرادآبادی نے شاید اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’محفوظ الرحمن صاحب نے ایک ایسے وقت میں آنکھیں موندی ہیں جب وسیع تجربہ ،زبان دانی ،تحریر کے حسن اور تسلسل کے علاوہ مقصد سے وابستگی رکھنے والے صحافیوں کا اردو میں زبردست قحط پیدا ہوگیا ہے ۔آج اردو صحافت ذہن ،ضمیر اور زبان کے پیچیدہ مسائل سے دوچار ہے اور ان موذی امراض کا علاج ڈھونڈنے کی کوئی کوشش نہیں کی جارہی ہے۔‘‘
محفوظ الرحمن اردو صحافت کے قطب مینار تھے جو مسلم مجلس کے ترجمان روزنامہ ’قائد، لکھنؤ‘ اور جماعت اسلامی ہند کے اخبار ’دعوت، دہلی‘ کے چیف ایڈیٹر رہے، ہفت روزہ ’جمعہ‘ اور ’بادبانِ جدید‘ کے مدیر رہے، جن کی کئی کتابیں منظرعام پر آئیں، جن میں ’سرخ یلغار‘، ’کسان کا بیٹا سب کا دوست‘، ’معاہدہ عمرانی‘، ’بھٹو دوست یا دشمن‘ اور ’جدید سیاسی اصلاحات‘ اہم ہیں۔ انھوں نے پولینڈ کے سفارت خانہ میں بھی کام کیا اور سوویت انفارمیشن سینٹر کے اردو جریدہ ’سوویت جائزہ‘ سے وابستگی رہی اور مختلف اخبارات میں وہ کالم لکھتے رہے۔ روزنامہ ’راشٹریہ سہارا‘ میں ہفتہ وار کالم لکھتے تھے جو نہایت مقبول تھا اور ان کی سیاسی بصیرت اور شعور کا جیتا جاگتا ثبوت بھی۔اعظم گڑھ کے موضع نوناری سے ان کا تعلق تھا۔ 4 جنوری 1938 کو ان کی پیدائش ہوئی اور 6 فروری 2010 کو دہلی میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کی وفات سے اردو صحافت کو ناقابل تلافی نقصان ہوا جس کا اعتراف پوری صحافتی برادری کو ہے۔
محفوظ الرحمن کی بیشتر تحریریں ایسی ہیں جنھیں پڑھتے ہوئے ذہن کے بند دریچے کھل جاتے ہیں اور سماجی اور سیاسی شعور کو بھی روشنی ملتی ہے۔ ایسی منتخب تحریروں میں ’یہ رونا دھونا، یہ سینہ کوبی کب تک‘، ’دریوزہ گری کے سوا اور راستے بھی ہیں‘، ’کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں‘، ’یہ بازو مرے آزمائے ہوئے ہیں‘، ’مطالبات اور اپیلوں کا زنگ خوردہ آہنی حصار‘، ’سیاسی تنظیم ہی واحد راستہ ہے‘، ’مسلمانوں کی سیاسی جماعت: امکانات اور اندیشے‘، ’ضرورت نئے سیاسی تجربے کی‘، ’سول سروسز کے نتائج پر سینہ کوبی کب تک‘، ’دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ‘، ’یہ کالکھ چھوٹنے والی نہیں ہے‘، ’جوش کے بجائے ہوش سے کام لیجئے‘، ’گودھرا کے اسیران پوٹاکو انصاف کب ملے گا؟‘، ’خواتین کے لیے زریزرویشن تو مسلمانوں کے لیے کیوں نہیں؟‘، ’رنگ ناتھ مشرا کمیشن کا اچوک نسخہ‘، ’مذہب کی آزادی پر چور دروازے سے حملہ‘، ’دوسری شادی کے لیے اسلام کا سہارا‘، ’ذات پات، اسلام اور مسلم سماج‘، ’سارے دہشت گرد مسلمان نہیں ہیں‘، ’بول کہ سچ اب تک زندہ ہے‘، ’اپنے گریبان میں بھی جھانکئے‘، ’مسکراتی، گنگناتی صبح آپ کی منتظرہے‘، ’اب مسجدوں کے مینار بھی چبھنے لگے‘ اور آخری تحریر‘امریکہ میں اسلام اور مسلمانوں کی منفی شبیہ‘ جو ’راشٹریہ سہارا‘ 5فروری 2010 کے شمارے میں ان کی وفات سے صرف ایک دن قبل شائع ہوئی، اہم ہیں، یہ تمام مضامین ان کی ذہنی معروضیت کی شہادت دیتے ہیں۔
مرحوم محفوظ الرحمن کا صحافتی اسلوب نہایت عمدہ تھا۔ اس تعلق سے محمد عارف اقبال مدیر اردو بک ریویو، نئی دہلی نے بہت اچھی بات لکھی ہے کہ ’’ان کی تحریروں میں عامیانہ صحافتی رنگ ڈھونڈنے سے بھی دکھائی نہیں دیتا۔ ان کی ہر تحریر میں فکر و دانش کی جھلکیاں ملتی ہیں۔ وہ لفظ کا استعمال بہت سوچ سمجھ کر کرتے تھے۔ لہٰذا بعد کی تحریروں میں ان کی زبان ذرا سہل ہوگئی تھی کیونکہ نئی نسل کی دشواریوں کو وہ بخوبی محسوس کرتے تھے۔‘‘ ایک اقتباس سے اس کی تصدیق کی جاسکتی ہے ’’تحفظات ذہنی کے تیرۂ و تار اندھیروں میں سچائی کے چمکتے دمکتے موتی تلاش کرنے والے حوصلہ مند لوگوں کو اکثر و بیشتر اغیار سے کہیں زیادہ اپنوں کے سنگ ملامت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بنی بنائی لیک سے ہٹ کر چلنے، بنے بنائے پیمانوں سے الگ ہٹ کر نئے پیمانے تراشنے یا تلاش کرنے کی سزا انھیں بیشتر حالات میں ان کے پاؤں کے نیچے کی سخت زمین کھینچ کردی جاتی ہے۔ انھیں بے دست و پا بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے تاکہ انھیں دیکھ کر دوسرے عبرت حاصل کریں۔ لیکن سچائی ہے کہ اپنے آپ کو منوا کر ہی رہتی ہے۔ کل بھی یہی ہورہا ہے اور کل بھی یہی کچھ ہوگا۔ نہ سچ کو پابند زنجیر کیا جاسکے گا، نہ سچائی کی راہ میں کوئی ایسی دیوار کھڑی کی جاسکے گی جو ناقابل عبور ہو۔‘‘
محفوظ الرحمن ایک بلند اور باکردار صحافی تھے۔ آج جب کہ ہر شعبۂ حیات میں بونوں کو بلندی عطا کرنے کی روش اور رسم چل پڑی ہے، تو ایسے میں محفوظ الرحمن جیسے بلند قامت صحافی کی اہمیت اور عظمت دلوں پر اور نقش ہوجاتی ہے کہ انھوں نے واقعتا اپنی خاکساری اور کسرنفسی سے اردو صحافت کو بلندی عطا کی جبکہ آج باستثنائے چند بیشتر صحافی میگلومینیا (خبطِ عظمت) کے مریض ہیں۔ اظہرندوی مرحوم نے ان کی قلندری کے تعلق سے صحیح لکھا ہے کہ ’’محفوظ صاحب قلندرانہ مزاج رکھتے تھے اور انھوں نے کبھی مال و دولت یا جاہ و منصب کے حصول کی کوشش نہیں کی۔ ایک صحافی کی حیثیت سے ان کے سامنے جتنے مواقع آئے اتنے شاید ہی اردو کے کسی صحافی کے سامنے آئے ہوں اور کوئی دوسرا ہوتا تو ان مواقع سے فائدہ اٹھاکر کروڑوں روپے کماسکتا تھا لیکن ان کی قلندری نے کبھی اس طرف تاکنے کی بھی زحمت گوارا نہیں کی اور پوری زندگی بڑی حد تک فاقہ مستی ہی میں گزار دی۔‘‘
ڈاکٹر ظفرالاسلام خان
ان کا شمار ان دانشوروں اور صحافیوں میں ہوتا ہے جو مسلمانوں کے مسائل پر نہایت سنجیدگی اور معروضیت کے ساتھ سوچتے ہیں۔ یہ عربی ، انگریزی اور اردو کی بہت سے کتابوں کے مصنف اور مترجم بھی ہیں ۔ عربی کے مقتدر مجلات میں ان کے مضامین اہتمام سے چھپتے ہیں۔ ان کا اخبار ملی گزٹ انگریزی میں شاید پہلا اخبار ہے جو عالم اسلام بالخصوص ہندوستانی اقلیت کے مسائل کے لئے وقف ہے۔ جنوری 2000میں اس پندرہ روزہ انگریزی اخبار کا آغاز ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے مسلمانوں کی مو ثر آواز اور ترجمان میں تبدیل ہو گیا۔ اس کے لکھنے والوں میں ہندوستان کے وہ مشاہیر شامل ہیں جن کی سوچ نہات مثبت ہے اور جو مسائل کے تمام زاویوں پر گہری نگاہ رکھتے ہیں ۔یہ ہندوستان کے کروڑوں مسلمانوں کا واحد انگریزی اخبار ہے جسے دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ جیسے معارف کے مدیر شاہ معین الدین احمد ندوی کے خوابوں کو تعبیر مل گئی ہو۔ لا شعوری طور پر شا یدیہ ان کے آرزو کی تکمیل ہے۔ انھوں نے دارالمصنفین اعظم گڑھ کے علمی رسالے معار ف کے شدرات میں لکھا تھا کہ :
’’آج دنیا میں سب بڑی قوت پریس کی ہے اس کے بغیر کوئی آواز موثر نہیں ہو سکتی اور ہندوستان کے مسلمانوں کا کوئی انگریزی اخبا ر نہیں ہے۔ اردو کے اخبارا ت کی کوئی آواز نہیں ۔ ان کی آواز ہندوستا ن کے بڑے طبقے تک نہیں پہنچتی ۔ بیرونی دنیا کا تو کوئی سوال ہی نہیں ہے جو سب سے زیادہ ضروری اور موثر چیز ہے۔ ‘‘انھوں نے 1952میں جمیعۃ علماء ہند کی طرف سے نکلنے والے پندرہ روزہ انگریزی اخبار Messageکا حوالہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ ہندوستا ن کے 4کروڑ مسلمانوں کے لئے ایک انگریزی اخبار کا چلانا کیا مشکل ہے۔ وہ اپنی شکایتوں کے لئے زبانی شو رو غوغا تو بہت کرتے ہیں مگر ان کے ازالے کی صحیح تدبیر اختیار نہیں کرتے۔ اگر وہ صرف اتنا کریں کہ پیسہ خرچ کر کے انگریزی کے زہریلے فرقہ پرست اخبارات کی گالیاں سننے کے بجائے Messageکے خریدار بن جائیں تو کسی اور امداد کے بغیر وہ آسانی سے روزآنہ بن سکتا ہے۔ ‘‘
ڈاکٹر ظفر الاسلام نے ایک بڑا اچھا کام کیا جو ملی گزٹ نکال کر مسلمانوں کی بے زبانی کو زبا ن عطا کی۔ ملی گزٹ کا آن لائن ایڈیشن ہے جس سے اسکا دائرہ ہندوستان سے باہر تک پھیلاہواہے۔ ڈاکٹر ظفرالاسلام خاں مولانا م وحید الدین خان کے فرزند ہیں ۔ مدرسۃ الاصلاح سرائے میر اور ندوۃ العلماء لکھنؤ کے علاوہ انھوں نے ازہر یونیور سٹی مصر سے بھی فیض حاصل کیا ہے انھوں نے مانسچسٹڑ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لی ہے۔ وہ اس وقت سیاسی تنظیم سے بھی وابستہ ہیں مگران کی بنیادی پہنچان ایک دانشور اور صحافی کے طور پر ہے۔
y
اعظم گڑھ نے جہاں قدیم علوم و فنون کا تحفظ کیا اور اپنے تہذیبی ورثے اور روایت سے اپنا رشتہ مستحکم رکھا ۔ وہیں یہ سر زمین نئے نظریات کی تولید اور تخلیق میں بھی بہت آگے رہی ہے۔ بہت سے مسلمات کو یہاں کے ذہین دانشوروں نے مسترد کیا ہے اور اپنی تحقیق اور تفحص سے نئے نظریات قائم کئے ہیں۔ تحریم ربا کا مسئلہ ہو یا رجم کا یہاں کے بعض دانشوروں نے اپنے نظریات سے ایک بڑے طبقے کو مشتعل بھی کیا ہے مگر نئے زاویوں کی جستجو اور تحقیق و تفتیش میں غیر مقلدانہ طرز عمل میں اعظم گڑھ کو امتیاز عطا کیاہے۔ ایسی شخصیات میں علامہ اقبال سہیل اور مولانا وحید الدین خان کے نام لئے جا سکتے ہیں جن کی تصنیفات ، بہت سے نزاعات کا محور بنیں ۔
مولانا اقبال حمد سہیل
اقبال سہیل کا شمار اعظم گڑھ کی ان شخصیتوں میں ہوتا ہے جن سے اس سر زمین کو ایک نئی پہچان ملی۔ وہ متنوع شخصیت کے حامل تھے۔ شعر و ادب کے علاوہ دیگر مسائل و موضوعات پر بھی ان کی گہر ی نظر تھی۔ انھوں نے ایک نہایت متنازعہ فیہ کتاب لکھی تھی جو 1936میں ’’ حقیقت الربا‘‘ کے نام سے علی گڑھ سے شائع ہوئی تھی۔ مولانا شبلی نعمانی اور علامہ حمید الدین فراہی کے شاگرد رشید اور مشہور شاعر ’مجاہد آزادی ‘ قانون داں کی اس کتاب کا دو سرا ایڈیشن ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں کی تحقیق و تخریج کے ساتھ 1999میں شائع ہوا ہے اور اس کتاب کا عربی اور انگریزی میں تر جمہ بھی شائع ہو چکا ہے۔
یہ کتاب مسئلہ سود پر ہے اور بقول مولانا طفیل احمد مصنف ’’ مسلمانوں کا روشن مستقبل‘‘ مسئلہ سود پر سب سے جامع اور مکمل کتا ب ہے۔ اس کتاب میں مصنف کا بنیادی نقطہ نظر یہ ہے کہ ’’ ادلہ اربعہ‘‘ سے ربا کے مفہوم کچھ اس طرح کھو گیا ہے کہ ربا کی حت اور حرمت پر بحث کا ایک لا متناہی سلسلہ چل پڑا ہے۔ مولانا اقبال سہیل نے اسی مسئلہ کا تفصیل سے جائزہ لیتے ہوئے مسلمانوں کے معاشی منظر نامہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ فقہاء نے ربا کو بیع مرا ملت (Barter)اور بیع صرف (Exchange) سے خلط ملط کر دیا ہے ۔ جب کہ اس کا تعلق صرف بیع سلف (نسیہ) یعنی ادھار سے ہے۔ مصنف نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ربا شرعی اور سود مروجہ باہم مترادف نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عام طور پر اسلامی ہند میں سود کو ربا کا مترادف خیال کیا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ تمام سودی کا روبار کو خواہ ان کی نوعیت کچھ بھی ہو، اہل اسلام عموما حرام سمجھتے ہیں جب کہ ایسا نہیں ہے۔ ’’ ربا‘‘ کی کوئی تحدید و تشریح نہیں کی گئی ہے۔ فقہاء نے اپنے اپنے طور پر اس کی تعریف بیان کی ہے اور اس کے مختلف اقسام پر بحث بھی کی ہے مگر فقہاء بھی کسی واضح مفہوم تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔
مولانا نے ربا کی حقیقت بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ۔
’’ لغتاً ربا کے معنی زیادتی یا اضافہ کے ہیں لیکن یہ مسلم ہے کہ مطلق زیادتی یا اضافہ وہ ربا نہیں ہے جو شر عا حرام ہے چنانچہ قرآن کریم کی وہ آیات جو حرمت ربا کی نسبت نا زل ہوئی ہیں ان میں ہر جگہ لفظ ربا ’’الربوا‘‘ یعنی الف لام کے ساتھ مستحمل ہوا ہے اور یہ بھی مسلم ہے کہ الف لام استغراق کا نہیں ہے ورنہ اضافہ مالی کی ہر صورت مثلاً نفع تجارت بھی حرام ہوتی اس لئے الف الا م عہد ذہنی ہے اور کوئی خاص قسم کا اضافہ مراد ہے جو شرعا حرام کیا گیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ خاص قسم کیا ہے؟ کلام الٰہی میں کہیں بھی اس خاص قسم کے اضافہ کی صراحت یا لفظ ربا کی تعریف بہ الفاظ صریح و ارد نہیں ہے۔
مولانا نے حسب نصوص شرعیہ ربا کی منطقی تعریف کی ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ دور حاضر کے کن معاملات پر لفظ ربا کا اطلاق ہو سکتا ہے اور یہ بھی بتا یا ہے کہ شریعت نے حرمت ربا کو کن شرائط کے ساتھ مشروط کیا ہے اور ہندوستان میں شرائط پائے جاتے ہیں یا نہیں ؟
ربا کی تمام جزئیات کاجائزہ لیتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ حرمت ربا کا حکم دارالاسلام سے مشروط ہے اور سوچنے کی بات یہ ہے کہ حضور کے 23سالہ عہد رسالت میں یہ حکم سب سے آخر میں اس وقت نازل ہوا جب کہ مکہ فتح ہو چکا تھا اور اسلام کی حکومت عرب میں با لا ستقلال قائم ہو چکی تھی اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ربا کی حرمت دارالاسلام سے مشروط ہے۔
مولانا وحید الدین خاں
Dynamism of Expression(اظہار کی حرکیت) مولانا وحید الدین خاں کی وہ خوبی ہے جو انہیں عہد حاضر کے اسلامی دانشوروں اور مفکر وں سے ممتاز کرتی ہے۔ گلوبلائزیشن جس طرزاظہار اور احساس کا تقاضا کرتا ہے اس کی تکمیل مولانا وحید الدین خاں کی تحریروں سے ہوتی ہے۔ انھوں نے عصری اسلوب میں اسلامی تعلیمات کو اس طرح پیش کیا ہے کہ علم و دانش کی ایک نئی کائنات ذہنوں میں روشن ہو جاتی ہے۔ایسوپ کی طرح ان کے جملے مختصر اور معنی خیز ہوتے ہیں جس میں آگہی کا دریا موجیں مارتا رہتا ہے۔ فکر ی سطح پر ان کے یہاں جو معروضیت،منطقیت اورحقیقت پسندی ملتی ہے وہ بہت کم تحریروں میں نظر آتی ہے ۔ انھوں نے فکری تشدد اور نظری جارحیت سے گریز کر کے افہام وتفہیم کی روش اختیار کی ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے قائین کا حلقہ بہت وسیع ہے خاص طور پر اسلامی تعلیمات پر طنز و تشینع کرنے والے بھی ان کی تحریروں کے گرویدہ نظر آتے ہیں۔ ان کی کسی تحریر میں نہ مذہبی نرگسیت ہے اور نہ ادعائیت اور نہ ہی اس طرح کی فکری شدت پسندی جس کی وجہ سے اسلام سے منحرف دانشوروں اور اسلام مخالف مصنفوں کو اسلامی فاشزم کی اصطلاح وضع کرنی پڑتی ہے۔ ان کی تحریروں میں تفقہ ، تدبر اور تفکر کے عناصر ہیں، انھوں نے ایسی تحریروں سے مکمل طور پر اجتناب کیا ہے جو انسانی ذہن ضمیر، اور روح کو مضمحلیا بیمار کردیتی ہیں۔ مولانا وحیدا لدین خاں نے اس محبوس اور محصور ذہنیت (Ghetto mentality)کے خلاف بھی مجاہدہ کیا ہے جو عالمی سطح پر مسلمانوں کی شناخت بنا دی گئی ہے۔ مولانا کا دائرہ فکر بہت وسیع ہے۔ انگریزی عربی جیسی زبانوں پر درک کامل حاصل ہے اس لئے ان کی سوچ کا منہج عام علماء سے مختلف ہے اور اس قدر مختلف کہ بہت سے علماء ان کی زد افروزی سے خائف نظر آتے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ آج اسلامی تعلیمات کی ترویج کے لئے جس اسلوب فکر اور طرز اظہار کی ضرورت ہے، وہ مولانا وحید الدین خاں کی تحریروں میں نمایاں ہے۔ ان کا علمی اسلوب قاری کو متاثر کرتا ہے۔
انھوں نے روایتی اسلوب سے الگ نیا اسلوب وضع کیا ہے ۔ ان کی منطق یہ ہے کہ قدیم روایتی اسلوب جدید سائنسی ذہن کو ایڈریس کرنے میں نا کام رہا ہے ۔ مولانا وحید الدین خان بعد سائنسی دور(Post Scientific era)کے مطالبات اور چیلنجیز سے آگاہ تھے اسی لئے انہوں نے اسلامی تعلیمات کو عصری اسلوب میں پیش کیا۔ انگریزی ،عربی میں ان کی سیکڑوں کتابیں شائع ہو چکی ہیں ۔ تذکیرالقران ان کی ایک اہم کتاب ہے۔ مولانا وحیدالدین خان بہت دنوں تک الجمیعۃ کے مدیر رہے۔ اور پھر ماہنامہ الرسالہ نکالا جواب تک شائع ہو رہا ہے ۔ ان کا تعلق اعظم گڑھ کے موضع بدہریا سے ہے۔ انہیں نے مدرسۃ الاصلاح سرائے میر سے فیض حاصل کیا ۔ اس کے بعد گریجویشن کیا۔
y
نئی نسل نے بھی اعظم گڑھ کے تہذ یبی ورثے کی توسیع اور تخلیقی تسلسل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ جو افراد تخلیقی ، تنقیدی اور تحقیقی سطح پر متحرک ہیں۔ان میں الیا س الاعظمی ، احمد علی برقی اعظمی، انوار الوفا اعظمی، جگدمبا دوبے، سعید اختر اعظمی، نیاز جیراجپوری، سرفراز نواز، سالم سلیم اورمعروف مصور شاہد اعظمی وغیرہ کے نام اہم ہیں۔ اور بھی نام ہوں گے مگر ان کی جستجو محال ہے کہ نہ تو ایسی کوئی ڈائرکٹری ہے اور نہ ہی ہر کے بایوڈاٹا پر نگاہ رکھنا آسان ہے۔ یوں بھی اب ناموں سے ضلعی نسبتیں معدوم ہونے لگی ہیں۔ اس لئے یہ کام تو واقعتا دقت طلب ہے ۔مگر اب بھی کچھ ایسے افراد ہیں جن کے لاحقہ سے وطن کا پتہ مل جاتا ہے۔ سعید اختر اعظمی بھی ایسا ہی ایک نام ہے جو بہت سے ذہنوں میں ادبی ذوق و شوق اور لگن کی وجہ سے نقش ہے۔ تبصراتی مضامین سے سعید اختر نے ہندوستان گیر سطح پر اپنی پہچان بنا لی ہے۔اردو بک ریویو نئی دہلی میں ان کے تبصرے اب قارئین کے ذہن کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔نہایت محنتی متجسس اور ادب کے معاملات میں مضطرب سعید اختر اعظمی کی معلومات فزا مضامین کی کتا ب ’’تلاش‘‘ شائع ہو چکی ہے۔جو بقول ڈاکٹر فیروز دہلوی اپنی نوعیت کے اعتبار سے انسائیکلو پیڈیائی نوشتے ہیں جن سے بچے ہی نہیں بڑے بھی بھر پور استفادہ کر سکتے ہیں۔ انداز بیان دلچسپ ہے۔ ان مضامین میں موضوع سے متعلق معلومات کے ساتھ ساتھ کچھ باتیں ایسی بھی شامل کی گئی ہیں جن کا متن کے ساتھ براہ راست تعلق نہیں ہے مگر وہ معلومات عامہ کا ایک حصہ ہیں۔(اردو بک ریویو، اپریل ، مئی 2010)
Email: haqqanialqasmi@gmail.com
Cell: 9873747593

بنارس کی تخلیقی صبح

حقانی القاسمی
شہر بنارس مابعد الطبیعاتی شعور کا ایک حصہ بن چکا ہے۔ تقدیسی مرکزیت نے اسے روحانی وجود کا روشن محور بنادیا ہے۔ یہ شہر مشرق کی ایک بڑی آبادی کے رگ وپے میں شامل ہے۔ نجات دیدہ و دل کا شہر، عرفان و آگہی کے نور سے اتنا سرشار تھا کہ غالب نے بھی اس کی مرجعیت کو محسوس کیا۔ یہ ایک مقدس شہر ہے جسے ہندو کاسمولوجی میں قلب ارض یا مرکز زمین کا شرف حاصل ہے۔ ساحل گنگا پہ واقع یہ سرزمین روشنیوں کا شہر کہلاتی ہے۔
شیو کا بسایا ہوا پانچ ہزار سال پرانا یہ وہ شہر ہے جس کا ذکر ہندوؤں کے مقدس صحیفوں رگ وید، اسکند پران، رامائن اور مہا بھارت میں بھی ہے۔ شاد عباسی نے نبی احمد سندیلوی کی کتاب مرقع بنارس کے حوالے سے لکھا ہے کہ ایک انگریز کا خیال ہے کہ اگر یہ معلوم ہو جائے کہ بنارس کب آباد ہوا تھا تو ہمالیہ پہاڑ کے عالم وجود میں آنے کا زمانہ معلوم کرنا آسان ہو گا اور یہ بھی کہ ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ طوفان نوح میں اس شہر کو وشو ناتھ جی نے اپنے ترشول پر اٹھا لیا تھا اور جب قیامت آئے گی تو یہ شہر محفوظ رہے گا۔
سات مقدس شہروں میں سے ایک شہر بنارس شیو کا شاہی محل تھا جس کے کئی نام ہیں۔ اوی مکتک، آنندکنن، مہاس مسن، سرن دھن، سدرسن، برہما وردھ۔ اس کے ہر نام میں ایک مذہبی رمزیت اور اسطوری معنویت ہے۔
وارانسی میں بھی ایک رمزہے، رمزاتصال کہ یہ دو دریاؤں ورن اور اسی کا سنگم ہے۔ اور صرف دریاؤں نہیں بلکہ دو دھاراؤں شیو ازم اور وشنو ازم کا بھی امتزاج ہے۔ مذہبی لسانی امتزاجیت کا مظہر یہ شہر ہندوؤں کے لئے ہی نہیں، جین اور بودھ دھرم کے ماننے والوں کے لئے بھی مقدس ہے کہ بودھ ازم کا نقطہ آغاز یہی مقام ہے۔ گوتم بدھ نے پہلا خطاب یہیں سارناتھ میں کیا تھا اور یہ بودھ کی چار زیارت گاہوں (کشی نگر، بودھ گیا، لمبنی، سارناتھ ) میں سے ایک ہے۔ سپر شیو ناتھ، شرینسناتھ، اور پرشوناتھ کی جنم بھومی ہونے کی وجہ سے جین دھرم ماننے والوں کی نگاہوں میں بھی یہ متبرک مقام ہے۔
وشوناتھ مندر کے اس شہر میں ڈھائی کنگورہ کی قدیم مسجد، عالم گیری گیان واپی مسجدیں بھی ہیں۔
کبیر، روی داس، سوامی رامانند، تریلنگا سوامی جیسے صوفی سنتوں کی اس سرزمین پر علوم و فنون اور ادب و آرٹ کی تمام دیویاں مہر بان رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسے فنون لطیفہ کے مرکز کی حیثیت حاصل ہے۔ رائے کرشن داس، روی شنکر، گرجا دیوی، سدھیشوری دیوی، نینا دیوی، کشن مہاراج، بسم اﷲ خاں اور وہ کتھک ڈانسر ستارہ دیوی نرتیہ سم راگنی جس کے رقص پہ کائنات بھی ایک لمحے کے لئے ٹھہر جاتی ہے ۔
اسطوری اور استعاراتی گھاٹوں کا شہر بنارس شکتی پیٹھ بھی ہے یہاں گنگا میں نہانے سے گناہ دھل جاتے ہیں اور روح کو تسکین ملتی ہے یہ ہندوؤں کا شہر نجات ہے۔ کے کے کھلر نے لکھا ہے کہ ’’اپنی طویل نظم لائٹ آف ایشیا‘‘ میں آرنالڈ کہتا ہے کہ ہندوؤں کے نزدیک بنارس کی وہی اہمیت ہے جو یہودیوں کے نزدیک یروشلم اور مسلمانوں کے لیے مکہ مدینہ کی (دائمی گنگا غیر ملکی سیاحوں کی نظر میں‘ ہندوستانی تناظر نئی دہلی، اپریل2002)
روشنی کا شہر ہے کاشی جہاں بارہ جیوتی لنگوں میں سے ایک جیوتی لنگ ہے، جس کا انعکاس مختلف شکلوں میں ہوا ہے کبھی یہ جیوتی تلسی داس کے رام چرت مانس کی صورت میں سامنے آئی ہے تو کبھی ان پانڈولیپیوں کی شکل میں جن میں حکمت و دانش کا خزانہ عامرہ ہے۔ سنسکرت کا ایک ایسا مرجع و مرکز کہ جہاں ابو ریحان البیرونی نے اس زبان کے رموز و نکات سیکھے۔ ہندوستانی علوم سے آگہی حاصل کی۔ فیضی نے بھی یہیں سے فیض پایا اور اپنے لسانی دائرے کو وسعت بخشی۔
پریم چند، منو سمرتی کے مفسر کلوکا بھٹ،بھار تیندو ہرش چندر، جے شنکر پرشاد،اچاریہ شکلا، ہزاری پرساد دیویدی، دیویکی نندن کھتری کی تخلیقی عظمتوں سے یہاں کی صبح درخشاں ہے۔
یہی وہ سرزمین ہے جس کی دامن گیر مٹی سے للا پورہ فاطمان میں مدفون شیخ علی حزیں کی مودت اتنی بڑھ گئی کہ انہوں نے اپنی عقیدت کا اس طرح اظہار کیا :
از بنارس نروم معبد عام است اینجا
ہر برہمن پسرے لچھمن و رام است اینجا
اور یہی وہ ’’فردوس معمور‘’ ہے جس کے تقدس کا چراغ غالب نے دلوں میں یوں روشن کردیا :
تعالی اللہ بنارس چشم بد دور
بہشت خرم و فردوس معمور
اسی سرزمین میں منڈواڈیہہ میں شاہ طیب بنارسی کا مزار، خانقاہ شریعت آباد اور سارناتھ کے بودھی کھنڈرات میں روحانیت کی قندیلیں روشن ہیں۔ اور اسی شہر کے بارے میں Mark Twain نے کہا تھا :
older than history ‘older than tradition ‘older even than legend
عظیم ہندوستانی رزمیہ مہابھارت کے خالق وید ویاس نے کچھ دنوں کے لئے یہیں کے رام نگر قلعہ میں قیام کیا تھا۔جسے کاشی نریش مہاراجہ بلونت سنگھ نے اٹھارویں صدی میں تعمیر کروایا تھا۔ اسی قلعے کے سرسوتی بھون میں نادر اور بیش بہا مخطوطات بھی ہیں خاص طور پر تلسی داس کے ہاتھ کی لکھی ہوئی پانڈولیپی یہاں محفوظ ہے۔
یہ دانش گاہوں کا بھی شہر ہے کہ یہیں بنارس ہندو یونیورسٹی ہے جس کی تاسیس ۶۱۹۱ میں مدن موہن مالویہ نے کی تھی، جس میں اردو کے پہلے لکچرر مرزا محمد حسن فائز بنارسی تھے۔ اس کے عربی، فارسی، اردو کے شعبوں سے خطوط غالب کے مرتب مولوی مہیش پرساد، پروفیسر بدر الحسن عابدی، حکم چند نیر، نسیمہ فاروقی، حنیف نقوی جیسی شخصیتیں وابستہ رہی ہیں۔ سمپورنانند سنسکرت یونیورسٹی ہے جسے گورنر جنرل لارڈکارن ویلس نے ۱۹۷۱ میں قائم کیا تھا۔ مہاتما گاندھی کاشی ودیا پیٹھ بھی یہاں کا مشہور ادارہ ہے اسکے علاوہ جامعہ سلفیہ ریوڑی تالاب، جامعہ اسلامیہ ریوڑی تالاب، جامعہ مظہر العلوم پیلی کوٹھی، مدرسہ مطلع العلوم کمن گڈھا، جامعہ فاروقیہ، جوادیہ، ایمانیہ وہاں کے مشہور دینی ادارے ہیں۔ فلسفہ، سنسکرت، نجوم کی تعلیم کے لئے یہاں تشنگان علوم کا قافلہ آتا تھا اسی لئے یہ شہر سرو ودیا کی راجدھانی بھی کہلاتا تھا۔ عرب سے ابومعشر فلکی بھی ہےئت و نجوم اور سنسکرت سیکھنے کے لئے یہاں آئے۔ مولوی مہیش پرساد، امرت لال عشرت اور حکم چند نیر جیسی شخصیتوں کے شہر میں اردو کی شمع روشن تھی جس کے پروانوں میں نظیر اکبر آبادی کے شاگرد راجہ بلوان تھے، فارسی اور اردو کے قادر الکلام شاعر، ونائک پرشاد طالب بنارسی، اردو تہذیب کی یہ وہ روشن علامتیں تھیں جہاں لسانی تفریق کی ساری منطقیں دم توڑ دیتی تھیں۔ ذہنوں میں زبانوں کی تقسیم نہیں تھی اور نہ ہی زبانیں مذہب سے مشروط تھیں۔
موضع مڑھوا لمہی متصل پانڈے پور کے پریم چند کا تعلق بھی ہندی ساہتیہ کے مرکز بنارس سے تھا مگر ان کی ذہنی مناسبت اردو سے زیادہ تھی جس کا اظہار انہوں نے مدراس میں منعقدہ ہندی پرچار سبھا کے چوتھے سالانہ اجلاس مورخہ ۹۲ نومبر ۴۳۹۱ میں کیا تھا :
’’۔۔نہ میں نے ہندی ادب پڑھا ہے اور نہ اس کا اتہاس نہ اس کی رفتار ترقی کے بارے میں جانتا ہوں۔ ۔میری ساری زندگی اردو کی خدمت کرتے گزری ہے اور آج بھی میں جتنی اردو لکھتا ہوں اتنی ہندی نہیں لکھتا۔ اور کائستھ ہونے اور بچپن سے فارسی کی مشق کرنے کے باعث اردو میرے لئے جتنی فطری ہے اتنی ہندی نہیں ‘‘ صفدر آہ مرحوم کے مضمون سے بھی کچھ ایسا ہی اندازہ ہوتا ہے :
’’پریم چند اول سے آخر تک صرف اردو کے ادیب رہے۔ اردو کے علاوہ کوئی دوسری زبان ادیب کی طرح نہیں لکھ سکتے تھے۔ اقتصادی ضروریات اور ماحول کے اثرات سے انہوں نے ہندی سیکھی۔ لیکن ان کی ہندی ہمیشہ ناقص رہی۔ بہت دن ہوئے ان کے ہاتھ کا لکھا ہوا ایک ناگری مسودہ میں نے بنارس میں دیکھا تھا۔ حیرت ہوتی ہے کہ اس مسودے میں املے کی غلطیاں موجود تھیں۔ وہ بہت سے بہت ہندی کے ایک خواندہ آدمی تھے ادیب وہ صرف اردو کے تھے ‘’(بحوالہ مانک ٹالا، پریم چند کا سیکولر کردار اور دیگر مضامین ص۰۳)
اردو فکشن کے بنیاد گزار یہ وہی پریم چند تھے جنہوں نے نبی کا نیتی نرواہ جیسا افسانہ اور اسلامی تہذیب جیسا مضمون لکھا۔ اور ببانگ دہل یہ بھی لکھا کہ ’’یہ بالکل غلط ہے کہ اسلام تلوار کی طاقت سے پھیلا۔ تلوار کی طاقت سے کوئی مذہب نہیں پھیلتا۔ بھارت میں اسلام پھیلنے کی وجہ اونچی جاتیوں کے ہندؤوں کا نیچی جاتی کے ہندؤوں پر مظالم تھے۔ ‘‘
پریم چند کے بہت بعد اردو فکشن کو بنارس کا ایک گوہر ملا۔ علیم مسرور جن کے ناول ’بہت دیر کر دی‘ پر طوائف نامی فلم بھی بنی مگر ہندی فکشن میں بہت سے نام تھے، دویدی اور جے شنکر جیسی شخصیتیں بھی تھیں۔
ہزاری پرساد دویدی
بنارس کی ثقافت کی ایک روشن علامت ہزاری پرساد دویدی بھی تھے جن کی جنم بھومی تو بلیا کا گاؤں اوجھولیا ہے مگر انہیں گیان کی روشنی کاشی سے ملی ہے۔ کاشی ہندو وشوودیالیہ سے سنسکرت اور جیوتش کی تعلیم حاصل کی۔ وہ ایک کثیر الجہات ادیب تھے جنہوں نے تنقید، تخلیق اور تحقیق کو وسعتوں کے نئے آسماں عطا کئے ہیں۔ کبیر اور سور ساہتیہ جیسی کتابیں لکھنے والا معمولی فہم و ادراک کا انسان نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے تاریخی ثقافت کو بنیاد بناکر بان بھٹ کی آتم کتھا، چارو چند لیکھ، پنروا، انام داس کا پوتھا جیسے ناول لکھے جس میں تاریخ کے کئی اہم ادوار اور تہذیبی نقوش محفوظ ہو گئے ہیں۔ دویدی جی کا ایک اہم کام ہے کبیر کا نئی نظر، نظریے سے مطالعہ اور کبیر کی ایک نئی شخصیت کا اکتشاف۔ اس تعلق سے وشوناتھ پرساد تواری لکھتے ہیں :
’’دویدی جی پہلی بار کبیر کی شخصیت کو ان کی شاعری کو ان کی زبان کو اور ان کے طنزو مزاح کو سامنے لائے اور انہیں ہندی ادب میں نمایاں کیا کہ وہ آج کے نئے سے نئے شاعر کے بھی آدرش بنے ہوئے ہیں۔ کبیر کے انقلابی روپ کو سب سے پہلے ہزاری پرساد دویدی نے ہی پہچانا۔ یہ کبیر لٹریچر کو ان کی دین ہے ‘‘(وشوناتھ پرساد تواری، ہزاری پرساد دویدی مترجم ایس اے رحمن مطبوعہ ساہتیہ اکیڈمی نئی دہلی )
اس کے علاوہ تلسی داس، کالی داس، رویندر ناتھ ٹھاکر پر ان کا تنقیدی کام مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ سور داس کی رادھا کا تجزیہ بھی انہوں نے نئے زاوئے سے کیا ہے تواری جی کے بقول ’’دویدی جی نے جے دیو، ودیاپتی اور چنڈی داس کی رادھا کے ساتھ سور داس کی رادھا کو رکھ کر عشق و محبت کا تجزیہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ہندوستان کے کسی بھی شاعر نے رادھا کا تذکرہ اتنی تفصیل سے نہیں کیا ہے عالمی ادب میں سور کی رادھا جیسی محبوبہ نہیں ہے۔ دویدی جی کے ہی لفظوں میں : ’’سور ساگر کی دو تصویریں عالمی ادب میں بے مثل ہیں۔ ۔۔یشودھا اور رادھا۔ یشودھا کی شخصیت میں وہ سب کچھ ہے جو ماں لفظ کو با عظمت بنائے ہوئے ہے رادھا کے کردار میں محبت کے سب ہی روپ نہاں ہیں ‘‘(ہزاری پرساد دویدی ص ۳۸۔۴۸)۔
جے شنکر پرساد
غیر معمولی ذہانت اور عبقری صفات کے حامل جے شنکر پرساد (۹۸۸۱۔۷۳۹۱) کا تعلق بھی بنارس کے ’’سنگھنی ساہو ‘’خاندان سے تھا۔ انہوں نے ہندی کو چھایا واد کی حسیت سے متعارف کرایا۔ آنند واد ان کا مخصوص فلسفہ حیات تھا۔ نشاط فی الوجود کے اس طرز فکر کے حوالے سے رمیش چندر شاہ نے لکھا ہے کہ ’’پرساد کی زندگی المناک واقعات سے پر تھی۔ وہ المیہ سے ہی شروع ہوئی اور المیہ پر ہی ختم ہو گئی۔ جب وہ اپنی تخلیقی قوتوں کی معراج پر تھے تو ایک مہلک مرض نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا اور انہوں نے راضی برضا ہو کر خود کو اس کے حوالے کر دیا اور علاج کی غرض سے کسی سینی ٹوریم میں جانے کے لئے اپنے محبوب وطن کاشی کو چھوڑنا گوارہ نہ کیا۔ جب ہم اس شاعر کی پر آلام زندگی کے بارے میں غور کرتے ہیں تو کیٹس کے بارے میں ایٹس کا یہ قول ہمارے دماغ میں گونجنے لگتا ہے ’’اس کا فن نشاطیہ ہے لیکن اس کے دل کا حال کون جانتا ہے ‘‘جہاں تک پرساد کے دل کا تعلق ہے تو اس کی کچھ جھلک ہمیں ضرور نظر آسکتی ہے بشرطیکہ ہم نہ صرف ان کی شاعری کو اس کے نشاطیہ فن کی سطح کے نیچے اتر کر دیکھیں بلکہ ان کے نثری افسانوی ادب کا بھی، جو اتنا نشاطیہ نہیں ہے گہرائی میں جا کر مطالعہ کریں‘‘(رمیش چندر شاہ، جے شنکر پرساد مترجم حنیف کیفی ص۶۲)
آستھا اور عقیدے کی سر زمین سے رشتہ ہونے کے باوجود ان کے یہاں عقلیت اور تشکیک کی رو نمایاں تھی۔ رمیش چندر کے مطابق ’’پرساد نے کبھی کسی شے کے آگے سر نہیں جھکایا۔ انہوں نے ہر مفروضے کو، چاہے وہ اخلاقی ہو، مذہبی ہو، فلسفیانہ ہو، یا سیاسی ہو ایک بڑے سوالیہ نشان کے ساتھ قبول کیا۔ ان کی نظر میں کوئی بھی شے حتمی اور بدیہی نہیں تھی۔ ‘‘
کامائنی، کانن کسم، پریم پتھک، کے شاعر، کنکال، تتلی، اراوتی کے ناول نگار، آکاش دیپ، اندر جال، آندھی کے افسانہ نگار، اجات شترو، اسکند گپت، چندر گپت، دھرو سوامنی کے ڈرامہ نگار جے شنکر پرساد نے ہندی کو نئے آفاق عطا کئے۔
آغاحشر کاشمیری
لاہور کے میانی صاحب کے قبرستان میں مدفون ہندوستان کے شکسپیر آغا حشر کاشمیری (م۸۲ اپریل ۵۳۹۱) کی زاد گاہ یہی بنارس ہے۔ ناریل بازار گوبند کلاں بنارس میں یکم اپریل۹۷۸۱میں پیدا ہوئے، نام محمد شاہ رکھا گیا۔ جنہوں نے، ڈرامہ کی دنیا میں بے پناہ شہرت حاصل کی۔ آفتاب محبت (۷۹۸۱) یہودی کی لڑکی (۵۱۹۱)، خوبصورت بلا (۹۰۹۱)، شہید ناز، رستم و سہراب (۰۳۹۱)، سفید خون، سلور کنگ عرف نیک پروین (۰۱۹۱)،جیسے ڈرامے اردو دنیا کو دئے۔
شاعری کے باب میں بھی ذہانت کے جوہر دکھائے۔ فائز بنارسی کے شاگرد آغا حشر کا یہ شعر تو اتنا مشہور ہے کہ ہر خاص و عام کی زبان پر ہے :
سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر
اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ مرے اس دعا کے بعد
اور انہی کی نظم کے یہ بند بھی ہیں :
آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لئے
بادلو ہٹ جاؤ دے دو راہ جانے کے لئے
حق پرستوں کی اگر کی تونے دلجوئی نہیں
طعنہ دیں گے بت کہ مسلم کا خدا کوئی نہیں
(بحوالہ انجمن آرا انجم، آغاحشر کاشمیری ص۶۲)
بے پناہ قوت اظہار کے حامل آغا حشر کاشمیری نے ڈرامہ کو نئے نقش و نگار عطا کئے۔ مگر پاکستان کے معروف ناقد ڈاکٹر سلیم اختر کا خیال اس سے ذرا مختلف ہے۔ وہ آغا حشر کو انڈین شکسپیر ماننے سے انکار کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’آغا حشر کو عقیدت یا تنقیدی بصیرت کے فقدان کی بنا پر انڈین شکسپیر کہا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ حشر کا شکسپیر تو کجا یورپ کے بعض اور چھوٹے ڈرامہ نگاروں سے بھی موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے ہاں اس گہرائی اور ژرف نگاہی کا فقدان ہے جو کسی بھی عظیم ڈرامہ نگار کے لئے ضروری ہے۔ ‘‘(اردو ادب کی مختصر ترین تاریخ۔ کتابی دنیا دہلی ص۷۹۳ )
شیخ محمود احمد رونق بنارسی (۵۲۸۱۔۶۸۸۱)اور طالب بنارسی (۲۵۸۱۔۲۲۹۱) کا شمار اہم ڈرامہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ رونق پارسی تھیٹر سے وابستہ تھے۔ ان کے والدین دکن میں اقامت پذیر ہو گئے تھے۔ انہوں نے بمبئی کے کاٹن مل میں بھی کام کیا پھر وکٹوریہ کمپنی سے وابستگی رہی۔ ان کا اہم شاہکار بے نظیر و بدر منیر ہے۔ لیلیٰ مجنوں، عاشق کا خون، بہارستان اشک، خوابگاہ عشق ان کے مشہور ڈرامے ہیں۔ امتیاز علی تاج نے ان کے ڈرامے مرتب کر کے شائع کیے تھے۔ انہوں نے عاشق کا خون میں ایک المیہ کردار ادا کرتے ہوئے خود کشی کر لی تھی۔ طالب نے لیل و نہار، ہریش چندر، نگاہ غفلت، وکرم ولاس، دلیر دل شیر، نازاں جیسے ڈرامے لکھے شعر وادب کا عمدہ مذاق رکھتے تھے، ان کے مضامین مخزن میں اشاعت پذیر ہوتے تھے۔ طالب بنارسی کے تعلق سے عشرت رحمانی کا خیال ہے کہ ’’ان کی زبان فصیح و شستہ ہے۔ گو ڈراموں کے پلاٹ عام روش سے ہٹ کر نہیں اور ان میں سماجی زندگی کے کسی پہلو کی موثر عکاسی نظر نہیں آتی۔‘‘ (اردو ڈرامہ کا ارتقا۔ ص172)
کچھ اسی طرح کا تاثر ڈاکٹر عطیہ نشاط کا بھی ہے ’’طالب کے ڈراموں کے پلاٹ ڈھیلے ڈھالے ہیں اور کم و بیش وہی طرز ہے جو حافظ عبداﷲ اور نظیر بیگ وغیرہ کا ہے۔ ان کے زیادہ تر ڈرامے پرانے قصوں پر مبنی ہیں۔‘‘ (اردو ڈرامہ: روایت اور تجربہ۔ ص 150)
امتیاز علی تاج نے 1975 میں لاہور سے طالب بنارسی کے ڈرامے کے عنوان سے ایک کتاب مرتب کر کے شائع کی تھی۔ طالب بنارسی کے بارے میں ڈاکٹر محمد قمر تبریز صدیقی نے بہت پتے کی بات کہی ہے کہ ’’طالب بنارسی کے متعلق جس نقاد نے بھی خامہ فرسائی کی ہے سب سے صرف ایک ہی بات پر زور دیا ہے کہ اردو ڈرامے میں پہلی بار طالب نے سادہ اور قافیہ سے پاک زبان استعمال کی۔ اس سے زیادہ ان کا اور کوئی کارنامہ نہیں ہے۔‘‘ (اردو ڈرامے کی تنقید کا تجزیاتی مطالعہ۔ ص 93)
بنارس کی شعری فضا بھی تابناک تھی۔ خوش گو، فائز بنارسی، بھارتیندو ہریش چندر رسا، نظیر، حفیظ، مسلم الحریری، ناظم جعفری، تاج الدین اشعر، طرب صدیقی، شمیم طارق، راشد بنارسی، شاد عباسی، روشن لال روشن، نرائن سریواستو، کبیر اجمل، غفران امجد، جوہر صدیقی، آزر حفیظ، خالد جمال، عارف ہندی، جاوید انور جیسے شاعروں کی موجودگی سے وہاں تخلیقی توانائی ہے۔ مرزا مظہر تاجدار ضمیری بھی قدیم شعرا میں سے ہیں۔ گلستان سخن میں یہ چند اشعار درج ہیں:
ہم نہ کہتے تھے ضمیری بے وفاؤں سے نہ مل
اپنے کاموں کا نتیجہ تجھ کو حاصل ہو گیا
یوں عادتوں کو تیرے کیا کیا نہ جانتے تھے
لیکن تجھے ستمگر ایسا نہ جانتے تھے
ہائے مطعون شیخ و شاب ہوئے
تجھ سے مل کر بہت خراب ہوئے
اسی کعبہ ہندوستان میں محبت کی اذان دینے والا شاعر نذیر بنارسی تھا شیو کی راجدھانی کا سفیر، جس کی رگوں میں لہو کی جگہ شیوشنکر کی جٹاؤں کی حسینہ گنگا کی لہریں تھیں۔ جس کی شاعری میں ایک ہی راگ تھا۔ ۔دیش راگ، منافرت کی آندھی بھی جسے بے اثر نہ کرسکی۔ بنارس کی بانسری کا یہی راگ شعروں میں ڈھلتا ہے تو محبت اور عقیدت کا شبنمی احساس بہت سے ذہنوں کا حصہ بن جاتا ہے اور خیمہ منافرت کو خس و خاشاک کر ڈالتا ہے۔ کاشی، نذیر کی آتما میں اس طرح تحلیل ہو گئی تھی کہ اپنے احساس کی ہر خوشبو کاشی کی سانسوں کے حوالے کردی :
میں بنارس کا نواسی کاشی نگری کا فقیر
ہند کا شاعر ہوں شیو کی راجدھانی کا سفیر
لے کے اپنی گود میں گنگا نے پالا ہے مجھے
نام ہے میرا نذیر اور میری نگری بے نظیر
نذیر نے مذہب اور عقیدے سے جڑی ہوئی ساری زنجیروں کو توڑتے ہوئے اس وحدت کا نغمہ الاپا جو تمام مذاہب کی اساس میں نہاں ہے :
میرے بعد اے بتان شہر کاشی
مجھ ایسا اہل ایماں کون ہوگا
کرے ہے سجدہ حق بتکدے میں
نذیر ایسا مسلماں کون ہوگا
ہم نے تو نمازیں بھی پڑھی ہیں اکثر
گنگا ترے پانی سے وضو کرکر کے
نذیر جیسے کشادہ ذہن میں ہی یہ اشعار جنم لے سکتے ہیں :
آواز گم ہے مسجد و مندر کے شور میں
اب سوچتے ہیں ان کو پکاریں کہاں سے ہم
مندر بنا بنا کے مسجد بنا بنا کے
سب گھیرتے ہیں اس کو دیوار اٹھا اٹھا کے
آدرنیہ مہاراج اور اے شیخ مکرم
جے ہند اجازت ہو تو کچھ عرض کریں ہم
مذہب کی حرارت کو ذرا کیجئے اب کم
ہے ایکتا بھارت کی بری طرح سے برہم
نذیر نے اتحاد اور یکجہتی کے لئے پوری زندگی وقف کردی مگر انہیں بھی فرقہ پرستی کے عفریت نے نہیں بخشا، جو یہ کہتا رہا کہ
خون اب کسی انسان کا پینے نہیں دوں گا
اے فرقہ پرستی تجھے جینے نہیں دوں گا
خود ہی فرقہ پرستی کی بھینٹ چڑھ گیا۔
نذیر، اس کبیر کی توسیع تھے جنہوں نے گنگا کی سیڑھیوں پہ بیٹھ کر اور مسجد کے مناروں کو دیکھ کر یہ شعر کہے تھے
نہائے دھوئے کیا بھیا جو من میل نے جائے
من سدا جل میں رہے دھوئے باس نہ جائے
کانکر پاتھر جوڑ کے مسجد لئے چنائے
تا چڑھ ملا بانگ دے کیا بہرا ہوا خدائے
برہم دیو مدھر کے تخلیقی مزاج کی تشکیل میں ہندی شعریات کا عمل دخل زیادہ ہے مگر اردو کی تہذیبی روایت اور بوطیقا سے والہانہ شیفتگی نے ان کے تخلیقی ذہن کو نیا تحرک بخشا اور ان کے تخلیقی نظام کو تازگی، رعنائی، نزاکت اور نفاست عطا کی ہے۔ اردو غزلیہ شاعری کی ایمائیت، رمزیت اور تہ داری نے ان کے تخلیقی باطن کو مہمیز کیا ہے۔
’’اور بھی غم ہیں ‘‘مدھر جی کا خوبصورت شعری مجموعہ ہے۔ اشعار کی قراْت کے طریق کار اور تفہیمی تناظر کو ذرا بدل کر دیکھیں اور ایک نئے نہج سے نظر ڈالیں تو اس شعری مجموعہ میں بہت سی معنوی خوبیاں نظر آئیں گی۔ اردو ہندی کا تہذیبی، لسانی وصال خوش جمال آنکھوں کو بھائے گا اور شاعری کے باطن میں جو زیریں لہریں ہیں وہ ذہنی وجود کو تابندگی بخشیں گی۔
برہم دیو مدھر کے تخلیقی باطن میں گنگا، جمنا، سرسوتی، گداوری، نرمدا، سندھو، اور کاویری جیسی مقدس ندیاں بہتی نظر آتی ہیں اور ان دریاؤں کی لہروں کا ملن بھی۔ اسی نقطہ وصال سے ان کے تخلیقی جمال کا چشمہ پھوٹتا ہے۔ ان سات دریاؤں کے ساتھ ان کی تخلیقی کائنات میں ایودھیا، متھرا، ہری دوار، کاشی، کانچی، اونتیکا (اجین )دوارکا جیسے شہر اپنے تہذیبی استعاروں اور امیجز کے ساتھ آباد نظر آتے ہیں۔ انسان کے باطن میں یہی سات مقامات بستے ہیں اور انہی مقامات سے انسانی جذبات، احساسات، تخیلات و تحیرات کا انسلاک ہے۔ سات کے طلسمی حصار ہی میں سارے جذبے، احساس اور اظہار قید ہیں۔
ہری دوار جو تلاش ذات کا نقطہ آغاز ہے، وہ شہر اپنے اسطوری تخیل اور تہذیبی تفاعل کے ساتھ اس شعر میں ہے :
تری تلاش میں نکلا تو کھو گیا ہوں میں
عجیب بات ہے اب خود کو ڈھونڈتا ہوں میں
متھرا اپنے تقدیسی صفات کے ساتھ کرشن کے لئے گوپیکاؤں کی محبت اور کنس کے لئے نفرت اور خوف کے جذبات سمیت ان کی شاعری میں یوں منور نظر آتا ہے :
بچوں کو ماں کی کوکھ ہی میں چن دیا گیا
چارہ گروں کو قاتلوں کا گن دیا گیا
آئے مدھر کو یاد نہ کیوں اپنی رادھکا
بنسی میں کوئی درد جو ٹیرے کبھی کبھی
ایودھیا امن، عدل، فراق و وصال، رام کے ایثار اور کیکئی کی سازش کی علامتوں کے ساتھ ان کے بہت سے شعروں میں نمایاں ہے :
ملن بھی اک اوستھا ہے ورہ بھی اک اوستھا ہے
پھر اس کے بعد دل سنتا ہے انہد ناد جیون
ذہن بن باسی بنا ہے سارے رشتے توڑ کر
میرے سائے کے نکٹ پھر جنگلوں میں کون تھا
کاشی اپنے دھیان، گیان اور روحانی ریاضت کے ساتھ مدھر جی کے ان شعروں میں نظر آتا ہے :
جانے کتنے جنم کے ہیں بھٹکے ہوئے
ہم نے بدلے تیرے واسطے تن کئی
باہر ندی کی پھیلی ہوئی ریت کال ہے
پانی بھی مچھلیوں کے لئے ایک جال ہے
اسے اچھی طرح معلوم ہے آنند پیڑا کا
دیکھا ہے پیار میں جس نے ورہ کا سواد آجیون
کانچی نشاط زیست کے تصور اور کام دیوی کامکشی کے ساتھ ان اشعار میں مصور ہے :
خواہشوں کے سانپ مجھ سے لپٹے رہتے ہیں مدھر
آپ نے ناحق بنایا نیم سے صندل مجھے
وصل کے لمحات میری سوچ میں آتے ہیں جب
ایسا لگتا ہے کھجراہو کے بت خانے میں ہوں
کالی داس اور وکرمادتیہ کی سرزمین اجین اپنے ارفع تخیل، تہذیب، ثقافت اور آرٹ کے امیج کے ساتھ مدھر جی کے ان ان شعروں میں روشن ہے :
کبھی تو آئے گی تیرے بدن کو چھوکے ادھر
کھلا کواڑ میں رکھتا ہوں اس پون کے لئے
جو خود ہے آگ اس کو جلائے گی آگ کیا
مجھ کو ڈر ہے کہ وہ کہیں پانی سے جل نہ جائے
دوارکا جو آزادی اور نجات کا نقطہ اختتام ہے۔ جہاں کرشن جی نے اپنا جسم تیاگ دیا تھا۔ ان شعروں میں کتنی خوبصورتی کے ساتھ visualiseہوا ہے :
زندگی گر نہ ہوتی شو سادھنا
ہم کو مرگھٹ کے سائے نگلتے نہیں
موت جب آئی نظر مجھ کو دکھی
میں نے اپنی زندگانی سونپ دی
آتما سے ملی آتما اس طرح
خود ہی درشن ہوا خود نین ہو گیا
یہ ساتوں شہر اپنے تمدنی تلمیحات، تہذیبی اشارات کے ساتھ مدھر جی کے شعروں میں نظر آتے ہیں۔ بس تلاش و جستجو شرط ہے۔ یہ شاعری ان کے شخصی اکتشاف کی اوڈیسی ہے۔ انہوں نے کچھ نئی تلمیحات، علامتیں اور تراکیب بھی استعمال کی ہیں اور اظہار و احساس کے نئے در وا کئے ہیں :
میٹنی شو دیکھ کر آئی ہوا
گاؤں میں کرتی ہے ڈسکو رات بھر
جگنوؤں نے لے لیا بن باس اب
ٹیوب لائٹ کے لگے جب سے شجر
ان کی غزلوں میں ہندی تلمیحات اور استعارات کا حسن بھی ہے اور لفظیات کا جمال بھی :
بھسم جیون کا ہر آورن ہو گیا
آگ من میں لگی تن ہون ہو گیا
دیکھا ہے اپنے آپ کو درپن میں نروسن
ٹوٹے ہیں جب بھی عکس کے گھیرے کبھی کبھی
عصری صورت حال، مذہبی جنون و تشدد، منافقت مکاری، عیاری، آتنک واد کے تعلق سے بھی بہت سے اشعار ان کے یہاں ملتے ہیں جن سے ان کے انقلابی تیور کا پتہ چلتا ہے اور ان کی آتما کی خوبصورتی کا بھی :
ہر سمت ایک غول ہے آتنک واد کا
مجھ کو کہیں بھی پیار کا سنسد نہیں ملا
اس شعری مجموعہ میں برہم دیو مدھر جی کی پوئٹک جینئس کے ڈائمنشن منور ہیں۔ ان کی شعری قوت اور تخیل کی بلندی سے انکار کسی طور پر ممکن نہیں۔ مدھر کی شاعری کومل، نرمل، شفاف اور سوکچھ ہے۔ اس شعری تخلیق کے باطن کی سیر کریں تو اس میں تلسی داس، رادھا، رے داس، رحیم، رس کھان، رمن، سدامہ، شبری، میرا اور کبیر کی آنکھیں نظر آئیں گی۔ اور یہ آنکھیں بہت ہی پاک و صاف، پر سوز اور درد مند ہیں اور یہی شفافیت اور درد مندی مدھر جی کی تخلیق کے آئینہ خانہ میں تمام تر جمالیاتی زاویوں کے ساتھ روشن ہیں۔
فریاد آزر بھی بنارس کے ہیں جن کا امتیاز یہ ہے کہ وہ تخلیق کو نیا سیاق وسباق، نیا مفہوم اور نیا تناظرعطا کرنے کی جدو جہد میں اس فکری اور اظہاری منطقہ تک رسائی میں کامیاب ہوئے ہیں جو بہت حد تک کنوارا اورقدرے غیرمستعمل ہے۔ ان کی تخلیق میں وہ مرکزی نقطہ اور محوری نکتہ بھی موجود ہے جو عصرِ حا ضر کی بیشتر تخلیق سے غائب ہوگیاہے۔
آزر کا تعلق تخلیق کے اس تلازماتی نظام اور تناظر سے ہے جس سے تخلیق میں تازگی، تحیر اور تابندگی آتی ہے۔ انہوں نے’ تخلیقی اجتہاد‘سے کام لیا ہے اور تقلیدِ جامد سے گریز کیا ہے اور ایک نئی تخلیقی سمت کی تلاش نے ان کی شاعری کو اس بھیڑسے بھی بچالیا ہے جس میں اکثر فن پارے اپنے نام و پتہ کی تلاش میں مدتوں بھٹکتے رہ جاتے ہیں۔ ولی دکنی نے بہت پہلے کہا تھا ‘‘ تاقیا مت کھلا ہے باب سخن……….فریاد آزر کی شاعری میں بابِ سخن کے نئے نئے در کھلے جا تے ہیں اور ہمیں تحیرات سے ہم کنار کرتے ہیں۔ خوشی ہوتی ہے کہ صنعتی ومشینی عہد میںآزر کے اندر کا احساس اور اضطراب زندہ ہے اور اس کی لہریں ان کی شاعری میں بھی نظر آتی ہیں۔فریاد آزر کی شاعری میں جو احساس و اظہار ہے، وہ ’آج‘ سے عبارت ہے جس میں‘گذشتہ‘مکمل طور پر نہ شریک ہے اور نہ ہی مکمل طور پر متروک کہ ان کا حال ماضی سے مستعار نہیں مگر مستنیر ضرور ہے۔ آزر کا تخلیقی احساس منفرد اور مختلف ہے۔ زندگی کے تعلق سے ان کا Dynamic Approachہے۔ آج کی زندگی کی صورت حال اور انسانی متعلقات کے حوالے سے ان کا زاویہ نظر جداگانہ ہے۔ ان کے یہاں اس انسان کی جستجو ملتی ہے جو ‘گلوبل گاؤں‘ میں اپنی شناخت کھو چکاہے اور بے چہرگی جس کی پہچان ہے۔بنیادی انسانی اقدار سے منحرف اور ٹکڑوں میں بٹے ہوئے انسانی وجود کے ذہنی و فکری بحران اور انتشار و اختلال کو انہوں نے اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے۔ ان کی شاعری کے ذریعہ انسان کی دا خلی ‘ خارجی صورتحال سے آگہی ہوتی ہے۔ Globalised Society اور ملٹی کلچر ایج میں سماجی، سیاسی اقدار میں تبدیلیاں آئی ہیں اور انسانوں کے ذہنی زاویے بھی بدلے ہیں۔ ایسی بدلتی ہوئی صورتحال میں ان کی تخلیق نہ صرف آج کے مسائل پر نگاہ ڈالتی ہے بلکہ آج کے معاشی‘ اقتصادی‘ سماجی‘تہذیبی نظام سے بھی بے خوف مکالمہ کرتی ہے۔
جدید غزل کے منظر نامے پر فریاد آزر کا نام اس اعتبار سے بھی اہمیت کاحامل ہے کہ روایتی حصار سے باہر نکل کر عصری حالات‘ تغیرات اور تموجات کو اپنی شاعری میں جگہ دی ہے۔ اور آج کے عہد کی تفہیم بالکل نئے زاویے سے کی ہے اور اس انسانی ضمیر اور روح کی بازیافت بھی کی ہے جو تینوں زمانوں پر محیط ہے۔
فریاد آزر کی تخلیقی اڑان کے زاویے الگ ہیں انہوں نے احساس و اظہار کے جو صنم کدے تعمیر کئے ہیں‘ اس میں ان کے خونِ جگر کی نمود ہے۔ وہ اپنی ذات میں گم نہیں ہیں بلکہ گردو پیش پہ ان کی گہری نظر ہے:
۔۔۔
اچھا ہو ا کہ لوگ بیاں سے مکر گئے
بھن جاتے ورنہ وہ بھی کسی ’بیکری‘کے ساتھ
۔۔۔
خون مشرق کے بہاتے ہی رہیں گے ناحق
اور کرسکتے ہیں کیامغربی آقاؤں کے لوگ
۔۔۔
ورنہ ہم سانس بھی لینے کو ترس جائیں گے
سطحِ’ اوزون‘ کو فضلات سے آزادی دے
۔۔۔
فضائے آتشِ گجرات سے جوبچ نکلے
پرندے پھرنہ گئے لوٹ کر جہنم میں
۔۔۔
دفن کردیتا تھا پیدا ہوتے ہی عہدِ قدیم
رحم ہی میں ماردیتا ہے اسے دورِ جدید
۔۔۔
رواج گاؤں میں پردے کا اس قدر نہ تھا
مگر مزاج میں بے پردگی بہت کم تھی
۔۔۔
یہ اور بات کہ سب جنگلوں میں رہتے تھے
مگر فضاؤں میں آلودگی بہت کم تھی
۔۔۔
یہ ان کے تخلیقی ذہن کی ارتعاشی لہریں ہیں۔ سیاست ‘سماج اور دیگر مختلف سطحوں پر ان کے ذہنی تحرک کے ثبوت کے لئے یہ اشعار کافی ہیں۔ ان کی نگاہ کسی خاص نقطہ پر محدود نہیں ہے بلکہ ان کی شاعری ایک طرح سے ’جامِ جہاں نما‘ ہے جس میں پوری انسانی کائنات کا عکس نظر آتا ہے۔ وہ اکثر شعروں میں حیرتوں کی نئی قندیل جلاتے ہیں‘ ان کی شاعری کی مجموعی قرأت سے پتہ چلتا ہے ان کے یہاں تخلیق کی علمی ‘عرفانی ‘وجدانی سطح بہت بلند ہے اور سماجی ‘ سیاسی‘سائنسی شعور بالیدہ۔
فکریات کی سطحُ پر جہاں انہوں نے بہت سے نئے تجربے کئے ہیںیا پرانے تجربوں کی ’تقلیب ‘کی ہے ‘وہیں لفظیات کی سطح پر بھی وہ ایک نئے آب و رنگ میں نظر آتے ہیں۔ ان کے یہاں لسانی جبر کا وجود نہیں ہے۔ ہر وہ لفظ جو ان کے احساس کی ترسیل کردے خواہ اس کا تعلق کسی زبان ‘ مذہب‘ملک سے ہو اس کے استعمال سے حذر نہیں کرتے‘ یہی لسانی اور فکری جمہوریت فریاد آزر کا فکری شناس نامہ ہے۔ ان کی شاعری میں وہ جمہوری آوازیں ہیں جو جلجا میش‘ سقراط‘ سرمد‘ اور منصور کے’ حلق بریدہ‘ سے بلند ہوتی رہی ہیں۔ انہوں نے سیاسی ‘سماجی ‘سفاکیت‘آمریت‘ مطلق العنانیت کے خلاف اپنی شاعری کو بطور ہتھیار استعمال کیا ہے اور عالمی استعماری نظام کے خلاف آواز بھی بلند کی ہے۔ فرقہ واریت‘فسطائیت کے خلاف بھی انہوں نے اپنی تخلیقی توانائی کا استعمال کیا ہے:
بھر رہا تھا زہر وہ معصوم ذہنوں میں مگر
ہم پہ نفرت گھولنے کا جرم عائد ہوگیا
۔۔۔
ہندو کوئی تو کوئی مسلمان بن گیا
انسانیت بھی مذہبی خانہ میں بٹ گئی
۔۔۔
بچوں پہ ایسا جادو چلا ہے نصاب کا
اکبر کا نام لینے لگے غزنوی کے ساتھ
۔۔۔
کہیں بھی قتل ہو کیسی عجیب سازش ہے
لہو میں ڈوبی ہوئی مری آستین لگے
ان کی تخلیق کا توانائی نظام انتہائی متحرک اور فعال ہے۔ ان کے یہاں بصیرت اور آگہی کی وہ بلند سطح ہے جو ماضی اور مستقبل پر نگاہ رکھتی ہے۔ ان کا آئینہ ادراک روشن ہے جس میں وہ ماضی کے کے ساتھ مستقبل کی آہٹوں کو بھی محسوس کرتے ہیں۔
فریاد آزر کی شاعری میں عصر حاضر کے مسائل کا اظہار ادراک ہے اور یہی عصری حسیت اور آگہی ان کی شاعری کو نقطہ انفراد یت عطا کرتی ہے۔ اس میں ایک آفاقی شعوربھی ہے‘ ژرف نگاہی اور باطنی روشنی(Inner Light)بھی جو آج کی تخلیق میں کم نظر آتی ہے۔ معاشرہ کی تمام متضاد اور متخالف لہروں کو انہوں نے اپنی شاعری میں سمولیا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اپنی شاعری میں ایسے نقوش مرتسم کردئے ہیں جو سماج اورسیاست کی راہوں میں بھٹکنے والوں کو بھی صحیح سمت کا اشارہ دیں گے اور انہیں منزل مراد تک پہنچادیں گے۔
فریاد آزر کا تہذیبی ‘سماجی ‘ سیاسی‘شعور پختہ ہے اور شعور کی مختلف سطحیں ان کے تخلیقی نظام سے مربوط اور منسلک ہیں۔ اسکا ئی اسکر یپر کلچر کے اس عہد میں چھوٹی چھوٹی زمینی حقیقتوں اور ارضی صداقتوں کو فنکارانہ انداز میں پیش کرنا اور قاری کے احساس و ضمیر کو مرتعش کرنا بہت بڑی بات ہے:
۔۔۔
دفن کر دیتا تھا پیدا ہوتے ہی عہدِ قدیم
رحم ہی میں مار دیتا ہے اسے دورِ جدید
۔۔۔
مجھے اب اور سیاروں پہ لے چل
میں گلو بل گانوں سے اکتا گیاہوں
۔۔۔
ہاتھ ملتی رہ گئیں سب خوب سیرت لڑکیاں
خوبصورت لڑکیوں کے ہاتھ پیلے ہوگئے
۔۔۔
اس قبیلے کے لہو میں ذائقہ اتنا لگا
جس کو بھی دیکھا اسی کے خون کا پیاسا لگا
۔۔۔
اب تو ہر شہر ہے اک شہرِ طلسمی کہ جہاں
جو بھی جاتا ہے وہ پتھر میں بدل جاتا ہے
۔۔۔
سب حقائق مجھ سے بھی پہلے کہیں موجود تھے
میں سمجھتا تھا کہ یہ سب کچھ مری ایجاد ہے
۔۔۔
تخلیق کی سطح پر ایقاظ اور بیداری کا جو فریضہ فریاد آزر انجام دے رہے ہیں، آج کی بے حسی کے دور میں بہت سے فنکار اپنی ذ مہ داری کے احساس تک سے محروم ہیں۔ انہیں’احساسِ زیاں‘ ہی نہیں تو پھر معاشرتی ‘ سماجی‘ اقدار کے تحفظ کا خیال کہاں سے آئے گا۔ فریاد آزر تخلیق کے منصب سے باخبر ہیں اور اس کی ذمہ داریوں سے آگاہ۔ اس لئے وہ اپنی تخلیق کے ذریعہ ہر سطح پر ابنِ آدم کو کائنات کے مسائل اور اس کی پیچید گیوں سے آگاہ کر رہے ہیں۔ ان کی پوری شاعری مقصدیت سے معمور ہے وہ گل و بلبل کی داستاں‘یا فسانہء شب ہائے دراز‘پر یقین نہیں رکھتے بلکہ آج کی سفاک جاں گسل حقیقتوں کو اپنی شاعری کا موضوع اور تخلیق کا مرکزی نقطہ قرار دیتے ہیں اور اسی محور پر ان کی شاعری حیات و کائنات کے مختلف مسائل اور موضوعات کا طواف کرتی رہتی ہے’۔ طوافِ کوچہء جاناں‘کے بجائے’ غم دوراں‘ سے ہی آج کی شاعری معتبر اور منفرد قرار پاتی ہے۔
فریاد آزر کی شاعری میںیہی ’’ غم دوراں‘ عذاب جاں‘ آشوب عصر اپنی تمام تر تخلیقی منطق‘معروضیت اور فنی ‘فکری ہنر مندی کے ساتھ موجود ہے۔
عتیق انظر
بنارس سے تعلق رکھنے والے عتیق انظر اپنے مختلف تیور کی وجہ سے معاصر شعری منظرنامہ میں ممتاز حیثیت کے حامل ہیں۔ ان کی تخلیق میں تازگی، اچھوتاپن اور ندرت ہے۔ ان کا جو طرز اظہار ہے اس میں کلاسیکی رنگ کے ساتھ جدت کا بھی امتزاج ہے۔ انہیں زبان و بیان پر عبور ہے اور فقہ اللسان سے بھی باخبر ہیں۔ اس لئے لسانی ندرتوں کے اعتبار سے بھی ان کی غزلیہ شاعری مختلف ہے۔ جہاں تک فکر کی بات ہے تو ان کی فکر میں قدیم و جدید دونوں دنیائیں ہیں اور دونوں کے بحران سے بھی وہ آشنا ہیں۔ جدید انسان کے بحران، وجودیاتی کشمکش اور انسانی اضطراب و التہاب کو انہوں نے اپنے تخلیقی قالب میں ڈھالا ہے اور آج کے انسان کے مسائل و مشکلات، دکھ، درد کی لہروں کو مس کیا ہے۔ عتیق انظر کا شعری مجموعہ ’’پہچان‘‘کے عنوان سے ادبی حلقہ میں اعتبار حاصل کر چکا ہے۔ راشد آذر نے ان کے اظہاری اختصاص کا اعتراف یوں کیا ہے :
’’بڑی خوشی کی بات ہے کہ عتیق انظر اپنے لہجے کی شناخت بنانے کی طرف توجہ دے رہے ہیں۔ ان کو ان کے انداز بیاں کی تازگی اور اچھوتے پن سے پہچانا جا سکتا ہے۔ آگے چل کر یہ وصف ان کے انفرادی لہجے کی تشکیل میں معاون ثابت ہوگا ‘‘(ماہنامہ سب رس حیدر آباد، جنوری ۶۹۹۱)
عتیق انظر کے تخلیقی جلال و جزالت کا جلوہ اس غزل میں موجود ہے :
سب کو نفرت میں تری جوڑ دیا ہے میں نے
تجھ کو دنیا میں الگ چھوڑ دیا ہے میں نے
جس کی ہیبت سے سبھی سہمے ہوئے رہتے ہیں
ایک تیر اس کی طرف چھوڑ دیا ہے میں نے
میں رہوں یا نہ رہوں تیرے مقابل آکر
تیری طاقت کا بھرم توڑدیا ہے میں نے
ڈال کر ہاتھ گریباں پہ اک ظالم کے
آج تاریخ کو ایک موڑ دیا ہے میں نے
میری تلوار کی زد میں مرا دشمن تھا مگر
یاد کچھ کرکے اسے چھوڑ دیا ہے میں نے
اس غزل میں عصری شعور کی گونج ہے اور اس میں جرات مندی اور پامردی کا جو جذبہ ہے، وہ قابل ستائش ہے۔ خلیجی جنگ کے پس منظر میں اس غزل کی تفہیم کئی زاویوں کو روشن کر سکتی ہے۔ غزل کا لہجہ اور اس کا آہنگ بھی اس کیفیت سے ہم آہنگ ہے جس سے مسلم دنیا دوچار ہے۔ تخلیقی جرات اور حوصلہ مندی کی یہ ایک نمایاں مثال ہے۔ غزل کے ہر ایک شعر میں ایک رجزیہ کیفیت، عنتری، مرحبی لہجہ ہے اور اس تخلیقی پیرہن سے بوئے اسد اللہی بھی آرہی ہے۔ ستم کی سیاہ رات میں سروں کے جلتے چراغ کا منظر اس غزل میں منور ہے۔ یہ ہم عصری صداقت کا جرات مندانہ اظہار ہے۔
سیاسی، عصری رمزیت سے بھر پور اس غزل کا سیاق و سباق ہر با شعور قاری پر فورا واضح ہو جاتا ہے۔ غزل کا ڈکشن اور اس کا ethosفیضاحمد فیض، مجروح اور ناظم حکمت کی یاددلاتا ہے۔
نسیم اختر
نسیم اختر کا وطنی تعلق تو اس شہر سے نہیں ہے مگر ان کا میدان عمل وہ شہر ہے، جس سے میری پہلی شناسائی ہوئی
عبادت خانہ ناقوسیاں است
ہمناں کعبہ ہندوستاں است
قیامت قامتاں مژگاں درازاں
ز مژگاں برصف خوں بندہ بازاں
بیاباں در بیاباں لالہ زارش
گلستاں در گلستاں نو بہارش
اس شہر میں پہلی بار میں نے دریادیکھا۔ نہایت وسیع اور وشال151151!
برسوں بعد نسیم اختر کی شاعری میں مجھے وہی دریا موجزن نظر آیا، جس کے طرز دلربائی اور جاں فزائی کے سحر میں اب تک گم ہوں۔ نسیم اختر کی شاعری اس گنگاسے وصال کا سبب بنی، جو میری آنکھوں میں جانے کب سے بہ رہی تھی۔
مجھے محسوس ہوا کہ گنگا کے گھاٹ کی جس سیڑھی پہ کبیر نے گیان پراپت کیاتھا، اس سیڑھی سے اس شاعری کا کوئی نہ کوئی رشتہ ضرور ہے۔ اُس سیڑھی کی سرشاری اور سکر،اِس شاعری میں شامل ہے، تبھی تو نسیم اختر کے شعروں میں کبیر کی آتما کی سگندھ اور گنگا کا سوندریہ ہے۔ چھوٹے چھوٹے مصرعوں میں گیان دھیان کی بڑی بڑی باتیں ہیں۔قونیہ کے مولانا رومی،یونان کے ایسوپ کی تمثیلی حکایات اور شیخ سعدی کے نصیحت آموز واقعات کی طرح اس میں بھی بڑی گہری اخلاقیات ہے۔ وہی صوفیانہ راگ، سہاگ اور آگہی کی آگ ہے جو صوفیوں، سنتوں کے دلوں میں روشن ہے۔ نسیم اختر نے اسی ’نروان جل‘ کی انگیٹھی میں اپنے احساس کو سلگایا ہے:
نہ ترانے کی اور نہ کہانی کی طرح
میری باتیں ہیں کسی سنت کی بانی کی طرح
میرے نغمے بھی ہیں پیغام محبت اختر
دیونانک کی طرح، شیخ جیلانی کی طرح
انہی ابرار واخیار کی طرح نسیم اختر کی محبت میں پوری دنیا شامل ہے۔ ان کی سوچ ایک Cosmic Citizenکی طرح ہے۔ ان کی دردمندی اور نظام اخلاقیات میں حافظ شیرازی کی فکر جلیل کا نور وجمال بھی ہے۔ حافظ شیرازی کہتے ہیں:
مباش در پئے آزار دہر چہ خواہی کن
کہ در شریعت ما غیر ازیں گناہے نیست
درخت دوستی بنشاں کہ کام دل ببار آرد
نہال دشمنی برکن کہ رنج بے شمار آرد
تونسیم اختر بھی کچھ اس طرح سے شبدوں کے چراغ جلاتے ہیں:
پھول سی باتوں سے بن جاتی ہیں بگڑی باتیں
یہ ضروری تو نہیں لفظوں میں نشتر رکھئے
جلائیں مل کے چلو یوں مسرتوں کے چراغ
کہ رہ نہ جائیں کسی در پہ بھی غموں کے چراغ
یہی تو وہ شاعری ہے جو تزکیہ نفس اور تطہیر جذبات کرتی ہے۔ ایسی شاعری میں وہ قوت تاثیر ہوتی ہے کہ دل کی دنیا بدلتے دیر نہیں لگتی۔ فوائد الفوائد میں مرقوم ہے کہ حضرت شیخ شرف الدین باخزری فرماتے تھے کہ میں خواجہ حکیم سنائی طیب اللہ ثراہ کے ایک قصیدے کا مسلمان کیا ہوا ہوں۔ اور یہ حقیقت ہے کہ جس شاعری میں داخلی جذبے کی آمیزش ہوتی ہے، وہ باطن کو مرتعش کردیتی ہے۔
نسیم اختر کی شاعری میں بھی ویسی ہی تاثیر ہے کہ اس میں حافظ کی حلاوت اور کبیر کی صبوحی شامل ہے۔ یہ شاعری منقذ من الضلال اور مسبعات عشر(وہ دس دُعائیں جو روزانہ سات بار پڑھی جاتی ہیں) کی طرح ڈھال ہے۔ اس شاعری کی آنکھوں میں وہ ’’اشک عنابی‘‘ بھی ہے جس کی ایک کلچرل ہسٹری ہے، اور وہ درد بھی، کائنات کے جگر کا درد، جس کا ایک قطرہ پہاڑوں پہ رکھ دیا جائے تو پہاڑ پگھل کرریزہ ریزہ ہوجائیں، ایک انسان یا تخلیق کار کا سینہ ہی ایسے درد کو سہار سکتا ہے۔ انسانی وجود کا یہی درد ہے جو قطرہ قطرہ دریا بن جاتاہے اور پھر اسی درد اور آگ کے دریا کو ڈوب کر پار کرنا ہوتاہے۔
نسیم اختر کی شاعری میں آگ کا یہی دریا ہے جسے اہل دل عشق کہتے ہیں اور عشق نہایت جلیل وجمیل ہوتاہے۔ ان کی شاعری میں اسی عشق کی آگ کا سہاگ ہے۔ انہی عشق لہروں سے ان کی شاعری کی تشکیل ہوئی ہے اور اسی سے ان کے لہجے کو شناخت ملی ہے۔ ایک دردمند، مدھم، معصوم لہجہ، دریا کے آب رواں کی طرح صاف، شفاف۔ ان کی سوچ کی شفافیت، خیال کی معصومیت اور لہجے کی محبوبیت، ان شعروں میں منور ہے:
برہمن کرتا ہے پوجا یہاں اور شیخ وضو
کس کو کب غیر سمجھتا ہے ہمارا دریا
موج قرآں بھی ہے گیتا کا دھارا بھی ہے
گاہے نانک کا ہے بانی کبھی گرجا دریا
یہی دریا، اپنے تلازمات کے ساتھ نسیم اختر کا فکری اور تخلیقی شناس نامہ ہے۔
دریا، جس طرح تازہ لہروں کے امتزاج سے رواں دواں ہے، اسی طرح نسیم اختر کی شاعری بھی تازہ لہروں کے ساتھ مسلسل سفر میں ہے۔ زندگی اور سماج کے چہرے سے لپٹی ہوئی، فسطائیت، تنگ نظری، انسانیت کشی اور تنگ نظری کی تاریک لہروں سے جہاں ان کی شاعری برسرپیکار ہے، وہیں زندگی کے ’’ریگ سوزاں‘‘ کو بھی انہوں نے اپنے تخلیقی اظہار میں شامل رکھاہے۔ سیلف اور سچویشن کے امتزاج سے ان کے تخلیقی بیانیہ کا دریا، اس انسانی وجود کے سمندر میں مدغم ہوگیاہے، جہاں بے کراں مسائل اور موجوں کا انبوہ ہے:
محافظ قتل کی خاطر ہمارے
یہاں ترشول خنجر بانٹتا ہے
اہل گجرات سے ملے ہو میاں!
ہاں! فسردہ مزار کی صورت
ہاں فلسطین کا بدن ہوں میں
ہاں وطن میں بھی بے وطن ہوں میں
پھر یزیدوں نے کاٹ لی گردن
پھر سے مقتل میں بے کفن ہوں میں
انہی عصری سفّاک لہروں سے ہمارا وجود لرزاں ہے۔ اور انہی سے کائنات کے مستقبل کو خطرہ درپیش ہے۔
ڈاکٹر نسیم اختر نے اپنی شاعری میں اس Pathosاور Passionکو پیش کیاہے جو انسانی وجود کا لازمہ ہیں۔
نسیم اختر سہل شعر کہتے ہیں، قاری کے شعور سے ان کے شعور کا مخاطبہ بآسانی ممکن ہے۔ ان کے لہجے کا جمال وکمال اکثر شعروں میں نہاں ہے۔ کبیر اور نظیر کے امتزاجی لہروں کا یہ ایک خوب صورت تخلیقی طنبورہ ہے۔
ان کے اسلوب کی طرح ان کا شعری کردار بھی پاکیزہ اور صاف ستھرا ہے۔ ان کے ہاں کامنی، کنہیا کے جذبوں کا مدھ ملن تو ہے مگر رمبھا، بھانومتی اور وروتھنی جیسی روپ وتی ماوک اداؤں والی اپسراؤں کا زہد شکن جذبہ نہیں ہے۔ یہ تمجید فضائل اور تندید بالرذائل کی شاعری ہے۔ اس میں نرگس، یاسمن، چمیلی،موگرا جوہی کی وہ خوشبو ہے جو انسانی روح کو معطر کرتی ہے۔ یہ شریں طلعت شاعری، ایسی ہے جیسے پانی میں آگ جل رہی ہو یا آگ میں پانی بہ رہا ہو151151!
نسیم اختر کی شاعری مثل دریاہے مگر اس میں وہ بنات البحر (سمندر کی بیٹیاں) نہیں ہیں جن کی خوش آوازی سے راستے بھول کر ملاح، موجوں میں مدغم ہوجاتے تھے بلکہ یہ توخواب گراں سے خیز کرنے والی شاعری ہے۔ یہ انسانی جذبوں کو بیدار اور حواس خمسہ میں ارتعاش پیدا کرنے والی شاعری ہے۔
نسیم اختر کے پاؤں یقیناًتحت الثریٰ میں ہیں مگر ان کے ارادوں کی چوٹی ثریا کو چھوتی ہے، اس لیے مجھے یقین ہے کہ یہ گنگا جمال شاعری سات مقدّس دریاؤں کے سنسرگ سے زندہ وتابندہ رہے گی کہ برہما نے گنگا کو سداسہاگن کا وردان دیاہے اور یہ شاعری بھی تو گنگا کی طرح اپنے اندر تقدیسی شعور اور نسخہ نجات سموئے ہوئے ہے۔
سحر ہندوستانی
سحر ہندوستانی بنارس کے ایسے شاعر ہیں جو ہندی اور انگریزی ادبیات میں ڈاکٹریٹ یافتہ ہیں، اردو میں اچھی شاعری کرتے ہیں مگر نہ اردو لکھنا جانتے ہیں اور نہ ہی پڑھنا۔ ان کا ایک شعری مجموعہ ’’حسرت کی نظر ‘’کے عنوان سے شائع ہوا ہے جس پر عالمی رنگ ادب کتابی سلسلہ ۷۱۔ ۸۱ میں تبصرہ کرتے ہوئے شاعر علی شاعر نے لکھا ہے :
’’جدید تر علوم سے واقفیت رکھنے والا ایک شخص اردو شاعری کا نہ صرف دلدادہ ہے بلکہ اس کے اندر جمالیاتی ذوق کی فراوانی ہے اور وہ اردو میں شعر کہتا ہے۔ جبکہ وہ اردو پڑھ سکتا ہے اور نہ لکھ سکتا ہے۔ ۔ یہ حیرانی کی بات ضرور ہے مگر ممکنات میں شامل ہے کیونکہ دنیائے ادب میں بے شمار ایسے شعراء گزرے ہیں جو پڑھے لکھے نہیں تھے مگر شعروادب میں انہوں نے نہ صرف اپنا نام پیدا کیا بلکہ ایک منفرد مقام بھی بنایا۔ امی شعراء کے نام سے ایک ایک کتاب بھی مرتب ہو چکی ہے جس میں ایسے سینکڑوں شعراء کے نام شامل ہیں جو پڑھے لکھے نہیں تھے۔ مگر ہم سحر ہندوستانی کو امی شاعر نہیں کہیں گے کیونکہ وہ اعلی تعلیم یافتہ تھے۔ بس انہیں اردو زبان لکھنا اور پڑھنا نہیں آتی۔ مگر ان کے اشعار میں نہ صرف اردو کا تاریخی پس منظر ملتا ہے بلکہ اردو زبان کا تہذیبی ارتقاء بھی نظر آتا ہے اور زبان کی چاشنی بھی۔ یہ شعر ملاحظہ کیجئے:
بس تمہاری وفا کے طلب گار ہیں
عشق ہوگا نہ کامل تمہارے بغیر
عالمی رنگ ادب کراچی
بنارس میں ایسے شاعروں کی تعداد رہی ہے جو امی تھے، فدا علی خنجر نے انجمن ترقی اردو ہند کے رسالہ اردو میں اردو کے ان پڑھ شعراء کے عنوان سے جو مضامین لکھے ہیں، ان میں شیخ سبحان علی طالب بنارسی اور کبیر داس بنارسی کے نام لکھے ہیں۔ طالب کا تذکرہ جنوری ۲۳۹۱ اور کبیر داس کا جولائی ۲۳۹۱ کے شمارے میں ہے۔
بنارس کے کچھ شعراء جن کے نام رسائل و جرائد کے وسیلے سے سامنے آئے ہیں ان میں سلام اللہ صدیقی بنارسی بھی ہیں جن کی نظم ترانہ اردو ہماری زبان یکم اگست ۶۴۹۱ میں شائع ہوئی ہے اور دوسرے شاعر عبد الرفیق زاہد بنارسی ہیں جن کی نظم ہماری زبان ۶۱ دسمبر ۵۴۹۱ میں دشمنان اردو سے خطاب کے عنوان سے شائع ہوئی ہے۔ سید واجد علی فرخ بنارسی بھی قابل ذکر ہیں جن کی کتاب تجلیات فرخ پر رسالہ اردو جنوری ۲۳۹۱ میں تبصرہ چھپا ہے۔
علمی و فکری سطح پر بنارس کو جن شخصیات نے اعتبار و وقار عطا کیاان میں حافظ ابو محمد امام الدین رام نگری کا نام نمایاں ہے۔ انہوں نے نہ صرف عربی، ہندی، سنسکرت کا گیان حاصل کیا بلکہ ہندو ازم کا خاص طور پر مطالعہ کیا۔ سوامی دیانند سرسوتی کے اعتراضات کے جوابات لکھے اور اسلامی ساہتیہ سدن کی ہندی مطبوعات کے ذریعہ اسلام کی تبلیغ کی۔ ان کا ایک اہم کارنامہ ’ہندی۔اردو شبدکوش‘ ہے جو شاید سب سے پہلا ہندی لغت ہے، جس کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ ’ہر طبقہ کی ضرورتوں کے مطابق پارلیمنٹری، دفتری، عدالتی، سیاسی، صنعتی، علمی، ادبی، تعلیمی، مذہبی، سائینٹیفک غرض تمام اصناف کے الفاظ موجود ہیں۔‘‘
یہاں نواب عنایت حسین خاں مہجور بنارسی کا ذکر بھی ضروری ہے جن کا تذکرہ ’مداح الشعرا‘ پاکستان سے افسر امروہوی نے اپنی تعلیقات اور مقدمہ کے ساتھ شائع کیا۔ بنارس کے قدیم تذکرہ نگاروں میں بنداربن داس خوشگو کا نام نہایت اہمیت کا حامل ہے جو بارہویں صدی کے اوائل کے ہیں۔ مرزا عبدالقادر بیدل، شیخ سعد اﷲ گلشن سے اکتساب فیض کا شرف حاصل ہے ان کا تذکرہ ’سفینہ خوشگو‘ تین جلدوں پر محیط ہے۔ یہ تذکرہ 1147ھ میں مکمل ہوا تھا۔
شمیم طارق
نئے موضوعاتی جزیروں کی جستجو شمیم طارق کا وصف خاص ہے۔ انہوں نے جن موضوعات کو مس کیا ہے ان پر لکھنے کے لیے گہرے علم و عرفان کی ضرورت پڑتی ہے۔ تقابلی مطالعے اور حوالے پر مشتمل تخلیقی اور تنقیدی مضامین کے مجموعہ ’تقابل اور تناظر‘ میں شامل لسانی دہشت گردی، شعر و ادب میں سریت کے نفوذ و اثرات، غزل میں سائنس کے اشارے، کلاسیکی غزل میں شہر جیسی تحریروں سے اس کی تائید و توثیق ہو سکتی ہے۔ اسی کتاب میں شبلی اور اقبال کا مشترکہ عطیہ بھی ایک ایسا مضمون ہے جس کی ستائش یوں بھی کی جانی چاہئے کہ شمیم طارق نے دونوں کے مابین تفاوت عمر کے باوجود بہت سی مشترکات ہیں۔ ان مماثلتوں میں بعض یہ ہیں:
(الف) دونوں کے جد اعلیٰ غیر مسلم تھے۔ شبلی راجپوت نسل سے تھے اور اقبال کشمیری برہمن۔ (ب) دونوں کی ازدواجی زندگی خوشگوار نہیں تھی۔ شبلی نے دو شادیاں کیں اور اقبال نے تین بیویوں سے چار نکاح کئے۔۔۔ (ت) دونوں اپنے بڑے بیٹوں سے نالاں تھے۔ شبلی کے بڑے بیٹے حامد نے ناخوشگوار ماحول سے تنگ آکر ایک خانقاہ میں پناہ لی تھی۔ اقبال نے اپنے بڑے بیٹے آفتاب کو عاق کر دیا تھا۔
اور یہ کہ شبلی اور اقبال دونوں کی جمالیاتی حس بہت بیدار تھی۔ عطیہ کے لیے ان دونوں کے دلوں میں محبت کی جو چنگاری تھی‘ اس سے انکار ممکن نہیں۔
غالب اور ہماری تحریک آزادی، صوفیہ کی شعری بصیرت میں شری کرشن اور صوفیا کا بھگتی راگ ان کی اہم تصنیفات ہیں۔ آخر الذکر کتاب تو موضوعی اعتبار سے نہایت اہم ہے کہ تصوف اور بھگتی کا موضوع نیا تو نہیں ہے مگرمحنت اور مشقت طلب ضرور ہے۔ تصوف اور بھگتی کے تعلق سے مختلف تناظرات ہمارے سامنے آچکے ہیں۔ کون سا تناظر صحیح ہے، اس کا تعین بھی دشوار ہے۔ یہ موضوع اس قدر ژولیدہ ہے کہ ذرا سی لغزش اسفل سافلین تک پہچادیتی ہے۔ ایسے موضوع پر قلم اٹھانے کے لئے حد درجہ حزم و احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے لئے جنون، جدوجہد اور کڑی ریاضت درکار ہے۔
ادھر کچھ عرصے سے تصوف پر مطالعاتی سلسلے کا جو آغاز ہوا ہے اس سے کچھ گرہیں ضرور کھلی ہیں۔ مگر المیہ یہ ہے کہ تصوف کی بنیادی ماہیت اور مزاج کی تفہیم میں بہتوں سے لغزشیں بھی سر زد ہوئی ہیں۔ مستشرقین نے بھی تصوف کے تئیں خاصی دلچسپی دکھائی ہے اور کچھ نئے انکشافاف بھی کئے ہیں۔ ای اچہامر، ایم اسمتھ، تور آندرائی، آرہارٹ مان، ایم ہارٹن، اسکائڈر، ایچ ریٹر نکلسن اور دیگر مستشرقین نے تصوف کے منبع، مصدر، اور ماہیت بہت سی اہم باتیں تحریر کی ہیں تاہم مسئلہ تصوف اس قدر گہرے اسرار و رموز میں گتھا ہوا ہے کہ ایک سرا ہاتھ آتا ہے تو دوسرا چھوٹ جاتا ہے۔
شمیم طارق کا امتیاز یہ ہے کہ انہوں نے تصوف کے موضوع پر مستند اور معتبر مصادر و مراجع سے رجوع کیا ہے اور مشرقی تصوف کے تمام تر پہلوؤں پر تدبر و تفکر کیا ہے اور تقابلی مطالعہ کی بنیاد پر نتائج کا استخراج کیا ہے۔ ان کے اندر وہ قیسیت اور فرہادیت ہے کہ وہ موضوع کے مالہ و ما علیہ کا کلی عرفان حاصل کرتے ہیں تب اپنے تصور یا فکر کی ایک مضبوط اساس تشکیل دیتے ہیں۔
سلسلہ تصوف اور بھگتی پر لکھے گئے ان مضامین سے بھی ان کی عرق ریزی اور محنت مترشح ہے۔ انہوں نے شیخ محمد غوث گوالیاری، مجدد الف ثانی، امام قشیری، شاہ ولی اللہ، جنید بغدادی، شیخ عبد القادر جیلانی، شیخ شہاب الدین سہر وردی، خواجہ بہاء الدین نقشبندی، شرف الدین یحیی منیری، شیخ عبد الواحد بلگرامی، فرید الدین عطار اور دیگر ارباب علم و تصوف کے حوالے سے تصوف کے مفہوم کو آئینہ کر دیا ہے، اس کی تشکیلی صورتوں اور اس کے مثبت پہلوؤں پر مبسوط روشنی ڈالی ہے۔
بھگتی :مزاج و پس منظرمیں انہوں نے مکمل آگہی اور عرفان کا ثبوت دیا ہے اور بھگتی کے مزاج کی تفہیم شریمد بھگوت گیتا، رامانج اچاریہ اور دیگر مفکرین کے حوالے سے کی ہے۔ بھگتی کال کے بارے میں بہت سی انکشافی معلومات بھی درج کی ہیں۔ کبیر، سرمد، کرشن، مرزا مظہر جان جاناں، تلسی داس، کے بارے میں وہ معلومات بہم پہچائی ہیں کہ ان کی علمیت پہ رشک آتا ہے۔ سرمد کے یہودی اور ملحد ہونے کی بات اور پھر ان کے عشق باطن کی کیفیت کا ادراک بھی کرایا ہے۔ کبیر کی ہندو بھگتی کے حوالے سے یہ معلومات بھی دلچسپ ہے کہ وہ حضرت تقی سہروردی کے خلیفہ تھے۔ اور حضرت ہیکا چشتی سے خرقہ خلافت حاصل کیا تھا۔ بھگتی کا باب بہت عالمانہ اور عارفانہ ہے۔ اس باب کا سنجیدگی سے مطالعہ کیا جائے تو ذہن کی بہت سی گرہیں کھل جائیں گی۔
تصوف اور بھگتی :مماثلت اور مغائرت میں انہوں نے بڑی دیدہ ریزی اور دقیقہ سنجی کے ساتھ دونوں پہلو تلاش کئے ہیں اور دونوں کے مابین ایک حد فاصل بھی قائم کیا ہے۔ جمع، جمع الجمع، اور عین الجمع کی کیفیات کے حوالے سے بھی روشنی ڈالی ہے۔ سکر اور صحو کی کیفیت کا بھی عرفان کرایا ہے۔ شطحیات پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ مجموعی طور پر اس انتہائی ادق مسئلہ پر بہت اچھی گفتگو کی ہے۔
صاحب سر شاہ محمد کاظم قلندر کے حوالے سے مولانا شاہ مجتبی حیدر قلندر کے مضامین بھی علم و معرفت کے باب وا کرتے ہیں۔
شمیم طارق کا مطالعہ وسیع ہے، انہوں نے ان موضوعات کو اپنی تحقیق کا مطاف بنایا ہے جن کے بارے میں ہمارے سہل طلب ناقدین اور تساہل پسند ادباء سوچ بھی نہیں سکتے۔
شمیم طارق اردو ادب کے وہ کوکب دری ہیں جس کی قدر مابعد کے زمانوں میں بھی ہوگی۔ شمیم طارق کا علمی انہماک، لگن اور مطالعہ بہتوں کے لئے قابل رشک ہے۔ اس علمی زوال کے دور میں شمیم طارق کا دم غنیمت ہے بالخصوص اردو زبان جس زوال کی گھڑی میں ہے اس میں شمیم طارق جیسے جید عالم، فاضل ادیب لبیب کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔
یونس غازی
اونچی حویلیوں میں بھی ہیں بے قرار لوگ
اور دولت سکون مری جھونپڑی میں ہے
شاید اشکوں میں آگ بہتی ہے
میرے چہرے کے آبلے دیکھو
یہاں سے گزرے گا کیسے بچا کے سر کوئی
ہر ایک ہاتھ میں پتھر دکھائی دیتا ہے
سرشار ان کی یاد سے غازی ہے دل مرا
صحرا کو پر بہار کئے جا رہا ہوں میں
صحرا کو پر بہار بنانے والے اس شاعر کا تعلق بھی بنارس کے موضع نودر سے ہے۔ جن کا میدان عمل اب میرٹھ ہے :
ہے میرٹھ شہر جو علم و ادب کا گہوارہ
جناب غازی اسی مستقر میں رہتے ہیں
لمحات ان کا شعری مجموعہ ہے جس میں وہ ماضی کی آہٹوں اور حال کی اشارتوں کے ساتھ ذہنوں پر دستک دیتے نظر آتے ہیں۔
بھوکے بچوں نے سمندر رو دیا اور سو گئے
ہاں مگر چہرے پہ ماں کے درد کی لہریں ملیں
وہ خشک پھول دیکھ کے یاد آگیا کوئی
ماضی نے جس کو رکھا تھا میری کتاب میں
اس دور الم خیز میں سچ بولنے والے
تونے ابھی شاید در زنداں نہیں دیکھا
ان کو بھولے ہوئے زمانہ ہوا
پھر یہ پہلو میں درد سا کیا ہے
بھول جاتے اپنی صناعی کا وہ سارا ہنر
اس بت کافر کو گر اک بار آزر دیکھتے
اساتذہ کے زمین شعر میں گل کھلانے والے غازی کے یہاں فکری اور لسانی سطح پر جدتیں بھی نمایاں ہیں۔
ہر گل کو چومتا ہوں بصد شوق بار بار
یوں شغل وصل یار کئے جا رہا ہوں میں
شاعری ان کی داخلی شخصیت کا اظہار ہے تو تحقیق ان کے فاعلی عنصر کا شناس نامہ ہے۔انجمن ترقی اردو ہند تاریخ اور خدمات (۷۴۹۱ تک )ان کی اہم تحقیقی کتاب ہے جو کتابوں کی بھیڑ میں اپنی امتیازی شناخت کے ساتھ نمایاں نظر آتی ہے۔ کتاب کی سطروں سے محنت شاقہ مترشح ہے۔ اپنی تلاش اور جستجو سے اس منزل تک رسائی حاصل کی ہے جو تحقیق کا مطلوب و مقصود ہے۔ یہ ایک دشوار گزار راہ تھی۔ جس میں لہو لہان ہوئے بغیر قدم بڑھانا ناممکن تھا۔ مگر یہ آبلہ پا وادی پرخار سے گل افشانی میں کامیاب رہا۔ صعوبتوں کا یہ سفر کیسے طے ہوا، اس کی بابت یونس غازی خود لکھتے ہیں :
’’کسی انجمن کی کار گزاری کی روداد مرتب کرنا آسان بھی ہے اور دشوار بھی۔ اگر انجمن کا اپنا کوئی مستحکم دفتر ہوتا اور سارے ریکارڈ کہیں ایک جگہ محفوظ ہوتے تو یہ کام سہل سے سہل تر ہو جاتا۔ لیکن میں نے دیکھا کہ صورت حال برعکس ہے۔ ایک طرف انجمن کی کار گزاریوں کا دائرہ نصف صدی کو محیط ہے اور دوسری جانب اس کی تفصیلات منتشر اور پراگندہ ہیں۔ حاصل کلام یہ کہ میں نے جب کام کا آغاز کیا تو مجھے دریا کی گہرائیوں کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔ لیکن جب کشتی موجوں کے حوالے کی تو سمجھ میں آیا کہ کشتی کا ساحل تک پہنچنا کچھ آسان نہیں تاہم میں مایوس و دل شکستہ نہیں ہوا بلکہ امنگوں اور حوصلوں کے سائے میں سفر کا آغاز کیا ’’
یونس غازی نے اس تحقیقی کتاب میں انجمن کی تاریخ، مطبوعات اور اخبار ہماری زبان کے حوالے سے جو معلومات فراہم کی ہیں وہ بیش قیمت ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اردو کی ترویج و توسیع کیلئے ہمارے اکابر نے کتنی جدو جہد کی ہے اور اردو کے علمی سرمایہ میں گراں قدراضافہ کیا ہے۔ ان کی کوششیں نہ ہوتیں تو اردو ایک سمٹی اور سکڑی ہوئی زبان ہوتی۔ انجمن ترقی اردو کی وجہ سے اردو کا رشتہ مختلف علوم و فنون سے جڑا۔ دوسری زبانوں کا اہم علمی و ثقافتی سرمایہ اردو میں منتقل ہوا۔ بالخصوص سائنسی علوم کے جو ترجمے ہوئے، اس سے اردو کا ایک بڑا طبقہ مستفید ہوا۔ طبیعات، طبقات الارض، کیمیا، حیوانات، ریاضیات پر باضابطہ اردو میں کتابیں مرتب کی گئیں۔ مولوی مرزا مہدی خاں کوکب کی مقدمات الطبیعات، طبقات الارض، محمد یوسف صدیقی کا رسالہ علم نباتات، ڈاکٹر رضی الدین صدیقی کی اضافیت، داستان ریاضی، ابرار حسین قادری کی فرہنگ اصطلاحات جغرافیہ اور رضی الدین صدیقی، اکبر علی کی فرہنگ اصطلاحات علم فلکیات ایسی کتابیں ہیں جو سائنس کے جملہ جہات اور زاویوں سے روشناس کراتی ہیں۔ اس کے علاوہ تاریخ فلسفہ، نفسیات، معاشیات پر بھی انجمن نے نہایت مفید کتابیں شائع کی ہیں۔ مشاہیر یونان و رومہ (سید ہاشمی فرید آبادی)علم المعیشت ( محمد الیاس برنی )تاریخ ملل قدیمہ (سید محمود اعظم فہمی )۔ انجمن کا ایک بڑا کارنامہ ان تذکروں کی اشاعت بھی ہے جن سے اردو ادب کی تاریخ کی تدوین میں بڑی مدد ملی، ایسے تذکروں میں نکات الشعراء(میر تقی میر مرتبہ مولانا حبیب الرحمن خان شروانی )تذکرہ شعرائے اردو (میر حسن دہلوی ) تذکرہ ہندی ( غلام ہمدانی مصحفی )مخزن شعراء یعنی تذکرہ شعراء گجرات (قاضی نور الدین حسین خاں رضوی فائق )تذکرہ گلزار ابراہیم ( علی ابراہیم خاں خلیل، مرزا علی لطف )تذکرہ ریختہ گویاں (سید فتح علی حسینی گر ویزی ) ریاض الفصحاء (غلام ہمدانی مصحفی ) عقد ثریا (مصحفی) گل عجائب (اسد علی خان تمنا ) چمنستان شعراء ( رائے لچھمی نراین شفیق ) مخزن نکات ( شیخ محمد قیام الدین قائم ) قابل ذکر ہیں۔ مختلف ادبیات، موضوعات پر محیط انجمن کی مطبوعات سے یہ اندازہ لگانا دشوار نہیں کہ انجمن کس قدر متحرک اور مستعد تھی اور اس نے تاسیسی اغراض و مقاصد کی تکمیل کے لئے موانع کی پرواہ نہیں کی۔ مطبوعات کی سطح پر انجمن کی اہمیت اور معنویت کا ادراک بھی یونس صاحب کی اسی کتاب سے ہوا کہ انہوں نے بڑی محنت سے دستیاب مطبوعات کی پوری تفصیل درج کردی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ کام عرق ریزی کے بغیر ممکن نہ تھا۔ اور یہی محنت دیگر ابواب میں بھی نظر آتی ہے۔ خاص طور پر انجمن کے تین رسالوں اردو، سائنس اور معاشیات کی فہرست سازی میں ان کی ریاضت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
انجمن ترقی اردو ہند کے رسالہ اردو کا پہلا شمارہ تعویق کی وجہ سے اکتوبر ۰۲۹۱ کے بجائے جنوری ۱۲۹۱ میں شائع ہوا اور پہلے ہی شمارے سے اس نے اپنی جو منفرد شناخت قائم کی، اس کی نظیر ادبی مجلاتی صحافت میں بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے۔ اس کے تحقیقی اور تنقیدی مضامین اتنے بلند پایہ ہوتے تھے کہ مولوی غلام ربانی نے یہ خیال ظاہر کیا کہ ’’ہندوستان کا تو ذکر کیا ہے یورپ اور امریکہ میں بھی بہت کم رسالے ہیں جن کا معیار اتنا بلند اور مذاق اتنا پاکیزہ ہو جیسا اردو کا ہے ‘‘رسالہ اردو نے ہمیشہ اہم گوشے ہی روشن کئے خاص طور پر بعض سلسلہ مضامین تو نہایت مفید اور معلوماتی تھے۔ اس ذیل میں مرزا فدا علی خنجر کے مضامین ’’اردو کے ان پڑھ شعراء‘‘قابل ذکر ہے۔ منظوم و منثور تخلیقات اور تبصرے اتنے جامع ہوتے تھے کہ آج کے رسائل نہایت پھیکے نظر آنے لگتے ہیں اور یہ خیال بھی سر اٹھانے لگتا ہے کہ آجکل کے نئے مضامین کے بجائے رسالہ اردو کے مقالات بازدید کے طور پر شائع کئے جائیں تو آگہی میں تخفیف اور گمرہی کے بجائے معلومات میں اضافہ ہی ہو گا۔ موضوعاتی ترتیب کے اعتبار سے رسالہ اردو کا انتخاب شائع ہوجائے تو اردو کے طلباء کے لئے مفید ثابت ہوگا۔ ڈاکٹر یونس نے مشتملات کی فہرست پیش کرکے رسالہ اردو میں موجود خزینے سے نہ صرف واقف کرادیا ہے بلکہ یہ احساس کرادیا ہے کہ آج کے رسالوں کی حیثیت کشکول سے زیادہ نہیں ہے۔
انجمن کا دائرہ صرف ادبیات تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس نے سائنس سے بھی اردو کا رشتہ جوڑ دیا۔ اور اس رشتہ کی مضبوط شکل سہ ماہی سائنس کی صورت میں سامنے آئی۔جس کا پہلا شمارہ ڈاکٹر مظفر الدین قریشی صدر شعبہ کیمیا جامعہ عثمانیہ کی ادارت میں جنوری ۸۲۹۱ میں شائع ہوا۔ اس میں نہایت اعلی پائے کے سائنسی مضامین کی شمولیت ہوتی تھی۔ ڈاکٹر یونس نے ان مضامین کی فہرست درج کی ہے۔جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سائنسی علوم کا کوئی بھی زاویہ ایسا نہیں ہے جس کا احاطہ کرنے کی کوشش نہ کی گئی ہو۔ سائنسی رسائل آج بھی نکل رہے ہیں، مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی۔
انجمن نے جنوری ۶۴۹۱ میں طفیل احمد خاں کی ادارت میں رسالہ معاشیات بھی شائع کیا جس کی مجلس نظارت میں ماہرین معاشیات کے علاوہ دیگر اہم شخصیات شامل تھیں۔ اس میں معیشت سے متعلق گراں قدر تحریریں اور تبصرے شائع ہوتے تھے
انجمن نے اپنے دائرہ کار کو وسعت دیتے ہوئے ہماری زبان کے نام سے پندرہ روزہ اخبار یکم اپریل ۹۳۹۱ سے ریاض الحسن کی ادارت میں جاری کیا۔ بعد میں اس کی ادارت سے رفیق الدین اور پنڈت برج موہن دتاتریہ کیفی وابستہ رہے۔ ڈاکٹر یونس نے اس اخبار کے مضامین کی بھی فہرست سازی کی ہے جو یقیناًدشوار طلب کام تھا۔
ڈاکٹر یونس نے اس انجمن ترقی اردو ہند کی ۵۴ سالہ تاریخ کا پورا منظرنامہ ہماری آنکھوں کے روبرو کردیا ہے۔ جس کا قیام ۴ جنوری ۳۰۹۱ میں عمل میں آیا تھا، جس کے پہلے صدر پروفیسر ٹامس آرنلڈ (۹۱ اپریل ۴۶۸۱۔۰۱ جون ۰۳۹۱ ) اور سکریٹری مولوی محمد شبلی نعمانی (۷۵۸۱۔۴۱۹۱) تھے بعد میں ڈبلیو بیل، نواب عماد الملک سید حسین بلگرامی (۴۴۸۱۔۶۲۹۱)سرسید راس مسعود جنگ بہادر (۵۱ فروری ۹۸۸۱۔۰۳ جولائی ۷۳۹۱)سر تیج بہادر سپرو (۲۷۸۱۔ ۹۴۹۱)جیسے عمائدین بحیثیت صدور، مولوی نذیر احمد (۶ دسمبر ۱۳۸۱۔ ۲۱۹۱ )مولوی ذکا ء اللہ ( یکم اپریل ۲۳۸۱۔ ۷نومبر ۰۱۹۱ )مولانا الطاف حسین حالی ( ۷۳۸۱۔ ۴۱۹۱ )نائب صدور، مولانا حبیب الرحمن خاں شروانی (۵ جنوری ۶۴۸۱۔ ۱۱اگست ۰۵۹۱ )مولوی عزیز مرزا ( ۴۶۸۱۔۲۱۹۱) اور۔ مولوی عبد الحق (۰۲اگست ۰۷۸۱۔۶۱ اگست ۱۶۹۱)اس کے معتمد رہے جن کے زمانے میں انجمن نے خوب ترقی کی۔ انجمن کے دور کمال کی یہ وہ تصویر ہے جو ہمیں حالیہ زوال پر آنسو بہانے کے لئے مجبور کر رہی ہے۔ ماضی اور حال کا موازنہ کرتے ہوئے بس ایک شعر ذہن میں آتا ہے :
آگ تھے ابتدائے عشق میں ہم
ہوگئے خاک انتہا یہ ہے
بنارس کا صحافتی افق
یہاں صحافت کا افق بھی درخشاں رہا ہے۔ ۷۳۸۱ میں پادری شرسن کی ادارت میں خیر خواہ ہند شائع ہوتا تھا۔ ۹۴۸۱ میں ہربنس لال کی ادارت میں مراۃ العلوم نکلتا تھا۔ راجہ شو پرشاد ستارہ ہند کا بنارس اخبار دیو ناگری میں چھپتا تھا مگر اس کی خوبی یہ تھی کہ الفاظ فارسی کے ہوتے تھے اور اس کے پیچھے مدیر کی منطق بحوالہ مانک ٹالا یہ تھی کہ ’ راجہ کے خیال میں ’ہندی ایک گنوارو زبان تھی اور اسے زیادہ شائستہ بنانے کے لئے عربی، فارسی الفاظ کے دخول کی ضرورت تھی ‘’(پریم چند کا سیکولر کردار اور دیگر مضامین ص ۶۱۲)
ہفت روزہ آواز خلق بھی بنارس کا اخبار تھا،جس میں پریم چند کا ناول’اسرار معابد‘8 اکتوبر1903 سے یکم فروری1905 تک قسط وار چھپتا رہا۔
جاگرن ونود شنکر ویاس کا پندرہ روزہ اخبار تھا جسے پریم چند نے ہفت روزہ کی شکل میں نکالا۔ ۲۲اگست ۲۳۹۱ میں اس کا پہلا شمارہ شائع ہوا۔ ہنس کا بھی نقطہ آغاز بنارس ہی ہے۔ ’آفتاب ہند‘ بابو کاشی داس مشر کا رسالہ تھا۔ ایک رسالہ اضطراب بھی نکلتا تھا جس کے جولائی اگست 1941 کے مشترکہ شمارے پر رسالہ اردو اکتوبر 1941 میں تبصرہ شائع ہوئے۔ قومی مورچہ اور آواز ملک یہاں کے اہم اخبارات ہیں۔
قومی مورچہ بنارس کا مشہور و مقبول اخبار ہے جس کی ادارت سے تاج الدین اشعر رام نگری جیسی علمی، ادبی شخصیت وابستہ رہی ہے، جو صاحب نظر صحافی کے علاوہ صاحب سوز شاعر بھی ہیں، جن کے کئے شعری مجموعے شائع ہو کر مقبول ہو چکے ہیں اور صاحبان علم و دانش نے ان کی ستائش بھی کی ہے۔ نالہ ساز (1972)، متاع عقیدت (1997)، موج نسیم حجاز (2009) ان کے مجموعے ہیں۔ ان کے تعارف کے لیے پروفیسر ایم اے حفیظ بنارسی مرحوم سابق صدر شعبہ انگریزی مہاراجہ کالج آگرہ کی یہ سطریں زیادہ موزوں ہوں گی۔ اشعر کی تخلیقی شخصیت کے پس منظر کو جاننا بھی ضروری ہے:
’’تاج الدین اشعر رام نگری بنارس کے اس خاندان کے چشم و چراغ ہیں جو ایک عرصہ دراز سے جہاں ایک طرف علم دین کی تبلیغ و اشاعت میں سرگرم عمل ہے وہیں شعر و سخن اور ادب و صحافت کی بھی گراں قدر خدمات انجام دے رہا ہے۔ جناب اشعر، حضرت مولانا ابومحمد امام الدین رام نگری کے صاحبزادے، آسی رام نگری کے بھتیجے اور شاہد رام نگری کے برادر خورد ہیں۔ یہ تمام حضرات علمی، ادبی دنیا میں اس قدر مشہور و معروف ہیں کہ ان کے متعلق کچھ کہنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہو گا۔‘‘
نعت گوئی جیسی مشکل صنف سخن میں اشعر نے اپنے تخلیقی جوہر دکھائے ہیں۔ چند نعتیہ اشعار سے ان کی فکری طلعت اور اظہاری ندرت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے:
دکھوں کی ماری ہوئی خستہ آدمیت کو
نوید امن و سکون و سلام آپ کا نام
غموں کی دھند میں امید کی چمکتی کرن
بشارت دل ناشاد کام آپ کا نام
سواد لشکر شب سے میں ڈر رہا تھا معاً
چمک اٹھا سر سیمائے شام آپ کا نام
فتح مبین کا نہیں کثرت پہ انحصار
اس کا ثبوت بدر کے میدان سے ملا
ہے بزم تصور میں ضیا بار وہ ہستی
آنکھوں نے جمال رخ انور نہیں دیکھا
ادبی مجلاتی صحافت میں نئی صدی، تحریک ادب اور سبق اردو بھدوئی، سابق ضلع بنارس کے نام لئے جا سکتے ہیں۔
نئی صدی نے عارف ہندی کی ادارت میں جہاں نئی بلندیاں طے کی ہیں وہیں جاوید انور نے تحریک ادب کو اپنی مسلسل محنت سے نیا تحرک بخشا ہے۔ دانش الہ آبادی نے ’سبق اردو‘ کو نئی شناخت عطا کی ہے۔ پہلے یہ رسالہ جدیدیت کے زیر سایہ تھا مگر اب تحویل قبلہ کر کے مابعد جدیدیت کی آغوش میں چلا گیا ہے۔ یہ تمام رسالے ادب کے نئے مسائل و موضوعات کے ذریعہ قاری کے دلوں میں اپنا مقام بنا چکے ہیں۔ بنارس جیسی سرزمین میں جو ادبی جمود و تعطل تھا ان رسالوں کی وجہ سے وہ ٹوٹا ہے اور بنارس صحافتی منظرنامے پر اپنی تخلیقی رعنائیاں بکھیرنے میں اب کامیاب نظر آتا ہے۔
بنارس میں جانے کیسی مقناطیسی کشش تھی کہ علی حزیں کی طرح بہتوں نے اس کو اپنی کرم بھومی بنایا اور یہاں کی شام و سحر سے اپنے قلب و نظر کا رشتہ جوڑا ایسی شخصیتوں میں منشی غلام غوث بے خبر بھی تھے جو مرزا غالب کے دوستوں میں تھے۔ فغان بے خبر اور خوننابہ جگر جن کی اہم تصنیفات میں سے ہیں۔ رام بابو سکسینہ نے لکھا ہے کہ ’’یہ اپنے والدین کے ساتھ بہت کمسنی میں، جبکہ ان کی عمر چار برس کی تھی، بنارس آئے۔‘‘
تذکرہ گلزار ابراہیم کے مصنف نواب علی ابراہیم خاں خلیل اسی شہر میں جج کے منصب پر فائز تھے۔ حیدر بخش حیدری کی پرورش بھی اسی شہر میں ہوئی، جنہوں نے ’’قصہ مہر و ماہ‘‘ لکھا۔
’فسانہ عجائب‘ والے رجب علی بیگ سرور مہاراجہ ایشور پرساد نارائن سنگھ کی طلبی پر بنارس آئے اور یہیں شبستان سرور، فسانہ عبرت، گلزار سرور (فارسی کتاب حدائق العشاق) جیسی کتابیں لکھیں اور بنارس ہی میں 1867 میں فاطمان میں دفن ہوئے۔
بنارس وہ شہر ہے جس کی عظمتوں کو مثنویوں اور فلموں کی شکل میں بھی خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔ غالب نے چراغ دیر، لالہ متن لال آفریں نے کاشی استت اور ہدایت نے طویل مثنوی لکھی۔
Banaras A Mystic Love story کے نام سے ایک فلم بھی بنائی گئی جس میں ارملا ماتونڈکر نے ایک مالدار برہمن والدین کی بیٹی کا کردار ادا کیا ہے جو نچلی ذات کے ایک لڑکے کی محبت میں گرفتار ہے۔
Cell : 9873747593
h_qasmi@rediffmail.com

لمعۂ طور مظفر پور

(دوسری اور آخری قسط)

حقانی القاسمی
شاعری کے علاوہ صحافت کے میدان میں بھی مظفر پور کی جلوہ نمائیاں کم نہیں ہیں،اسی شہر سے کبھی اخبار الاخیا ر جیسا پندرہ روزہ اخبار نکلتا تھا۔ جس کے مالکان میں بابو اجودھیا پرشاد منیری اور منشی قربان علی قربان تھے۔ اسکا پہلا شمارہ 10ستمبر 1868میں شائع ہوا۔ یہ اتنا اہم اخبار تھا کہ قاضی عبدالودود جیسے عظیم محقق نے اس کی تفصیلات یوں لکھی ہیں:
’’اخبارالاخیار کے صفحہ اول میں مرقوم ہوا کرتا تھا یہ ’’ سینٹفک سو سیٹی (کذا) صوبہ بہار، کا اخبار تھا اور مطبع چشمہ نور’’ واقع قصبہ مظفر پور ضلع ترہت‘‘ میں چھپا کرتا تھا۔ یہ مہینہ میں دو بار نکلتا تھا اور اسکی سالانہ قیمت جس میں ڈاک کا محصول شامل نہ تھا، بارہ روپے تھی ۔ اسکے صفحہ ۱ میں یہ شعر بھی ہوا کرتا تھا:
چشمۂ نورلمعہ طوراست
پرچہ بینی ضیا آن نور است
ایک شمارے میں ۶۱ صفحات (تقطیع) ہوا کرتے تھے اور کاغذ اتنا برا استعمال ہوتا تھا کہ اب ’’ ہاتھ آئیں تو انہیں ہاتھ لگائے نہ بنے‘‘ کا معاملہ ہے‘‘۔ (بحوالہ چند اہم اخبارات و رسائل ، قاضی عبدالودود، ادارہ تحقیقا ت اردو پٹنہ1993ص 61) اس کے علاوہ ڈاکٹر سید احمد قادری کی تحقیق کے مطابق مظفر پور سے ممتاز تربیت (1880)مہر انور(شیخ محمد حسن ضیا) نسیم شمال 1946))ہفتہ روزہ ندائے عوام (سبط حسن رضوی) مرکز انوار (علوی القادری) لمحہ نور (شجاعت علی) گرم ہوا (ایس ہدی، عظیم اقبال) کردار ( نقی امام) شعاع مہر (1871) شہادت (مولانا امان اللہ) رضوان ( عطا الرحمن عطا کاکوی، سید علی حیدر نیر) بزم فکر وا دب ( ڈاکٹر شمیم احمد ) المحبوب (بسمل مظفروی) انعکاس (منظر اعجاز) ادراک ( قمر اعظم ہاشمی ، محمد سلیم اللہ) جیسے رسائل و اخبارات مظفر پور سے نکلتے تھے ۔ ان اخبارات کے علاوہ مظفر پور سے تعلق رکھنے والے اور بھی مدیران ہیں جن میں عارف اقبال (مدیر اردو بک ریویو دہلی)، ابرار رحمانی ( ایڈیٹر آج کل نئی دہلی) ،عتیق مظفر پوری اور تمنا مظفرپوری کے نام اہم ہیں۔ عتیق مظفر پوری نے افسانوی دنیا کے نام سے ایک رسالہ سلطان گنج پٹنہ سے نکالا جس کی ادبی حلقوں میں خاطر خواہ پذیرائی ہوئی۔ اسی رسالے کے چوتھے شمارے (اکتوبر1986) میں شین مظفر پوری ( محمد ولی الرحمن موضوع باتھ اصلی ضلع سیتا مڑ ھی سابق مظفر پور) کا انٹر ویو شائع ہوا تھا، جس میں انھوں نے انو آپا اور بند کمرہ کے بارے میں بتایا ہے کہ ان پر بہت زیادہ ردعمل ہوا اور فحش نویسی کا الزام بھی لگا۔ اسی شمارے میں شین صاحب کی ایک اہم تحریر ’’کتا جو دانشور نہ تھا‘‘ بھی چھپی تھی ،جو ادبی حلقوں میں موضوع بحث بنی رہی،تمنا مظفر پوری نے اطفالِ ادب ،گیا ، بچو ں کی دنیا، گیا کے نام سے رسالے نکالے۔
مظفر پور کا تنقیدی منظر نامہ بھی منور ہے، کہ سلسلۂ نقد سے ایسی شخصیتیں جڑی ہوئی ہیں، جنہوں نے تنقید کو نئی جہتوں سے روشناس کرایا ہے اور اپنے تنقید ی تحرکات سے نئی طرفیں کھولی ہیں، ان میں پروفیسر نجم الہدیٰ (فن تنقید اور تنقید نگاری، مسائل و مباحث) ، ڈاکٹر خورشید سمیع، پروفیسر قمر اعظم ہاشمی( اردو میں ڈرامہ نگاری بہار کے نظم نگار شعراء)، پروفیسر عبدالواسع اور ڈاکٹر ارشد مسعود ہاشمی (شکیل الرحمن کی غالب شناس، نفسی تجربے اور ادبی تخلیق) اور ڈاکٹر امتیاز احمد (شعبہ اردومسلم یونیورسٹی علی گڑھ) کے نام قابل ذکر ہیں، عبدالواسع کا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے بہار میں اردو سوانح نگاری اور فن سوانح نگاری پر نہایت ہی کتابیں لکھی ہیں، جو اتنی مستند ہیں کہ ڈاکٹر وزیر آغا جیسے ناقد نے یہ اعتراف کیا کہ ’’ان کے کام کی نوعیت ایسی ہے کہ اس کی موجودگی میں اس موضوع پر پیش کی گئی دیگر کتابوں کی حاجت نہیں رہتی ،نہ صرف اس لئے کہ ڈاکٹر عبدالواسع نے اپنے مطالعے میں تمام ماخذات کو برتاہے اور اپنے موضوع کے سلسلہ میں تمام ممکنہ معلومات یکجا کر دی ہیں بلکہ اس لئے بھی انہوں نے فن سوانح نگاری کو ایک تیسری آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ ‘‘
اس کے علاوہ’’ مفہوم کی سمت‘‘ ا ن کی ایک اہم کتاب ہے۔ جس میں 14مضامین ہیں اور یہ تمام مضامین نہایت اہم اور عرق ریزی کا مظہر ہیں، ولی کا تصوف ، غالب اور ظرافت کا فن ، یادگار غالب کا سوانحی جائزہ، انیس کی جذبات نگاری، مسدس حالی کی قدر و قیمت، شاد عظیم آبادی کی سوانح نگاری، مسجد قرطبہ ایک شاہکار، علم زبان، اردو کی ابتدا و آفرینش، تنقید ، تخلیق اور نظریات ، اردو تنقید پر مغرب کے اثرات ، اردو تنقید ذات و کائنات، سوانح نگاری کا فن ، بہار میں اردو سوانح نگاری، یہ وہ مضامین ہیں جن مین ان کی تنقیدی بصیرت اور امعان نظر کے نقوش مرتسم ہیں۔ ڈاکٹر عبدا لواسع کا کام اتنا اہم ہے کہ ان پر مناظر عاشق ہرگانوی نے پروفیسر عبدالواسع فن اور شخصیت کے عنوان سے ایک کتاب مرتب کی اور اس طرح عبدا لواسع کے تنقیدی اطراف و ابعاد کا احاطہ کیا، پروفیسر عبدالواسع کا تعلق گو کہ نالندہ ضلع کے استھانوں سے ہے، مگر بہار یونیورسٹی مظفر پور سے ان کا تدریسی تعلق رہا ہے۔
فکشن کے میدا ن میں بھی مظفر پور حسنِ مطلع کے ذیل میں آتاہے۔ یہیں سے شین مظفر پوری(جن کا افسانہ حلالہ بہت مشہور ہوا)، شفیع جاوید ، نعیم کوثر، منتخب فریدی، سلیم سر فرازوغیرہ کا تعلق ہے۔شفیع جاوید عصری فکشن کا ایک اہم نام ہے، گو کہ ان کا تعلق گیا سے ہے، مگر ان کی پیدائش مظفر پور میں ہوئی اور ان کا پہلا افسانہ ’’ آرٹ اور تمباکو ‘‘ مظفر پور کے دوران قیام ہی شائع ہوا۔ دائرے سے باہر، کھلی جو آنکھ ، تعریف اس خدا کی، رات شہر اور میں، ان کے افسانوی مجموعے ہیں۔ بحیثیت افسانہ نگار ان کی شناخت مستحکم ہے۔
تحقیق کے میدان میں ایک اہم نام ڈاکڑ ایس ایم زیڈ گوہر کا ہے جنہوں نے اردو میں پہلی بار رپورتاژ کے فن کی نہ صرف قدریں دریافت کیں بلکہ اسے ادب کیصنف قرار دیتے ہوئے اس کے تشکیلی عناصر، صنفی امتیازات اور افتراقی اجزاء پر عالمانہ گفتگو کی اور نثری ادب کی اس جدید صنف کے نقوش واضح کئے اور اس کی صنفی نوعیت کا تعین کیا۔انھوں نے ممتاز رپوتاژ نگاروں میں مرزا فرحت اللہ بیگ ،(دہلی کا یادگار شاہی مشاعرہ) کرشن چندر،(پودے)شاہد احمددہلوی(دلی کی بپتا)، محمود ہاشمی (کشمیر اداس ہے)، قرۃ العین حیدر( ستمبر کا چاند)، کے رپورتاژوں کا تجزیاتی مطالعہ پیش کیا ہے۔ اور آخر میں انھوں نے یہ نتیجہ اخذ کیاہے کہ:
’’رپورتاژ کی صنف افسانوی بصیرت اور تاریخی شعور رکھتی ہے، اس لئے فطری طور پر اس کے اسلوب کی کشش انگیزی اور معنویت بڑھ جاتی ہے، اگر چہ یہاں واقعات کا استنادی پہلو نمایاں رہتا ہے اور حقائق کی پیشکش ہی کو اہمیت حاصل ہوتی ہے، اس کے باوجود اسلوب تحریر خشک اور بے کیف نہیں ہوتا؛ کیونکہ رپورتاژ نگار کی ذاتی اور داخلی کیفیتیں اس کے حسن و اثر کو بڑھا دیتی ہیں، وہ چشم دید واقعات کا محض منشی اور محرر نہیں ہوتا؛بلکہ اپنی تخلیقی قوت اور فنی بصیرت سے انہیں ایسی روشنی بخشتا ہے جو ان واقعوں کی تابناکی و توانائی کو زیادہ توجہ طلب اور دیر پا بنا دیتی ہے۔ اس کے پیش نظر تاریخ ہوتی ہے، تاریخ سے وابستہ غیر معمولی واقعات و سانحات بھی ہوتے ہیں، اور ان واقعوں کے پس منظر میں موجزن جذبہ و احساس بھی۔ وہ ان تمام عناصر کو ایسے امتزاجی رنگ میں پیش کرتا ہے کہ رپورتاژ کی اسلوبی قوت پائیدار اور ادبی قدروں کی مظہربن جاتی ہے۔ اس فنی نوعیت کے رپورتاژ اردو میں کم لکھے گئے ہیں۔
عام طورپر ڈائری یا اخباری رودادوں میں بھی روز مرہ کے واقعات قلمبند کئے جاتے ہیں۔ مگر یہاں نہ مورخانہ شعور ہوتا ہے، نہ فنکار انہ بصیرت اور نہ تخلیقی اسلوب! فنی طورپر رپورتاژ کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ اس میں یہ تینوں عناصر متوازن رنگ میں پیش کئے گئے ہوں اور رپورتاژ نگار نے ضبط و نظم سے کام لیا ہو۔
واقعہ نگاری، کردار نگاری اور ماحول آفرینی کے اجزاء رپورتاژ کے ضروری عناصر ہیں۔ لیکن ان تینوں عناصر کے بر تاؤ کا رنگ ، افسانہ سے مختلف ہوتا ہے۔ افسانہ میں تخیل و تصور، احساس اور جذبہ کی رنگ آمیزی کا پہلو بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ افسانہ نگار، کردار حسب ضرورت خلق کرتا ہے، واقعات گڑھتا اور نئے ماحول کی تشکیل بھی کرتا ہے۔رپورتاژ نگار کو نہ اس کی مہلت ہوتی ہے، نہ اس کی گنجائش۔ وہ حقائق حیات ہی سے واقعات کا انتخاب کرتا ہے۔ ان میں غیرضروری اضافے یا تخفیف کی اجازت اسے نہیں ہوتی ہے۔ اس کے کردار بھی معلوم و مقرر ہوتے ہیں۔ وہ ان کی سیرتوں کی تشکیل بھی اپنی خواہش یا مرضی کے مطابق نہیں کر سکتا ۔ جن حالات اور ماحول میں واقعات رونما ہوتے ہیں، ان میں بھی کسی طرح کی تبدیلی کا حق اسے حاصل نہیں ہوتا۔ وہ رپورتاژ کے صنفی تقاضوں کو اس احتیاط اور خوش اسلوبی سے برتتا ہے کہ قاری ان تمام حقیقتوں کا ادراک ایک فطری ڈھنگ میں کرتا چلا جاتاہے۔
رپورتاژ کے اسلوب تحریر کا بیانیہ پہلو بھی اس کے صنفی امتیاز کا سبب ہے۔ رپورتاژ نگار تمام واقعوں اور تجربوں کو ایک فطری سادگی، سہولت اور تسلسل کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ اس کے اسلوب میں تصنع نہیں ہوتا، آرائش اور جذبہ و احساس کی فراوانی بھی نہیں ہوتی ہے۔ لیکن وہ واقعوں کو ان کی داخلی کیفیتوں سے اہم آہنگ کر کے پیش کرتا ہے۔ انداز بیان کی پیچیدگی چونکہ ذہنی رکاوٹ کاسبب بنتی ہے اور اس کا بوجھل پن اسلوبی رخنہ پیدا کرتا ہے، اس لئے رپورتاژ کے لئے سادگی و صفائی اور شادابی تحریر ضروری ہے۔ فنی طورپر رپورتاژ کی کامیابی کیلئے اس میں اس عنصر صفت کا موجود ہونا لازمی ہے۔ (ص 134-135)اردو رپورتاژ نگاری پر گو کہ ڈاکٹر عبدالعزیز کی کتاب پہلے ہی چھپ چکی تھی۔ مگر ریسرچ کی سطح پر اردو میں رپورتاژنگاری پریہ اپنی نوعیت کی پہلی کتا ب ہے۔ کیونکہ اس میں صرف رپورتاژ جمع نہیں کئے گئے ہیں بلکہ اس کے صنفی لوازمات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے اور تحقیق و تدقیق کے جملہ تقاضوں کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔
اس شہر کے لئے باعث ناز و فخر بات یہ بھی ہے کہ یہیں کے موضع مہر تھا، کانٹی سے ماہر اقبالیات بدیع الزماں (پ: 22اگست 1922، م: 9ستمبر2010) کا تعلق ہے، جنہیں اقبال سے بے پناہ عشق اور لگاؤ ہے کہ انھوں نے اقبالیات کے لئے اپنی زندگی وقف کر دی۔ شاید ہی کوئی ایسا گوشہ ہو، جسے انھوں نے چھوڑا ہو۔ اقبال شناسی کے ضمن میں ان کی کتابیں( اقبال کے کلام میں قرآنی تعلیمات، اقبال: شاعر قرآن، اقبال کا پیام نوجوانان اسلام کے نام، مجھے ہے حکم اذاں، رہ گئی رسم اذاں) بہت اہمیت کی حامل ہیں۔
شبیر احمد حیدری بھی مظفر پور کی اہم شخصیت تھے بینی آباد کے ساکن حیدر نے احوال و آثار محمد افضل سر خوش پر نہایت عمدہ تحقیقی کام کیا ہے۔ اخلاق جلالی، چہار مقالہ، برگزیدہ قصائد عرفی کی ترتیب ترجمہ اور تحشیہ نے تحقیق میں انہیں امتیاز عطاکیا ہے۔
Email: haqqanialqasmi@gmail.com
Cell: 9891726444

لمعۂ طور مظفر پور

(پہلی قسط)
حقانی القاسمی
لیچی مظفرپور کی شناخت کا صارفی حوالہ ضرور ہے، مگر اس سے اس شہر کی باطنی عظمت یا حشمت ظاہر نہیں ہوتی،اسکی داخلی توانائی اس کی تخلیق و تہذیب میں ہی مضمر ہے کہ دانش کی دنیا میں تخلیقیت ہی عظمت کا حوالہ بنتی ہے، تخلیق ہی اقداری نظا م کی تشکیل کرتی ہے،Enculturationکا فریضہ انجام دیتی ہے اور معاشرہ کو Anomieسے محفوظ رکھتی ہے۔
ہر سرزمین کی طرح مظفرپور کی بھی اپنی ایک شخصیت ہے ،جس کے داخلی اور خارجی اسالیب اسکی عمارتوں اور اشخاص کی شکل میں نمایاں ہیں، مگر اس کی شخصیت کا اصل انعکاس تخلیقی افراد میں اس طرح ہوتا ہے کہ شہر ایک شخص اورپھر انجمن میں تبدیل ہو جاتا ہے، زمین بھی اپنی شخصیت کی ترتیب و تنظیم کچھ اس طرح کرتی ہے کہ اس کا داخلی آہنگ اجتماعی وجود میں تحلیل ہو جائے اور پھر اسی سے شہر کے وجود کی مابعد الطبیعاتی کلیت منکشف ہوتی ہے اور شہر کی سوشیو۔ بایولو جی سے بھی آگہی ہوتی ہے۔
مظفر پور شہر کی شناخت کے تشکیلی اجزا کو استحکام تخلیق نے ہی عطا کیا ہے ،جو گو کہ فرد کی اظہاری قوت کا اشاریہ ہوتی ہے، مگر اسی سے وہاں کی اجتماعی تخلیقی توانائی کی فضا بھی تشکیل و ترتیب پاتی ہے۔
ادب کے مختلف شعبوں اور اصناف کو یہاں کے متو طن اور مقیم افراد نے جو وسعتیں عطا کی ہیں وہ اہل نظر سے پوشیدہ نہیں ہیں اور یہ اندازہ لگانا آسان ہے کہ یہاں کی زرخیز مٹی میں تجسس، تفحص، حسنِ تخیل اور ندرتِ اظہار کی کونپلیں پھوٹتی رہتی ہیں، حیرت ہوتی ہے کہ اس سرزمین سے تعلق رکھنے والے ایسے بھی شعرا ہیں ،جن کی شاعری میں بے پناہ تخلیقی وفوراور کیفیتِ تحیر ہے۔مضطر مظفر پوری کے اشعار میں کیسی کیسی موجیں ہیں کہ حیرتوں کے دروا ہو جاتے ہیں، ایسی ایسی ندرتیں اورایسی جدت طرازیاں کہ گویا کلاسیکی شاعری کا باب کھل گیا ہو:
پوچھا کہ پاؤں کیوں نہیں پڑتے زمین پر
بولی صبا کہ آتے ہیں ان کی گلی سے ہم
اف نگاہِ نیم بسمل کا اثر
دور تک روتا ہوا قاتل گیا
سر بھی قاتل کا دل بھی قاتل کا
ہائے کوئی نہیں ہے بسمل کا
مٹی نصیب ہو نہ سکی کوئے یار کی
آخر اٹھا دیے گئے ان کی گلی سے ہم
اٹھ گیا قیس اٹھ گئی لیلیٰ
پردہ اب تک اٹھا نہ محمل کا
تڑپ رہی ہے جو ابرِ سیاہ میں بجلی
فراق میں یہی نقشہ تھا ہو بہ ہو میرا
مظفر پور کے چند اور اشعار جن سے وہاں کی تخلیقی زرخیزی ،ندرتِ افکار اور جدتِ اظہار کاانعکاس ہوتاہے:
خوشتر عجب نہیں مری مٹی وہیں کی ہو
اک ربطِ خاص ہے مجھے ان کی گلی کے ساتھ
(خوشتر مظفرپوری)
جو کچھ کہا کہا، نہیں اس کا گلہ مجھے
تو بے وفا ہے آپ نے یہ کیا کہا مجھے
(احقر مظفرپوری)
ایک احسان رہ گیا سر پر تمہاری تیغ کا
ورنہ جو کچھ مشکلیں تھیں آج آساں ہو گئیں
(اختر مظفر پوری)
اور اونچی ہو گئی دیوارِ زنداں دیکھنا
جیسے کوئی جرم ہو سوئے گلستاں دیکھنا
(خوشتر مظفر پوری)
کسی کو کیا خبر بسمل کے دل پہ کیا گذرتی ہے
یہاں سب ہیں خم ابروئے قاتل دیکھنے والے
(سید مظفر پوری)
کہتے ہیں کہ نتھونی لال وحشی بھی یہیں کے تھے، جن کا یہ شعر بہت مشہور ہے:
مزاجِ حسن کو میں نے بدل دیا وحشی
غرورِ عشق ہے سرخی مرے فسانے کی
اور اسی طرح ظفر حمیدی (جو حافظ قرآن تھے ،بعد میں MBBSہوئے اور لندن سے ایم آر سی پی کی ڈگری حاصل کی)کے یہ شعر اپنے اندر تخیل کی بے کراں کائنات سمیٹے ہوئے ہیں:
حوصلہ چائیے تعمیر نشیمن کیلئے
شکوہ خانہ بر انداز سے کیا ہوتا ہے
کتنی مبہم ہے ابھی وقت کے دل کی دھڑکن
ایک ٹوٹے ہوئے بربط کی صدا ہو جیسے
بچ گیا کل کسی حکمت سے نشیمن اپنا
آج کی تند ہوا دیکھئے کیا کرتی ہے
مظفر پور کے یہ شعر ایسے ہیں جن میں تخیل کی بلندیا ں، رعنائیاں سمٹ آئی ہیں اور ان میں زبان زدِ خلائق بننے کی قوت بھی موجود ہے اوریہی وہ اشعار ہیں ،جن سے مظفر پور شہر کے داخلی احساس و آہنگ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
مظفر پور سے ہی فارسی کے ایک اہم شاعر کا تعلق ہے،جن کا نام منشی کیولا پرساد فقیر تھا، جن کے بارے میں فصیح الدین بلخی نے اپنی کتاب تذکرہ ہندو شعرائے بہارمیں لکھا ہے کہ’’ منشی کیولا پرشاد فقیر ساکن مظفر پور ، بڑے ذی علم شاعر وادیب اور خوشنویس تھے، عربی ، فارسی ، سنسکرت اور اردو پر بھی پوری دستگاہ رکھتے تھے۔‘‘
ڈاکٹر رضوان اللہ آروی نے ان کی شخصیت و شاعری پر لکھتے ہوئے بڑے اہم انکشافات کئے ہیں، انھوں نے انکی خوشنویسی کے تعلق سے فصیح الدین بلخی کے حوالے سے لکھا ہے کہ : ’’ ان کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ایک رباعی اس قدر خوب صورت نستعلیق میں لکھی ہوئی ہے کہ اگر یا قوت زندہ ہوتا ،تو اس کی پوری داد مل سکتی تھی، دیکھنے والوں کا اس صفحہ سے نظر ہٹانے کو جی نہیں چاہتا۔‘‘
منشی کیولا پرشاد کے بارے میں ڈاکٹر رضوان آروی نے بہت معتبر اور مستند معلومات فراہم کی ہیں اور یہ واضح کیا ہے کہ ان کا دیوان حضرت علی کی منقبت پر مشتمل ہے اور یہ بہار کی اولیات میں سے ہے، انھوں نے ان کے سوانحی اور شعری کوائف کے تعلق سے لکھا ہے کہ’’ شاعری میں جناب فقیر کو داروغہ سید مبارک علی طالب ( ایک غیر معروف شاعر) سے تلمذحاصل تھا، جن کی کئی غزلیں دیوان فقیر میں شامل ہیں، جناب فقیر کی سوانح کا واحد ذریعہ ان کی ایک اردو مثنوی ہے جس سے ان کے حالات پر روشنی پڑتی ہے، اس کے بعض اشعار اس بات کی طرف اشارہ کناں ہیں کہ منشی کیولا پرشاد راجہ رام نراین موزوں کی اولاد میں تھے، وہ کہتے ہیں:
میں احوال اپنا لکھوں مختصر
نہیں کذب کا اس میں کچھ ہے اثر
کہ تھے ازبزرگانِ من رنگ لال
دو فرزندان کو لکھوں ان کا حال
(یہاں دو فرزندوں سے مراد نراین اور ان کے بھائی دھیرج نراین ہیں)
منشی کیولا پرشاد کے اشعار میں جناب فصیح بلخی نے ایک اردو دیوان قلمی، ایک اردو مثنوی اور چند قلمی وصیلوں کا ذکر کیا ہے۔ جو انہیں سید شاہ تقی حسن بلخی کے کتب خانے سے دستیاب ہوئے تھے؛ لیکن حیرت ہے کہ ان کی نگاہ سے فقیر کا ایک مطبوعہ فارسی دیوان مخفی رہ گیا:
فصیح الدین بلخی نے اپنا تذکرہ جولائی 1861میں مکمل کیا ہے، جب کہ فقیر کا فارسی دیوان 1872کے آس پاس مطبع متھلا، مظفر پور سے شائع ہو چکا تھا جس کا واحد نسخہ خدا بخش لائبریری میں موجود ہے۔ سرورق کی اس عبارت سے دیوان کا مختصر صوری تعارف ہو جاتا ہے:
’’ من تصنیفات شاعری مثال شیریں مقال عاشق زار حیدر کرار منشی کیولا پرشاد صاحب خورشید رقمی کتاب لا جواب مسمی بہ دیوان فقیر معروف بہ عاقبت بخیر ، حسب فرمائش شیخ بہرام علی صاحب طالب العلم بہ مطبع متھلا واقع قصبہ مظفر پور رونق طبع یافت‘‘۔
(بحوالہ بازیافت ، دارالاشاعت ، خانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف ، پٹنہ ،1996ص 102)
ڈاکٹر آروی نے ذات رسول سے ان کی عقیدت کا شناس نامہ اس ہفت بند نعت شریف کو قرار دیا ہے جو انھوں نے 1286ہجری میں مظفر پور میں قلم بند کیا تھا۔ اور جسے فصیح الدین بلخی نے خانقاہ فتوحہ کے کتب خانہ سے حاصل کر کے اپنی کتاب میں شامل کیا ہے۔
اصغر علی بیدل کا تعلق بھی مظفر پور سے تھا، جو اڑیسہ میں جا کر مقیم ہو گئے اور وہاں کی تاریخی اور تخلیقی شناخت کا ایک روشن نشان بن گئے، ان کا امتیاز یہ ہے کہ انھوں نے ہی تاریخی دلائل اور شواہد سے یہ ثابت کیا کہ عہدِ مغلیہ میں اڑیسہ کا اولین دارالسلطنت پوری ضلع کا مقام پپلی ( پیر پلی) تھا (بحوالہ حفیظ اللہ نیول پور، اڑیسہ میں اردو ص 392) ۔ اڑیسہ کی تمدنی علمی فضا پر ان کی تحقیقات قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں، راونشا کالج کٹک میں اردو فارسی شعبہ کے صدر اور شمس الدین منیری کے شاگرد اصغر بیدل اچھے شاعر بھی تھے، ممتاز ناقد پروفیسر کرامت علی کرامت نے شعرائے اڑیسہ کے تذکرے پر مشتمل اپنی گراں قدر تالیف ’’آب خضر ‘‘ میں ان کے اشعار درج کئے ہیں، جن سے ان کی قدر ت کلامی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے:
شباب آیا کسی کا کہ ایک فتنہ نے
نکالی راہ نئی سر اٹھا کے آنے کی
قسمت نے جب چمن سے نکالا تو ہم کوکیا
فصل بہار ہو کہ خزاں کا زمانہ ہو
سنا ہے ان کو نیند آتی ہے سن کر داستاں کوئی
مگر نیند آئے جس سے وہ ہماری داستاں کیوں ہو

Email: haqqanialqasmi@gmail.com
Cell: 9891726444

اردوکی ’’ورجینا وولف‘‘ قرۃ العین حیدر

 
ڈاکٹر تہمینہ عباس
قرۃ العین حیدر 20 جنوری1926ء کو علی گڑھ میں پیدا ہوئیں انھوں نے زندگی کا ابتدائی حصہ پورٹ بلیئر (جزائر انڈیمان ، نکوبار) اور مشرق میں گزارا۔دہردون کانونٹ اور ازابیلا تھوبرن کالج ، لکھنؤ یونیورسٹی سےانگریزی ادب میں ایم اے کیا۔قرۃ العین حیدر کا گھراناروشن خیال اور اعلی تعلیم یافتہ تھا۔قرۃ العین حیدر نے چھ سال کی عمر میں پہلی کہانی تحریر کی ۔ان کے والد سجاد حیدر یلدرم اور نذر سجاد ظہیر صاحب طرز ادیب اور اولین خاتون افسانہ نگار تھیں ۔قرۃ العین حیدر اردو ادب میں عینی آپا کے نام سے معروف ہیں۔
انھوں نے اس وقت ناول نگاری شروع کی جب اردو ادب شاعری کے زیر اثر تھا ۔ان کا خاندان نسلوں سے تعلیم یافتہ تھا۔گھر میں علمی اور ادبی ماحول تھا ۔نیز ان کے گھرانے پر مغربی تہذیب و تمدن کے اثرات بھی نمایا ں تھے۔جس کے مثبت اثرات قرۃ العین حیدر نے بھی قبول کیے۔ان کا گھرانہ ماڈرن بھی تھا اور پرانی اقدار کی پاسداری کرنے والا بھی ، اس زمانے میں بھی اس گھرانے کی خواتین اعلی تعلیم یافتہ تھیں۔ان کی شخصیت پراپنے گھرانے کے گہرے اثرات نظر آتے ہیں۔یہ ہی وجہ ہے کہ ان کی کہانیاں ، ناول، اور دیگر تحریریں اسی لکھنؤ ، اپنے خاندان ،گھریلو ماحول، فضا اور اپنی ذات کے گرد گھومتی ہیں۔
ان کی مشہور تصانیف ،(ناول) میرے بھی صنم خانے، سفینۂ غم دل، آگ کا دریا، آخر شب کے ہمسفر، گردش رنگ چمن، چاندنی بیگم، کارجہاں دراز ہے،(افسانوں کے مجموعے)ستاروں سے آگے، شیشہ کا دل، ہیں۔
قرۃ العین حیدر نے 1956ء میں قیام پاکستان کے دوران اپنا مشہور ناول ’’ آگ کا دریا ‘‘ تحریر کیا ۔اس ناول کی اشاعت کے بعد ان کو بے شمار اعتراضات،مخالفتوں اور طعن و تشنیع کا سامنا کرنا پڑا۔’’آگ کا دریا‘‘ پڑھتے ہی انسانی ذہن جگر مراد آبادی کے اس مشہور صرعے کی طرف چلا جا تا ہے۔
’’ایک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جا نا ہے‘‘
قرۃ العین حیدر نے ’’آگ کا دریا‘‘ پر کیے گئے اعتراضات کا جواب ’’ کارجہاں دراز ہے‘‘ میں دیا ہے۔انھیں پاکستان میں قیام اور ملازمت کے دوران لوگوں کے عجیب و غریب رویے کا سامنا کرنا پڑا۔کسی نے انھیں ہندوستان نواز کہا کسی نے انھیں دیوی جی کا خطاب دیا۔پاکستان میں ملازمت کے دوران بھی ناانصافیوں کا سامنا کرنا پڑا۔جن سے دلبرداشتہ ہوکر قرۃ العین حیدر واپس ہندوستان چلی گئیں۔قرۃ العین حیدر کی ذہنی سطح بلند تھی۔وہ آگے تک سوچنے کی صلاحیت رکھتی تھیں ۔شمیم حنفی کا قرۃ العین حیدر کے حوالے سے کہنا ہے کہ ان کی پرانی کہانیوں پر نظر ڈالی جائے تو اس بات کا احساس ہوتاہے کہ ہمارے آج کے لکھنے والے آج جہا ں پہنچے ہیں وہ ان منزلوں تک اپنے ابتدائی زمانے میں پہنچ چکی تھیں ۔
قرۃ العین حیدر ہر حوالے سے ایک منفرد شخصیت تھیں۔بیسویں صدی کی نوجوان لکھنے والی خواتین میں قرۃ العین حیدر کی شخصیت زیادہ باوقار اور نمایاں تھی۔خواہ یہ وقار ان کے بالائی طبقے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے ہو۔انھوں نے حق تلفی، ناانصافی، سماجی ناز برداری، عدم مساوات، امن و آشتی، مشترکہ کلچر کی تباہی،اخلاقی زوال اور انسانیت کے دکھ کو نہ صرف محسوس کیا بلکہ اپنی تحریروں میں ان حقائق کا پر زور اظہار بھی کیا۔اور انسانی اقدار کی تباہی پر ماتم کنا ں بھی رہیں۔قرۃ العین حیدر کو ان کی علمی اور ادبی خدمات کے سلسلے میں مختلف علمی اور ادبی انعامات و ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
1967میں ’’پت جھڑ کی آواز‘‘ پہ ساہتیا علمی ایوارڈ ملا۔1969ء میں انھیں تراجم کے سلسلے میں ’’ سویت لینڈ نہروایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا۔1982 ء میں مجموعی ادبی خدمات کے سلسلے میں اتر پردیش اردو اکیڈمی نے انھیں اپنے سب سے بڑے اعزاز سے نوازا۔1984ء میں ’’پدم شیریں‘‘ ایوارڈ ملا۔1990ء میں بھارت کا سب سے بڑا علمی اور ادبی ایوارڈ و اعزاز’’گیان پیٹھ ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا۔1988ء میں ’’ اقبال سمان‘‘ اور 1994ء میں بہادر شاہ ظفر ایوارڈ سے نوازا گیا۔
قرۃ العین حیدر 1949ء میں بھارت سے پاکستا ن آگئی تھیں۔1950ء میں وہ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں پبلک انفارمیشن آفیسر تعینات رہیں۔کچھ عرصے ایئر لائن سے بھی وابستہ رہیں۔اسی دوران لندن میں پاکستانی ہائر کمیشن میں پریس آتاشی کی خدمات سر انجام دیں۔ڈاکیومینٹری فلموں کی پر ڈیو سراورپاکستان کواٹر لیگ کی ایڈیٹر بھی رہیں۔اسی دوران ’’ آگ کا دریا‘‘ منظر عاپر آگیا اور عینی آپا 1981ء میں واپس بھارت چلی گئیں۔بھارت میں اردو ادب کی خدمت کے عوض متعدد اعزازات حاصل کیے۔
اردو ادب کی یہ نامور مصنفہ اور ’’آگ کا دریا ‘‘ جیسے ناقابل فراموش ناول کی تخلیق کار کیلاش ہاسپٹل نوئیڈا میں ایک ماہ کی مدت سے زیادہ زیر علاج رہیں اور بالاخر 21اگست 2007ء کی درمیانی شب اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔
*ڈاکٹر تہمینہ عباس کراچی یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔

مشرقی تنقید: ابتداوارتقا

عبدالباری قاسمی
ریسرچ اسکالر شعبۂ اردودہلی یونیورسٹی
مورخین اور اہل علم حضرات نے جغرافیائی اعتبار سے دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کیاہے مشرق اورمغرب ،مغرب بول کر یورپ مرادلیا جاتا ہے اور مشرق     سے ایشیا،دنیا کے اس خطے میں بہت سی زبانیں بولی جاتیں ہیں، مگر خاص علمی اور ادبی زبانوں میں عربی، فارسی ، سنسکرت ، چینی،جاپانی، ترکی اور اردو کو شامل کیا جاتا ہے، اردو تنقید کے حوالہ سے جب گفتگو ہوتی ہے تو عام طور پر سنسکرت ، عربی اور فارسی زبانوں کے پیش نظر ہوتی ہے،عربی اور فارسی تو اس لیے کہ اردو کے بہت سے اصنافِ سخن انہیں زبانوں سے منتقل ہو کر اردو میں آئے ہیں اور سنسکرت اس لیے کے پراکرت اور مقامی زبانوں کے زیر اثر ہی اردو پروان چڑھی ہے، مشرقی زبانوں کا جب ہم گہرائی سے جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ قدیم زمانہ سے یہاں کی زبانوں میں تنقید کا رواج رہا ہے اور خاص طور پر عربی، سنسکرت، چینی اور جاپانی زبانوں میں تنقید کا سلسلہ عہد قدیم میں ہی شروع ہو چکا تھا، مشرقی تنقید کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ’’ یہ شاعری کی ہیئت ، الفاظ کی چکا چوند اور شاعری کے فنی محاسن سے تعلق رکھتی ہے‘‘، پروفیسر سلیمان اطہر جاوید نے لکھا ہے کہ ’’مشرقی شعریات یا مشرقی تنقید وہ ہے جو اردو پر سنسکرت ،عربی اور فارسی کے اثرات سے برگ و بار لائی‘‘۔ مشرقی تنقید بنیادی طور پرکسی خاص زاویۂ نگاہ پر زورنہیں دیتی ، بلکہ اس میں جذبہ و احساس ، الفاظ کی قدرو قیمت روز مرہ، محاورہ ، تشبیہ، استعارہ ،اشارے ، کنایے اور تلمیحات کو پیش نظر رکھ کر فن پارہ کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ سنسکرت کے اہم تنقید نگاروں میں بھر ت منی، آنندور دھن اور ابھینو گیت وغیرہ ہیں، عربی میں محمد بن سلام الحجمی، قتیبہ، قدامہ بن جعفر، جاح، ابن رشیق، ابن المعتز اور ابن خلدون اہم ہیں ، فارسی میں امیر عنصر المعالی کیکاؤس، نظامی عروضی، رشید الدین و طواط اور شمس قیس رازی وغیرہ اہم ہیں جبکہ اردو تنقید نگاروں میں محمد حسین آزاد، الطاف حسین حالیؔ ، شبلی نعمانی اور عبد الرحمن بجنوری وغیرہ اہم ہیں یہ حضرات مشرقی نقطۂ نظر سے ہی تنقید کرتے تھے، مشرقی تنقید اور خاص طور پر اردو کے متعلق یہ مشہور ہے کہ اردو تنقید کی ابتداء مغرب کے زیر اثر ہوئی، یہ بات یہاں تک تو درست ہے کہ مشرق میں پہلے باضابطہ تنقیدی نظام نہیں تھا، حالی نے مغرب کے باضابطہ تنقیدی نظام سے متا ثر ہوکر اردو میں با ضابطہ تنقیدی نظریات کی بنیاد رکھی، مگر یہ بات بھی مسلم ہے کہ حالیؔ نے مقد مہ شعر وشاعری کی بنیاد مشرقی تنقیدی نظریات پر رکھی ہے، البتہ انہوں نے بطور مثال مغربی علماء کا بھی نام پیش کیا ہے ہم اس مقالہ میں تفصیل سے مشرقی تنقیدکی بنیاد وں اور ان نظریات پیش کرنے والے علماء ،پر گفتگو کریں گے۔
چینی زبان میں تنقید: تنقیدی تصورات کے جو اہم گہوارے ہیں ان میں چین کو بھی اہم مقام حاصل ہے، اس سلسلہ میں محمد حسن نے لکھا ہے کہ تنقیدی تصورات کے تین اہم گہوارے ہیں (۱)چین(۲)ہندوستان اور(۳)مغربی ایشیاء‘‘ چینی قدیم زبانوں میں سے ایک ہے، اس کا رسم الخط تصویری ہے یعنی ہر لفظ ، کسی واقعہ یا کسی کیفیت کی تصویر ہے یا اس کا علامتی اظہار ہے، چین میں چھٹی صدی قبل مسیح، ہی کلاسیکی ادب کی شروعات ہو چکی تھی اس کے اولین ادبیات تین حصوں پر منقسم ہیں (۱)شیہہ چنگ (گیت) (۲)شوچنگ (تاریخی تحریریں)(۳)اورائی چنگ(مذہبی ادب) چینی ادب میں لکھی جانے والی قدیم کتاب محققین کے مطابق’’ تاؤ تے چنگ اور کنفوشس‘‘ ہے جسے لاؤزے چنگ نے۵۵۱ تا ۴۷۹ق کے دوران لکھی، یہ مذہبیات پر مشتمل ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے چین میں ابتدائی دور میں ویسا ہی ادب لکھنے کا رواج تھا جو عام طور پر ایشیائی ممالک کا رجحان تھا۔
چینی ادب میں سب سے پہلی تنقیدی کتاب ’’ون ہیں ٹی آولنگ‘‘ (ادب کے دل میں اژدہا) ہے ۔ یہ کتا ب چھٹی صدی عیسویں میں لکھی گئی اس کتاب کے مصنف کے متعلق محمد حسن نے لکھا ہے کہ ’’ اس کتاب کا مصنف لی ین ہنگ وجدان پر زور دیتا ہے، جذبات کو اُچھالتا ہے‘‘(ص؛ ۹۳ ، مشرق و مغرب میں تنقیدی تصورات کی تاریخ)چینی زبان میں دوسری تنقیدی کتا ب ’’چوبنگ‘‘ ہے ، جسے لی لی ونگ نے تحریر کیا ۔ یہ کتاب تیرہویں صدی عیسویں میں لکھی گئی، اس میں گیت، پلاٹ ، کردا، ظرافت اور ڈرامے کے اجزاپر تنقیدیں ہیں، چینی ادب کو اجتماعی ادب سے تعبیر کیا جاتا ہے ، چینی تنقید کی بنیاد تین نظریات پر ہے، (۱) فوہ (بیان ) (۲ ) پائی ( استعارہ) (۳) ہنگ (تلمیح)۔
جاپانی زبان میں تنقید:جاپانی بھی قدیم زبانوں میں سے ہے اور چینی ادب کی طرح اس کے ادب کا بہت بڑا ذخیرہ اجتماعی ہے، جن کے مضمون اور تحقیق کا روں کے نام معلوم نہیں ہے، اس زبان میں مناظر فطرت اور قدرت کے حسین مناظر کی بہت اہمیت ہے ، جاپانی ادب کے تصور کو محمد حسن نے اس انداز سے بیان کیا ہے کہ ’’ جاپانی ادب کا مر کزی تصور ہے(۱) زندگی کی بے ثباتی اور (۲) اشیا کاا حساس ، ان تصورات کے پیچھے جاپانی ادب کا نظریہ ملتا ہے ، جاپانی ادب میں ڈرامہ میں’’نوہ ڈرامے‘‘ شاعری میں ’’ہائیکو‘‘ اور نثر میں ’’گنجی کی کہانی‘‘ کو بہت اہم مقام حاصل ہے، نوہ ڈرامہ کا تعلق نفسیاتی کیفییات سے ہے اور ہائیکو کا تصور سنسکرت کے دھونی کے نظریہ کی طرح ہے، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مشرقی تنقید اور ادب کی آپس میں کس طرح کی فکری مناسبت ہے۔
سنسکرت میں تنقید: سنسکرت زبان عہد قدیم کی زبانوں میں سے ایک ہے بعض محققین کے مطابق جس زمانہ میں ارسطو نے ’’بوطیقا‘‘ لکھی اسی کے قریب یا اس سے کچھ پہلے سنسکرت زبان کے پہلے تنقید نگار بھرت منی نے اپنی معرکۃ الارا کتاب ’’ناٹیہ شاستر‘‘ میں رس کا نظریہ پیش کیا تھا، اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سنسکرت زبان میں تنقیدی نظام کس قدر قدیم ہے اور مشرقی تنقید کا سلسلہ کس قدر پہلے شروع ہوچکا تھا؟ جس طریقے سے عربی وغیرہ دنیا کی دیگر زبانوں میں لفظ ومعنی کی بحث ہوتی ہے اسی طرح سنسکرت میں شبد اور ارتھ سے، مگر ان کی بنیاد زبان کے مسائل کے متعلق ہے، اس دائرے میں ویاکرن (گرامر) منطق کے دبستان نیائے ، ویدانتی فکر’’ میما نسا‘‘اور النکارشاستر یعنی بدیعیات وغیرہ آتے ہیں ا ور جب شعریات کے متعلق گفتگو کرتے ہیں تب رس ، دھونی کے نظریہ اور النکار سے بحث ہوتی ہے، ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی نے اس کی وضاحت ان لفظوں میں کی ہے:۔
’’جہاں تک لسانی نزاکتوں سے الگ محض شعریات کا مسئلہ ہے تو اس کا ارتقاء تین نظریات کے حوالے سے زیادہ بہتر طریقے سے جامعیت کے ساتھ پیش کیا جا سکتا ہے پہلا نقطۂ نظر رس کی جمالیات کا ہے، دوسرا دھونی کے نظریے کا اور تیسرا نظریہ النکار کاہے‘‘۔
پروفیسر نورالحسن نقوی نے رس کی تعریف اس طرح کی ہے؛۔
’’رس یعنی وہ شئی جو سامعین کے دلوں میں مختلف کیفیتیں پیدا کر کے انہیں متاثر کرتی ہے۔‘‘(ص؛۶۷، فن تنقید اور اردو تنقیدنگاری)
آچاریہ شنکک، آچاریہ بھٹنایک ا ور دیگر محققین نے بھی اس کی مختلف تعریفیں کی ہیں، تمام نظریات کا خلاصہ یہی ہے کہ سنسکرت زبان میں (ا)بھاؤ (محرکات) (۲)انو بھاؤ (خارجی معاملات) اور (۳) بھیچاری بھاؤ (عارضی جذبات) تین چیزوں سے مل کر ایک استھائی بھاؤ(مستقل جذبہ) پیدا ہوتا ہے وہی مستقل جذبہ رس کی پیدائش کی وجہ بنتے ہیں وہ یہ ہیں (۱) رتی (محبت ، عشق) (۲) ہاس (ہنسی، مزاق) (۳) شوک (دکھ، غم) (۴)کرودھ(غصہ) (۵)اتساہ (جوش) (۶) بھیہ (ڈر، خوف) (۷)جگبسا(نفرت) (۸) وسمیہ (تحیر و استعجاب) ، انہیں استھائی بھاؤں پر بھرت منی نے رس کی آٹھ قسمیں بیان کیں، مگر بعد کے سنسکر ت علماء نے ایک اور اضافہ کرکے ۹ رس مقرر کر لیا۔وہ نو رس یہ ہیں (۱)شرنگار رس (عشق اور جنسی جذبہ)(۲)ہاسیہ رس(خامیوں ا ور خرابیوں پر طنز کرنے کے لیے)(۳)کرن رس (ہمدردی کے جذبات ظاہر کرنے کے لیے (۴)رودر رس (نفرت اور غصہ کے اظہار کے لیے)(۵)ویر رس (بہادری کے لیے) (۶) بھیانک رس (خوف و ہراس کے لیے)(۷)بپھتس رس (ناپسندیدگی کے اظہار کے لیے) (۸)ادبھت رس (حیرت ظاہر کرنے کے لیے)(۹)شانت رس (سکون و اطمینان کے لیے)۔
دھونی: سنسکرت شعریات کا ایک اہم نظریہ دھونی ہے۔یہ نظریہ پنڈت آنندوردھن نے اپنی کتاب ’’دھونیا لوک‘‘ میں پیش کیا ،�آنندوردھن نے اس سے مرادشعری اشاریت ، شعری تاثیر اور جمالیاتی کیفیت لی ہے اور اس بات کی بھی وضاحت کی ہے کہ یہ ویاکر نوں سے ماخوذ ہے، جس سے اصوات مراد لیے جاتے ہیں، ابو الکلام قاسمی صاحب نے اس کی وضاحت ان الفاظ میں کی ہے۔’’دھونی کا تعلق نہ صرف معنی سے ہے اور نہ صرف آوازوں سے، بلکہ اس سے مراد وہ جمالیاتی کیفیت ہے جو معنی اور صوت سے بلند اور زیادہ اثر انگیز ہوتی ہے، دھونی خیال میں بھی ہوسکتی ہے اور جذبہ میں بھی‘‘ گوپی چند نارنگ نے دھونی کو جمالیاتی کیفیت سے تعبیرکرتے ہوئے اظہار کیا ہے کہ ’’ایک اچھے واکیہ یا شعر کی اصوات اور معنی سے ایک جمالیاتی کیفیت (دھونی) ابھرتی ہے‘‘(ص؛۳۲۵، ساختیات پس ساختیات)، دھونی کا نظریہ سامنے آنے کے بعد اس تصور کو بہت وسعت ملی اور ایک ایک لفظ کے کئی کئی معنی مراد لیے جانے لگے۔
النکار: سنسکرت شعریات میں جن چیزوں سے بحث ہوتی ہے ان میں سے ایک النکار (بدیعیات) بھی ہے، اس میں لفظی صنعت گری ، لفظی و معنوی محاسن اور مجموعی حسن آفرینی سے بحث ہوتی ہے ، خواہ نحوی ساخت سے ہو یا پھر معنوی ساخت پیکر تراشی سے، یہ نظریہ سنسکرت کے ایک مشہور عا لم نے اپنی کتاب ’’النکار سوتر میں پیش کیا ہے، پنڈت جی ،بی موہن نے تین چیزوں کو سنسکرت تنقید کا محور بتایا ہے۔(۱) النکار (بیان و بدیع) (۲) شیلی (اسلوب ) (۳)وکر وکتی (بالواسطہ اظہار)۔ا گر ہم سنجیدگی سے مشرقی تنقیدکاجائزہ لیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ مشرق کی تمام اہم زبانوں میں مشترکہ طورپر یہی چیزیں بنیاد ہیں ، سنسکرت تنقید سے ہم بحت اس لیے کرتے ہیں کہ اس نے پراکرت اور اپ بھرنشوں کے اثرات قبول کیے ہیں۔ مگر زبان و بیان ، شعریات اور رسم الخط کا تعلق عربی وفارسی سے ہی ہے نہ کہ سنسکرت سے۔
عربی زبان میں تنقید: عربی زبان میں بھی تنقید کی روایت بہت قدیم ہے، بعض حضرات تو عربی اور فارسی نقد کو ہی تنقید کا نام دیتے ہیں۔مشرقی تنقید اور خاص طور پر عربی تنقید میں شاعری کو علم معانی، علم بیان ، علم بدیع ، علم عروض اور علم قافیہ کی بنیاد پر جانچا اور پرکھا جاتا ہے، عربی تنقید کی روایت کو چار ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، پہلا دور ، عہد اسلام سے قبل کا زمانہ ہے، جسے زمانہ جاہلیت سے تعبیر کیا جاتا ہے، دوسرا دور عہد اسلام ہے، تیسرا دورعہد اموی اور چوتھا دور عہد عباسی ہے، مکہ سے کچھ دوری پر’عکاظ‘‘ باز ا لگتا تھا ہر سال شعرا اس بازار میں اپنے قصائد پیش کرتے تھے جنہیں ایک کمیٹی جانچ پرکھ کی عمل سے گذار کر ایک قصیدہ کو سب سے عمدہ قرار دیکر اسے کعبۃ اللہ پر آویزاں کیا جاتا تھا اور اس شاعرکو اشعرالشعرا کے خطاب سے نوازا جاتا تھا اور اسے عزت و افتخار کاسبب سمجھا جاتا تھا،اس میں با ضابطہ تنقیدی روایت تو نہیں ملتی، مگر اتنا ضرور ہے کہ وہ حضرات صداقت، سادگی، سبق آموزی اور زبان کی دلکشی کو سامنے رکھ کر نقد و تنقید کا فریضہ ادا کرتے تھے، اسی دور میں مجنہ اور ذو المجاز میں بھی اس طرح کے میلے لگتے تھے امرأ القیس اسی دور کا شاعرہے، جس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مشہور ہے’’اشعر الشعرأوقائد ھم اِلی النار‘‘ اس کے بعد عہد اسلام شروع ہوا،ا س دور میں ہر فن پارہ کو اسلامی اصول کے مطابق پر رکھا جانے لگا، شعر کی اہمیت پہلے کی طرح برقرار تھی، تنقیدی شعور اور شعر و ادب سے شغف کا اندازہ حضرت علیؓ کے اس قول سے لگایا جاسکتا ہے۔
’’ الشعر میزان القول ورواہ بعضم الشعر میزان القوم‘‘
ترجمہ: شاعری قول کا پیمانہ ہے یا بعض حضرات کے مطابق شاعری قوم کا پیمانہ ہے، تنقیدی شعور کا اندازہ حضرات عمر بن خطابؓ کے اس قول سے بھی ہو تا ہے جس میں انہوں نے زہیر کو سب سے بڑا شاعر قراردیا اور اس کی وجہ یہ بتلائی کہ اس کے کلام میں پیچیدگی نہیں ہوتی ، الفاظ نا مانوس نہیں ہوتے اور صداقت پر مبنی کلام ہوتا ہے،ا س کے بعد ۶۶۱ء تا ۷۵۰ء تا ۱۶۵۸ء عہد عباسی کا آغاز ہوا، اس دورمیں علوم و فنون اور ادب کی ترویج و اشاعت بڑے پیمانہ پر ہوئی اور بہت سے علوم یونانی زبان سے عربی میں منتقل کیے گئے اور ابو بشرمتی اور ابن رشد نے ارسطو کی’’بوطیقا‘‘ کو عربی میں ترجمہ کیا، جس سے بہت سے تنقیدی مسائل عربوں کے سامنے آئے، مگر ’’بوطیقا میں ڈرامہ کے سلسلہ میں تنقیدی نظریات ہیں اور عربوں کے یہاں قصیدہ کا رواج تھا، اس لیے یہ کتاب فن پر زیادہ اثر انداز نہ ہو سکی، مگر اس سے عربی’تنقیدکو نئی تقویت ملی اور عربی زبان میں بھی ’تنقید نگاروں کی ایک ٹیم تیار ہوگئی جن میں اہم نام محمد بن اسلام الحجمی ، ابن قتیبہ، عبداللہ بن معتنر، قدامہ بن جعفر، ابن رشیق، ابن خلدون ، جاحظ، ابو ہلال عسکری، عبدالقادر جر جانی اور ابوبکر یباقلانی وغیرہ ہیں ،ا س دور میں بٹرا ادبی انقلاب آیا اور نہ صرف یہ کہ باضابطہ تنقید کی مختلف کتابیں سامنے آئیں، بلکہ لفظ و معنی کی اصلیت اور تقدیم کے سلسلہ میں مباحثے بھی شروع ہوگئے اور سادگی کی جگہ تصنع کاغلبہ ہونے لگا اور اب قدامہ بن جعفر کے قول کے مطابق سب سے اچھا شعرا سے کہا جانے لگا جس میں مبالغہ اور جھوٹ زیادہ ہو ، چوں کہ اس دور میں باضابطہ تنقید کا آغاز ہوا اسی لیے محمد بن سلام الحجمی کو پہلا عربی تنقید نگار اور اس کی کتاب طبقات الشعراکو پہلی عربی میں تنقیدی کتاب کہا جاتا ہے، ابن قتیبہ نے اپنی کتا ب الشعروالشعرا میں متوازن نظریہ پیش کیا ہیا ور عمدہ شعر کے لیے لفظ اور معنیٰ دونوں کے عمدگی کی شرط لگائی ہے، قدامہ ابن جعفر نے نقد الشعرمیں طرز بیان ظاہری حسن اور جھوٹ کو اصل شاعر میں فوقیت دی ہے ،ابن رشیق نے اپنی کتاب ’’العمدہ‘‘ میں لفظ، وزن، اور قافیہ تمام کو شاعری کے لیے ضروری قرار دے کر متوازن تنقیدکی اورابن خلدون نے اپنی کتاب مقدمہ تاریخ ابن خلدون میں شعر و شاعری کے متعلق جو نظریات پیش کیے ہیں، اس میں لفظ کو معنی پر فوقیت دی اور لفظ کو پیالہ اور معنیٰ کو پانی سے تعبیر کیاا ور اس کی وضاحت کی کہ ایک ہی پانی اگر سونے کے پیالے میں رکھیں گے تو اس کی اہمیت کچھ اور ہوگی اور چاندی، خزف،اور شیشے کے پیالہ میں کچھ اور جاحظ نے اپنی کتاب ’’البیان و التبین ‘‘میں لفظ کو فوقیت دی ہے جبکہ علامہ جر جانی نے ’’اسرار البلاغتہ‘‘ اور ’’دلائل الاعجاز‘‘میں معنیٰ کو فوقیت دی ہے، ان نظریات اور کتابوں سے عربی تنقید کی روایت کو جانا اور سمجھا جاجا سکتا ہے۔
فارسی میں تنقید: فارسی اور ایرانی تنقید کو دو ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، ایک دور ۶۳۰ء سے قبل کا اور دوسرا ۶۳۵ء میں عربوں کی فتح کے بعد کا ہے، البتہ پہلے دور میں تنقید کے سلسلہ میں کچھ مواد نہیں ملتا، ایران میں بھی اصل انقلاب عربوں کی فتح کے بعد آیا،یہی وجہ ہے کہ فارسی تنقید کی اکثرچیزیں عربی سے مترجم ہی نظر آتی ہیں، فارسی میں سب سے پہلی تنقیدی کتاب امیر عنصر المعالی کیکاؤس بن اسکندر کی ہے، جس کا نام ’قابوس نامہ‘‘ ہے، ان کے نزدیک سب سے اچھا شعر قابل فہم اور پیچیدگی سے پاک ہے، دوسرا اہم فارسی تنقید نگار نظامی عروضی سمر قندی ہے، جس نے’’ چہارمقار‘‘کے نام سے تنقیدی کتا ب ۱۱۰۰ء کے قریب لکھی، یہ الفاظ پر معنیٰ کو ترجیح دیتے ہیں، اس کے بعد تنقیدی کتابوں میں ’’حدایق السحرفی دقایق الشعر‘‘ہے،جسے رشید الدین و طواط نے تحریر کیا ہے انہوں نے صنائع کو بہت اہمیت دی ہے، شمس الدین محمد بن قیس الرازی نے بھی ’’ المعجم فی معایییر اشعار العجم‘‘ نام کتاب لکھ کر اپنے تنقیدی نظریات کو بیان کیا ہے، انہوں نے سہل پسندی، عروض اور قافیہ کی اہمیت پر کافی زور دیا ہے ان کے علاوہ محمد عوفی ، دولت شاہ سمر قندی اور فخری ابن امیری نے بھی تنقیدی نظریات کا اظہار کیا ہے، فارسی تنقید میں عام طور پر مضمون آفرینی ،جدت ادا،ر نگینئ کلام،تغزل اور بندش کی چستی وغیرہ سے بحث ہوتی ہے اور ان چیزوں سے بحث اردو میں بھی ہوتی ہے۔
اردو تنقید۔ آغاز و ارتقا: ویسے تو اردو میں باضابطہ تنقید نگاری کا آغاز حالیؔ کی معرکۃ الآراء کتاب ’’مقدمہ شعرو شاعری‘‘(۱۸۹۳ء) سے ہوتی ہے، مگر اس سے بھی پہلے بھی ہمیں تنقید کی روایت ملتی ہے یہ الگ بات ہے کہ مرتب نہیں ملتی، اگر ہم قدیم دکنی شعرا کے کلام کو پڑھتے ہیں تو بہت سے شعرا کے اشعار کے سلسلہ میں نظریات ملتے ہیں، اس کے علاوہ مشاعرے ، اساتذہ کی اصلاحیں، تقریظ،خطوط ، تذکروں میں بھی ہمیں بہت سے تنقیدی خیالات ملتے ہیں ہم اختصار سے ان چیزوں کا جائزہ لیتے ہیں۔
شاعری میں تنقیدی نظریات: دکنی شعرا میں ملا اسدا للہ وجہیؔ نے باضابطہ ’’قطب مشتری‘‘ میں تنقید ی خیالات ظاہرکیے ہیں اور شاعری میں سادگی ، نزاکت ،معنی آفرینی ،جدت الفاظ، ربط، اور معنیٰ خیز الفاظ کے استعمال پر زور دیا ہے، بطور نمونہ ایک شعر ؂
جو بے ربط بولے توں بتیاں پچیس
بھلا ہے جو یک بیت بولے سلیس
ولیؔ ؂
ہے ولی جو کہ ہیں بلند خیال
شعر میرا پسند کرتے ہیں
اس کے علاوہ میرؔ ، سوداؔ ، مصحفیؔ ، انشاءؔ ، انیسؔ ، غالبؔ ، میرحسنؔ اور اقبالؔ کی شاعری میں بھی تنقیدی نظریات ملتے ہیں۔
مشاعرے: باضابطہ تنقید کے آغاز سے پہلے ہمیں مشاعرے میں بھی تنقیدی نظریات اور تنقید کی روایت ملتی ہے اور اس کی شکل یہ ہوتی تھی کہ رؤسا اور نواب حضرات مشاعرے منعقد کرواتے تھے اور جس میں شعرا اپنا کلام پیش کرتے تھے، اسی مجلس میں دوسرے شعرا زبان و بیان ، عروض اور علم قافیہ کی بنیاد پر تنقیدیں کرتے تھے اور اچھا پڑھنے والے کو ’’واہ واہ‘‘او ر’’سبحان اللہ‘‘کہہ کر داد بھی دتیے تھے، یہی تنقیدی روایت ہے۔
اساتذہ کی اصلاح: اردو تنقیدی کے ارتقاء میں اساتذہ شعرا کی اصلاحوں کا بھی بہت اہم کردار ہے، اساتذہ کو شعرا اپناکلام دکھلاتے تھے اور وہ قطع و برید کے ذریعہ تنقید کافریضہ ادا کرتے تھے، ڈاکٹر عبادت بریلوی نے اصلاح کا مقصدبیان کیا ہے’’ان اصلاحوں کا مقصد شاگرد کی شاعرانہ تر بیت ہوتی تھی اور اس کی اصلاح سے اس کو فصاحت و بلاغت، زبان و بیان کے نشیب سے آگاہی ہوجاتی (ص:۱۲۱ اردو تنقید کا ارتقا) ، سودا ، حاتم، میرحسن ، مصحفی، انشا ء، غالب ، ذوق، آتش، ناسخ، انیس ، اور حالی وغیرہ نے اساتذہ سے اصلاحیں لی ہیں اوراساتذہ کی تنقید ی بصیرتوں سے استفادہ کیا ہے۔
تقریظ: اردو تنقید کے ارتقا میں تقریظ کی بھی بہت اہمیت رہی ہے، تقریظ سے مراد مدح یاتعریف لیا جاتا ہے، عربی میں تنقید کے معنیٰ میں ہی استعمال کیا جاتا ہے مگر اردومیں قدیم زمانے سے کتابوں پر تعریفی کلمات لکھنے کے معنیٰ میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کی شروعات عکاظ کے بازار سے ہوتی ہے وہاں جو تنقیدیں ہوتی تھیں اسے تقریظ نام دیا جا تا تھا ۔ اردو میں بھی کچھ حضرات نے محاسن کے ساتھ ساتھ معایب کی بھی تقریظ میں نشاندہی کی ہے، جیسے غالبؔ نے سرسید کی مرتبہ کتاب ’’آئین اکبری‘‘ کے لیے جو تقریظ لکھی تھی اس میں برائیاں بھی تھیں ، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس نے بھی اردو تنقید کے ارتقاء میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
خطوط: زمانۂ ماضی میں یہ بھی رواج رہا ہے کہ شعرا حضرات اپنے خطوط میں ضمنی طور پر یا کسی شاگرد کی فرمائش اور استفسار پر خطوط میں تنقیدی خیالات کا اظہار کرتے تھے،غالبؔ ، سرسیدؔ ، حالیؔ ، شبلیؔ ، امیر مینائیؔ ، اقبالؔ اور رشید احمد صدیقی کے خطوط میں یہ چیزیں ملتی ہیں۔
تذکرے: تذکروں نے اردو تنقید کے باضابطہ آغاز میں پل کا کردار ادا کیا ہے اٹھارہویں صدی کے وسط سے فارسی تذکروں کے زیر اثر اردو شعرا کے فارسی زبان اور پھر اردو میں تذکرہ لکھنے کا رواج شروع ہوا اور میرؔ تقی میر کے نکات الشعرا سے لے کر محمد حسین آزاد کے ’’آب حیات‘‘ تک درجنوں تذکرے لکھے گئے، جن میں بنیادی طور پر شاعر کے محتصر حالات ، اس کے کلام پر تبصرہ اور کلام کا انتخاب شامل کیا جاتا تھا، فارسی میں اس لیے لکھتے تھے کہ فارسی علمی اور ادبی زبان تھی اور دوسرے فارسی کا دائرہ بہت وسیع تھا ،اردو شعرا کابھی تعارف زیادہ دور تک اسکے ذریعہ سے ہو سکتا تھا، اردو زبان میں لکھا جانے والا پہلا تذکرہ گلشنِ ہند ہے جسے مرزا علی لطف نے ۱۸۰۱ء میں تحریر کیا اردو شعرا کے تذکروں میں اہم کتاب میر تقی میرؔ کی ’’نکات الشعرا‘‘ قائم چاندپوری کی ’’مخزن نکات‘‘ فتح علی حسینی کی تذکرہ ریختہ گویاں ‘‘ بچھمی نرائن شفیق کی ’’چمنستانِ شعرا‘‘ وجیہہ الدین عشقی کی ’’تذکرہ عشقی‘‘ غلام حسین شورش کی ’’تذکرۂ شورش ‘‘۔’’قدرت اللہ شوقؔ رامپوری کی ’’طبقات الشعرا‘‘ ابوالحسن امراللہ الہ بادی کی ’’تذکرہ مسرت افزا‘‘، مردان علی خاں کی’’گلشن سخن‘‘، ابراہیم خلیل کی ’’گلزار ابراہیم‘‘مصحفی ؔ کی ریاض الفصحا‘‘ تذکرۂ ہندی اور عقد ثریا، شیفتہؔ کی ’’گلشن بے خار‘‘ ناصرؔ کی ’’خوش معرکۂ’’زیبا‘‘اور محمد حسین آزاد کی ’’آب حیات‘ہیں۔آب حیات آخر ی تذکرہ ہے بعض حضرات اسے تاریخ میں شامل کرتے ہیں اس لیے کہ جن مورخین نے بھی اردو شعرا کی تاریخ مرتب کی ہے تو آب حیات سے ہی اصل اپناچلو بھرا ہے اس میں تاریخ کے ساتھ ساتھ تنقید بھی ہے۔ اس لیے اسے تذکرہ اور تنقید کے درمیان ایک کڑی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
محمد حسین آزاد (۱۸۲۹۔۱۹۱۰): محمد حسین آزاد ہی وہ شخص ہیں جنہوں نے آب حیات لکھ کر باضابطہ اردو تنقید کی راہ ہموار کی، ان کا شماراردو کے عناصر خمسہ میں سے ہوتا ہے، ان کا بنیادی نظریہ ہے کہ شاعری وہبی چیز ہے، شاعری رحمت الٰہی کا فیضان ہے، شاعری میں اخلاقیات اور صالح اقدار اصل ہیں ، تاثراتی نقطۂ نظر کو اصل قرار دیتے ہیں، انداز بیان ، صفائی کلام، برجستگی ، فضاحت،بلاغت، اسلوب اور لفظی محاسن پر زور دیتے ہیں اور شاعری کو صنعت گری قرار دے کر معنی و مفہوم کو ہی اصل چیز قرار دیتے ہیں۔
حالی ؔ اور مقدمہ شعر و شاعری(۱۸۳۷ تا ۱۹۱۴): الطاف حسین حالیؔ ہی پہلے وہ شخص ہیں جنہوں نے مقدمہ شعر و شاعری (۱۸۹۳) کے ذریعہ باضابطہ اردو تنقید کی داغ بیل ڈالی، حالیؔ نے مشرقی ادب کا گہرائی و گیرائی سے مطالعہ تو کیا ہی تھا ساتھ ہی ساتھ انہوں نے مغربی ادبیات اور ان کے تنقیدی نظام کا بھی بغور مطالعہ کیا اور اپنے جدید و قدیم غزل کے مجموعے پر مقدمہ لکھ کر تنقید نگاری کا آغاز کر دیا، اس کتاب کو حالیؔ نے دو حصوں میں تقسیم کیا ہے پہلے حصے میں شعری نظریات اور دوسرے حصہ میں عملی تنقید کو بیان کیا ہے، حالیؔ نے تنقید کی بنیاد مشرقی نظریات پررکھی ہے، یہ بھی شاعری کو عطیۂ الٰہی قرار دیتے ہوئے اس کے ذریعہ معاشرہ کی اصلاح کر نا چاہتے ہیں، انہوں نے شاعر کے لیے تین چیزوں کو ضروری قرار دیا ہے (ا)تخیل (۲) مطالعۂ کائنات اور (۳) تفحص الفاظ اور شعر کے لیے سادگی، اصلیت ،اور جوش کواصل قرار دیا ہے، انہوں نے بہت سے مغربی علما اور ناقدین کا حوالہ دیا ہے اور ان کے تصورات کو بھی پیش کیا ہے مگر اس کو بھی عربی اور فارسی تنقیدی کتابوں سے ہی ثابت کرنا چاہتے ہیں۔
شبلی نعمانی(۱۸۵۷۔ ۱۹۱۴ء): اردو اولین تنقید نگاروں میں اہم مقام اور مرتبہ پر فائز لوگوں میں شبلی بھی ہیں، ان کے فکر وفن اور نقطۂ نظر کا دائرہ عربی، فارسی اور ارسطو سے ملا ہوا ہے۔انہوں نے شعر العجم جیسی معرکۃ الآراکتاب لکھ کر اپنے تنقیدی خیالات کا اظہار کیا ہے، یہ نظام بلاغت و فصاحت ، روز مرہ، محاورہ، تشبیہ،استعارہ، منظر نگاری ، واقعہ نگاری اور جذبات نگاری کو بنیاد بنا کر تنقید کرتے ہیں اس کا اندازہ موازنۂ انیس و دبیر سے لگایا جا سکتا ہے، شبلی مصوری کو شعر کی اصل قرار دیتے ہوئے لفظ کو معنیٰ پر فوقیت دیتے ہیں۔ غرض اردو تنقید کے ارتقا کے باب میں شبلی کو نہیں بھلا یا جاسکتا۔
ان حضرات کے علاوہ اور بھی بہت سے تنقید نگار ہیں جن کا نقطۂ نظر مشرقی تنقید کی بنیاد پر ہے جن میں سر فہرست عبد الرحمن بجنوری بھی ہے، جنہوں نے محاسن کلام غالب کے ذریع اپنے تنقیدی نظریات کو عام کیا ، اس کے علاوہ کچھ مشرقی علماء ایسے بھی ہیں جواپنی تنقید کا محور مغرب کو قرار دیتے ہیں پھر بھی مشرقی تنقیدی نظام کا سہار ا بھی ضرور لیتے ہیں۔
حرف آخر: تنقید جا نچنے اور پرکھنے کے عمل کو کہا جاتا ہے ادبی تنقید سے مراد کسی نظریہ کے پیش نظرادبی شہہ پاروں اور شاعری کو جانچ کر اس کے محاسن ومعائب کی نشاندہی کی جائے ، مشرقی تنقید میں بہت سی زبانیں شامل ہیں ، مگر جب اردو کے حوالہ سے گفتگو ہوتی ہے تو عربی، فارسی اور سنسکرت کو سامنے رکھا جا تا ہے چینی اور جاپانی زبانوں میں بھی ہمیں قدیم تنقیدی رحجانات ملتے ہیں ، مشرقی تنقید کا بنیادی نظریہ ہے کہ الفاظ کی زیبائش شاعری کی ہیئت اور فنی محاسن سے بحث کی جائے، مشرقی شعریات میں علم بیان، معانی ، بدیع، عروض اور علم قافیہ کو اہم مقام حاصل ہے۔ ارسطو کے زمانہ سے قریب ہی ہندوستان میں بھرت منی نے ناٹیہ شاستر کے ذریعہ تنقیدی نظریہ کا اظہار کیا تھا ، اسی سے مشرقی تنقید کی قدامت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، اردو تنقید کی باضابطہ آغاز سے پہلے شاعری، مشاعرے، خطوط، تقریظ اساتذہ کی اصلاح اور تذکروں میں بھی تنقیدی نظریات ملتے ہیں حالیؔ نے مقدمہ شعرو شاعری لکھ کر با ضابطہ اردو میں تنقیدکی بنیاد ڈالی، مشرقی تنقید نگاروں میں محمد حسین آزاد الطاف حسین حالی، شبلی نعمانی اور عبد الرحمن بجنوری کا نام کافی اہمیت سے لیا جا تا ہے۔

9871523432
abariqasmi13@gmail.com

لکھنے کا کرب

ساجدالعبدلی (بصحبة كوب من الشأي، ص: 22-20)
جولوگ یومیہ صحافت کے پیشے سے وابستہ ہیں، انھیں اندازہ ہوگاکہ مسلسل لکھتے رہناایک لکھاری کے لیے کئی حوالوں سے سخت تھکن آمیز ہوتاہے، لکھنے کے لیے وقت نکالنا، پھربیٹھنے کے لیے جسمانی ونفسیاتی قوت وصلاحیت کوبروے کارلانا، ذہن میں موجودخیال کو ایک قابلِ مطالعہ مواد کی صورت تشکیل دینا اوراس سے بھی پہلے کسی اچھے اورمعنی خیزخیال کاذہن میں پیداہونا اوراسے محسوس کرنا؛یہ سب ایک لکھنے والے کے لیے بڑے مشکل مرحلے ہیں، ان کے علاوہ بسااوقات یہ اندیشہ بھی ذہنی افسردگی کاسبب ہوتاہے کہ میری تحریر/مضمون /تجزیہ چھپنے کے بعد قارئین کوپسندآئے گایانہیں؟ میرامضمون دوسروں کے مضامین سے ممتازہوگایانہیں؛ تاکہ اپنے ہم عصروں میں میری ایک انفرادی شناخت باقی رہے یاکم ازکم ان کی نگاہ میں میراوقارومعیارقائم رہے اورمیری تحریر اخباری اوراق یاالیکٹرانک دنیامیں محض ایک اضافہ ثابت ہوکرچندلمحوں میں ہی اثروتاثیر سے خالی نہ ہوجائے ….. اس طرح کے بہت سے اندیشے، وسوسے اوراوہام بعض لوگوں کوایک دائمی کڑہن اور ذہنی ونفسیاتی افسردگی کاشکاربنادیتے ہیں ـ
البتہ دھیان رہے کہ میری یہ بات ان لکھنے والوں کے حوالے سے ہے،جونہایت اہتمام سے لکھتے اورلکھنے کوایک فریضہ سمجھتے ہیں اورانھیں لگتاہے کہ ان کی تحریر نہ صرف ایک ذمے داری کی ادائیگی ہے؛ بلکہ وہ آیندہ فکروعمل کے دسیوں بنددروازوں اور شرورواحساس کے مقفل قلعوں کوکھولنے کاوسیلہ بھی بن سکتی ہے، جس کی انتہایاتوخیروصلاح پرہوگی یا فساد وگمراہی پر ـ
رہے ایسے لکھاری /صحافی /قلم کار، جوکھڑکیوں کے راستے یادیواریں پھلانگ کراِدھرآگئے ہیں ?انھیں ایسی کوئی فکرلاحق نہیں ہوتی؛ بلکہ انھیں اس کااحساس تک نہیں ہوتا؛ کیوں کہ وہ تخلیق وتحریر کے کرب سے قطعاً ناواقف ہوتے ہیں، ان کی تمام ترمحنتوں کاثمرہ یہ ہے کہ ایک متعینہ حلقے میں چمک جائیں اورشہرت وناموری حاصل کرلیں ـ
اس وضاحت کے بعد میرااحساس یہ ہے کہ آپ میں سے بعضوں کومیری مذکورہ بالابات سخت اور عجیب لگے گی اورآپ کے دل میں یہ سوال پیداہوگا کہ آخرکیوں کوئی شخص ایسی تکلیف یادائمی افسردگی کی حالت میں جیے گا؟ تواس کاجواب یہ ہے کہ ایک حقیقی قلم کار /لکھاری کواس دائمی منتشراورتکلیف دہ صورتِ حال کی لت لگ جاتی ہے، وہ اس سے چھٹکارابھی نہیں پاسکتا، وہ اس کرب سے دوررہ کر جی ہی نہیں سکتا، وہ فرصت کے اوقات میں بھی عام زندگی جینے کوآمادہ نہیں ہوگا، اسے جس طرح لکھنے کی لت ہوگی، اسی طرح اس کو اپنی ذات، فکر، اپنی تحریر اور اپنے قاری کے تئیں اپنی ذمے داریوں کومحسوس کرنے کی بھی لت ہوگی، ایک سچافن کار /قلم کار ہمیشہ یہ سوچتاہے کہ اس کی اوراس کی تحریروں کی رسائی چاہے جہاں تک بھی ہواوراس کے لکھنے کے مضوعات اورنیچر جوبھی ہوں، انھیں بھرپواندازمیں ہوناچاہیے، اس کےخیالات مکتوب الفاظ کی صورت باہرکی دنیامیں نکلیں؛ تاکہ خارج میں انھیں ایک معنویت اورمخصوص شناخت حاصل ہو اوراسے اس حقیقت کابھی شدیداحساس ہوتاہے کہ اس کے افکاروخیالات کی ترجمانی خوداس سے بہترطریقے سے کوئی بھی نہیں کرسکتا ـ
بعض لوگوں نے ایک مرتبہ جب مشہورارجینٹینی ادیب جارج لوئس برگیس (1986-1899) سے یہ دریافت کیاکہ “آپ کس کے لیے لکھتے ہیں؟ ”
توانھوں نے جواب دیا:
“اپنے لیے “ـ
ان کے اس جواب کامطلب (جہاں تک میں سمجھ سکاہوں) یہ ہے کہ ایک حقیقی لکھاری /تخلیق کار کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے لیے لکھے، یعنی ایسی چیزلکھے، جواس کے اپنے “ذوق”کوبھاجائے، جس کی مثال ایک ایسی متلون مزاج مغرورحسینہ سے دی جاسکتی ہے، جس کاحصول مشکل ہو، پس وہ شخص اس لیے لکھتاہے کہ اس کی اپنی تحریر فکری، تخلیقی اور وقعت کے اعتبار سے اس کی اپنی خوشی کے اعلی ترمعیارتک پہنچ سکے اوراِس خوشی کاحصول فی الحقیقت نہایت مشکل اورتھکادینے والاعمل ہے ـ
کم ازکم میرے نزدیک یہ ایک قابلِ نفریں اورکرب انگیز حالت ہے، خاص طورسے کسی مقالہ /مضمون کولکھنے اوراپنے افکار کوتحریرکے سانچے میں ڈھالنے کی ابتدائی حالت بالکل ایسی ہی ہوتی ہے، مگرپھرجب آپ اپنے افکاروخیالات کوصفحۂ قرطاس پراتاردیں اور آپ کی تحریراشاعت کے مرحلے تک پہنچ جائے، تویہ حالت فرحت ومسرت اور سروروابتہاج کے ایک انوکھے احساس میں بدل جاتی ہے؛ اسی لیے میں کبھی اپنی اس کیفیت سے دست بردارنہیں ہوسکتا، نہ مجھے کسی اورمشغلے میں چین آسکتاہے:
مجھے تواورکوئی کام بھی نہیں آتا!
(ترجمہ: نایاب حسن)

اسلامی شاعری کا جدید استعارہ :مولانا فضیل احمد ناصری

افتخاررحمانی ، دہلی
Email: ifitikharrahmani9@gmail.com
Cont.8229066004
مولانافضیل احمد ناصری اپنی ولولہ انگیز نظمیہ شاعری کے ذریعے ملت کی راہ نمائی و رہبری معقول انداز میں کر رہے ہیں۔ وہ جہاں قرآن و تفسیراور حدیث و فقہ جیسے شرعی علوم کے استاذ ہیں،وہیں ان کی تدریس سے فارغ ہوکر ’’ احوالِ دل‘‘ نظموں اور شاعری کے ذریعہ رقم کرتے رہتے ہیں۔ علم ان کا خالص مشرقی و اسلامی ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ مبارک عنصر بھی ان کی شخصیت کو مزید حسن عطا کرتا ہے کہ وہ علماے دیوبند کے معتدل مزاج و منہاج کے پیروکار و ترجمان بھی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کی نظموں کا ایک ایک حرف روحِ اسلامی کا ترجمان اور قوم کی حا لتِ زار کا مرثیہ ہے۔ان کے کلام کی پختگی، سلاست ، روانی اورآمد و الہام قاری کو انگشت بدنداں کر دیتے ہیں۔
مولانا ناصری کی نظم گوئی کے روشن پہلو:
نظم جن عناصر و خیالات کا تقاضا کرتی ہے اور خیالات کے جس تسلسل کا مطالبہ کرتی ہے اس کا اہتمام کرنا لازم ہے ، حالی نے مقدمۂ شعر و شاعری میں ان پر تفصیلی گفتگو کی ہے،گرچہ شاعروں نے ان امور پر توجہ نہ دی، نتیجتاً جس معیار کی نظمیں ہونی چاہیے تھیں وہ اب اردو ادب سے عنقا ہوچکی ہیں؛ بلکہ ستم تویہ ہے کہ نظم کی سادگی میں بھی غزلیاتی تموج و جوش اپنی موجودگی کا احساس دلاتا ہے۔ مولانا فضیل احمد ناصری نے اپنی نظموں میں ان اصول و ضوابط کی مکمل پابندی کی ہے ۔ نظم کی اپنی خوبیاں ہیں ، یہاں تخیل کی بلند پروازی اور مبالغہ آرائی نہیں ہوتی ؛ بلکہ عوام الناس کے دل و جگر میں اتر جانے والی ترکیبوں اور سہل الفہم استعاروں کی بندشیں ہوتی ہیں ، مولانا ناصری کی نظمیں بھی یہی کہتی ہیں:
تھکی نہ قوم ، صدائیں مری تھکاتے ہوئے
ہوا ہے ایک زمانہ مجھے جگاتے ہوئے
وہی تغافل پیہم ، وہی جہاں طلبی
خدا کے نام سے اپنا لہو بچاتے ہوئے
تمہیں نوائے اذاں بھی گراں گذرتی ہے
وہ جنگ گاہ بھی جاتے تھے سر اٹھاتے ہوئے
ہماری مردہ ضمیری کا حال مت پوچھو
فریب کھاتے ہیں اعداکے ، مسکراتے ہوئے
عوام ہی نہیں اب تو جناب واعظ بھی
دکھائی دینے لگے مے کدے کو جاتے ہوئے
ہجوم جلوۂ جاناں عذاب ہے یارب !
بڑے بڑے بھی نظر آئے ڈگمگاتے ہوئے
گنہ کرے ہیں مسلمان بے حجابانہ
حیا انہیں نہیں آئے ہے ، گل کھلاتے ہوئے
نہ وہ مرید برہمن نہ قائلِ زاہد
وہ جس مقام پہ پہنچے تو سر جھکاتے ہوئے
فرنگیانہ تمدن کو چھوڑ دو ورنہ
گروگے چاہِ ہلاکت میں لڑکھڑاتے ہوئے
قوم کا مرثیہ پڑھنا اور اس پر چاک گریبانی اس کے بس کا روگ و عمل ہے جس کے دل میں قوم کی پستی اور زبوں حالی پر کرب اور کڑھن ہو، جس نے قوم کو اغیار کے ہاتھوں لٹتے پٹتے دیکھا ہو اور ساتھ ہی ’’ انماالمؤ منین اخوۃ‘‘ کا ادراک رکھتا ہو ، مولانا ناصری کے دل میں وہی دردوکرب ہے،جس کا انھوں نے اپنی نظموں می اظہارکیاہے۔ مولانا ناصری نے اپنے مذکورہ اشعارمیں قوم کی بے حسی اور ’مردہ ضمیری ‘کی جو دل سوز منظر کشی کی ہے وہ تازیانۂ عبرت سے کم نہیں ہے۔ انہوں نے اس بے حسی اور ’ مردہ ضمیری‘ سے جو نتیجہ اخذ کیا ہے وہ درس عبرت ہے۔ اور پھر کم از کم بحیثیت قوم ہمارے لیے اس سے سبق حاصل کرنے کے سوا کوئی چارہ کار بھی نہیں ہے۔ اعدا و اغیار سے بہ خندہ پیشانی فریب کھانا کسی زندہ قوم کے لیے عار ہی ہے ، مولانا ناصری نے اعدا و اغیار کی فریب دہی کا ذکر کرتے ہوئے قوم کی بے حسی اور درماندگی کودورکرکے اس میں نئی روح پھونکنے کی کوشش کی ہے۔
ترغیب و تشویق :
قوم بگڑی تو کیا ہوا ؟ ستم ظریفی تویہ ہے کہ ’’جناب واعظ ‘‘ بھی اپنے انداز و بیان، اطوار و اعمال بدل چکے ہیں۔ گویا آج کے وقت میں قیادت خود گمر ہی اور زبوں حالی میں مست ہوگئی ہے ؛ لہٰذا قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قائدین اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلیں تو قوم از خود قائد کی رہنمائی میں ایک نئی دنیا آباد کرسکتی ہے۔ نظم میں جہاں حقیقت بیانی ہوتی ہے وہیں احوال معاصر سے بحث لازمی تصور کیا گیا ہے ، مولانا ناصری نے نہ صرف حقیقت بیانی کی ہے ؛ بلکہ احوال معاصر سے ترغیب و تشویق کے پہلو تراش کرقوم میں نئی روح پھونکنے کی کوشش کی ہے۔ قوم میں پائی جانے والی خامیوں پر جہاں انہوں نے نکیر کی ہے ، وہیں انہوں نے مثبت راستے کی طرف رہنمائی بھی کی ہے۔ان کے لہجے میں جہاں خطیبانہ بانکپن ہے ،وہیں حقیقت بیانی بھی ہے ، ان اشعار میں مولانا ناصری کی حقیقت بیانی دیکھیں:
اہل ایماں کے لیے زہر ہے تہذیب فرنگ
اس کی تاثیر ہے انگور کی دختر کی طرح
جاؤ! اے اہل کلہ! سیکھ لو آداب سخن
بات چبھتی ہے تمہاری ہمیں خنجر کی طرح
چند دن کے لیے ہم نے انہیں مسند کیا دی
فیصلے کرنے لگے داورِ محشر کی طرح
اٹھ گئے عالمِ فانی سے وہ ارباب جنوں
جن کے دل صاف تھے ، جمشید کے ساغر کی طرح
ان اشعار میں مولانا نے جس حقیقت بیانی سے کام لیاہے وہ قابلِ دید ہے، تہذیبِ فرنگ جس کے متعلق اقبال و اکبر الٰہ آبادی نے بہت کچھ لکھا ، مولانا ناصری بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے قوم کو اس سے دور رہنے کی تلقین کر رہے ہیں۔ یہ ان کا خاصہ ہے کہ وہ محض قوم کے درد میں غلطاں ہیں نہ حرصِ اقتدار ہے، نہ ہوسِ شہرت و نمود، یہ ان کا درد ہے جو ان کو مدرسہ و مساجد کی چٹائی سے وراثت میں ملا ہے۔
سوز و گداز :
جب حقیقت اور گداز ایک ساتھ جمع ہوجائیں تو یہ حق نمائی کا مرکز بن جایا کرتے ہیں، مولانا ناصری کی نظموں کا یہی امتیاز و تفوق ہے کہ انہوں نے نازک خیالیوں سے ترک تعلق کرکے حقیقت پسندی اور گدازِ دل کو اختیار کرکے نظم گوئی کو نئی جہت و سمت بخشی ہے۔ وہ موروثی در د و کرب میں زخم خوردہ ہوکر ایک طرف جہاں تہذیبِ فرنگ سے بعد و ترک کا مشورہ دے رہے ہیں تو وہیں اہل دستار و قبا کی بھی نکیر کررہے ہیں کہ قوم کو اس وقت سچے قائد و رہنما کی ضرورت تھی ؛ لیکن قائد و رہنما حقیقی قائدانہ روح و عنصر سے عاری ہوگئے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کے سب سے بڑے مرض کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری تباہی اور بربادی کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہم میں کوئی قلندر نہیں رہا؛بلکہ جا ہ طلبی کاسودا سمایا ہوا ہے ، باطنی طہارت ہم سے عنقاہوگئی ، اور سب سے بڑی بات یہ کہ ہم نے شہنشاہِ کونین ﷺ کے طریق و سنت سے نفور و گریز کے عادی ہوگئے ؛ لہٰذا ہم پر دنیا کی بدترین قوم اور خسیس افراد مسلط کر دیئے گئے ، مولانا ناصری ان امور کی طرف یوں اشارہ کرتے ہیں ؂
جس کو دیکھو وہی قارون بنا پھرتا ہے
کوئی جیتا نہیں دنیا میں قلندر کی طرح
ہیں وہی میری نگاہوں میں ولایت والے
اندروں جن کا ضیا بار ہو باہر کی طرح
ان کی قبروں کے نشاں بھی کہیں موجود نہیں
عیش تھا جن کا زمانے میں سکندر کی طرح
زندگانی ہے حقیقت میں حبابِ دریا
سانس جب تک ہے جیو اپنے پیمبر کی طرح
اور بات بھی سچی ہے کہ قوم کی زندگی اور مستقبل اسی وقت تابناک ہوگا جب قوم اپنے اصلی راہنما کی ہدایت پر عمل پیرا ہو، ہمارے آقا شہنشاہِ کونین ﷺکی سنتوں کو ہم نے چھوڑا ،انھیں اپنی زندگی میں کوئی حیثیت نہ دی، نتیجتاً پستی ہمارا نصیبہ بن گئی۔مسلمانوں کی زندگی کا ماحصل ہی اتباع رسول ہے ؛ لیکن جب مسلما نوں کا ایک معتدبہ حصہ سنت رسولﷺ سے گریز کرنے لگے گا تو اس صورت میں پستی اور اغیار کی چاکری ہی نصیب ہوگی۔ مولانا نا صری نے جہاں ایک طرف ماضی کی تابناکی سے قوم میں بیداری اور بلند ہمتی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے،وہیں موجودہ زبوں حالی سے درسِ عبرت لینے کی بھی تلقین کی ہے۔
خطیبانہ لب و لہجہ اور قومی درد :
کبھی شاعر قوم کو رجا وامیدکے ذریعہ بیدار کرتا ہے تو کبھی موج حوادث کا خوف دیتا ہے حتیٰ کہ شاعر قوم کو تہدید و وعید کے ذریعہ بھی خوابِ غفلت سے جاگنے کی صدا بلند کرتا ہے،پھر جب اسے مایوسی ہوتی ہے ،تو قوم کے ناگفتہ بہ حالات سے نالاں ہوکر بر سرِمنبر ’’ حرض المؤمنین‘‘ کی سنت زندہ کرنے لگ جاتا ہے ؛ لیکن قومی شاعر کی فطرت اور عادت ہوتی ہے کہ وہ قوم سے کبھی بدگمان نہیں ہوتا ہے۔ قوم کو جھنجھوڑتا ہے ، ڈھارس بندھاتا ہے ، اس کے زخموں پرمرہم رکھتا ہے اور اقدام و عمل کی راہیں دکھاتا ہے۔ مولانا ناصری چونکہ قرآن و حدیث کے مفاہیم و معانی کی گہرائی و گیرائی کا بھی ادراک رکھتے ہیں اورعلومِ کتاب و سنت کے بھی حامل ہیں ،اس لئے انہوں نے ان مبارک اثرات سے اردو نظم کے دامن کو بھر دیاہے ، ان کے اشعار میں کیف وسرور اور سو ز و نم کی کیفیت ملاحظہ کریں کہ کس طرح خود تو رویا ہے ؛ لیکن قوم کو رونے نہیں دیا ، تہدید توکی ہے ؛ لیکن قنوط و ناامیدی نہیں دی ؛ بلکہ امید و یقین کی نئی دنیا قائم کی ہے:
عقل والے ہیں بہت، آتش بجاں کوئی نہیں
ملک میں امت کا میرِ کارواں کوئی نہیں
صاف کہتی ہیں ہمیں یہ پے بہ پے کی جھڑکیا ں
تم میں اب اندیشہ سود و زیاں کوئی نہیں
وقت کی ٹھوکر نے بتلایا ہمیں یہ بارہا
ووٹ کی یاری ہے ہم سے ، مہرباں کوئی نہیں
انحطاطِ دینِ قیم کا تماشا دیکھئے
قائد ملت بہت ہیں ، اردغاں کوئی نہیں
یہ آسان لب و لہجے میں نوائے سروش ہے۔ گفتگو میں ژولیدگی نہیں ہے ، احوال کو بتدریج بیان کیا ہے اور مخاطب کو تہدید کے ساتھ امید و یقین کے جامِ صہبا کے جرعۂ ہو ش و خرد بھی نوازا ہے۔ انہوں نے جن امور کے فقدان کا ذکر کیا، وہ تو بدیہی ہیں ؛ لیکن جس امید و یقین کی دعوت دی ہے وہ نظم گوئی اور اردو شاعری کا شاہکار عنوان ہے۔ آسان اور سہل الفہم استعارے بھی ہیں،یوں محسوس ہوتا ہے کہ لفظوں کی سلسبیل سبک خرامی کے ساتھ بہہ رہی ہے۔ مولاناناصری ایک زندہ دل قومی درد کے حامل شاعر ہیں ، یہ از خود شاعر نہیں بن گئے ؛ بلکہ قوم کی ابتری اور زبوں حالی نے ان کو شاعر بنادیا، ان کی نگاہ تابناک ماضی کی طرف ہی نہیں ٹکی ہوئی ہے ؛بلکہ قومی سیاست سے بھی ان کی خصوصی دلچسپی ہے۔ انہوں نے اپنی خصوصی دلچسپی کا جس طرح اظہار کیا ہے وہ فقید المثال ہے ،انہوں نے حب الوطنی کے سوال پر قوم مسلم کی بہترین ترجمانی کی ہے، ذیل کے اشعار دیکھیں:
کوئی کتنا ہی کرے حب وطن کا اشتہار
ہم سے بڑھ کر صاحبِ ہندوستاں کوئی نہیں
دل میں ہے جذبات کا ہر آن اک محشر بپا
کس سے کہیے ، انجمن میں راز داں کوئی نہیں
کاش وہ لمحے ترے حصے میں پھر آنے لگیں
تو ہو اور تیرا خدا ہو ، درمیاں کوئی نہیں
مولاناناصری کی یہ نظم گوئی ان کی شاعری کا وہ حصہ ہے جس پر قوم اور اردو شاعری کو فخر کرنا چاہیے اور جس طرح انہوں نے آسان پیرایے ، قریب الفہم تعبیرات و استعاروں کو اختیار کیا ہے ،اس نے مطالب کو ذہن کے قریب ترکر دیا ہے۔زبان میں چاشنی کے ساتھ محمود خیالات کی حسین آمیزش بھی ہے۔ مولاناناصری کی یہ نظمیہ شاعری بلاریب ان کی شاعری کا لازوال حصہ ہے جو ان کی شاعری کو مستند بناتی ہے۔یہ وہ پہلو ہے جو ’’ حدیث عنبر ‘‘ سے بالاتر ہے ؛ بلکہ اس کی وجہ سے حدیث عنبرکو نئی زندگی مل رہی ہے۔ان کی شاعری کئی سمتیں اور راہیں استوار کرتی ہے ؛ بلکہ اسلامی روح و یقین اور ایمانی جذبے کے تحت جو اخلاص و بے لوثی نمایاں ہوتی ہے ،وہ مولاناناصری کا ہی خاصہ ہے۔ مولانا ناصری کا ایک مجموعۂ کلام ’’ حدیث عنبر ‘‘ کے نام سے بازار میں دستیاب ہے، جس میں مولانا ناصری کی شاعری کے خدو خال اور تخیل کی بلند پروازی ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔

حیدرآباد میں تین دن

عمران عاکف خان
جواہر لال نہرو یونیورسٹی،نئی دہلی
imranakifkhan@gmail.com
موبائل:9911657591
میرا شہر لوگاں سوں معمور کر!
رکھیاجوں تو دریا میں من یا سمیع!!
(قلی قطب شاہ)
کہتے ہیں ،سفر سقر ہے یا انگلش والا ’سفر ‘ مگر ایسا کہنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ سفر وسیلۂ ظفر بھی ہے۔یہ اس کا افادی اور مثبت پہلو ہے۔ چنانچہ جو افراد مختصرمدتی یا طویل مدتی ہمہ طرح کا سفر کرتے ہیں ان سے پوچھیے،انھوں نے اپنے دامن ،کتنی نعمتوں سے بھر لیے۔انھوں نے اسی مدت میں کیا کیا دیکھ لیا۔انھیں کیا کیا مل گیا،سفر کے ذریعے ہی۔انھوں نے اسی عمر میں اپنے سے کئی گنا بڑی دنیا دیکھ لی۔ایک تہذیب دیکھ لی۔ایک تمدن سے وہ آشنا ہوگئے۔دانشوروں،مفکروں،عالموں،فاضلوں اور دنیا کا نظام چلانے والوں سے ملاقات ،ہم کلامی،تبادلۂ خیالات وغیرہ ،سفر کے ہی مرہون منت ہوتے ہیں۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ہم، سفر کے ذریعے ہی تعلقات استوار کرتے ہیں یا انھیں مضبوط بناتے ہیں۔اسی لیے تو کہا جاتا ہے کہ:’اس دنیا میں سفر سے بہتر کچھ نہیں ۔جو سفر کرتے ہیں وہ سب اچھائیوں کو پاتے ہیں،جو سفر نہیں کرتے ہیں وہ بس سوچتے ہی رہ جاتے ہیں۔‘یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا اداراک ،اس مرحلے سے گزر کر ہی ہوتا ہے۔
یہ میرا حیدرآباد کا سفر تھا اس شہر کا سفر، جسے ہندوستان کا دوسرا صدر مقام ہونے کا شرف حاصل ہے۔اس شہر کا سفر جسے چھے سو سال قبل گولکنڈہ کے عظیم القدر بادشاہ قلی قطب شاہ نے بسایا تھا ۔واضح رہے کہ حیدر آباد، حیدر کرارحضر ت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام پر بسایا گیا ہے نہ کہ مسماۃ ’’بھاگمتی /حیدر محل ‘‘کے نام پر جیسا کہ پرو فیسر ڈاکٹر محی الدین قادری زور ؔ نے کہا ہے۔اس کی تصدیق ماہر دکنیات پرو فیسر ہارون خاں شیروانی اور ڈاکٹر سیدہ جعفر کے اس مشترکہ بیان سے ہوتی ہے جس میں وہ کہتے ہیں:
’’شاہان گولکنڈہ چوں کہ شیعہ مذہب سے تعلق رکھتے تھے اس لیے حضرت حیدر کرار رضی اللہ عنہ کے نام پر انھوں نے حیدرآباد بسایانہ کہ کسی بھاگمتی کے نام پر ،کیوں کہ قلی قطب شاہ کی بارہ پیاریوں میں بھاگمتی نام کی کوئی خاتون نہیں تھیں—–چنانچہ رہی بات اس عام مغالطے کی ،تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈاکٹر محی الدین قادری زور نے سیکولر زم کے نام پر یہ غلط فہمی پھیلائی ہے۔‘‘ (مضمون: مسعود حسین خاں بہ حیثیت ماہر دکنیات۔از پروفیسر محمد علی اثر۔جہان اردو)
پولیس ایکشن 1948کے بعد ،حیدرآباد کی نشاۃ ثانیہ ہوئی۔ریاست حیدرآبادبزور طاقت انڈین یونین میں شامل کی گئی اور اس کے تین ٹکڑے کر کے شہر حیدرآباد کو اس کا صدر مقام بنایا گیا۔ان دنوں ریاست حیدرآباد تقسیم در تقسیم کی شکارہے۔تلنگانہ اور آندھرا ۔ کرناٹک اور مہاراشٹر ا۔اس کے جغرافیائی حصے ہیں۔
حیدر آباد انڈین یونین میں شامل تو ہوا مگر اس کے لیے اس شہرِ فرخندہ حال کو آگ اور خون کے دریا سے ہوکر گزرنا پڑا۔ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ مسلمان ہندوستانی پولیس کی گولیوں،ٹینکوں،دبابوں اور سنگینیوں کے شکار ہوئے۔اربوں کھربوں کی جائیداد یں تباہ اور غصب ہوئیں،مگر حیدرآباد حسب دستور/روایت ایک بار پھر سنبھلا اور اس کی نئی تعمیر میں شہر کی دو جماعتوں نے نمایاں اور تاریخ ساز کردارادا کیا۔(1) کل ہند مجلس تعمیر ملت(2)کل ہندمجلس اتحاد المسلمین ۔او ل الذکر جماعت نے مسلمانان حیدرآباد کو دینی ،اخلاقی ، تہذیبی ،تعمیری، فکری اور اصلاحی بنیادوں پر باشندگان حیدرآباد و ریاست کو مضبوط کیااور ثانی الذکر جماعت نے سیاسی ،صحافتی، انتظامی جوڈیشری اور تعلیمی اعتبارسے مضبو ط کیا اور انھیں دنیا بھر میں ایک مستحکم اور قوی شناخت دلائی——آج بھی یہ دونوں جماعتیں فعال ہیں اور مسلسل اپنے مشن پر گامزن ہیں ۔مسلسل ترقی پذیر ہیں اور شہرو ریاست کے عوام بالخصوص مسلمانوں میں مقبول ہیں۔
قلی قطب شاہ کی اپنے شہر کو دی جانے والی وہ دعا، اللہ تعالیٰ نے قبول کی اورآج وہ حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔اس کا شہر ’لوگاں سوں‘ایسے ہی ’معمور‘ہے جیسے ’دریا‘میں رب ’سمیع‘نے’من‘رکھے ہیں۔
ذکراسی شہر حیدرآبادِ فرخندہ حال کے سفر کا ہے۔نیز وہاں گزرنے والے تین دنوں کا۔میری کوشش ہوگی کہ ایک ایک لمحے اور وہاں بیتے ایک ایک پل کا قصہ لکھوں ….
00
27نومبر 2017 کی ایک دوپہر میں میرا ’انفنکس نوٹ۔14‘موبائل وائبریٹ ہوا ۔نمبر UNKNOWNتھا ۔میں نے کال ریسیو کی۔دوسری جانب سے سلام کیا گیا،میں نے جواب دیا۔کالر نے نام لے کر تصدیق چاہی ،میں نے ثبت کیا۔اس کے بعد انھوں نے جو تفاصیل بتائیں اور باتیں کیں ان کا حاصل یہ تھاکہ اسی شام میں نے حیدرآباد روانگی کی تیاریاں کرلیں ۔روانگی اور واپسی کے ٹکٹس بک کیے۔پھر مقرر ہ تاریخ /دن(5؍دسمبر2017) کو حضرت نظام الدین ریلوے اسٹیشن سے حیدرآباد کے لیے روانہ ہوگیا۔ٹرین نے متعینہ وقت کے بجائے کچھ تاخیر سے عالمی شہرت یافتہ سکندرآباد ریلوے اسٹیشن پر چھوڑا۔اس وقت رات کے 4:00بج رہے تھے۔ اسٹیشن پر اترکر لوکل ٹرین کا ٹکٹ لیا اور پلیٹ فارم نمبر دس سے نگم پلّی ،حیدرآباد پہنچ گیا۔رات سائیں سائیں کررہی تھی۔کبھی کبھی سناٹا پھیل جاتا جسے بھاری بھرکم ٹرک یا قریب ہی واقع راجیو گاندھی انٹر نیشنل ائیر پورٹ پر اترنے والے جہاز ارتعاش مچا کر توڑدیتے ۔
میں اسٹیشن سے باہر آیا توآٹو والوں نے گھیر لیا:’کہاں جانا ہے…کہاں جانا ہے؟‘
’گچی باؤلی!‘
’کہاں …کہاں..!!؟‘
’اردو یونیورسٹی!‘میں نے کہا۔
’تین سو لگیں گے…!‘ایک بولا۔
مجھے اندازہ ہوگیا کہ یہ دوسرے بھی ایسے ہی بولیں گے۔لہٰذامیں چپ چاپ اسٹیشن کے باہر آیا اور سڑک پر کھڑے ایک آٹو والے سے بات کی۔اس نے 120کہا جو مجھے اسٹیشن میں موجود بھیڑیوں سے بہت حد تک مناسب لگا۔میں نے سامان اندر رکھا اور آٹو چل پڑا۔ہوا میں مناسب خنکی تھی اور صبح کے وقت کی نکھری خوشبو مشام جاں کو معطر کررہی تھی۔
اللہ اللہ !دہلی میں کیسا موسم کہ دن میں بھی سورج نظر نہ آئے ،شدید و تکلیف دہ ٹھنڈ الگ اور یہاں، سپیدۂ صبح کے طلوع کے وقت بھی راحت بخش ہوا اورخنکی۔راستے میں آٹو والا روایتی/رسمی سوال ۔جواب کررہا تھا۔اسی اثنا میں حیدرآباد سینٹر ل یونیورسٹی کا صدر دروازہ گزرا ۔HCUکا مین گیٹ کیا گزرا کہ وہ سب واقعات ایک ایک کرکے ذہن پر گرنے لگے جو ایک ڈیڑھ سال قبل یہاں واقع ہوئے تھے۔روہت ویمولا کا ایڈمنسٹریٹیو مرڈر(چاہے کوئی کچھ مانے۔ہم طلبا تو یہی کہیں گے!)اس کے بعدیہاں کے ہاسٹلس میں موجود طلبا کو دی جانے والی مختلف اذیتیں ،جواب میں طلبا کا احتجاج،رد عمل میں انتظامیہ کی جانب سے ان کی معطلی اور مختلف سزائیں۔کیا کیا نہ ہوا وہاں۔پھر آسمانوں کی بلندی سے باتیں کرنے والے یہ ہنگامی سر،یہ احتجاجی شعلے بارش کی بوچھاروں کی مانند دبتے چلے گئے۔اب تک تووہ فائل منوں اور ٹنوں فائلوں کے نیچے دب گئی ہوگی۔بہت کم لوگ ہوں گے جنھیں یہ واقعات اصل صورت میں یاد ہوں گے۔
گچی باؤلی،ٹیلی کام نگر کا اَوَر برج شروع ہوگیا تھا۔ آس پاس آسمانوں سے باتیں کرتیں عمارتیں رعنائی و صفائی میں ایک دوسرے سے بازی لے جارہی تھیں ۔ان کے ہر فلور پر ملٹی نیشنل کمپنیوں کے آفس اور سوشل میڈیا کے چینل ہاؤسز تھے۔ حیدرآباد کی گلوبل ویویو والی ہائی ٹیک سٹی یہا ں سے نظر آرہی تھی ۔میں نے آٹو والے سے کہا: ’ بھیا !فرسٹ کٹ سے یوٹرن لے لیجیے گا!۔‘
’اوکے!‘اس نے مختصرکہا ۔
یوٹر ن لیا گیا اور پھر کچھ دور چلنے کے بعد آٹولیفٹ سائڈ موڑدیا گیا ۔جہاں لوہے کے کمان پر لکھا تھا’’مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ،حیدرآباد‘‘——قریب آدھے کلومیٹر چلنے کے بعد یونیورسٹی کا باب العلم نظر آیا۔پرائیویٹ سیکوریٹی گارڈوں نے رسمی انکوائری کی۔ جب انھیں بتادیا گیا کہ’’ یونیورسٹی گیسٹ ہاؤس ‘‘ جاناہے تو اسٹوپ بریکٹ ایک طرف سرکاکر آٹو کے لیے جگہ دیدی گئی۔آٹو یونیورسٹی میں داخل ہوا اور ایک دم سے یہاں کی ہوائیں استقبال کے لیے دست بستہ ہوگئیں ،جیسے انتظار ہی کررہی ہوں۔سپیدۂ صبح اب تک نمودار ہوچکا تھا اور ہلکا ہلکا اجالا پھیل رہا تھا ۔ایڈمن اور دیگر تعلیمی و ثقافتی عمارتوں کے پاس سے گزرتا ہوا آٹو یونیورسٹی گیسٹ ہاؤس پہنچا۔کرایہ حاصل کر کے ’آٹو انکل ‘تو واپسی کے لیے مڑے اور میں گیسٹ ہاؤس ریسپشن کی طرف ۔
ریسپشنسٹ سورہا تھا۔گارڈ نے اسے جگایا۔نہایت خندہ پیشانی سے ملا وہ اور مجھے ضروری کارروائی کے بعد ’D-22 سوٹ ‘سکنڈ فلور کی چابی دیدی۔میں سامان کھینچتا ہوا ’سوٹ‘ پہنچا اور سنہری رنگ کا تالہ کھول کر سب سے پہلے بدن جکڑدینے والے کپڑوں سے آزاد ہوا ۔
00
اب سونے کا وقت کہا ں تھا،صبح بہت صاف ہوچکی تھی اور افق مشرق میں سنہرے لہریے گہرے ہو گئے تھے ،جیسے وقت سے پہلے سورج کو نکال دیں گے۔ مگر وہ اپنے ہی وقت پر نکلا۔میں فریش ہوکر باہر نکل آیا اور اپنے سینئر ڈاکٹر احمد علی جوہر کے ساتھ اردو یونیورسٹی کیمپس کی سیر کرنے لگا۔اس دوران جے این یو کی ہلچل،جے این یو کی باتیں،موجودہ سرگرمیوں کی روداد،علم کے تذکرے فکر و نظر کے مباحثے۔اس کے بعد ہم دونوں واپس گیسٹ ہاؤس پہنچے ۔اب تک ناشتے کا وقت ہوچکا تھا اور ڈائننگ ہال مہمانوں کا منتظر تھا۔میں جوہر صاحب کے ساتھ پہنچا جہاں چند اور مہمان پہلے سے موجود تھے۔ان سے ملاقات اورتعارف ہوا ۔ان میں اورنگ آباد سے تشریف لائے ڈاکٹر عبد العزیز عرفانؔ ،الہ آبادسے تشریف لائے ڈاکٹر عبد المحئی۔ کلکتہ سے ڈاکٹر محمود ریاض اور ڈاکٹر افروز حیدر رضوی وغیرہ تھے۔وہ سب بہت اچھے انسان تھے اور اچھے اسکالر،تعلیم سے بہر ور اور علم و ادب سے شغف رکھنے والو ں کی قدر کر نے والے تھے۔
00
7؍دسمبر 2017
انوگرل سیشن —:
ناشتہ ہوا اور چند ضروری امور کے بعد CSEکوچنگ اکیڈمی کے پرشکوہ آڈیٹوریم میں مولانا ابو الکلام آزاد چیئر (مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی)کے زیر اہتمام’’مولا آزاد اور نظریہ تعمیر ملک(Vision of Maulana Azad and Nation Building))‘‘ کے موضوع پر دو روزہ سیمینار کے افتتاحی اجلاس کاآغاز،ترانۂ اردو یونیورسٹی اور نیشنل اینتھم کے ساتھ ہوا جس کی صدارت ڈاکٹر شکیل احمد (پرووائس چانسلر) نے کی ۔ پروگرام کی نظامت پروفیسر چیئر ڈاکٹر ابو صالح شریف نے کی۔مہمان خصوصی اور مقررین کے طور پر پدم بھوشن پروفیسر کیرتی پاریکھ ،پدم شری ڈاکٹر این آر مادھو مینن۔مسٹر جی۔سدھیر آئی اے ایس(ریٹائرڈ) مسٹر اے۔کے۔ خان۔آئی پی ایس (ریٹائرڈ) اور پروفیسر امیتابھ کندو نے اسٹیج کو زینت بخشی۔ان سب مقررین اور مہمانان نے متعلقہ موضوعات اور عنوانات سے بصیرت افروز خطاب بھی کیا ۔ مولانا آزاد کی تعلیمی بصیرت،تعلیمی نظریات اور تعلیمی افکار پر سیر حاصل گفتگو کی جسے سامعین نے بے حد پسند کیا اور تالیوں کی گڑگڑاہٹ سے ان کو خراج تحسین و تسلیم پیش کیا۔ 
پہلا سیشن:(ویژن اینڈ ایجو کیشن)
انوگرل سیشن 12:30بجے ختم ہوا اس کے بعد لنچ کے لیے بذریعہ بس ہم سب مہمان گیسٹ ہاؤس میس پہنچے ۔لنچ کیا اور پندرہ بیس منٹ بعد دوروزہ پروگرام کا پہلا سیشن شروع ہوا۔اس کی صدارت پروفیسر کیرتی پاریکھ نے کی۔اس سیشن میں تقریباً بارہ مقالہ نگاروں نے ’’مولانا آزاد اور نظریہ تعمیر ملک‘‘ تھیم تلے متعدد عناوین سے مقالے پیش کیے ۔
اس سیشن، بلکہ پورے سیمینار کی ایک اچھی بات یہ رہی کہ ہر مقالے کے بعد فوراًسوالات و جوابات کا سلسلہ بھی رکھا گیا۔مقالہ خواں جواب دیتا اور پھر اپنی جگہ لیتا۔اس کے بعد دوسرے مقالہ نگارکا نمبر آتا اور وہ بھی اسی ترتیب سے ہوکر گزرتا۔ایسا میں نے پہلی بار دیکھا جو بہت اچھا لگا اورحیرت انگیز بھی۔یہ سیشن پانچ بجے شام تک چلا اس کے بعد ٹی بریک اور پھر چھٹی۔
چھٹی کے بعد میں چند ہم خیال ساتھیوں کے ساتھ کیمپس گھومنے لگا ۔اب تک ان سے اچھی خاصی جان پہچان ہوچکی تھی۔تھوڑی دیر بعد میں اور ڈاکٹر عبد المحئی صاحب ہی رہ گئے ۔ہم لوگ مین گیٹ سے ہوتے ہوئے باہر نکلے اور حیدرآبادی چائے ،سموسے کھانے کے لیے ایک کیفے میں چلے گئے ۔باتیں ،تذکرے کیا کیا نہیں تھا۔ہم دونوں ہی تھوڑے سے عرصے میں بہت کچھ کہنا،سننا ،جان لینا ، سمجھ لینا چاہتے تھے۔پتا نہیں کیوں۔اس سوال نے آج تک مجھے بے چین کررکھا ہے۔
00
8؍دسمبر2017:
دوسرا دن،دوسرا سیشن(ڈیولپمنٹ پریسپکٹیو)
اس سیشن کا آغاز پروفیسر امیتابھ کندو کی صدارت میں 9:30پر شروع ہوا ۔
اس سیشن میں بالخصوص ریسرچ اسکالرس نے مقالے پیش کیے ۔پوری ترتیب گزشتہ کل والی ہی تھی۔سامعین نے متعدد سوالات کیے اور مقالہ خوانوں نے جوابات دیے۔نماز جمعہ سے قبل یہ سیشن ختم ہوا۔بعد ازاںیونیورسٹی کے انڈور اسٹیڈیم میں نماز اداکی گئی ۔سنن و نوافل کے بعد بذریعہ بس لنچ کے لیے جانا ہوا ۔
00
نماز جمعہ اور لنچ کے بعد اسی سیشن کا دوسرا اجلاس شروع ہوا ۔جس میں بقیہ مقالہ نگاروں نے اپنے مقالے پیش کیے ۔
پینل ڈسکیشن(ریلوینس آف مولانا آزاد ان کنٹمپریری انڈیا)
اس پینل کے شرکا میں جندل یونیورسٹی آف لا ،سونی پت کے ڈاکٹر محسن عالم بھٹ ،ڈاکٹر محسن رضا خان مقامی دانشوران میں ڈاکٹر گوتم پنگلے ،ڈاکٹر عبد السبحان کے نام نمایاں تھے۔اس پینل کی صدارت پروفیسر مولانا ابو الکلام آزاد چیئر ڈاکٹر ابو صالح شریف نے کی۔آخری سیشن ڈھائی گھنٹے چلنے کے بعد 4:30تک جاری رہا ۔ اس کے بعد تمام مقالہ نگاروں کو معززین کے ہاتھوں سرٹیفکیٹ تقسیم کیے گئے۔پانچ بجے ٹی بریک ہوا اس کے بعد خصوصی شکریے کے ساتھ نیشنل اینتھم کے بعد پروگرام ختم ہوا اور پھر ہم سب لوگ باہر آگئے۔شام کاسورج ابھی تک پچھلی پہاڑیوں سے جھانک رہا تھا جیسے آخری سلام کررہا ہو۔پھر وہ دھیرے دھیرے لامتناہی گہرائیوں میں اترتا چلا گیا۔
00

9؍دسمبر 2017:فری دن——
یہ دن فری تھا جسے میں نے نہایت یاد گار اور خوشگوار انداز سے گزارا۔دن کے پہلے پہر میں ایڈیٹر ہفت روزہ’گواہ ‘ اور چیئرمین ’میڈیا پلس ایڈورٹائزمنٹ ‘ڈاکٹر فاضل پرویز صاحب کے آفس جامعہ نظامہ کمپلیکس ،گن فاؤنڈری اپوزٹ ایس بی آئی،عابڈس پہنچا ۔ جناب والا نے میرا پر تپاک استقبال کیا۔ آنجناب کے ساتھ پانچ گھنٹوں کی رفاقت ایک ناقابل فراموش رفاقت تھی ۔یہ ملاقات ،یہ رفاقت حیدرآباد اور دہلی کی صحافت ، حیدرآباد اور دہلی کے علمی حلقوں اور ان دونوں شہروں کے ادبی حال و احوال کے تبادلۂ خیالات پر مشتمل تھی ۔اسی دوران فاضل پرویز صاحب نے اپنے ہفت روزہ کے لیے میرا انٹرویو لیا۔یہیں بلیک ٹی کے کئی دورچلے اور میڈیا پلس آفس کی شاندار لابی میں لنچ کیا گیا جہاں سے آس پاس کی عالی شان عمارتیں ،کشادہ سڑکیں اور ان پر دوڑتی بھاگتی گاڑیاں، بسیں،بائیکس اور موٹریں دکھائی دے رہی تھیں ۔ بہت دلکش نظارہ تھاوہ ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے ایک لمبی سی رنگ برنگی چادر پھیلی ہوئی ہو اورایک طرف سے چل کر دوسری طرف جارہی ہو ۔جانے کہاں ۔
شام گھرتی آرہی تھی اور سورج انتہائی بے قراری اور بے تابی سے ایک سمت بھاگا جا رہا تھا۔ میں نے ضروری سامان سمیٹا اور ڈاکٹر فاضل پرویز صاحب سے رخصت لے کر واپس یونیورسٹی کے لیے روانہ ہوگیا۔براہ مہدی پٹنم،میں گچی باؤلی پہنچا اور وہاں سے پیدل یونیورسٹی کیمپس ۔ یہاں ڈاکٹر جانثار معین اور ڈاکٹر احمد علی جوہر صاحب راستے میں ملے پھر ہم تینوں ایک ساتھ گیسٹ ہاؤس پہنچے اور دیر تک علمی ادبی باتیں کرتے رہے۔ابھی باتوں کا سلسلہ جارہی تھا کہ مایاناز محقق و ناقد اور سابق صدر شعبۂ اردو موہن لال سکھاڈیایونیورسٹی (سینٹرل)ادے پور، پرو فیسر فاروق بخشی صاحب کا فون آیا (میں ان سے دن میں ملنے کا وقت لے چکا تھا) میں نے انھیں گیسٹ ہاؤس کا ایڈریس دیا ۔آنجناب نے اپنے ایک ہونہار شاگرد کو بھیجا جس کے ساتھ میں یونیورسٹی کے قریب واقع ان کا گھر پہنچا۔یہ آں جناب پروفیسر سے میری پہلی ملاقات تھی ۔کیا خوب انسان ہیں وہ اورخلوص سے بھرپور استاذ۔ان کی باتوں سے دانشوری اور نئی نسل کے لیے فکر مندی ہویدا تھی ۔نہایت تپاک سے ملے اور پر تکلف ماحضر پیش کیا۔اس سے زیادہ علمی ،ادبی،ثقافتی اور حوصلہ افزا جو باتیں انھوں نے کیں، وہ انمول تھیں ۔میں انھیں کبھی نہیں بھول سکتا ۔واقعی وہ ایک اچھے استاذ اور مدبرو مہربان سرپرست ہیں جو ان کو زیبا بھی ہے اور ان کے شایاں بھی ۔اللہ پاک انھیں سلامت رکھیں۔آمین!
اب تک بہت رات ہوچکی تھی،سر سے واپسی کی اجازت چاہی جو بہت ساری دعاؤں ، محبتوں اور خندہ پیشانی کے ساتھ ملی ۔میں واپس گیسٹ ہاؤس سوٹ پہنچا۔ آنکھوں میں نیند کسی ناقابل برداشت بوجھ کی مانند گرنے لگی تھی جس کا نتیجہ یہی نکلا کہ میں بستر پر دراز تھا۔
10؍تاریخ۔دم واپسیں:
آج اتوار تھا ۔یعنی مکمل چھٹی کا دن۔جس دن سڑکوں پر بے تحاشا بھیڑہوتی ہے اور بڑی بڑی دکانیں بند۔آج ہی میری واپسی بھی تھی جس کے لیے میں نے سامان پیک کیا اور ساڑھے دس بجے گیسٹ ہاؤس چھوڑ دیا۔ مجھے یادتھا کہ اتوار کے دن تاریخی چار مینار کے دامن میں مغربی جانب واقع لاڈ بازار میں اسی دن پرانی کتابوں کا بازار لگتا ہے۔جہاں بے شمار قیمتی اور نایاب کتابیں سستے داموں میں ملتی ہیں۔اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہاں وہ کتابیں مل جاتی ہیں جواب ناپید ہوچکی ہیں ،مگر ہیں بڑے کام کی۔ متعددبے مثال کتابیں اور دستاویز وہاں موجود ہوتی ہیں۔میں بھی اسی شوق میں لاڈ بازار پہنچا مگر یہ دیکھ کر انتہا ئی افسوس ہوا کہ دور دور تک کوئی دکان نہیں تھی۔میں سر پیٹ کر رہ گیا ۔اب ہو بھی کیا سکتا تھا ۔میں بجھے اور افسردہ دل وہاں سے آگے بڑھا اور ’نمرہ بیکر ی اینڈ کیفے ‘شاپ سے حیدرآباد کے مشہور ’عثمانیہ بسکٹ‘خریدے ۔پھر سڑک پر سامان کھینچتا ہوا شاہ علی بنڈاچوک پہنچا اور وہاں سے سکندر آباد ریلوے اسٹیشن کے لیے ٹیکسی آرڈر کی ۔ایک گھنٹے کے دورانیے میں ٹیکسی نے اسٹیشن پہنچایا۔اس وقت 1:00بج رہا تھا اور ’12285حضرت نظام الدین ۔سکندر آباد دورانتو ایکسپریس ‘ بس چلنے کو تیار تھی ۔میں اپنے کوچ اور سیٹB-21 تک پہنچا اور باقی سفر نہایت آرام سے طے ہوا ۔22گھنٹوں کی مسافت کے بعد میں اب دہلی میں ہوں۔یہاں کے آلودگی بھر ے دن رات ہیں اور میں ہوں۔

سوشل میڈیا میں اردو:لفظیات کو درپیش مسائل

سوشل میڈیا میں اردو:لفظیات کو درپیش مسائل
نایاب حسن
سوشل میڈیا۔باہمی رابطے کا تیزترذریعہ:
موجودہ صدی اطلاعاتی وعلمی انقلاب کی صدی ہے،ذرائعِ معلومات وابلاغ کی نت نئی صورتوں نے ہماری نگاہوں کے سامنے ایک ایسی رنگارنگ کائنات بسادی ہے ،جس میں علم وتحقیق ، فکروتدقیق اورخبرونظرکے تمام ترشعبے ہرصاحبِ ذوق انسان کودعوتِ نظارہ دے رہے ہیں،اطلاعاتی ٹکنالوجی کی دم بدم ترقیات نے انسان کی رسائی اَخباروحوادثِ عالم سے لے کر علوم و فنون کی جملہ شاخوں تک نہایت ہی آسان کردی ہے،انٹرنیٹ اِس وقت معلومات کاجامِ جہاں نما کہا جاسکتاہے،اس کے اِفادی پہلووں کوکام میں لاکرکوئی بھی انسان،تحریک اور اکیڈمی وادارہ منٹوں اور سیکنڈوں میں اپنی باتیں دنیاکے ایک گوشے سے دوسرے گوشے تک پہنچاسکتاہے،انٹرنیٹ کے سہارے ہمعصرصحافت اپنے عروج اوربلندیوں کے نئے آفاق وجہان دریافت کررہی ہے، اس وقت دنیا بھر کے بیشتر بڑے چھوٹے اخبارات کے’ ’ای ایڈیشنز‘‘بھی دستیاب ہیں،جن کے صفحات انگلیوں کی معمولی جنبش سے ہمارے سامنے کھل جاتے اور دنیامیں کہیں بھی واقع ہونے والے واقعات وحادثات اور تغیرات سے باخبرکرتے ہیں۔انٹرنیٹ ہی کی بہ دولت ذریعۂ ابلاغ کی ایک نئی شکل سوشل میڈیاکی صورت میں وجود پذیر ہوئی ہے،جو ہر گزرتے دن کے ساتھ ہماری زندگی میں اہمیت اختیار کر رہا ہے، یہاں خبروں اور معلومات کے لئے کروڑوں افراد آپس میں ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔وکی پیڈیا پرسوشل میڈیا کی یہ تعریف کی گئی ہے:
’’کمپیوٹرکی وساطت سے استعمال ہونے والی ایسی ٹکنالوجیز،جوورچوَل کمیونٹیزاورنیٹ ورکس کے ذریعے کسی اطلاع،فکر،ملازمت سے متعلق اموراور دیگر اشیا کو تخلیق و اشاعت کی سہولت فراہم کرتی ہیں‘‘۔
(https://en.wikipedia.org/wiki/Social_media#Definition_and_classification)
ٹوئٹر اور فیس بک اس دور کی مقبول ترین سوشل سائٹس ہیں، جن کے کروڑوں صارفین دنیا بھر میں موجود ہیں۔ فیس بک پر موجود لوگوں کو اگر ایک ملک کی آبادی قراردیں، تو یہ دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے ، جبکہ کئی عالمی سیاسی رہنما یا آرٹسٹ ایسے ہیں،جن کے ٹوئٹر فالوورز جرمنی، ترکی، جنوبی افریقہ، ارجنٹائن، مصر اور کینیڈاجیسے ملکوں کی آبادی سے بھی زیادہ ہیں۔ سوشل میڈیا پر ہر قسم کی بات کی جاسکتی اور ہر نسل اور رنگ کے لوگ اپنی پسند کے مطابق ایسے لوگ ڈھونڈ سکتے ہیں، جن کے ساتھ تعلقات کئی بار حقیقی زندگی کے تعلقات میں بدل جاتے ہیں۔آپسی بات چیت اور باہمی روابط کے فروغ میں بھی سوشل میڈیااہم کردار ادا کررہاہے اور اس کی بہ دولت تعلقات اور دوستی کی ایک ایسی نئی صنف سامنے آچکی ہے کہ دولوگ جسمانی اعتبار سے سیکڑوں ؛بلکہ بسا اوقات ہزاروں میل دور ہونے کے باوجوداپنے کمپیوٹر،لیپ ٹاپ،ٹیبلیٹ ،اسمارٹ فون یاآئی فون وغیرہ کی سکرین کے ذریعے ایک دوسرے کے قریب بھی ہوسکتے ہیں اور وہ آپس میں اسی طرح بات چیت کرسکتے ہیں،جیسے کہ حقیقت میں دوملنے والے ایک دوسرے سے بات چیت کرتے ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ کے 3.2 بلین مجموعی صارفین میں سے 46.1 فیصدلوگ ہروقت آن لائن رہتے ہیں اور فیس بک پر فی سیکنڈ 5 لوگ نیا اکاؤنٹ بناتے ہیں،جبکہ موبائل پر انٹرنیٹ کی سہولت کی وجہ سے ٹوئٹس، فیس بک پوسٹس اور گوگل سرچز کی تعداد میں ہوش ربا اضافہ ہورہا ہے، ایک اندازے کے مطابق فی سیکنڈ 54 ہزار 907 گوگل سرچز، 7 ہزار 252 ٹوئٹس، اڑھائی لاکھ سے زائد ای میلز اور یوٹیوب پر سوا لاکھ سے زائد ویڈیوز دیکھی جاتی ہیں۔ اس انٹرنیٹ سیکنڈ کو بڑھایا جائے تو ساڑھے تین لاکھ ٹوئٹس فی منٹ ہوتی ہیں اور اس طرح ایک سال میں 200 ارب ٹوئٹس کیے جا رہے ہیں، جبکہ پہلا ٹوئٹ 21 مارچ 2006ء کو کیا گیا تھا۔ لائیو اعداد و شمار کے مطابق فی سیکنڈ بھیجی جانے والی لاکھوں ای میلز میں سے 67 فی صد اسپیم یعنی اشتہاری اور فالتو ای میلز ہوتی ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر گوگل کو 3 ارب مرتبہ سرچ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ 1998ء میں جب گوگل سروس پیش کی گئی، تو اس سال روزانہ صرف 10 ہزار سرچز ہوتی تھیں۔
ٹویٹس اور ای میل سے ہٹ کر ہر سیکنڈ میں انسٹاگرام پر 729 فوٹو اپ لوڈ کیے جا رہے ہیں اور اسکائپ پر 2,177 کالز کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ ریڈیٹ اور ایلیکسا پر فی سیکنڈ 286 ووٹ کاسٹ کیے جاتے ہیں اور 23 کمنٹس پوسٹ ہوتے ہیں، دوسری جانب نیٹ فلیکس نے حیرت انگیز اعداد و شمار پیش کیے ہیں؛ کیونکہ اس کے 80 لاکھ صارفین فی سیکنڈ 1,450 گھنٹے کی ویڈیو اور ٹی وی شوز دیکھتے ہیں۔ واٹس ایپ کو موبائل میسیجنگ کی دنیا کا بادشاہ تصور کیا جاتا ہے اور اس بات کی تصدیق ایک حالیہ سروے میں بھی ہوئی ہے۔ ڈیجیٹل مارکیٹنگ انٹیلی جنس کمپنی سمیلر ویب کی جانب سے کیے گئے ایک سروے کے مطابق واٹس ایپ دنیا کے 109 ملکوں میں استعمال کیا جانے والا سب سے بڑااور بہترین موبائل میسیجنگ ایپ ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہندوستان میں موجود 94.8 فیصد اینڈرائیڈ موبائل فونز میں واٹس ایپ موجود ہے، جہاں اس کا روزانہ اوسطاً 37 منٹ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کمپنی نے 187 ملکوں میں سروے کیا اور 109 ملکوں میں یہ صف اول پر رہا، دنیاکے 55.6 فیصد موبائل فونز میں اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔
مجموعی طورپراس وقت سیکڑوں سوشل سائٹس ہیں،جو کسی نہ کسی خصوصیت میں ایک دوسرے سے ممتاز ہیں اور انھیں مخصوص ممالک یا لوگوں میں مقبولیت حاصل ہے، ہندوستان میں بھی سوشل میڈیاکے طورپر استعمال ہونے والی بہت سی سائٹس ہیں،البتہ ان میں دس مشہور ہیں اور ان سے عام طورپر لوگ واقفیت رکھتے ہیں۔ان سوشل سائٹس میں فیس بک،واٹس ایپ،فیس بک میسنجر،گوگل پلس،سکائپ،ٹوئٹر،ہائک میسنجر،لنکڈاِن،انسٹاگرام اور وی چیٹ شامل ہیں۔ ہندوستانی ٹوئٹریوزرس کی تعداد26.7ملین،فیس بک استعمال کرنے والوں کی تعداد241؍ملین ،واٹس ایپ یوزرس200؍ملین،انسٹاگرام یوزرس کی تعداد33؍ملین،لنکڈان یوزرس کی تعداد42ملین ہے،ان کے علاوہ دیگر سوشل سائٹس کے استعمال میں بھی عالمی سطح پرہندوستانی صارفین کی تعداد عموماً دوسرے یا تیسرے نمبر پر ہے۔
اردوزبان اور سوشل میڈیا:
سائبرسپیس میں اردو زبان کے داخلے کو پندرہ سال سے زیادہ کاعرصہ نہیں گزرا ہے ،مگر اتنی مختصر مدت میں بھی اس زبان نے انٹرنیٹ کی دنیا میں غیر معمولی ترقی حاصل کی ہے،اردوسافٹ ویئر کے علاوہ یونیکوڈ اردو کے ذریعے بھی آسانی سے اظہارِ خیال کی سہولت موجود ہے،دیگرزبانوں کی ماننداردوزبان میں بھی علوم و فنون کاایک بڑاذخیرہ انٹرنیٹ پردستیاب ہے،مختلف زبانوں کے صحافتی ذرائع سے تحریک پاکرہندوپاک اوردیگرممالک سے شائع ہونے والے اردوزبان کے اخبارات و رسائل کی ایک بڑی تعداد ’’آن لائن‘‘ہوچکی ہے اوردنیاکے کسی بھی خطے میں رہنے والے انسان کے لیے آسان ہوگیاہے کہ وہ کسی بھی ملک کاکوئی بھی پسندیدہ اخبار یا میگزین کہیں بھی بیٹھ کربآسانی دیکھ اورپڑھ سکتا ہے،ادبی رسالوں،کتابوں،شاعری کے معتد بہ ذخیرے کے علاوہ متعدد ادبی سائٹس سرگرمِ عمل ہیں اور انٹر نیٹ کی بہ دولت لوگ عالمی ادبیات سے بھی آگاہی حاصل کررہے ہیں۔سوشل میڈیابھی انفرادی واجتماعی سطح پراپنے خیالات وافکارکی ترسیل واشاعت کاایک بہت اہم وسیلہ بن چکاہے،سیاسی مباحث ہوںیاسماجی مسائل ،علمی وسائنسی موضوعات ہوںیاادبی عناوین؛ ہرایک موضوع پرلوگ اپنے اپنے ذوق ودلچسپی کے موافق ٹوئٹر،فیس بک، واٹس ایپ،انسٹاگرام اوردیگرسیکڑوں سوشل سائٹس کے ذریعے کھل کر اظہارِ خیال کررہے ہیں، کچھ دنوں پہلے تک اردووالے اپنی باتیں رومن رسم الخط میں لکھتے تھے اوراس سے ایک اندیشہ پیداہونے لگاتھاکہ کہیں اس طرح اردورسم الخط کو نقصان نہ پہنچ جائے،مگرپھردیکھتے ہی دیکھتے یہ اندیشہ کافور ہوگیا اورانٹرنیٹ پردیگرزبانوں کی طرح اردو شائقین کی بھی ایک بڑی تعداد نمودا ر ہوگئی، جو سوشل میڈیاپربسہولت اردوزبان میں اپنے خیالات کااظہارکرسکتی تھی ،حالاں کہ یہ حقیقت ہے کہ اب بھی سوشل میڈیا پر اردو زبان کا استعمال دوسری زبانوں کی بہ نسبت بہت کم ہے؛لیکن پھر بھی اردوپڑھنے لکھنے والی نوجوان نسل کا بڑا طبقہ اردوزبان میں سوشل میڈیا کا استعمال کررہا ہے۔اس سے اردوزبان کوایک بڑافائدہ یہ ہواکہ اپنے اپنے خاص مقاصدکے تحت لوگوں نے جدید ادب اورنئے ادبی رویوں،رجحانات کومَس کرنے کے ساتھ قدیم ،کلاسیکل ادب و شاعری کی طرف بھی پورے ذوق وشوق سے رجوع کیا اورنئے زمانے کے مقبول شعراواہلِ ادب کے ساتھ ان کے مطالعے میں قدیم عہدکے استاد شعرا و ادباکی تخلیقات بھی آنے لگیں۔اس کے ساتھ ہی اردو میں خبروں کے حصول اور عالمی خبروں تک پہنچنے کے لیے بھی سوشل میڈیاایک تیز تر وسیلہ ثابت ہو رہاہے ، دسیوں سرگرم نیوز پورٹل ،علمی وادبی بلاگنگ سائٹس کے علاوہ سیکڑوں واٹس ایپ گروپ،ٹیلی گرام چینلس ،فیس بک گروپ معرضِ وجود میں آچکے ہیں ،جو ابلاغ کی ایک نئی صنف کو بہ خوبی برت رہے ہیں اور قارئین تک تیزی سے خبریں،تجزیے ،تبصرے اورنثری و شعری تخلیقات پہنچا رہے ہیں۔حالیہ دنوں میں اردو زبان کا استعمال ای میل،بلاگ،ٹوئٹر،فیس بک،واٹس ایپ اوریوٹیوب وغیرہ سوشل سائٹس پر تیزی سے بڑھا ہے۔فیس بک اور واٹس ایپ پر خاص طور سے مشاعروں کی مجلسیں بھی سجنے لگی ہیں،کئی اردو ویب سائٹس ایسے ادبی فورم میں میں تبدیل ہوگئی ہیں، جہاں اردو زبان و ادب کے سنجیدہ مسائل و موضوعات پر بحث و نقاش کی مجلسیں برپا کی جاتی ہیں اور ان مجلسوں میں نئی نسل کے نمایندہ افراد شریک ہوتے ہیں۔سوشل میڈیا کی بہ دولت اردو زبان و ادب کا دائرہ سرحدوں سے گزرکر عالمی سطح پر پھیل رہا ہے اور مختلف ملکوں کے ادیب و شاعر ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں، بھلے ہی انھیں بالمشافہ ملاقات کا موقع نہ ملے،مگر سوشل میڈیا نے ان کے لیے ایک دوسرے کے خیالات و تخلیقات سے استفادہ کی راہیں کھول دی ہیں،سوشل سائٹس پر جہاں استاد شعرا و ادبا کے تذکرے اوران کی تخلیقات کی اشاعت تسلسل کے ساتھ جاری ہے،وہیں نئے تخلیق کاروں کو بھی عالمی سطح پر نئے نئے قارئین و سامعین میسر آرہے ہیں۔سب سے پہلے ٹوئٹر نے بلاگ میں اردو رسم الخط کے استعمال کی سہولت فراہم کی تھی،جس نے اردو داں حلقہ کو تیزی سے اپنی جانب کھینچا اورآج اردو ٹوئٹراستعمال کرنے والوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے،اس کے علاوہ اب فیس بک اورواٹس ایپ کو بھی مکمل اردو زبان میں استعمال کرنے کی سہولت حاصل ہوگئی ہے۔اردو زبان میں بلاگ لکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد سامنے آئی ہے، بہت سے لوگ اپنے بلاگس کو الیکٹرانک اشاعت کے ساتھ کتابی شکل میں بھی شائع کررہے ہیں۔سوشل میڈیا نے افراداورجماعتوں کو ناقابلِ تصور حد تک ایک دوسرے سے قریب کردیا ہے،ایک شخص جس جگہ جسمانی طورپر موجود ہے،ممکن ہے کہ وہاں وہ ذہنی طورپر موجود نہ ہو؛لیکن وہ شخص سوشل میڈیا کی بہ دولت اسی وقت ایک ایسی جگہ پر موجود ہوسکتا ہے، جہاں وہ جسمانی طور پر نہیں پہنچ سکتا ۔سوشل کمیونٹی ایک فیملی یا خاندان میں تبدیل ہوچکی ہے؛چنانچہ آپ کوMy Facebook familyجیسی تعبیراکثر و بیشتر سننے اور دیکھنے کو ملتی ہوگی ،آپ جیسے ہی فیس بک کھولیں گے سب سے اوپرWhat’s on your mindلکھا ہوا آئے گااور پہلے سے گرچہ آپ کے دماغ میں کچھ نہ ہو ،مگر یہ سوالیہ جملہ دیکھتے ہی کچھ نہ کچھ آپ کے دماغ میں آہی جائے گا اور پھر آپ آناً فاناً اس کا اظہاربھی کردیں گے۔ الغرض جدید ٹکنالوجی نے موجودہ انسان کے سامنے اطلاع و روابط کے نئے آفاق کھول دیے ہیں،جن کی وسعت ہماری زندگی کے ہر گوشے کا احاطہ کیے ہوئے ہے،اس کے ساتھ ہی اس نے دنیاے زبان و ادب کے لیے بھی نئے امکانات و ابعادوا کردیے ہیں۔
لفظیات کو درپیش چیلنجز:
مذکورہ مثبت اور مفید پہلووں کے ساتھ سوشل میڈیا میں اردو زبان کے استعمال کے تعلق سے ایک اور پہلو قابل توجہ ہے ،جس کی طرف عموماً دھیان نہیں دیا جاتا ہے اور اس کا تعلق زبان و بیان کی غلطیوں سے ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ جس طرح ہر زبان کا اپنا ایک تہذیبی و تاریخی پس منظر ہوتا ہے،اسی طرح الفاظ کا بھی اپنا ایک پس منظر اورتاثیر ہوتی ہے، کبھی کبھی توایک لفظ کو بولنے کے لب و لہجہ کے اختلاف اور بولنے والے کے چہرے کے خطوط سے بھی بعض الفاظ کے مصداق میں تبدیلی واقع ہوجاتی ہے،اردو زبان میں بے شمار ایسے الفاظ ہیں کہ زبر زیر کے فرق سے معنی و مفہوم بدل جاتے ہیں۔سوشل میڈیا میں پوسٹنگ اور میسجنگ کے علاوہ مکالمے کے لیے بھی عام طورپر تحریری شکل ہی رائج ہے؛لیکن یہ تحریر با ضابطہ تحریر کے مفہوم میں بھی شامل نہیں کی جاسکتی؛کیوں کہ یہاں بات کرتے ہوئے لفظ لکھے تو جاتے ہیں،مگرزبان، جملوں کی ساخت،علامات،اشارات وغیرہ عام طورپر وہی استعمال کیے جاتے ہیں،جو عموماً بول چال میں مستعمل ہیں،جبکہ بہت سی دفعہ سوشل میڈیا پر بات چیت کی زبان بالکل ہی الگ ہوتی ہے،یعنی ایسی زبان، جو نہ تو عام بول چال میں استعمال ہوتی ہے اور نہ لکھنے میں استعمال کی جاتی ہے۔انٹرنیٹ اورسوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر کی جانے والی بات چیت کے لیے انگریزی میںChatingیاChatکا لفظ استعمال ہوتا ہے،وکی پیڈیاپر آن لائن چیٹ کی لمبی تعریف کی گئی ہے ،جس کا اجمال یہ ہے کہ آن لائن چیٹنگ انٹرنیٹ کے واسطے سے دویا دو سے زیادہ لوگوں کے درمیان کی جانے والی کسی بھی قسم کی بات چیت ہے،چاہے وہ صوتی ہو،تحریری ہو، تصویری ہویااِموشنز(اِموجیز)کے ذریعے کی جائے۔اس تعریف سے معلوم ہوا کہ سوشل سائٹس پر بات چیت کا اطلاق تحریر،آواز،تصویراورایموجیزسب پر ہوتا ہے ،یعنی سوشل میڈیا پر بات چیت میں الفاظ کا تلفظ اور املا دونوں شامل ہیں۔عربی میں آن لائن بات چیت کے لیے عام طورپر’’دردشۃ‘‘مصدراور اس کے مشتقات کا استعمال کیا جاتا ہے،اردو زبان میں اس کے لیے اب تک باقاعدہ کوئی متبادل نہیں ہے اور یہاں سوشل میڈیا،سوشل سائٹس،فیس بک،پوسٹ ، کمینٹ ،شیئر،ٹوئٹر،ٹوئٹ ،فالو ،فالوورزاور چیٹنگ جیسے خالص انگریزی الفاظ ہی عام طورپرمستعمل ہیں،زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا ہے کہ حسبِ ضرورت انگریزی لفظ کے ساتھ’’کرنا‘‘کا مصدری لاحقہ لگادیا جاتا ہے ،جیسے پوسٹ کرنا،ٹوئٹ کرنا، فالوکرنا، چیٹنگ کرنا وغیرہ اورپھر اسی ’’کرنا‘‘سے مختلف افعال بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا میں اردوزبان کے استعمال میں جس قدراضافہ ہورہا ہے،اسی رفتار کے ساتھ زبان کی لفظیات میں تبدیلی بھی واقع ہورہی ہے،سوشل میڈیا پر بولے یالکھنے جانے والے الفاظ میں زبان کے صحیح تلفظ اور املا کی صحت کو عموماً دھیان میں نہیں رکھاجاتا،نئی الیکٹرانک تعبیرات کی ایجاد،عام بول چال اور تحریروں میں استعمال ہونے والے الفاظ کے نئے نئے مخفف بنانا،چھوٹے چھوٹے اورمبہم جملوں کو برتنااورتلفظ یا املا کے قواعد کی صریح خلاف ورزی کرنے والے لفظوں کا بے محابا استعمال سوشل میڈیا کی زبان کا خاصہ ہے۔سوشل میڈیا کی اصل اور سب سے زیادہ استعمال ہونے والی زبان انگریزی ہے،مگر یہاں انگریزی کو بھی تلفظ و املا کے کئی مسائل درپیش ہیں،یہ الگ بات یہ ہے کہ انگریزی والے دوسرے اہلِ زبان کے بالمقابل متحرک ہیں؛چنانچہ ان کے یہاں سوشل میڈیا میں استعمال کیے جانے والے الفاظ پر نظر رکھ کر انھیں قبول یا رد کرنے کے تعلق سے فیصلہ کیے جانے میں تاخیر نہیں ہوتی،عموماً دیکھا جارہاہے کہ جو لفظ سوشل میڈیا میں زیادہ چل پڑتا ہے،اسے ڈکشنری میں بھی شامل کرلیا جاتا ہے اور پھر وہ باقاعدہ فصیح اور لکھی پڑھی جانے والی زبان میں بھی استعمال کیا جانے لگتا ہے،اس رویے پر بعض حلقوں میں تشویش بھی ہے؛چنانچہ لندن اسکول براے رابطۂ عامہ کے ایک بلاگ کے مطابق’’آکسفورڈ انگلش ڈکشنری میں ہر سال ہمارے معاشرے میں استعمال ہونے والے بہت سے عامی الفاظ کوبھی شامل کرلیا جاتا ہے ،نتیجتاً کسی لفظ کے صحیح یا غلط ہونے کا کوئی معیار باقی نہیں رہ گیا ہے؛کیوں کہ جو الفاظ کل تک مہمل یا غلط سمجھے جاتے تھے،وہی اب صحیح اور موضوع قراردیے جارہے ہیں،عامی الفاظ اور تعبیرات مسلسل اس ڈکشنری میں شامل کی جارہی ہیں۔2013ء میں tweet,follow, follower, جیسے الفاظ سوشل میڈیا میں بہ کثرت مستعمل ہونے کی وجہ سے اسم اور فعل دونوں حیثیتوں سے شامل کیے گئے‘‘۔) (London School of Public Relations Blog, September 18, 2013 by Nina Jasilek in Social Media
اسی طرح کچھ دن پہلے تک الیکٹرانک ذریعۂ ترسیل کے لیے انگریزی میںE-mailاس طرح لکھا جاتا ہے(یعنیEبڑے حرف میں ،اس کے بعد ڈیش،پھرmail)لیکن پھرemailلکھا جانے لگا اور اب بطور فعلemailedاورemailingبھی بہ کثرت استعمال ہوتے ہیں،tweetedکا لفظ بھی تقریباً عام ہوچکا ہے،بس facebookedکا مارکیٹ میں آنا باقی ہے۔ان کے علاوہ سوشل میڈیا پر انگریزی میں MP,OMG,LOL,TC,WC,TTYL جیسے جوبے شمار مخففات استعمال کیے جاتے ہیں،انھیں وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں،جو انگریزی زبان میں مہارت رکھنے کے ساتھ سوشل میڈیا کی اس نئی زبان میں بھی درک رکھتے ہوں۔
چوں کہ سوشل میڈیا میں انگریزی زبان کا استعمال زیادہ ہے؛اس لیے اس طرح کی حرکتیں اس زبان میں زیادہ رونما ہورہی ہیں،دوسری زبانوں کو بھی استعمال کی کمیت و کیفیت کے اعتبار سے ایسی مشکلوں کا سامنا ہے۔اردو زبان بھی چوں کہ سوشل میڈیا میں خوب استعمال ہورہی ہے،چاہے رومن رسم الخط میں استعمال ہورہی ہو یا عربی و نستعلیق رسم الخط میں؛اس لیے اس زبان میں بھی سوشل میڈیا سے متعلق تلفظ اور املا کے کئی مسائل سامنے آرہے ہیں ۔ہماری نسل جو سوشل میڈیا کے استعمال کی عادی ہے،وہ زبان کی صحت وغیرہ پر زیادہ دھیان نہیں دیتی،وہ جلدازجلد اور تیز تر وسیلہ اختیار کرکے اپنے روابط و تعلقات کا دائرہ بڑھانا چاہتی ہے،اردو کے ساتھ موقع بے موقع انگلش الفاظ بھی استعمال کیے جاتے ہیں اوراس طرح سوشل میڈیا میں ایک نئی زبان میں وجود میں آچکی ہے،جسےUrdishکہا جاتا ہے،یہ زبان ایس ایم ایس اور ٹوئٹس میں زیادہ استعمال ہوتی ہے؛کیوں کہ یہاں اظہارِ خیال کے لیے سپیس کم ہوتا ہے، چیٹنگ میں بھی یہی زبان استعمال ہونے لگی ہے، کئی الفاظ کو تو اتنا زیادہ مختصرکرکے لکھا جاتا ہے کہ عام لوگوں کے لیے انھیں سمجھنا نہایت ہی مشکل ہے، ہندوستان کی سطح پر چوں کہ سوشل میڈیا میں عربی یا نستعلیق رسم الخط میں اردو کا استعمال ابھی بہت عام نہیں ہواہے،بہت سے اہلِ زبان بھی رومن رسم الخط میں اردو لکھتے ہیں؛چنانچہ سوشل میڈیا پربات چیت کرتے ہوئے السلام علیکم کی جگہASKاوراس کے جواب میں وعلیکم السلام کی جگہWslmعام طوراستعمال ہوتا ہے،بہت سے لوگ مکمل فارمیٹ میں سلام کرنا چاہتے ہیں تو وہ دوچارwکا بھی اضافہ کردیتے ہیں،جس کا مطلب ہے ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ایک لفظ اور سوشل میڈیا کی باہمی گفتگو میں بکثرت استعمال ہونے لگا ہے اور وہ ہے’’ہممم‘‘یعنی ’’ہ‘‘ اوراس کے بعد دوتین یا حسبِ موقع وسہولت پانچ دس’’ میم‘‘،یہ دراصل انگریزی سے درآمد کیا گیا ہے،انگریزی زبان میں سوشل میڈیا پرباہمی گفتگو میںhmmکسی بات،خیال یا رائے کی تائید کے لیے استعمال کیا جاتا ہے،سوشل میڈیا کی اردودنیا نے بھی اسی معنی میں اس کو اپنا لیا ہے،شروع شروع میں یہ لفظ عموماً دوایسے لوگ ہی باہمی گفتگومیں استعمال کرتے تھے،جن کے آپس میں گہرے برقی تعلقات ہوتے تھے،مگر بہ تدریج یہ لفظ سوشل میڈیا کی عام بول چال میں بھی استعمال ہونے لگا ہے ۔مختلف قسم کے انسانی جذبات کے اظہار کے لیے الگ الگ الفاظ وضع کیے گئے ہیں،جنھیں حسبِ موقع عام بول چال یا تحریر وغیرہ میں استعمال کیا جاتا ہے،مگرسوشل میڈیا میں ان لفظوں کو برتنے کا بھی ایک الگ سٹائل ہے،خوشی یاغم کی کمیت و کیفیت کے اعتبار سے لفظ کے حروف بھی کم یا زیادہ ہوتے رہتے ہیں۔مثال کے طورپر21؍ستمبرکو مشہور بالی ووڈ ہیروئن دیپکاپاڈوکون نے اپنی آنے والی فلم ’’رانی پدماوتی‘‘کا پہلاپوسٹر شیئرکیا،جس پر مختلف مشہور فلمی شخصیات نے فوری طورپر اپنے اپنے ردِعمل اور خوشیوں کا اظہار کیا،مگر ڈائریکٹر فرح خان کی خوشی اتنی زیادہ تھی کہ انھوں نے انگریزی کے لفظStunnigکے آخر میں آٹھGکا اضافہ کردیا۔یہ صورتِ حال اردو زبان کو بھی درپیش ہے؛چنانچہ ایسے مواقع پرسوشل میڈیا میں لفظِ ’’زبردست‘‘ میں چار پانچ یا اس سے بھی زیادہ’’ت‘‘کا اضافہ ایک عام بات ہے۔اردو میں جسمانی یا ذہنی تکلیف کے اظہار کے لیے ایک لفظ استعمال ہوتا ہے’’اُف‘‘،بنیادی طورپر یہ عربی زبان کا لفظ ہے اوراسمِ فعل ہے،اس لفظ سے فعل بھی استعمال ہوتا ہے أَفَّ یَؤُفُّ یاأَفَّفَ یُؤَفِّفُ،جس کے معنی ہیں اظہارِ تکلیف کرنا یا اف کہنا۔فرہنگِ آصفیہ(ج:۱،ص:۱۸۱)میں اسے حرفِ صوت قرار دیاگیا ہے اورمعنی لکھاہے:آہ،اوہ،افسوس،کسی زہریلے جانور کے کاٹ لینے یا دفعتاً تکلیف کی آواز۔مزید تشریح اس لفظ کی یہ کی گئی ہے کہ ’’چوں کہ آتشِ دل کے بجھانے کے واسطے منہ سے یہ آواز نکلتی ہے؛اس لیے یہ لفظ کبھی آہِ سرد،کبھی اظہارِ درداور کبھی افسوس کے موقع پر بولتے ہیں‘‘۔سوشل میڈیا میں بھی یہ لفظ ان ہی معنوں میں استعمال ہوتا ہے،البتہ درد کی گہرائی و شدت کی کمی بیشی کے اعتبار سے حروف کم یا زیادہ ہوسکتے ہیں؛چنانچہ اگر دودوست سوشل میڈیاپر بات چیت کررہے ہیں اور ایک نے دوسرے کوکسی بڑے حادثے کے بارے میں بتایا،تودوسرا دوست اظہارِ افسوس کے لیے جو لفظ ’’اف‘‘ استعمال کرے گا،اس میں پانچ دس یا اس سے کم یا زیادہ’’ف‘‘ہوسکتے ہیں، انگریزی رسم الخط میںUکے بعد کئیFکے ذریعے اس لفظ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی طرح سوشل میڈیا کے ادبی فورمز ،فیس بک یا واٹس ایپ کے ادبی گروپ پرجب کوئی عمدہ غزل یا نثر پارہ نشرکیا جاتا ہے،تو اس پر داد و تحسین کے لیے استعمال ہونے والے عام الفاظ کی بھی شکل و صورت بگاڑ دی جاتی ہے،مثلاً اگرلفظِ’’کمال‘‘لکھاجاتا ہے تو چار پانچ میم یا الف کے اضافے کے ساتھ۔اس طرح کے خطابی ،تعریفی یا مختلف قسم کے جذبات کے اظہار کے لیے بولے جانے والے الفاظ کے استعمال میں دوچارحروف کا اضافہ ایک عام بات ہے۔ الغرض سوشل میڈیا میں لفظوں کے درمیان حروف کے اضافے کا چلن تقریباً عام ہے اور یہ مسئلہ اردو کے ساتھ انگریزی و عربی اوربڑی حد تک ہندی زبان کو بھی درپیش ہے،ظاہرہے کہ الفاظ کو اس طرح برتنا خلافِ قاعدہ و اصول ہے۔ بعض ایسی غلطیاں بھی سوشل میڈیا میں بکثرت نظر آتی ہیں،جو عموماً بے احتیاطی کی وجہ سے سرزد ہوتی رہتی ہیں،مثلاً:’’ر‘‘اور’’ڑ‘‘میں فرق نہ کرنا،اسی طرح چیٹنگ کے دوران ’’ہ‘‘اور’’ھ‘‘میں فرق نہ کرنااور’’نہیں‘‘سے ’’نون غنہ‘‘کو غائب کردینا،یہ وہ غلطیاں ہیں جو سوشل
میڈیا کے ساتھ خاص ہیں،ان کے علاوہ عام بول چال میں تلفظ میں جو غلطیاں کی جاتی ہیں،وہ سوشل میڈیا میں بھی آڈیو،ویڈیومیں عام طورپر سننے اور دیکھنے کو ملتی ہیں۔

چیلنجزکامقابلہ کیسے کریں؟
صورتِ حال کا جائزہ لینے سے اندازہ ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا میں اس قسم کی غلطیاں عموماًزبان سے ناواقفیت کی بناپر نہیں ہورہی ہیں؛کیوں کہ سوشل میڈیا کے فورم پر اردو زبان کا استعمال تو زیادہ تر وہی لوگ کرسکتے یا کررہے ہیں،جو اس زبان سے کماحقہ واقفیت رکھتے ہیں،جو لوگ اردو نہیں جانتے یا کم جانتے ہیں،ان کے لیے سوشل میڈیا میں اردو کا استعمال آسان بھی نہیں ہے۔لیکن اس کے باوجود ایسی بے تکی غلطیاں کیسے سرزد ہوجاتی ہیں؟اس کا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ اس میں زیادہ تر بے احتیاطی کا دخل ہے،سوشل میڈیا پرمکالمے کے دوران دونوں طرف کے لوگو ں کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ بات مختصر سے مختصر ہو، اختصار پسندی کے اس زور کی وجہ سے بعض ایسے الفاظ کا بھی مخفف بنالیا جاتا ہے،جو نہ تو حقیقی دنیا کی عام بول چال میں استعمال ہوتا ہے اورنہ تحریر و تقریر میں، ایک طرف اختصار پسندی کا حال تو یہ ہے،جبکہ دوسری طرف بعض الفاظ میں خواہ مخواہ کئی کئی حروف کا اضافہ کردیا جاتا ہے اور اس طرح سوشل میڈیا پر ایک نئی زبان اور الفاظ کا ایک نیاذخیرہ سامنے آتا جارہاہے ،جوصرف وہیں استعمال کیا جاتاہے۔
حالاں کہ سوشل میڈیا میں اردو زبان یااردو الفاظ کے استعمال میں جو غلطیاں رائج ہیں،ان سے محفوظ رہنا کوئی مشکل نہیں ہے،بس ذرا سنجیدگی اور احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے۔اس سلسلے میں ابتدائی اقدام کرتے ہوئے مئی2015ء میں پاکستان کی کراچی یونیورسٹی کے اشتراک سے سوشل میڈیامیں سرگرم نوجوانوں کے ادارہ’’اردوسروس‘‘کے زیر اہتمام پہلی’’اردو سوشل میڈیا کانفرنس‘‘کا انعقاد کیا گیا تھا،جس میں سوشل میڈیا پر لکھنے سے لے کر بات چیت کرنے تک کے تمام مسائل و موضوعات پر گفتگو کی گئی ،اسی طرح سوشل میڈیا میں اردو الفاظ کو درپیش مسائل بھی زیر بحث آئے۔اس کانفرنس میں بھی اردوتلفظ کے حوالے سے رائج غلطیوں کی وجہ بے احتیاطی ہی کو قرار دیا گیا اور سوشل میڈیا کے اردو یوزرس کواس طرف توجہ دلائی گئی تھی۔
سوشل میڈیا میں اردو زبان کے استعمال کے وقت چاہے وہ چیٹنگ میں ہو یا بلاگنگ اور پوسٹنگ، زبان و بیان کے اصول کو اسی طرح ذہن میں رکھنا چاہیے،جس طرح ہم حقیقی دنیا میں باہمی گفتگو کے دوران یا کچھ لکھتے وقت اس کا خیال رکھتے ہیں،اس پر توجہ دینا اس لیے ضروری ہے کہ اگر ان غلطیوں کو ناقابلِ اعتنا سمجھتے ہوئے یو ں ہی چلنے دیا جائے،تو دھیرے دھیرے باقاعدہ ایک ایسی زبان وجود میں آجائے گی،جسے ’’اُردِش‘‘سے تعبیر کیا جارہا ہے ۔ ریختہ ڈاٹ اوآرجی(rekhta.org)نے اردو سیکھنے کے مختصر مدتی کورس کے علاوہ ’’آموزش‘‘کے زیر عنوان آن لائن اردو تعلیم کابھی عمدہ کورس شروع کیاہے،جس میں اردو حروف و الفاظ کو لکھنے سے لے کر بولنے اور ان کی مختلف اعرابی شکلوں کو بھی وضاحت کے ساتھ سمجھایاجاتا ہے،جو لوگ اردوزبان سے ناواقف ہیں اور سیکھنا چاہتے ہیں،ان کے لیے تو یہ کارآمد ہے ہی،مگر جو لوگ اردو جانتے ہوئے بھی اردوالفاظ کے تلفظ میں غلطیاں کربیٹھتے ہیں، انھیں بھی ’’آموزش‘‘ سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان ہندوستان میں اردو کی ترویج و اشاعت کے لیے سرگرم ایک موقر ادارہ ہے،اس کے تحت بھی آن لائن اردو لرننگ پروگرام چلایا جارہا ہے ،ضرورت ہے کہ اس میں سوشل میڈیا پر اردو زبان کو صحیح طور سے برتنے کے اصول و ضوابط سے بھی آگاہ کیا جائے۔

اپنے وطن کی سرزمین قسط 2

اپنے وطن کی سر زمیں

(قسط2)

فضیل احمد ناصری
*ململ کو روانگی*
مہدولی سے نکلے تو حضرت قاضی مرحوم کی شخصیت دیر تک ذہن میں گردش کرتی رہی۔ مولانا وقار ندوی صاحب کی طبیعت خوشی و غمی کا سنگم تھی۔ خوشی اس بات کی کہ انہیں انتقال کے بعد قاضی صاحب کے مقبرے پر حاضری کی سعادت پہلی بار نصیب ہوئی تھی۔ غمی اس پر کہ پندرہ برسوں کا داغِ فرقت صرف چند لمحوں کے لیے ہی مٹایا جا سکا۔ ندوی صاحب کو اس راہ پر لگانے والے قاضی صاحب ہی تھے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کی آفس میں وہی لے کر آے۔ ندوی صاحب نے اپنے تعلقات کی پرتیں ہٹانی شروع کیں اور ان کی حیات کے پوشیدہ اوراق الٹتے پلٹتے رہے۔ ادھر میرا دل بھی بوجھل۔ قاضی صاحب میرے لیے کیا نہ تھے۔ میرے دادا تلمیذِ کشمیری مولانا محمود احمد ناصریؒ کے شاگردِ رشید۔ میرے والد کے رشتے کے چچا۔ ایک رشتے سے بہنوئی بھی۔ میں انہیں دادا کہتا۔ ان سے میری باقاعدہ ملاقات اسی مہدولی میں ان کے قائم کردہ کالج میں ہوئی تھی۔ میں اس وقت دارالعلوم میں مشکوۃ پڑھ رہا تھا۔ میرے بڑے بہنوئی جناب سہیل احمد ناصری صاحب کی نانیہال مہدولی میں ہی ہے۔ قاضی صاحبؒ کے خسر جناب منظر صاحبؒ ان کے چچیرے ماموں تھے۔ وہ وہاں جاتے ہی رہتے تھے۔ ایک بار مجھے بھی لے گئے۔ منظر صاحبؒ سے بھی ملاقات ہوئی۔ قاضی صاحب بھی یہیں مقیم تھے۔ جس وقت ہم پہونچے، وہ اکیلے تھے۔ میرے بہنوئی نے علیک سلیک کے بعد میرا تعارف کراتے ہوے کہا کہ یہ میرا سالا ہے۔ مولانا جمیل احمد ناصری کا بیٹا۔ قاضی صاحبؒ بھڑک گئے۔ کہنے لگے: تم نے سالا سے کیوں تعارف کرایا? سیدھے کہتے کہ یہ آپ کا پوتا ہے۔ مصافحہ کے ساتھ معانقہ ہوا۔ باتیں ہوئیں۔ ان سے مل کر میں خود کو بڑا سعید سمجھ رہا تھا۔ آج انہیں کے مزار سے ہو کر آیا ہوں تو دل بڑا اداس ہے۔ کتنا بڑا انسان موت کے چادر اوڑھے پڑا ہے۔ بہار کی سرزمین سے ہزاروں لالہ و گل اٹھے۔ لاتعداد شگوفے کھلے، مگر قاضی صاحبؒ اس دور میں اپنی نظیر آپ تھے۔ فقہی بصیرت، علمی تعمق، مجتہدانہ شان اور قلم و خطابت کا ایسا حسین امتزاج یہاں عرصے کے بعد دیکھنے میں آیا۔ اب تو دور دور تک سناٹا ہے۔
گاڑی پیچ و تاب کھاتے بھاگتی رہی۔ مغرب کا وقت ہونے جا رہا تھا۔ اب ہم ململ سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر تھے۔ قاضی صاحبؒ کے ذکرِ خیر کے بعد دوسرے موضوعات چل رہے تھے۔ اچانک دیکھا کہ راستے سے دھول اڑنے لگی۔ دہلی کی فضا کا رنگ۔ میں نے شیشے چڑھا لیے۔ ندوی صاحب حسبِ سابق پرمزاح لہجے میں بول پڑے: مولانا! یہ دیسی پاؤڈر ہے۔ اسے لگنے دیجیے۔ اپنے وطن کا غبار چہرے کو مس کرتا ہے تو کرنے دیجیے۔ میں نے شیشے اتاردیے۔ ان کی گفتگو کے بعد اس دھول سے مجھے بھی محبت ہونے لگی تھی۔
*ململ:ایک نظر میں*
کچھ منٹوں کے بعد ہم ململ میں تھے۔ میں نے آگے دیکھا تو ایک کار جا رہی تھی۔ پتہ چلا کہ یہ مولانا وستانوی صاحب کی کار تھی۔ طلبہ اور عوام دو رویہ کھڑے “خادم القرآن: زندہ باد” کے فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے۔ ان کی ایک جھلک پانے کے لیے بے چین و بے قرار۔ ان کی گاڑی چیونٹی کی چال چل رہی تھی۔ نتیجتاً ہم بھی پھنسے ہوے۔ خدا خدا کر کے قیام گاہ پہونچے۔ دو چار منٹ آرام کیا۔ نماز ادا کی اور محبین سے ملاقات کا دور شروع۔
بہت سے گاؤں کا تعارف وہاں کے قائم مدارس سے ہوا کرتا ہے۔ ململ کا نام میری سماعت سے اول اول مدرسہ چشمہ فیض کی وجہ سے ہی ٹکرایا۔ یہ ایک کثیر آبادی والا مسلم گاؤں ہے۔ کم و بیش دو ہزار گھروں پر مشتمل۔ سکّان چھ ہزار سے زیادہ۔ سارے کے سارے مسلمان۔ علم و عرفان سے ہر گھر آشنا۔ سب کے سب دیوبندی المسلک۔ حفاظ اور علما بڑی تعداد میں۔ بعض علما بین الاقوامی شہرت یافتہ۔ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے مؤقر استاذ، ادیبِ شہیر حضرت مولانا نذرالحفیظ ندوی زیدمجدہم یہیں کی وطنیت رکھتے ہیں۔جماعتِ اسلامی بہار اکائی کے سابق امیر جناب قمرالہدیٰ صاحب کا وطن بھی یہی ہے۔ ان کے علاوہ کئی مستند فضلا ملک و بیرونِ ملک میں اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں۔ حافظات و عالمات کی بھی بہار در بہار۔ مبالغۃً کہا جاتا ہے کہ یہاں کی مرغیاں بھی پڑھی لکھی ہوتی ہیں۔ شعر و سخن سے وابستہ شخصیات بھی یہاں ہر دور میں موجود رہیں۔ قابلِ رشک آبادی ہے۔ بڑی قدیم تاریخ کا حامل۔ پانچ سو برس پہلے ململی خان نے اس گاؤں کے ایک محلے میں قیام کیا۔ نتیجتاً پورا گاؤں ہی ململ کہلا گیا۔ یوپی کے جون پور سے ایک بندہ خدا کا اس گاؤں سے گزر ہوا۔ یہ 1863 تھا۔ اس نے یہاں چشمہ فیض کے نام سے ایک ادارے کی داغ بیل ڈالی۔ بندہ خدا کا نام مولانا عبدالباری سلفی مچھلی شہری تھا۔ ان کا یہ نام اور کام اتنا چلا کہ انہیں کے دور میں اس کا شہرہ دور دور تک پہونچا۔ اب تو گاؤں کا شاید ہی کوئی بندہ ہو جو اس کا فیض یافتہ نہ ہو۔ علاقے اور صوبے سے گزر کر ملک بھر میں اس کے جاننے اور فیض پانے والوں کی کمی نہیں۔
*اہلِ ململ کی مہماں نوازی*
ہم جوں ہی اپنی قیام گاہ میں پہونچے، رضا کاروں کی ایک جماعت ٹوٹ پڑی۔ ہر شخص مہماں نوازی میں سبقت لے جانے کی کوشش میں۔ مولانا وقار ندوی صاحب کے قدیم شناسا زیادہ تھے، اس لیے جو آتا، اولاً انہیں سے لپٹتا۔ محبت میں میرے ساتھ بھی کوئی کمی نہیں۔ ہر ایک کے لب مسکراہٹوں سے سجے ہوے۔ مہمانوں کی آؤ بھگت میں ان کا آنا جانے کی تمہید اور جانا آنے کا ابتدائیہ۔ ان میں سے اکثر ندوی تھے۔ جناب خطیب ندوی صاحب کا مسکراتا چہرہ ابھی تک تازہ ہے۔ معلوم ہو رہا تھا کہ خوشی سے جھومے جا رہے ہیں۔ یہ نجیب الحسن ندوی صاحب ہیں۔ مہمانوں کی خاطر داری میں پیش پیش۔ سنجیدگی کے ساتھ ہجومِ مسرت بھی پیشانی کی لکیروں سے نمایاں۔ یہ جناب نجم الہدیٰ ثانی صاحب ہیں۔ ان کا نام بہت سنا تھا۔ سوشل میڈیا پر ان کے افکار و خیالات سے تقریباﹰ روز ہی مستفید۔ آج وہ ملے اور انہوں نے تعارف کرایا تو میری خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔ وہ بھی اظہارِ خوشی میں تیز رَو۔ مولانا فاتح اقبال ندوی بھی پرسشِ احوال کو پہونچ چکے تھے۔ جوانی سے پلّہ جھاڑنے کے قریب۔ تبسم بر لبِ اوست کا مجسمہ۔ اجلاس انہیں کے والد کے مدرسے کا تھا۔ خود بھی جامعۃ فاطمۃ الزھراء کے مدیرِ محترم ہیں۔ نگاہیں ہماری طرف تھیں اور ذہن انتظامات میں الجھا ہوا۔ کس کس کا نام لیجیے۔ یہاں کا ہر ذرہ خلیق اور ہر تنکا عزت افزائی میں مگن تھا۔
*ایک قلندر سے ملاقات*
میزبانوں کی انہیں اداؤں کے بیچ اسی کمرے میں ایک بوڑھا شخص آتا ہوا نظر آیا۔ پست قامت۔ مرقعِ دہقانیت۔ عجیب و غریب ہیئت۔ میں نے ہلکا غور کیا تو معلوم ہوا کہ یہ تو قاضی القضاۃ حضرت مولانا محمد قاسم مظفرپوری ہیں۔ وہ تخت پر پاؤں لٹکاے ابھی بیٹھے ہی تھے کہ میں ان سے ملاقات کو لپکا۔ میں نے جوں ہی اپنا نام بتایا، بڑھ کر مصافحہ کیا۔ گلے بھی لگایا، پھر کہنے لگے: اگر آپ کو میری ایک بات اور معلوم ہو جاے تو آپ کی انسیت مزید بڑھ جاے گی۔ میں نے کہا: حضرت! مجھے معلوم ہے۔ آپ میرے والد کے کئی سال رفیقِ درس رہے۔ آپ میرے دادا کے شاگرد ہیں۔ وہ مسکرانے لگے اور اپنا وہ زمانہ یاد کرنے لگے۔ مسابقہ کے سرپرست یہی تھے۔
میں نے پورا ہندوستان دیکھ لیا۔ مختلف علاقوں میں گھوما۔ اپنے ہوش کے دور سے تقریباﹰ ہر نامور عالم کو دیکھا، مگر ایسی علمی شخصیت میری نظر سے نہیں گزری۔ عمر 85 کے آس پاس ہے، مگر استحضار بے پناہ۔ فقہی عبارتیں کثرت سے زبان پر۔ فقاہت میں یدِ طولیٰ۔آیات کا برمحل استعمال۔ احادیث پر گہری نظر۔ خطابت میں علم ہی علم۔ کوئی بات زائد نہیں۔ تقریریں تکرار سے پاک۔ گویا انگ انگ علوم و معارف کی جوے سلسبیل۔ مگر بایں ہمہ سادگی کا عظیم پیکر۔ سر پر دوپلی ٹوپی ‌۔ آڑی اور ٹیڑھی۔ پوشاک معمولی۔ نیل زدہ، مگر پریس ندیدہ۔ پاجامہ بھی اسی رنگ کا۔ تکلفات و تصنعات انہیں چھو کر نہیں گزرے۔ کبر و ریا سے منزہ۔ علم کا ایسا پہاڑ اور سادگی کا پیکر میری نظر سے آج تک نہیں گزرا۔ جی چاہتا تھا کہ جان وار دوں۔ کئی دن ہو چکے، مگر ان کی شخصیت کا یہ تاثر ابھی بھی جوان ہے۔ وہ چاہتے تو پورا عالم ان کے زیرِ نگیں ہوتا، لیکن یہ درویشِ خدا مست دنیا و ما فیہا سے بے خبر۔ عالمِ گندم و جو کی شہنائیوں سے نا آشنا۔ دنیا کی رنگینیوں سے بے خبر۔ ایک زمانے سے بہار کے قاضی ہیں۔ ان کی خدمات صوبہ بھر میں جاری۔ اب تو ملک بھر میں ان کا بلاوا ہونے لگا ہے۔ اگر یہ بندہ بہار سے باہر مقیم ہوتا تو اس کی خدمات کے اعتراف میں کیا کیا نہ ہوا ہوتا، مگر یہ بہار ہے۔ ظرف کا بہت بڑا۔ حوصلے کا دہ در دہ۔ اعترافِ عظمت کے لیے یہاں زبانیں بمشکل ہی کھلتی ہیں۔ اللہ اکبر!
fuzailahmadnasiri@gmail.com
8881347125

اپنے وطن کی سرزمین قسط 1

اپنے وطن کی سرزمین

قسط 1

 
 

✏ فضیل احمد ناصری

*مولانا غفران ساجد صاحب کی پیش بندیاں*

برادرم مولانا غفران ساجد صاحب میرے قدیم ترین دوست ہیں، مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھروارہ میں دو تین سالہ رفاقت رہی، وہ مجھ سے ایک سال بعد فارغ ہوے، ان کا گاؤں میرے گاؤں سے بے حد قریب ہے، بمشکل تین کلومیٹر کے فاصلے پر۔ طالب علمی کے بعد بھی برقی اور شفاہی ملاقاتوں کی کوئی نہ کوئی تقریب بفضلہ تعالیٰ بن ہی آتی ہے۔ ڈھائی ماہ قبل ان کا فون آیا کہ نومبر کے مہینے میں مدرسہ چشمہ فیض ململ میں ایک مسابقے میں آپ کو شرکت کرنا ہے، حتمی تاریخیں طے پاتے ہی میں آپ کو اطلاع دے دوں گا، چناں چہ کچھ ہی دنوں کے بعد انہوں نے 14، 15 کی تاریخیں طے ہونے کی اطلاع دی اور اس محبت آمیز گزارش کے ساتھ کہ کوئی حیلہ حوالہ نہیں چلے گا، میں نے سالانہ تعطیلات پر مشتمل جامعہ کی فہرست دیکھی تو شش ماہی امتحانات ایک ہفتہ بعد پڑ رہے تھے، میں نے بے تکلف ہامی بھرلی۔

*مسابقے میں شرکت کے لیے دیوبند سے روانگی*

دن گزرتے رہے اور وقت کا رخش سرپٹ دوڑتا رہا، ایک دن مولانا کا پھر فون آیا،علیک سلیک۔ خیر خیریت۔ پھر باتوں باتوں میں انہوں نے بتایا کہ اگرچہ شفاہی دعوت آپ کو بہت پہلے مل چکی ہے، مگر مولانا فاتح اقبال ندوی صاحب باقاعدہ دعوت نامہ لے کر آپ کے پاس پہونچ رہے ہیں، کل صبح کے اوقات میں کسی وقت آپ سے ملیں گے۔ میں نے کہا: بہت اچھا۔ چناں چہ وہ آے، دعوت نامہ پیش کیا، تفصیلات بتائیں اور پھر روانہ ہو گئے۔
اجلاس کے ایام قریب آ ہی گئے تھے کہ ہمارے جامعہ میں نئے اعلامیے کے مطابق شش ماہی امتحانات کو مقدم کر دیا گیا، دورانِ امتحان نگرانی کے پیشِ نظر سفر ممکن نہیں ہے، مولانا غفران ساجد صاحب کے فون آتے رہے، میں نے کہا کہ شرکت کا امکان اندھیرے میں چلا گیا ہے، امتحانات اور جلسے کی تاریخیں ٹکرا گئی ہیں، تاہم شرکت کی کوشش اپنی طرف سے جاری رہے گی، میں نے درخواست لکھی جو منظور ہوئی، دریں اثنا ٹکٹ بھی بن چکا تھا، تاریخِ سفر آئی تو حسبِ وعدہ 13 ویں نومبر کو دیوبند سے نکلا۔ غازی آباد سے چند میل کا فاصلہ رہا ہوگا کہ گھریلو ذرائعِ ابلاغ {سوشل میڈیا} پر دارالعلوم وقف کے صدرالمدرسین حضرت مولانا اسلم قاسمی صاحب کے انتقال کی خبر تیزی سے گردش کرتی دکھائی دی۔ سوچا کہ واپس ہو جاؤں، پھر خیال آیا کہ ڈھائی ماہ پہلے کی دی ہوئی زبان واپس لینا مناسب نہیں۔ استرجاع کیا اور آگے بڑھا۔ ٹرین قدیم دہلی جا رہی تھی اور مجھے نئی دہلی پہونچنا تھا۔ دو تین احباب اور بھی ساتھ تھے۔ مشورہ ہوا کہ غازی آباد اتر کر نئی دہلی کے لیے نئی گاڑی لی جاے، چناں چہ یہی ہوا۔ غازی آباد سے دہلی پہونچتے پہونچتے ساڑھے تین بج چکے تھے۔ بہار کی ٹرین کا وقت سوا پانچ بجے تھا۔ میں نے سوچا کہ ایک آدھ گھنٹے کا وقت نبی کریم میں لگا لیا جاے۔ نبی کریم پہونچا۔ یہاں میرے ایک دوست مولانا عمر فرید چشتی رہتے ہیں۔ ان سے ملا۔ یہ درجہ حفظ سے عربی دوم تک میرے رفیقِ درس رہے۔ بلا کے ذہین۔ درجہ حفظ میں کئی امتحانات سے پہلی پوزیشن پر یہی قابض تھے۔ میں پہونچا تو ششماہی میں گرچہ وہی نمایاں ترین رہے، مگر سالانہ میں بازی برابری پر ختم ہوئی۔ پہلی پوزیشن پر انہوں نے قبضہ جمایا تو میں نے بھی اسی مقام پر دھاوا بولا۔ بڑے خوش اخلاق اور متواضع۔ بے تکلف اور قیدِ احترام سے آزاد۔ بڑا دل لگا۔ ساڑھے چار بجے عصر پڑھ کر واپس نکلا اور اسٹیشن پہونچ گیا۔

*مولانا وقار الدین لطیفی ندوی کی معیت میں سفر*

پلیٹ فارم پر پہونچا تو گاڑی لگی ہوئی تھی۔ یہ راجدھانی تھی۔ دہلی سے پٹنہ۔ وقت بھی تقریباﹰ ہو چلا تھا۔ میں اپنی مطلوبہ نشست پر پہونچا تو دیکھتا کیا ہوں کہ ایک چالیس بیالیس سالہ مولانا پہلے سے ہی تشریف فرما ہیں۔ انہوں نے میرا نام پوچھا۔ پھر اپنا بتایا۔ مجھے معلوم تھا کہ سفر ان کے ساتھ ہی ہوگا۔ میں نے سامان رکھا۔ بیٹھا اور باتیں ہونے لگیں۔ مولانا کا نام پہلے بھی بارہا سن چکا تھا، مگر ان کے اخلاق و عادات سے آشنا نہیں تھا۔ مولانا غفران ساجد صاحب نے سفر سے ایک دو روز پیش تر ان کے احوال بتا دیے تھے۔ ان سے باتیں ہوئیں تو جیسا مولانا نے بتایا تھا، ویسا ہی پایا۔ بے حد کھلے ہوے۔ ظریف و نظیف۔ تکلفات سے پاک۔ رنج و غم سے آزاد۔ ادائیں دلبرانہ۔ نوائیں بلبلانہ۔ یہ کوئی اور نہیں، بلکہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے آفس سکریٹری تھے۔ فاضلِ ندوہ۔ میانہ قد۔ ندوی لباس۔ بیضوی چہرہ۔ سر کے بال بیشتر سفید۔ داڑھی کی سفیدی بھی سیاہی کو مات دیتی ہوئی۔ سفر شروع ہوا۔ قطعی اندازہ نہیں تھا کہ اتنی جلد گھل جائیں گے۔ پتہ چلا کہ بہار ہی سے تعلق ہے۔ وطن کھگڑیا ہے۔ زبان بھی بہاریت سے لبریز۔ کہنے لگے کہ اپنے ہم وطن سے مل کر اسی زبان میں بات کرنا پسند کرتا ہوں۔ اپنی زبان بڑی شیریں ہے۔ اس میں رچاؤ ہے۔ پیار ہے۔ اخلاص ہے۔ میں بھی تکلف بر طرف ہو چکا تھا۔ ان کی بہاری زبان سے لطف اندوز ہوتا رہا، بلکہ سچ کہیے کہ آزاد ہو کر میں نے بھی اسی زبان کو ذریعہ اظہار بنا لیا تھا۔ واقعی بہاری بول چال کی بات ہی کچھ اور ہے۔ بڑا مزہ آیا۔ سفر حرف و حکایات میں لمحوں میں طے ہو گیا۔ گاڑی صبح چھ بجے پٹنہ پہونچ گئی۔

*امارتِ شرعیہ پھلواری شریف میں*

اسٹیشن سے باہر نکلے تو میزبان چار پہیے لے کر تیار کھڑے تھے۔ ملاقات ہوئی۔ خیال ہوا کہ وطن کی چاے پی کر تھکاوٹ اتاری جاے۔ چاے پی گئی۔ میزبان نے بتایا کہ پٹنہ ہوائی اڈے سے ایک مہمان کو لینا ہے۔ وہ بھی اجلاس کے لیے دہلی سے آ رہے ہیں۔ انہیں بھی اسی گاڑی سے چلنا ہے۔ جہاز آٹھ بجے فروکش ہوگا۔ مولانا ندوی نے مجھ سے کہا کہ اب دو گھنٹے کہاں لگائیں? میں نے کہا کہ امارت چلتے ہیں۔ حضرت مفتی ثناء الہدیٰ صاحب ودیگر سے ملاقات ہو جاے گی۔ اس راے سے وہ بڑے خوش ہوے۔ مفتی صاحب کو فون لگایا۔ پتہ چلا کہ وہ یہیں تشریف رکھتے ہیں۔ ہم لوگ چلے۔ چلتے رہے اور بیس منٹ میں امارت کی فلک بوس عمارتیں ہمارے سامنے کھڑی تھیں۔

*حضرت مفتی ثناء الہدیٰ و دیگر سے ملاقات*

امارت کے مہمان خانے میں داخل ہوے تو دیکھا کہ مفتی صاحب دو تین علما کے ساتھ موجود ہیں۔ مصافحہ معانقہ ہوا۔ بڑے ہشاش بشاش۔ گرم جوشی سے ملے۔ مفتی صاحب ضلع ویشالی سے تعلق رکھتے ہیں۔ دارالعلوم دیوبند کے ممتاز فاضل۔ اپنے وقت کے نمایاں ترین طلبہ میں۔ بسیارنویس۔ زود نویسی اور خوب نویسی میں ضرب المثل۔ کئی درجن کتابوں کے مصنف۔ ان کی سوانحِ حیات بھی کسی عاشق نے لکھ دی ہے۔ اب تو ان پر تخصص کا طویل مقالہ بھی لکھا جا رہا ہے۔ روزنامہ انقلاب کے مستقل مضمون نگار۔ کئی برسوں سے امارت شرعیہ کے نائب ناظم ہیں اور ہفت روزہ نقیب کے کرتا دھرتا۔

میں اس قابل تو ہرگز نہیں کہ مجھ سے محبت کی جاے، مگر مفتی صاحب تعارف کے بعد سے ہی ہمیشہ مہربان رہتے ہیں۔ وجہ ایک خاندانی نسبت ہے۔ وہ میرے عمِ محترم حضرت مولانا حسین احمد ناصری زیدمجدہم کے تربیت یافتہ ہیں، بلکہ منہ بولے بیٹے بھی۔ ان کے بچپن کے چند سال میری دادھیال میں بھی گزرے ہیں۔ اب تو خیر یہ تعلق رشتے داری میں بھی بدل چکا ہے۔ ان کی صاحب زادی میرے پھوپھیرے بھائی کے نکاح میں ہے۔

مختلف سلگتے موضوعات پر باتیں ہوئیں۔ہم رخصت ہونے لگے تو اپنی تازہ ترین کتاب “یادوں کے چراغ”ہدیۃً پیش کی۔ امارت میں ہی میرے ایک پرانے دوست کا حال ہی میں تقرر ہوا تھا۔ انہیں میری آمد کی اطلاع دی گئی تو وہ بھی آگئے۔ مصافحہ معانقہ ہوا۔ پھر مختصر تبادلہ خیال۔ یہ مولانا شبلی قاسمی تھے۔ امارتِ شرعیہ کے نئے نائب ناظم۔ دارالعلوم حسینیہ پروہی پتونا (مدھوبنی) میں جن دنوں حفظِ قرآن کا متعلم تھا، یہ اسی ادارے کے درجاتِ عربیہ میں متدرس تھے۔ نہایت متحرک۔ چاق و چوبند۔ بوٹی بوٹی سے تیزی ابھرتی ہوئی۔

*پٹنہ ہوائی اڈے پر*

سب کو سلامِ وداع کیا۔ سیدھے ایئرپورٹ کی راہ لی۔ پندرہ بیس منٹ میں ہم لوگ وہاں موجود تھے۔ پتہ چلا کہ اسی اجلاس میں شرکت کے لیے مدرسہ اشاعتِ اسلام اکل کوا کے مہتمم مولانا غلام محمد وستانوی زیدمجدہم بھی اسی جہاز سے آ رہے ہیں، جس سے ہمارے اگلے رفیقِ سفر کو آنا ہے۔ جہاز کافی مؤخر تھا۔ طویل انتظار کی اذیت سے ہم سبھوں کو گزرنا پڑا۔ پٹنہ کالج کے پروفیسر مولانا شکیل قاسمی بھی اجلاس کے لیے تشریف لا چکے تھے۔ ان سے باتیں ہوتی رہیں۔ دو گھنٹے کے بعد جہاز اترا۔رفقا کے ہمراہ مولانا وستانوی صاحب باہر آے۔ ملاقات ہوئی۔ ان کی گاڑی دوسری تھی۔ گاڑی پر بیٹھے اور چل دیے۔ دیکھا کہ ہمارے منتظَر مہمان ندارد ہیں۔ پھر معلوم ہوا کہ ان کا جہاز ہی چھوٹ گیا تھا۔ اب کیا کرتے۔ ہم نے بھی سفر کا اگلا مرحلہ شروع کر دیا۔

*فقیہ الاسلام حضرت قاضی مجاھد الاسلامؒ کے مزار پر*

دیر تو ہو ہی چکی تھی۔ مولانا ندوی کی خواہش تھی کہ فقیہ الاسلام قاضی مجاھدالاسلام صاحبؒ کے مزار پر حاضری دیتے ہوے آگے بڑھا جاے۔ وہ میرے والد حضرت مولانا علاءالدین ندویؒ کے رفیقِ درس اور بے تکلف دوست تھے۔ مجھ پر بھی بڑے شفیق و کرم گستر۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کی آفس میں انہوں نے ہی میرا تقرر کیا تھا۔ بدقسمتی سے ان کے مزار پر آج تک نہ جا سکا ہوں۔ میں نے کہا بہت اچھا۔ میری بھی یہی خواہش ہے۔ گاڑی دربھنگہ ہو کر گزرے گی۔ چلے چلتے ہیں۔ گاڑی شیطان کی رفتار سے دوڑتی رہی۔راہ میں ہی قاضی مرحومؒ کے برادرِ نسبتی جناب صفی اختر صاحب کو فون کیا گیا۔ وہ گھر پر موجود تھے۔ ہمارے ارادے سے بہت مسرور۔ صفی صاحب قاضی مرحوم کے سب سے چھوٹے برادرِ نسبتی ہیں۔ انہیں کے پروردہ اور سایہ عاطفت میں بسر کیے ہوے۔ دہلی میں آل انڈیا ملی کونسل کی آفس کے ذمے دار ہیں۔ لکھنے کا خوب سلیقہ رکھتے ہیں۔ سنجیدہ اور خلیق۔ شرافت و نجابت کے گلِ رعنا۔ دربھنگہ شہر کے مہدولی میں ان کا گھر ہے۔ یہ رشتے میں میرے چچا بھی ہیں۔

ہم مسلسل جادہ پیما رہے۔ راستے میں ایک عجیب موڑ آیا۔ گاڑی کو دیکھا کہ پیہم ٹیڑھی دوڑ رہی ہے۔ اپنا توازن سنبھالنا سب کے لیے دشوار۔ مولانا ندوی کی حسِ ظرافت حسبِ عادت پھر پھڑک اٹھی۔ کہنے لگے کہ مولانا! یہ جلیبیا موڑ ہے۔ جلیبی کی طرح گول اور الجھا ہوا۔ مجھے بڑی ہنسی آئی۔ خدا خدا کر کے دربھنگہ پہونچے۔ مہدولی میں متعدد بار جا چکا تھا، مگر اب دیکھا تو راستہ بھولا ہوا۔ ڈرائیور بھی مہدولی ندیدہ تھا۔ نتیجۃً پاس کی منزل بھی بعید ثابت ہوئی اور راستہ شیطان کی آنت کی طرح پرپیچ۔ خیر لشتم پشتم ٹھکانے پر پہونچا تو دیکھا کہ صفی چچا استقبال میں کھڑے ہیں۔ پرتپاک ملاقات ہوئی۔ قاضی صاحبؒ کا مزار گھر کے احاطے میں بالکل سامنے تھا۔ ہم نے ان کے لیے کچھ پڑھ کر ایصالِ ثواب کیا۔ ندوی صاحب زیادہ جذباتی ہو رہے تھے۔ دیر تک کتبے اور مزار کو دیکھتے رہے۔ عجیب حال ان پر طاری تھا۔ماضی کی یاد میں گم سم۔ پھر اٹھے۔ دسترخوان لگ چکا تھا۔ کھانا کھایا۔ قیلولہ کیا اور تھوڑی دیر بعد واپسی کی اجازت چاہی۔ چچا نے بڑی مشکل سے اجازت دی اور نم آنکھوں سے ہمیں رخصت کیا۔

Fuzailahmadnasiri@gmail.com
8881347125

سنبھل اور رام پور کے چند فکشن نگار 

سنبھل اور رام پور کے چند فکشن نگار 
                                                                                                                                         عزہ معین ۔سنبھل

سنبھل اور رام پور یہ دو الگ الگ شہروں کے نام ہیں جن کی ادبی اور ثقافتی روایتوں نے ا نہیں تاریخی شہر کا درجہ عطا کیا ہے۔ علم کے مختلف شعبوں کی نامور ہستیوں نے یہاں اپنی آنکھیں کھولی ہیں ۔ یہاں کی علمی و ادبی روایت کافی مضبوط رہی ہے ۔ اردو ادب کے فروغ میں یہاں کے قلم کاروں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ خاص کر فکشن کی دنیا کو آب و تاب اور شان و شوکت عطا کرنے میں یہاں کے لوگ پیش پیش رہے ہیں۔سنبھل سے تعلق رکھنے والے نصف درجن کے قریب ایسے مصنفین ہیں جو فکشن نگاری میں اعتبار کا درجہ رکھتے ہیں۔ جب بھی اور جہاں بھی افسانوی ادب پر گفتگو کی جائے گی ان کے نام کے ذکر کے بغیر بات نا مکمل اور ادھوری رہے گی۔فکشن لکھنے والوں میں بعض ایسے بھی ہیں جن کی ادبی کاوشیں خوب ہیں لیکن ادبی منظر نامے پروہ ابھر کر سامنے نہیں آ سکے ہیں۔ اس میں ان کی تخلیقی ہنر مندی یا فنی رچاؤ کی کمی کا کوئی پہلو نظر نہیں آتا۔ان کی گمنامی کے ذمہ دار ایک طرف بے ذوق قاری ہیں جن کا متن سے رشتہ کمزور پڑتا جا رہا ہے تو دوسری طرف ہمارے وہ متعصب نقاد ہیں جنہوں نے نئے لکھنے والوں کو اپنے حوالے میں شامل نہیں کیا۔اس وقت تو اور زیادہ افسوس ہوتا ہے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ سنبھل کے اساتذہ بھی ہماری نئی نسل کے قاری سے نئے لکھنے والوں کا تعارف کرانے میں سرد مہری کا شکار ہیں۔بہر کیف مجھے کہنا یہ ہے کہ تعلیم کے میدان میں یہاں ہر دور میں نمایاں کام ہوا ہے۔ البتہ تحقیق کے سوتے خشک نظر آتے ہیں۔ میں یہ بات پورے دعوے کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ اگر کوئی طالب علم یہاں کے گوہر تاباں کو تلاش کرنے کی ایماندارانہ کوشش کرے تو ہم بہت سی ایسی شخصیات سے متعارف ہو سکتے ہیں جن کے قلم کا رشتہ فکشن سے بہت گہرا رہا ہے۔جہاں تک رام پور کا تعلق ہے تو ہم اور آپ اس حقیقت سے بہ خوبی واقف ہیں کہ اس شہر کی حیثیت ایک دبستان کی رہی ہے۔یہاں شاعری ،تحقیق ، فکشن اور صحافت کے علاوہ علم و ادب کے دیگر اصناف میں بھی بیش بہا کام ہوئے ہیں۔ یہاں اس بات کا ذکر شاید بے جا نہ ہو کہ شریف احمد قریشی نے رام پور کی ادبی خدمات کو اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے میں یکجا کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ تحقیق کی سمت میں یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔میں نے اپنے اس مقالے میں سنبھل اور رام پور کے فکشن نگاروں کا تعارفی ذکر کیا ہے ۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ صرف رام پور کے فکشن نگاروں کی تعداد اتنی ہے کہ ا ن تمام لوگوں پر گفتگو کر نا ایک مقالے کی وسعت سے باہر کی چیز ہے۔اس لئے طوالت کے خوف سے بچتے ہوئے میں نے سنبھل اور رام پور فکشن نگاروں پر اختصار کے ساتھ گفتگو کی ہے۔
سنبھل میں فکشن نگاری کے حوالے سے بات کریں تو جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا نصف درجن سے زیادہ فکشن نگار ایسے ہیں جن کی ادبی حیثیت مسلم ہو چکی ہے ۔ ان میں مصور سبزواری،تسکین زیدی،قیوم راہی،شمع رخ بانو، یامین سنبھلی ،فرقان سنبھلی ،نفیس سنبھلی وغیرہ کے نام خاص طور پر لئے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے جو افسانے اور ناول تخلیق کئے ان میں ان کی فکری بلند پروازی ،وسعت نظری اور فنی چابکدستی کی کا ر فرمائی صاف نظر آتی ہے۔انہوں نے زندگی کی حقیقتوں، عصری واقعات کی پیچیدگیوں ، سماجی مسائل اور معاشرتی انتشار کو اپنا موضوع بناکر فکشن کے قالب میں ڈھالا ہے۔سنبھل کے کچھ فکشن نگار وں کا یہاں ذکر کیا جا رہا ہے جنہوں نے سنبھل کی ادبی فضا کو خوشگوار بنانے میں حصہ لیا ہے۔
مصورؔ سبزواری۔ سید ظفر حسین مصورؔ سبز واری کی پیدائش ۱۹۳۲ء کو سنبھل کے محلہ چودھری سرائے میں ہوئی ۔ان کے والد کا نام سید حامد علی تھا ۔جو فارسی اور اردو کے جید عالم تھے ۔عمائدین میں ان کی بہت عزت تھی ۔ آنکھ کھولتے ہی اپنے اطراف و جوانب علم و ادب کا ماحول دیکھا۔والد کی علمی صحبت اور پھر ان کی تربیت و نگہداشت نے مصور ؔ سبزواری کو بھی وہی ذوق و شوق عطا کیا جو ان کے والد میں تھا۔ سنبھل سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعداعلی تعلیم کے لئے چنڈی گڑھ چلے گئے ۔اے ایم یو سے بی ایڈ کی ڈگری حاصل کی اور گڑ گاؤں میں مدرس کے عہدے پر فائض ہوگئے۔ شاعری میں یدطولی رکھنے والے مصور ؔ سبزواری نے فکشن میں اپنا منفرد مقام بنایا ۔ ان کے تقریباً پانچ ناولٹ ’عمر بھر کی تنھائی‘،’ کوئلہ بھئی نا راکھ‘، ’ ہمارے بعد اجالا ہے‘، ’ پت جھڑ کے مسافر‘،’ یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے‘ا ور ایک ڈرامہ’ گھاؤ ایک سمندر کے ‘ شائع ہو چکے ہیں۔ان کی دیگر تخلیقات کو محققین ترتیب دے رہے ہیں جن کے جلد منظر عام پر آنے کی امید ہے۔ مصور ؔ سبزواری کی تصانیف مختلف علوم پر ان کی اچھی پکڑ کو ظاہر کرتی ہیں ۔وہ معاشرے سے ایسے موضوعات کو اپنے قلم کے لئے منتخب کرتے ہیں جن پر لکھنا دیگر ادیب و قلم کاروں کے لئے ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوتا ہے۔گہری بصیرت اور شعوری احساس نے انھیں منفرد لہجہ عطا کیاہے ۔ان کی تحریریں آج بھی نئے لکھنے والوں کے لئے مشعل راہ کا کام انجام دے رہی ہیں ۔
محمد یامینؔ سنبھلی۔ نام محمد یامین ۱۹۴۵ ء کو سنبھل میں پیدا ہوئے ان کے والد کا نام علی حسین تھا ۔ ان کی ابتدائی تعلیم سنبھل میں ہی ہوئی ۔ اس کے بعد مرادآباد اور علی گڑھ سے ایم اے اوربی ایڈ کے اسناد حاصل کئے۔ سرسی میں استاد کے عہدے پر ان کی تقرری ہوئی ۔ سرسی سے سنبھل آنے جانے کے روزانہ سفرمیں صرف ہونے والے وقت کو افسانہ نگاری کے لئے استعمال کیا ۔ایک مرتبہ ظہیر احمد ایڈووکیٹ کی تحریک پر ایک رومانی افسانہ ’سراب‘ شائع کرانے کے لئے ان کے سپرد کیا ۔وہ افسانہ مدیر نے اسی مہینے کے رسالے میں شائع کیا۔جس کی بہت تعریف ہوئی ۔لیکن مدیر رسالہ کی تلخ زبانی اور لالچی فطرت سے یامین صاحب کی حساس طبیعت کو ٹھیس پہنچائی اور انھوں نے لکھنا ترک کردیا ۔بیس بائیس سال کے طویل عرصے کے بعد پروفیسر ارشد کی تحریک پر ایک بار پھرقلم اٹھایا لیکن وہ روانی قلم میں نہ آ سکی جو نو جوانی کے دنوں میں ان کے قلم کا حصہ ہوا کرتی تھی ۔ لیکن یہ عمل اپنے آپ میں بڑی بات ہے کہ انہوں نے از سر نو لکھنا شروع کیا۔ یامین صاحب کہتے ہیں کہ وہ احباب کے مسلسل مطالبے اور بار با ر رغبت دلانے کی وجہ سے دوبارہ افسانے کی طرف متوجہ ہوئے۔ان کے دو افسانوی مجموعے ’’گھٹن‘‘ اور ’’خزاں کے پھول ‘‘ منظر عام پر آچکے ہیں جو افسانوی ادب کے ذخیرے میں قیمتی اضافہ ہیں۔
یامین ؔ سنبھلی نے اپنے افسانوں میں عہد حاضر کی بد نظمی ،معاشرے کی برائی ،فرقہ واریت ،دہشت گردی کو اپنا موضوع بنا کر بہترین افسانے تخلیق کئے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ سماج کی بد نظمی ، معاشرے کی برائی ، فرقہ پرستی اور دہشت گردی کے خلاف احتجاج درج کراتے ہوئے افسانے کی فنی خوبیوں اور نزاکتوں کو ہمیشہ نظر کے سامنے رکھتے ہیں۔ان کا اسلوب اور طرز تحریراتنااثر انگیز ہے کہ جب قاری افسانہ ختم کرتا ہے تو اپنے آپ کو محبت وایثار کے جذبے سے سر شار پاتا ہے۔ پریم چند نے امراء و رؤو سا کے خلاف جس قلمی جنگ کا آغاز کیا تھا یامین سنبھلی اسی روایت کو سامنے رکھ کر اپنے افسانے کا تانا بانا بنتے ہیں ۔ افسانہ ’’دوج ‘‘ میں ایک بہن کی ایثار اور قربانی کی عظیم مثال بیان کی گئی ہے۔ ’راکھی‘ بھی اسی موضوع پر لکھا گیا افسانہ ہے ۔ ’ خزاں کے پھول ‘ میں شامل افسانہ ’حسن کا جادو‘ انسان کی فطری عیاری اور مکاری پر لکھا گیا ہے۔ موجودہ دور میں غلط رسم و رواج کو ختم کرنے کی کوشش ان کے افسانے ’اشتہاری شادی ‘ میں کی گئی ہے۔ سماجی بیداری کے موضوع پر لکھے گئے افسانے ’ بانجھ اور ’ عزت ‘ بد عنوانی اور لالچ پر گہرا طنز کرتے ہیں۔یہ افسانے یامین سنبھلی کے افسانوی مجموعے کی اہمیت کو بڑھاتے ہیں ۔’ میرا بھارت مہان‘ بھی اسی ضمن میں ایک بہترین افسانہ ہے ۔ افسانہ ’ایکتا‘ میں جس طرح عورتوں کے درمیان مکالمے ہوئے ہیں ان سے صاحب تخلیق کی کردار نگاری کی صلاحیتوں کا پتہ چلتا ہے ۔ ’سراب ‘،’ مسیحا‘، ’فنکار‘جیسے افسانوں سے اسلوب کی صفائی اور فکر کی پختگی واضح ہوتی ہے ۔’ کٹی پتنگ ‘ میں طلاق شدہ عورتوں کے جذبات اور نفسیات کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس میں یہ پیغام پوشیدہ ہے کہ مطلقہ عورتوں کی دوبارہ شادی کی طرف سماج متوجہ ہو ۔اس افسانے سے ایک اقتباس پیش کیا جاتا ہے تاکہ یامین سنبھلی کے حوالے سے اب تک جو بات کہی گئی ان کی تصدیق ہو سکے۔
’’ تبھی اس کی نگاہ دور سے آتی ایک کٹی پتنگ پرپڑی ۔اس کو پکڑنے کے
لئے بھی حسب معمول لڑکے دوڑے ۔لیکن پتنگ ان سب سے بے نیاز آگے بڑ
ھتی رہی ۔کبھی کبھی تو ایسا لگتا کہ اب پکڑی گئی مگر وہ ان لٹیروں کا منھ چڑاتی ان کو
ٹھینگا دکھاتی آگے بڑھ جاتی ۔اب اس کے سامنے کھجور کا ایک اونچا پیڑ آگیا اور
آرام سے اس میں اٹک کر رہ گئی ۔لڑکے مایوس ہو کر لوٹ آئے ۔
فائزہ نے سوچا ایک بے جان پتنگ نے اتنوں کو شکست دے دی ۔اور
صحیح و سالم پیڑ میں اٹک گئی ۔یہ سب مل کے بھی اس کا کچھ نہ بگاڑ سکے ۔مجھے تو خدا
نے انسان بنایا ہے ۔اشرف المخلوقات ۔تو کیا میں کچھ نہیں کر سکتی۔‘‘ ؂۱
ڈاکٹر محمدفرقان۔ انجینئر فرقان ۲۰ جون ۱۹۷۳ ء کو دیپا سرائے سنبھل میں پیدا ہوئے ۔ان کے والد کا نام محمد غفران تھا ۔انٹر تک کی پڑھائی سنبھل میں حاصل کی ۔ اس کے بعد مراد آباد سے انجینئرنگ میں ڈپلومہ کیا۔ بی اے اور ایم اے کی ڈگری آگرہ سے حاصل کی ۔ اس بیچ اردوصحافت سے ان کا رشتہ قائم ہوا اور اس میں اپنی خدمات انجام دیتے رہے۔بچپن سے ہی مطالعے کا بے حد شوق تھا اسی لئے حد درجہ معاشی پریشانیوں میں گھرے رہنے کے باوجود یو جی سی نیٹ کا امتحان پاس کیا ۔ ادبی ذوق کی تسکین کے لئے افسانے بھی لکھتے رہے اور مقامی ر سائل میں شائع کرواتے رہے۔قلم کار کے طور پر پہچان بنی تو میرٹھ یونیورسٹی کے صدر شعبہ اور عہد حاضر کے مشہورافسانہ نگار اسلم جمشید پوری نے ایک ادبی پروگرام میں انہیں مدعو کیا ۔ اس سے ان کی حوصلہ افزائی بھی ہوئی اورقلم کو مہمیز کرنے کی تحریک بھی ملی۔یہاں سے انہوں نے جو افسانہ لکھنا شروع کیا تو پھر کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ۔ حال ہی میں علی گڑھ مسلیم یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے اور اب ویمنس کالج علی گڑھ میں لکچرر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ موجودہ دور کی ہنگامہ خیزی ،عصری نظام کے کھوکھلے پن اور نوجوان طبقے کی حالت زار یہ وہ ڈائمینشن (Dimension ( ہیں جہاں سے فرقان سنبھلی اپنے افسانوں کے لئے موضوعات منتخب کرتے ہیں۔
فرقان سنبھلی کی افسانہ نگاری پر ان کی صحافت کا ،ان کی ذہنی تشکیل میں سائنس اور ان کی شخصیت پر مذہب کا گہرا اثر ہے جو ان کی تخلیق میں بھی جھلکتا ہے ۔ ان کی کہانی کی فضا ہمیں بہت مانوس نظر آتی ہے ۔افسانے میں کہانی پن پیدا کرنے کے لئے بزرگوں کے سبق آموز واقعات کا سہارا لیتے ہیں ۔ ہمیں ان کے افسانوں میں معاشرے کی بے راہ روی کے خلاف آواز سنائی دیتی ہے۔ سماج کے اندر پائی جانے والی وہ بیماریاں جو ہمارے سماجی ڈھانچے کو دھیرے دھیرے کمزورکر دیتی ہیں جس کا ہمیں احساس نہیں ہوتا ۔ ان بیماریوں کی طرف فرقان سنبھلی اپنے افسانوں میں قاری کی توجہ بڑی ہوشیاری سے مبذول کراتے ہیں ۔’طلسم‘ ،’دائمی جہیز‘ ،’اور سرحد کھو گئی‘ ،’تقسیم کے داغی ‘ وغیرہ اسی ذیل کے افسانے ہیں ۔ افسانہ ’آب حیات‘ سائنس اور موجودہ دور کی سب سے بڑے مسئلے یعنی پانی کی بڑھتی ہوئی کمی پر لکھا گیا بہترین افسانہ ہے ۔سائنسدانوں کے ذریعے تلاش کی جارہی دوسری دنیا جہاں انسان اپنی رہائش کا انتظام کر سکے اس دنیا کو افسانے میں تلاش کر لیا گیا ہے ۔ یہاں ایک اقتباس پیش کیا جا رہا ہے جس میں کرۂ ارض سے ختم ہو رہے پانی کے اسباب کی طرف کی اشارہ کیا گیا ہے ۔
’’ ہمارے سیارے پر ہر سہولت اور ہراشیاء موجود ہے جو کسی بھی آکاش
گنگا میں پائی جاتی ہوگی ۔لیکن ہمارے بزرگوں نے ترقی کی اندھی خواہش میں
نہ صرف کنکریٹ کے جنگل کھڑے کئے بلکہ تالاب پاٹ ڈالے،ہرے بھرے
پیڑ کاٹ ڈالے اور یہاں تک قدرت کے ساتھ دشمنی کی کہ سیارے کی آب و ہوا
آلودہ ہو گئی ،پانی سوکھ گیا ۔ ندی نالے ختم ہوگئے۔یہاں کی مخلوق پانی کی قلت
سے تل تل کر مرنے لگی ۔اور دیکھتے دیکھتے کنکریٹ کے جنگل سونے ہو گئے ۔‘‘؂۲
سید نفیس احمد نفیس ؔ سنبھلی ۔نفیس احمدکا شمار سنبھل کے گنے چنے فکشن نگاروں میں ہو تا ہے۔یہ بہ یک وقت فکشن بھی تخلیق کرتے ہیں اور بہترین شاعری بھی کرتے ہیں ۔نفیس سنبھلی محلہ پنجو سرائے کے ایک سید خاندان میں داؤد حسین کے گھر پیدا ہوئے ۔ایم اے اور بی ٹی سی کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد درس و تدریس کے شعبے سے منسلک ہوگئے ۔علمی و ادبی کاموں میں فکشن اور شاعری دونوں کی طرف یکساں طور پر ذہن مرکوز کیا ۔ان کا شاہ کار ناول’ کنیا دان ‘ نہ صرف سنبھل کے ادبی سرمائے میں گراں قدر اضافہ ہے بلکہ اردو کے ذخیرۂ ادب میں بھی ایک بیش بہا اضافہ ہے۔انھوں نے اب تک تقریباً پندرہ کتابیں تصنیف کی ہیں ۔ان کے افسانوی مجموعے ’ لمحوں کی گرفت‘ ،’حرفوں کے چراغ ‘،’ سوگند تیری سوگند ‘ وغیرہ کو ادبی حلقوں میں قدر کی نگاہوں سے دیکھا گیا ۔انہوں نے مغربی اتر پردیش کی دیہی زندگی کو اپنے افسانے میں بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ پیش کیا ہے۔زبان و بیان پر قدرت حاصل ہونے کی وجہ سے کہانی کے بیانیہ (Narration ) میں جان ڈال دیتے ہیں۔کردار نگای اور مکالمہ نگاری کے باریکیوں سے خوب واقف ہیں۔ ایک اقتباس پیش کئے دیتی ہوں جس سے ان کی مکالمہ نگاری کی خوبصورتی اور سلیقگی کا اندازہ ہو سکے۔
’’ پتاجی نے سوبھا کی سادی ساگن پور میں پکی کردئی ۔ہم سے بوجا بی نہ ۔ ‘‘
’’ ہم سے کیوں بوجیں گے بوجیں گے ہیم پال سے۔ ‘‘
’’ ہاں بھیا تو ٹھیک کہوے ،یو میری بھی سمجھ میں نہ آتا۔ ‘‘
’’مجھے تو ایسا لاگے ایک دنا ایسا آگا یہ جمین بھی ہیم پال کی ہوگی ۔‘‘
’’اس کا کوئی اپائے کرنا ہی پریگا ،بھیا !۔‘‘ ؂۳
شمع رخ بانو ۔ یہ حکیم رئیس کی بیٹی ہیں۔ کم عمری سے ہی ادب کی طرف ان کا رجحان رہا ۔اگرچہ گھر میں شعر و شاعری کا ذکر زیادہ ہوتا تھا لیکن انہوں نے اپنا راستہ الگ چنا۔ یعنی وہ فکشن کی طرف آگئیں۔ان کا ایک ناولٹ ’’پتھر کا گلاب ‘‘شائع ہو چکا ہے ۔تخلیقی عمل جاری ہے اس لئے مستقبل میں دیگر تصانیف کے منظر عام پر آنے کی امید ہے۔
رضیہ سجاد ظہیر ۔بہت کم لوگ جانتے ہوں گے رضیہ سجاد ظہیر سنبھل کی متوطن تھیں ۔ لکھنے پڑھنے سے بچپن ہی سے شغف رہا ۔ سجاد ظہیر کے ساتھ شادی ہو نے سے پڑھنے لکھنے کا ماحو ل مل گیا جس سے انھیں مزید تصنیف و تالیف کی تحریک ملی ان کے افسانوی مجموعے’ اللہ دے بندہ لے ‘،’زردگلاب ‘اور’ اللہ میگھ دے ‘ شائع ہوئے ہیں ۔اس کے علاوہ ایک کتاب کشمیر کے بادشاہ ’سلطان زین العابدین۔ بڈشاہ ‘ کی تاریخی کہانی بھی لکھی ہے ۔یہ بے حد دلچسپ کتاب ہے ۔
رام پور میں فکشن خوب لکھے گئے ہیں۔ اس خطے میں مرد حضرات کے ساتھ خواتین نے بھی فکشن میں اپنی ایک شناخت قائم کی ہے۔ شروعاتی دور کے افسانہ نگار ایس ایم شاہ نوازرام پور کی افسانہ نگاری میں بنیادی اور اہم مقام رکھتے ہیں۔ ملک کی آزادی کے بعد رام پور میں بہت تیزی سے افسانوی ادب تخلیق ہوا ۔ناول کا میدان کافی ہرا بھرا ہے ۔ حال ہی میں شریف احمد قریشی نے رام پور کے افسانہ نگاروں پر اہم کام کیا ہے ۔ انہوں نے تقریباً تمام افسانہ نگاروں کو ایک مجموعے میں شامل کر دیا ہے۔ ایک چھوٹے سے مقالے میں سارے فکشن نگاروں پر گفتگو کرنا محال ہے۔ اس لئے مقالے کی تنگ دامنی اور وقت کی قلت کو پیش نظر رکھتے ہوئے میں چند فکشن نگاروں پر ہی گفتگو کر رہی ہوں۔
نعیمہ مسعود۔ نعیمہ مسعود رام پور کے دورِ اول کی افسانہ نگار ہیں ۔ان کی اہمیت اس لئے بھی زیادہ ہے کہ اس وقت کی پہلی افسانہ نگار تھیں جب رام پور میں افسانہ نگاری کا آغاز ہوا تھا ۔بعد میں انھوں نے مستقل طور پر پاکستان میں سکونت اختیار کر لی ۔شہر کراچی میں ادبی شغف رکھنے کے سبب آج بھی جانی جاتی ہیں ۔ تقریباً ۱۵۰ افسانے تخلیق کئے ۔ان کے افسانے بہترین طرز بیان کے لئے جانے جاتے ہیں۔ افسانے اور ناول کے علاوہ انہوں نے بچوں کے ادب پر بھی بہت کام کیا ہے ۔نعیمہ مسعود نے شاعری میں بھی طبع آزمائی کی ۔ان کے بہترین گیت اور اشعار آج بھی لوگوں کی زبان پر رہتے ہیں ۔ بنیادی کام فکشن نگاری ہی کا کیا ہے ۔انھوں نے اپنے افسانوں میں عورتوں کے مسائل کو بنیاد بنایا ہے ۔ان کی فکر نذیر احمد سے متاثر ہے ۔
نصرت شمسی۔نصرت شمسی عہد حاضر کی ابھرتی ہوئی فکشن نگار ہیں۔ ان کی ولادت رام پور میں ۱۲ جون ۱۹۷۳ ء میں ہوئی ۔ان کے والد شیخ فرید الدین میرٹھ کے تاجرتھے ۔والدہ ذوالفقار شمسی رام پور کی رہنے والی تھیں ۔ انھیں کو ڈائری لکھتے دیکھ کر نصرت شمسی لکھنے کی طرف متوجہ ہوئیں ۔روہیل کھنڈ یونیورسٹی سے ایم اے کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد شمسی گرلزانٹر کالج میں درس و تدریس کے شعبے سے منسلک ہو گئیں اسکول اوراپنی گھریلو ذمہ داریوں کی ادائیگی کے بعد جو وقت انہیں میسر ہوتا ہے اسے تخلیقی کام میں صرف میں کرتی ہیں ۔ان کے کئی افسانے شائع ہو چکے ہیں۔ ان کے ناول ’اوڑھنی ‘ کی کافی پذیرائی کی گئی ہے۔ افسانوی مجموعہ ’ماہ تمام ‘ اور زیر ترتیب مجموعہ ’تاج محل‘ ان کی فکشن نگاری کی صلاحیت کا غماز ہیں۔نصرت شمسی انسانی رشتوں اور ان کے درمیان سر اٹھانے والے مسائل کی کھل کر عکاسی کرتی ہیں ۔ان کا قلم ایسی نثر تحریر کرتا ہے جو دل کے تاروں کو چھیڑتی ہے ۔وہ اپنی کہانیوں میں خشک موضوع اور دردوغم کی فضاکو مزاح انگیز جملوں سے مزین کرتی ہیں ۔ یہ در اصل وہ انداز اور اسلوب ہے قاری کو آخر تک کہانی سے جوڑے رکھتا ہے۔
اطہر مسعود۔ محمد اطہر مسعود خاں ۱۹۶۱ ء کو رام پور میں پیدا ہوئے ۔ان کے والد کا نام محمد غوث خاں تھا ۔ایم اے اور یو ٹی سی کے بعد پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔افسانہ لکھنے اور تحقیقی کام کے ساتھ ساتھ ادب اطفال پر بھی بہت کام کیا ہے ۔ تقریباً بارہ کتابوں کے مصنف ہیں ۔’ٹھنڈا خون ‘ حال ہی میں شائع ہوا ان کے افسانوں کا مجموعہ ہے۔بہت سادہ اور پر اثر تحریر لکھتے ہیں ۔ان کا ایک مشہور افسانہ’ کفن ‘ عہد حاضر کی بے روزگاری اور بھوکے بے بس پریشان حال بچوں کی حسیات کے ختم ہو جانے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔افسانوں میں سادہ زبان اور پراثر انداز ان کی تحریر کا خاصہ ہے ۔ان کا سب سے بڑا کام’ اشاریے ‘ کے ضمن میں ہے
وصی اقبال۔ رام پور کے متوطن ہیں ۔ اقبال صاحب کے افسانوی مجموعے شائع ہو چکے ہیں ۔’آواز کو پہچانوں‘ ،’کعبہ میرے آگے ‘ ،’ گرتی دیواریں‘ اور ’’آندھی میں چراغ آئے‘‘ان کی تخلیقی قوتوں کے غماز ہیں ۔
ناظمہ جبیں ۔ موصوفہ دلی میں لکچرر ہیں اور افسانوی ادب میں بہترین کار کردگی کے لئے دور دراز تک پہچانی جاتی ہیں ۔ان کے افسانوں کا ایک مجموعہ ’رائیگاں بلندی ‘ منظر عام پرآچکا ہے۔
ابن فرید۔ فرید صاحببہت عمدہ لکھنے والوں کی فہرست میں شامل ہیں ۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پروفیسر تھے۔ بقول اطہر مسعود ؛’’مرحوم بے حد اچھے عادت اخلاق کے مالک تھے ‘‘۔ آپ لکھنے کے لئے بہترین موضوع منتخب کرتے ہیں۔ان کے افسانوی مجموعے ’ یہ جہاں اور ہے ‘اور ’خون آشام ‘شائع ہو چکے ہیں۔
انجم بہار شمسی ۔بہترین اسلوب اور پر اثر انداز بیان سے اپنی بات افسانے کے ذریعے کہ دینے والی خاتون ناول نگاری میں بھی پہچان بنا چکی ہیں ۔ناول ’’قصر دل ‘‘اورافسانوی مجموعہ’’ آ واز کا سفر‘‘شائع ہوچکا ہے۔
نکہت اخلاق۔موصوفہ وزیر شہری تر قیات محمد اعظم خاں کی بڑی بہن ہیں۔بہت اچھے مزاج کی اور بہترین طرز تحریر لکھنے کی ماہر ہیں ۔تین مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں ۔’پلکوں سے پلکوں تک ‘ اور’ناچیز‘ بہت مشہور ہوئے ۔’ناچیز ‘میں خواتین کے متعلق افسانے لکھے گئے ہیں ۔
ابن حسن خورشید ۔’ہنر مندان رامپور ‘ ایک ایسی کتاب ہے جس میں بظاہر چھوٹے لیکن بہت اہم کام کرنے والے لوگوں کا ذکر کیا ہے۔ابھی کوئی افسانوی مجموعہ شائع نہیں ہوا۔
ایس فضیلت۔ ایس فضیلت رام پور کے حوالے سے اہم نام ہے۔ بہت عمدہ نثر لکھتے ہیں ۔ بارہ ناول تخلیق کئے ہیں ۔جن میں سب سے زیادہ مشہور ناول ’محلوں کے اندھیرے‘ ہے ۔ ایک افسانوی مجموعہ ’اوئی اللہ ‘ شائع ہوا ہے۔
مر تضی ساحل تسلیمی ۔ ادارۃ الحسنات میں ملازم تھے آپ کا کام بچوں کے ادب میں بہت اہم ہے۔ ان کے افسانوں کا ایک مجموعہ’ آخری تعاقب‘ شائع ہو چکا ہے۔
مسعود ظفر ایڈووکیٹ۔آپ کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے ۔ مسعود ظفر کے افسانے ’چادر ‘نے منظر عام پر آکر بہت شہرت حاصل کی ۔اس کے علاوہ مرحوم کے افسانے ’حفاظت‘ نے بھی قاری کو متاثر کیا ۔مختصر افسانے لکھتے تھے لیکن ابھی مجموعہ نہیں چھپ سکا ہے ۔
رام پور کے دیگر فکشن نگار اپنے مشہور افسانوں کے حوالوں سے دئے جارہے ہیں۔انجم بہار شمسی مصنف ’بن باس‘ ،ڈاکٹر محمد اطہر مسعود ’دوگز زمین ‘ اور’ معیار‘،سمیع الدین خاں شاداب ’ تناسخ ‘ اور ’جو نہیں جانتے وفا کیا ہے ‘ ،سعادت اللہ خاں’ازدیدہ گر چہ می رود ازدل نمی رود‘ ،ناظمہ جبیں ’ رائیگاں بلندی ‘ ،نصرت شمسی ’ آئینہ وقت ‘ ،منظور فاخر ’ بے وفا کون ‘ ،مرتضی فرحت ’ اچھن بے ‘ ،پروفیسر اوم راز’ منتر کی طاقت ‘، ابن حسن خورشید’ ادھورا سماج ‘ ،سعید فرحت ’راستے کا کانٹا ‘ افسانہ بہت مشہور ہوا ۔ابھی کوئی مجموعہ شائع نہیں ہوا ہے۔ ، وصی اقبال ’ روشن چہرہ ‘ ،خلیل خان کاشمیری ’ ڈبلیو ایس سی ‘ نئے انداز اور حسین پیرائے میں لکھنے کے لئے جانے جاتے ہیں ۔افسوس کہ ان کی تحریریں لاپروائی کی نظر ہو گئیں ۔ ،پرویز اشرفی افسانوی مجموعہ ’ ماں کی آنکھ سے ٹپکتا خون‘ شائع ہو چکاہے ۔ راز یزدانی آج سے پچاس پچپن برس پہلے ان کا قلم رواں تھا اب تک مجموعہ شائع نہیں ہو سکا ہے ۔ عتیق جیلانی سالک رضا لائبریری میں ملازمت کرتے تھے مجموعہ شائع نہیں ہوا ہے لیکن ایک بہت فیض بخش کتاب ’ رام پور شناسی ‘ ان کے فن کی داد دینے کو مجبور کرتی ہے۔ ان کے علاوہ سعید ریاض ،ناظمہ جبین ، ڈاکٹر ابن فرید،ایس ایم شاہنواز، جاوید نسیمی،رفیع الشرف خاں، اختر اللہ خاں منظر ریحا نی وغیرہ کے نام اہمیت کے حامل ہیں ۔
مذکورہ بالا حقائق سے یہ ظاہر ہے کہ رام پور اور سنبھل کا فکشن نگاری میں اپنا ایک مقام ہے ۔اور مستقبل میں بھی اس کے امکانات روشن ہیں ۔یہ علاقے فکشن کے میدان میں کافی زرخیز رہے ہیں اور آئیندہ بھی رہیں گے ۔
اشاریہ ۔
۱۔ افسانوی مجموعہ ’’خزاں کے پھول‘‘ یامین ؔ سنبھلیِ ، کاک آفسٹ پرنٹرس دلی۔۲۰۰۹
۲۔ افسانوی مجموعہ ’’طلسم‘‘ ،فرقان سنھلی ،مکہ پبلشر ۔دلی ۔۶۔۲۰۱۵
۳۔ افسانوی مجموعہ ’’ سوگند تیری سوگند ‘‘ نفیس سنبھلی ،دلی اشاعت ۔۲۰۰۲
۴۔ شریف احمد قریشی ۔رام پور میں اردوافسانہ ۔رضالائبریری رام پور ۔۲۰۰۹

 امیر خسرو کی نثری تصنیفات-ایک جائزہ

 امیر خسرو کی نثری تصنیفات-ایک جائزہ

                                                                                                   محمد شاداب
                                                                                                           ریسرچ اسکالر دہلی یونیورسٹی
امیر خسرو اردوزبان کے اولین بنیاد گذاروں میں سے ایک ہیں، جن کی گوناگوں صفات اور علمی خدمات کا زمانہ معترف ہے۔امیر خسرو علم وادب کی ایک ماےۂ ناز شخصیت ہیں کہ ان کی ہمہ گیریت کسی دوسرے شاعر یا ادیب میں نہیں۔اس قدر مختلف اور گوناگوں اوصاف کے حامل کہ ایشا کی خاک نے بھی ہزاروں برس کی مدت میں دوچار ہی پیداکیے ہونگے۔امیر خسرو نے پانچ اور بعض محققین کے مطابق سات بادشاہوں کا زمانہ دیکھا،پانچ تاریخی مثنویاں لکھیں اور پانچ دیوان مرتب کیے۔مختلف مضامین پر مشتمل پانچ مثنویوں کا خمسہ مکمل کیا جس میں اخلاقی اور افسانوی مضامین اہم حیثیت کے حامل ہیں۔یہ خمسہ ۱۷۹۰۰؍اشعار پر مشتمل ہے۔نثر میں بھی پانچ رسائل کے دفتر مرتب کیے،انھیں ’’رسائل الاعجاز‘ کہاجاتاہے۔اس کے علاوہ دوکتابیں ’’خزائن الفتوح‘‘ اور افضل الفوائد‘‘ بھی آپ کا نثری کارنامہ ہیں۔
امیر خسرو کو اپنے زمانے کے متعدد علوم پر دسترس حاصل تھی۔انھوں نے بیک وقت پانچ زبانوں میں طبع آزمائی کی۔امیر خسرو فارسی زبان پر دستگاہ کامل رکھنے کے ساتھ عربی، ترکی، سنسکرت، ہندی اور بنگالی زبانوں پر بھی قدرت رکھتے تھے،ہندی اور اردو زبان و ادب کی تاریخ میں بلا اختلاف ان کو اردو زبان کے بانیوں میں شمار کیاجاتاہے۔ماہرانِ موسیقی نے امیر خسرو کو کئی آلاتِ موسیقی اور راگ راگنیوں کا موجد بھی قرار دیاہے۔امیر خسرو کی شحصیت بقول خالد مختار یہ تھی :
’’ امیر خسرو کو ان اربابِ کمال میں شمار کیاجاسکتاہے جن کو عبقری کہا جاتا ہے، وہ ایک عظیم قصیدہ گو، ایک عظیم مثنوی نگار، ایک عظیم غزل گو، ایک عظیم نثر نگار، ایک عظیم صوفی اور ایک عظیم ماہرفنِ موسیقی تھے۔وہ صوفی کی حیثیت سے فنافی اللہ ، ندیم کی حیثیت سے ارسطوئے زمانہ، عالم کی حیثیت سے متبحر علامہ، ماہر موسیقی کی حیثیت سے امام المجتہد، مؤرخ کی حیثیت سے بے نظیر محقق اور شاعر کی حیثیت سے ملک الشعرا تھے، ان کی غزلوں میں سوزوگداز، عشق ومحبت ، عجزونیاز، سادگی، بے تکلفی ، شوخی، تصوف، ہم آہنگی، موسیقی، نزاکت اور تناسب جیسے عناصر کوکو ٹ کر بھرے ہوئے ہیں۔ان کے کمال کا ہر دامن نہایت وسیع اور اپنے بیان میں نہایت دلپذیر ہے۔‘‘(امیر خسرو: افکار وخیالات وفکر وفن ص ۸)
امیرخسرو کے متعلق مرزاغالب عود ہندی میں لکھتے ہیں کہ ہندوستان کے سخنوروں میں امیر خسروکے سوا کوئی استاد مسلم الثبوت نہیں ہوا۔امیر خسرو اپنے فارسی کلام میں جگہ جگہ ہندی کے الفاظ اور محاورات استعمال کرتے ہیں۔انھوں نے کہ مکرنیاں ، انمل، دوسخنے اور پہیلیاں تمام تربول چال اور روزمرہ کی زبان میں لکھی ہیں ۔یہ بات مسلم ہے کہ اردو کا قدیم ترین نام ہندی یا ہندوی ہے۔
اردو کی ابتدا امیر خسرو سے پہلے مسعود سعدسلمان سے ہوتی ہے۔مسعود سلمان کے بارے میں کہاجاتاہے کہ اس نے تین دیوانِ یادگار چھوڑے ، جن میں سے ایک عربی میں تھا ، ایک فارسی میں اور ایک ہندی میں ،اگرچہ اب صرف فارسی دیوان موجود ہے اور باقی دودیوان نایاب ہیں۔کوئی بھی زبان جذب وقبول اور معاشرے وسماج میں تبدیلی کے ذریعہ ہی ترقی کرتی ہے، وہ زبان جو اب تک ہندوی کلچر کی علامت تھی، مسلمانوں کی آمد سے ،اس میں عربی ، ایرانی کلچر کی روح بھی شامل ہوگئی ۔عربی ، فارسی اور ترکی کے الفاظ فرسودہ اورغیر ضروری پراکرت وسنسکرت الفاظ کی جگہ لینے لگے، بعد میں سینکڑوں پرتگالی اور انگریزی الفاظ بھی اس زبان کا حصہ بن گئے۔ابھی یہ زبان ترقی کے مراحل میں تھی مگر اس قدر توانا نہ ہوئی تھی کہ اس میں ادب پارے وجود میں آئیں۔یہ زبان ہندی یا ہندوی ہر طرف بولی جارہی تھی، رابطے کی زبان تھی، اسی وجہ سے اس زمانے کے فارسی مصنفین کی کتابوں میں اس زبان کے الفاظ اور محاورے مل جاتے ہیں ، خود فارسی شاعری کا آغاز ہندوستان میں عہدِ غزنوی میں ہوا۔دہلی فتح ہونے تک لاہور وغیرہ مرکز رہے ، ابوالفرج رونی اس زمانے کا بڑا شاعر ہے۔اسی کا ہم عصر مسعود سعد سلمان بھی لاہور میں پیدا ہوا۔ دہلی فتح ہوئی تو پھر یہ مرکزِ علم وادب بن گئی ۔امیر خسرو سے قبل تاج الدین، شہاب الدین عرف شہاب مہرہ اور عمید الدین قابل شعرا گزرے ہیں۔ان شعرا ء کے جانشینوں میں امیر خسرو تھے جن کو یہ شرف حاصل ہے کہ پورے ہندوستان کو ان پر ناز ہے۔اس زمانے کے فارسی اہلِ قلم نے اپنی تصانیف میں ہندی زبان کے الفاظ بکثرت استعمال کیے ہیں۔ابوالفرج ، حکیم سنائی ، منہاج سراج الدین، ضیا ء الدین برنی، سید محمد بن سید مبارک کرمانی اور امیر خسرو وغیرہ نے اپنی تصانیف میں اس زبان کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔
مذکورہ بالا شخصیات کی تصانیف فارسی زبان میں تھیں، مگر ہندی یا ہندوی زبان کے الفاظ بھی ان کتابوں میں پائے جاتے ہیں۔امیر خسرو سے پہلے کسی شاعر یا ادیب کا کلام ہندی یا ہندوی زبان میں نہیں ملتا ہے۔ امیر خسرو سے پہلے مسعود سعد سلمان کے دیوان میں ہندوی زبان کا تذکرہ تو ضرورملتاہے مگر ان کا یہ دیوان ناپید ہے، امیرخسرو کے زمانے میں اردو زبان بالکل ابتدائی شکل میں تھی، امیر خسرو اردو زبان وادب کے شاعرِاول ہیں جن کی شاعری میں اردو زبان کے الفاظ ومحاورے پائے جاتے ہیں اور امیر خسرو کی نثری تصانیف میں بھی اردو زبان کے الفاظ ومحاورات بکثرت موجودہیں۔
امیر خسرو کی شعری و نثری تصانیف کتنی ہیں ؟ یہ بتانا مشکل ہے ۔کیونکہ مختلف کتابوں میں تصانیف کے متعلق تعداد مختلف ہیں۔ ضیاء الدین برنی نے لکھا ہے کہ ان کی تصانیف اتنی تھیں کہ ان سے ایک کتب خانہ بن سکتا تھا،ایک دوسرے مصنف نے ان کی تصانیف کی تعداد ۹۹ بتائی ہے اور بعض نے ۱۹۹؍ لکھی ہے، حقیقی تعداد کا علم خداہی بہتر جانتا ہے۔پروفیسر وحید مرزا نے جو نتیجہ نکالا ہے، وہ یہ ہے کہ ’’اس طرح صرف اکیس ایسی تصانیف رہ جاتی ہیں جو یقین کے ساتھ امیر خسرو کی طرف منسوب کی جاسکتی ہیں اور یہ سب کی سب اس وقت موجود ہیں۔‘‘(امیر خسرو: ڈاکٹر وحید مرزا ، ص ۱۴۶)
امیر خسرو کی فارسی شاعری زیادہ مشہور ومعروف ہے اور انھیں زبان وادب کی تاریخ میں عموماً شاعر ہی کے حوالے سے جاناجاتاہے اور ان کی شاعری میں ہندی یا ہندوی زبان کے الفاظ ،محاورے اور کہاوتوں کو اجاگر کرکے انھیں اردو زبان وادب کا اولین معمار اور ہندوی زبان کا نقاش اول ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔یہ بات حقیقت بھی ہے کہ کثیر مقدار میں ان کے فارسی کلام کے مجموعوں میں مخلوط ہندوی کلام بھی ملتا ہے۔امیر خسرو کے شعری کارنامے زیاہے ہیں ،اسی لیے اس کی طرف اکثر مصنفین اور محققین نے توجہ کی ہے ،مگر خسرو کی تصنایف میں نثری کتابیں بھی شامل ہیں۔نثر کی تین کتابیں بلا اختلاف امیر خسرو کی تصنیفات شمار کی جاتی ہیں ۔ ان میں پہلی کتاب ’’خزائن الفتوح‘‘ ہے۔بقیہ دو کتابوں کے نام ’’اعجاز خسروی ‘‘ یا ’’رسائل الاعجاز ‘‘ اور ’’افضل الفوائد‘‘ ہیں۔خزائن الفتوح کو ہی تاریخ علمائی کے نام سے بھی جاناجاتاہے۔
’’خزائن الفتوح یا تاریخ علائی ‘‘ اس کتاب کو امیر خسرو نے ۷۱۱ھ میں پورا کیا ۔یہ کتاب امیر خسرو کی نثر نگاری کے میدان میں پہلی کوشش تھی۔اس سے پہلے انھوں نے اپنے دواوین کا دیباچہ نثر میں لکھا تھا،لیکن نثر میں ان کی باضابطہ پہلی تصنیف ’’خزائن الفتوح‘‘ ہے۔یہ کتاب سلطان علاؤ الدین خلجی کی فتوحات کی بڑی دلچسپ اور مستند تاریخ ہے۔مستند اس لیے ہے کہ مختلف معرکوں ہی کی نہیں بلکہ ان سے متعلق واقعات کی تاریخیں بھی درج ہیں۔لشکر کا کوچ کرنا، سفر میں قیام، حملہ ، محاصرہ اور فتح سب کی تاریخیں ملتی ہیں۔اس کتاب میں ۶۹۵ھ سے ۷۱۱ھ تک کے واقعات درج ہیں۔ اس کتاب میں جنوبی ہندوستان کی تہذیب ومعاشرت اور فتوحاتِ دکن سے متعلق اہم معلومات ملتی ہیں ۔شمالی ہند کے حالات سے بھی واقفیت ہوتی ہے۔امیر خسرو نے یہ کتاب گرچہ تاریخی حالات پر لکھی ہے مگر وہ بنیادی طورپر شاعر ا ورادیب تھے،اسی وجہ سے اس کتاب میں ادبی زبان اور اندازِ بیان اختیار کیا ہے مگر تاریخی واقعات کی صحت وترتیب پر بھی آنچ نہیں آنے دی ہے۔اس کتاب کی اہمیت اس وجہ سے بھی ہے کہ علاؤالدین خلجی سے متعلق اس کے عہد میں لکھی جانے والی یہ واحد کتاب ہے۔اس کتاب کے چند نسخے ہی ملتے ہیں۔ علی گڑھ سے ’’خزائن الفتوح‘‘ کا متن شائع ہوچکا ہے۔اس کتاب میں ہندوی زبان کے الفاظ ملتے ہیں ۔ڈاکٹر جمیل جالبی لکھتے ہیں کہ خزائن الفتوح میں بیڑہ، تنبول، دھانک، گھٹی، بیسٹھ، مارمار اور رائے جیسے الفاظ ملتے ہیں۔
امیر خسرو کی دوسری تصنیف ’’اخبار خسروی یا رسائل الاعجاز پانچ رسالوں پر مشتمل ہے۔اس ضخیم تصنیف کی تکمیل ۷۱۹ھ میں ہوئی۔یہ کتاب فارسی نثر کا ایک بہترین اور مزین نمونہ ہے۔اس میں صنائع وبدائع کی کثرت ہے۔پانچواں رسالہ امیرخسرو کے ابتدائی عمر میں لکھے گئے خطوط پر مشتمل ہے۔اس کتاب میں خطوط کے علاوہ مختلف بادشاہوں کے مضامین بھی شامل ہیں۔مولانا شہاب الدین کے نام دومکمل خطوط ہیں۔ایک خط عربی زبان میں ہے اور دوسرا فارسی میں ہے۔اس کے علاوہ اس کتاب میں ہندوستانی موسیقی اور نامور موسیقاروں کا تذکرہ بھی ہے۔علم نجوم، طبعیات، طب، فقہ اور مختلف کھیلو ں کا بھی ذکر ہے۔امیر خسرو نے اس کتاب میں نئی تشبیہیں ، نئے استعارے اور نئے صفات استعمال کیے ہیں۔جو بقول ان کے یہ سب ان کی ایجاد ہیں۔اس کتاب میں عربی اور فارسی کے جتنے بھی اشعار استعمال ہوتے ہیں،وہ سب خسرو کے ہی ہیں۔امیر خسرو کی یہ نثری تصنیف اس عہد کی تاریخی، سماجی،علمی وادبی حالات ومیلانات کا ایک اہم ترین خزانہ ہے۔امیر خسرو نے اس کتاب میں فارسی نثر کے ان اسلوبو ں کا ذکر کیا ہے جو اس زمانے میں رائج تھے۔ امیر خسرو کی یہ تصنیف اردو زبان کی ابتدا میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔امیر خسرونے اس کتاب میں اردو زبان کی ابتدائی شکل ہندوی زبان کے الفاظ کو خوب استعمال کیاہے ۔ڈاکٹر کرشن بھالوک لکھتے ہیں:’’ ان کی تخلیق اعجازِ خسروی میں ایسے لُہار ہیں جو کہ کاریگری میں کمال رکھتے ہیں،اور ایسی لچک دار تلوار بناتے ہیں ، گویا خاموش ماحول میں گھاس کی پتیاں لہرارہی ہوں ، اسی طرح سوزن گرہیں ، جو اپنی نازک سوئیوں سے طلائی (سنہرے) گل بوٹے کھلایا کرتے ہیں۔‘‘(اردو دنیا، مارچ، ۲۰۱۴، ص ۲۱۔۲۰)
امیر خسرو کی تصنیف ’’اعجاز خسروی‘‘ کا تعارف کراتے ہوئے زبان ہندی کے متعلق عرش ملسیانی لکھتے ہیں، ’’ازتیغِ ہندی برّاں تراست ‘‘ ۔فارسی زبان کو ہندی سے قریب لانے کے لیے وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ اس میں عربی الفاظ زیادہ استعمال نہ کیے جائیں۔(امیر خسرو،عہد ،فن اور شخصیت ، عرش ملسیانی، ۹۴)
اعجازِ خسروی کی تکمیل کے وقت امیر خسرو کی عمر تقریباً ۷۰ ؍سال تھی۔ یہ کتاب نول کشور پریس میں دومرتبہ چھپی۔اس کے قلمی نسخے بکثرت موجود ہیں۔
’’افضل الفوائد‘‘ امیرخسرو کی تیسری نثری تصنیف ہے جو خواجہ نظام الدین اولیا کے حالات وکوائف اور ملفوظات پر مشتمل ہے ۔ اس کتاب میں امیر خسرو نے بہت ہی سادہ وسلیس زبان استعمال کی ہے، اس لیے کہ صوفیا کا مقصد دین کی تبلیغ اور لوگوں کی ہدایت ہوتا ہے۔کیونکہ وہ لوگ اپنی گفتگو میں نہایت سادہ الفاظ اور موثر زبان استعمال کرتے ہیں جسے عالم وجاہل، خاص وعام ہر ایک سمجھ لے۔یہ کتاب اس زمانے میں بولی جانے والی فارسی نثر کا نمونہ ہے۔اس کتاب میں ضمنی طورپر خواجہ نظام الدین اولیا کی خانقاہ کے کچھ حالات اور ان لوگوں کا تذکرہ بھی موجود ہے جو اکثر وبیشتر خواجہ صاحب کے گردو پیش جمع رہا کرتے تھے۔افضل الفوائد ‘‘ ۱۳۰۴ھ میں دہلی سے شائع ہوچکی ہے۔
افضل الفوائد کے متعلق ڈاکٹر جمیل جالبی لکھتے ہیں کہ امیر خسرو ۷۱۳ھ (۱۳۱۳ء)میں خواجہ نظام الدین اولیا کے مرید ہوئے، اور ’’افضل الفواد‘‘ میں خواجہ نظام الدین اولیا (م ۷۲۵ھ؍۱۳۲۵) کے ملفوظات بزبانِ فارسی جمع کیے۔ان ملفوظات میں کئی جگہ اردو کے الفاظ بھی بے ساختگی وبے تکلفی کے اتھ حضرت نظام الدین الاولیا کی زبان پر آگئے ہیں ۔مثلاً ایک جگہ لکھا ہے کہ‘
’’ باہرۂ چند از طعام شب درپیش سلطان آورد‘‘ 
یا ایک اور جگہ اس طرح لکھا ہے کہ:
’’بعد ازاں خواجہ چشم پُر آب گرد بارہا بگریست‘‘
(تاریخ ادب اردو جلد اول ، ۳۷، جمیل جالبی)
امیر خسرو کی شخصیت ہشت پہلو تھی۔وہ اپنے زمانے کے عظیم انسان تھے، زبان وادب میں طوطئ ہند کے لقب سے یاد کیے گئے ۔ آپ کی علمی قابلیت ، عظیم شخصیت اور گراں قدر خدمات کا اعتراف مؤرخین ، محققین اور نقادوں نے دل کھول کر کیا ہے اور آپ کا تذکرہ بلند الفاظ میں کرتے ہیں۔امیر خسرو کی شخصیت کے متعلق سعید احمد مارہروی لکھتے ہیں کہ اس باکمال کی سوانح عمری میں جوعلمی اور اخلاقی خوبیوں سے مرصع ہے۔یہ امر بھی نہایت دلچسپ ہے کہ اقلیم تصنیف وتالیف میں ہماری زبان اردو کی عالیشان عمارت کا بنیادی پتھر اسی صاحبِ کمال کے مبارک ہاتھ سے رکھا گیا، (امیر خسرو، شیخ سلیم احمد ، ص ۱۱۹)
شیخ سلیم احمد اپنے اختتامیہ میں امیر خسرو کے متعلق اس طرح لکھتے ہیں:
’’اردو زبان کی ابتدا وآغاز کے ڈانڈے ہم ان کی ہندوی شاعری اور نثری کتابوں سے ہی ملاتے ہیں۔‘‘(ص ۴۳۸)
مولانا سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں کہ امیر خسرونے فارسی اور بھاشا کی آمیزش سے ہندوستان میں ایک نئی زبان اور نیا تمدنی ذوق پیداکرنے کی کوشش کی۔اور سب سے پہلے اس ملی جلی تہذیب شاعری کی بنیاد رکھی(امیر خسرو شخصیت ، افکار وخیالات ، فکروفن، ص ۳۸، شاہد مختار)
اور ڈاکٹر جمیل جالبی اس طرح رقم طراز ہیں کہ:
’’ امیر خسرو اردو زبان وادب کے شاعرِاول ہیں جن کی مٹھاس آج بھی زبان میں شہد گھول رہی ہے۔امیر خسرو دو تہذیبوں کے امتزاج کے وہ گلِ نور س ہیں جو ابھرتی، پھیلتی تہذیبوں کے ایسے ہی موڑ پر ظہور میں آگے آتے ہیں اور خود تہذیب کی علامت بن جاتے ہیں۔امیر خسرو ہند، مسلم ثقافت کی وہ زندہ علامت ہیں کہ رہتی دنیا تک وہ اس تہذیب کے اولین نمائندے کی حیثیت سے یادگار رہیں گے۔انھوں نے نہ صرف اپنے زمانے کے بلکہ آئندہ دور کے تہذیبی دھاروں کو بھی متاثر کیا، اور ان کا اردو کلام ایک تبرک کی حیثیت رکھتا ہے۔‘‘(تاریخ ادب اردو جلداول، ص ۳۴،از ڈاکٹر جمیل جالبی)
امیرخسرو اردو زبان کے عظیم محسن ہیں جن کی خدمات روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں۔امیر خسرو کی شعری خدمات پر زیادہ کام ہوا ہے جب کہ ان کی نثری خدمات بھی اہم ہیں اور ان کی نثری تصانیف میں اردو زبان کے اولین نقوش اور بنیادی نشانات موجود ہیں جن کا ایک مختصر جائزہ اس مقالے میں پیش کیا گیا ہے۔ 
MD. Shadab
Research Scholar, 
Department of Urdu
Univirsity of Delhi

تازہ ترین، سلسلہ 55

تازہ ترین، سلسلہ 55

فضیل احمد ناصری

استاذحدیث وفقہ جامعہ امام محمدانورشاہ دیوبند

جس نے دریائے مصیبت میں اتارا ہم کو
وہی ظالم ہے بہت جان سے پیارا ہم کو
شام ہو یا کہ سحر، موسمِ گل ہو کہ خزاں 
کفر دکھلائے ہے پُر ہَول نظــــــارا ہم کو
اس نے تو اور مظالم کے ہمالے توڑے
لاڈ سے جس نے کہا آنکھ کا تارا ہم کو
عہدِ حاضر کی سیاست بھی ہے دہشت گردی
اسی مجرم نے کیا درد کا مارا ہم کو
بات کیجے تو علی الفور زباں کٹتی ہے
اپنی محفل میں بلاؤ نہ دوبارا ہم کو
ہم تو دوڑے ہی چلے آئے تری چوکھٹ پر
تم نے جس نام و نشاں سے بھی پکارا ہم کو
جتنےعہدےتھے،گئےان کے تصرف میں،مگر
نہ ملا بزمِ مســــــــرت کا کنارا ہم کو
ہم نہ سمجھیں تو ہماری ہی خطا ہے اس میں
وقت کرتا ہے بہت صاف اشارا ہم کو
ان چراغوں کو حقارت سے نہ دیکھو لوگو
ان ہی شمعوں کی لووں سے ہے سہارا ہم کو