96

550 اشیا کا موجدمُسلم سائنس داں


ضیاچترالی

آج کریم زغیب کو کینیڈا کے سب سے بڑے سائنسی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ کریم کا شمار کینیڈا کے بڑے سائنسدانوں میں سرفہرست ہے۔ وہ ساڑھے پانچ سو اشیا کے موجد ہیں۔ جن میں طویل عرصے تک بغیر چارج کے چلنے والی بیٹری بھی ہے۔ کریم کا تعلق الجزائر سے ہے اور وہ گزشتہ تیس برس سے بیٹری ٹیکنالوجی میں گراں قدر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اس وقت وہ کینیڈا کے ہیڈرو کیبیک نامی ادارے کے سربراہ ہیں، جس کی درجنوں ایجادات دنیا بھر میں اپنا لوہا منوا چکی ہیں۔ کینیڈین حکومت کا کہنا ہے کہ اس برس کریم کو ملک کے سب سے بڑے اعزاز کیلئے اس لئے چنا گیا کہ ان کی ایجادات موجودہ اور آنے والے وقتوں میں دنیا پر سب سے زیادہ اثرانداز ہوں گی۔ آئندہ پیٹرول اور گیس کے بجائے گاڑیاں بیٹریوں پر چلیں گی۔ اس حوالے سے اس مسلم سائنسداں کی تیس سالہ خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ کریم مشرقی الجزائر کے شہر قسنطینہ میں پیدا ہوئے اور مقامی یونیورسٹی سے کیمیا میں ماسٹر کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم فرانس سے حاصل کی۔ وہ فرانس کے شہر Grenoble کے Polytechnic institute سے وابستہ ہوئے۔ پھر وہ جاپان کے معروف قومی ادارے ’’اوساکا‘‘ میں تین برس تک خدمات انجام دیتے رہے۔ 1995 سے وہ مذکورہ کینیڈین ادارے سے منسلک ہیں۔ 2017 میں انہیں اس ادارے کا سربراہ بنایا گیا۔ کریم کی ایجادات ساڑھے پانچ سو تک ہیں۔ جبکہ وہ عالمی سائنسی رسالوں میں چار سو بیس تحقیقی مقالے لکھ چکے ہیں۔ ان کی بائیس تصنیفات اس کے علاوہ ہیں۔ اس سے قبل بھی انہیں کئی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ جس میں 2017 کا عالمی بیٹری ٹیکنالوجی ایوارڈ بھی شامل ہے۔
علم کسی کی ذاتی جاگیر نہیں۔ مغرب نے بھی یہی سائنسی علم ہم مسلمانوں سے سیکھا تھا۔ مگر حسن نثار جیسے نام نہاد دانشوروں کو مسلمان دنیا کی سب سے بیکار قوم نظر آتے ہیں۔ یہ حمار گل چونکہ کنویں کے مینڈک ہیں، اس لئے زبان چبا کر کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے کیا ہی کیا ہے؟ کچھ پڑھیں گے، انٹرنیٹ کھنگالیں گے، سرچ کریں گے تو کچھ پتہ بھی چلے ناں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں