49

مدنی – موہن ملاقات اور بات چیت
 عبدالعزیز

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اسلام کے کٹر سے کٹر اور کٹّے سے کٹّے دشمنوں سے ملاقات اور بات چیت کی نہ صرف اجازت دی ہے بلکہ ہدایت بھی کی ہے۔ سورہ حٰم السجدہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”اور اس شخص کی بات سے اچھی بات اور کس کی ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں مسلمان ہوں۔
اور اے نبیؐ، نیکی او ربدی یکساں نہیں ہیں، تم بدی کو اس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے“۔(آیت:33-34)
یعنی کسی شخص کا اللہ کو اپنا رب مان کر سیدھی راہ اختیار کرلینا اور اس سے نہ ہٹنا بلا شبہ اپنی جگہ بڑی اور بنیادی نیکی ہے۔ لیکن کمال درجے کی نیکی یہ ہے کہ آدمی اٹھ کر کہے کہ میں مسلمان ہوں اور نتائج سے بے پر وا ہو کر خلقِ خدا کو دعوت دے اور اس کام کو کرتے ہوئے اپنا عمل اتنا پاکیزہ رکھے کہ کسی کو اسلام اور اس کے علمبر داروں پر حرف رکھنے کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ آگے کی آیتوں میں اللہ نے فرمایا ہے کہ”نیکی او ربدی یکساں نہیں ہے“۔ یعنی بظاہر تمہارے مخالفین بدی کا کیسا ہی خوفناک طوفان اٹھالائے ہوں جس کے مقابلے میں نیکی بالکل عاجز اور بے بس محسوس ہوتی ہو، لیکن بدی بجائے خود اپنے اندر وہ کمزوری رکھتی ہے جو آخر کار اس کا بھٹہ بٹھا دیتی ہے، کیونکہ انسان جب تک انسان ہے اس کی فطرت بدی سے نفرت کیے بغیر نہیں رہ سکتی۔ بدی کے ساتھی ہی نہیں، خود اس کے علمبردار تک اپنے دلوں میں یہ جانتے ہیں کہ وہ جھوٹے ہیں، ظالم ہیں اور اپنی اغراض کے لئے ہٹ دھرمی کر رہے ہیں۔ یہ  چیز دوسروں کے دلوں میں ان کا وقار پیدا کرنا تو در کنار انہیں خود اپنی نظروں سے گرا دیتی ہے اور ان کے اپنے دلوں میں ایک چور بیٹھ جاتا ہے جو ہر مخالفانہ اقدام کے وقت ان کے عزم و ہمت پر اندر سے چھاپا مارتا رہتا ہے۔ اس بدی کے مقابلے میں اگر وہی نیکی جو بالکل عاجزو بے بس نظر آتی ہے، مسلسل کام کرتی چلی جائے تو آخر کار وہ غالب آکر رہتی ہے۔ کیونکہ اول تو نیکی میں بجائے خود ہی ایک طاقت ہے جو دلوں کو مسخر کر تی ہے، اور آدمی خواہ کتنا ہی بگڑا ہوا ہو۔ اپنے دل میں اس کی قدر محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ پھر جب نیکی اور بدی آمنے سامنے مصروفِ پیکار ہوں او رکھل کر دونوں کے جوہر پوری طرح نمایاں ہوجائیں، ایسی حالت میں تو ایک مدت کی کشمکش کے بعد کم ہی لوگ ایسے باقی رہ سکتے ہیں جو بدی سے متنفر اور نیکی کے گرویدہ نہ ہوجائیں۔
دوسری بات یہ فرمائی گئی کہ بدی کا مقابلہ محض نیکی سے نہیں بلکہ اس نیکی سے کرو جو بہت اعلیٰ درجے کی ہو۔ یعنی کوئی شخص تمہارے ساتھ برائی کرے اور تم اس کو معاف کردو تو یہ محض نیکی ہے۔ اعلیٰ درجے کی نیکی یہ ہے کہ جو تم سے برا سلوک کرے تم موقع آنے پر اس کے ساتھ احسان کرو۔
اس کا نتیجہ یہ بتایا گیا ہے کہ بد ترین دشمن بھی آخر کار جگری دوست بن جائے گا کیونکہ کوئی شرارت مشکل سے اس نیکی کے مقابلے میں کھڑی رہ سکتی ہے تاہم اس قاعدے کلیہ کو اس معنی میں لینا درست نہیں ہے کہ اس اعلیٰ درجے کی نیکی سے لازماً ہر دشمن جگری دوست ہی بن جائے گا۔ دنیا میں ایسے خبیث النفس لوگ بھی ہوتے ہیں کہ آپ اس کی زیادتیوں سے در گزر کرنے اور اس کی برائی کا جواب احسان اور بھلائی سے دینے خواہ کتنے ہی کمال دکھائیں ان کے نیشِ عقرب کا زہریلا پن ذرہ برابر بھی کم نہیں ہوتا۔ لیکن اس طرح کے شرِ مجسم انسان قریب قریب اتنے کم پائے جاتے ہیں جتنے خیر مجسم انسان کمیاب ہیں۔ اس روشنی میں اگر کوئی مسلمان لیڈر اسلام اور مسلمانوں کے کٹر دشمنوں سے ملاقات کرتا ہے، اچھے انداز سے گفتگو کرتا ہے اچھا برتا ؤ کرتا ہے اور احترام کرتا ہے تو مخالف کے دل پر اچھا اثر مرتب ہو سکتا ہے لیکن یہ امید رکھنا کہ ہر مخالف اور ہر دشمن یکساں ہوتا ہے خیالِ خام ہے۔ آر ایس ایس کا جو پس منظر ہے،جو تاریخ ہے اور مسلمانوں کے ساتھ جو عرصہئ دراز سے ظالمانہ سلوک ہے، ان کا جو زہریلا پروپگنڈہ، زہریلا لٹریچر ہے اور ساتھ ساتھ برادرانہ وطن کے ایک حصے میں جو نفرت اور عداوت مسلمانوں کے خلاف سرایت کر گئی ہے۔ اس پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ ایک دو ملاقاتوں میں کسی چیز کے فرق پڑنے کا کوئی امید نہیں ہے۔ ایمرجنسی کے دوران جماعت اسلامی ہند کے لیڈروں اور کارکنوں سے جیل میں آر ایس ایس کے لیڈروں او رکارکنوں سے ملاقات اور بات چیت کا موقع ملتا رہا۔ ایمرجنسی کے بعد جماعت نے فیصلہ کیا کہ ملاقات کے اس سلسلے کو دراز کیا جائے۔ غالباً ایک ڈیڑھ سال تک سیکولر پارٹیوں، کمیونسٹوں، مسلم جماعتوں (جن میں جمعیت علماء بھی شامل تھی) کی شدید مخالفت کے باوجودجماعت نے ملنے جلنے اور بات چیت کا عمل جاری رکھا۔ اس وقت آر ایس ایس کے سنچالک بالا صاحب دیورس تھے ان سے بھی کئی بار جماعتی لیڈروں سے ملاقاتیں ہوئیں۔آر ایس ایس کے کارکنوں سے کئی ملاقاتوں میں راقم بھی شامل تھا۔ جماعت نے دو وجوہات سے ملنا جلنا ترک کر دیا ایک بڑی وجہ تو یہ تھی کہ آر ایس ایس کےRank & file(عہدہ داران اور کارکنان) میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ حسب معمول مسلمانوں کے خلاف ان کی شر انگیزی باقی رہی اور اشتعال انگیز بیانات بھی مسلمانوں کے خلاف دیتے رہے اور دوسری بڑی وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں کے سیکولر اخبارات جن کی تعداد زیادہ تھی اور سیکولر مسلم جماعتوں نے مسلمانوں کے درمیان ایسا پروپگنڈہ کیا کہ جماعت کے لئے غیر مسلم تو دور کی بات مسلمانوں میں بھی کام کرنا دشوار ہو گیا۔ آج بعض لوگوں کا خیال ہے کہ شدید مخالفتوں کے باوجود جماعت کو ترکِ تعلق نہیں کرنا چاہئے تھا بلکہ یہ جماعت کی فاش غلطی(Blander) تھی۔ خیر یہ تو تاریخ فیصلہ کرے گی کہ جماعت کا قدم اس معاملے میں صحیح تھا یا غلط۔ مولانا علی میاں ؒ نے اپنے حلقہ پیام انسانیت کے ذریعہ بھی غیر مسلموں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ آر ایس ایس کے لوگوں سے ان کی ملاقات ہوئی تھیں یا نہیں مجھے ا س کا علم نہیں۔ لیکن ان کی کو ششوں کا بھی کوئی بڑا اثر نہیں پڑا۔ کلکتے میں مولانا سے ایک ملاقات کے دوران میں نے ایک تجویز پیش کی تھی کہ مسلمان خدمتِ خلق کے ذریعہ اگر غیر مسلم آبادی سے تعلق اور روابط رکھتے ہیں اور ان کی بھلائی اور خوشحالی کے لئے کام کرتے ہیں تو غیر مسلم دنیا مسلمانوں سے قریب ہوسکتی ہے،۔ مولانائے محترم نے میری اس تجویز کو سراہا تھا او رکہا تھا کہ یہ کام تمام مسلم جماعتوں کو کرنا چاہئے۔ مولانا ارشد مدنی کا خدمتِ خلق کا کام جہاں تک میری معلومات میں ہے مسلمانوں میں ایک حد تک ہے لیکن غیر مسلموں میں ان کا کوئی کام نہیں ہے۔ ملاقات کے بعد مولانا نے ایک بیان میں بد احتیاطی سے یا غلطی سے یہ کہہ دیا کہ کہ آر ایس ایس کے لوگوں سے ان کے بہت اچھے تعلقات ہیں۔ میرے خیال سے اس میں مبالغہ آرائی زیادہ ہے سچائی کم ہے۔ اگر روابط کہتے تو زیادہ صحیح تھا۔
اندیشے:    جمعیت علماء کئی حصوں میں منقسم ہے خاص طور پر دو بڑے حصوں میں اور دونوں جماعتیں اپنے اپنے حلقے یا دائرے میں قابل ذکر کام کر رہی ہیں۔ لیکن دونوں جماعتیں موروثی ہیں۔ موروثی جماعتوں کی جو کمی ہوتی ہے وہ اظہر من الشمس ہے اس میں مشاورت کا کوئی نظام نہیں ہوتا جب کہ مشاورت اور احتساب ہر جماعت کے لئے ضروری ہے۔ سورہ شوریٰ میں ہے کہ”مسلمان اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں۔“ (آیت:38) اس چیز کو یہاں اہل ایمان کی بہترین صفات میں شامل کیا گیا ہے اور سورہ آل عمران آیت:159 میں حکم دیا گیا ہے کہ ”اس بناء پر مشاورت اسلامی زندگی کا ایک اہم ستون ہے۔اور مشورے کے بغیر اجتماعی کام چلانا نہ صرف جاہلیت کا طریقہ ہے بلکہ اللہ کے مقرر کئے ہوئے ضابطے کی صریح خلاف ورزی ہے۔ احادیث میں اور علماء کرام کی تشریحات میں مشورے کے بہت بڑے فائدے گنائے گئے ہیں۔ جمعیت علماء میں میرے خیال سے مشاورت کا عمل نہیں ہے۔ اس لئے اندیشہ ہے کہ بات چیت کا کوئی خاص نتیجہ بر آمد ہوگا۔
امکانات: ممکن ہے آر ایس ایس کے لیڈران جو کل تک مسلمانوں سے دوری اختیار کئے ہوئے تھے اور مسلمانوں کے خلاف اقتدار کے لئے محاذ بنائے تھے اور پولرائزیشن کا عمل ان کے یہاں جاری تھا وہ اس وقت مسلمانوں کی ایک جماعت کے لیڈر سے ملاقات اور بات چیت کے لئے راضی ہو گئے۔ ممکن ہے کہ یہ سب کچھ کشمیر کے پس منظر میں ہو رہا ہو۔ کشمیر میں مسلمانوں کے ساتھ جو ظلم و ستم روا ہے اس سے انسانیت کے سارے اخلاقی حدود اور جمہوری حدود اور بنیادی حقوق توڑ دیئے گئے ہیں۔ میرے خیال سے ملک میں جو دہشت اور خوف کا ماحول ہے اس پر تو گفتگو ضروری ہے لیکن اس سے بھی سلگتا مسئلہ کشمیریوں کا ہے جنہیں ایک طرح سے قیدبا مشقت کی سزا دی جا رہی ہے۔ مولانا اگر جرأت مندی او رکشادہ دلی سے کام کریں تو مسلمانوں کی دیگر جماعت کے نمائندوں کے ساتھ ملاقات کریں یا ملک کی با اثر مسلم چیدہ شخصیتوں کو لے کر بات کریں۔ اس سے ان کے اندر جرأت مندی آئے گی اور حوصلہ مندی بھی۔ لیپا پوتی سے اور صاف صاف بات نہ کرنے سے کسی بڑے نتیجے کی امید نہیں کی جا سکتی۔
توقعات: جہاں تک امید اور توقع کی بات ہے اسے باقی رکھنا چاہئے کیونکہ امید پر دنیا قائم ہے۔نشہئ اقتدار میں انسان سنبھل کر بہت کم بات کرتا ہے، لیکن جب اس کی حقیقی حیثیت بتائی جائے کہ ملک کا ہر شہری برابر ہے اور ہر ایک کو برابری کے حقوق حاصل ہیں، حکومت آنی جانی ہے۔ انسانی تعلقات اور ملک کی فضا پر امن ہو یہ ملک و انسانیت کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ انسانی آبادی کے ایک حصے کو کچل کر اور اس کے حقوق کو سلب کر کے کوئی حکومت اپنی عمر زیادہ نہیں بڑھا سکتی اور نہ ہی قوم و ملک کا بھلا ہو سکتا ہے۔ اگر یہ سب باتیں مسلمان ٹھیک اور سلیقے سے اور پر وقار طریقے سے گوش گزار کر سکیں تو کچھ امید کی جا سکتی ہے مگر صرف لیڈروں سے نہیں بلکہ کارکنوں سے کارکنوں کی بات چیت سے ہی بڑے اور مثبت نتائج بر آمد ہوسکتے ہیں۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068
Attachments area

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں