366

ایودھیاتنازع کےاہم حقائق پرایک نئی کتاب

(ایودھیاتنازع کو سلجھانے میں سپریم کورٹ کا بھی پسینہ چھوٹ رہاہے اور اب معاملہ بات چیت کے ذریعے اسے سلجھانے کے مقصد سے تین رکنی کمیٹی کے سپردکردیاگیا ہے؛لیکن ایک وقت تھا،جب اس معاملے میں سمجھوتا ہوگیاتھا،فیض آباد میں’’جن مورچہ‘‘ اخبار کے ایڈیٹر شیتلا سنگھ نے اپنی کتاب میں لکھاہے کہ کیسے وی ایچ پی لیڈر اشوک سنگھل ایک مصالحتی فارمولے سے متفق ہوگئے تھے؛لیکن جب اس کی اطلاع سنگھ سربراہ بالاصاحب دیورس کو ہوئی،تو وہ بے حد ناراض ہوئے اور انھوں نے اشوک سنگھل کو سمجھوتے کے عمل سے الگ ہونے کو کہا؛کیوں کہ دیورس کے بقول ایودھیا میں رام مندر بنانا سنگھ کا مقصد تھا ہی نہیں،سنگھ کا مقصد بس ہندووں کو اس ایشو پر ایک جٹ کرنا تھا۔گزشتہ8؍جنوری کو دہلی کے عالمی کتاب میلے میں شیتلا سنگھ کی کتاب’’ایودھیا:رام جنم بھومی۔بابری مسجد کاسچ‘‘کا وبھوتی نارائن رائے،شیش نارائن سنگھ، بزرگ صحافی رام شرن جوشی،آنندسوروپ ورمااور ارملیش وغیرہ جیسی اہم شخصیات کے ہاتھوں اجرا ہوا ہے۔بابری مسجد۔رام مندر تنازع کے سلسلے میں یہ کتاب غیر معمولی اہمیت اس لیے رکھتی ہے کہ اس کے مصنف خود اس سے جڑے سارے سلسلۂ واقعات کے چشم دید گواہ ہیں اور انھوں نے بحیثیت ایک سنجیدہ،بے باک اور حق پرست صحافی کے اس معاملے کے مختلف ظاہر و مخفی پہلوووں پر کھل کر گفتگو کی ہے۔ان کی شخصیت اورمذکورہ کتاب کے حوالے سے ہندی کے معروف صحافی و شاعرکلول چکرورتی کا ایک مضمون’’میڈیاویجل‘‘نامی ویب سائٹ پر شائع ہوا ہے،اس ویب سائٹ کے شکریے کے ساتھ مضمون کا ترجمہ نذرِ قارئین ہے۔ترجمہ:نایاب حسن قاسمی)

کئی عشرے پرانی بات ہے کہ ’’دی پانیر‘‘کے’’نیوز میکر‘‘کالم میں مذکورایک صحافی کی شخصیت نے متاثر کیاتھا،اس میں بتایاگیاتھا کہ فیض آباد میں شیتلا سنگھ نام کے ایک صحافی’’جن مورچہ‘‘نامی اخبار نکالتے ہیں اور گھو م گھوم کر خودہی اسے بیچتے بھی ہیں،رام مندر تحریک کے دوران’’جن مورچہ‘‘کی حوصلہ مندانہ و ایماندارانہ صحافت سے میں اس کے بعد ہی متعارف ہوا۔
جس دور میں میڈیا بہت جلد کسی کو شہرت کے بامِ عروج پر پہنچادیتا ہے اور جس عہد میں ایماندارانہ صحافت کی عمر نسبتاً کم ہوگئی ہے،تب یہ سوچ کر بھی حیرت ہوتی ہے کہ شیتلاسنگھ نے اس شعبے میں لگ بھگ چھ دہائیاں بتائی ہیں اور ستاسی سال کی عمر میں بھی وہ اتنے ہی آزاد فکراور صحافتی اقدار کے علمبردار ہیں،وہ مدیرانِ اخبار کی اُس نایاب نسل سے تعلق رکھتے ہیں، جو باقاعدہ خود اپنے اخبار کا اداریہ لکھا کرتی تھی۔
’’جن مورچہ‘‘نے ہندی صحافت کو کس طرح ثروت مند بنایاہے،اس کی تین مثالیں پیش کرنا چاہوں گا:ایمرجنسی کے دوران اس نے صحافتی اقدار کو مضبوطی سے نبھایا،نتیجتاً لکھنؤ کے اس کے دفتر کو مقفل کرکے اخبار کے سارے عملے کو گرفتار کرلیاگیاتھا؛تاکہ اس کی اشاعت ہی بند ہوجائے۔اسی طرح جب فیض آباد کے ایک چھوٹے سے اخبار نے’’جن مورچہ‘‘کو مات دینے کے لیے ’’گم نام بابا‘‘ کی کہانی پھیلائی اور کہاگیا کہ یہ بابا دراصل سبھاش چندر بوس ہیں،تو صحافتی اصول واقدار پر عمل کرتے ہوئے ’’جن مورچہ‘‘ ہی اس کہانی کے پیچھے کی سچائی کو سامنے لایاتھا،شیتلا سنگھ خود کولکاتا گئے اور سبھاش چندر بوس کے اہلِ خانہ سے مل کر اس راز کو فاش کیا،’’جن مورچہ‘‘کے صحافی آزادہند فوج کی خفیہ اکائی کے سربراہ پوتر موہن رائے سے ملے،جنھوں نے بتایا کہ ’’گم نام بابا‘‘نیتاجی نہیں ہوسکتے،خود شیتلا سنگھ نے اس موضوع پر کئی تحریریں لکھ کر معاملے کو بے غبار کیا۔
رام جنم بھومی۔بابری مسجد معاملے میں ’’جن مورچہ‘‘نے جو موقف اختیار کیا،وہ تو صحافتی اقدار و معیار اور اخلاقیات کی پابندی کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے،فیض آباد سے اس قسم کی صحافت کرنا کتنا جوکھم بھرا کام رہاہوگا،اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
پچھلے دنوں شیتلا سنگھ کی ایک کتاب’’ایودھیا:رام جنم بھومی۔بابری مسجد کا سچ‘‘شائع ہوئی اور دہلی کے عالمی کتاب میلے میں اس کا اجرا عمل میں آیاہے،شیتلا سنگھ ایودھیا معاملے پر سب سے زیادہ ذمے دار، معروضیت پسند اورنمایاں صحافیوں میں سے ایک ہیں،اس کی وجہ محض یہ نہیں ہے کہ وہ فیض آباد سے ’’جن مورچہ‘‘نامی اخبار نکالتے ہیں؛بلکہ اس لیے کہ انھوں نے اس تنازع کو اس کے آغاز سے دیکھا، اسے حل کرنے کی ایک بے حد حساس،اہم اور ایماندارانہ کوشش سے وابستہ رہے اور اس ذیل میں راجیو گاندھی،بوٹا سنگھ اور نرسمہاراؤ کے ساتھ ان کی کئی میٹنگیں ہوئیں۔بے باک و ایماندارانہ صحافت کی تحریک انھوں نے تب بھی جاری رکھی،جب ہندستانی صحافت کا بڑا حصہ’’آستھا‘‘کے دیو کے سامنے چت ہوچکا تھا۔ غور کرنے کی بات ہے کہ1990ء میں جب ہندستانی صحافت رام مندر کے ایشو پر پولرائزڈ ہوتی جارہی تھی،تب کوآپریٹیوماڈل پر نکلنے والا ایک ہندی اخبار اس صحافت کو چیلنج دے رہاتھا، ہندی تو چھوڑیے،اس وقت کی انگریزی صحافت بھی اسی راستے پر گامزن تھی اور’’دی ہندو‘‘جیسا قابلِ اعتماد اخبار بھی بھرم پھیلانے والی خبریں شائع کررہا تھا،’’جن مورچہ‘‘کی شکایت کے بعدہی اس نے فیض آباد کے اپنے رپورٹر کو بدلا تھا۔
شیتلا سنگھ نے اس کتاب میں ایودھیا کی متنازع عمارت(بابری مسجد)میں رام للاکے ظہور کے کے واقعے پر تو تفصیلی روشنی ڈالی ہی ہے،ساتھ ہی اس کا بھی تفصیلی ذکرکیاہے کہ اس وقت کانگریس کا ایک بڑا حصہ کس طرح ہندوتووادی نفسیات میں شرابور تھا،آزادی کے بعد کانگریس چھوڑدینے والے اچاریہ نریندر دیو فیض آباد کے ضمنی انتخاب میں کھڑے ہوئے تھے اور انھیں شکست دینے کے لیے کانگریس نے رام جنم بھومی کا کارڈ کھیلا تھا،کانگریس نے اچاریہ نریندر دیو کے خلاف چتپاون برہمن بابا راگھوداس کو کھڑا کیاتھا؛بلکہ اس الیکشن کو کانگریس نے رام اور راون کی لڑائی قراردیا تھا۔اس وقت گووند ولبھ پنت کی اس سیاست کے کے حق میں بہت سے کانگریسی نیتاؤں کے ساتھ تب کے ڈسٹرکٹ کلکٹر بھی تھے،شیتلاسنگھ بتاتے ہیں کہ بعد میں اَنیک نوکرشاہوں نے سیاست کی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے؛ لیکن اسی دور میں ایک مقامی کانگریسی اکشے برہمچاری نے کانگریس کی اس سیاست کی علانیہ مخالفت کی تھی،بعد میں متنازع عمارت(بابری مسجد) کا تالا بھی کانگریس نے ہی کھلوا یا تھا،کانگریس کی طرف سے ایودھیا کو اہمیت دینے کی مذہبی نوعیت کی کوششیں1982ء میں ہی شروع ہوگئی تھیں۔
یہ ایک سچائی ہے کہ رام جنم بھومی کو اپنے سب سے اہم منصوبے کی شکل میں شروع کرنے والی وشو ہندو پریشد23؍مارچ1983ء تک اس ایشو سے پوری طرح الگ تھی؛بلکہ رام جنم بھومی کی طرف انتخابی سیاست کا توجہ مبذول کروانے والے بھی ایک خالص کانگریسی نیتا داؤدیال کھناتھے،انھوں نے ہی اندرا گاندھی کو ایودھیا،متھرا اور کاشی کے مندروں کو آزاد کروانے کی تجویز پیش کی تھی؛لیکن ادھر بابری مسجد کا تالا کھلنے کے اگلے دن سے ہی ایودھیا میں وی ایچ پی کی سرگرمیاں بڑھنے لگی تھیں،باقی کاکام یوپی میں کلیان سنگھ کی حکومت کے زمانے میں ہوا۔
ایک بے حد تجربہ کار صحافی کی یہ کتاب ایودھیا کے ایشو کو اس کے تمام اطراف و جوانب اور سچائیوں کے ساتھ سامنے لاتی ہے۔ٹیلی ویژن صحافی ونوددُعانے کئی سال قبل شیتلا سنگھ سے ایودھیا کے ایشو پر کتاب لکھنے کے لیے کہاتھا اور یہ بھی کہاتھا کہ آپ رائیلٹی کی فکر مت کیجیے؛لیکن شیتلا سنگھ نے تب کتاب لکھنے میں جلدبازی نہیں دکھائی تھی؛حالاں کہ ایودھیا تنازع سے وابستہ تمام حقائق ان کے پاس تھے ہی،جن کی بنیاد پر انھوں نے اب ایک مسودہ تیار کیا۔
وہ چاہتے تھے کہ دہلی کا کوئی مطبع اسے شائع کرے،اس سلسلے میں انھوں نے ایک بار راقم الحروف سے بھی رابطہ کیا تھا؛لیکن فیض آباد میں رہتے ہوئے دہلی کی صحافت کو آئینہ دکھانا الگ ہے اور فیض آباد کے صحافی شیتلا سنگھ کے مسودے کودہلی کے کسی اچھے اشاعتی ادارے کے ذریعے ہاتھوں ہاتھ لیاجانا الگ ؛اس لیے یہ کتاب آخر کار فیض آباد کے اُس معیاری اشاعتی ادارے سے چھپ کرآئی،جس نے چند سال پہلے شیتلا سنگھ کی صحافت پر ایک دلچسپ کتاب شائع کی تھی۔جس وقت ایودھیا کا موضوع ایک بار پھر قومی سطح پر گرم ہے،ایسے میں شیتلا سنگھ کی یہ کتاب سنجیدہ مطالعے اور ڈسکشن کا تقاضا کرتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں