53

یہ سب کچھ تو ہیں، مگرنہیں انسان

عبدالعزیز
یوگی آدتیہ ناتھ اور نریندر مودی نے اردو کا ایک مشہور فقرہ دیوالی کے دن استعمال کیا ،مگر بھول گئے کہ یہ اردو میں استعمال ہوتا ہے ،جسے ہندی والے بھی استعمال کرنے لگے ہیں، یوگی نے مغل سرائے کا نام پنڈت دین دیال اپادھیائے اور الہ آباد کا نام پریاگ راج رکھ دیا ہے، جبکہ گجرات کے نریندر مودی احمد آباد کانام ’کروناوتی‘ رکھنا چاہ رہے ہیں۔
یوگی نے فیض آباد کا نام اجودھیا رکھنے کی تجویز بھی دی ہے، اس طرح یہ دونوں مسلم اور اردو ناموں کے پیچھے دیوانے ہوگئے ہیں،انسان کو مخالفت کیسے پاگل بنا دیتی ہے ،کوئی ان دونوں سے سیکھے، ہر وہ چیز جو اردو یا عربی یا مسلمانوں سے تعلق رکھتی ہے ،ان دونوں کو ناپسند ہے، مگر گزشتہ روز (7نومبر) اجودھیامیں یوگی آدتیہ ناتھ نے جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ’’رام مندر ہم ہندوؤں کے لیے آن بان شان ہے‘‘۔ اسی طرح فوجیوں کے ساتھ دیوالی مناتے ہوئے فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے مودی جی نے کہاکہ’’ فوج ہماری آن بان شان ہے‘‘۔
ہندی میں بہت سے الفاظ، جو اردو، عربی اور فارسی زبان کے ہیں، استعمال ہوتے ہیں،اب ان دونوں کو چاہیے کہ ان سب کو ہندی سے الگ کر دیں؛ تاکہ ان کی نفرت کی پیاس بجھے اور ان کا کھانا ہضم ہو، ان کی پارٹی میں کچھ لوگ ہیں ،جو مسلمانوں جیسا نام رکھے ہوئے ہیں، جیسے شاہنواز حسین، مختار عباس نقوی اور مبشر جاوید اکبر، ان تینوں کے نام بھی جس قدر جلدی ہو بدل دینا چاہیے، سید شاہنواز کا نام گھنشیام اور اکبر کا نام پریاگ اور مختار عباس نقوی کو پرساد کردیں ؛کیونکہ ان کے ناموں میں مسلمانیت اور اردو کا شبہ ہوتا ہے۔
مسلمانوں میں اس کے لیے بے چینی نہیں ہے ،جس قدر چاہیں وہ ناموں کو تبدیل کرتے رہیں، اب ان دونوں کے پاس وقت بھی کم ہے؛ کیونکہ ضمنی انتخابات کے نتائج آرہے ہیں ،ان سے پتہ چلتا ہے کہ یہ آن بان شان والے زیادہ دنوں کے مہمان نہیں ہیں، ان کی پارٹی میں بھی اب چہ میگوئیاں ہونے لگی ہیں، جو لوگ پارٹی میں رہ کر باغی ہوگئے ہیں، اب ان کوبھی یہ نکالنے سے رہے۔
یشونت سنہا مودی اور بی جے پی دونوں کے خلاف ہوگئے ہیں،انھوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ چار سال پہلے میں نے انتخابی سیاست کو خیر باد کہہ دیا ہے، شتروگھن سنہا نے ساتھ آر جے ڈی اور کانگریس کے جلسہ عام میں پٹنہ میں شرکت بھی کی ہے، ان سب کے باوجود راجستھان یونٹ کے سوشل میڈیا انچارج ہریندر کوشک نے یشونت سنہا کے یوم پیدائش پر مبارکباد دی اور ان کی اچھی صحت کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ہے، راجستھان میں بی جے پی کی حالت خراب بھی ہے۔
ماہ نامہ ’’برہان‘‘ کے ایڈیٹر سعید احمد اکبر آبادی نے کلکتہ کا ایک واقعہ لکھا تھا کہ جب وہ کلکتہ مدرسہ کے پرنسپل تھے، ایک شخص بہتوں کی مخالفت کرتا تھا اور ہر وقت مخالفت میں اپنا منہ کھولے رکھتا تھا، وہ کہتے ہیں کہ کتاب کی ایک دکان میں وہ اکثر آتا تھا، وہ بھی کبھی کبھی وہاں جایا کرتے تھے، ایک دو سال کے بعد وہ پاگل جیسا ہوگیا ،تو اندازہ ہوا کہ حد سے زیادہ مخالفت انسان کو پاگل بنا دیتی ہے، اب یہ دونوں اس قدر اردو، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہوگئے ہیں کہ عین ممکن ہے جلدہی ان کا توازن بھی بگڑ جائے ۔
انگریزی روزنامہ’ ’دی ٹیلیگراف‘ ‘نے آج اپنی خبر میں تبصرہ کیا ہے کہ ’’آن بان شان‘‘ دونوں کو استعمال نہیں کرنا چاہیے تھا؛ کیونکہ یہ اردو فارسی اور عربی کے الفاظ ہیں، میرے خیال سے تہبند اور علی گڑھ پائجامہ بھی مسلم کلچر ہی کی نشانی ہے، یوگی تہبند پہنتے ہیں اور مودی جی پائجامہ، نہ جانے کب یہ دونوں دھوتی پہننا شروع کریں گے، ہندی اور انگریزی کے اخبارات کو دونوں کی توجہ اس طرف بھی مبذول کرانا چاہیے، دونوں میں بہت سی مشابہت بھی ہے، مگر لباس الگ الگ ہے،دھوتی پہننے سے مشابہت ہوجائے گی اور ہندو کلچر اور ہندو سنسکرتی کا بھی مظاہرہ اور تحفظ ہوگا۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں