109

یہ دستورِ زباں بندی ہے کیساتیری محفل میں؟!

نایاب حسن
دنیاکاسب سے بڑا جمہوری ملکہندوستان خوف،اندیشوں،وحشتوں اور دہشتوں کی آماجگاہ بنتاجارہاہے،یہاں اندراگاندھی کے دور کی ایمرجنسی کو بار بار دُہرایاجاتااور اس زمانے کی اَنہونیوں کا مسلسل ذکر ہوتا رہتاہے،مگر افسوس کہ وہ ایمرجنسی تو اعلانیہ تھی اور لوگوں کو اس کے مالہ و ماعلیہ کے بارے میں بھی معلوم تھا،مگر ابھی جو اس ملک میں ایمرجنسی لگی ہوئی ہے،وہ غیر اعلانیہ ہے اور یقیناً یہ ایمرجنسی اُس سے کہیں زیادہ خطرناک اور نتائج کے اعتبارسے ہلاکت ناک ہے،جمہوریت بنیادی طورپر ہر قسم کی شخصی و اجتماعی آزادی سے عبارت ہوتی ہے،مگر فی الحال ہندوستانی جمہوریت کے مشتملات و حدود میں پوری طرح ترمیم و تنسیخ کا عمل جاری ہے،ہندوستانی جمہوریت کا سانچا اور ڈھانچااس وقت اِس ملک کی حکمراں جماعت تیار کررہی ہے اوراسے ہی تمام شہریوں کوماننا اوراس پر عمل کرنا ہوگا؛چنانچہ کھانے پینے،پہننے سے لے کر بولنے اور اظہارِخیال تک کے معاملوں میں عام ہندوستانی آزاد نہیں ہے،اسے انہی حدود پر عمل کرناہے،جوحکومت ،حکمراں جماعت یا اس کے ہم خیال شدت پسندو تنگ نظر مذہبی و ثقافتی گروہ طے کر رہے ہیں،مظلوم کے حق کے لیے،اس کی عزتِ نفس کے لیے آواز بلند کرنا بھی جرم ہے؛بلکہ اس وقت تواس ملک میں اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنا،غریب ہونا،پسماندہ ہونا،دلت ہونابھی جرم ہی مان لیاگیا ہے اور جہاں ان تمام طبقات کے ساتھ مجرموں والا برتاؤکیاجاتا، انھیں جہاں تہاں ذلیل کیاجاتااورماردیاجاتاہے،وہیں ایسے لوگوں کو انصاف دلانے کے لیے اٹھنے والے گنے چنے لوگوں کوبھی سرکاریں،سرکاری ایجنسیاں،پولیس محکمہ اور تفتیشی ادارے ہٹ لسٹ میں شامل کرلیتے ہیں ،گویا پورے ملک میں آمریت کھل کر کھیل رہی ہے،موجودہ سرکارکے ابتدائی دنوں میں شروع ہونے والے ماب لنچنگ کے غیر منتہی سلسلے سے لے کرحالیہ دنوں میں میڈیا کے سربرآوردہ افراد کی زباں بندی تک کے واقعات اس کی بین شہادتیں ہیں،درمیان میں نوٹ بندی،جی ایس ٹی،رافیل ڈیل میں کی جانے والی من مانیاں اور سرکارکی دیگر آمرانہ کارروائیاں بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔
گزشتہ 28؍اگست کوحیدرآباد،ممبئی،دہلی اور فریدآبادوغیرہ میں کم ازکم دس دانشوروں، سماجی وقانونی کارکنان اور حقوقِ انسانی کے لیے سرگرم افرادکے گھروں پر مہاراشٹرپولیس کے ذریعے چھاپے مارے گئے،ان کے لیپ ٹاپ،فون اور دیگر الیکٹرانک ڈیوائسزضبط کیے گئے اور 2017ء کے دسمبرمیں بھیماکورے گاؤں ریلی سے متصل ہونے والے پر تشددواقعات اوردیگر ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں پانچ لوگوں کوگرفتاربھی کرلیاگیا،گرفتارشدگان میں گوتم نولکھا،وَروَرراؤ،ورنن گونزالویس،سدھابھاردواج اور ارون فریریاشامل ہیں،ان میں سے ایک کا تعلق دہلی،ایک کا حیدرآباد،ایک کا ہریانہ اور دوکا تعلق ممبئی سے ہے،رومیلاتھاپر،پربھات پٹنایک،ستیش دیش پانڈے،دیوکی جین اور مجادارووالانے ان کی گرفتاریوں کے خلاف سپریم کورٹمیں پٹیشن دائر کیاتھا،جس کے بعد کورٹ نے 6؍ستمبر تک ان کی گرفتاری پر روک لگاتے ہوئے یہ بھی تبصرہ کیاتھاکہ ’’اختلافات جمہوریت کے لیے سیفٹی والو(Valve) کی حیثیت رکھتے ہیں،اگر انھیں روکا گیا،توجمہوریت ٹوٹ جائے گی‘‘۔ ساتھ ہی اگلی سماعت تک ان تمام افراد کوان کے گھروں میں نظربندکرنے کی ہدایت دی تھی،بامبے ہائی کورٹ نے 3؍ستمبرکواس سلسلے میں ایک عرضی کی سماعت کرتے ہوئے مہاراشٹر پولیس اور جانچ ایجنسیوں کے ذریعے 31؍اگست کو پریس کانفرنس کرنے پرسخت نکتہ چینی کی،جس میں اسی واقعے میں مزید دیگر دانشوران کے ملوث ہونے کی بات کہی گئی تھی اور پولیس نے اس سلسلے میں ایک خط کابھی ذکرکیاتھا،جس کے مطابق ممنوعہ ماؤوادی تنظیم کے لیے آٹھ کروڑ روپے کاگرینیڈلانچرزاوردھماکہ خیز اشیاکی خریداری کی بات لکھی گئی ہے،کورٹ نے سات ستمبرتک پولیس اور جانچ ایجنسیوں کوایسی کسی بھی پریس کانفرنس کرنے سے منع کیاہے۔
دوسری طرف سماجی سطح پر ان گرفتاریوں کے سلسلے میں خاصی بے چینی پائی جارہی ہے،کورٹ کا فیصلہ جوبھی آئے،مگر اس پورے معاملے سے ایک چیز واضح طورپر سمجھ میں آرہی ہے کہ اس پکڑدھکڑ کے سلسلے کے پسِ پشت یقینی طورپر سیاسی دسیسہ کاریاں کام کررہی ہیں،ابھی مختلف صوبوں میں لوکل انتخابات ہورہے ہیں،اس کے متصل بعد مدھیہ پردیش،راجستھان وغیرہ میں ریاستی اور چند ماہ بعد ہی عام انتخابات کے موسم آرہے ہیں،متعدد نیوز چینلوں اور انتخابی سروے کرنے والی ایجنسیوں نے ابھی سے یہ دکھانا اور بتانا شروع کردیاہے کہ مودی اور بی جے پی کی مقبولیت کا گراف لگاتار گھٹ رہاہے،ایسے میں مودی اینڈکمپنی یقیناًہاتھ پر ہاتھ دھر کے نہیں بیٹھ سکتی،کچھ منصوبے،کچھ خاکے،کچھ نقشۂ عمل اس کے پاس ضرور تیار ہوگا،جسے اگلے مہینوں میں زمینی سطح پر اتاراجائے گا،عین ممکن ہے کہ دلتوں،پسماندہ طبقات اور سماج کے دیگر دبے کچلے لوگوں کے حقوق کی لڑائی لڑنے والے ان رضاکاروں،دانشوروں،شاعروں اور ادیبوں پر نکیل کسنے کا سلسلہ بھی اسی کا حصہ ہو،اس کے علاوہ فسادات،مذہبی منافرت کوہوادینا،ہندومسلم ہنگامے تو بی جے پی کے آزمائے ہوئے نسخے ہیں ہی،ان دانشوروں کے خلاف قومی سطح پر سرچ آپریش چلاکر حکومت دراصل ان گنے چنے لوگوں کی زبانوں کوبھی بند کردینا چاہتی ہے،جن کی صداے احتجاج وقتاً فوقتاً اسے تشویش میں مبتلا کرتی رہتی ہے،جس طرح میڈیاسے تعلق رکھنے والے چند بے باک و حق پسند صحافیوں پر لگام لگاکراس نے پوری صحافی برادری کو متنبہ کیاکہ یا توحکومت کی سرمیں سرملائے یا خاموش رہے،اسی طرح سول سوسائٹی کے چند حساس افراد کے خلاف منظم کارروائی کرکے ایسے تمام لوگوں کو خبردار کرنا چاہتی ہے،جو کسی نہ کسی سطح پر انسانی حقوق،شہری آزادی اور عدل و انصاف کے آوازے بلند کرتے رہتے ہیں،سیاسی مبصرین کی ایک رائے یہ بھی ہے کہ مہاراشٹرپولیس کے ذریعے یہ پورا پلان دراصل سناتن سنستھاسے جڑے سنسنی خیز حقائق ، خبروں اور واقعات پرپردہ ڈالنے کی حکمتِ عملی بھی ہوسکتی ہے،اس میں کسی شبہے کی گنجایش نہیں کہ ملک بھر میں جتنی بھی انتہاپسند ہندوتنظیمیں اور ادارے ہیں،ان کے تار مختلف پرپیچ راہوں سے گزرکر آرایس ایس اور پھر بی جے پی سے جڑے ہوئے ہیں،اس وابستگی کی وجہ سے انھیں خفیہ یا اعلانیہ طورپربی جے پی کاسیاسی سپورٹ بھی حاصل ہوتاہے،ابھی بقرعید سے قبل سناتن سنستھاکے ایک سے زائد دہشت گردگرفتار کیے گئے،جن کے ہاں سے بڑی مقدار میں دھماکہ خیزاشیا،بندوقیں ضبط کی گئیں، ان کے بارے میں یہ بھی پتاچلاکہ وہ مختلف تہواروں کے موقعوں پر مختلف مقامات پر بم بلاسٹ کرنے والے تھے،کئی اہم افراد ،سیاست داں،صحافی،سماجی کارکنان و دانشوران بھی ان کے نشانے پر تھے،جنھیں وہ اڑانا چاہتے تھے،پھر یہ بھی پتاچلاکہ معروف خاتون صحافی گوری لنکیش اور ادیب نریندر دابھولکرکے قتل میں اسی تنظیم کاہاتھ تھا،توپورے ملک کے کان کھڑے ہوگئے تھے اور سب منتظر تھے کہ ان لوگوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے میں حکومت اور عدلیہ مطلوبہ کردار اداکریں گے،مگر ٹھیک اسی دوران یہ نیاڈرامہ سٹیج کردیاگیاہے اور لوگوں کے ذہن کو،میڈیاکو ،عقلِ عام کو سناتن سنستھا سے موڑکر مذکورہ بالا سماجی کارکنان کی گرفتاریوں میں الجھانے کی منصوبہ بندی یا سازش کی گئی ہے۔
ان گرفتاریوں کے سلسلے میں سماج کے دانشور،ذی ہوش،قانون داں اور سیاسی لیڈران وانصاف پسند عوام اپنے طورپر احتجاج درج کروارہے ہیں،ملک کے مختلف شہروں میں پریس کانفرنسوں،احتجاجی مارچوں کے ذریعے مہاراشٹرپولیس اور حکومت کے ذریعے کیے گئے اس اقدام کے خلاف آوازیں بلند کی گئی ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ میڈیا،جواس طرح کے موقعوں پرحصولِ انصاف اور حکومت کی غلط کاریوں کا پردہ فاش کرنے کے سلسلے میں اہم رول اداکرسکتاہے اور جمہوریت کا چوتھا ستون ہونے کی حیثیت سے اس کی یہ ذمے داری بھی ہے،وہ بالکل ہی سردمہری کاشکارہے،حکومت نے اس کے گرد ایسا گھیراتنگ کررکھاہے کہ مجموعی طورپر میڈیابھی وہی زبان بولنے پر مجبور ہے،جوحکومت کی منشاہے؛چنانچہ ایک طرف سناتن سنستھاکے دہشت گردوں کی گرفتاری،ان کے پاس سے دھماکہ خیز اشیاکی ضبطی کو مین سٹریم میڈیاپوری طرح گول کرگیا،جبکہ دوسری طرف بھیماکورے گاؤں سانحے کے سلسلے میں عام طورپر نہایت منفی رپورٹنگ کی گئی، ملک کے معزز شہریوں کونکسلائٹ قراردیاگیا،انھیں ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث بتایاگیا اور حالیہ گرفتاری پر بھی میڈیانے اپنی ذمے داری کے برخلاف ہی کردار اداکیاہے۔
ہندوستانی سیاست کاعمومی مزاج یہ ہے کہ آدی واسیوں اور دلتوں پر ہونے والے مظالم کو ہر حکومت (چاہے کانگریس کی ہویابی جے پی کی)یہ کہہ کر صحیح ثابت کرتی رہی ہے کہ یہ کارروائیاں نکسل انتہاپسندوں کے خلاف کی گئی ہیں،مسلمانوں کی مجموعی طورپر، خاص کر انتخابی پس منظرمیں اب کوئی سیاسی شناخت نہیں رہی،مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ دلت اور آدی واسی قبائل اب بھی تمام سیاسی پارٹیوں کے لیے بڑے ووٹ بینک کی حیثیت رکھتے ہیں،مگر ان دلتوں اور آدی واسیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سماجی کارکنان کی حالیہ گرفتاریوں کے ذریعے حکومت واضح طورپر دلتوں کے موقف،اغراض اور مسائل کے تئیں اپنی بے توجہی کا ثبوت دے رہی ہے، حالاں کہ بی جے پی اور خاص کر مودی توایسا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے،جہاں وہ اپنے آپ کو دلتوں کا ہمدرد ومسیحا ثابت کرسکیں،اس وقت پورے ملک سے ہزاروں غریب،دلت،محروم واقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان بے گناہ جیل میں بند ہیں،جن کے لیے انصاف کی لڑائی ایسے ہی لوگ لڑتے ہیں،اب حکومت نے ان لوگوں کوبھی گرفتار کرکے ان ہزاروں لوگوں کو انصاف سے محروم کرنے کی سمت میں قدم بڑھایاہے اور یہ باقی ان لوگوں یااداروں کے لیے خطرے کی گھنٹی بھی ہوسکتی ہے ،جوملک کے مظلوموں،مجبوروں اوردبے کچلے انسانوں کے انصاف کی لڑائی لڑرہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں