59

یعقوب یاورکی کتابوں کی معیت میں


مشرف عالم ذوقی
2019 کی شروعات یعقوب یاور کی کتابوں کے ساتھ ہوئی – ماریو پوزو کا ناول گاڈ فادر ، اگاتھا کرسٹی کا ناول کرسمس ، اور کیں فولیٹ کا ناول سینٹ پیٹرس برگ ـ یعقوب یاور کی خوبی ہے کہ وہ ترجمے میں تخلیقی رنگ بھر دیتے ہیں،سب سے پہلے مین فرام سینٹ پیٹرس برگ کی بات کرتے ہیں ـ 1914 ء میں جرمنی جنگ کے لیے ہتھیار جمع کر رہا ہے، یہ مکمل طور پر سیاسی ناول بھی ہے اور رومانی بھی،برطانیہ اور جرمنی دونوں کو روس کی ضرورت ہے، ارل والڈن اور وینسٹن چرچل نے روس کے ساتھ ایک خفیہ راز کی منصوبہ بندی کی، ایک شخص انگلینڈ میں ہے اور تاریخ پر اپنے نشان چھوڑنے کا ارادہ رکھتا ہے،ایک خوبصورت خاتون، ایک نوجوان لڑکی اور ایک محبوب جو انارکسٹ ہے ، حادثے برسوں کی مسافت کے بعد انہیں ایک دوسرے کے قریب لاتے ہیں،پھر ایک دلچسپ کہانی سیاست اور رومان کے ساتھ جب تاریخی واقعات کو سمیٹے سامنے آتی ہے، تو ہر قدم حیرت کے جزیرے روشن ہوتے چلے جاتے ہیں،
اگاتھا کرسٹی کا ناول کرسمس جسے عمدہ کلاسک میں شمار کیا جاتا ہے،کانن ڈائل اور اگاتھا کرسٹی کے ناولوں کو انکے فین نے ادبی درجہ بھی دیا،یہ ایک خوشگوار کہانی ہے، جو کرسمس کے پس منظر میں ایک کلاسک قتل کے راز کی گواہ بن جاتی ہے،ایک دولت مند بوڑھا اپنی زندگی کے آخری دن گزار رہا ہے،کرسمس کے موقع پر وہ اپنے بچوں سے ملنے کا خواہشمند ہے، اس نے ایک حسین زندگی بسر کی ہے، کرسمس کی رات اس بوڑھے کا قتل ہو جاتا ہے،ہرکیول پویرٹ ، شرلاک ہومز اور آر سین لوپن میرے پسندیدہ کرداروں میں سے ایک ہیں،اس ناول میں کئی مقام ایسے تھے ، جب مجھے ڈکنس کے ناول دی گریٹ ایکسپکٹیشنز کی یاد آئی،ایک بزرگ خاتون،جو اپنے دو نوکروں کے ساتھ رہتی ہے، ڈکنس کردار نگاری میں ماسٹر ہے،اگاتھا نے بھی بزرگ مرد کی کردار نگاری میں مہارت سے کام لیا ہے،خاص کر اس وقت جب وہ کرسمس کے دن اپنے تمام بچوں کو یکجا کر انکا مذاق اڑاتا ہےـ یعقوب یاور نے ترجمے کا حق ادا کیا ہے،
ماریو پوزو کا ناول گاڈ فادر امریکہ اور سسلی کے مافیا گروہ کے حیرت انگیز واقعات پر مشتمل کہانی ہے،گاڈ فادر کا بننا آسان نہیں،اس کے لیے صبر و تحمل اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے،مافیا خاندان ایک دوسرے کے دشمن ہونے کے باوجود ایک دوسرے کی مدد بھی کرتے رہتے ہیں ـ
یہ تینوں ہی ناول بیسٹ سیلر ہونے کے باوجود اس قابل ہیں کہ انکا مطالعہ کیا جائے، کالج کے دنوں میں تیرتھ رام فیروز پوری اور مظہر الحق علوی کا عاشق تھا،تلاش کر کر کے ان کی ہر ترجمہ کی ہوئی کتاب پڑھ ڈالی، دونوں کے ترجمے ایک دوسرے سے کافی الگ تھے، میں دونوں پر فدا تھا،علوی صاحب کے یہاں تخلیقی رنگ بہت حد تک حاوی تھا،یعقوب یاور افسانہ نگار بھی ہیں ، ناول بھی لکھتے ہیں اور ان دنوں ترجموں کو بھی وقت دے رہے ہیں،ان کا ایک ترجمہ پاپیلاں میں کئی برس قبل پڑھ چکا تھا،سجاد ظہیر نے والٹیر کے ناول کاندید کا ترجمہ کیا تھا، اس ترجمے کا تخلیقی بہاؤ میں آج تک فراموش نہیں کر سکا، یہی حال ظ انصاری کے ترجموں کا ہے، کچھ نایاب ترجمے قرۃالعین حیدر نے بھی کیے، ترجمہ نگاری ایک مشکل فن ہے، یعقوب یاور مبارکباد کے مستحق ہیں کہ وہ ہماری زبان کو قابلِ قدر ترجموں کے ذریعے سیراب کر رہے ہیں ـ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں