82

یا خوف سے درگزریں یا جاں سے گزر جائیں!

ایم ودود ساجد

’معیشت‘ ممبئی کے صحافی دانش ریاض نے گزشتہ 15جولائی کو لکھا کہ…… ’’ممبئی کی لوکل ٹرین میں پہلی بار شدت سے احساس ہوا کہ حالات بہت خراب ہیں ۔ اگر آپ لڑائی کے موڈ میں نہ ہوں تو بھی آپ کو اکسایا جائے گا ۔…. ‘‘
میں نے اس پر لکھا کہ آپ کا احساس درست ہے ۔ یہ ممبئی تک ہی محدود نہیں یہاں دہلی میں بھی یہی حال ہے ۔ ٹرین چھوڑئے اپنی کار کے اندر بھی خوف محسوس ہوتا ہے ۔
گزشتہ شب (18جولائی کو) میرے ایک دوست صحافی کے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا:۔۔۔۔۔ وہ ایک چوراہے پر ریڈ لائٹ کے سبب رُکے ہوئے تھے ۔ موسم میں کچھ ہلکی سی تبدیلی کے باعث انہوں نے اپنی کار کی کھڑکیوں کے شیشے کھول رکھے تھے ۔ ان کے دائیں طرف ایک آٹو رکشہ آکر رُکا ۔ آٹو والے نے پہلے تو دیکھ کر بُرا سامنہ بنایا اور پھر سگریٹ سلگا کر ایک بڑا سا کش لیا اور پوری طاقت کے ساتھ دھنواں عمداً کار کی اس ونڈو کی طرف چھوڑا جس کا شیشہ کھلا تھا اور جہاں ڈرائیور سیٹ ہوتی ہے ۔
میرے دوست بتاتے ہیں کہ انہوں نے گھٹن اور ناگواری محسوس کی اور اس سے صرف اتنا کہا کہ بھائی یہ کیا کر رہے ہو ۔ اتنا کہنا تھا کہ آٹو ڈرائیورطیش میں آگیا ۔ اس کا جملہ ملاحظہ کیجئے: چڑھالے شیشے ۔ یہ جملہ اس نے انتہائی تلخ’ بھدے اور مکروہ لہجے میں ادا کیا ۔ صحافی دوست نے بتایا کہ غصہ تو بہت آیا اور جی میں آیا کہ 100نمبر پر کال کروں لیکن پھر کچھ سوچ کر خاموش ہوگیا ۔
گزشتہ 17جون کو میرے ایک دوسرے صحافی دوست کے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا ۔ وہ پابندِ صوم وصلوۃ اور دیانتدار انسان ہیں ـ وہ پاکستان سے نقل مکانی کرکے آنے والے متعصب قسم کے ہندؤوں کی ایک Posh کالونی میں رہتے ہیں ۔ وزیر اعظم کا سرکاری مکان اس کالو نی سے محض دو کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے ۔ فی الواقع یہ کالونی وقف کی زمین پر آباد ہے ۔
تو ہوا یوں کہ 17جون کو شب کے 11بجے یہ سینئرصحافی اپنی کار چلاتے ہوئے گھر واپس آرہے تھے ۔ وہ عموماً بہت احتیاط سے گاڑی چلاتے ہیں ۔ اچانک دائیں طرف سے ان کے سامنے ایک اسکوٹر سوار آگیا ۔ صحافی نے گاڑی کی رفتار پہلے ہی ہلکی کر رکھی تھی ۔ لہذا معمولی سے بریک لگاکرکار کو محفوظ فاصلہ پر روک دیا ۔ لیکن اسکوٹر سوار نے انہیں یہ کہہ کر گالیاں دینی شروع کردیں کہ شراب پی کر گاڑی چلاتا ہے ۔ ۔۔۔۔۔اس پر صحافی کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا سانس نیچے رہ گیا ۔ کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ کیا کہے اور کیا کرے ۔
دیکھتے ہی دیکھتے ایک ہجوم ہوگیا ۔ ہر شخص بلا تحقیق یہی شور مچانے لگا کہ شراب پی کر گاڑی چلا رہا ہے ۔ اتنی دیر میں ایک شخص’ جسم میں موجود الکحل کی مقدار کا پتہ لگانے والا آلہ بھی لے آیا ۔ صحافی کے منہ میں یہ آلہ لگایا گیا اور ڈکلیر کردیا گیا کہ ہاں شراب پی رکھی ہے ۔ صحافی نے بتایا کہ مجھے سو فیصد یقین ہوگیا کہ یہ لوگ مجھے Moblynching کے ذریعہ جان سے مارڈالیں گے ۔ اتنے میں اچانک ایک گاڑی آکر رکی اور اس میں پیچھے کی سیٹ پر بیٹھے ہوئے ایک شخص نے ایک انگلی منہ تک لے جاکر اشارہ سے لوگوں کو منع کیا اور چلا گیا ۔ اچانک لوگوں کا رویہ بدل گیا اور کہنے لگے کہ چلو جب معافی مانگ لی ہے تو چھوڑ دو‘ کوئی نقصان تو ہوا نہیں ۔
آپ نے دیکھاکہ تین واقعات صحافیوں کے ساتھ ہوئے ہیں ۔ معیشت کے صحافی دانش ریاض کے ساتھ بھی یقیناً کچھ اسی سے ملتا جلتا ہوا ہوگا ۔ گو کہ انہوں نے تفصیل نہیں لکھی ہے ۔ لیکن ان کی دوسطری تحریر سے اندازہ ہوتا ہے کہ کچھ زیادہ ہی اشتعال انگیز صورتحال نمودار ہوگئی تھی ۔۔۔۔ موخرالذکر صحافی اس قدر سہمے ہوئے ہیں کہ انہوں نے اس واقعہ کا ذکر اپنے بچوں تک سے نہیں کیا ہے’ پولس میں تو کیا رپورٹ کریں گے۔
جو لوگ پبلک ٹرانسپورٹ سے سفر کرتے ہیں ان کے لئے تو بہ حفاظت مسافت طے کرنا ہر روز مرکر جینے جیسا ہے ۔ میں بھی دہلی میں اپنی گاڑی خود چلاتا ہوں ۔ لیکن میں ہمیشہ’ ہر موسم میں کھڑکی کے شیشے بند رکھتا ہوں ۔ ریڈ لائٹ پر رکنے کے دوران تو شیشے بالکل گرے ہوئے نہیں ہونے چاہئیں ۔
میں دہلی میں 32سال سے مقیم ہوں ۔ میں نے پیدل چلنے کے علاوہ رکشہ‘ آٹو‘ ٹیکسی‘ بس اور اسی طرح کے دوسرے تمام ذرائع نقل وحمل خوب استعمال کئے ہیں ۔ لیکن کبھی اتنا خوف محسوس نہیں ہوا جتنا اب اپنی محفوظ سواری کے باوجود ہوتا ہے ۔ جب سے ڈرائیور نے رخصت لی ہے اور گاڑی خود چلانی شروع کی ہے اس وقت سے اب تک کوئی 70ہزار کلو میٹر گاڑی چلاچکا ہوں ۔ لیکن میں بھی اتنا ہی خوف محسوس کر رہا ہوں جتنا دانش ریاض کو ممبئی کی لوکل ٹرین میں سفر کرنے کے دوران محسوس ہوا ۔
اس پوسٹ کے آخر میں آپ ایک تصویر دیکھیں گے ۔ یہ آسام کے سیلاب زدہ موری گاؤں کی 50 سالہ رینا بیگم اور اس کی نوعمر بیٹی کی ہے ۔ اس تصویر میں صاف نظر آرہا ہے کہ گھر میں پانی خطرناک حد تک گھس گیا ہے ۔ بیٹھنے تک کی جگہ نہیں ہے ۔ دونوں تقریباً آدھی آدھی ڈوبی کھڑی ہیں ۔ لیکن NRC کے خوف کے سبب یہ دونوں محفوظ مقام پر جانے کے لئے اپنا یہ سیلاب زدہ گھر چھوڑ نے کو تیار نہیں ہیں ۔ آخر یہ کیسا خوف ہے کہ جس کے آگے بھیانک سیلاب کا خوف پھیکا پڑ گیا ہے ۔ انڈین ایکسپریس اخبار نے اس طرح کے دوسرے بہت سے خوف زدہ گھرانوں کی رپورٹ بڑی تفصیل کے ساتھ دی ہے ۔
خوف نے کسی بھی فرد اور کسی بھی ادارہ کو بخشا نہیں ہے ۔ یہاں تک کہ انصاف گاہیں بھی اس خوف سے محفوظ نہیں رہ گئی ہیں ۔ جھارکھنڈ میں ایک غیر مسلم لڑکی نے اسلام اور قرآن کی شان میں گستاخی آمیز پوسٹ جاری کیا ۔ ایک دینی ادارہ کی شکایت پر اس کے خلاف مقدمہ ہوا ۔گرفتاری ہوئی۔۔۔مقامی عدالت نے اس کی سرزنش کی ۔ اسے ضمانت اس شرط پر دی کہ وہ پانچ دینی اداروں میں قرآن کے نسخے ہدیہ کرے ۔ لیکن شرپسندوں نے وہ شور مچایا کہ عدالت کو اپنی یہ شرط واپس لینی پڑی ۔
۔۔۔۔ اور خوف کی حدود تو اس وقت ٹوٹ گئیں جب سپریم کورٹ نے کرناٹک کے غیر مطمئن ممبران اسمبلی کے قضیہ میں وہ فیصلہ بھی دیدیا جس کی استدعا کی ہی نہیں گئی تھی ۔ کم سے کم وہ پارٹی تو اس کے سامنے فریق تھی ہی نہیں جس کے خلاف فیصلہ دیدیا گیا۔ کرناٹک کے ناٹک سے جو لوگ واقف ہیں انہیں اندازہ ہوگا کہ یہ فیصلہ کتنا محیرالعقول ہے ۔
کانگریس اور جنتا دل (یو) کے جن 15ممبران اسمبلی نے استعفی دیا ہے عدالت نے حکم دیا ہے کہ انہیں تحریک اعتماد کی بحث میں حصہ لینے کے لئے مجبور نہ کیا جائے ۔ نلسار لا یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر فیضان مصطفی حیرت زدہ ہیں کہ سپریم کورٹ نے یہ کیسا حکم صادر کیا ہے ۔ اس حکم سے بظاہر سیاسی پارٹیوں میں کھلے طور پرتوڑ پھوڑ مچانے والی بی جے پی کے سوا اور کسی کو فائدہ نہیں ہوگا ۔
اس خوف سے ملک کی جمہوری اقدار کا سب سے بڑا گہوارہ بھی محفوظ نہیں رہا۔۔۔۔ کیا آپ نے لوک سبھا کی وہ کارروائی دیکھی ہے جس میں NIA کو مزید اختیارات دینے کے بل پر بحث کے دوران وزیر داخلہ امت شاہ نے مجلس اتحاد المسلمین AIMMIM کے صدر اسدالدین اویسی کو بالواسطہ دھمکی دیدی تھی۔۔۔؟ امت شاہ نے باقاعدہ انگلی اٹھاکر’ غصہ وہیجان بلکہ خلجان کے عالم میں ان سے کہا تھا کہ سننے کی عادت ڈالو’ اب یہ نہیں چلے گا۔۔۔۔ ڈرانے کے اس انداز کو خود اویسی صاحب نے بھی محسوس کیا اور پلٹ کر کہا کہ ہمیں انگلی اٹھاکر ڈرانے کی کوشش مت کرنا۔۔۔۔ امت شاہ کو اس پر صبر نہیں آیا۔۔۔ انہوں نے پھر کہا کہ جن لوگوں کے دلوں میں پہلے ہی ڈر بیٹھا ہوا ہے انہیں کیا ڈرانا!
میں پہلی بار خود کو اتنا بے بس محسوس کر رہا ہوں ۔۔۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کن الفاظ اور کن جملوں پر ان سطور کا اختتام کروں ۔۔۔۔ سوچ رہا ہوں کہ ہم جیسے سادہ دل عوام کی طرح کیا ہمارے قائدین بھی یہ خوف محسوس کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں