38

یادوں کے چراغ

(میرے بچپن کی دیوالی )

نثار احمد

کارتک مہینے کے آخری سوموارکو بسنت پور گاؤں کے باہر بڑے سے پوکھر کے کنارے جھنڈے کا میلہ لگتا تھا آسمان چھوتے جھنڈے لوگوں کی توجہ کا مرکز ہوتے تھے، بشیر چاچا اسے اپنے ہاتھوں سے سجاتے تھے دیوالی کی شام اس میلے کی رونق کو دوبالا کیے دیتی تھی
اس میلے میں طرح طرح کے کھیل دکھائے جاتے ،سپیڑا بین کی دھن پر ناگن نچاتا، ناگن کے منموہک ڈانس کو دیکھ کر کون کہہ سکتا تھا اس کے اندر جان لیوا زہر بھرا ہوا ہے، آسمانی جھولے پر جھولنا کسی چیلنج سے کم نہیں ہوتا تھا، بندر کا کھیل تو ہم سب کا پسندیدہ ہوتا تھا پڑوسی گاؤں کے پرمانند پور کے بدھوا کا شو بچوں کو خوب بھاتا تھا بانسری کی آواز من موہ لیتی تھی،اماں کی پیٹی سے چرا کر نکالے گئے آٹھ آنے کے دو سکے اس کی خرید کے لیے کافی نہیں ہوتے تھے آخرکارسنیل حامد اور میں مل جل کر اپنی کل جمع پونجی سے کسی طرح ایک بانسری خرید لیتے،تین تگاڑا کام بگاڑا، انجام کاراس بانسری کے تین ٹکڑے ہو جاتے کھیل ختم پیسہ ہضم ـ
آخر کار میلا گھومتے گھومتے شام ہو جاتی دیوالی کے اس شام پوکھر کے منڈیر سے ہمارا بسنت پور گاؤں خوب جگمگاتا ہوا معلوم ہوتا تھا، ایسا معلوم پڑتا تھا تھا جیسے جگنو جھلملا رہے ہوں، ہمارا پہلا شکار ہری کاکا کا گھر ہوتا، بیچارے بوڑھے بابا اپنی دہلیز کو مٹی کے دیوں سے سجاتے تھے اور بڑے خوش ہوتے،تیتری کاکی بھی اپنے دوارے کو دیوں سے سجاتی تھی، ادھر انہوں نے ذرا سی اندیکھی کی ،ادھر ہم نے قلیہ پر جھپٹا مارا اور رفوچکر ہوئے ،ایک بار تو مدن کاکا نے ہمیں دیا چراتے دیکھ لیا ہم پر چڑھ دوڑے، پر ہم کہاں ہاتھ آنے والے تھے پلک جھپکتے ہی نو دوگیارہ ،کلکی چاچی کے آنگن میں جیسے ہی ہم شب خون مارنے کی کوشش کرتے وہ فورا ہی دو ہتی چلا دیتی جان کی امان،ایسی پھرتی تو ہم زندگی میں نہیں دکھاتے تھے، نگوری مارے،کلمہے،رک تجھے چھٹی کا دودھ ياد کراتی ہوں،‏ دئے چراتا ہے؟کل تیرے باپ سے سے تیری حجامت بنواتی ہوں،دور تک کلکی چاچی کی آواز ہمارا پیچھا کرتی رہتی ادھر کل کی بڑھیا کی جان چھوٹی ادھر گوری شاہ حلوائی کی شامت آئی ، بیچارے گوری چاچا آج تک کیوں اپنے لئے پختہ مکان نہیں بنوا پائے اس کے ذمہ دار ہم لوگ ہی تھے،بے چارے کی اتنی مٹھائی ہم چوری کر لیتے تھے جسے بیچ کر وہ مکان کی نیو رکھ سکتے تھے لیکن ہم نے بھی قسم کھا رکھی تھی کہ چاچا اگر پھونس کے مکان سے چھت تک پہنچ جائیں تو ہم پر من بھر کے لعنت ہے انجام کار یار یہاں سے مٹھائی اڑائی اور نکل پڑے اگلے شکار کی تلاش میں، نصف پہر تک سب کے گھر اندھیرا چھا جاتا تھا سارے دیے ہماری جھولی میں ہوتے تھے ،وہی کچھ دئے جگمگا رہے ہوتے جو اونچی چھت پر پر ہماری پہنچ سے دور ہوتے تھے ـ
منجھن کاکا دیوالی کی شام سے ہی ہم پر نظریں گاڑ کر رکھتے تھے پھر بھی انکی رنگولی دو گھنٹے سے زیادہ سلامت نہیں رہ سکتی تھی، چکمہ دینے میں تو ہم ید طولی رکھتے تھے ،ہماری دیوالی اس وقت تک نامکمل رہتی تھی جب تک سبن چاچا کی چارپائی کے نیچے ہم بیڑی پٹاخا نہ داغ دیں،پٹاخے کی آواز سے سبن چاچا چارپائی پر پہلے دو گھرمڑیا کھاتے تھے پھر اپنے پوپلے منہ سے کچھ نا زیبا الفاظ ہمیں گوش گزار کرتے،جب تک ان کا ہاتھ لٹھ کی طرف بڑھتا ہم سرپٹ باہر کی اور دوڑ لگا دیتے،اگلے موڑ پر جمن چاچا اپنی چار پائی پر آرام کرتے ہوئے دکھ جاتے،کچھ ہی لمحے میں انکی چارپائی مچھر دانی سمیت کوڑے دان کے پاس پائی جاتی،اور اس نیک کام کا سہرا بھی ہمارے ہی سر جاتا تھا،رفو میاں کو ہم سے بلا کا بیر تھا،بھا دو کے مہینے میں ہم نے میاں کی پھلواڑی سے دو چار امرود کیا چرا لیے انہوں نے ہمارا جینا ہی اجیرن کر دیا،سو اس رات وہ ہماری بلا سے کہاں محفوظ ره سکتے تھے؟ایک بڑی سی پولوتھین میں گوبر کالی مٹی اور کوئلے کا گھول بنا کر سوتے ہوئے رفو پر دھپاک سے دے مار تے، جوابی کارروائی میں میاں رفو کی آواز پٹاخے کے اس شور شرابے میں بھی آسمان کے پردوں میں چھید کر دیتی،رفو پر گوبر کا حملہ ہماری مہم کا سب سے خطرناک حصہ ہوتا تھا،اگر پکڑے گئے گئے تو چھٹی کا دودھ بکروا دیتے ،مگر اس کام میں رامو کو مہارت حاصل تھی، حامد گوبر کالیپ تیار کرتا تھا میں ہراول دستے کی طرح ماحول کا جائزہ لیتا ہوا آگے بڑھتا،چنوں ہمارا سنتری تھا،جس کی عقابی نظریں چاروں سمت کا احاطہ کئے رہتی تھیں، اور اس طرح ہماری گینگ بڑے احتیاط سے سارے مہم کو انجام دیتا ہوا آگے بڑھ جاتاـ
سب سے آخر میں شمو کا مکان تھا،مکان کیا تھا ایک کٹیا تھی جس میں وہ اکیلا رہتا تھا شموں کو بھی ہم سے بلا کی چڑھ تھی، بڑی ناسپاسی ہوتی اگراس مبارک رات میں ہم شموں کو آرام سے سونے دیتے،ہم نے سن رکھا تھا کہ شموں کو بھوت پریت اور آتماؤں سے بہت ڈر لگتا ہے،رات کے آخری پہر جب ہر طرف سناٹا چھا جاتا ہم بھوت کی صورت بنا کرشموں کو ڈراتے عجیب و غریب آوازیں نکالتے،بیچارا شمو اور زیادہ سبدی مار دیتا ، صبح صبح ندی کے کنارے وہ اپنی گندی دھوتی دھو رہاہوتا،دھرم پال کاکا کو ہم ان کے چھوٹے سے کمرے میں بند کر تالا جڑ دیتے،وہ بیچارے بھی صبح صبح ندی کنارے شمو کے ساتھ دھوتی کھنگال رہے ہوتےـ
اس طرح رات بھر ادھم مچاتا ہوا ہمارا قافلہ گاؤں کے دوسرے کنارے پر پر پیپل کے پیڑ کے پاس جا پہنچتا یہ ہمارے گاؤں کی آخری حد تھی ہم آپس میں قلیوں کو گنتے،جس نے سب سے زیادہ چرائے ہوتے وہ فاتح قرار پاتا،اور ہم اچھلتے کودتے اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ،دن چڑھے ہمیں ملعون اور مطعون کہا جاتا، ہم پر ٹوکری بھر کے لعنت بھیجے جاتے اور ہم من ہی من مسکرا رہے ہوتے تھےـ
آج اپنے گاؤں سے ہزاروں میل دور اپنے گاؤں کی دیوالی کو یاد کر رہا ہوں من بہت اداس ہے،رامو حامد اور چنوں کی بہت یاد آرہی ہے، کمرے کے باہر پورے شہر میں روشنی ہے پر وہ دیے نہیں دکھائی دے رہے ہیں جو میرے گاؤں میں جلتے تھے،شہر میں ہزاروں لوگ ہیں پر ان میں ہری کاکا تیتری کاکی کلکی بڑھیا گوری شاہ حلوائی جمن سبن اور جٹھو نہیں ہیں،شاید میرا گاؤں بھی آج جگمگا رہا ہوگا ہمارے بعد کی نسلوں نے ہماری مہم کو سنبھال لیا ہوگا، آج بھی ہری کاکا کے دیئے کچھ حامد اور رامو نے چرائے ہوں گے،آج بھی گوری شاہ حلوائی کی مٹھائی چوری ہوئی ہوگی،سبن چاچا کی چار پائی کوڑے کے ڈھیر پر رکھ دی گئی ہوگی،رفو میاں پر گوبر کا حملا ہو گیا ہوگا،شمو اور جٹھو پھر سے دھوتی دھونے کے لیے ندی پر نکل جائینگے _
نہیں نہیں یہ سب وہم ہے،برس بیت گئے،پتہ نہیں یے لوگ کہاں ہیں؟ کس حال میں ہیں؟ سنا ہے دیوالی پر میرے گاؤں میں اب لائٹ چمچماتے ہیں،لوگوں نے اپنے آنگن کی دیواریں اونچی کر لی ہیں،رامو حامد چنّو اور سنيل روزگار کی تلاش میں شہر چلے گئے،بڑے پوکھر کے منڈھیر پر اب میلا نہیں لگتا، وہاں اب ٹھیٹر کی عمارت کھڑی ہے،بشیر چاچا اب جھنڈا نہیں بناتے، کمہاروں نے دیا بنانا چھوڑ دیا،سانپ بندر اور بھالو کا کھیل دکھانے والے اب بسنت پور کا رخ نہیں کرتے،لوگ سنہری لکڑی کے باجے کی جگہ لوگ اب گٹار بجاتے ہیں،جواں سال صدرو شہر میں رکشا چلاتا ہے،گاؤں آتا جاتا رہتا ہے،کہتا ہے اپنا گاؤں خوب ترقّی کر گیا ہے،صدیوں پرانا بسنت پور اب بسنت نگر ہو گیا ہےـ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں