110

ہندی راجہ مہروگ بن رائیگ کاترجمۂ قرآن: تحقیقی جائزہ


مہتاب عالم
ترجمان بنگال اردو جرنلسٹ ویلفیئر ایسو سی ایشن
موبائل:9331943470
ترجمہ و تفسیری روایت کی تاریخ:مفسر قر آن حکیم محمد زماں حسینی نے عجمی (ایرانیوں)کی قرآن فہمی کے متعلق خصوصی جذبے اورتحقیق و جستجو اور اس کی اشاعت و رغبت کو ظاہر کیا ہے۔ ”تعلیمات قرآنی“کے نام سے انہوں نے ایک مضمون قلمبند کیا تھا۔ان کی زندگی،تاثرات اور مقالات پر مبنی ان کی دخترڈاکٹرخالدہ حسینی اور ان کے داماد ڈاکٹر محمد افتخار احمدنے”شیریں بیاں مفسر قرآں:مولانا حکیم محمد زماں حسینی“کے نام سے ترتیب دیا ہے جس کے صفحہ نمبر363 پر مولانا نے دو مثالیں دی ہیں۔
(اول)آنحضرت ﷺ باحیات ہیں کہ فارسیوں کی ایک درخواست حضرت سلمان فارسی کی خدمت میں پہنچتی ہے کہ آپ سورۃ فاتحہ کا فارسی ترجمہ لکھ بھیجئے،تاکہ اپنی نمازوں میں ہم اس کی تلاوت کر لیا کریں تاآنکہ قرآنی تلفظ آسان ہو جائے چنانچہ آپ نے فارسی زبان میں ترجمہ کر کے آنحضرت ﷺکی خدمت میں بغرض ملاحظہ پیش کر کے اہل فارس کو ارسال کر دیا،صاحب نہایہ نے شرح ہدایہ میں صفت صلوٰۃ کی بحث میں اس واقعہ کو نقل کیا ہے“۔
(دوئم)270ہجری میں ”الرا“(واقع سندھ)کے راجہ مہروگ نے منصورہ(واقع سندھ)کے امیر عبد اللہ ابن عمر کو لکھ بھیجا کہ کسی ایسے شخص کو ہمارے پاس بھیج دیجئے جو ہندی میں ہمیں قرآن مجید سمجھا سکے، انہوں نے ایک عراقی مسلمان کو جس کی پرورش ہند میں ہوئی تھی،اور وہ مختلف ہندستانی زبانوں پر عبور رکھتا تھا،اس کو بھیج دیا،راجہ کی خواہش سے ہندی میں اس نے تین سال میں قرآن حکیم کا ترجمہ کیا، راجہ روزانہ ترجمہ سنتا تھا اور اس سے بے حد متاثر ہوتا تھا۔ (عرب و ہند کے تعلقات صفحہ241،بحوالہ عجائب الہند صفحہ 4)
تراجم و تفسیر کی تاریخ:مولانا حاجی حافظ قاری فہیم الدین احمد صدیقی کا آسان ترجمہ”قرآن المبین“ کے آخرمیں تراجم قرآن کریم کا مختصر تاریخی جائزہ میں کاتب علی احمد کے مطابق مغربی ممالک میں سب سے پہلا ترجمہ فرانس کے ایک راہب پطرس (رابرٹ کیوٹن)نے تقریباً 1142-43ء میں لاطینی زبان میں کیا۔لیکن ترجمہ کو کھلم کھلا چھاپنے کی جرأت کسی کو نہ ہو سکی۔یہ ترجمہ تقریباً چارسو برس تک ایک خانقاہ میں پڑا رہا۔1543میں یہ ترجمہ تھیوڈور بیلی انڈر نے باصل سے شائع کیا۔اس کے بعد قرآن کریم کے تراجم اطالوی،ڈچ،اور جرمنی تین زبانوں میں شائع ہوئے۔انگریزی زبان کا سب سے پہلا ترجمہ الیکزنڈر راؤس نے 1648-49میں چھاپاجو 1688میں بالکل ناپید ہو گیا۔اس کے بعد دوسرا ترجمہ جارج سیل نے کیا جو 1724سے اب تک مسلسل شائع ہو رہا ہے۔فارسی زبان کا سب سے پہلا ترجمہ شیخ سعدی شیرازی نے 691ہجری میں کیا۔روسی زبان کا سب سے پہلا ترجمہ 1776میں سینٹ پیٹرز برگ میں چھپا۔ ہندستان میں پہلا فارسی ترجمہ شاہ ولی اللہ نے فتح الرحمان کے نام سے 1150یا1151ہجری میں کیا۔
ہندی زبان(سندھی) میں سب سے پہلا ترجمہ 270ہجری بمطابق 882میں ہواجو کشمیر اور پنجاب کے ایک ہندو راجہ مہروگ نے والیئ منصورہ (سندھ) عبد اللہ بن عمر کے ذریعہ مطالعہ قرآن کے بعد اپنی نگرانی میں کرایا۔اور پھر اسلام بھی قبول کر لیا۔ہندستان میں فارسی زبان میں پہلاترجمہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے کیا۔ بشریٰ نوشین،سنٹرل پنجاب یونیورسٹی، لاہور نے اپنے مقالہ ”اردو زبان میں ترجمہ قرآن کے ادوار“ کے مطابق اردو زبان کاسب سے پہلا لفظی ترجمہ شاہ ولی اللہ کے بیٹے شاہ رفیع الدین محدث دہلوی نے 1788میں مکمل کیا۔جس کی پہلی جلدپچاس سال بعد اور آج سے 185سال قبل 1254ہجری بمطابق 1838ء میں کلکتہ کے اسلام پریس سے شائع ہوئی جبکہ دوسری جلد1256 ہجری بمطابق 1840میں چھپی۔ بشریٰ نوشین اور رضا اللہ عبد الکریم کے مطابق اس کے بعدشاہ ولی اللہ کے دوسرے بیٹے شاہ عبد القادر محدث دہلوی نے 1790ء بمطابق 1205ہجری میں اردو زبان کا دوسرا بامحاورہ تر جمہ کیا۔ جو 1245ہجری بمطابق1829ء میں مطبع احمد میں طبع ہوا۔
’اردو صحافت اور مذہب‘کے عنوان سے اپنے مضمون میں حیدر آباد کے ہفتہ واراخبار ’گواہ‘ کے ایڈیٹر ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویزکے مطابق ”مولانا سید احمد ومیض ندوی استاد دارلعلوم حیدر آباد نے ’کنز الایمان ایک تحقیقی جائزہ کے زیر عنوان اپنے تحقیقاتی مضمون میں لکھا ہے کہ اردو زبان مین تراجم و تفسیر کا آغازسولھویں صدی عیسوی کی آخری دہائی میں ہوا ہے۔ قرآن مجید کا پہلا ترجمہ چار سو برس پہلے ہندستانی زبان باکھا میں کیا گیا۔ بارہویں صدی ہجری کے اواخر میں باقاعدہ تفسیر نگاری کی بنیاد پڑی۔ شاہ مراد اللہ انصاری کی پارہ عم کی’تفسیر مرادی‘منظر عام پر آئی۔جس کے بیس سال بعد 1790 (228 سال قبل) شاہ عبد القادر محدث دہلوی ابن شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا ترجمہ و حواشی موضح القرآن وجود میں آیا۔ (علمائے ہند کی اہم قرآنی خدمات صفحہ 280)۔
پہلا مترجم قرآن صحابی رسول سلمان فارسی: حکیم مولانا زماں حسینی کی تحریر کردہ مضمون ”تعلیمات قرآنی“کے مطابق رسول اکرم کے زمانے میں اپنی قوم (ایرانیوں)کیلئے فارسی زبان میں سورۃ فاتحہ (الحمد) کا ترجمہ حضور اکرم کے ملاحظہ کے بعد ارسال کیا تھا۔جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا میں وہ پہلے مترجم قرآن تھے۔مگر رسول اکرم کے وصال کے بعد بھی تقریباً 20یا پچیس سال تک باحیات رہے اور 35یا36ہجری بمطابق 655-56 عیسوی میں انتقال کیا تو کیا اہل فارس کیلئے مزید ترجمہ کی ضرورت نہیں پڑی تھی یا سلمان فارسی نے مزید ترجمہ کیا ہے جس کی تشنگی باقی رہتی ہے۔کیونکہ بقول حکیم محمدزماں حسینی ؒ کتاب کے صفحہ نمبر365پر رقمطراز ہیں کہ ”حق یہ ہے کہ علاقہ عجم نے بارگاہ خدا اور رسول میں اپنی آنکھوں اور دل کو بچھا دیا اور قرآن کریم کو ایسا سینوں سے لگایا کہ تصور و خیال سے بالا تر ہے۔قرآکریم کی نشر و اشاعت،متن قرآنی کی حفاظت و صیانت کی خاطر درجنوں علوم کی ایجاد یں انھیں لوگوں نے کیں۔ان میں ہزاروں اولیا ء کرام،محدثین عظام، مفسرین بے مثال،متکلمین اور مجددین پیدا ہوئے۔صرف”کتاب الفہرست“لا بن ندیم اور ”التقتان فی علوم القرآن“ اور بغیتہ الوعاۃ“للسیوطی پر سر سری نظر ڈالنا شہادت کیلئے کافی ہے۔علامہ ابن خلدون نے حیرت زدہ ہو کر نہایت والہانہ طریقہ پر اس کا اعلان و اعتراف کیا ہے“۔
ایک متضاد تحریر کی وضاحت: مولانا نے کتاب کے صفحہ 367کے آخری جملہ میں لکھتے ہیں کہ ”فارس،افغانستان اور ہندستان میں قرآن عزیز کے معانی و مطالب سے واقفیت کا ذریعہ چوتھی صدی ہجری تک عموماً کتب تفسیر ہی رہی ہیں۔مستقل پورے ترجمہ قرآن کا سراغ نہیں ملتا۔لوگ ان ہی تفسیروں سے اپنی ضرورتیں پوری کرتے تھے۔عام طور پر ان صدیوں میں لوگ عربی سے واقفیت رکھتے تھے۔اسلئے کوئی دقت بھی نہیں ہوتی تھی مگراس کے بعد مستقل طور پر فارسی زبان میں ترجموں کا پتہ چلتا ہے“۔
مولانا کی تحریر سے یہ وضاحت ہوتی ہے کہ عربی میں تفسیریں موجود تھیں مگر چوتھی صدی ہجری تک کوئی ترجمہ کا سراغ نہیں ملتا ہے جبکہ مولانا نے خود اسی کتاب کے صفحہ 364پر لکھا ہے جس کے مطابق 270ہجری میں ”الرا“ (واقع سندھ)کے راجہ مہروگ نے تین سال کی مدت میں ایک عراقی مسلمان سے ہندی زبان میں ترجمہ کرایاجسے وہ روزانہ سنتا تھا۔مولانا کی دونوں تحریریں تضاد پیداکرتی ہیں اور ذہنی کشمکش میں مبتلا کرتی ہیں۔جبکہ آخر میں خود ہی لکھتے ہیں کہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ روداد کس قدر دل چسپ ہے کہ حقائق قرآنی کی طلب و جستجو کی پیاس ایک غیر مسلم میں پیدا ہوتی ہے اور اس کی سیرابی کا انتظام پورے اہتمام سے امیر حکومت انجام دیتا ہے۔
(7)الرا اور منصورہ دونوں واقع سند ھ:مولانا موصوف نے الرا اور منصورہ دونوں کو واقع سندھ لکھا ہے جس سے بات گنجلک ہو گئی ہے۔’الرا‘نام یہ ظاہر کر رہا ہے کہ یہ نام عربی نما ہے۔جسے مسلمانوں نے رکھا یا آباد کیا ہے جہاں ایک غیر مسلم حکمراں کا ہونا عقل سے بعید ہے۔ بصورت دیگر وہ ہندستانی زبان میں پہلے سے ’را‘ ہوگا جسے عربی ترجمہ کرتے وقت ’الرا‘ لکھا گیا ہو جہاں سے مولانا نے نقل کیا ہے۔ویسے یہ مولانا کی چوک نہیں کہلائے گی کیونکہ مولانا ایک عالم دین،محدث و مفسر اور حکیم ہیں۔ممکن ہے انہیں جغرافیہ اور تاریخ کی طرف شغف نہ رہا ہوگا۔دوسری جانب مولانا حاجی حافظ قاری فہیم الدین احمد صدیقی کا ترجمہ ”القرآن المبین‘‘ کے خاتمہ پر یعنی بالکل آخری صفحہ پر بڑی باریک کتابت میں کاتب علی احمد نے بعنوان ”تراجم قرآن کریم کا مختصر تاریخی جائزہ“میں لکھا ہے کہ ہندی زبان میں سب سے پہلا ترجمہ 882ء میں ہواجو کشمیر اور پنجاب کے ایک ہندو راجہ ”مہروگ“نے والی ئ منصورہ (سندھ)عبد اللہ بن عمر کے ذریعہ مطالعہ قرآن کے بعد اپنی نگرانی میں کرایااور پھر اسلام قبول کر لیا“۔ کاتب کی نشاندہی کے مطابق راجہ مہروگ پنجاب و کشمیر کا راجہ تھا اور منصورہ (سندھ) کا والی عبد اللہ بن عمر تھے۔کیونکہ سندھ 712ء میں محمد بن قاسم کے ہاتھوں اموی حکومت میں فتح ہوا۔جبکہ 882کا زمانہ عباسی خلافت کا ہے۔لہٰذا اس کی بھی تحقیق لازمی ہے اور ثابت ہوتا ہے کہ 270ہجری بمطابق 882ء میں دنیا کا پہلا ترجمہ پنجاب و کشمیر کا ہندی راجہ مہروگ نے کروایاجو کہ پہلا ترجمہ قرآن ہو سکتا ہے۔ہاں! البتہ ایرانیوں کے پاس اگراس کے قبل فارسی میں ترجمہ موجودنہیں ہونے کا ذکر ملتا ہے تو یہ ہندستان کیلئے سند امتیاز ہے۔کیونکہ مولانا کی تحریر کے مطابق ایرانیوں کے متعلق قرآنی تراجم کی تحقیق اہل تشیع کے بغیر نا مکمل ثابت ہو گی۔انصاف کا تقاضہ ہے کہ اس سلسلے میں شعیہ عالم دین اور اسکالر و محققین سے رجوع کر کے اس کی سند حاصل کی جائے تاکہ تراجم کی تحقیق پایہ ثبوت کو پہنچے۔
منصورہ کی سند ھ میں ہونے کی تحقیقی وضاحت:ہم شہری ویب سائٹ کے مطابق منصورہ سندھ میں قدیم عرب بادشاہت المنصورہ کا دار الحکومت اور اس کے گیارہ بنیادی شہروں میں سے ایک تھا۔ 734عیسوی میں محمد بن قاسم کے بیٹے امر نے اس کی بنیاد رکھی۔ یہ سرگرم تجارتی شہر دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر تعمیر کیا گیا تھا اور دریا کے ایک دوسرے حصے سے ایسے گھِرا ہوا ہے کہ دیکھنے میں ایک جزیرہ معلوم ہوتا تھا۔ منصورہ کے چار دروازے تھے، باب البحر، بابِ توران،بابِ سندان اور بابِ ملتان، ان تجارتی راستوں کی نشاندہی کرتے ہیں جن کے زریعے اس کے پڑوسیوں کے ساتھ تجارت کی جاتی تھی۔ اس قدیم شہر کا موجودہ مقام ابھی بھی علماء کے مابین زیرِ بحث ہے۔ ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ حیدر آباد شہر سے 69 کیلو میٹر کے فاصلے پر ضلع سانگھر میں موجود مقام برہمن آباد ہی منصورہ تھا۔ ایک اور نقطہ نظر یہ ہے کہ موجودہ مقام بھیرو یا بھیمبرہے جو ٹھل ہی دراصل شہرمنصورہ تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں