368

ہندوستانی سیاست اور مسلمان


تمھاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
مسعود جاوید

کیا علامہ اقبال ؒ کی دور اندیشی یا پیش گوئی صحیح ثابت ہوئی؟ کیا ہم اس مصرع کے مصداق ہو چکے یا ابھی اس کے دہانے پر ہیں؟ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ مولانا آزاد؟ مولانا مدنی وغیرہ؟ یا ہم خود؟ جس نظریے کے تحت ہم نے یہاں رکنے کو ترجیح دی تھی ،آزادی کے فوراً بعد کے خاک و خون کے منظر نے ایسی غنودگی پیوست کی کہ ہم اس رکنے کی ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر رہے،ہمارے اس وقت کے بزرگ کچھ تو خود احساسِ کمتری کے شکار ہوئے اور کچھ کو اکثریتی طبقہ کے مخصوص متعصب گروہ نے اذیتناک جملے ’’ تمہیں تمہارا حصہ پاکستان کی شکل میں دے دیا گیا ہے‘‘ اور اس قبیل کے دیگر دلخراش مفروضے ان کے دل و دماغ میں ایسا پیوست کیا کہ سالہا سال تک وہ guilty conscious میں مبتلا رہے؛لیکن بعد کی نسل نے اس الزام کو خارج کیا اور ڈنکے کی چوٹ پر کہنا شروع کیا کہ ملک جتنا تمہارا ہے، اتنا ہی ہمارا ہے،اس کو آزاد کرانے میں ہماری قربانیاں ہیں،پاکستان کا آپشن رہنے کے باوجود ہمارے باپ دادا نے یہاں رہنے کو ترجیح دی تھی اور ہم یہاں پیدا ہوئے ،یہ ملک ہمارا ہے اور جب موت آئے گی، تو ہم یہیں مریں گے اور یہیں کی مٹی میں دفن ہوں گے۔
لیکن یہ بھی ایک تکلیف دہ حقیقت ہے کہ پاکستان بننے کے بعد ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں نے یہاں رہنے کی ضروریات کو پورا نہیں کیا،اس کی کئی وجوہات ہیں،ایک تو یہ کہ بیشتر مسلم اشرافیہ ،مسلم ایلیٹ اور تعلیم یافتہ طبقے کی اکثریت ہجرت کر گئی، اب جو لوگ یہاں رہے ،ان کو اکثریت کے ساتھ سخت مقابلہ tough competition کا سامنا تھا اور اس کے لیے سب سے اہم ضرورت تعلیم کی تھی، جس پر توجہ نہیں دی گئی اور وہ اس معنی میں کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو مسلمانوں کی معراج سمجھ لیا گیا ،اسی پر اکتفا کیا گیا اور اس کی توسیع نہیں کی گئی ،اس کی شاخیں نہیں کھلیں اور پورے ملک میں کوئی مسلم ماڈل اسکول کا جال نہیں بچھایا گیا،47ء کے بعد کی قیادت یعنی 60 اور 70 کی قیادت پانچ ستونوں کو پکڑ کر بیٹھ گئی: 1۔ فرقہ وارانہ فسادات 2۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا اقلیتی کردار3۔ سرکاری ملازمتوں میں تناسب کے حساب سے مسلم نمائندگی 4۔ اردو کو دوسری سرکاری زبان بنانا اور 5۔ وقف۔ جب میں غور کرتا ہوں، تو یہی پاتا ہوں کہ اس وقت کی قیادت نے ساری توانائی حکومت سے مطالبہ کرنے بالفاظ دیگر منشی گیری یعنی پریس ریلیز اور میمورنڈم پیش کرنے میں صرف کی،اپنے حصے کا کام نہیں کیا،اپنے طور پر قوم کے بچوں کی تعلیم کے لیے اسکول ،کالج ،یونیورسٹی، ووکیشنل ٹریننگ سنٹر، مقابلہ جاتی امتحانات کے لیے کوچنگ، پرائیویٹ سیکٹر میں ملازمت کے لیے لیاقت اور ٹریننگ، ناخواندہ طبقہ کو روزگار مہیا کرانے کے لیے باہمی امدادی بینک کا قیام خلیجی ممالک میں کام کرنے والوں کے پیسوں کی صحیح جگہ انویسٹمنٹ کی رہنمائی اور ان کی رقم سے بلا سودی بینک کا قیام،ان تمام میدانوں میں کام کی ضرورت تھی اور آج بھی ہے،نتیجہ یہ ہوا کہ پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں مسلم نمائندگی کم ہوتی چلی گئی، معاشی حالت بد سے بدتر ہو تی رہی اور تعلیمی میدان میں پچھڑتے چلے گئے، اس کے بعد مسلمان خاص طور پر شمالی ہند کی مسلم قیادت اس میں الجھی رہی کہ’’ پہلے مرغی یا پہلے انڈا؟ ‘‘ یعنی مسلمانوں کی معاشی ابتری اس لیے ہے کہ مسلمان تعلیم کے میدان میں پچھڑا ہوا ہییا مسلمان higher education، پروفیشنل اور job orientedتعلیم حاصل کرنے سے محروم اس لیے ہیں کہ ان کے والدین ایسی تعلیم کا خرچ affordنہیں کر سکتے، پروفیشنل اور کیریر بیسڈ تعلیم کا خرچ نہیں اٹھا سکتے،اس کے علاوہ ملی قائدین کی آپسی چپقلش، سیاسی آرزوئیں (ambitions)اور اختلافات نے ان کی کام کرنے اور دور کا سوچنے کی صلاحیتوں کو نچوڑ لیا،وہ زیادہ تر مقتدر سیاسی پارٹی اور اپوزیشن کو اپنی طاقت کا احساس دلانے میں مصروف ہو گئے، جلسے جلوس قورمہ ،بریانی اور آخر میں ایک پریس ریلیز اور ہر اس موضوع پر بیان ،جو صفحۂ اول پر شہ سرخیوں کے ساتھ چھپنے لائق ہو،جنوبی ہند نے خاموشی سے تعلیمی میدان میں grassrootsلیول کی طرف توجہ دی اور مسلمانوں کا وقار بحال کیا، جس کا نتیجہ ہے کہ ایک اہم سیاسی طاقت کی حیثیت سے اپنے کو منوایااور بعض اوقات بادشاہ ساز king makerکا کردار بھی ادا کیا۔
جیسا کہ میں نے پہلے بھی لکھا تھا کہ 2019 آتے آتے مسلمانوں کے بے شمار قائد میدان میں آنے لگیں گے ،جنہوں نے پچھلے پانچ سالوں میں عوام میں کوئی کام نہیں کیا، اپنی کوئی پہچان اور زمینی پکڑ نہیں بنائی، مگر پھر بھی ’’ نیتا جی ‘‘ بن کر جوڑ توڑ کی سیاست کریں گے، آج سیاسی حلقوں میں مسلمانوں کی جو بے وقعتی اور نا قدری ہے، اس کی سب سے بڑی وجہ یہی برساتی مینڈک ہیں۔
1۔ ایک واٹس ایپ گروپ پر خبر ہے کہ مدھیہ پردیش میں اسمبلی سیٹ کل 231؍ ہیں، جن میں سے مسلمانوں کو کل دو 02 ٹکٹ دیے گئے ہیں۔
2۔ مجمود مدنی صاحب کا کہنا ہے کہ’’ وہ کسی کو انڈین مسلم کو پولیٹیکل لیڈر نہیں بننے دیں گے،اویسی صاحب آندھرا اور تلنگانہ تک ہی محدود رہیں،مہاراشٹر میں بھی نہ جائیں‘‘۔
3۔ بدرالدین اجمل صاحب آسام میں پچھلے کئی سالوں سے اچھا کر رہے ہیں،کیا دوسری ریاستوں میں ان کو رول ماڈل بنایا جا سکتا ہے؟ موجودہ کانگریس کو ان کی پارٹی یونائٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے ساتھ مل کر لڑنے میں کیا قباحت نظر آئی،جبکہ سابقہ کانگریس مجلس اتحاد المسلمین کے ساتھ الائنس کرتی رہی ہے؟
4۔اعظم خان نے مجلس کا نام لیے بغیر اشارہ کیا کہ کوئی بھی گٹھ بندھن اس کے بغیر کارگر نہیں ہوگا ؛اس لیے کہ ریاست میں اس کی پکڑ اچھی ہے۔
5۔ اگر پنجاب میں اکالی دل بنانے پر سکھوں پر مذہب کی بنیاد پر الگ پارٹی بنانے کا الزام نہیں لگا ،تو اویسی صاحب یا اجمل صاحب یا کوئی اور مسلم پارٹی کی تشکیل کو ہندستانی مسلمان خاص طور مسلم ایلیٹ فر قہ پرستی کا نام کیوں دیتے ہیں اور ناپسند کیوں کرتے ہیں؟ خود خوفزدہ ہیں یا غیروں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ایسا کہتے ہیں؟
6۔ پچھلے کئی سالوں سے ٹکٹ دینے کی بابت سیکولر پارٹیوں نے مسلمانوں کو نظر انداز کیا ہے، ان کا ماننا ہے کہ مسلم امیدوار کے جیتنے کے امکانات winnabilityبہت کم ہے ؛اس لیے کہ اکثریتی طبقہ میں ان کی مقبولیت acceptabilityنہیں کے برابر ہوتی ہے۔
7۔ اس بات سے پوری طرح انکار بھی نہیں کیا جاسکتا ؛اس لیے کہ پہلے پارٹی کا چہرہ ہوتا تھا اور امیدوار کی حیثیت سکنڈری ہوتی تھی،دھیرے دھیرے اس روش میں تبدیلی آتی گئی اور ایسا ماحول بنایا گیا کہ مسلم مسائل پر بولنے اور مسلم کینڈیڈیٹ کو ٹکٹ دینے سے اکثریتی طبقہ ناراض اور نتیجتاً اکثریتی طبقہ کے ووٹ کا نقصان ہو سکتا ہے؛اس لیے سیکولر پارٹیز کسی نہ کسی بہانے مسلمانوں کو ٹکٹ دینے سے احتراز کرتی ہیں۔
8۔مسلمانوں کے پاس آپشن کیا ہے؟ ایک مسلم سیاسی پارٹی کی تشکیل؟ ایم آئی ایم یا یو ڈی ایف یا دونوں کو مرج کرکے ایک نئی entityکو ہر ریاست میں فعال بنانا؟
9۔ ہم خیال اور حقیقی سیکولر غیر مسلموں کے ساتھ اصولوں پر معاہدہ کرکے سیکولرسیاسی پارٹی کی تشکیل اور بڑی پارٹیوں کے ساتھ سیٹ شیئرنگ اور الائنس یا اتفاق ، میری ناقص رائے میں یہی بہترین آپشن ہے۔
10۔ ممکن ہے محمود مدنی صاحب ایک دو دن میں مزید واضح کریں کہ ان کی منشا یا خدشہ کیا ہے، جس کی بنیاد پر وہ اویسی صاحب کو روکنا چاہتے ہیں؟مگران کا لہجہ مناسب نہیں لگا ؛اس لیے کہ دستور ہند نے اختیار دیا ہے، دستور کے دائرے میں رہتے ہوئے کوئی بھی شخص سیاسی پارٹی بنا سکتا ہے اور الیکشن لڑ سکتا ہے، تو مدنی صاحب اس جمہوری عمل اور دستوری حق کو کیسے سلب کر سکتے ہیں؟ کہیں ان کی منشا ایک بار پھر ایک نئی ’’ مسلم لیگ ‘‘ کے وجود میں آنے سے روکنا تو نہیں؟ اگر ایسا ہے، تو مسلم لیگ تو جنوبی ہند میں موجود ہے ،اصل مسلم لیگ کے اغراض و مقاصد میں رد و بدل کرکے دستورِہند کے مطابق ڈھال کرنہ صرف موجود ہے؛ بلکہ انڈین یونین مسلم لیگ کے نام سے فعال بھی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں