144

ہمکلام ہوں خود سے


ڈاکٹر ولاء جمال العسیلی
محو حیرت ہوں پوچھتی ہوں ، سوچتی ہوں
کیونکر اتنی تکلیفیں سہنا پڑتی ہیں ہم کو
جس کے سبب
دنیا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہے
انساں پہ شیطاں کا اثر اتنا زیادہ کیوں ہے مولا؟
برسوں سے کیوں خون ہے جاری
کیوں اتنا خون بہایا جاتا ہے
مسجد ہو یا چرچ معصوم انسانوں کا خون بہتا ہے
عبادت گاہ خون کے سرخ خلیے کی طرح بن جاتی ہیں
میرے دل میں خوف بہت ہے
طرح طرح کے سوال ہیں من میں
کیوں یہ سب کچھ ہوتا ہے
اس بات کو
کیسے بھلا قبول کروں میں
یا کوئی اور
نہتے مسلمانوں کا منظر کیسے نظر انداز کر سکتا ہے کوئی
ایسے میں چلانے کا فائدہ کیا ہے
کس وجہ سے قتل ہوے وہ
کیوں ان کا خون بہا ہے
تم سے پوچھتی ہوں کہ
انسانی خون کے پیاسے کیسے ہو سکتے ہو تم؟
تم کیوں ایسی بڑی بدی کرتے ہو
کس بات کی خاطر یہ سب کرتے ہو
تم اپنے ہاتھ معصومین کے خون سے دھوتے
اپنے کرموں کا پھل کھاتے
خدا کے گنہگار بنتے جاتے ہو
کاش تم میں سے ایسا ہی دل ہوتا
کہ جو دو مختلف ایک دوسرے کے قریب آ جاتا
ہر روز پرستار کو سوچنا ہے
کہ آیا میرا دن کیسا گزرے گا
کہ آیا عبادت یا موت کے لئے جاؤں گا
مجھے یہ سوال ستاتا رہا کہ
اس تکلیف سے کب نجات ملے گی
معصوموں کے خون کے پیاسوں کو کب روکیں گے
تمام مذاہب کو کب قریب لائیں گے

کیٹاگری میں : نظم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں