95

ہر خواہش پوری نہیں ہوتی

عبدالعلیم الجامعی
دارالادب,انتری بازار سدھارتھ نگر یوپی

انسانی زندگی امید،تمنا،آرزو اور خواہشات کا مجموعہ ہے،ایک سے بڑھ کر ایک کی چاہت وحسرت اس کا خاصہ ہے،قناعت پسندی،استغناء وبےنیازی اس میں خال خال نظر آتی ہے،ہر ایک من چاہی زندگی کا خواہاں اور من پسند اشیاء کا طالب ہے،کوئ عہدہ ومنصب پر نظریں جمائے ہوئے ہے تو کوئ مال ومنال کی ہوس دل میں دبائے بیٹھا ہے،کسی کو شہرت کی فکر دامن گیر ہے تو کسی کو عزوقار کے حصول کا شوق چڑھا ہوا ہے،کسی پر ظلم وجور کرنے کا بھوت سوار ہے تو کوئ حفظ وامان کا متلاشی ہے، کہیں پر ”محبت تم سے نفرت“ کی صداء بازگشت نے کہرام مچائے رکھا ہے تو کہیں ”کہہ کے دوبول محبت کے“ سات جنم ساتھ گزارنے کے حسین وعدوں سے کانوں میں رس گھل رہا ہے ،الغرض ہر انسان مرور ایام کے ساتھ ساتھ مختلف خواہشات کو جنم دیتا ہے،لیکن کیا انسانوں کی ساری خواہش پوری ہوجاتی ہے؟ ہر آرزو پائے تکمیل تک پہونچ جاتی؟ہر تمنا منزل مقصود کی قدم بوسی کرلیتی ہے؟ بالکل نہیں! ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ امور دنیا تابع اورخواہشات انسانی متبوع ہوجائے، اگر چہ انسان صدق وصفا کا پیکر جہد وورع کا مجسم اور انسانیت کے روپ میں فرشتہ ہی کیوں نہ بن جائے،کیوں کہ اگر ایسا ہوتا تمام انبیاء کرام علیہم السلام اور پھر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس کے زیادہ حق دار تھے کہ ان کی چاہت کے مطابق دنیا کی تصویر بن جائے، زمانۂ نبوی کا یہ واقعہ اس پر شاہد عدل ہے کہ جب ایران اور روم کے مابین جنگ چھڑی تو مسلمانوں کی ہمدردیاں رومیوں کے ساتھ تھیں اور کفار کی حمایت ایرانیوں کے ساتھ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ فتح وکامرانی کا سہرا رومیوں کے ماتھے کا جھومر بنے جب کہ کفار ایرانیوں کے ہاتھ میں علم فتح دیکھنا چاہتے تھے، لیکن نتیجہ کیا ہوا کہ رومی مغلوب اور ایرانی غالب ہو گئے اور اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چاہت کا گلا دب گیا، اس لئے کہ اس عالم کے اندر خالق کائنات کی مرضی چلتی ہے، حالات اس کے اشارے کے تابع ہیں، گردش ایام اسی کے احکام کے منتظر ہیں،کائنات کے ذرے ذرے کا وجود اور اس کا عدم مالک حقیقی کے حکم پر ہی موقوف اور مصالح سے بھر پور ہے، اللہ تبارک وتعالی ہی بھتر جانتا ہے کہ کب کون سے حالات بھتر ہوں گے۔
موجودہ ہندوستان ہی کو دیکھیں کہ یہاں کی کیسی تصویر بن چکی ہے، صورت حال یہ ہے کہ ہر باشعور انسان حالات سے سہما اور خوف وہراس میں مبتلا دکھائ دیتا ہے، ملک پر تعصب پرست اور نفرت کی سیاست کرنے والوں کے غلبے اور ان کی پشت پناہی سے کھلے عام سڑکوں،چوراہوں پر امن وامان کا جنازہ نکالنے والوں کی کثرت، اور ماب لنچنگ کی واردات نے عقل کو متحیر کررکھا ہے، ایسے ماحول میں ہر ایک خصوصاً مسلمان گہری سوچ میں ڈوبا ہوا ہے کہ ہم نے اتنی دعائیں کی، ممبر ومحراب سے التجائیں کی گئیں لیکن پھر بھی ہوا کا رخ سمت مخالف میں ہی کیوں ہے؟
ایسے تمام سوالوں کا جواب یہی کہ اکثر حالات کے ذمہ دار ہم خود ہوتے ہیں،ہماری بداعمالیوں اور دین کے تئیں بے زاریوں نے ان حالات وظروف کا منھ دکھایا ہے،لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہمارے اعمال کی وجہ سے نہیں بلکہ کسی مصلحت کے تحت اللہ تعالی ایسی فضاء ہموار کرتا ہے جو ظاہرا ہمارے لئے ناگوار ہوتی ہے لیکن باطنا اس میں عظیم فائدے چھپے ہوتے ہیں،لہذا ہمیں مایوس ہونے اور سست روی اختیار کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ سعی پیہم اور جھد مسلسل کے ساتھ اپنے منزل کی طرف رواں دواں رہنے کی ضرورت ہے، دینی و دنیاوی تدابیر کو اپنا کر انجام کو خالق کے سپرد کرنے ضرورت ہے، اپنے آپ کو اسلام کا علمبردار بنانے کے ساتھ ساتھ ملک کے حالات اور اس کے آئین سے آگاہ رکھنے کی ضرورت ہے، اور الہ واحد سے استعانت واستغفار کو لازم پکڑنے کی ضرورت ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں مصائب زمانہ سے محفوظ رکھے اور اسلام کا شائق بنائے!آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں