57

ہجومی تشدد اور مسلمان

عبدالعزیز
ہجومی تشدد پر سیکڑوں مضامین لکھے جاچکے ہیں، لکھے جارہے ہیں اور جو صورت حال ہے اس کے پیش نظر لکھے جاتے رہیں گے۔ صرف مسلمان ہی نہیں لکھ رہے ہیں بلکہ کچھ انصاف پسند برادرانِ وطن بھی لکھ رہے ہیں۔ حکومت پر اور ان جنونیوں پر جس کی حکومت سرپرستی کر رہی ہے جو 2014ء سے 2019ء تک تحفظ گائے کے جنونی تھے اور 2019ء کے جنرل الیکشن کے انتخابی نتائج کے بعد سے ’جے شری رام‘ کے نعرے لگوانے کے جنونی اور انتہا پسند ہیں کوئی اثر نہیں ہورہا ہے۔ اثر کیوں نہیں ہورہا ہے؟ یہ بتانے یا واضح کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مسئلہ سب سے زیادہ درپیش ہے وہ یہ ہے کہ ہجومی تشدد کے جنونیوں اور قاتلوں یا دہشت گردوں کے ساتھ مسلمانوں کا کیا رویہ ہونا چاہئے۔ اب تک راقم نے تقریباً 8 / 10مضامین اس موضوع لکھے ہیں۔ ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک اردو اخبارات میں شائع بھی ہوئے ہیں۔ فیس بک میں بھی ان مضامین کو مطالعے کیلئے دیا گیا ہے۔ ہماری طرح دیگر صحافیوں اور مصنفوں نے اس موضوع پر مضامین لکھے ہیں۔ جہاں تک فیس بک کی بات ہے تو فیس بک ہجومی تشدد کے موضوع سے بھرا رہتا ہے۔ اب تک جو مسلمانوں کی رائیں آئی ہیں کہ مسلمان کیا کریں اس میں اتفاق ہے۔ اتفاق یہ ہے کہ مسلمان بزدلی اور بے جا بہادری کا مظاہرہ نہ کریں، لیکن ان کیلئے نرم چارہ بھی نہ بنیں بلکہ اپنی قوت و صلاحیت کے مطابق ہجومی تشدد کے جنونیوں سے چاہے ایک ہوں یا ایک سے زیادہ بھرپور مدافعت اور مقابلہ کریں۔ بغیر لڑے جان دے دینا کوئی اچھی بات نہیں ہے۔
ملک کے قانون اور دستور میں ہر انسان کو ظالم سے مدافعت کرنے کا حق دیا گیا ہے۔ شریعت اسلامی میں بھی مدافعت کا حق دیا گیا ہے۔ ارشاد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق اگر کسی مسلمان کے جان و مال پر حملہ ہوتا ہے اور وہ حملہ آور سے لڑجاتا ہے، اگر لڑتے ہوئے اس کی موت ہوجاتی ہے تو اسے شہید کا درجہ دیا جاتا ہے اور بچ گیا تو غازی کہلاتا ہے۔ اجتماعی رائے کے برعکس فیس بک میں ایک بڑے صحافی اور دانشور محترم مشرف عالم ذوقی صاحب کی ایک رائے ”راستہ تلاش کیجئے“ کے عنوان سے آئی ہے:
”موب لنچنگ کے شکار عام طور پر غریب ہوتے ہیں۔ غریبوں کے پاس ایمان کی دولت ہوتی ہے۔ میں نے کچھ ویڈیوز دیکھے۔ غریب آٹو ڈرائیور، کیب کا ڈرائیور، کچھ غریب معصوم نوجوان شکار ہوئے۔جے شری رام آخر تک نہیں کہا زخمی ہوئے۔ کچھ کی موت ہو گئی۔ کچھ اسپتال پہنچ گئے۔ میں اور آپ کوئی فتویٰ نہیں دے سکتے۔ ایک بیان آیا کہ جب آپ کی جان آفت میں ہو آپ بھی حملہ کیجئے؟ کس پر حملہ؟ ایسے بزدل جو بڑی تعداد میں ہوتے ہیں، کیا ان پر حملہ کیا جا سکتا ہے؟ حملے سے کیا ہوگا؟ ذرا سوچئے کہ خوف کے عالم میں ان کی بات کچھ دیر کیلئے مان کر کیا جان بچانا گناہ قرار دیا جائے گا؟ کیا ایمان اس قدر کمزور ہے کہ ایک جے شری رام بولنے سے سلامت نہیں رہے گا؟ زندہ رہنا ضروری ہے۔ آپ زندہ رہیں گے تو آپ کا مذہب بھی سلامت رہے، لیکن اس طرح کی باتیں کرنے والے کو سیدھے بزدل، کمزور ایمان والا، یہاں تک کہ کافر بھی کہہ دیا جائے گا۔ مرنے والا غریب جس پر حملے تیز ہیں، وہ اتنا ہی جانتا ہے کہ رام کا نام لیا اور مذہب سے خارج، وہ زخمی ہوتا ہے، مر جاتا ہے لیکن رام کا نام نہیں لیتا۔ کیا مستقبل میں ایسے لوگوں کی زندگی بچائی جا سکتی ہے۔ ایک بات اور غور طلب کہ ہلاک کرنے والوں کے پاس اب مضبوط دلیلیں ہیں۔موب لنچنگ کی حمایت میں ایک بہت بڑا طبقہ سامنے آ چکا ہے۔ جمہوریت کی آواز اور آپ کی حمایت میں سامنے آنے والے ایک فیصد بھی نہیں“۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام میں عزیمت اور رخصت دونوں راستے ہیں۔ عزیمت اور خاص طور پر عزیمت دعوت کی اسلام میں بڑی اہمیت ہے؛ مگر رخصت کی بھی اجازت دی گئی ہے۔ ملت اور افرادِ ملت کو رخصت کی دعوت دینا تنبیہ یا ترغیب کرنا اسلام کے منافی ہے۔ اللہ اور اللہ کے رسولؐ کے ماننے والوں کی مکے کی زندگی کا مطالعہ کیجئے تو پتہ چلتا ہے کہ ہر ایک نے عزیمت کا مظاہرہ کیا۔ سخت سے سخت مصیبت اٹھائی، شہید ہوگئے مگر رخصت کا راستہ نہیں اپنایا۔ مکی زندگی کے ان حالات نے اگر چہ راسخ الایمان صحابہؓ کے عزم و ثبات میں کوئی تزلزل پیدا نہ کیا تھا لیکن انسانی فطرت کے تقاضے سے اکثر ان پر بھی ایک شدید اضطراب کی کیفیت طاری ہوجاتی تھی؛ چنانچہ اسی کیفیت کا ایک نمونہ حضرت خبابؓ بن ارت کی وہ روایت پیش کرتی ہے جو بخاری، ابو داؤد اور نسائی نے نقل کی ہے۔
وہ فرماتے ہیں کہ جس زمانے میں مشرکین کی سختیوں سے ہم بری طرح تنگ آئے ہوئے تھے، ایک روز میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کی دیوار کے سائے میں تشریف رکھتے ہیں۔ میں نے حاضر ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ! آپ ہمارے لئے دعا نہیں فرماتے؟ یہ سن کر آپ کا چہرہ جوش اور جذبے سے سرخ ہوگیا اور آپؐ نے فرمایا ”تم سے پہلے جو اہل ایمان گزر چکے ہیں ان پر اس سے زیادہ سختیاں توڑی گئی ہیں۔ ان میں سے کسی کو زمین میں گڑھا کھود کر بٹھایا جاتا اور اس کے سر پر آرہ چلاکر اس کے دو ٹکڑے کر ڈالے جاتے۔ کسی کے جوڑوں پر لوہے کے کنگھے گھسے جاتے تھے تاکہ وہ ایمان سے باز آجائے۔ خدا کی قسم؛ یہ کام پورا ہوکر رہے گا یہاں تک کہ ایک شخص صنعاء سے حضرت موت تک بے کھٹکے سفر کرے گا اور اللہ کے سوا کئی نہ ہوگا جس کا وہ خوف کرے“۔
چودہ ساڑھے چودہ سو سال بڑا لمبا عرصہ ہے۔ اس عرصے میں کتنی ہی سلطنتیں ابھریں اور ختم ہوگئیں۔ کتنی ہی عظیم شخصیتوں کے ستارے چمک کر بجھ بجھا گئے۔ کتنے ہی تمدن کے آفتاب طلوع ہوکر ایسے ڈوبے کہ دوبارہ نہ ابھر سکے۔ بے شمار نظریات اور فلسفوں نے تاریخ کے اسٹیج پر رقص کیا اور پھر جیسے انکا تماشا ختم ہوجاتا ہے اسی طرح چمکتے ہوئے اسکرین کی جگہ تاریکی باقی رہ گئی۔ مگر تاریخ کی اس رست و خیز کے درمیان تہذیب کے اس مدو جزر کے درمیان، حوادث کے درمیان اسلام اور مسلمان باقی ہے۔ حد یہ ہے کہ اس کی علمبردارِ ملت انحطاط اور زوال اور دورِ غلامی جیسے مصائب سے گزری اور عزت و عظمت کی بلندیوں سے بار بار گری؛ مگر اس کے زوال سے بھی اسلام کے فلسفے اور قرآن کی عظمت و شباب میں کوئی فرق نہیں آیا۔ اسلام کا پیغام یا قرآن کا پیغام آج بھی اسی طرح تہذیبی فضاؤں میں گونج رہا ہے۔
جہاں تک ہندستانی مسلمانوں کا معاملہ ہے مصائب اور مشکلات کے کئی دور سے گزرے۔ انگریزوں کی حکومت آئی تو ایک طرح سے ان کیلئے مصائب کا طوفان آگیا۔ پھر بھی ان کا قدم لڑکھڑایا نہیں۔ عزیمت اور استقامت پر قائم رہے۔ اپنی شناخت اور اپنے معنوی وجود سے دستبردار نہیں ہوئے۔ انگریزوں کی سلطنت جس کے بارے میں مشہور ہے کہ ان کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ وہ سلطنت بھی آج باقی نہیں ہے۔ مگر مسلمان باقی ہیں اور الحمدللہ اسلام باقی ہے۔ تقسیم ہند کے بعد جن مصائب و آلام سے مسلمان گزرے ہیں ان مصائب کی داستانیں لرزہ خیز ہیں۔ اس طوفان سے بھی کسی نہ کسی طرح مسلمان بحفاظت نکل آئے۔
آزادی کے بعد جن سنگین حالات سے مسلمان گزر رہے تھے تو بہت سے ایسے لوگ تھے جن کا ایمان متزلزل ہوگیا تھا۔ رام پور کے ایک مسلم ایم ایل اے نے مسلمانوں کو رائے دی کہ وہ اپنا نام بدل لیں اور ہندوؤں جیسا نام رکھیں تاکہ ان کی حفاظت ہوسکے۔ انھوں نے یہ بھی کہاکہ نام بدلنے میں کوئی قباحت نہیں ہے، کیونکہ ہمارے پرکھوں کا نام ہندوانہ تھا۔ بہت سے لوگوں نے داڑھی منڈانے اور ٹوپی نہ پہننے کا مشورہ دیا۔ آزادی کے فوراً بعد مسلمانوں کے دو بڑے لیڈر جن میں سے ایک نہرو کابینہ میں وزیر تھے اور دوسرے بعد میں نائب صدر اور صدر جمہوریہ بنے۔ دونوں لیڈران حالات سے اس قدر متاثر تھے کہ مہاتما گاندھی کے پاس پہنچے اور ان سے درخواست کی کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے نام میں سے ’اسلامیہ‘ ہٹا دیا جائے۔ گاندھی جی نے ان مجاہدین آزادی کے چہروں پر نظر ڈالی اور نہایت نرمی سے کہا ”بھائی! ہندستان جیسے ملک میں اگر ایک ایسی یونیورسٹی ہوتی ہے جس کے نام میں اسلام لگا ہوا ہو اور وہاں اسلام کی بھی تعلیم دی جاتی ہو تو کیا حرج ہے؟“ ان حالات میں مسلمانوں کا سوادِ اعظم بزدلی یا برائی پر الحمدللہ جمع نہیں رہا۔ اپنی شناخت اور معنوی وجود کو باقی رکھا۔ گاندھی جی نے بھی اپنی جان دے دی مگر فرقہ پرستوں کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے۔
چند دنوں پہلے اخبار میں خبر آئی کہ مدھیہ پردیش کے ایک بڑے مسلمان افسر نے اعلان کیا کہ وہ اپنا نام بدل لیں گے تاکہ ان کی زندگی محفوظ رہے۔ اس طرح کے مسلمان پہلے بھی تھے اور آج بھی ہیں۔ مگر یہ انگلیوں پرگنے جاسکتے ہیں۔ ان کو معلوم نہیں ہے کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اور اللہ سب سے اچھی حفاظت (خیر الحافظین) کرنے والا ہے۔ اگر ساری دنیا مل کر چاہے کہ کسی کی زندگی کو ختم کردیں یعنی موت کے گھاٹ اتار دیں تو اس کی زندگی کو ختم نہیں کرسکتے۔ اور اگر ساری دنیا مل کر کسی کی زندگی کو بچانا چاہے جب تک اللہ نہ چاہے اس کی زندگی بچ نہیں سکتی۔ اگر ہمارے ایمان میں یہ پختگی آجائے اور اللہ پر ہم غیر معمولی بھروسہ کریں یہ جانتے ہوئے کہ وَکفیٰ بِاللّٰہِ وَکِیْلاً (بھروسے کیلئے اللہ کافی ہے) تو ہم کبھی بھی انشاء اللہ دشمن کے سامنے سرنگوں نہیں ہوں گے۔ علامہ اقبال نے کہا تھا ؎
ہر مسلماں رگِ باطل کے لیے نشتر تھا……اس کے آئینِ ہستی میں عملِ جوہر تھا
جو بھروسہ تھا اسے قوتِ بازو پر تھا……ہے تمہیں موت کا ڈر، اس کو خدا کا ڈر تھا
ہم اگر رگِ باطل کیلئے نشتر ہوجائیں، موت سے ڈرنے کے بجائے خدا سے ڈرنے لگیں تو ہمارے سارے مصائب دیکھتے دیکھتے حل ہوجائیں گے۔ جہاں تک حکومتوں کی زندگی ہے وہ افراد کی زندگی کی طرح ہے۔ افراد آج ہیں کل نہیں ہوں گے۔ فرعونی حکومتیں آج ہیں، کل نہیں ہوں گی۔ راحت اندوری نے سچ کہا ہے:
؎ ’جو آج صاحب مسند ہیں، کل نہیں ہوں گے
کرائے دار ہیں ذاتی مکان تھوڑی ہے‘
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں