69

ہاں میں ملحد ہوں!


توصیف القاسمیؔ، پیراگپوری، سہارن پور
رابطہ:8860931450

راقم کو ایک نوجوان نے بتلایاکہ اس کی بہن ذہنی طورسے الحاد Atheismکی طرف بڑھ رہی ہے۔ دوران گفتگو انھوںنے بتلایاکہ ایک بار ایک مُلاّ جی نے میری بہن سے اس کا مذہب معلوم کیا تو بہن نے جواب دیاکہ I am atheist ، میں تو کافر ہوں۔ غالباً 2019ء کے آغاز میں ڈاکٹر یاسر ندیم الواجدی نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کسی اسٹوڈنٹ کےساتھ طویل گفتگو کاذکر کیاتھا۔ مذکورہ اسٹوڈنٹ سماجاً ’’مسلمان ‘‘ تھا اور ذہناً ’’ملحد ‘‘۔ مولانایاسر ندیم الواجدی صاحب نے علم و استدلال کے زور پر مذکورہ اسٹوڈنٹ کے ’’ارتداد عقلی ‘‘ کو بے شعور و بے عقل بنادیا۔یہ بھی حقیقت ہے کہ صحرائے الحاد کے یہ آوارہ شرارے جب کبھی آشنائے توحید ہوئے، تو نغمۂ توحید اس زور سے گنگنایا کہ کفر والحاد کی چیخیں نکل گئیں۔
کسی زمانے میں مولانا عبدالماجد دریابادی بھی مغربی فلسفے کے مطالعے کے نتیجے میں ’’کفر و الحاد ‘‘ کی دنیا میں چلے گئے تھے پھر معاصر علماء کی کوششوں سے اور اللہ کے فضل سے نغمۂ توحید کے شیدائی بن گئے۔
مولانا علی میاں ندوی (م 21؍دسمبر 1999ء) نے امت مسلمہ پر ارتداد و الحاد کے خدشے کا ذکر بہت ہی مؤثر انداز میں کیاہے اور علماء امت کو اس کے علاج و تدارک کی طرف متوجہ کیاہے۔
یہ حقیقت ہے کہ نسل نو، بالخصوص کالجز و یونیورسٹی کاطبقہ بہت آسانی سے خدا کے وجود کے سلسلےمیں شک و شبہے کا شکار ہوجاتاہے، کم و بیش یہی رائے مولانا وحید الدین خاں (پ یکم جنوری 1925ء) کی بھی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ کفرو الحاد ہو یا شرک کبھی بھی مضبوط اور ٹھوس ’’علم و دلائل ‘‘ کی بنیاد پر کھڑا نہیں ہوسکا۔ مذکورہ چیزوں کی بنیاد میں ہمیشہ وہم، ظن، خیالات کی کارفرمائی رہی ہے۔ خود قرآن کریم نے یہ حقیقت ان الفاظ میں ذکر فرمائی ہے: ان یتبعون الاّ الظنَّ ’’یہ لوگ وہم و گمان کی پیروی کرتے ہیں ‘‘۔
سوال یہ ہے کہ جب ’’ارتداد و الحاد ‘‘ کسی مضبوط علمی بنیاد پر قائم نہیں ہوتا تو باربار کیوں اس کے شرارے انگارے بن جاتے ہیں؟ کیسے ارتداد و الحاد کی رائی ،پہاڑ بن جاتی ہے؟ جو قطرۂ الحاد، آفتابِ علم کی تپش اور گرمی سے خشک ہوجاناتھا، کیوں کر وہ سمندرکی سرکش لہربن جاتی ہے؟؟
راقم نے اس معاملے پر کافی مطالعہ اور غورو خوض کیا ہےتو اس کی چند وجہیں سمجھ میں آتی ہیں :
_1 علم حقیقی کے حامل موحدین Monotheistsکی آرام طلبی سست روی بہت بڑی وجہ ہے مزید یہ کہ بعض اہل ایمان تو قباء اسلامی کو دائو پر لگاکر شاہانہ مستیوں میں لت پت ہیں۔
_2 ملحدین Atheists کے دائو پیچ ان کی زبان و مزاج ، استدلال و استنباط سے اسلامی اسکالروں کا نابلد ہونا۔
_3 دیگر اقوام کے ساتھ ملنے جلنے Interactionکی وجہ سے خود اہل ایمان کے اندر بھی توحید خالص نہ اُبھرسکی،جس کے نتیجے میں امت میں بہت سے پیچیدہ افکار پیدا ہوگئے اور کمال یہ ہے کہ یہ تمام ’’پیچیدہ افکار ‘‘باطل افکار و مذاہب سے قریب تر تھے اور توحید خالص سے کوسوں دور۔
_4اہل ایمان نے جس طرح اپنی علمی طاقت Power Knowledgeفروعی مسائل اور بعض بیہودہ مسائل پر صرف کی ہے، بالکل اُسی طرح اپنی علمی طاقت ،خدا اور الحاد پر مباحثے و مذاکرے منعقد کرنے میں نہیں کی۔ فروعی مسائل پر زورآزمائی سے امت کی وحدت Unity کانچ کی کرچوں کی مانند بکھرگئی، جب کہ خدا اور الحاد پر عالمانہ مباحث کے انعقاد سے ایک طرف امت کی وحدت مضبوط ہوتی تو دوسری طرف باطل افکار ومذاہب اپنی حدوں میں رہتے:کاش کہ اہل ایمان ابھی بھی جاگ جائیں :
’’سنا ہے قدسیوں سے میں نے وہ شیرپھر ہشیار ہوگا ‘‘
انہ لایائیس مِن روح اللہ الاّ القوم الکافرون ’’ناامیدی اور مایوسی شیوۂ کفر ہے ‘‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں