52

ہاشم پورہ اور ملیانہ میں مسلمانوں کے قتلِ عام کی کہانی

قربان علی
تیغ منصف ہو جہاں ،دارورسن ہوں شاہد
بے گنہ کون ہے اس شہر میں قاتل کے سوا!
علی سردار جعفری کا یہ شعر آج سے تقریباً اکتیس سال پہلے میں نے اخبار ’’ساپتاہک روی وار‘‘ میں اپنی اس رپورٹ میں لکھا تھا ،جسے ہاشم پورہ قتلِ عام کے بعد شائع کیا گیا تھا، میری اس رپورٹ کا عنوان تھا ’’دنگوں سے زیادہ خطرناک تھا دنگے روکنے کا طریقہ‘‘،’’اب فوج آگئی ہے، سب ٹھیک ہو جائے گا‘‘۔
آپ کی زندگی میں کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں ،جو دل و دماغ پر کچھ اس طرح چسپاں ہو جاتے ہیں کہ چاہ کر بھی آپ انھیں فراموش نہیں کر پاتے،اکتیس سال پہلے میرٹھ میں ہونے والے دنگے میرے ذہن میں اس طرح بیٹھ گئے ہیں، جو لگاتار میرے اعصاب پر سوار ہیں، میرا ضمیر مجھے لعنت بھیجتا ہے کہ تمہارے سامنے اتنا بڑا ظلم ہوا اور تم محض اسے رپورٹ کر کے خاموش بیٹھ گئے،تم نے مظلوموں کو انصاف دلوانے کے لیے کچھ نہیں کیا، جن لوگوں کو تم دلاسہ دے کر آئے تھے کہ تم ان کے لیے لڑو گے اور انہیں انصاف دلاؤ گے ،ان کے پاس لوٹ کر بھی نہیں گئے۔
میرٹھ میں فرقہ وارانہ فسادات کا سلسلہ اپریل 1987ء میں شروع ہوا تھا، جو تقریباً تین ماہ تک چلا، میں ان فسادات کا چشم دید گواہ تھا اور انہیں رپورٹ کر رہا تھا،متاثرہ خاندان عرصے سے قصور واروں کی سزا کا مطالبہ کرتے آ رہے تھے،اس دوران فسادات میں تقریباً سو افراد ہلاک ہوئے ؛لیکن سب سے ہولناک قتلِ عام شہر کے ہاشم پورہ اور نزدیک کے ایک گاؤں ملیانہ میں بائیس اور تیئس مئی 1987ء کو ہوا، جن میں سوا سو بے گناہ مسلمانوں کو جن میں زیادہ تر نوجوان تھے، گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا ۔
چونکا دینے والی بات یہ تھی کہ آزاد بھارت میں کسٹوڈیل کلِنگ یا حراستی قتلِ عام کو انجام دینے کے لیے فوج کی مدد لی گئی تھی،بائیس اور تیئس مئی کی رات رمضان کے مہینے میں ہاشم پورہ سے فوج کی نگرانی میں پچاس مسلم نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا،بعد میں پی اے سی نے انہیں غازی آباد ضلع کے مراد نگر قصبے کے نزدیک گنگا نہر پر اور دلی یوپی بارڈر پر واقع ماکن پور گاؤں کے نزدیک ہنڈن ندی میں گولی مار کر بہا دیا،اب تقریباً اکتیس سال بعد اس قتلِ عام کے سولہ قصورواروں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے؛لیکن اسی سال اور اسی مہینے تیئس مئی کو ملیانہ قتلِ عام کے سلسلے میں تو عدالتی کارروائی شروع تک نہیں کی گئی ہے، جہاں پی اے سی نے 72 مسلمانوں کو گولیاں مار کر ایک کوئیں میں دفن کر دیا تھا۔ڈھائی سال پہلے 30 مارچ 2016ء کو انگریزی روزنامہ’ ’دی ہندو‘‘ نے اس مقدمے کی کہانی شائع کرتے ہوئے لکھا تھا کہ 800 تاریخیں پڑنے کے باوجود بھی پینتیس گواہوں میں سے صرف تین کو کراس اگزامن کیا گیا اور اس مقدمے کی اصل ایف آئی آر تک غائب ہے۔
ایماندار پولیس والے کا کام:
ہاشم پورہ قتلِ عام کا معاملہ تو اس لیے لوگوں کے سامنے آ گیا؛ کیونکہ اس وقت غازی آباد میں ایک ایماندار پولیس افسر وبھوتی نارائن رائے ایس پی تھے اور انہوں نے اس واقعے کی ایف آئی آر تھانے میں درج کروادی تھی، اسی بنیاد پر مقدمہ شروع کیا جا سکا۔ملیانہ کا واقعہ اس لیے سامنے نہیں آ سکاکہ وہ میرٹھ کے نزدیک تھا ،جہاں پی اے سی نے مسلمانوں کو مار کر وہیں دفن کر دیا تھا، کہا جاتا ہے کہ یہ قتلِ عام پی اے سی کے ایک کمانڈنٹ کی نگرانی میں کیا گیا تھا، جس کے خلاف کارروائی ہونا تو دور کی بات ہے،اس کے برخلاف اس کوترقی دے دی گئی۔
اس کے علاوہ میرٹھ شہر کے تقریباً دس اور مسلمانوں کی موت حراست میں ہوئی ،جن میں سے چھ کو فتح گڑھ جیل میں مار مار کر ہلاک کر دیا گیا، جبکہ چار کو میرٹھ کی عبداللہ پور جیل میں مارا گیا،ان دس لوگوں کی موت کے مقدمے تو درج ہوئے؛ لیکن حکومت نے انصاف دینے کے بجائے ان کی فائل کو ہی بند کر دیا، اس وقت ملک میں انسانی حقوق کی بڑی بڑی شخصیات نے اپنی رپورٹ میں ان حقائق کا ذکر کیا تھا، جن میں سابق وزیر اعظم اندر کمار گجرال، جسٹس سچر، کلدیپ نیئر،بدر الدین طیب جی، سبدھرا جوشی، پروفیسر اے ایم خسرو، نندتا ہکسر وغیرہ شامل ہیں،اتنا ہی نہیں ،اس وقت انسانی حقوق کی بڑی بڑی تنظیموں نے،جن میں ایمنسٹی انٹرنیشنل بھی شامل ہے، قتلِ عام کے ان خوفناک واقعات پر رپورٹ پیش کی تھی۔
علاوہ ازیں اس وقت جنتا پارٹی کے رہنما اور اب بھارتیہ جنتا پارٹی یعنی بی جے پی کے ایم پی ڈاکٹر سبرا منیم سوامی ہاشم پورہ معاملے کی تحقیقات کے مطالبے پر بھوک ہڑتال پر بھی بیٹھے تھے، انہوں نے اس وقت کے وزیر داخلہ پی چدمبرم کو قصوروار قرار دیتے ہوئے ان پر مقدمہ چلانے کی بات بھی کہی تھی،2006ء میں انہوں نے اس وقت کے وزیراعظم منموہن سنگھ کو ایک خط لکھ کر اس معاملے کو عالمی عدالت میں لے جانے کا مطالبہ بھی کیا تھا،وہ اپنے اس مطالبے پر اب بھی قائم ہیں اور انہوں نے دلی ہائی کورٹ میں ایک درخواست بھی دائر کر رکھی ہے۔
31 سال کے بعد دہلی ہائی کورٹ نے اپنی نوعیت کا ایک انوکھا فیصلہ کیا ہے، جس پر بہت سے لوگوں نے لکھا اور کہا ہے کہ’ ’دیر آید درست آید‘‘ کا مصداق ہے؛ لیکن میرے خیال سے حکومتوں کی لاپرواہی اور تعصب پسندی اور ساتھ ساتھ عدلیہ کی بھی چشم پوشی اس پورے معاملے میں شامل حال رہی ہے، اللہ کا شکر ہے کہ فیصلہ دیر سے ہی آیا،مگرآیااور اس میں قاتلوں اور ظالموں کو عمر قید کی سزا ملی ہے، جبکہ سب کو موت کی سزا ملنی چاہئے تھی، 2015ء میں دہلی کی تیس ہزاری کورٹ نے ظالموں کو کلین چیٹ دے کر بری کر دیا تھا، قانونی لڑائی سے باز نہیں آنا چاہیے، اگر ایک عدالت ناانصافی کا معاملہ کرتی ہے، تو دوسری عدالت انصاف کرسکتی ہے، دہلی ہائی کورٹ نے ظالموں کو سزا دے کر عدلیہ پر ہاشم پورہ اور ملیانہ کے لوگوں کا بھروسہ مستحکم اور مضبوط کیا ہے۔
ترتیب: عبدالعزیز
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں