58

ہائے کیالوگ تھے جودامِ اجل میں آئے!


نایاب حسن قاسمی
مولانا غلام نبی کشمیری بیمار تقریبا سال بھر سے تھے اور بیماری بھی مہلک تھی،گزشتہ سال ہی تشویشناک خبریں آنے لگی تھیں،پھر علاج کے بعد حالت کچھ بہتر ہوئی اور ان کی زندگی قدرے معمول پر آئی،البتہ ان کا درس و تدریس کا سلسلہ دیوبند سے کشمیر منتقل ہوگیاتھا۔ابھی چند دن قبل پھر ایسی ہی خبریں آئیں،انھیں آناً فاناً ہسپتال میں داخل کیاگیا ،ڈاکٹرعلاج کرتے رہے، بالآخر وقتِ موعودآپہنچااور مولانا راہیِ ملکِ بقا ہوگئے۔اناللہ واناالیہ راجعون
مولاناسے میرارشتہ تلمذکا نہیں تھا،مگر فی الحقیقت اس سے بھی کچھ گہراتھا۔پانچ چھ سال تک دارالعلوم دیوبند کی طالب علمی کے دوران وقف دارالعلوم کے علاقے میں چلتے پھرتے،آتے جاتے انھیں بارہادیکھا اوران کی علمی ،تدریسی،خطابی ،تحریری و تقریری فتوحات کے بارے میں سنتا رہا،مگران سے رابطہ ایک علمی ضرورت کے سلسلے میں قیامِ دیوبند کے آخری دنوں (2013)میں قائم ہوااورچند ملاقاتوں میں ہی وہ اس قدر گھل مل گئے کہ لگا برسوں سے وہ ہمیں جانتے ہیں ۔ان کی شخصیت میں کوئی مقناطیسی کشش تھی،جو ہمیں ان سے ملنے پر اُکساتی اور ان کی مجلس میں بیٹھنے پر مجبور کرتی۔دیوبند سے دہلی منتقل ہونے کے بعد بھی مولانا سے مسلسل رابطہ رہااور جب کبھی دیوبند جانا ہوا،تو ان سے ضرور ملاقات کی،دعائیں لیں اور ان کی گل افشانی گفتار سے محظوظ و مستفید ہونے کی سعادت حاصل کرتا رہا۔وہ ہمہ صفت موصوف ’’عالم‘‘ تھے،ان کا علم گہرا،مطالعہ وسیع،مشاہدہ عمیق تھااورانھیں مختلف علوم و فنون اورزبانوںپر دست رس حاصل تھی ۔بظاہر نہایت سادہ نظرآتے ،دیوبند جیسے مدینۃ العلماوالطلبہ میں کوئی اجنبی انھیں دیکھ کر ہرگزاندازہ نہیں کرسکتاتھاکہ وہ دارالعلوم وقف کے ایک جلیل القدر اور مقبول ترین استاذ ہیں ،ان کی روِش میں ایک معصومیت اور پوشش و طرزِ زندگی میں حقیقی معلم ومفکرکی بے ساختگی و سادگی تھی۔ ان سے مل کر طبیعت خوش ہوتی اور ان سے باتیں کرکے ذہن و دماغ تروتازہ و شاداب ہوجاتا  ۔مولاناکی مسکراہٹ میں ایک خاص حسن ہوتا اور ان کی گفتگو میں حلاوت ایسی کہ وہ کہیں اورسناکرے کوئی!علم حدیث وادب وفقہ و کلام کی منتہی کتابیں ان کے زیرِدرس رہیں اور ان سے پڑھنے والا ہر طالبِ علم ان کے طریقۂ تدریس کا مداح نظر آیا۔
مولاناچوںکہ خود خالص علم و مطالعے کے انسان تھے؛اس لیے وہ ایسے ہی لوگوں سے مانوس بھی ہوتے تھے،تعلیمی اداروں کی غیر تعلیمی سرگرمیوں اور سیاست سے انھیں کوئی سروکار نہ ہوتا۔وہ اپنی مصروفیات میں اس درجہ منہمک رہتے کہ گردوپیش کے احوال کی انھیں خبر بھی نہ ہوتی یا وہ شعوری طورپر ان سے بے خبر رہتے تھے۔ان کی صحبت میں بیٹھتے ،توکتابوں،افکارِعالم اور موجودہ دنیا کے اہلِ علم و فکر کے بارے میں ہی باتیں ہوتیں،دیوبند کے علاوہ دیگر اسلامی مسالک و مکاتب فکر پر بھی ان کا مطالعہ وسیع تھااور اپنی بصیرت کی روشنی میں ان کی اچھی چیزوں کی تحسین اور خامیوں کی تنقید کرتے۔وہ اپنے نظریے اور طرزِفکر میں صلابت و پختگی کے ساتھ کشادہ ذہنی کے قائل تھے اور اسی کی تلقین بھی کرتے۔ درس و تدریس اور مطالعہ و کتب بینی کے علاوہ خطابت کا بھی انھیں اچھاذوق تھا اوربات کوصاف شفاف لب و لہجے اور مدلل انداز میں پیش کرنے میں انھیں مہارت حاصل تھی۔ان کی تقریرپیشہ ورخطیبوں کے مانندطوفان بہ دوش نہ ہوتی؛بلکہ ان کی زبان سے الفاظ جوے خوش خرام کے مانندنکلتے اور سامعین کے ذہنوں میں پیوست ہوجاتے۔مولاناکا تحریری ذوق بھی بہت اعلیٰ تھا،دارالعلوم وقف دیوبند کے ماہانہ رسالہ’’ندائے دارالعلوم‘‘کی ایک عرصے سے ادارت کررہے تھے،اس میں حالاتِ حاضرہ اور دیگر موضوعات پر اداریہ نویسی کے علاوہ مختلف اہم عناوین پر ان کے بہت سے مقالات بھی شائع ہوئے۔بانی دارالعلوم مولانا محمد قاسم نانوتوی کے فکروفلسفہ سے انھیں خاص انسیت تھی اوراسی وجہ سے انھوں نے اس رسالے میں عصری اسلوب میں مولانا نانوتوی کے افکار کی تشریح و توضیح کا بہت عمدہ اور قیمتی سلسلہ شروع کیاتھااورسب سے پہلے ان کی مشہور کتاب’’تقریرِدلپذیر‘‘کی توضیح کررہے تھے،جس کی سینتالیسویںقسط اِس ماہ کے ’’ندائے دارالعلوم‘‘کے شمارے میں شائع ہوئی ہے۔دارالعلوم وقف میں حجۃ الاسلام اکیڈمی نامی تحقیقی شعبہ قائم ہوا،تو ابتداءاًمولاناہی اس کے روح رواں رہے ، اس کے ڈائریکٹرمولاناشکیب قاسمی کی رہنمائی فرماتے رہے اور اکیڈمی کی مضبوط علمی و تحقیقی شناخت قائم کرنے کی قابل قدر کوششیں کیں۔
مولانا اپنی عام زندگی میں نہایت بااخلاق اور شستہ و شگفتہ انسان تو تھے ہی،مگر طلبہ کے حوالے سے ان کا رویہ خاص کر نہایت مشفقانہ،مخلصانہ اور پدرانہ تھا۔میں نے ان کے ہرطالب علم کو ان کی تعریف ہی کرتے سناہے،چاہے ان کے درس کے حوالے سے ہویاان کے ملنے جلنے اور کسی مشکل میں دست گیری ومعاونت کے حوالے سے۔وہ کسی تام جھام اور بے جاتکلفات کے قائل نہیں تھے؛اس لیے ان کے یہاں ہرطالب علم کی رسائی آسان ہوتی تھی اور جوباذوق اور علم دوست طالب علم ہوتے ،وہ درس گاہ کے علاوہ ان کے گھر جاکر بھی ان سے بہ آسانی استفادہ کرسکتے تھے۔بڑے (دینی یا عصری )تعلیمی اداروں میں اساتذہ لیے دیے رہتے ہیں ،طلبہ سے گھلنے ملنے کوبھی ادب کے خلاف سمجھاجاتاہے،جس کی وجہ سے طالبِ علم کئی کئی سال ایک ادارے میں پڑھنے کے باوجود کسی استاذ سےمانوس نہیں ہوپاتا،ایک روٹین کے طورپر وہ کلاسوں میں حاضری دیتا،استاذکی تقریر سنتا اور پھرجیسے تیسے کرکے امتحانات پاس کرکے بالآخرڈگری لے کر نکل جاتاہے۔ایسے میں مولانا غلام نبی کشمیری کو بلاشبہ ایک آئیڈیل اور نمونے کے طورپر پیش کیاجاسکتا ہے۔
مولاناکاوطنی تعلق شاہ پور،ضلع پونچھ ،کشمیر سے تھا،پیدایش ۲؍جولائی۱۹۶۲کی تھی،دسویں تک اسکولنگ کرنےکے بعد دینی تعلیم کی طرف متوجہ ہوئے اور ۱۹۸۳میں دارالعلو م دیوبند سے فضیلت کی تکمیل کی،اس کے علاوہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم اے(عربی)اور آگرہ یونیو رسٹی سے ایم اے (اردو)بھی کیاتھا۔طلبہ و علماکے لیے تقریروخطابت کے موضوع پر تین کتابیںلکھیں، دیوان متنبی کی شرح لکھی، اسلام کے نظریۂ دعوت و تبلیغ پرایک کتاب تحریر کی اور گزشتہ کئی سالوں سے وہ اسلام اور اخلاقیات کے حوالے سے ایک بڑے تحقیقی و تصنیفی پروجیکٹ پر کام کررہے تھے۔انھوں نے ایک مجلس میں مجھے بتایاتھا کہ یہ کام آخری مراحل میں ہے اوریہ تقریباً دوہزارصفحات پر مشتمل کتاب ہوگی ۔میرے علم میں نہیں کہ اس کی اشاعت ہوئی ہے یانہیں،اگراشاعت نہیں ہوئی ہے،تو اسے شائع کرنے کا اہتمام ہونا چاہیے۔ دارالعلوم وقف دیوبند کے نائب مہتمم اور حجۃ الاسلام اکیڈمی کے ڈائریکٹر مولاناشکیب قاسمی اکیڈمی سے اس کی اشاعت کااہتمام کریں،تویہ مولاناکی قدرشناسی کاعمدہ ثبوت ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں