134

گلے پڑی نماز

زین شمسی
رمضان شروع ہونے سے عین قبل متمول، صاحب ثروت اور تنومند مسلمانوں کی پیروی کرتے ہوئے میں بھی اس امید میں ڈاکٹر کی کلینک کے سامنے قطار بند تھا کہ شاید بلڈ ٹسٹ میں شوگر کا عنصر نکل آئے اور یوں میں اس پاک مہینہ میں فاقہ کشی سے نجات پا جاؤں، ہم جیسے کئی لوگ روزہ تو رکھتے نہیں،گھر میں کھانا نہیں بنتا؛اس لیے روزہ کے نام پر فاقہ کشی تے ہیں،اس فاقہ کشی کو لیگل طریقے سے ختم کرنے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ کوئی جھولا چھاپ پیتھولوجسٹ سے براہ راست یہ کہتے ہوئے کہ بھائی مجھے یقین کی حد تک اس بات کا شک ہے کہ میرا خون میٹھا ہوگیا ہے، تین دن سے دیکھ رہا ہوں چینٹیوں کی قطار میرے بستر کے ارد گرد طواف کرتی ہے اور باہر نکلتا ہوں تو مکھیاں ہمسفر ہوتی ہیں، ذرا خون چیک کر دیجیے؛تاکہ سند رہے کہ میں فاقہ کشوں کی صف میں کیوں شامل نہیں ہوں اور کیوں ٹاٹ لگے ہوٹلوں کے اندر لب مطبخ بریانی کی دیگوں میں منہ چھپائے ہوں ۔
عید میں بچوں کے نئے کپڑوں کی آس لگائے غریب طبی اداروں سے پیتھالوجی کے سند یافتہ پیتھولوجسٹ ایسے مریضوں کی یقین کی حد تک بنے شکوک کا پاس رکھتے ہوئے ان کے من مطابق رپورٹ دے دیتے ہیں کہ ان کی آمد و رفت بنی رہے؛ تاکہ بقرعید میں بھی قربانی کے کام آجائے؛بلکہ وہ اور کئی طرح کے ٹسٹ کا کمبو آفر بھی دیتے ہیں؛ تاکہ آئے ہوئے گاہک سے وافر فائدہ حاصل کر سکیں۔
نمبر آنے کے بعد مکمل اعتماد کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس اپنے بدن کی مٹھاس کا ثبوت لینے بیٹھ گیا،انہوں نے رپورٹ نکالی،میری طرف بڑھاتے ہوئے بولے،زین بھائی مبارک ہو،یہ مبارک رمضان آپ کے لیے بہت کار آمد ثابت ہونے والا ہے۔
میں نے تجاہل عارفانہ کے انداز میں پوچھا”رپورٹ منفی تو نہیں ڈاکٹر صاحب؟ ” ۔
“منفی ! ارے بھائی آپ کو بالکل شوگر نہیں ہے،ہاں کولسٹرال بہت زیادہ ہے، پورے رمضان تراویح پڑھ لیجیے،ان شاءاللہ بالکل فٹ ہو جائیں گے” ۔
“اللہ مجھے خراب نہیں ہونے دے گاکیا، پیتھولجسٹ اور ڈاکٹروں کی صورت میں بھی تبلیغیوں کو بٹھا رکھا ہے”، بے ساختہ میری زبان سے یہ جملہ اچھلا اور سامنے سے آ رہے حاجی حجت کے کان میں گرا ۔
“سب خیریت تو ہے،رپورٹ کیا کہتی ہے؟” رپورٹ تو جو بھی کہتی ہو حاجی صاحب, بس اتنا سمجھ لیجیے کہ جب جب روزہ بخشوانے کی کوشش کیجیے گا، نماز گلے پڑ جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

گلے پڑی نماز” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں