160

گاندھی کے ہندوستان کوآج پھر ایک مہاتما کی ضرورت!

حسان انور
ریسرچ اسکالر، شعبہ عربی
جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی
2 / اکتوبرہمارے ملک کی تاریخ میں غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ رواں سال آج کا دن جدید ہندوستان کے حقیقی معمار مہاتما گاندھی کا 150 /واں یوم ولادت ہے۔ اس دن وطن عزیز کے علاوہ دنیابھر کے مختلف مقامات پر سرکاری وغیرسرکاری تقریبات منعقد کی جائیں گی اور جنگ آزادی کے دوران بابائے قوم مہاتما گاندھی کی بے لوث قربانیوں اور گراں قدر کارناموں کو یادکرکے انھیں شاندار خراج عقیدت پیش کیاجائے گا۔
بر صغیر برطانوی سامراج سے قبل کم وبیش ساڑھے چھ صدی1206ء تا1857ء مسلمانوں کے زیر حکومت رہا۔ اس دوران یہاں کی تکثیری فضا ء پروان چڑھتی رہی اورہندوستان کا پوری دنیا میں وحدت میں کثرت کا امتیاز برقرار رہا۔ لیکن مغل حکمراں اورنگ زیب عالم گیر کی رحلت کے بعد جہاں ایک طرف مسلمانوں کی اقتدار پرگرفت کمزور پڑ تی گئی وہیں دوسری طرف ایسٹ انڈیا کمپنی کے قیام کے بہانے انگریزوں نے یہاں اپنا تسلط قائم کرنا شروع کیا۔ تھوڑے ہی عرصے میں مغلوں کا دائرہئ اثر دہلی کے شاہجہاں آباد تک سمٹ گیااور ان کے دن گنے جانے لگے پھر دیکھتے دیکھتے مغلیہ سلطنت نے آخری سانس تک لے لی۔ ادھر انگریزوں نے قبضہ کیا جمایا کہ ہندوستانیوں کا برا دور آگیا۔ ان پرظلم واستبداد کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہوگیااورہر طرح کے ظلم وستم ڈھائے گئے۔اتنا ہی نہیں بلکہ جملہ شعبہائے زندگی میں دانستہ طور پرانھیں حاشیہ پر ڈال دیا گیاخاص کر سیاسی اور معاشی محاذوں پرتو بالکل بے اثر کردیا گیا۔ انسانی تاریخ کی ایک سچائی یہ بھی ہے کہ ظلم جب حد سے تجاوز کرتا ہے تو اسی ظلم کی کوکھ سے مزاحمت جنم لیتی ہے اور ظالم کے خلاف بر سر پیکار ہوجاتی ہے خواہ کتنی ہی ناتواں ہو۔چنانچہ جب انھیں اس تلخ حقیقت کا ادراک ہواکہ ان کی سیاسی اور معاشی حالت دگرگوں ہے توانھوں نے انگریزوں کے ظلم کے خلاف آواز بلند کی۔ بہت جلد یہ آواز ایک ملک گیر تحریک کی شکل اختیار کر گئی اور1857 ء میں شاہ عبد العزیز محدث دہلوی ؒ کاانگریزوں کے خلاف فتوی اس مزاحمتی تحریک کو برپا کرنے کی جانب خوش آئند پیش رفت تھا۔گوکہ ابتدائی مرحلوں میں اس مزاحمتی تحریک کو خاطر خواہ کامیابی نہیں مل پائی اور مزاحمتی کوششیں پسپا ہوتی نظر آئیں اور اسی تناظر میں 1866ء میں دار العلوم دیوبند کا قیام عمل میں آیا۔ لیکن آگے چل کر ہندو مسلم متحدہ محاذ کی مدد سے تحریک آزادی کی از سر نوتشکیل ہوئی بالخصوص علماء اور رفقاء گاندھی کے اشتراک کی بدولت یہ تحریک اور زیادہ مستحکم ومنظم ہوگئی پھر وہ دن دور نہیں رہا جب اہالیان ہند کو پھر سے آزادی کی نعمت نصیب ہوئی۔
مہاتما گاندھی کے فکر و فلسفہ میں آفاقیت تھی۔ وہ ہندو مسلم اتحاد کے علم بردار تھے۔ صدق وبے باکی کے پیکر تھے۔ ان میں کمال کی دوراندیشی تھی۔ ان کی زندگی پیارومحبت اور امن وآشتی سے عبارت تھی۔ خوش خوئی، میانہ روی اور وسعت ظرفی ان میں کوٹ کوٹ کے بھری تھی۔ نفرت اور تشدد جیسے الفاظ ان کی لغت میں نہیں تھے۔ باہمی رواداری اور فر قہ وارانہ ہم آہنگی ان کے شب وروز کی اولین ترجیح تھی۔خود غرضی، خود ستائی اور مفاد پرستی ان کے سایہ آس پاس بھی نہیں بھٹکتی تھی۔گاندھی جی اپنے لئے کم اور دوسروں کے لئے زیادہ جینے والے انسان تھے۔
جنگ آزادی کے دوران جہاں ایک طرف خارجی سطح پرسیاسی اور معاشی محاذوں پر انگریزوں کے چیلنجز کا سامنا تھا وہیں دوسری طرف داخلی سطح پرپورا ملک سماجی خلفشار کی زدمیں تھا۔ چنانچہ باپو نے اپنے ہندو مسلم ساتھیوں کے ساتھ مل کرہر قسم کی سماجی، سیاسی اور معاشی مشکلات کا حل تلاش کرنے کے لئے ٹھوس حکمت عملی تیار کی۔ ملک کی فر قہ وارانہ ہم آہنگی پر خاص توجہ مرکوزکی۔ ہندو سماج سے چھوت چھات کے ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کی ٹھانی اور دبے کچلے طبقے کو اپنے آپ سے قریب کیا۔ شیخ الہند مولانا محمود حسن ودیگر فضلائے دیوبند، مولانا محمد علی جوہر، حکیم اجمل خاں، مولانا ابوالکلام آزاد، ڈاکٹر مختار انصاری اور ان جیسی جنگ آزادی میں سرگرم سرکردہ مسلم شخصیات گاندھی جی کے شانہ بشانہ کھڑی ہوئیں۔ اور اس طرح گاندھی جی نے بکھرے ہوئے ہندوستانی سماج میں اتحادو ہم آہنگی کی روح پھونک دی۔ یہاں کی معیشت کوبہتر بنانے کی سمت میں گاندھی جی نے اہم قدم اٹھایا۔انھوں نے چرخے اور کھدر کی مصنوعات اور کھادی کی پوشاک کے استعمال کے ذریعے مقامی تجارت کو فروغ دینے پر زور دیا۔اس سے جہاں ہندوستان کا اقتصادی نظام مستحکم ہوا وہیں انگریزوں کے کاروبار پر غیر معمولی ضرب پڑی۔ آج چرخہ اور کھدرہندوستان کی ثقافت کا حصہ بن گیا ہے۔ سرکاری اداروں کا بائیکاٹ اور خلافت عثمانیہ سے تعاون کی اپیل مہاتما گاندھی اور ان کے ساتھیوں کی ا نگریزوں کے خلاف سیاسی حکمت عملی کا حصہ تھی۔اس کے لئے عوام میں بیداری پیدا کی گئی۔ تشدد اور قتل وغارت کے بجائے گاندھی جی نے ا نگریزوں کا مقابلہ کرنے کے لئے اہنسا اور ستیہ گرہ کے انوکھے طریقے اپنائے۔
آج گاندھی کے ہندوستان کو پہلے سے کہیں زیادہ مہاتما کی ضرورت ہے۔ اس مہاتما کی جو ملک کی سیاست، سماج اور معیشت کو پھر سے سنبھالا دے، جس کی زندگی کی قومی یکجہتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی اولین ترجیح ہو، جو عام آدمی کی جان ومال کی قدر وقیمت سمجھتا ہو، جسے ہمیشہ بلا تفریق اپنی تمام رعایا کی عزت وآبرو کی فکر رہتی ہو، جو خود پسندی اور تکبر کے بجائے عوام کے فلاح وبہبود کے لئے جان کی بازی لگانے والا ہو، جس کے اقتصادی پالیسیاں بناتے وقت عوامی مفادات پیش نظر ہوں، جو کسی منصوبہ سے متعلق عاجلانہ اور غیر دانش مندانہ فیصلہ لینے کے بجائے ماہرین سے صلاح ومشورہ کرکے طویل مدتی لائحہئ عمل مرتب کرنے میں یقین رکھنے والا ہو، جو سماج کا تانہ بانہ توڑ نے کے بجائے جوڑنے والا ہو، جو ہوا میں جملے چھوڑنے کے بجائے ٹھوس عملی اقدامات میں یقین رکھتا ہو، جوپورے سماج کو ایک نظر سے دیکھتا ہو، جو کسی بھی طبقہ پرہونے والی ریشہ دوانیوں کے خلاف خاموشی اختیار کرنے کے بہانے مجرمین کی پشت پناہی کرنے کے بجائے ان کو کیفر کردارتک پہنچانے والا!!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں