133

کیوں آزادی مانگ رہی ہو؟


علی زریون

جسموں کی لذت کے قیدی ان لوگوں سے
تم آزادی مانگ رہی ہو ؟؟
یہ ” با عزت قیدی ” آخر تم کو کیوں آزاد کریں گے ؟؟
ان کا حق ہے
جس کے چاہے جسم کو نوچیں
نوچ نہیں پائیں تو بس آوازہ کس دیں
آوازہ کسنے کی کوئی راہ نہ ہو تو
آنکھوں ہی آنکھوں میں سب ” چٹخارے ” لے لیں
کن لوگوں سے تم آزادی مانگ رہی ہو ؟؟
جو تصویریں دیکھ کے وحشی ہو جاتے ہیں؟؟
جن کی شرافت ” موقع” مل جانے کی دیر تلک رہتی ہے ؟
پاگل لڑکی !
جاؤ ! اپنے گھر میں بیٹھو
فیس بک پر ہلکے پھلے جملے لکھ کر دل بہلا لو
کیوں بازار میں آ نکلی ہو !
پتا نہیں کیا ؟
اچھی لڑکیاں وہ ہوتی ہیں جو بس گھر میں بیٹھ کے سب کچھ سنتی جائیں
سہتی جائیں
چاہے چولھا پھٹ جانے سے جھلسی جائیں
چاہے کوئی بھیڑیا گھر کے اندر ہی سے حملہ کر دے
چاہے کچھ بھی ہو جائے پر ” اچھی لڑکیاں” چپ رہتی ہیں
کیوں بربادی مانگ رہی ہو ؟؟
باغی اور ” آوارہ لڑکی”
کیوں آزادی مانگ رہی ہو ؟؟

کیٹاگری میں : نظم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں