125

کیفی اعظمی پر انگریزی میں ایک یادگار کتاب

تبصرہ: رحمن عباس
معروف انگزیزی شاعر، صحافی، مترجم اور ایڈیٹر سدیپ سین کی تازہ کتابNew & Selected Translations Kaifi Azmi Peom/ Nazms کی اشاعت کو ابھی چند ماہ گذرے ہوں گے؛ لیکن ملک کے کئی اخباروں میں اس کتاب پر کافی مثبت تبصرے شائع ہوئے ہیں اور سنجیدہ ادبی حلقوں میں کتا ب کی پذیرائی ہو رہی ہے۔ کیفی اعظمی بلاشبہ ترقی پسند تحریک اور شاعری کی ایک اہم آواز رہے ہیں۔اردو شاعری کی روایت اور تاریخ میں ترقی پسند ادب پر جب بھی مکالمہ ہوتا ہے اور جن اہم ترقی پسند شعرا کا تذکرہ ہوتا ہے، ان میں کیفی اعظمی کو فی الحال نظر انداز نہیں کیا گیا ہے، حالانکہ جدیدیت کی شعری روایات کیفی اعظمی اور دوسرے ترقی پسند شاعروں کی شعریت سے انحراف ہے۔ میری خوشی قسمتی ہے کہ کالج کے دنوں میں کیفی اعظمی کو دیکھا بھی ہے اور ان کا کلام ان کی زبان سے سنا بھی ہے۔ دوسری طرف سدیپ سین میرا دوست ہے اور مجھے خوشی ہے اس کی کیفی اعظمی پر کتاب ترقی پسند شاعری کی ایک البیلی صدا ئے دل گداز کواردو کے باہر پھیلانے میں معاون ثابت ہوگی۔ سدیپ سین خود بہت اچھے شاعر ہیں اور دو درجن سے زیادہ غیر ملکی زبانوں میں ان کا کلام ترجمہ ہو کر شائع ہو چکا ہے، وہیں ان کی شاعری اور نثر پر وہ متعدد انعامات سے نوازے گئے ہیں۔
مذکورہ کتاب میں سدیپ سین کے ساتھ حسین میر علی، بیدار بخت، سومنترا گھوشال اور پریتش نندی کے تراجم شامل ہیں۔کتاب بلومسبری جیسے مؤقر طباعتی ادارے سے شائع ہوئی ہے اور دیدہ زیب ہے۔ کتاب کیفی اعظمی کی صد سالہ تقریبات کے پس منظر میں منظرعام پر آئی ہے اورسدیپ سین نے بڑی ذکاوت سے کیفی اعظمی کی شخصیت کا احاطہ 100 Years of Kaifi Azmi’ ‘ کے عنوان سے کیا ہے اور کچھ اہم تصاویر کا انتخاب ‘Bibliography & Photo Album’ میں ہے،جو کتاب کی خوب صورتی میں اضافے کا سبب ہے۔
سدیپ سین کیفی اعظمی کا تعارف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بچپن میں انھوں نے اپنی ماں کی زبان سے کیفی اعظمی کا نام سنا تھا، جب ان کی ماں نے کیفی اعظمی کی نظم ’عورت‘ کی قرات درگاہ پوجا کے موقع پر کی تھی۔ اسی وقت کیفی اعظمی کا آہنگ سدیپ سین کے ذہن میں ہمیشہ کے لیے سما گیا۔ اس کتاب کی ترتیب کا خیال انھیں تب آیا،جب امسال ان کی ملاقات شبانہ اعظمی اور جاوید اختر سے ایک تقریب میں ہوئی اور دوران گفتگو شبانہ اعظمی نے انھیں بتایا کہ صد سالہ تقریبات کا سلسلہ سال بھر جاری رہے گا۔ حالانکہ سدیپ اس سے پیشتر بھی کیفی اعظمی کو انگریزی میں ترجمہ کر چکے تھے۔کتاب میں سدیپ نے جہاں نظموں کے انتخاب پر توجہ دی ہے، وہیں دوسرے اہم مترجمین کے کام کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا ہے۔ تعارف میں مختصراًکیفی اعظمی کی سوانح بھی پیش کی گئی ہے؛ تاکہ وہ افراد جو ان کی شخصیت سے واقف نہیں ہیں، انھیں کیفی اعظمی اور ان کے افکار کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ اسی طرح انگریزی کے ساتھ ساتھ دیوناگری میں بھی نظموں کو شائع کیا گیا ہے؛تاکہ ہندی والے بھی کیفی کے شعری آہنگ سے لطف اندوز ہو سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں