225

کیا کلمہ ہمارے اتحاد کی بنیاد نہیں بن سکتا؟

اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ
انسانی معاشرے میں اختلافات کا پایا جانا کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ معلوم انسانی تاریخ میں آج تک شاید ہی کوئی ایسا دور گزرا ہو جس میں انسانی معاشرے میں اختلافات سرے سے نہ پائے گئے ہوں۔ چاہے وہ مثالی سمجھے جانے والے دور رہے ہوں یا تہذیب یافتہ دور، آپسی اختلافات سے معاشرہ کبھی آزاد نہیں ہوا۔ یہ انسانی معاشرے میں پایا جانے والا سب سے بڑا سقم ہے؛لیکن اس کے باوجود تاریخ شاہد ہے کہ جب لوگ اختلافات سے اوپر اُٹھ کر آپس میں چند بنیادی باتیں طے کر کے ان پر کامل اتحاد کے ساتھ اپنے معاشرے کی تشکیل کر تے ہیں،تووہ معاشرہ امن و امان کا گہوارہ بن جاتا ہے۔ اسلام کا دوراول یعنی دور پیغمبر ﷺ اور دور شیخین ؓ اس کی مثال میں پیش کیا جاسکتا ہے۔ کلمہ کی بنیاد پر قائم اس معاشرے میں امن وا مان کا جو مظاہرہ ہوا،وہ ہر دور کے لئے ایک نمونہ ہےاور اس کے بعد جیسے جیسے یہ معاشرہ اس بنیاد کو حاشیے پر رکھ کر آپسی اختلافات کو اولیت دینے لگا، فساد اور بگاڑ کُھل کر سامنے آگیا، تلواریں بے نیام ہوگئیں، وہی لوگ،جو دشمنان اسلام کے آگے کندھوں سے کندھا ملائے سینہ سپر کھڑے تھے،خود ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے، یوں ساری دنیا کے انسانوں کو اسلام کے سایہ عافیت میں لانے کا خواب دھندلاتا چلا گیا اور ہمیشہ کے لئے کھو گیا۔ وہ دین جو دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو بھی خدا کی وحدانیت کو بنیاد بنا کرآپس میں ایک ہونے کی دعوت دیتا ہے، خود اس کے ماننے والوں کے ہاتھوں جس طرح خانوں میں بٹتا گیااور جس طرح ہر گروہ اپنے آپ کو ہی اصل بتا کر ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگا تے ہوئے دوسرے کے خون کو خود پر مباح قراردیتا رہا، یہ ایک خوں رُلا نے والی داستاں ہے۔ دُکھ کی بات یہ ہے کہ ہم آج بھی اپنی اس تاریخ سے سبق لئے بغیر اسی راستے پر گامزن ہیں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ ایک تباہی اور بربادی والا راستہ ہے۔
کلمہ ہماری بنیاد ہے، شایدہی کسی کو اس بات پر اختلاف ہو۔ ہر وہ شخص جو مسلمان ہو نے کا دعویدار ہو، چاہے اس کا تعلق کسی بھی فرقہ، گروہ، جماعت یا مسلک سے ہو،کیا اس کلمہ کا انکار کرکے مسلمان رہ سکتا ہے؟ اگر نہیں،تو پھر کیا وجہ ہے کہ ہم اس کلمہ کی بنیاد پر ایک نہیں ہوسکتے؟جب کافر، مشرک اور ملحداپنے ہزار اختلاف کے باوجود اسلام دشمنی کی بنیاد پر متحد ہو سکتے ہیں،تو حیف ہے ہم پر، ہم اپنی اتنی مضبوط بنیاد پر بھی اتحاد کا مظاہرہ نہیں کرسکتے؟
کیامشرق کیا مغرب، آج ہم ہر طرف سے گھیرے جاچکے ہیں۔ ہمارا ہر اول دستہ یعنی ہمارے حکمران اور سیاسی رہنما باطل کے آگے اپنی شکست تسلیم کر کے اُس کے شرائط پر، اپنے آپ کواُس کے حوالے کر چکے ہیں۔ ہمارے نام نہاد علمااور سرمایہ دار آپس میں گٹھ جوڑ کر کے اپنے مفاد اور وقتی فائدوں کے لئے ہر طرح سے ہمارا استحصال کر رہے ہیں۔ انہیں اسلام اور مسلمانوں کی کوئی پروانہیں، بظاہر وہ خود کو اسلام اور مسلمانوں کے پاسباں باور کراتے پھر رہے ہیں؛لیکن حقیقت میں وہی اس کے جڑیں کاٹ رہے ہیں، اس کی بنیادوں کو کھوکلا کر رہے ہیں۔ اُنہیں اگر سچ میں کسی بات کی فکر ہے،تو بس اپنے مسلک اوراپنے اکابر کی عزت کی، اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت کے لئے نہ ان کے پاس کوئی منصو بہ ہے اور نہ وہ اس تعلق سے سنجیدہ ہیں۔ اب جو بھی کرنا ہے،وہ ہمیں خود کرنا ہے۔ سب سے پہلے کلمہ کی بنیاد پر ایک ہونے کی کوشش کریں۔ مسلک،جماعت اور فرقہ کے خول سے باہر نکل کر ہر کلمہ گو مسلمان کو اپنا سمجھیں۔ اختلافات اپنی جگہ، اختلافات سے کبھی انکار نہیں کیا جا سکتا، بس اتنا کریں کہ اختلافات کو اپنی ذات تک محدود کر لیں۔ اس کی تبلیغ نہ کریں۔ جو بھی نام نہاد عالم، مفتی اور دانشور اختلافات کو ہوا دیتا نظر آئے،اس سے کنارہ کشی اختیار کرلیں۔ قرآن اور حدیث سے براہ راست اکتساب کی کوشش کریں۔ اگر ہم میں کا ہر فرد ان بنیادی باتوں پر عمل پیرا ہوجائے،تو یقین جانیےکہ اتحاد اور اتفاق کے دروازے ہم پر وا ہوتے چلے جائیں گے اور اس کے برکات سے نہ صرف ہم اپنا کھویا ہوا وقارحاصل کر لیں گے؛بلکہ ہمیں ساری انسانی دنیا کو اسلام کے سایہء عافیت میں لانے کا خواب بھی مل جائے گااور ان شاء اللہ پھراس کی تعبیر پانے میں بھی ہمیں دیر نہیں لگے گی۔ اللہ ہمیں سمجھ دے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں