58

کیامصالحتی کمیٹی سےبابری مسجد کامسئلہ حل ہوگا؟

شکیل رشید
(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)
بابری مسجد معاملے میں سپریم کورٹ کے ذریعے مصالحتی کمیٹی کے قیام نے دوسوالات کھڑے کردیے ہیں ـ
بھلاسپریم کورٹ کیوں کوئی حتمی فیصلہ کرنے سے خود کو بچارہا ہے ؟
اورمصالحتی کمیٹی میں کس لئے سری سری روی شنکر کو شامل کیا گیا ہے ؟
جہاں تک بابری مسجد کے مقدمے سے جڑی ہوئی مسلم تنظیموں کا سوال ہے ،وہ چاہے سنّی سینٹرل وقف بورڈہو ( جوکہ بابری مسجد کی زمین اور جگہ کا دعویدار ہے) یا جمعیۃ علماء ہند یا آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ ہویا ہاشم انصاری مرحوم کے صاحبزادے اقبال انصاری ہوں یا ایودھیا مقدمے سے جڑی دیگر مسلم شخصیات وجماعتیں اور تنظیمیں، کسی نے بھی سپریم کورٹ سے یہ سوال نہیں کیا ہے کہ بھلا عدالت عظمیٰ خود کوئی فیصلہ کرنے سے کیوں اپنا دامن بچارہی ہے ، کیوں وہ بار بار ’مصالحت‘ کی بات کررہی ہے اور اب کیوں ایک ایسی تین رکنی ’ مصالحتی کمیٹی‘ کا قیام کردیا ہے، جس میں سری سری روی شنکر بھی شامل ہیں، جنہوں نے ابھی چندمہینے پہلے ہی ایک عالمندین سے ساز باز کرکے بابری مسجد کو رام مندر کی تعمیر کے لئے’ہتھیانے‘ کی پوری منصوبہ بندی کی تھی!
یقین مانیے یہ سوال دریافت نہیں کئے جائیں گے ۔ مولانا ارشد مدنی سے لے کر ایڈوکیٹ ظفریاب جیلانی اور خالد رشید فرنگی محلی تک سب ہی نے زوردار آوازمیں ’ مصالحتی کمیٹی‘ سے تعاون کا اعلان کردیا ہے ۔اور وہ تعاون کا اعلان کرنے میں غلط بھی نہیں ہیں ، ان کے پاس اس کے سوا اور چارہ بھی کیا ہے !مسلم تنظیمیں’ جماعتیں اور بابری مسجد کی قانونی لڑائی میں شامل شخصیات وشوہندوپریشد کی طرح توہیں نہیں جو یہ سوال کرتی پھررہی ہے کہ ’ مصالحت‘ کی کیا ضرورت ہے ؟ عدالت عظمیٰ نے مصالحت کے لئے جو تین رکنی کمیٹی قائم کی ہے اس میں سری سری روی شنکر کے ساتھ ریٹائرڈ جسٹس خلیف اللہ اور سینئر ایڈوکیٹ شری رام پنچوشامل ہیں ۔ جسٹس خلیف اللہ کمیٹی کی سربراہی کریں گے اور کمیٹی آٹھ ہفتے میں اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کردے گی۔ ’ مصالحتی کمیٹی ‘ کے قیام پر مسلم تنظیموں اور جماعتوں وشخصیات کی جانب سے جو ردّعمل سامنے آئے ہیں ان میں اس بات پر زور دیا جارہا ہے کہ مصالحت آستھا (عقیدہ) کی بنیاد پر نہ ہو ‘ ملکیت کی بنیاد پر ہو ، سیاسی مداخلت نہ کی جائے اور مصالحت کی بات قبول کرنے کا مطلب موقف میں تبدیلی قطعی نہیں ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا خود عدالت عظمیٰ مذکورہ بنیادوں پر کوئی فیصلہ نہیں دے سکتی تھی؟ عدالت کے سامنے معاملہ ملکیت کا ہی تھا ، اسے یہی فیصلہ کرنا تھا کہ ایودھیا کی جس زمین کا تنازعہ ہے وہ کس کی ملکیت ہے ۔ ملکیت کے تین دعویدار ہیں ، سنّی سنٹرل وقف بورڈ ، نرموہی اکھاڑا اور رام للّا ۔ مسلمانوں کی طرف سے یہ ضمانت پہلےہی دے دی گئی تھی کہ عدالت کا ہر فیصلہ قبول کیا جائے گا ۔ چاہے عدالت مسلمانوں کے خلاف ہی کوئی فیصلہ کیوں نہ کرتی مسلمان پہلے سےدی گئی ضمانت کے مطابق اسے بھی قبول کرلیتے ۔ لیکن شاید عدالت عظمیٰ کے سامنے یہ سوال تھا کہ اگر فیصلہ مسلمانوں کے حق میں ہوا توکیا ہوگا؟
اومابھارتی مرکزی وزیر ہیں ، عدالت عطمیٰ کے ذریعے ’ مصالحتی کمیٹی‘ کے قیام کے بعد ان کا بیان آیا ہے کہ’ ’ جن ناموں کا انتخاب سپریم کورٹ نے کیا ہے اس پر میں کوئی ردّعمل نہیں دوں گی لیکن ایک ہندو ہونے کے ناطے مجھے لگتا ہے کہ شری رام جنم بھومی پر رام مندر کی تعمیر ہونی چاہئے ۔ ‘‘ یہ وہ ردّعمل ہے جو اس ملک کے سادھوؤں اور سنتوں اور مہنتوں کی طر ف سے مسلسل سامنے آتا رہا ہے۔ حال کے دنوں میں ایودھیا میں باقاعدہ ’ رام مندر‘ کی تعمیر کے لئے ہندو سادھو سنتوں کے ’پردرشن‘ ہوچکے ہیں اور صرف سادھو اور سنت ہی نہیں بی جے پی کے لیڈران بھی یہ شور مچاتے رہے ہیں کہ عدالت کے فیصلے کی کیا ضرورت ہے ایودھیا شری رام کی جائے پیدائش ہے اس لئے وہاں شری رام مندر بننا چاہئے ۔ مرکزکی نریندر مودی سرکار پر دباؤ بھی بنایا گیا تھا کہ رام مندر کی تعمیر کے لئے قانون بنایا جائے ، آرڈننس لانے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔ مودی سرکار پر اس بات کے لئے ناراضگی کا اظہار بھی کیا گیا کہ وہ رام مندر کی تعمیر کے سوال پر چُپّی سادھے ہوئے ہے ۔ یہ سب حالات سپریم کورٹ کے سامنے تھے اور آج بھی ہیں ، اسے خوب اندازہ ہے کہ ایودھیا تنازعے کا فیصلہ کوئی ہنسی کھیل نہیں ہے ۔ لیکن ’فیصلہ‘ کرنا تو اس کا کام ہے اس لئے ایک باراسے ’فیصلہ‘ کرہی دینا چاہئے تھا ، فیصلہ چاہے جو ہوتا ۔ لیکن ہوا یہ کہ اس نے ’ مصالحتی کمیٹی‘ کو یہ ذمے داری سونپ دی ۔ پر کیا ’ مصالحتی کمیٹی‘ اس حساس تنازعے کا کوئی حل نکال سکے گی ؟
سنیچر ۹؍ مارچ کے انگریزی روزنامہ ’ ہندوستان ٹائمز‘ میں قانون اور آئین کے ماہر اے جی نورانی کا اس موضوع پر ایک مختصر سامضمون شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے ثالثی کے تصور کو ہی خامیوں سے پُر بتایا ہے ۔عدالت عظمیٰ کی ۵ رکنی بنج نے مصالحتی کمیٹی کے قیام کو ’’ مصالحت کے موقع کی فراہمی ‘‘ کہا ہے تاکہ اس کے ذریعے ’’آپسی تعلقات خوشگوار‘‘ ہوجائیں ۔ اے جی نورانی کے بقول ’’عدالت عظمیٰ کے یہ احساسات قابل تحسین ہیں ۔‘‘ اور یہ احساسات واقعی قابلِ تحسین ہیں کیونکہ بابری مسجد اور رام مندر کے تنازعے نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ایک بہت بڑی خلیج حائل کردی ہے ۔ یہ وہ خلیج ہے جس نے فرقہ پرستی کو بھی بڑھاوا دیا ہے اور فرقہ پرستی کی سیاست کو بھی۔۔۔ اور فرقہ پرستی وہ عفریت ہے جس نے ملک کی بنیادوں کو کمزور کردیا ہے ، لہٰذا عدالتِ عظمیٰ کے اس جذبے کی جس کی تعریف نورانی صاحب نے کی ہے ، سب کو ہی داددینی چاہئے؛ لیکن داددینے کے ساتھ نورانی صاحب یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ ماضی میں مصالحت کی کوششوں کے نتائج کیا ہوئے ؟ کیا وہ اس طرح کے تنازعات حل کرسکے ؟ پھروہ کہتے ہیں کہ ’بابری مسجدمقدمہ میں ثالثی کے تصور میں خامی ہے ۔سپریم کورٹ نے ایک پُرعیب آلہ سامنے لاکر اسے ان لوگوں کے ہاتھوں میں دے دیا جن میں سے ایک سری سری روی شنکر ہیں ، جو پہلے اس معاملے پر اپنا واضح موقف پیش کرچکے ہیں ۔ مجھے نہیں لگتا کہ ہم انہیں غیر جانبدار مصالحت کار کہہ سکتے ہیں ۔‘‘
اے جی نورانی بابری مسجد معاملے میں ماضی کی مختلف ’مصالحتی کوششوں‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’قانون کے مطابق فیصلہ کرنے سے عدالت کی ہچکچاہٹ سمجھ میں آتی ہے ۔ عدالت سب سے زیادہ احترام کے لائق ہے ، لیکن اسے جلد ہی یہ اندازہ ہوجائے گا کہ ثالثی کوئی حل نہیں ہے ۔ اسی لئے وہ عوامی جذبات کے مدّنظر عام مقدمے یا ملکیت کے مقدمے کے طور پر اسے فیصل کرنے سے ہچکچارہی ہے ۔ اس کے سامنے درست راہ یہ ہے کہ وہ مقدمے کی منصفی سے انکار کردے ، یہ کہے کہ یہ دیوانی مقدمہ ہے ، جسے عدالت صرف ضابطۂ دیوانی کے تحت فیصل کرسکتی ہے ، الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو مسترد کردے، کیونکہ جو صورتحال ہے اس میں عدالتی عمل جاری نہیں رہ سکتا۔‘‘ اے جی نورانی اپنی بات مکمل کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’سپریم کورٹ کو اب یہی کرنا چاہیئے کہ مستقبل کی نسلوں پر اس کا منصفانہ فیصلہ چھوڑ دے ، جب ہوش مندی برقرار ہوجائے ۔‘‘
اے جی نورانی نے سری سری روی شنکر کی بات کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ’’غیر جانبدار مصالحت کار یا ثالث نہیں ہیں۔‘‘ اسد الدین اویسی نے بھی ان کی غیر جانبداری پر سوالیہ نشان کھڑا کیا ہے۔ پاپولر فرنٹ آف انڈیا کا تو یہ مطالبہ ہے کہ سری سری روی شنکر کی جگہ کسی اور کو لایا جائے ۔ ایک حلقے سے یہ آواز اٹھی ہے کہ کیوں نہ خود چیف جسٹس رنجن گگوئی ان کی جگہ لے لیں ۔ اب یہ جو سری سری روی شنکر کے نام پر سوالیہ نشان لگ رہا ہے اس کی اپنی وجوہ ہیں ۔ انگریزی کے کثیر الاشاعت ہفت روزہ ’ انڈیا ٹوڈے‘ کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے سری سری روی شنکر نے صاف لفظوں میں کہا تھا:’’ اگر رام مندر کا مسئلہ حل نہیں ہوا تو ہندوستان شام بن جائے گا ، مسلمانوں کو چاہیئے کہ خیرسگالی کے جذبے کا اظہار کرتے ہوئے ایودھیا پر اپنے دعوے سے دستبردار ہوجائیں۔ ایودھیا مسلمانوں کے لئے کوئی مرکز عقیدہ نہیں ہے ۔ ہم بھگوان رام کو کسی اور جگہ پیدا نہیں کرسکتے ۔‘‘ انہوں نے مزید کہا تھا:’’اسلامی عقیدے کے مطابق کسی بھی متنازعہ جگہ پر عبادت نہیں کی جاسکتی لہٰذا وہ وہاں کوئی مسجد بنا نہیں سکتے، اور اگر عدالت سے مندر کے خلاف فیصلہ آتا ہے تو خون خرابہ ہوگا ۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہندو اکثریت اس کی اجازت دے گی؟ ان کے دلوں میں مسلم فرقے کے لئے سخت نفرت پیدا ہوجائے گی ، اور اگر عدالت کا فیصلہ مسلمانوں کے خلاف آتا ہے تو وہ خود کو شکست خوردہ سمجھیں گے ، عدلیہ پر سے ان کا بھروسہ ختم ہوسکتا ہے اور اندیشہ ہے کہ وہ انتہا پسندی پر مائل ہوجائیں ، زمین کی ادلابدلی واحد حل ہے ۔‘‘
سری سری روی شنکر نے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کو ایک کھلا خط ب بھی تحریر کیا تھا جس میں مسئلے کے چار ’ حل‘ پیش کرنے کے بعد تحریر کیا تھا :’’ یہ چار حل ہیں ، چاہے عدالت کے ذریعے ہوں یا حکومت کے ذریعے ، ان کا نتیجہ ملک کے لئے عام طور پر اور مسلمانوں کے لئے خاص طور پر تباہ کن ہوگا ‘‘یہ چار حل تھے:ہندوؤں کو زمین مل جائے اور وہ مندر بنالیں یا مسلمانوں کو بابری مسجد کے لئے زمین مل جائے یا سپریم کورٹ ، الہ آباد ہائی کورٹ کے قبضے کے مطابق زمین فریقوں کو بانٹ دےیا سرکار مندر کے لئے قانون بنائے ۔ ان کے مطابق یہ چاروں حل تباہ کن ہوں گےـ تو یہ ہے سری سری روی شنکر کی ’’غیر جانبداری یا جانبداری‘‘ لہٰذا اگر یہ سوال دریافت کیا جائے کہ ایک ایسے شخص کو ثالثی یا مصالحتی کمیٹی میں رکھنے کی کیا وجہ ہے جو بابری مسجد کی جگہ ہر حال میں رام مندر کی تعمیر چاہتا ہے ، تو غلط نہیں ہوگا۔۔ خیر، بابری مسجد تو شہید ہوچکی ہے ، اس کی جگہ عارضی رام مندر بن چکا ہے جہاں روزانہ پوجا پاٹ ہورہی ہے ، مسلمان بس اپنے دل کو سمجھا ہی سکتے ہیں کہ جو ہوگا اچھا ہوگا ۔۔ ویسے ’امید‘ اچھی ہی رکھنی چاہئے ، ممکن ہے کہ ’مصالحتی یا ثالثی کمیٹی‘ کوئی ایسا فیصلہ کردے جو دونوں ، ہندوؤں اور مسلمانوں کے لئے ،قابل ِ قبول ہو ، کوئی درمیانی راہ ، ایسی راہ جو دونوں کے جذبات کو مجروح نہ ہونے دے ۔۔۔ ویسے ایک اچھی بات یہ ضرور ہوئی ہے کہ عدالت عظمیٰ نے یہ معاملہ آٹھ ہفتوں یعنی کوئی دومہینے کے لئے ٹال دیا ہے ، یہ بات اچھی اس لئے ہے کہ فرقہ پرست اب اس معاملے پر، الیکشن کے اس موسم میں کوئی سیاست نہیں کرسکیں گے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں