179

کیاادلب پر فیصلہ کن حملہ واقعی ٹل گیاہے؟

نایاب حسن
2011ء سے شام میں جاری تاریخِ انسانی کی بدترین خانہ جنگی تاہنوزختم ہوتی نظر نہیں آرہی،سات سال قبل جب ’’ بہارِعرب‘ ‘نامی انقلاب متعددعربی ملکوں میں رونما ہوا تھا،توبہت سے سیاسی مبصرین و دانشوران کے ذہنوں میں یہ خیال پیدا ہواتھاکہ شاید یہ عوامی انقلابات ان عربی ملکوں سے شخصی آمریت اور خاندانی حکومت کا سلسلہ ختم کرکے ایک شفاف جمہوری طرزِ حکومت کی بنیاد ثابت ہوں گے،مگر پھر ساری دنیانے بہ چشمِ سردیکھا اور بہ گوشِ ہوش سناکہ ان انقلابات کی گردوغبار اور خوں ریزی و غارت گری کے پردے سے جب وہ ممالک باہر نکلے،توحالات پہلے سے بھی بدتر ہوگئے تھے، تیونس، مصر، یمن،لیبیاوغیرہ کا جو منظر نامہ2011سے قبل تھا اورجواَب ہے،دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے؛بلکہ اپنی اندوہناکی کے اعتبار سے پہلے سے بھی زیادہ بدتر ہے۔شام میں بھی اُنہی دنوں عوامی انقلابات کی آندھی آئی،اسدخاندان کی چھ دہائیوں پر مشتمل خاندانی حکومت ،طرزِ حکمرانی،عوام کے استحصال اور ظلم و زیادتی سے لوگ پریشان تھے،مگرانھیں ہمت نہیں ہوتی تھی کہ حکومت کے خلاف صداے احتجاج بلند کرسکیں؛لیکن دیگر آس پڑوس کے ملکوں میں رونماہونے والے احتجاجات نے اچانک ان کے اندر بھی ہمت و جرأت پیدا کردی اور وہ حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے،ابتداء اً یہ محسوس کیاگیاکہ دوسرے ملکوں کی طرح شام میں بھی چند مہینوں یا ایک آدھ سال میں یہ انقلاب اپنے اختتام کو پہنچ جائے گا اور پھر ایک نئی طاقت برسرِ اقتدار آئے گی،مگر افسوس کہ ایسا نہ ہوسکا،شامی انقلابات میں متعددخارجی قوتیں گھستی گئیں،معاملہ تب اور پیچیدہ ہوگیا،جب حکومت کا تعاون کرنے والی قوتوں اوراپوزیشن کی حامی طاقتوں میں ایک دوسرے کوزیر کرنے کی خطرناک ریس شروع ہوگئی،شروع میں ایران اورحزب اللہ نے شامی حکومت کی مدد کی،پھر2015-16ء میں روس بھی اس صف میں شامل ہوگیا،2014ء میں امریکہ نے آئی ایس آئی سے نپٹنے کے لیے ایک عالمی اتحاد قائم کیا،اس نام پر اس اتحاد نے الگ شام پر بمباریاں کیں،شامی اپوزیشن کی امداد بھی کی گئی،2016ء میں ترکی بھی شامی خانہ جنگی کے تئیں اپنے موقف کے ساتھ کھل کر سامنے آیا اوراس نے اپوزیشن کی مدد شروع کردی۔اس پورے خطرناک خونیں کھیل سے عالمی سیاسی طاقتوں اور ملکوں کو فائدہ ہورہاہویا نقصان ،مگر سب سے زیادہ نقصان شامی عوام کا ہوا،عالمِ انسانیت کا ہوااور شام نے دنیابھر کے لیے مہاجرین اورپناہ گزینوں کاایک نہایت پیچیدہ مسئلہ پیدا کردیا،اس عرصے میں شامی عوام،بوڑھوں،بچوں اور عورتوں کی بے بسی و بے چارگی اور مظلومیت کے ایسے ایسے مناظر دنیاکے سامنے آچکے ہیں کہ انھیں دیکھ کر انسانیت لرزاٹھی۔ایک طرف شامی حکومت ہے، جو اپنے حامیوں کے سہارے اپنے مخالفین پر مہلک سے مہلک ترین ہتھیار استعمال کرنے میں بھی جھجک محسوس نہیں کررہی،دوسری طرف اپوزیشن ہے کہ وہ بھی بعض بیرونی طاقتوں کے اکساوے میں آکردانستہ یا نادانستہ شام کے بے قصور عوام کی کشت و خون میں حصہ دار بنا ہواہے،بہر کیف شام کابحران اکیسویں صدی میں اب تک کا نہایت ہی پیچیدہ ، ناقابلِ فہم اور مشکل ترین بحران ثابت ہورہاہے۔
گزشتہ سات سالوں کے واقعات کی روشنی میں یہ ثابت ہوچکاہے کہ شامی اپوزیشن تمام تر بیرونی امداد کے باوجودکمزور ہے اوروہ طاقت وقوت ، ہتھیار،وسائل و ذرائع وغیرہ کے اعتبار سے شامی حکومت اوراس کے اتحادیوں کا ہم پلہ نہیں ہے،آیندہ بھی اس کی امید کم ہی نظر آرہی ہے؛کیوں کہ امریکہ اپنی دوسری’’مصروفیات‘‘میں مشغول ہے اورترکی تن تنہاکیا کرسکتاہے،جبکہ شام میں موجود کردی النسل اپوزیشن گروپ ترکی سے یوں بھی نالاں ہے۔شامی حکومت کے دعووں کے مطابق وہ اب تک اپوزیشن کے ذریعے قبضہ کیے گئے شام کے بیشتر علاقوں پر دوبارہ اپنا قبضہ بحال کرچکی ہے اور اب صرف ایک صوبہ ادلب رہ گیاہے،جو اپوزیشن کے قبضے میں ہے۔ابھی چند دنوں قبل میڈیامیں یہ خبرآئی تھی کہ شامی حکومت اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ادلب پر فیصلہ کن حملے کا منصوبہ بنارہی ہے،کچھ ابتدائی کارروائیوں کی بھی خبریں تھیں،ظاہر ہے کہ اگر اس منصوبے پرباقاعدہ عمل ہوگا ،تو وہاں بھی وہی صورتِ حال پیدا ہوگی،جواس سے قبل دمشق،حلب ،لاذقیہ ،رقہ اور دیگر صوبوں کو اپوزیشن کے قبضے سے چھڑانے میں پیدا ہوئی تھی،وہاں ہزاروں مکانات مسمار ہوئے، لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے،ہزاروں انسانوں کی جانیں گئیں اور دیکھتی آنکھوں ہنستے بستے علاقے خرابوں میں بدل گئے؛چنانچہ ادلب کے تعلق سے فیصلہ کن حملے کی خبر آتے ہی وہاں کے عوام ؛بلکہ عالمی سطح پر شدید بے چینی محسوس کی گئی،ادلب شام کا شمالی مغربی صوبہ ہے،یہاں کی کل آبادی تین ملین ہے ،جبکہ یہاں ساٹھ ہزارشامی انقلابیوں کاٹھکانہ ہے، اسی صوبے کے لگ بھگ ساڑھے تین ہزارکلومیٹرکے علاقے پر اگست 2016ء سے ترکی فوج کا قبضہ ہے،کہتے ہیں کہ اس حصے کو ترکی فوج نے داعش سے خالی کروایاہے اور وہاں ایک مامون و محفوظ آبادی بسانے کے لیے شامی انقلابیوں کی مدد اورامریکہ،یورپ اوراقوامِ متحدہ کو کسی حد تک راضی کرکے اس پر قابض ہے،اس خطے میں کئی اہم شامی بستیاں؍شہرواقع ہیں،جن میں الباب،أعزاز،جرابلس،عفرین وغیرہ شامل ہیں، ادھر ترکی اور روس،اسی طرح ترکی اور ایران کے درمیان خوشگوار ڈپلومیٹک اور تجارتی تعلقات ہیں،جن سے ساری دنیا آگاہ ہے،جبکہ شام کے مسئلے میں ترکی ایک طرف ہے اور روس و ایران دوسری طرف ،ایسے میں ادلب پر متوقع فیصلہ کن حملے کے سلسلے میں ترکی ، روس اور ایران کا کردار اہم تھا؛چنانچہ اس سلسلے میں پندرہ دن قبل طہران میں ایک سہ فریقی اجلاس منعقد ہواتھا،جس میں ادلب پر حملے کے تعلق سے روس اور ترکی کے مابین اختلافات سامنے آئے تھے ،یعنی روس حملے کے حق میں تھا اور ترکی اس کے خلاف تھا،اس کے بعداب 17؍ستمبرکو دونوں ملکوں کے صدوررجب طیب اردوگان اور ولادیمیرپوتن نے روس کے جنوب مغربی شہر ’’سوچی‘‘میں ملاقات کی ہے،یہ ملاقات تین گھنٹے سے زیادہ جاری رہی،جس میں ترکی اور روس کے مابین اقتصادی و تجارتی تعلقات کے علاوہ ترجیحی طورپر شام کی موجودہ صورتِ حال اور ادلب پر متوقع حملے پر بات چیت کی گئی اور دونوں ملکوں نے مل کر ایک معاہدہ کیاہے ۔
اس معاہدے کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں روسی اور ترکی صدور نے یہ اعلان کیاکہ انھوں نے شامی فوج اور اپوزیشن کے مابین ادلب میں ہتھیار وں سے خالی خطے کے قیام پر معاہدہ کیاہے،پوتن نے کہاکہ آنے والے 15؍اکتوبر سے پندرہ سے بیس کلومیٹر تک کا علاقہ ہتھیاروں سے خالی کروا یا جائے گا،ساتھ ہی انھوں نے یہ شرط بھی لگائی کہ ادلب کومسلح ’’انتہا پسندوں اور دہشت گردوں ‘‘سے خالی کروایاجائے،دوسرے یہ کہ ان علاقوں سے خطرناک ہتھیاروں کی منتقلی کاکام ترکی و روسی افواج کی مشترکہ نگرانی میں انجام دیاجائے گا۔جبکہ ترکی کے صدر کاکہناتھاکہ ترکی ادلب میں کسی بھی تحریضی کارروائی پر بندش لگانے کی بھر پور کوشش کرے گا ،ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم نے روس کے ساتھ جن اقدامات پرمعاہدہ کیاہے،وہ عمومی طورپر مسئلۂ شام کے حل میں مؤثر ثابت ہوں گے اور موجودہ خانہ جنگی کے خاتمے اور شام کے مستقبل کے تعلق سے باہمی مذاکرے پرمختلف شامی گروپس کو آمادہ کرسکیں گے۔دونوں ملکوں کے رہنماؤں کی ملاقات کے بعد روسی وزیر خارجہ سرگئی شویگونے کہا کہ ادلب میں کوئی فوجی کارروائی نہیں کی جائے گی،جب ان سے دریافت کیاگیاکہ کیاروس اور ترکی کے مابین ہونے والے اس معاہدے سے شامی حکومت متفق ہے؟توانھوں نے کہاکہ ہم جلد ہی اس معاہدے میں مذکور تمام نکات پر شامی حکومت کی رضامندی حاصل کرلیں گے۔
ایک عربی سیاسی مبصر کے مطابق ترکی نے اس معاہدے میں روس کو اس بات کی ضمانت دی ہے کہ بحیرۂ روم کے آس پاس اورخاص طورپرحمیمیم اور طرطوس میں قائم روس کے ایئر بیسز محفوظ رہیں گے اوراس کے مقابلے میں ادلب میں شامی اپوزیشن کا ہولڈبرقراررہے گا،جس کا مطلب یہ ہے کہ مسئلۂ شام کے پر امن حل کے سلسلے میں آستانہ و جینوا کے طریقۂ کار کو اختیار کیاگیاہے۔
بہرحال اگر اس معاہدے پر حقیقی معنوں میں عمل ہوتاہے ،تواس کا مطلب یہ ہے کہ ادلب پر فیصلہ کن حملہ فی الحال مؤخر ہوگیاہے اوراب ترکی کی ذمے داری یہ ہوگی کہ وہ اپوزیشن کو کسی بھی قسم کی مسلح کارروائی سے روکے ،جبکہ روس کی ذمے داری یہ ہوگی کہ وہ شامی حکومت اور فوج کوادلب میں کسی بھی قسم کی مسلح کارروائی سے باز رکھے۔ادلب کے شہریوں سمیت دنیابھر کی نگاہیں اردوگان اور پوتن کی اس ملاقات پر ٹکی ہوئی تھیں،اس معاہدے کے سامنے آنے کے بعد انھوں نے چین کی سانس لی ہے کہ کم ازکم فوری طورپر تو خطرہ ٹل گیاہے ؛حالاں کہ اس معاہدے پر عمل کی معلنہ تاریخ آنے میں ابھی پچیس دن باقی ہیں اور اس معاہدے میں اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی گئی ہے کہ ان پچیس دنوں میں کیا ہوگا،ہاں فی الحال ادلب میں سکون کا ماحول ہے اور دونوں میں سے کسی بھی جانب سے کوئی فوجی کارروائی سننے میں نہیں آئی ہے۔ویسے کیایہ ایک اندوہناک المیہ نہیں ہے کہ کسی ملک کے محفوظ و مامون رہنے کا انحصار دوباہری ملکوں کی مشیت و رضامندی پرہے؟اس میں قصوروارکون ہے:شامی حکومت،انقلابی گروپس یا وہ ممالک اور طاقتیں ،جو شام کو اپنی فوجی مشقوں کا اڈہ بنائے ہوئی ہیں؟اس پورے ڈرامے میں شام کے عوام کا کردارکیاہے؟جن میں سے پانچ لاکھ تو گزشتہ سات سالوں کے دوران ناحق مارے جاچکے،لگ بھگ آٹھ ملین خانماں برباد ہوچکے،جبکہ پانچ ملین سے زیادہ شامی عوام دنیا کے مختلف ملکوں میں دربدری کی زندگی گزاررہے ہیں
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ شام میں انقلاب حکومت کے تئیں عوام کی بے چینی کی وجہ سے پیدا ہواتھا،مگر وہ خارجی طاقتوں کی مسلسل گھس پیٹھ کی وجہ سے بہ تدریج بدترین بحران کے شکار ہوتے گئے،یہ بحران اب اس حد تک پیچیدہ ہوچکاہے کہ اس کا حل نہ شامی عوام کے لیے ممکن رہااورنہ وہاں کی حکومت حل کر سکتی ہے،باہری طاقتیں ہی اسے حل کرسکتی ہیں اورکیاباہری طاقتیں واقعی مسئلۂ شام کو حل کرنا چاہتی ہیں؟یہ ایک ایسا سوال ہے،جس کا جواب زیادہ تر ’’نہیں‘‘میں ملتاہے؛لہذا گویایہ طے ہے کہ شام کے مستقبل کا فی الحال کوئی مستقبل نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں