226

کہ سنگ وخشت مقیدہیں اورسگ آزاد!

نایاب حسن
چنددن قبل میں اپنے دوستوں (خالدسیف اللہ، ایڈیٹردربھنگہ ایکسپریس اورعبدالباری قاسمی ایڈیٹرقندیل) کے ساتھ رات کے کھانےاورچائے نوشی کے بعدٹہل رہاتھا اوراس دوران قومی سیاست کی مختلف جہتوں پرباتیں بھی ہورہی تھیں،دورانِ گفتگوعبدالباری صاحب نے بتایاکہ ان دنوں اے بی پی نیوزپرآنے والاپنیہ پرسون واجپئی کاخاص پروگرام “ماسٹرسٹروک “جب بھی ٹی وی پرآتاہے، تودرمیان میں باربارسگنل آتاجاتااورپورے پروگرام کے دوران “قطع وبرید “کاسلسلہ جاری رہتاہے،انھوں نے اس پراپنے شبہے کابھی اظہارکیاتھاکہ ہونہ ہو،پرسون کے اس پروگرام کوحکومت کے اشارے پرمتاثرکیاجارہاہو؛ کیوں کہ ابھی کچھ ہی دن قبل جب سے وہ اے بی نیوزمیں آئے تھے اوراپنانیاپروگرام شروع کیاتھا، اس میں زیادہ ترملک کے بنیادی موضوعات ومسائل پرحقائق کی روشنی میں گفتگوکرتے ہوئے خاص طورپرمرکزی سرکاران کے نشانے پرہوتی تھی، ظاہرہے کہ جب قومی میڈیامیں دورچوبیس گھنٹے گائے اورگوبر، طلاق وحلالہ اورمسجدومندر کاکھیل کھیلنے کاچل رہاہو، توایسے میں معقول صحافت کی گنجایش کہاں رہ جاتی ہے! پھرکل بھی ہم نے کسی فیس بک پیج پرایک ویڈیودیکھاکہ ایک شخص پریکٹکلی یہ دکھانے کی کوشش کررہاتھا کہ پنیہ پرسون واجپئی کے پروگرام کے دوران کس طرح ٹی وی کاسگنل عالمِ نزع میں چلاجارہاتھا اورآج بالآخریہ خبربھی آہی گئی کہ پرسون واجپئی اے بی پی نیوزسے الگ ہوگئے یاکردیے گئے ہیں، جب وہ آج آفس پہنچے، توان سے کہاگیا کہ وہ اپناکام کرکے چلے جائیں، ممکن ہے کہ آج ہی ان کے شوکاآخری دن ہو ـ

بہرحال وہ اپنامعمول کاکام نمٹا کردفترسے نکل گئے اوراس کے ساتھ ہی یہ خبرعام ہوگئی کہ انھیں کل سے آفس آنے سے روک دیاگیاہے، اس سے قبل کل ہی کاواقعہ ہے کہ چینل کے ایڈیٹوریل ہیڈملندکھانڈیلکرنے استعفادیاتھا، اسی چینل میں ایک دوسرے بے باک ودوٹوک گفتگوکرنے والے صحافی واینکر ابھیسارشرماہیں، ان کے بارے میں بھی خبرہے کہ انھیں طویل رخصت پربھیج دیاگیاہے، گویاکچھ دن قبل این ڈی ٹی وی کونشانہ بنانے والاسرکاری جبر اب اے بی پی نیوزکے انصاف پسندایڈیٹران اورصحافیوں کوتختۂ مشق بنا رہاہےـ فی الحال توہندوستان کے سیکڑوں چینلوں میں مشکل سے چندایک چینل اوران میں بھی دوچارصحافی ہیں، جنھوں نے واقعی قلم کی آبروقائم رکھی ہے اورخریدوفروخت کے عروج کے دورمیں بھی صحافت کاتقدس برقراررکھے ہوئے ہیں، مگرحاکمِ وقت یہ کیسے برداشت کرسکتاہے کہ اس کی سیاسی لغزشیں سرِ عام آشکارکی جائیں، حکومت کوتووہ چینلزاوران کے زرخریداینکرزاورصحافت کے پردے میں سفاہت پھیلانے والے ناہنجارلوگ پسندہیں، جورات دن مودی مودی کے نعرے لگاتے، حکومت کی غلطیوں کوبھی درست ٹھہراتے،اس کے فرقہ وارانہ ایجنڈے کووسعت دینے کے لیے گلے پھاڑپھاڑکرچلاتے اورناظرین کے ذہن ودل میں مذہبی انتہاپسندی کی سڑانڈپیوست کرتے ہیں ـ ہم نے آج ہی “دکن کرانیکل “میں ایک رپورٹ پڑھی ہے کہ ہندوستان غربت کی شرحِ فیصدکے معاملے میں اپنے پڑوسی ملک پاکستان سے بھی گئی گزری حالت میں ہے، مگرقومی میڈیاپرایک نظرڈالیے، توایسالگتاہے کہ غربت تواس ملک کاکوئی مسئلہ ہی نہیں ہے،2011میں افریقی عربی ملک تیونس میں ایک ریڑھی والے سبزی فروش نے پولیس کی زیادتی کے خلاف احتجاجاخودکشی کرلی، توپوراملک ہل گیاتھا،قیامت خیزمظاہروں کاایساطوفان آیا کہ کئی عشروں سے تختِ اقتدارپرقابض زین العابدین بن علی سوکھے پتے کے ماننداس طوفان میں اڑگیا، مگرہمارے یہاں مہاراشٹرمیں صرف حالیہ چنددنوں میں کم ازکم پانچ کسان اپنی غربت، بے چارگی اورحکومت کی بے حسی سے عاجزآکر خودکشی کرچکے ہیں، ایک کے توخودسوزی کی بھی خبرہے، مگرنیشنل میڈیامیں ڈسکشن کاموضوع دیکھیے تواس کاکہیں نام ونشان نہیں ہے، مظفرپورکاتازہ حادثہ بھی ہندوستان کے لیے عالمی شرمندگی وذلت کاسبب ہے، مگرنہ توبہارکے وزیرِ اعلی اس پرلب کھول رہے ہیں، نہ مودی نے ایک حرفِ مذمت کہااورمیڈیاکاتوخیرکہناہی کیا،یہاں اب تک راہل گاندھی کی جھپی پرمباحثے ہورہے ہیں اوراین آرسی کے نئے ڈرافٹ پرموٹابھائی ہندی سنیماکے ولن جیسے بول بول رہاہے ـ
بہرکیف موجودہ تیرہ وتارہندوستانی سیاسی منظرنامے پرالیکٹرانک میڈیامیں چندہی ایسے چہرے ہیں، جنھوں نے اب تک برسرِ اقتدارقوتوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے سے انکارکیاہے، یہ حکومت نہ انھیں کیسۂ زرکے دام میں پھنساسکی ہے اورنہ سطوتِ شمشیرہی ان کی بے باکی پرلگام لگاسکی ہےـ ظاہرہے کہ ہردورمیں ایسے لوگوں کی جمعیت بہت محدودہوتی ہے،یہ وہ لوگ ہوتے ہیں، جوقلم کی آب اورصحافت کاوقارہوتے ہیں، ان کے دم سے حق گوئی کی روایت کوتسلسل عطاہوتا اورحق نگاری کی رسم آگے بڑھتی ہے، یہ ضمیرکی آوازکوسنتے اور حالات کے جبرکوشکست دینے کاحوصلہ رکھتے ہیں ـ اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حالات انصاف، سچائی، حق پرستی وحق پژوہی کودبانے سے عبارت ہیں، ایسے میں ہراس فرد یاادارے کا زیرِ عتاب آنایقینی ہے، جس کے سرمیں حق اورسچ بولنے کاسوداسمایاہواہے، یہ وہ دورہےکہ جس میں سنگ وخشت مقیداورسگ آزادہیں،یہ دریدہ دہنوں کے بدن دریدہ ہونے کادورہے،ہونہ ہوکہ کشیدہ سری پراصرارکرنے والے سپردِ دارورسن کردیے جائیں، مگربہرکیف ایسے جنوں پیشہ گروہ کاوجودضروری ہے، کہ یہی گروہ حکومتِ وقت کی ایذارسانیوں کوعالم آشکاراکرکے اس کی ستم ایجادیوں کاحصارتوڑسکتاہے؛ لہذاحلقۂ صحافت میں جوسنجیدہ لوگ ہیں یاسماج کے دیگرطبقات کے حقیقت پسندحق گوافراد،سبھوں کواس بدترین غیراعلانیہ ایمرجنسی کے خلاف سینہ سپرہوناچاہیے، سلطانیِ جمہور کے موجودہ دورمیں اگرحاکم طبقہ میڈیاکواپنے قابومیں کرلے یااسے خریدلے یااس کے حقیقت بیانی کے حق کودبانے میں کامیاب ہوجائے، تویہ متعلقہ قوم، ملک اورجمہوریت کے لیے انتہاسے بھی زیادہ شرم وذلت کی بات ہے!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں