108

کہ خوشی سے مر نہ جاتے، اگر اعتبار ہوتا

ڈاکٹر مشتاق احمد

حالیہ پارلیامانی انتخاب کے نتائج پر ہر گلی کوچے میں تبصرہ جاری ہے۔ کہیں خوشی ہے تو کہیں غم بھی ہے اور ایسا ہمیشہ ہوتا رہاہے کہ فاتح سیاسی جماعت کے حلقے میں خوشیاں دکھائی دیتی ہیں تو مفتوح کے مقدر میں مایوسیاں آتی ہیں۔ لیکن اس بار نظارہ کچھ بدلا بدلا سا ہے کہ فاتح کو بھی یہ یقین نہیں تھا کہ اتنی بڑی جیت ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ذرائع ابلاغ کی اکثریت جسے اب گودی میڈیا اور مودی میڈیا کہا جانے لگا ہے وہ اپنی بانہیں پھیلا کر اس کامیابی کو مودی سونامی کا نام دے رہا ہے جب کہ سچائی یہ ہے کہ عوام الناس کے گلے سے اب بھی یہ نتیجہ نہیں اتر رہاہے۔ لیکن اب ہائے توبہ کرکے بھی کیا ہوگا کہ جمہوریت میں اکثریت ہی حکومت پر قابض ہوتی ہے۔ لہذا مودی کی دوسری بار حلف برداری کے بعد بھاجپا کی کلی حکومت قائم ہوگئی ہے۔ اگر چہ گذشتہ مدتِ کارمیں میں بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کے پاس اس کے اپنے ممبرانِ پارلیامنٹ کی ایک بڑی تعداد تھی باوجود اس کے قومی جمہوری اتحاد اس کی مجبوری تھی۔ لیکن حالیہ نتیجے نے پارٹی کو خود مختار بنا دیاہے۔ اب قومی جمہوری اتحاد میں شامل دوسری سیاسی جماعتیں نہ اپنی آنکھیں دکھا سکتے ہیں اور نہ کسی طرح کا سیاسی دباؤ دے کر بلیک میل کی کوشش کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قومی جمہوری اتحاد میں شامل دیگر سیاسی جماعت نئی کابینہ میں شامل ہونے کے لئے زبان تک نہیں کھول رہی ہے۔ البتہ لوک جن شکتی پارٹی کی طرف سے رام بلاس پاسوان اور ممکن ہے کہ جنتا دل متحدہ بھی کابینہ میں اپنی شمولیت کو یقینی بنا لے۔ لیکن اب کوئی ذہنی دباؤ بھارتیہ جنتا پارٹی پر نہیں رہا۔ ساتھ ہی ساتھ حزب اختلاف کا وجود بھی موہوم سا ہوگیا ہے۔ آئینی طورپر کانگریس کو حزبِ اختلاف کا درجہ مل بھی نہیں سکتا لہذا اس بار بھی کانگریس اور دیگر غیر بھاجپائی جماعت بس اپنے وجود کا احساس کراتی رہے گی۔ البتہ راجیہ سبھا میں اپریل 2020کے بعد ہی بھاجپا کسی بھی بل کو اپنے بل بوتے پر پاس کرانے کے قابل ہو سکتی ہے۔ فی الوقت وہ اس پوزیشن میں نہیں ہے۔ لیکن ممکن ہے کہ مدھیہ پردیش اور کرناٹک کی سیاسی بساط الٹ سکتی ہے کہ کرناٹک میں جے ڈی ایس اور کانگریس کے درمیان خلفشار جاری ہے اور پارلیامانی نتائج کے بعد خلیج مزید بڑھ گئی ہے۔ اسی طرح مدھیہ پردیش میں بھی محض چھ ممبرانِ اسمبلی کا فرق رہ گیا ہے اگر وہاں کچھ توڑجوڑہوتا ہے تو وہاں بھی بھاجپا کی واپسی ہو سکتی ہے۔
مختصر یہ کہ نریند رمودی اپنی اس مدتِ کار میں پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور ہوں گے اور اس کا اشارہ بھی ملنے لگا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ وہ حسبِ عادت لفظوں کی بازیگری کے جال میں معصوم لوگوں کو پھانسنے لگے ہیں۔ سنٹرل ہال کی تقریر ہو یا پھر پارٹی کے ارکان سے خطاب ہو انہوں نے آئین پر ہاتھ رکھ کر ملک کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ وہ اس جمہوری نظام کے پاسدار رہیں گے اور آئین کی روشنی میں حکومت چلائیں گے۔مجھے حیرت ہے کہ نریندر مودی کے اس عمل کو ذرائع ابلاغ میں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ وہ ایسا پہلی بار کہہ رہے ہیں۔ ہندوستان کی سیاست میں تھوڑی سی بھی دلچسپی رکھنے والے اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ جب کبھی ہمارے ملک میں اسمبلی یا پارلیامنٹ کے انتخابی عمل میں کوئی شخص شامل ہوتا ہے تو پرچہئ نامزدگی کے وقت ہی یہ عہد لیتا ہے کہ وہ ہندوستان کے آئین کی پاسداری کرے گا پھر فتح یابی کے بعد رکنیت کی حلف برداری میں بھی اس حقیقت کا اعتراف کرتا ہے کہ وہ ملک کے آئین کا محافظ ہوگا اور جب وزارت کی تشکیل ہوتی ہے تو ہر وزیر صدر جمہوریہ کے سامنے یہ حلف لیتا ہے کہ وہ ہندوستان کے عوام الناس کی فلاح وبہبود کے لئے کسی ازم اور ذہنی تعصب وتحفظ اور نظری وفکری امتیازات سے پاک ہو کرکام کریں گے۔جہاں تک نریندر مودی کا سوال ہے تو وہ تقریباًدو دہائی سے آئین اور جمہوری تقاضوں کی پاسداری کا عہد لیتے آر ہے ہیں کہ گجرات میں وزیر اعلیٰ کے طورپر اورپھر 2014میں بہ حیثیت وزیر اعظم ہند عہد لے چکے ہیں۔ گجرات میں آئین اور جمہوری تقاضوں کی کتنی پاسداری کی وہ جگ ظاہر ہے کہ ہندوستان کی تاریخ میں سب سے بڑامسلم نسل کشی کا واقعہ ان کی حکمرانی میں ہی رونما ہوا اور جس سے پوری دنیا میں ہندوستان کی تکثیریت کی عظمت مسخ ہوئی۔ گذشتہ پانچ سالہ مدتِ کار میں بھی جو کچھ ہوا ہے وہ جگ ظاہر ہے۔ اس لئے نریندر مودی وزیر اعظم کی حلف برداری لیتے وقت یا پھر اپنی پارٹی کے کارکنوں کو خطاب کرتے وقت کیا کچھ کہتے ہیں اس کو بنیاد بنا کر ان کے فکری ونظری سمت ورفتار متعین نہیں کئے جا سکتے۔ مگر افسوس ہے کہ قومی ذرائع ابلاغ میں وزیر اعظم نریندر مودی کے اس جملے کو ”سب کا ساتھ، سب کا وکاس“ کے ساتھ اب ”سب کا وشواس“ کے اصول پر کام کریں گے یہ محض خوش فہمی میں مبتلا کرنے والا بیان ہے۔ کیوں کہ جمہوریت میں ہر ایک شہری کے لئے زندگی جینے کے طریقے اور اظہارِ آزادی کے پیمانے طے ہیں اور حکومت کی یہ آئینی اوراخلاقی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ شہری کے بنیادی حقوق کی حفاظت کرے۔ لیکن اب تک کا احتسابی جائزہ یہ حقیقت عیاں کرتا ہے کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ کرتے نہیں اور جو کرتے ہیں وہ کہتے نہیں۔ گذشتہ مدتِ کار میں جس طرح ہجومی تشدد کا بول بالا رہا اس پر بھی ان کے بیان آتے رہے لیکن کیا اس پر روک لگ سکی اور حالیہ پارلیامانی نتیجے کے بعد جس طرح کی ماحول سازی کا آغاز ہوگیا ہے کیا اس سے یہ یقین بندھتا ہے کہ ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی جو کچھ کہہ رہے ہیں اس پر عمل بھی ہوگا؟ حال میں بہار کے بیگوسرائے میں، مدھیہ پردیش میں اور اتر پردیش میں جس طرح کے واقعات رونما ہوئے ہیں وہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ ہمارے وزیر اعظم کا بیان برائے بیان ہے اور ان کے کارکنوں کا عمل برائے عمل ہے۔مگر افسوس صد افسوس کہ چند نام نہاد مسلم رہنما بھی وزیر اعظم کے حالیہ بیان کی قصیدہ خوانی کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ وہ سب اپنے ذاتی مفاد میں کر رہے ہیں۔ یہاں یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ ملک میں جو حالات بن رہے ہیں وہ صرف مسلمانوں کے لئے فکر مندی کا باعث نہیں ہے بلکہ ہر ا س شہری کے لئے تشویشناک ہے جو اس ملک کی تکثیریت کا علم بردار ہے اور ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کا پاسدار ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی حلف برداری کی تقریب میں مغربی بنگال کے ان کارکنوں کے خاندان کے افراد کو مدعو کیا ہے جو پارلیامانی انتخاب کے تشدد میں جاں بحق ہوئے۔ ظاہر ہے کہ بنگال میں انتخابی عمل کے درمیان تشدد کے واقعات ہوتے رہے ہیں۔ اس بار بھی ہوئے ہیں لیکن وزیر اعظم نے یا ان کی پارٹی نے صرف اپنی پارٹی کے ارکان کو ہی مدعو کیا ہے۔ غرض کہ یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ بنگال میں تشدد کے واقعات کو انجام دینے والے غیر بھاجپائی تھے۔جب کہ وزیر اعظم نریندر مودی کہتے ہیں کہ ”جنہوں نے مجھے ووٹ دیا وہ بھی اور جنہو ں نے نہیں دیا وہ بھی ہمارے ہیں“۔ توپھر یہ تضاد کیوں؟ کسی ایک سیاسی جماعت کے خلاف فضا بندی کیوں؟ مغربی بنگال میں دوسری سیاسی جماعت کے ارکان بھی شدید طورپر زخمی ہوئے اور جاں بحق بھی۔دراصل بھارتیہ جنتا پارٹی کی بنیاد فکری طورپر آرایس ایس کی زمین میں پیوست ہے اور آر ایس ایس کا جوموقف رہا ہے وہ بھی جگ ظاہر ہے کہ ظاہر وباطن میں کیا فر ق ہے۔ اس لئے وزیر اعظم کے حالیہ بیان پر خوش ہونا یا پھر بہت ساری امیدیں باندھنا نہ صرف بے وقوفی ہوگی بلکہ نمرود کی بنائی ہوئی جنت میں زندگی گذارنے جیسا ہوگا۔افسوس تو یہ ہے کہ نام نہاد مسلم رہنما بھی مودی جی کے حالیہ بیان کو ان کے اندر آئی تبدیلی کا ثمرہ بتا رہے ہیں۔جب کہ سچائی یہ ہے کہ وہ اس طرح کا بیان سینکڑوں بار دے چکے ہیں اور ان کے ہربیان کے بعد ان کے حامیوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہندوستان کا مطلب ”ہندوتواستھان“ ہے۔جیسا کہ حال ہی میں علی گڑھ کی سابق میئر نے بھی اعلان کیا ہے اور اس سے پہلے انتخابی ماحول میں پرگیہ ٹھاکر نے یہی کچھ کہا تھا جو حقیقتاً بھارتیہ جنتا پارٹی اور ان کے حامیوں کا پوشیدہ موقف ہے۔ غالبؔ نے کیا خوب کہا ہے:

ترے وعدے پہ جئے ہم، تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جا تے، اگر اعتبار ہوتا

                 پرنسپل، سی ایم کالج، دربھنگہ
                                               موبائل:9431414586
                                 ای میل:rm.meezan@gmail.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں