107

کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں


ڈاکٹر منور حسن کمال
آج تعلیم کی اہمیت کل سے زیادہ ہے۔ کل نہ اتنا تیز طرززندگی تھا اور نہ انفارمیشن ٹیکنالونی نے دنیا کو ایک گاؤں میں تبدیل کیا تھا۔ آج جب کہ دنیا سمٹ کر ایک مٹھی میں آگئی ہے اور انگلی کے ایک اشارے سے آپ دنیا کے کسی بھی خطے کے حالات سے آگہی حاصل کرسکتے ہیں تو اس کی اہمیت بھی بڑھ گئی ہے، اسی لیے اس کی ضرورت بھی زیادہ ہے۔

تاریخ کے صفحات پلٹ کر دیکھئے جب کسی قوم پر بحران کے بادل گھر آتے ہیں اور وہ ہوش کے ناخن نہیں لیتی ہے، تو خود بھی قعرمذلت میں چلی جاتی ہے اوراپنی آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک سیاہ باب بن جاتی ہے۔ اس بات سے کسی کو انکارِ مجال نہیں کہ تاریخ میں غارت گری اور غارت گروی نے ہمیشہ چہرے بدلے ہیں اور اس کے لیے جو بہانے تراشے گئے، ان میں کوئی نیاپن نہیں ہے۔ وہی عہدقدیم کے سلسلے آج بھی ہمارے سامنے ہیں۔ انسان نے اپنی زندگی میں جس چیز سے سب سے زیادہ محبت کی ہے، وہ خود اس کی زندگی ہے، لیکن اب حالات کچھ ایسے ہوتے جارہے ہیں کہ یہ زندگی جس سے ہر انسان محبت کرتا ہے، دوسروں کے رحم و کرم پر منحصر ہوتی جارہی ہے۔ ارباب اقتدار نے معصوم انسانوں کی عظمت کو پامال کرنے والوں کو صرف تنبیہ دے کر چھوڑنے کا وتیرہ بنالیا ہے۔ ورنہ کوئی وجہ نہیں تھی اگر ان ملزموں کو جرم کی سان پر کسا جاتا اور ان کو قرارواقعی سزا دی جاتی تو یقینی تھا کہ پھر اس طرح کے واقعات ہندوستان کی تاریخ کا حصہ نہیں بنتے، بلکہ ایک نئی تاریخ رقم ہوتی کہ بادشاہ وقت اپنے مصاحبوں کو بھی جرم کرنے پر قرارواقعی سزا دیتے ہیں، جیسا کہ ایک مغل بادشاہ سے قصہ منسوب ہے کہ اس کے ایک امیر نے ایک دوشیزہ کو اپنی مطلب براری کے لیے اغوا کرالیا تھا، جب اس کی شکایت بادشاہ کو پہنچی تو اس نے اس امیر کو ایسی سزا دی کہ دوبارہ پھر کوئی امیر یا مصاحب اس طرح کی جسارت نہیں کرسکا۔
اس کالم میں یہ بات ایک سے زیادہ مرتبہ کہی جاچکی ہے کہ معاشرے کی تعمیر کے لیے حکومت اور ارباب اقتدار پر تنقید سے کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی۔ اسے اپنے مزاج میں اجتماعی طور پر خوداحتسابی کو شامل کرنا ہوگا۔ صرف حکومتوں پر لعن طعن کرنے سے معاشرے کی زبوںحالی دور نہیں کی جاسکتی، بلکہ معاشرے کی آواز بن جانے والے ریفارمر پیدا کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ حکومتی سطح پر اقلیتوں علی الخصوص مسلمانوں کے لےے جو منصوبے بنائے جاتے ہیں، قوم اور معاشرے کی ان تک رسائی ضروری بنانا بھی نہایت اہم ہے۔ یہ کام قوم کی ملی اور ثقافتی تنظیمیں احسن طریقے سے کرسکتی ہیں، جن کی اگر تاریخ اٹھاکر دیکھی جائے تو بلامبالغہ سیکڑوں کی تعداد ہوگی اور ان کے سربراہان اپنے منشور میں اس بات کو شامل بھی ضرور کرتے ہیں کہ ہم قوم اور معاشرے کی اصلاح کے لیے فلاں، فلاں کام کررہے ہیں۔ لیکن وہ سارے کام نہ صرف کاغذوں اور فائلوں تک محدود ہوتے ہیں، بلکہ اپنے پروگراموں میں وہ ان کی تشہیر بایں انداز کرتے ہیںکہ ان سے بڑھ کر ان سے بہتر آج تک کسی نے کام نہیں کیا ہے اور ان کا آئندہ کا لائحہ عمل بھی اسی نہج پر کام کرنے کا ہے لیکن جب حقیقت کو سامنے لایا جاتا ہے تو ان کی گردنیں جھک جاتی ہیں۔ یہ بات بھی سبھی جانتے ہیں کہ ایسی بہت سی تنظیمیں قوم کے پیسوں سے ہی چل رہی ہیں جب کہ اصلاحات کے نام پر اس کا نتیجہ چند کو چھوڑ کر صفر ہی نظر آئے گا۔
نہایت افسوس ہوتا ہے جب ایسے سیاسی قائدین کے کشکول میں جھانکا جاتا ہے وہ بہرطور خالی ہی نظر آتے ہیں۔ ان میں سے چند ایک چاہے برسراقتدار حکومت کی منظور نظر ہی کیوں نہ ہوں۔ ارباب اقتدار اگر کچھ اصلاحات کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں تو ہمارے ان قائدین کو چاہےے کہ حکومت کے منصوبوں کو عوام تک پہنچانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں اور ان منصوبوں کو ضرورت مندوں ک پہنچائیں۔ اس میں ان کا کچھ خرچ نہیں ہوگا اور قوم کا بھلا ہوگا۔ ہوتا یہ ہے کہ اقلیتو ں کے مفاد کے لیے بنائے گئے منصوبوں سے ملت دور بہت دور رہ جاتی ہے اور دوسری اقلیتیں جن کی تعداد ملک کی سب سے بڑی اقلیت کے مقابلے بہت کم ہے، وہ ان منصوبوں کا فائدہ اٹھالیتی ہےں اور جب ملی قائدین جاگتے ہیں تو اقلیتوں کے لیے مخصوص بجٹ ختم ہوچکا ہوتا ہے اور ملت کے ہاتھ کف افسوس ملتے رہ جاتے ہیں۔ اس کے لیے حکومتی اداروں سے ہم آہنگی بہت ضروری ہے اور وقتاً فوقتاً حکومت کے اقلیتوں کے مخصوص کیے گئے منصوبوں کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے، تبھی معاشرتی ناہمواری کا خاتمہ ممکن ہے۔ قوم کو جگانے کے لیے علامہ اقبال کے اشعار کا مطالعہ کریں تو بہت اچھی وضاحتیں سامنے آتی ہیں۔ انہوں نے ملت کو خود کی محنت سے اپنی دنیا پیدا کرنے کی ہمیشہ تلقین کی۔ ان کا یہ خیال کتنا بلند ہے کہ محنت اور لگن سے دنیا کی ہرچیز کو پایا جاسکتا ہے۔ علامہ اقبال نے ایسے موقع کے لےے کہا تھا:
وہی جہاں ہے ترا جسے تو کرے پیدا
یہ سنگ وخشت نہیں جو تری نگاہ میں ہیں
تلاش اس کی فضاؤں میں کر نصیب اپنا
جہانِ تازہ مری آہ صبح گاہ میں ہے
علامہ اقبال نے ان بچوں سے ہمیشہ محبت کی جو تعلیم کے ذریعہ آسمان کی بلندیوں کو چھونا چاہتے ہیں، جنہوں نے محنت اور صرف محنت کے وسیلے سے کامیابی حاصل کی۔ شوق، لگن اور دلجمعی نے انہیں آگے بڑھنے میں تعاون کیا۔ جن بچوں نے غیرضروری مشاغل کو چھوڑ کر ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں اپنی زندگی صرف کی، کامیابی انہی کا مقدر بنی۔
اکثر زمانے کے حالات سے بے بہرہ اور ہنر کے ذریعہ زندگی گزارنے کو اپنا نصب العین بنانے والے اور ان کے سرپرست یہ کہتے ہیں کہ تعلیم کی ضرورت نہیں ملازمتیں نہیں ملتیں پڑھ لکھ کر کیا کریں گے اس سے تو بہتر ہے کہ کوئی ہنر سیکھ لیں اور دو جون کی روٹی کا انتظام کرلیں۔ لیکن اپنے موقف میں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ روزگار تو مل جاتا ہے، لیکن وہ عزت و شہرت، وہ معیار زندگی کی بلندتعمیر سے گریزاں رہتے ہیں۔ انہیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہےے کہ تعلیم ہماری زندگی میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تعلیم کے حصول کے بعدمعاشی ترقی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ تعلیم ایک ایسا عمل ہے، جو کبھی ختم نہیں ہوتا، انسان پیدائش سے لے کر موت تک کچھ نہ کچھ سیکھتا ہی رہتا ہے۔
آج کا دورجدید علوم و فنون کا دور ہے۔ اگر ہم تکنیکی تعلیم کی بات کریں تو انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تعلیم آج کی تیز رفتار زندگی میں سب سے زیادہ اہم ہے۔ آج کل عموماً سارے کام کمپیوٹر سے ہی انجام دےے جاتے ہیں اور اسی سے فروغ پاتے ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بغیر آج کا انسان ادھورا ہے۔ ایک اچھا تعلیم یافتہ انسان ایک ناخواندہ یا کم تعلیم یافتہ انسان کے مقابلے اپنے کسی خاص ہنر کے ذریعہ پیسہ تو زیادہ کماسکتا ہے، اپنی آمدنی زیادہ کرسکتا ہے، لیکن وہ سوجھ بوجھ اور تعمیری کاموں کی جانب رغبت اس میں یک گونہ کم ہی ہوگی، اس کے ذرائع محدود ہوں گے، اس کے پاس وسائل ہوں گے، لیکن ان کے ساتھ ساتھ مسائل کا انبار بھی ہوگا۔ ان مسائل سے نمٹنے کے لےے جس سوجھ بوجھ اور تعمیری ذہن کی ضرورت ہے اس کے نہ ہونے سے اسے مسائل بوجھ لگیں گے۔ ان سے نبردآزما ہونا اس کے لیے ایک مشکل مرحلہ ہوگا۔ اس کے برعکس تعلیم یافتہ انسان اپنی سوچ اور اپنے علوم و فنون سے حاصل کی گئی علمی دولت سے ہر مشکل مسئلے کو آسانی سے حل کرلے گا۔ اس لیے تعلیم کو اوڑھنابچھونا بنانا ضروری قرار پاتا ہے۔
آج تعلیم کی اہمیت کل سے زیادہ ہے۔ کل نہ اتنا تیز طرززندگی تھا اور نہ انفارمیشن ٹیکنالونی نے دنیا کو ایک گاؤں میں تبدیل کیا تھا۔ آج جب کہ دنیا سمٹ کر ایک مٹھی میں آگئی ہے اور انگلی کے ایک اشارے سے آپ دنیا کے کسی بھی خطے کے حالات سے آگہی حاصل کرسکتے ہیں تو اس کی اہمیت بھی بڑھ گئی ہے، اسی لیے اس کی ضرورت بھی زیادہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ جس طرح بھی ہوسکے تعلیم کے حصول کو آسان بنائیں۔ بڑے بڑے صنعتی ادارے قوم کو وہ دولت نہیں دے سکتے جو چھوٹے چھوٹے تعلیمی ادارے دے سکتے ہیں۔ تعلیمی اداروں کو بھی ایک ایسی صنعت کی شکل میں دیکھا جانا چاہیے ، جہاں سے ہماری جائز ضروریات پوری ہوجائیں اور کم سے کم اخراجات میں تعلیم کا حصول آسان ہوجائے۔ علامہ اقبال کو پھر یاد کیجیے اور سبق لیجیے
اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا
کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں