79

کچھ ایسے ہیں جو مرکر بولتے ہیں


کبیر الدین فاران مظاہری

ناظم مدرسہ قادریہ مسروالا ضلع سرمور ہماچل پردیش
دنیائے فانی کی کوکھ نے ان گنت سپوتوں اور نامور ہستیوں کو جنم دیا اور لاکھوںکو مٹی نے اپنے میں سمولیا دنیانے کتنوں کو یا درکھا اس کی یاد داشت میں گنے چنے ہی لوگ ہیں جو اپنے عظیم کارناموں کے بل پر یاد کئے جانیکے لائق رہے ہیں۔انہیںنابغہ ٔروزگار ہستیوںمیں قطب الاقطاب شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب کاندھلوی ؒ مہاجر مدنی نور اللہ مرقدہ کے اکلوتے فرزند و سچے جانشین پیر طریقت حضرت مولانا محمد طلحہ صاحب کاندھلویؒ کی شخصیت بابرکت بھی ہے جن کا طویل علالت کے بعد میرٹھ کے آنند ہسپتال میں ۱۰؍ذی الحجہ ۱۴۴۰؁ھ مطابق ۱۲؍اگست ۲۰۱۹؁ء بروز پیر کوانتقال ہوگیا اور اسی شب شاہ کمال قبرستان سہارنپور نے اپنے سینے میں سمولیا نماز آخری حضرت مولانا ارشد مدنی نے پڑھائی ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔
تصوف جو کہ دین اسلام اور شریعت محمدیہ کی روح اور اس کا جوہر ہے جس طرح جسم کی بقا ء کیلئے روح کی ضرورت ٹھیک اسی طرح شریعت محمد یہ کی بقا اور دین اسلام کے تحفظ کیلئے تصوف کی ضرورت ہے جس طرح ہر زمانہ اور ہر دور میں عقائد اسلام کی تصحیح و تعلیم دین کے مختلف اعمال عبادات ،معاملات،حلال و حرام کی تمیز کیلئے حق گو متکلمین اور بے باک علماء اور نڈر فقہاء کی ضرورت رہی ہے۔ اسی طرح ہر زمانہ میں اخلاص و احسان اور ارشاد و سلوک سے لوگوں کو واقف کرانے اور اللہ کے بندوں میں اللہ کا ڈر اور اللہ کی سچی محبت پیدا کرنے کیلئے اصحاب تصوف کی ضرورت رہی ہے ۔ انہیں حاملین تصوف کی ایک اہم کڑی ،ایک اہم سلسلہ اور اولیا ء اللہ کے موتیوں کی لڑی کا ایک خوبصورت دانا حضرت پیر صاحب ؒ کی شکل میں گر گیا۔
حضرت پیر صاحبؒ کا دنیا وما فیھا سے قطعی کوئی رشتہ نہ تھا وہ یاد خدا وندی میں ہر آن مستغرق رہتے ا ور آنے جانے والوں کو اخلاص و للہیت کا جام شیریں تقسیم فرماتے حضرت پیر صاحب کو ان گنت اوصاف سے اللہ نے متصف فرمایا تھا ۔اتباع سنت اور حق گوئی ان کی خاص صفت تھی، ان کے ایک مرید مدرسہ قادریہ مسروالا کے مدرس تھے ان کی سالانہ ترقی غیر حاضر ہونے کی وجہ سے ختم ہوگئی۔اسکی وجہ سے انہوں نے مدرسہ چھوڑ دیا کچھ دنو ںکے بعدحضرت پیر صاحبؒ کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ مجھ پر بر افروختہ ہوگئے کئی بار حاضری پر بھی وہ میری طرف متوجہ نہیں ہوئے۔ بندہ نے اس کا اظہار مرشد گرامی حضرت شیخ مولانا محمد یونس صاحب ؒ سے کی حسن اتفاق کہ تھوڑی دیر کے بعد حضرت پیر صاحب ؒ ان کے حجرے میں تشریف لائے تو مسکرا کر فرمایا بھائی طلحہ تم سے لڑائی ہوجائے گی کبیر الدین سے خفا ہونے کی جو وجہ ہے وہ غلط ہے اس سے بھی معلوم کر لو چنانچہ بندہ نے اس استاذ سے متعلق رجسٹر حاضری پیش کیا جس میں ان کی ہفتوں کی غیر حاضری در ج تھی جسے دیکھ وہ متحیر ہوئے غلط فہمی دور ہو گئی اور وہ پہلے کی طرح شفقت فرمانے لگے۔
مدرسہ قادریہ مسروالا کو یہ شرف بھی حاصل رہا کہ وہ دوبا ر یہاں تشریف لائے۔پہلی بار مفسر قرآن حضرت مولانا افتخار الحسن صاحب کاندھلوی ؒ کی مبارک معیت میں اور دوسری بار حضرت مولانا سید محمد شاہد صاحب مدظلہ وحضرت مولانا ملک عبد الحفیظ مکی ؒ اور حضرت الحاج صغیر احمد صاحب لاہوری مدظلہ کے ہمراہ ۔اس وقت آپ نے مدرسہ قادریہ کی مسجد مفتی عبد العزیز کی بنیاد رکھی اور رجسٹر معائنہ میں رقم طراز ہوئے ’’اس ادارہ کو مرکز علم اور تربیت نفوس کیلئے خانقاہ اور رشدو ہدایت کا منبع و چشمہ بنائے ‘‘ حضرت پیر صاحب ؒ عجز و انکساری کیساتھ لوگوں سے پیش آتے ، سنت نبوی ﷺ پر چلنے کی تلقین فرماتے بطورخاص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نمایاںاور مبارک سنت’’ داڑھی‘‘ آنے والے خواہ کوئی بھی ہو اگر ان کے چہرہ پر داڑھی نہ ہوتی تو عشق نبوی ﷺ میں وہ برافروختہ ہوجاتے اور سخت سرزنش فرماتے اور کبھی بھی طمانچہ بھی رسید فرمادیتے اور چلتے وقت ’’داڑھی کا وجوب‘‘ نامی رسالہ جو داڑھی کے وجوب پر دلائل سے پر ہے بطور ہدیہ پیش فرماتے۔
ؒ حضرت پیر صاحب ؒ ایک مخلص وملنسار ،وجیہ وباوقار اور بارعب انسان تھے ،آپ کی گفتگوپر لطف اور پر مغز ہوتی ،وہ اپنی خداداد قابلیت وصلاحیت سے مخاطب کوفوراًتاڑلیتے اور پھر اس کے مزاج ومذاق کا خیال رکھتے ہوئے باوقار انداز میں گفتگو فرماتے ،آپؒ اپنے سے چھوٹا ہو یا بڑا ہر ایک کی بات بہت وقار اور سنجیدگی سے سنتے پھر بہت ہی نرالے اسلوب میں جواب دیتے ،اگر کہیں قابل اصلاح چیز ہوتی تو بغیر کسی خوف وخطراور رورعایت کے اچھوتے انداز میں اس کی اصلاح فرماتے ،آپ درویش صفت اور دوراندیش انسان تھے آپؒ ہمیشہ اختلافی باتوں سے اپنے کو دور رکھتے اور جو ان سے دور رہتے انہیں بھی قریب کرنے کا وہ سنت نبوی ﷺ کا طریقہ خود سلام میں پہل فرماتے اور خبر و خیریت دریافت فرماتے۔
مہمان نوازی اور دا درسی ان کو اپنے والد محترم قدس سرہٗ سے وراثت میں ملی تھی ۔ کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ ان سے ملنے والے کھانا کھائے بغیر رخصت ہوئے ۔وہ مہمان کے مزاج کے مطابق کھانے کا اہتمام کرواتے تھے۔
تبلیغی جماعت سے ان کو خاص مناسبت تھی ، نصائح میں تبلیغی جماعت کی قدرو منزلت ، وقت لگانے اور اس کی اہمیت اور ضرورت پر بسیط گفتگو فرماتے۔
حضرات علماء میں سے جب کسی سے ملاقات ہوتی تو وہ بڑی بڑی عمارتوں کے بجائے گائوں گائوں قیام مکاتب کی ضرورت اور افادیت پر متوجہ فرماتے انہوں نے اپنے ایک مراسلاتی مضمون میں ملک کے نامور ہستیوں اور مرکزی اداروں کو بھی قیام مکاتب کا اپنے ادارہ میں شعبہ کھولنے کا مشورہ دیتے اورقیام مکاتب کیلئے مخصوص رقم مختص کرنے کی تلقین فرماتے۔
حضرت پیر صاحب ؒکی ممتاز اور نمایاں خصوصیت ہمہ وقت ذکرکی تھی اوریہ فکر ان کی عادت ثانیہ بن چکی تھی جب کبھی خالی وقت ہوتا آپ ذکر میں مصروف ہوجاتے ۔
اللہ اللہ ہے تو یاروجان ہے ورنہ یارو جان بھی بے جان ہے۔
ذکر کے متعلق ایک مرتبہ ختم بخاری شریف کے موقع پر ڈنکہ کی چوٹ پر فرمایا تھا کہ میں نے رائیوینڈ خط لکھ دیا اور مرکز نظام الدین میں بھی کہہ دیا کہ کل قیامت کے دن حضرت مولانا الیاس صاحب ؒ سوال کرینگے کہ تم لوگوں نے میرے کام میں تحریف کیوں کی جواب سوچے رکھیے۔(چھ باتوں میں ذکر فکر بھی شامل ہے)
بندہ کو ان کی مبارک معیت میں جن کے ہمراہ محدث عصر حضرت مولانا محمد یونس صاحب ؒ بھی تھے مرکز نظام الدین دہلی حاضری کا موقع ملا ،اسی طرح وہ ایک بار مدرسہ قادریہ مسروالا حضرت مولانا محمد سلمان صاحب دامت برکاتہم ناظم مدرسہ مظاہر علوم کے ہمراہ تشریف لارہے تھے میں نے دیکھا کہ وہ گاڑی میں بیٹھے ذکر جہری میں مصروف رتھے ۔ انہیں جن دنیوی ادائوں سے نفرت تھی ان میں تصویر کشی بھی تھی وہ کبھی اپنی تصویر نہیں کھینچ نے دیتے اور اس کی حرمت پر وہ جمے ہوئے تھے۔ وہ ایک قدامت پسنداکابرین کی ذہنیت کی سچی تصویر تھے جس میں سنت نبوی ﷺ کی ادائیں اور سلف و خلف کا طرز پنہا تھا اس لئے وہ ہراس طریقہ سے پر ہیز کرتے جو ہمارے اسلاف کو نا پسند تھا۔
ایک بار جمعیت العلماء ہند کے زیر اہتمام دہلی میں اجلاس ہورہا تھا جس میں وزیر اعظم جناب منموہن سنگھ صاحب بھی بطور مہمان خصوصی تشریف لائے جہاں تصویر کشی بھی ہورہی تھی آپ کی کرسی منموہن سنگھ کے ساتھ تھی اور آپ اجلا س کے ختم تک اپنی پیٹھ عوام کی طرف کئے ہوئے تھے تاکہ آپ کا چہرہ کیمرہ کے سامنے نہ آسکے ۔ اسی طرح کمپیوٹر سے بھی ان کو بڑی نفرت تھی جب اس کی شروعات ہوئی تو کمپیوٹر کا نام آپ نے ٹیلیویزن رکھا تھا ،قلندر ہرچہ گوید دیدہ گوید کے بمصداق آج کمپیوٹر نے اپنی فحش اور عریاںاور غیر شرعی تصاویر کے اظہا ر میں ٹیلی ویزن کو بھی پس پشت ڈالدیاہے۔ آپ کسی مجلس،دفتر اور کمرے میں اس وقت تک نہیں بیٹھتے جب تک کہ کمپیوٹر پر پردہ نہ ڈالدیا گیا ہو ۔
آپ کے مرید خاص سورت گجرات میں ایک کمپنی کے افتتاح پر جہاں دفتر ی امور کیلئے کمپیوٹر لگا تھا جب تک کہ اس پر پردہ نہ ڈالدیا گیا آپ تشریف نہیں لے گئے۔ وہ مدارس اسلامیہ میں اپنے اکابر کے طرز پر عصری علوم پڑھائے جانے کے شدید مخالف تھے ۔ چند سالوں سے انہوں نے ان مدرسوں میں تشریف لانا چھوڑ دیا تھا جہاں ہندی اور انگریزی داخلہ نصاب تھی ۔
سچ ہے کہ مدرسوں میں پرائمری کے علاوہ اگر کورس میں عصری نصاب شامل کر دیا جائے تو مدرسہ کی کیفیت نہ ملا بنے نہ مسٹر کا مترادف ہوجاتاہے۔ یہ ایک طویل بحث ہے جس کا ذکر یہا ںمناسب نہیں ۔
واقعہ ہے کہ پیر صاحبؒ کی حیثیت کچھ ایسی تھی کہ کچھ لوگ مرتے ہیں تو ایک آنکھ بھی ان پر رونے والی نہیں ہوتی لیکن کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اِدھر سے اُدھر تک کی فضامیںملال و اندوہ کا غبار بکھر تا چلاجاتاہے اور کوئی گِن نہیں سکتا کہ کتنی آنکھیں اشکوں سے شرابور ہوجاتی ہیں ۔
جس وقت دنیا کو ایسے عالم روحانی ،مخلص اور مردم ساز شخصیت کی سب سے زیادہ ضرورت تھی ایسی ہستی کا امت کے بیچ سے اٹھ جاناایک ایسے ستون کا گرجانا ہے جو ملت اسلامیہ کی گری دیوار کا سہارا بناہوا تھا ۔جو ایک خاص دور کی آخری یادگار تھے جس سے اللہ نے ہمیں ہمیشہ کیلئے محروم کردیا ۔یااَسفیٰ۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ جب ہم کسی صاحب فکروکمال سے محروم ہوجاتے ہیں جن کے برگ وبارکا سایہ سر پر رہنا ازبس کہ ضروری تھا اور جب وہ لحد میں سوجاتے ہیں تو ہم سر نوچتے ہیں اور نوحہ خوانی کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔مشعلیں گل ہوتی جارہی ہیں ۔ راستہ گم ہوگیا۔منزلیں اوجھل ہوگئیں۔رہبر ہمیشہ کیلئے سوگئے۔ تارے ٹوٹ رہے ہیں ۔ ظلمت کی تہیں اور دبیز ہوتی جارہی ہیں ۔اک دیا اور بجھا اور بڑھی تاریکی۔ جیسے کلمات حسرت ویاس محفلوں میں بکھیرتے اور اخباروں کی سرخی بناتے ہیں، اے کاش !جو لوگ اوروں کی طرح حضرت پیر صاحب ؒ ؒ کی محبت کے دعوے دار ہیں انہیں اب ماتم و سیون اور قصیدہ سرائی سے جلد فراغت حاصل کر لینی چاہئے اور عقیدت کا حقیقی تقاضہ ہے کہ جس جہد مسلسل کو حضرت مولانائے مرحوم ؒنے اپنایا تھا ہمیں بھی اسی کو حرز جاںبنا لینا چاہئے۔
’’کھائوں کہاں کی چوٹ بچائوں کہاں کی چوٹ ‘‘کہ مرُدوں سے مرُادیں اور زندوں سے بے رغبتی کا یہ شیوہ اب ختم کردینا چاہئے
مرحوم کا حق تو یہ ہے کہ فراموش کردہ واقعات کو زندگی عطاکر باحیات اکابرین ملت ، روحانی اور علمی شخصیات کا تذکرہ محفل ومجالس ،منبرومحراب اور رسل ورسائل میں کریں تاکہ دنیا ان کی علمی وروحانی اور بابرکت صحبت وقربت سے کشکول مراد کو پر کر سکے۔اسلئے جینے والوں کی بھی قدر کیجئے مرنے والا اپنی تعریف نہیں سنتا ؎
کچھ اپنی زندگی میں مرچکے ہیں ٭ کچھ ایسے ہیں جو مر کربولتے ہیں
کچھ دنوں قبل ان کی اہلیہ محترمہ کا وصال ہوگیا تھا ایک وفادار نیک صالح رفیق حیات اور ان کے مشن بطور خاص حضرت کے مہمانوں کی خاطر داری کیلئے فرش راہ بنی ہوئی بیوی کی جدائی کی وجہ سے ان پر حزن والم کی کیفیت طاری رہتی تھی اور وہ اسی حال میں مالک حقیقی سے جا ملے۔ اللہ ان کی قبروں پر کھربوں رحمتوں کی سدا بارش برساتا رہے ؎
آسماں تیر ی لحد پر سشبنم افشانی کرے سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

E-mail:faran78699@gmail.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں