262

کنہیاکماراورمسلم قیادت کارونا: مسئلہ کیاہے؟

رشیدودود

برسوں پہلے مشرف عالم ذوقی کا ایک ناول پڑھا تھا،شاید ‘آتش رفتہ کا سراغ تھا، یہ کتاب میری لائبریری میں موجود ہے، جہاں تک میری یادداشت کام کر رہی ہے تو اس ناول کا ایک سیکولر کردار بھی اصل میں سنگھی ہی تھا لیکن مسلمان سیکولر کے گم شدہ بچے نے اپنے عمل کے ذریعے اُس سنگھی کے نقلی سیکولرازم کا مکھوٹا کھینچ کر رکھ دیا تھا، میرا خیال ہے کہ میرے دوستوں نے حال ہی میں شاید یہ ناول پڑھا ہے، تبھی تو ان کے ذہن پر کنہیا کمار کی برہمنیت سوار ہے-
اب تھوڑی دیر رک کر کے میں خالد عمر کو یاد کرنا چاہتا ہوں، خالد اور کنہیا میں وہی فرق ہے جو منموہن اور مودی میں ہے، ایک بولتا کم ہے، دوسرا بولتا بہت زیادہ ہے، شاید اسی لئے کنہیا کو میڈیا کوریج زیادہ ملا، جبکہ آکار پٹیل جیسے دانشوروں نے ہمیشہ کنہیا پر عمر خالد کو ترجیح دیا ہے-
ان دنوں کنہیا ہمارے دوستوں کی گرم گفتاری کا شکار ہے، وجہ ہے اس کا برہمن ہونا، اب مجھے ایک کتاب اور یاد آ رہی ہے، ایس ایم مشرف کی ‘کرکرے کا قاتل کون، اس کتاب کے مطالعے سے یہ حقیقت بھی آشکارا ہوتی ہے کہ برہمن ہونا اور ہے اور برہمنیت اور ہے، کنہیا کمار، رویش کمار اور ابھے کمار برہمن ہیں لیکن اب تک برہمنوں کی ہندو فرقہ پرستی کے خلاف ان لوگوں نے سد سکندری کا کردار ادا کیا ہے، جس طرح سے ہر یہودی صیہونی نہیں ہوتا، اسی طرح سے ہر برہمن برہمن واد کا شکار نہیں ہوتا-
اب مجھے ایک سروے اور یاد آ رہا ہے، یہ سروے انل چمڑیا نے 2004 میں کیا تھا، اس سروے کا خلاصہ یہ تھا پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا دونوں کے کلیدی عہدوں پر 65 فیصد برہمن قابض ہیں، اب تو یہ تناسب اور بھی زیادہ بڑھ گیا ہوگا، اس لئے کہ اس عرصے میں ہم نے سونے کے علاوہ کوئی اور کام نہیں کیا ہے-
کہا جا سکتا ہے کہ یہی قابض طبقہ کنہیا کو ضرورت سے زیادہ کوریج دے رہا ہے لیکن یہ کوریج آج سے نہیں شروع ہی سے کنہیا کو مل رہی ہے، یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اسی قابض طبقے نے عمر خالد کو نظر انداز کیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں؟ ہماری ترجیحات میں آج بھی پہلے نمبر پر جلسہ ہے، صرف ایک سیزن ملت جلسہ نہ کرے تو سرمایہ داروں کی گرفت سے آزاد ایک ایسے میڈیا ہاؤس کے قیام کا خواب دیکھا جا سکتا ہے جو آزاد ہو، بے غرض ہو، فرقہ پرست نہ ہو، پروفیشنل ہو-
کنہیا کامریڈ ہیں اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ہندوستان کی کمیونسٹ پارٹیاں ہندو فرقہ پرستوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتیں، اسی لئے کمیونسٹ پارٹیوں کا وجود ہندوستانی سیاست میں بہت ضروری تھا لیکن کانگریس نے مہاراشٹر میں کمیونسٹ پارٹیوں کو توڑنے کیلئے کبھی بال ٹھاکرے کو استعمال کیا تھا، اب یہ الگ بات ہے کہ ٹھاکرے نے بعد میں کانگریس کے وجود ہی پر سوالیہ نشان لگا دیا لیکن یہ کمیونسٹ پارٹیاں مغربی بنگال، کیرالہ اور تریپورہ میں متحرک رہیں، جیوتی باسو اور لالو پرساد یادو دونوں کا سیکولرازم شک و شبہے سے بالا تر ہے، دونوں نے اپنے اپنے صوبوں میں ہندو فرقہ پرستوں پر لگام لگائے رکھا، کوئی ہندو و مسلم فساد نہیں ہونے دیا لیکن یہ بھی اتنا ہی سچ ہے کہ دونوں نے مسلمانوں کو پنپنے بھی نہیں دیا، بات دور چلی گئی، ہم گفتگو کر رہے تھے کنہیا پر، کنہیا بیگو سرائے سے کمیونسٹ پارٹی کے امیدوار ہیں، بھاجپا سے گری راج ہیں اور لالو کی پارٹی سے تنویر ہیں، کنہیا اور تنویر دونوں بہار سے ہیں، میں بہار سے نہیں ہوں لیکن میں کنہیا کو جانتا تھا، تنویر کا نام ان دنوں سنا ہے، بات پھر اسی میڈیا کوریج کی آئے گی، سوال یہ ہے کہ بیگو سرائے کے سیکولر ووٹر کسے ووٹ دیں، تنویر کو یا کنہیا کو، اس کا فیصلہ بیگو سرائے کی عوام ہی کو کرنے دیں لیکن اس فیصلے میں اب ہمارے دوست بھی ایک فریق کا کردار ادا کر رہے ہیں، ہمارا بس اتنا ہی کہنا ہے کہ کنہیا ہوں یا تنویر، دونوں کی حمایت یا مخالفت مذہب کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہئے-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں