118

کلیم عاجزؔ: ایک بلند قامت شاعر و ادیب


ڈاکٹر ممتاز احمد خاں
سابق اسو سی ایٹ پروفیسر
یونیورسٹی ڈپارٹمنٹ آف اُردو
رابطہ: 09852083803

بی-آر -اے، بہار یونیورسٹی، مظفرپور (بہار)

کلیم عاجزؔ ]ولادت: اا؍اکتوبر ۱۹۲۶ء –*وفات: ۱۵؍فروری ۲۰۱۵ء[ جدید اردو غزل کی آبرو تھے۔ انھوں نے پوری زندگی نہایت انہماک، یکسوئی اور جذب و خلوص کے ساتھ شعر و ادب کی زلفیں سوارنے کا کام انجام دیا۔ آج کی دنیا میں جہاں مادّی وسائل اور جاہ و منصب کے حصول نے انسان کو دیوانہ بنا دیا ہے، کلیم عاجزؔ اپنی شاعری اور نثری تخلیقات کے ذریعہ اعلیٰ روحانی اور جمالیاتی احساسات کی شمعیں روشن کرتے اور اخلاقی و انسانی قدروں کے پھول بکھیرتے رہے۔ انھوں نے شعر و ادب کی تخلیق کے ایسے خوبصورت اور لافانی نقوش اُبھارے ہیں کہ ان کا نام ہماری تہذیب اور ہمارے ادب کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوچکا ہے۔ خصوصاً ان کی شاعری ہند و پاک کی سرحدوں سے بھی آگے مشرقِ وسطیٰ اور یورپ و امریکہ کی اردو آبادی کو اپنی سحر میں باندھ چکی ہے۔ کلیم عاجزؔ کے چاہنے والوں اور عقیدت مندوں کی تعداد کا شمار نہیں کیا جاسکتا۔ اُن کے اشعار ہزاروں لاکھوں انسانوں کے حافظوں میں محفوظ اور زبانوں پر رواں ہیں۔ کلیم عاجزؔ کی شاعری کے پانچ مجموعے ہیں :

(۱) وہ جو شاعری کا سبب ہوا۔ (غزلوں کا مجموعہ)، تین بار اردو میں اور ایک بار دیوناگری رسم الخط میں شائع ہو، اشاعت اول ۱۹۷۶ء۔
(۲) جب فصلِ بہاراں آئی تھی۔ (غزلوں کا مجموعہ)، ۱۹۹۰ء
(۳) کوچۂ جاناں جاناں۔ (نظمو ں کا مجموعہ)، ۲۰۰۲ء
(۴) پھر ایسا نظارہ نہیں ہوگا۔ (ابتدائی غزلوں اور نظموں کا مجموعہ)، ۲۰۰۸ء
(۵) ہاں چھیڑو غزل عاجزؔ۔ ۲۰۱۵ء
کلیم عاجزؔ کی غزلیں مشرق و مغرب کی اردو آبادی میں پڑھی اور سنی جارہی ہیں اور پڑھنے اور سننے والے اُن پر وجد کررہے ہیں۔ اسی طرح کلیم عاجزؔ کی نثری تحریروں اور مضامین کے دس مجموعے چھپ کر اہلِ ذوق سے دادِ تحسین وصول کرچکے ہیں۔ نثر میں ان کی تصانیف حسب ذیل ہیں :
(۱) مجلسِ ادب (رپورتاژ)۔ مطبوعہ ۱۹۵۹ء۔ طبعِ ثانی ۱۹۷۸ء
(۲) یہاں سے کعبہ، کعبہ سے مدینہ۔ (سفرنامۂ حج)
(۳) اِک دیس ایک بدیسی۔ (سفرنامۂ امریکہ)
(۴) جہاں خوشبو ہی خوشبو تھی۔ (خودنوشت)
(۵) ابھی سن لو مجھ سے۔ (خود نوشت)
(۶) دیوانے دو۔ (مکاتیب)
(۷) دفترِ گم گشتہ : بہار میں اردو شاعری کا ارتقا۔ (تحقیقی مقالہ)
(۸) پہلو نہ دُکھے گا۔ (مجموعۂ مکاتیب)
(۹) میری زباں میرا قلم۔ (متفرق مضامین کا مجموعہ)، حصہ اول
(۱۰) میری زباں میرا قلم۔ (متفرق مضامین کا مجموعہ)، حصہ دوم
کئی ہزار صفحات پر پھیلے ہوئے کلیم عاجزؔ کی نثری تحریرات کا یہ سرمایہ ان کی ادبی قامت کی بلندی کی دلیل ہے۔ ان کی شاعری کی طرح ان کی نثر بھی اپنی کیفیت و کمیت یعنی قدر و قیمت اور مقدار و ضخامت کے اعتبار سے ہمارے ادب کا قیمتی سرمایہ ہے۔ کلیم عاجزؔ صاحب کو جیتے جی جو مقبولیت ، شہرت اور ہر دل عزیزی نصیب ہوئی، وہ بہت کم فن کاروں کے حصے میں آتی ہے۔ کلیم عاجزؔ زندگی ہی میں ایک لیجینڈ (Legend) بن چکے تھے۔ ان کا نام بہت ادب و احترام سے علم و ادب کے حلقوں میں لیا جاتا تھا۔ ان کی محبوبیت و مقبولیت کا دائرہ بہت وسیع تھا۔ وہ صرف شاعروں اور ادیبوں کے درمیان عزت کی مسند پر نہیں بٹھائے جاتے تھے بلکہ عام پڑھے لکھے انسانوں، طالب علموں، اسلامی علوم کے ماہرین، زندگی کے دوسرے شعبوں میں کام کرنے والے باذوق دردمند و دیدہ ور دانشور حضرات سب کے درمیان اُن کی قدر و منزلت تھی، سب کے دل میں ان کا احترام تھا، سب ان کے اشعار کے عاشق تھے، ان کی تحریروں کے سب گرویدہ تھے۔ اور آج جب وہ ہمارے درمیان سے اُٹھ گئے ان کی عزت، ان کی مقبولیت ، ان کی محبوبیت، ان کی چاہت اور بڑھ گئی ہے۔ ان کے رخصت ہونے کے بعد رسالوں اور اخباروں میں جس طرح اُن سے متعلق مضامین تواتر و تسلسل سے لکھے جارہے ہیں، اندازہ ہوتا ہے کہ آنے والے زمانوں میں ان کی شاعری اور ان کی تخلیقات کا مطالعہ اور بھی ذوق و شوق، سنجیدگی اور انہماک سے ہوگا اور ان پر مضامین اور کتابیں لکھنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ان کے اشعار کی گونج اردو آبادی میں سنی جاتی رہے گی اور ان کا درد بہت دنوں تک اردو والوں کو تڑپائے گا۔
شاعری : کلیم عاجزؔکی شخصیت کا سب سے تابناک پہلو ان کی شاعری ہے۔ ان کی شاعری پر ان کی شخصیت کی گہری چھاپ ہے۔ ان کی شاعری میں ان کی اپنی آواز صاف سنائی دیتی ہے۔ ان کے لہجے کی انفرادیت، ان کے جذبات و احساسات کی صداقت، ان کی لفظیات کی نُدرت اور ان کے بیان کا تیور، یہ سب مل کر ان کی غزل کو انفرادی آہنگ عطا کرتے ہیں۔ جدید اردو غزل میں کلیم عاجزؔ کی اپنی شناخت ہے۔ ان کا کوئی شعر پڑھیے تو سننے والا بے ساختہ بول اٹھتا ہے کہ یہ کلیم عاجزؔ کا شعر ہے۔ شاعری میں ایسا منفرد اسلوب پیدا کرنا بہت مشکل کام ہے۔ اس میں صرف باکمال فن کاروں کو کامیابی ملتی ہے۔
شاعری کلیم عاجزؔ کا جز وقتی مشغلہ نہ تھی۔ یہ ان کا کل وقتی مشغلہ (Pursuit) تھی۔ یہ ان کا اوڑھنا بچھونا تھی، یہ ان کی شخصیت کا جزوِ لاینفک تھی۔ وہ اپنی شاعری میں جیتے تھے، وہ شاعری میں سوچتے، شاعری میں روتے اور گاتے تھے، شاعری میں گفتگو کرتے تھے۔ شاعری میں اپنے محبوب سے جھگڑتے تھے، اسے جلی کٹی سناتے تھے، اُس پر طنز کے تیر برساتے تھے، اس کو سمجھاتے تھے، اس کو نیکی اور راست بازی کی تلقین کرتے تھے، اس کو ظلم و ستم چھوڑ کر محبت و الفت اختیار کرنے کی دعوت دیتے تھے۔ اس شاعری میں وہ اپنی خودی اور خودداری کا اعلان بھی کرتے تھے۔
کلیم عاجزؔ کے اسلوب کا بانکپن اور ان کے لب و لہجے کی انفرادیت برسوں کی ریاضت کا ثمرہ ہیں۔ انھوں نے انہماک و استغراق سے اردو کے کلاسیکی شاعروں کے دواوین کا مطالعہ کیا اور اپنے سینے کے داغوں کو ہمیشہ تازہ رکھا، یہ دونوں کام آسان نہیں ہیں۔ اردو شاعری کی روح کو اپنی گرفت میں لینا، پھر اپنی الگ راہ بنانا، نہایت مشقت اور جگرکاوی کا کام ہے۔ عاجزؔ کی شاعری میں جو سوز و گداز ہے، اُس کا سرچشمہ ان کی اپنی زندگی کے بعض اندوہ ناک سانحات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں سچائی کا لہو دوڑتا ہے جسے ہر حسّاس دل محسوس کرلیتا ہے۔ یہ بات بھی صحیح ہے کہ کلیم عاجزؔ کو زبان و بیان پر جو ماہرانہ قدرت حاصل ہے، وہ ان کے جذبات و احساسات کو کلام دلنواز کے قالب میں ڈھالنے میں ممد و معاون ہوئی ہے۔ عاجزؔ نے اپنے ذاتی سانحہ کو اس طرح شاعری کی زبان عطا کی ہے کہ ان کا غم غمِ روزگار بن گیا۔ اس صفت نے ان کے کلام کو آفاقیت سے ہم کنار کردیا ہے۔
کلیم عاجزؔ کی شاعری میں انسان دوستی اور انسانی دردمندی کی لَے صاف سنائی دیتی ہے۔ انسان دوستی اور انسانی دردمندی ان کے قلبی احساسات کی ترجمان ہے۔ یہی سبب ہے کہ کلیم عاجزؔ کی غزل میں بعض تلخ و ترش باتیں بھی شیریں معلوم ہوتی ہیں۔ ان کے مزاج میں جو سلاست روی ہے اور ان کے دل میں انسانی ہمدردی کے جو جذبات پائے جاتے ہیں، یہ ان کی مذہبی تربیت کی دین ہیں۔ عاجزؔکا محبوب ستم شعار اور جفاجو ہے، لیکن عاجزؔ اس سے نفرت نہیں محبت کرتے ہیں۔ اُسے آئینہ دکھاتے ہیں، اس کی زلفوں کو سنوارنے کا جذبہ رکھتے ہیں اور اس کی زلفوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے بوئے وفا کی دعا مانگتے ہیں۔ کلیم عاجزؔ مشرقی تہذب و شرافت کے نمایندہ ہیں۔ ان کی شاعری میں ان کی مشرقیت، شرافت اور شائستگی کا بھرپور اظہار ہوا ہے۔ ان کی شاعری میں ان کی قلندری اور خسروی دونوں دیکھی جاسکتی ہیں۔ عاجزؔ کی شاعری ہمیں گرد و پیش سے آگاہ و باخبر بھی کرتی ہے اور گرد و پیش کے جبر سے اوپر اُٹھنے کی دعوت بھی دیتی ہے۔ ان کی شاعری ہمیں پست ہمتی، شکست خوردگی اور مسکینی کی طرف نہیں لے جاتی۔ یہ ہمیں استقامت و عزیمت، پامردی و بہادری، حق گوئی و حق پسندی کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔ یہ ہمارے اندر سربلندی اور سرفرازی کا ولولہ اور شوق پیدا کرتی ہے۔ عاجزؔ کے شعروں کا آہنگ بہ بانگِ دُہل ان کی بے باکی اور بہادری کا اعلان کرتا ہے :

(۱) وہ جو شاعری کا سبب ہوا۔ (غزلوں کا مجموعہ)، تین بار اردو میں اور ایک بار دیوناگری رسم الخط میں شائع ہو، اشاعت اول ۱۹۷۶ء۔
(۲) جب فصلِ بہاراں آئی تھی۔ (غزلوں کا مجموعہ)، ۱۹۹۰ء
(۳) کوچۂ جاناں جاناں۔ (نظمو ں کا مجموعہ)، ۲۰۰۲ء
(۴) پھر ایسا نظارہ نہیں ہوگا۔ (ابتدائی غزلوں اور نظموں کا مجموعہ)، ۲۰۰۸ء
(۵) ہاں چھیڑو غزل عاجزؔ۔ ۲۰۱۵ء
کلیم عاجزؔ کی غزلیں مشرق و مغرب کی اردو آبادی میں پڑھی اور سنی جارہی ہیں اور پڑھنے اور سننے والے اُن پر وجد کررہے ہیں۔ اسی طرح کلیم عاجزؔ کی نثری تحریروں اور مضامین کے دس مجموعے چھپ کر اہلِ ذوق سے دادِ تحسین وصول کرچکے ہیں۔ نثر میں ان کی تصانیف حسب ذیل ہیں :
(۱) مجلسِ ادب (رپورتاژ)۔ مطبوعہ ۱۹۵۹ء۔ طبعِ ثانی ۱۹۷۸ء
(۲) یہاں سے کعبہ، کعبہ سے مدینہ۔ (سفرنامۂ حج)
(۳) اِک دیس ایک بدیسی۔ (سفرنامۂ امریکہ)
(۴) جہاں خوشبو ہی خوشبو تھی۔ (خودنوشت)
(۵) ابھی سن لو مجھ سے۔ (خود نوشت)
(۶) دیوانے دو۔ (مکاتیب)
(۷) دفترِ گم گشتہ : بہار میں اردو شاعری کا ارتقا۔ (تحقیقی مقالہ)
(۸) پہلو نہ دُکھے گا۔ (مجموعۂ مکاتیب)
(۹) میری زباں میرا قلم۔ (متفرق مضامین کا مجموعہ)، حصہ اول
(۱۰) میری زباں میرا قلم۔ (متفرق مضامین کا مجموعہ)، حصہ دوم
کئی ہزار صفحات پر پھیلے ہوئے کلیم عاجزؔ کی نثری تحریرات کا یہ سرمایہ ان کی ادبی قامت کی بلندی کی دلیل ہے۔ ان کی شاعری کی طرح ان کی نثر بھی اپنی کیفیت و کمیت یعنی قدر و قیمت اور مقدار و ضخامت کے اعتبار سے ہمارے ادب کا قیمتی سرمایہ ہے۔ کلیم عاجزؔ صاحب کو جیتے جی جو مقبولیت ، شہرت اور ہر دل عزیزی نصیب ہوئی، وہ بہت کم فن کاروں کے حصے میں آتی ہے۔ کلیم عاجزؔ زندگی ہی میں ایک لیجینڈ (Legend) بن چکے تھے۔ ان کا نام بہت ادب و احترام سے علم و ادب کے حلقوں میں لیا جاتا تھا۔ ان کی محبوبیت و مقبولیت کا دائرہ بہت وسیع تھا۔ وہ صرف شاعروں اور ادیبوں کے درمیان عزت کی مسند پر نہیں بٹھائے جاتے تھے بلکہ عام پڑھے لکھے انسانوں، طالب علموں، اسلامی علوم کے ماہرین، زندگی کے دوسرے شعبوں میں کام کرنے والے باذوق دردمند و دیدہ ور دانشور حضرات سب کے درمیان اُن کی قدر و منزلت تھی، سب کے دل میں ان کا احترام تھا، سب ان کے اشعار کے عاشق تھے، ان کی تحریروں کے سب گرویدہ تھے۔ اور آج جب وہ ہمارے درمیان سے اُٹھ گئے ان کی عزت، ان کی مقبولیت ، ان کی محبوبیت، ان کی چاہت اور بڑھ گئی ہے۔ ان کے رخصت ہونے کے بعد رسالوں اور اخباروں میں جس طرح اُن سے متعلق مضامین تواتر و تسلسل سے لکھے جارہے ہیں، اندازہ ہوتا ہے کہ آنے والے زمانوں میں ان کی شاعری اور ان کی تخلیقات کا مطالعہ اور بھی ذوق و شوق، سنجیدگی اور انہماک سے ہوگا اور ان پر مضامین اور کتابیں لکھنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ان کے اشعار کی گونج اردو آبادی میں سنی جاتی رہے گی اور ان کا درد بہت دنوں تک اردو والوں کو تڑپائے گا۔
شاعری : کلیم عاجزؔکی شخصیت کا سب سے تابناک پہلو ان کی شاعری ہے۔ ان کی شاعری پر ان کی شخصیت کی گہری چھاپ ہے۔ ان کی شاعری میں ان کی اپنی آواز صاف سنائی دیتی ہے۔ ان کے لہجے کی انفرادیت، ان کے جذبات و احساسات کی صداقت، ان کی لفظیات کی نُدرت اور ان کے بیان کا تیور، یہ سب مل کر ان کی غزل کو انفرادی آہنگ عطا کرتے ہیں۔ جدید اردو غزل میں کلیم عاجزؔ کی اپنی شناخت ہے۔ ان کا کوئی شعر پڑھیے تو سننے والا بے ساختہ بول اٹھتا ہے کہ یہ کلیم عاجزؔ کا شعر ہے۔ شاعری میں ایسا منفرد اسلوب پیدا کرنا بہت مشکل کام ہے۔ اس میں صرف باکمال فن کاروں کو کامیابی ملتی ہے۔
شاعری کلیم عاجزؔ کا جز وقتی مشغلہ نہ تھی۔ یہ ان کا کل وقتی مشغلہ (Pursuit) تھی۔ یہ ان کا اوڑھنا بچھونا تھی، یہ ان کی شخصیت کا جزوِ لاینفک تھی۔ وہ اپنی شاعری میں جیتے تھے، وہ شاعری میں سوچتے، شاعری میں روتے اور گاتے تھے، شاعری میں گفتگو کرتے تھے۔ شاعری میں اپنے محبوب سے جھگڑتے تھے، اسے جلی کٹی سناتے تھے، اُس پر طنز کے تیر برساتے تھے، اس کو سمجھاتے تھے، اس کو نیکی اور راست بازی کی تلقین کرتے تھے، اس کو ظلم و ستم چھوڑ کر محبت و الفت اختیار کرنے کی دعوت دیتے تھے۔ اس شاعری میں وہ اپنی خودی اور خودداری کا اعلان بھی کرتے تھے۔
کلیم عاجزؔ کے اسلوب کا بانکپن اور ان کے لب و لہجے کی انفرادیت برسوں کی ریاضت کا ثمرہ ہیں۔ انھوں نے انہماک و استغراق سے اردو کے کلاسیکی شاعروں کے دواوین کا مطالعہ کیا اور اپنے سینے کے داغوں کو ہمیشہ تازہ رکھا، یہ دونوں کام آسان نہیں ہیں۔ اردو شاعری کی روح کو اپنی گرفت میں لینا، پھر اپنی الگ راہ بنانا، نہایت مشقت اور جگرکاوی کا کام ہے۔ عاجزؔ کی شاعری میں جو سوز و گداز ہے، اُس کا سرچشمہ ان کی اپنی زندگی کے بعض اندوہ ناک سانحات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں سچائی کا لہو دوڑتا ہے جسے ہر حسّاس دل محسوس کرلیتا ہے۔ یہ بات بھی صحیح ہے کہ کلیم عاجزؔ کو زبان و بیان پر جو ماہرانہ قدرت حاصل ہے، وہ ان کے جذبات و احساسات کو کلام دلنواز کے قالب میں ڈھالنے میں ممد و معاون ہوئی ہے۔ عاجزؔ نے اپنے ذاتی سانحہ کو اس طرح شاعری کی زبان عطا کی ہے کہ ان کا غم غمِ روزگار بن گیا۔ اس صفت نے ان کے کلام کو آفاقیت سے ہم کنار کردیا ہے۔
کلیم عاجزؔ کی شاعری میں انسان دوستی اور انسانی دردمندی کی لَے صاف سنائی دیتی ہے۔ انسان دوستی اور انسانی دردمندی ان کے قلبی احساسات کی ترجمان ہے۔ یہی سبب ہے کہ کلیم عاجزؔ کی غزل میں بعض تلخ و ترش باتیں بھی شیریں معلوم ہوتی ہیں۔ ان کے مزاج میں جو سلاست روی ہے اور ان کے دل میں انسانی ہمدردی کے جو جذبات پائے جاتے ہیں، یہ ان کی مذہبی تربیت کی دین ہیں۔ عاجزؔکا محبوب ستم شعار اور جفاجو ہے، لیکن عاجزؔ اس سے نفرت نہیں محبت کرتے ہیں۔ اُسے آئینہ دکھاتے ہیں، اس کی زلفوں کو سنوارنے کا جذبہ رکھتے ہیں اور اس کی زلفوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے بوئے وفا کی دعا مانگتے ہیں۔ کلیم عاجزؔ مشرقی تہذب و شرافت کے نمایندہ ہیں۔ ان کی شاعری میں ان کی مشرقیت، شرافت اور شائستگی کا بھرپور اظہار ہوا ہے۔ ان کی شاعری میں ان کی قلندری اور خسروی دونوں دیکھی جاسکتی ہیں۔ عاجزؔ کی شاعری ہمیں گرد و پیش سے آگاہ و باخبر بھی کرتی ہے اور گرد و پیش کے جبر سے اوپر اُٹھنے کی دعوت بھی دیتی ہے۔ ان کی شاعری ہمیں پست ہمتی، شکست خوردگی اور مسکینی کی طرف نہیں لے جاتی۔ یہ ہمیں استقامت و عزیمت، پامردی و بہادری، حق گوئی و حق پسندی کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔ یہ ہمارے اندر سربلندی اور سرفرازی کا ولولہ اور شوق پیدا کرتی ہے۔ عاجزؔ کے شعروں کا آہنگ بہ بانگِ دُہل ان کی بے باکی اور بہادری کا اعلان کرتا ہے :

اِس غریبی میں بھی چلتے ہیں سر اونچا کرکے
ہم بھی اے دوست کُلہ دار ہیں اپنے گھر کے
تم تو مصروفِ چراغاں تھے تمھیں کیا معلوم
اس دِوالی میں دیے بجھ گئے کتنے گھر کے
کلیم عاجزؔ کی شاعری کی مقبولیت اور اثر انگیزی کا ایک راز اس کی غنائیت میں مضمر ہے۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے رہے کہ کلیم عاجزؔ کا ترنم ان کی غزل کو فسوں کار و سحرطراز بنا دیتا ہے۔ بلاشبہ عاجزؔ کے ترنم اور ان کی آواز کے سوز و درد کی سحرانگیزی کا ایک زمانہ قائل رہا ہے، لیکن آج بھی ان کی غزل کسی اچھے پڑھنے والے یا گانے والے کو دی جائے تو اس کا وہی اثر اور لطف قائم ہوگا جو عاجزؔ کے پڑھنے سے ہوتا تھا۔ انھوں نے اپنی غزل کی اس خوبی کا ذکر خود بھی کیا ہے۔ مثلاً :
اِک اچھے مغنّی کو عاجزؔ کی غزل دینا
عاجزؔ کی شاعری لفظوں کے انتخاب اور بنیادی لسانی ڈھانچے کے اعتبار سے عوامی زبان سے قریب ہے۔ عوامی بول چال کے الفاظ، محاورے اور اظہار کے پیرایے ان کے یہاں کثرت سے ملتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار سادہ و سہل ہوتے ہیں اور سب کی سمجھ میں آتے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ان کی غزلوں میں فارسی کی ترکیبیں یا عربی کے الفاظ استعمال نہیں ہوئے ہیں۔ بلاشبہ ہوئے ہیں لیکن ان کی زبان اور ان کا ذخیرۂ الفاظ (Diction) بنیادی طو رپر عوامی زبان ہی پر مبنی ہے۔ اور صرف زبان کی سطح پر ہی نہیں، مواد و موضوع کے اعتبار سے بھی کلیم عاجزؔ کی شاعری سادگی کے زیور زیب تن کرتی ہے۔ ان کی شاعری فلسفیانہ جہتیں (Dimensions) نہیں رکھتی۔ عاجزؔ فلسفیانہ تصورات کا شوق و شغف نہیں رکھتے۔ وہ سامنے کی بات، دل کی بات، سامنے کی زبان میں کرتے ہیں اور سخن کا جادو جگاتے ہیں۔
ان کی شاعری کی ایک اور خصوصیت جو اُبھر کر قاری کے سامنے آتی ہے، وہ یہ کہ ان کی غزل کے تقریباً تمام اشعار ایک ہی کیفیت، ایک ہی موڈ میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کی غزلوں میں پایا جانے والا یہ تسلسل ان میں خاص زور اور شدتِ احساس پیدا کرتا ہے۔ پروفیسر کلیم الدین احمد نے ان کی غزل سے متعلق جو اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا ہے تو اس کی ایک وجہ یہ بھی معلوم ہوتی ہے۔
کلیم عاجزؔ کی شاعری میں حق و باطل کی ایک معرکہ آرائی نظر آتی ہے۔ ظالم و مظلوم کی کشاکش ملتی ہے۔ ان کا محبوب، ظلم و جور کا نمایندہ ہے۔ شاعر اور شاعر کی صف میں شامل دوسرے لوگ اس مقابل کے جور و جفا کی زد پر ہیں لیکن شاعر اپنے محبوب کو ہمہ وقت یاد رکھتا ہے۔ ظالم و مظلوم کی اس کشاکش اور رزم آرائی میں کلیم عاجزؔ کی شاعری چمک اُٹھّی ہے۔ اس میں ظلم و ستم اور مصائب و آلام کے کتنے ہی فسانے سمٹ آئے ہیں۔
کلیم عاجزؔ کی شاعری ان کے دل کی آہ و فغاں ہے۔ اس میں عجیب بے ساختگی، خلوص اور سچائی کا جمال ہے۔ کلیم عاجزؔ نے جب یہ کہا :
یہ پکار سارے چمن میں تھی وہ سَحر ہوئی وہ سَحر ہوئی
مرے آشیاں سے دھواں اُٹھا تو مجھے بھی اس کی خبر ہوئی
تو یہ آواز ان کے دل سے اٹھی تھی، اس لیے کہ ان کا اپنا آشیاں جلا تھا۔ حالانکہ اس امرِ واقعہ یا سچائی یا صورتِ حال سے متعلق اپنے اپنے تاثرات و خیالات دیگر شاعروں نے بھی بیان کیے۔ مثال کے طور پر فیض احمد فیضؔ نے کہا :
یہ داغ داغ اُجالا، یہ شب گزیدہ سَحر
اور سردار ؔجعفری نے کہا :
سکوں میسر جو ہو تو کیونکر ہجومِ رنج و مِحن وہی ہے
بدل گئے ہیں اگرچہ قاتل، نظامِ دار و رَسن وہی ہے
لیکن کلیم عاجزؔ نے جس درد اور تڑپ سے اُس سانحے کا ذکر کیا ہے، کسی اور نے نہیں کیا۔
عاجزؔ کی شاعری میں ایک عجیب تخلیقی وفور ہے۔ ان کی غزلوں میں بہت سے اشعار ہوتے ہیں مگر بھرتی کے اشعار بالکل نہیں ہوتے۔ ان کی شاعری پند و پیغام، دعوتِ حق اور تبلیغِ خیر سے پہلو تہی نہیں کرتی، لیکن ان کی شاعری کو ہم Didactic کہہ کر اُس کی قدر و قیمت کم نہیں کرسکتے۔
عاجزؔ نے جس وقت شاعری شروع کی تھی اُس وقت اقبالؔ اردو کی روایتی غزلیہ شاعری سے بالکل جداگانہ آہنگ میں غزلیں لکھ چکے تھے۔ ہماری غزلیہ شاعری کا غالب رجحان عشقیہ مضامین کی طرف رہا ہے۔ ولیؔ، میرؔ، مصحفیؔ، مومنؔ سے حسرتؔ موہانی اور فراقؔ گورکھ پوری تک اردو غزل عشق و عاشقی کے مضامین سے معمور ہے۔ کلیم عاجزؔ کی غزل میں اس نوع کے عشقیہ اشعار بالکل نہیں ملتے۔ عاجزؔ نے اردو کی غزلیہ روایت سے صرف عاشق اور محبوب کا کردار لے لیا ہے اور انھیں مجازی عاشق و محبوب کی سطح سے اٹھاکر استعارہ بنادیا ہے۔ عاشق مظلوم ہے اور معشوق ظالم، جفا جو، کینہ پرور اور نت نئے ستم ڈھانے والا ہے۔ عاشق کلیم عاجزؔ خود ہیں یا ان کے جیسے بہت سے افراد جو حادثاتِ زمانہ کے ستائے ہوئے ہیں اور معشوق وہ گروہ یا صاحبانِ اقتدار ہیں جنھوں نے کلیم عاجزؔ اور ان کے جیسے کمزوروں کو خاک و خون میں تڑپایا، ان کی تہذیب، سماجی حیثیت اور ان کے جان و مال کو نقصان پہنچایا اور ہمہ وقت نقصان پہنچانے کے درپے رہتے ہیں۔ عاجزؔ کی شاعری کا ایک ایسا قاری جو الفاظ کے روایتی معنی اخذ کرکے شعر سمجھنا چاہے گا تو اسے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ لیکن جب کلیم عاجزؔ کے اِنھی الفاظ کو استعارہ سمجھے گا تو ان کی شاعری کے گہری معنویت آشکارا ہوگی۔ مثال کے طور پر ان کے یہ اشعار لیجیے :
کس ناز کس انداز سے تم ہائے چلو ہو
روز ایک غزل ہم سے کہلوائے چلو ہو
رکھنا ہے کہیں پاؤں تو رکھّو ہو کہیں پاؤں
چلنا ذرا آیا ہے تو اِترائے چلو ہو
کہ ان اشعار میں ’’تم‘‘ سے اگر معشوقِ مجازی یعنی نسوانی حسن مراد لیا جائے گا تو یہ اشعار عاشقانہ سے آگے بڑھ کر فاسقانہ شاعری کے زُمرے میں داخل ہوجائیں گے۔ اس لیے عاجزؔ کی شاعری میں حسنِ نسوانی اور عشقِ مجازی کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ البتہ یہ بات بھی صحیح ہے کہ ان کی شاعری میں روایتی شاعری کے الفاظ ہی کے استعمال سے چٹخارہ پیدا ہوا ہے۔ میری مراد یہ ہے کہ محبوبِ مجازی سے چھیڑ چھاڑ کے لیے جو الفاظ ہماری روایتی غزلیہ شاعری میں ملتے ہیں، ان سے خوب کام لیا گیا ہے۔ البتہ ان الفاظ کے معنی و مفہوم یکسر بدل گئے ہیں۔ کلیم عاجزؔ نے اپنی شاعری کے مختلف ادوار کا ذکر کرتے ہوئے خود اس مسئلے پر روشنی ڈالی ہے :
’’میری شاعری کو عموماً تین دَور میں تقسیم کیا جاسکتا ہے: (۱)زخم خوردہ ہونے کا دود، (۲)زخم دینے والوں کی پہچان، (۳) تیسرا دَور جس میں زخم دینے والے ایک شخص میں سمٹ آئے ہیں اور پھر مستقلاً وہی شخصیت تنہا میری غزلوں کا محبوب بن جاتی ہے۔ اس شخصیت میں علامت کی ایک پوری دنیا سما گئی ہے۔ یہ بڑی بھرپور اور جامع شخصیت ہے۔ غزل کے روایتی محبوب کی تمام خصوصیتیں اس میں زندہ ہوگئی ہیں۔‘‘
(پیش لفظ: ’جب فصلِ بہاراں آئی تھی‘، ۱۹۹۰ء)
کلیم عاجزؔ کی شاعری کے جن خصائص پر سطورِ بالا میں روشنی ڈالی گئی ہے، ان کو مدلل بنانے کے لیے اشعار یا تو نقل نہیں کیے گئے یا کم نقل کیے گئے۔ یہاں قارئین کرام کی خدمت میں عاجزؔ کی دو غزلوں کے منتخب اشعار نقل کیے جاتے ہیں جن میں عاجزؔ کی شاعری کی بیش تر خصوصیات دیکھی جاسکتی ہیں :
(۱) دن ایک ستم، ایک ستم رات کرو ہو
وہ دوست ہو دشمن کو بھی تم مات کرو ہو
ہم خاک نشیں، تم سخن آرائے سرِ بام
پاس آکے ملو دُور سے کیا بات کرو ہو
یوں تو کبھی منہ پھیر کے دیکھو بھی نہیں ہو
جب وقت پڑے ہے تو مدارات کرو ہو
ہم کو جو مِلا ہے وہ تمھیں سے تو ملا ہے
ہم اور بھلا دیں تمھیں، کیا بات کرو ہو
دامن پہ کوئی چھینٹ، نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
بکنے بھی دو عاجزؔ کو جو بولے ہے بکے ہے
دیوانہ ہے، دیوانے سے کیا بات کرو ہو
———
(۲) وہ ستم نہ ڈھائے تو کیا کرے، اسے کیا خبر کہ وفا ہے کیا
تو اُسی کو پیار کرے ہے کیوں، یہ کلیمؔ تجھ کو ہواہے کیا ؟
تجھے سنگدل! یہ پتا ہے کیا، کہ دُکھے دلوں کی صدا ہے کیا
کبھی چوٹ تو نے بھی کھائی ہے کبھی تیرا دل بھی دُکھا ہے کیا ؟
تو جفا میں مست ہے روز و شب، میں کفن بدوش و غزل بلب
ترے رعبِ حسن سے چپ ہیں سب، میں بھی چپ رہوں تو مزا ہے کیا؟
تو رئیسِ شہرِ ستم گراں، میں گدائے کوچۂ عاشقاں
تو امیر ہے تو بتا مجھے، میں غریب ہوں تو بُرا ہے کیا ؟
ابھی تیرا عہدِ شباب ہے، ابھی کیا حساب و کتاب ہے
ابھی کیا نہ ہوگا جہان میں، ابھی اس جہاں میں ہوا کیا ہے کیا ؟
کلیم عاجزؔ کی شاعری میں آزاد ہندوستان کی اردو آبادی نے اپنے جذبات، اپنے مصائب و مشکلات اور اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی، تذلیل و تحقیر کی ترجمانی دیکھی، تو حسّاس اور تعلیم یافتہ طبقے نے ان کی شاعری کی پذیرائی بھی خوب کی۔ آج کلیم عاجزؔ کے بے شمار اشعار ہماری روزمرہ کی گفتگو اور سوچ کا حصہ بن چکے ہیں، اس لیے بسا اوقات ان کے اشعار ضرب الامثال کے طور پر پڑھے جاتے ہیں۔ ایسے چند اشعار بہ طورِ نمونہ ملاحظہ ہوں :
اپنا تو کام ہے کہ جلاتے چلو چراغ
رستے میں خواہ دوست کہ دشمن کا گھر ملے
خرد زنجیر پہناتی رہے گی
جو دیوانے ہیں دیوانے رہیں گے
بات چاہے بے سلیقہ ہو کلیمؔ
بات کہنے کا سلیقہ چاہیے
رکھنا ہے کہیں پانو تو رکھّو ہو کہیں پانو
چلنا ذرا آیا ہے تو اِترائے چلو ہو
اور عاجزؔ کے بہت سے اشعار کا صرف ایک مصرع ضرب المثل کی طرح پڑھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر :
ع کیا بات ہے، کیا بات ہے، کیا بات ہے ساقی
ع تمھی رُسوا سرِ بازار ہو گے ہم نہیں ہوں گے
ع سب آپ کی بخشش ہے، عنایت ہے، کرم ہے
ع پاس آ کے مِلو دُور سے کیا بات کرو ہو
ع ہم اور بھُلا دیں تمھیں کیا بات کرو ہو
کلیم عاجزؔ کی شاعری پر بے شمار لوگوں نے لکھا ہے اور اپنے اپنے زاویے سے ان کی شاعری سے متعلق اپنے خیالات بیان کیے ہیں۔ یہاں میں صرف اردو کے مشہور ادیب و فنکار کنھیّا لال کپور کے مضمون کے دو جملے نقل کرنا چاہتا ہوں جو انھوں نے ’’وہ جو شاعری کا سبب ہوا‘‘ کی اشاعتِ اول کے بعد لکھا تھا :
’’وہ غزل نہیں کہتا جادو جگاتا ہے، شاعری نہیں کرتا ساحری کرتا ہے۔ وہ جب نغمہ سرا ہوتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے کسی بسیط و عریض ویرانے میں کوئی زخمی فرشتہ فریاد کررہا ہے، سسکیاں بھر رہا ہے۔‘‘
اسلوبِ نثر : کلیم عاجزؔ صاحبِ طرز شاعر کے ساتھ ساتھ صاحبِ طرز نثر نگار اور انشا پرداز بھی ہیں۔ کلیم عاجزؔ کا اسلوبِ نثر نہ کسی کے اسلوب کی نقل ہے نہ کسی کا چربہ۔ یہ نثر ان کے مخصوص مزاج، ان کے مخصوص زاویۂ نظر اور ان کے خاص افکار و عقائد، ان کی پسند و ناپسند، ان کے مطالعہ و مشاہدہ، ان کے آلام و مصائب، ان کی یادوں اور ان کے حافظے کے دفینوں میں رکھے جواہر پاروں سے مزیّن و آراستہ، معمور و مملو ہے۔ ان کی نثر میں ان کو پیش آنے والے حادثات و سانحات کا ذکر ہے، ان کو ملنے والی کامیابیوں کا بیان ہے، ان کے اساتذہ کے مرقّع ہیں، ان کے دوستوں کے خاکے ہیں۔ ان کے گاؤں کی صبحیں اور شامیں اور ان کی انگنائی کے نقشے ہیں۔ اُن کی دُکان جو بی-این کالج پٹنہ کے سامنے تھی، وہاں آنے جانے والوں اور وہاں سے نظر آنے والے مناظر کا بیان ہے۔
کلیم عاجزؔ کی خود نوشتوں اور سفرناموں کی خوبی یہ ہے کہ ان میں خشک اور سپاٹ رپورٹیں بیان نہیں ہوئی ہیں بلکہ ان میں مصنف کے تخیل کا رنگ اور ان کے جذبات کی گرمی، ان کے مطالعہ اور غور و فکر کی سنجیدگی ہے۔ ان کی نثر میں ان کی دل سوزی، دردمندی اور فکرمندی ٹپکتی ہے۔ وہ انسانی قدروں کے زوال، تہذیبِ انسانی کی بربادی، مادّیت کی ریل پیل، انسانیت و شرافت کی تباہی کے ماتم کناں و نوحہ خواں ہیں۔
کلیم عاجزؔ کی نثر میں وضاحت و صراحت اور حددرجہ سادگی ہے۔ وہ تکلف سے نہیں لکھتے۔ اجمال، ابہام اور پیچیدہ بیانی انھیں پسند نہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ نثر لکھنا خیال کو آئینہ بنانا ہے۔ اس لیے وہ وضاحت کا دامن کہیں نہیں چھوڑتے۔ ان کے جملے سادہ، عموماً مختصر، بے ساختہ و برجستہ ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ پھوہڑ اور بے سلیقہ انداز میں لکھتے ہیں۔ ان کے یہاں اردو کا معیاری لب و لہجہ اور مستند محاوروں کی پیروی و پابندی ملتی ہے ۔اور یہ اس سبب سے ہے کہ انھوں نے کلاسیکی اور اعلیٰ درجے کے نثر نگاروں کو خوب پڑھا ہے۔ خواجہ حسن نظامی، آغا حشر کاشمیری، ابوالکلام آزاد وغیرہ کی تحریروں کو جس نے جھوم جھوم کر پڑھا ہو اور جذب کیا ہو، اُس کی زبان بلند سطح سے کیونکر گر سکتی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ آغا حشر کے ڈرامے انھوں نے تھیٹر میں خوب دیکھے اور ان کے مکالمے انھوں نے بار بار سنے۔ ان کی یاد داشت نے ان مکالموں، محاوروں اور جملوں کو محفوظ رکھا۔اسی طرح کلیم عاجزؔ نے اردو کی مشہور داستانیں ’’طلسمِ ہوشربا‘‘ اور ’’داستانِ امیر حمزہ‘‘ وغیرہ کی ضخیم جلدیں ذوق و شوق سے پڑھیں۔ کلیم عاجزؔ کی نثر اگر خوبصورت، معیاری اور اردو کی نثری روایات سے ہم آہنگ و ہم قدم ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ انھوں نے اردو کے صاحبِ طرز انشا پردازوں کی تحریروں کو خوب پڑھا اور جذب کیا۔
کلیم عاجزؔ کی نثر کی ایک اور خصوصیت اس کا اطناب ہے۔ وہ کھول کھول کر اور پھیلا کر لکھتے ہیں۔ اس لیے ان کی تحریر میں ایک فراوانی اور فراخی کا احساس ہوتا ہے، انقباض اور تنگی کا نہیں۔ وہ جزئیات نگاری میں بھی یدِ طولیٰ رکھتے ہیں۔ منظر و ماحول کی تصویرکشی، شخصیات کے مرقعے، واقعات کے اُتار چڑھاؤ کو بیان کرتے ہوئے وہ صفحے کا صفحہ سیاہ کردیتے ہیں۔ ان کی نثر بظاہر بڑی سادہ نظر آتی ہے لیکن ذرا تامل کی نظر سے ان کی نثر کا تجزیہ کیجیے تو اس میں سادگی کے ساتھ ساتھ اور پہلو بہ پہلو مرصّع کاری اور پُرکاری بھی ملے گی۔ ان کی نثر کا جو آہنگ قائم ہوتا ہے اس میں لفظ کی تکرار، مترادفات کے استعمال اور صَرفی و نحوی اجزا کی تکرار اور ہم آہنگی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ ان کی عبارتوں میں جابجا قافیے بھی آجاتے ہیں۔ مگر یہ قافیے ایسے برجستہ و بے ساختہ ہوتے ہیں کہ نثر کی فطری روانی متاثر و مجروح نہیں ہوتی۔ ان کی نثر میں جو زور ہے، خطابت کا جو آہنگ اور گفتگو کا جو لب و لہجہ ہے اس میں لفظوں کی تکرار، مترادفات کے استعمال اور صَرفی و نحوی اجزا کے اعادے کا خاص عمل دخل ہے۔ چند اقتباسات ملاحظ ہوں تاکہ دعوے کی دلیل قائم ہو :
(الف) ’’یہ بوریہ نشینوں، فلک سیروں، عرش خیالوں کی زبان ہے۔ عاشقوں ، دیوانوں، آشفتہ حالوں کی زبان ہے۔ یہ فقیروں کی، دردمندوں کی، غم نصیبوں کی زبان ہے۔ یہ زخمی سینوں، ٹوٹے دلوں، بھیگی آنکھوں کی زبان ہے۔ جنھیں ان سے تعارف نہیں، ان سے آشنائی نہیں، ان سے میل جول نہیں، ان سے ہم آہنگی نہیں وہ کتاب رکھ دیں۔‘‘ (دیباچہ: ص و ’جہاں خوشبو ہی خوشبو تھی‘)
(ب) ’’ہم کریں گے گزرے ہوئے کل کی بات۔ جب جام تھا، جامِ جم نہیں تھا، ساقی کی نظر میں سم نہیں تھا، اندیشۂ بیش و کم نہیں تھا۔‘‘ (ایضاً: صفحہ ۲۰۵)
(ج) کلکتہ بڑا شہر ہے، پیچیدگیوں کا شہر،۔۔۔۔۔۔۔۔ مختصر یہ کہ زندگی کے جتنے جلوے ہیں، جتنے کرشمے ہیں، جتنے گوناگوں پردے ہیں، قدم قدم پر اُٹھتے اور گرتے نظر آتے ہیں۔ لوگ کھو جاتے ہیں، محو ہوجاتے ہیں، گم ہوجاتے ہیں، بِک جاتے ہیں، بدل جاتے ہیں۔ میں کچھ نہ ہوسکا۔ کلکتے کو میں کیا بدل سکتا لیکن کلکتہ بھی مجھے بدل نہیں سکا۔‘‘ (ایضاً: صفحہ ۸۱)
(د) ’’اجنتا اور ایلورا والوں نے زمین کے اندر غاروں میں شمعیں جلائیں جن کی روشنی اوپر نہیں آتی، اس ڈر سے کہ اوپر اور باہر شاید طوفانوں اور سیلابوں سے یہ شمعیں بجھ جائیں۔ ہم نے گلیوں میں، راستوں میں، میدانوں میں، صحراؤں میں، جنگلوں میں چراغ روشن کردیے؛ اس اعتماد سے کہ بجھیں گے تو پھر اور چراغ جلا دیں گے۔‘‘ (مضمون ’لال قلعہ: ماضی حال مستقبل‘، مطبوعہ روزنامہ ایثار پٹنہ، ۱۹؍فروری ۱۹۸۶ء)
ڈاکٹر کلیم عاجزؔ کے اسلوبِ نثر کی ایک خصوصیت اس کا تخلیقی وفور ہے۔ کلیم عاجزؔ کے پاس کہنے اور لکھنے کے لیے بہت ہے۔ ان کے پاس مواد کی کمی نہیں۔ وہ مضمون نگار بننے اور مصنف کہلانے کے لیے نہیں لکھتے۔ بلکہ ان کے پاس سچ مچ لکھنے کے لیے بہت سی باتیں، بہت سے تجربات و خیالات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریر میں زور بھی ہے اور تاثیر بھی۔ اور جس کی تحریر میں زورِ بیان اور تاثیرِ بیان نہ ہو تو وہ صاحبِ اسلوب بھی نہیں ہوسکتا۔ انگریزی کے مشہور ادیب اور ڈراما نگار جارج برنارڈ شا نے بالکل صحیح لکھا ہے :
’’ایک سچّا اور اصلی اسلوب کبھی اسلوب کے لیے نہیں ہوتا۔ تاثیرِ بیان اسلوب کا اول و آخر ہے۔ جس کے پاس کہنے کے لیے کچھ نہیں ہے، اس کا کوئی اسلوب نہیں اور ہو بھی نہیں سکتا۔ جس کے پاس کہنے کے لیے کچھ ہے، وہ اسلوب کی طاقت کو وہاں تک پہنچائے گا جہاں تک بات کی اہمیت اور اس کا اعتقاد اسے لے جائے گا۔‘‘ (دیباچہ ’مَین اینڈ سوپر مَین)
کلیم عاجزؔ کی نثر میں تخلیقی وفور اور زورِ بیان کے ساتھ ساتھ ایک طرح کی سرمستی و سرشاری ملتی ہے۔ اس میں مصنف کی کلہ داری اور کج کلاہی دونوں ہی کی جھلک پائی جاتی ہے۔ ان کا مخصوص اسلامی و اخلاقی زاویۂ نظر ہر جگہ نظر آتا ہے۔ افراد، واقعات اور اشیاء سب کو وہ اسی زاویے سے دیکھتے ہیں۔
کلیم عاجزؔ اپنے مخصوص اسلامی افکار و عقائد اور مذہبی نقطۂ نظر کے باوصف ایک کشادہ نظر اور انسان دوست مصنف و فن کار ہیں۔ ان کے یہاں ایسی رواداری اور انسانی ہمدردی پائی جاتی ہے جو سارے عالم کے انسانوں کو ایک سطح پر لاکر کھڑا کرتی ہے۔ ان کی نثری تحریروں میں بے شمار افراد کی تصویریں، مرقعے اور خاکے ہیں۔ ان کی تحریروں میں جو افراد ملتے ہیں وہ مختلف مذاہب،مختلف ممالک، مختلف زبانوں اور مختلف طبقات کے ہیں۔ کلیم عاجزؔ کے فن کی یہ جمہوریت دیدنی ہے۔ ان کی تحریروں میں ماسٹر ترپاٹھی، شرن سنگھ انکم ٹیکس آفیسر، کے این شرما انکم ٹیکس آفیسر، شیوپوجن سنگھ (مصنف کی دکان کے منشی)، پروفیسر ہِل، جے ایس ہارڈ مین (انگریز کلکٹر پٹنہ)، مولوی محمد لاڈلے (جو حدیث اور قرآن کا درس اپنی کوٹھری میں دیتے تھے)، اوسیوا خالہ (مصنف کے گھر کی ملازمہ) کے علاوہ ان کے دوست غلام سرور، سید علی عباس صاحب (ڈی آئی جی ریلوے) اور فخرالدین وِنک (تاجر) بھی ہیں۔ ان میں ان کے اسکول اور کالج کے اساتذہ بھی ہیں، پٹنے کے شاعروں اور ادیبوں میں بڑے بڑے نامور لوگ بھی، ایسے شاعر، ادیب اور صحافی بھی جو اپنا کام کرگئے اور اب جنھیں کوئی نہیں جانتا۔ سلطان احمد صاحب (مدیرِ اتحاد)، بیتاب صدیقی (ریاستی انجمن ترقی اردو کے سکریٹری)، عبدالقیوم انصاری، نواب حیدر امام ایڈوکیٹ، سید محمد ایوب وغیرہ تو خیر ایسے لوگ تھے جن کو آج بھی بہت سے لوگ جانتے ہیں۔ مگر کلیم عاجزؔ نے مذکورہ اشخاص کے علاوہ ایسے افراد و اشخاص سے بھی ہماری ملاقات کرائی ہے جو ہماری تہذیب کی آبرو تھے، لیکن جن کو آج کوئی نہیں جانتا۔ جو اپنی وضع داری اور کلہ داری کی مثال قائم کرگئے۔ جناب نظام صاحب جو پٹنہ کلکٹریٹ میں کلرک تھے، ان کا مرقع کلیم عاجزؔ کی خود نوشت ’’ابھی سن لو مجھ سے‘‘ میں پڑھ لیجیے۔
کلیم عاجزؔکے اسلوبِ نثر کی ایک بڑی صفت یہ ہے کہ وہ واقعات و مناظر کے پسِ پردہ حقائق و معارف کی تصویر دیکھ لیتے ہیں۔ وہ ہر واقعہ سے اخلاقی نتیجہ اخذ کرتے ہیں۔ دعوت و تبلیغ ان کی شخصیت اور فن دونوں کے اجزائے لاینفک ہیں۔ ملاحظہ ہو صرف ایک اقتباس :
’’جس سرزمین پر امریکہ کھڑا ہے اُس سرزمین کا حق ہے کہ یہاں ایسی قوم بستی جو سرزمین کے پیدا کرنے والے کا شکر ادا کرتے کرتے اپنی عمر گزار دیتی اور اس کا حق ادا نہ ہوتا، اس کے پھل کھاتی، اس کا پانی پیتی، اس کے سبزے پر لوٹتی اور گیت گاتی۔ لیکن اس زمین کی نعمتوں میں پلنے والی قوم سب سے زیادہ کفرانِ نعمت کرتی ہے۔ کھاتی ہے لیکن شکر ادا نہیں کرتی، پیتی ہے لیکن احسان نہیں مانتی، پاؤں پھیلاتی ہے لیکن سر نہیں جھکاتی، مستی کی نیند سوتی ہے کبھی روتی نہیں۔‘‘ (اِک دیس ایک بدیسی، صفحہ:۵)
کلیم عاجزؔ کی نثری تحریروں میں بے شمار افراد کے مرقعے ہیں، یہ مرقعے یا خاکے ایسے خوبصورت و متحرک ہیں کہ ہم کتابوں کے اوراق میں ان سے ملاقات کا لطف حاصل کرتے ہیں۔ ماسٹر ترپاٹھی ہوں، ماسٹر نظام الدین بلخی، اوسیوا خالہ، غلام سرور اور سہیلؔ عظیم آبادی ہوں یا زارؔ عظیم آبادی، حبیب الرحمن خاں شیروانی ہوں یا بنگالی پوسٹ ماسٹر۔ غرض بے شمار چھوٹے بڑے افراد اپنی منفرد شخصیت اور امتیازی خد و خال کے ساتھ کلیم عاجزؔ کی تحریروں میں مسکراتے ہیں۔ ان کی خود نوشتیں اور سفر نامے کہنے کو کلیم عاجزؔ کی خود نوشتیں اور سفرنامے ہیں لیکن ان میں خود کلیم عاجزؔ کا ذکر کم بہت کم ہے۔ کلیم عاجزؔ کے چاہنے والوں، اُن سے محبت کرنے والوں، ان کی شخصیت کی تعمیر و تشکیل میں حصہ لینے والوں، ان کے جذبات و احساسات کی دنیا کو آباد رکھنے والوں کا ذکر بہت زیادہ ہے۔ انسانوں سے ایسی محبت، ان کے لیے دل میں اتنی جگہ، ان کی ایک ایک ادا سے ایسی الفت اور ان کے منہ سے نکلے ہوئے ایک ایک لفظ کو اس طرح اپنے حافظے میں محفوظ رکھنے کی خواہش اور انھیں حافظے کے تہہ خانہ سے نکال کر صفحۂ قرطاس پر سجا دینے کا ایسا جذبہ بہت کم فن کاروں اور صرف بڑے فن کاروں اور قلم کاروں میں پایا جاتا ہے۔ کلیم عاجزؔ کو ان کا یہی جذبہ ان کو بڑا فن کار اور بڑا نثر نگار بناتا ہے۔
کلیم عاجزؔ کی نثری تصانیف اردو کے صاحبِ طرز انشا پردازوں میں انھیں معزز و ممتاز مقام پر فائز کرتی ہے۔ وہ ہماری بہترین اور صالح ادبی روایات کے امین اور تہذیبی وراثتوں کے وارث تھے۔ انھوں نے ہماری نثری ادب کے صحت مند اور خوبصورت اجزا و عناصر کو جذب کرکے اپنا منفرد اسلوب نکالا تھا۔ ان کی شاعری کی طرح ان کی نثری تحریریں بھی ہمارے ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں جن کے مطالعے سے آنے والی نسلیں استفادہ اور اکتسابِ فیض کرتی رہیں گی۔


  • بحوالہ ’’وہ جو شاعری کا سبب ہوا‘‘، طوبیٰ پبلی کیشنز، حیدرآباد، ۱۹۹۶ء، ص: ۸۶۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں