77

کلدیپ نیر:یادیں، باتیں، ملاقاتیں


محمد عارف اقبال
7717734597
تصور میں تجھے ذوقِ ہم آغوشی نے بھینچا تھا
بہاریں کٹ گئی ہیں آج تک پہلو مہکتا ہے
اُن دنوں ہم بچے آپس میں اپنی پسندیدہ شخصیات کا انتخاب کرتے اور ایک دوسرے کی پسندیدگی پربرتری ثابت کرنے کی جی توڑ کوشش کرتے، فرصت کے اوقات میںیہی مشغلہ محبوب ہوتا ، مختلف شعبوں سے ایک ایک نمایاں شخصیات کا تذکرہ اور ان کی کارگردگی پر بحث و مباحثہ۔بچپن میں میری پسندیدہ شخصیات کچھ اس طرح ہوا کرتیں تھیں:کھیل کی دنیا سے سچن تندولکر،برائن لارا،وسیم اکرم اور بریٹ لی، موسیقی میں محمدرفیع، لتا منگیشکراور ادت نارائن، اداکاری میں امیتابھ بچن،عامر خان اور جانی لیور، سیاست دانوں میں لالوپرساداور اٹل بہاری واجپائی ،شاعروں میں بشیر بدر اور منور رانا، خطیبوں میں حضرت مولاناقاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ ،حضرت مولانا طاہر حسین گیاوی اورحضرت مولاناسید ابو اختر قاسمی یہ حضرات ہمارے ہیرو ہوا کرتے تھے۔
جب لکھنے پڑھنے سے رغبت ہوئی، کتب و اخبار مطالعے میں آئے، تو ایک نام تسلسل سے جو کم و بیش ہر اخبار کے اداراتی صفحہ کی زینت ہوتا ،بے لاگ، بے خوف اور نکیلی تحریر ،جن کا طرۂ امیتاز تھا ، انھیں مسلسل پڑھنے اور سمجھنے کے بعد میری لسٹ میں ایک اور ہیرو کا اضافہ ہوا، نام تھا’’ کلدیپ نیر‘‘۔
مذکورہ باتیں شعور کے ابتدائی زمانے کی ہیں، رفتہ رفتہ شعور بالیدہ ہوتا گیا، پسندیدگی میں تبدیلی آتی گئی ، مگر کلدیپ نیر صاحب کا نام ذہن و دماغ پر نقش رہا،آج بھی ہے اور ہمیشہ رہے گا، وہ میرے ہیروکل تھے، آج ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں جب جرنلزم کا طالب علم ہوا،تو اساتذہ کو کلدیپ نیر صاحب کانام بڑے ادب واحترام سے لیتے ہوئے سنا،طلبہ بھی ان کی صحافتی زندگی کے دلچسپ قصے ایک دوسرے سے شیئر کرتے،آہستہ آہستہ کلدیپ صاحب کو دیکھنے کی خواہش انگڑائیاں لینے لگی،اب یہ ہماری صحافتی زندگی کے آئیڈیل تھے،صل زندگی میں جو ہیرو ہوتے ہیں،مداح کی ان تک رسائی بڑی دشوار ہوتی ہے، انہیں صرف ٹیلی ویژن اور اخبارات کی سرخیوں میں دیکھ کر ہی صبر کرناپڑتا ہے ؛لہٰذاکلدیپ صاحب کے تعلق سے بھی یہ بات ذہن میں رہی کہ شاید ان سے کبھی ملنے کا موقع نہ ملے ۔
وقت آگے بڑھتا رہا،مگر کلدیپ صاحب سے ملاقات کا خیال دماغ سے نہیں گیا،موقع بموقع لوگوں سے کلدیپ صاحب کے تعلق سے پوچھتا رہااور ان سے ملنے کی صورت دریافت کرتا رہا، احباب بھی ان سے ملنا آسان نہیں کہہ کر ٹال دیتے،تلاش وجستجوآخر ایک دن رنگ لائی ، ان کا نمبر حاصل ہوا،بلاجھجھک فون گھما یا، ہیلو کرنے کے بعدکانوں سے ایک بھاری بھرکم آواز ٹکرائی، دعا سلام کرنے کے بعد کہا ، سر ! میں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں صحافت کا طالب علم ہوں ، آپ سے ملاقات کی خواہش رکھتا ہوں ، انہوں نے بغیر لام قاف کیے مشفقانہ انداز میں کہا: کل میرے غریب خانے پر شام چھ بجے آ جائیں۔ ملاقات کا وقت ملتے ہی کھل اٹھا، اتنا معلوم کر لیا تھا کہ کلدیپ صاحب وقت کے بہت پابند ہیں ؛ لہٰذا چھ بجتے ہی ان کے گھر میں داخل ہو گیا، ملازم نے ان کے آفس میں لے جاکر بٹھا یا، آفس کیا ایک لائبریری تھی، کچھ دیر میں چائے ناشتہ لیے ملازم حاضر ہوا اور کہا :صاحب آ رہے ہیں،آپ چائے پی لیں۔ لائبریری میں موجود کلدیپ صاحب کی رکھی ہوئی ایک ایک چیزغور سے دیکھنے لگا۔ نہرو جی ، شاستری جی کے ساتھ ان کی تصویر، ان کے مطالعے میں رہنے والی کتابیں، صحافتی خدمات کے اعتراف میں ملنے والا اعزاز ۔چائے کی چسکی کے ساتھ ان تمام چیزوں کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتا رہا کہ اس لائبریری میں ایک پورا عہد سمایا ہوا ہے۔ اتنی دیر میں آہستہ آہستہ قدموں کی آواز آنے لگی اور لاٹھی کے سہارے کلدیپ صاحب داخل ہوئے۔ میں فوراَ اٹھ کھڑا ہوا ، ایک تناور درخت کی طرح کلدیپ صاحب میرے سامنے کھڑے تھے ،میں نے فوراًآداب کہا، وہ بھی اپنی بھاری بارعب آواز میں جواب دیتے ہوئے کرسی پر بیٹھ گئے،کلدیپ صاحب کو سامنے پا کرذہن و دماغ میں یہ شعر گونجنے لگا :
آنے والی نسلیں تم پر فخر کریں گی ہمعصرو!
جب بھی ان کو دھیان آئے گا تم نے فراق کو دیکھا ہے
کلدیپ صاحب میرے سامنے موجودتھے، پر کشش شخصیت، آنکھوں پر موٹا گول چشمہ،سفید کرتا پاجامہ اور اس پر کالی بندی اور سر پر مخملی ٹوپی۔اس وقت کسی صحافی سے ملنے ،انہیں قریب سے دیکھنے اور بات کرنے کو ہم طالب علم بڑا اعزاز سمجھتے تھے ، پھر کلدیپ صاحب کا شمار تو ہندوپاک کے عظیم صحافیوں میں تھا؛اس لیے نگاہ جمائے کلدیپ صاحب ، ان کی ایک ایک ادا اوران کے چہرے پر نمایاں ہونے والے نقوش کو دیکھتا رہا۔
’’ ہا ں جی، بتائیں مجھ سے کیوں ملنا چاہتے تھے اور کہاں سے آئیں ہیں؟‘‘۔
ان کی بات کا میں صرف اتنا ہی جواب دے سکا :
’’ بس آپ کو دیکھنے کی خواہش یہاں کھینچ لائی ‘‘ ۔
اتنا سنتے ہی وہ کھل کھلا کر ہنسنے لگے، کہا:
’’ مجھ میں ایسا کیا ہے جو دیکھنے چلے آئے؟‘‘
میں نے کہا:
’’ آپ میرے بچپن کے ہیرو ہیں‘‘۔
انہوں نے تجسس سے پوچھا :
’’ وہ کیسے؟‘‘
جواب میں پوری روداد سنائی۔ اب کلدیپ صاحب بڑی خوش دلی اور انہماک سے بات کر رہے تھے، ایساقطعی محسوس نہیں ہواکہ کچھ دنوں قبل تک جس شخص سے ملاقات کے خواب دیکھا کرتا تھا، وہ سامنے ہے، بالکل سادہ دل انسان، نہ آواز میں ہیبت، نہ گفتگو میں تصنع، نہ اخلاق میں پستی اورنہ چھوٹوں پر شفقت و اکرام میں بخالت۔ پھرانہوں نے جامعہ ملیہ کی تعلیمی سرگرمیوں کے بارے میں پوچھا اور اس سے جڑی اپنی یادیں بتانے لگے۔ انہوں نے کہا :مجھے بیحد خوشی ہوتی ہے جب نئی نسل اور نوعمرسے ملتا ہوں اور ان کے افکار وخیالات سے آگاہ ہوتا ہوں، وہ جدیدیت کے قائل تھے اور کہتے تھے کہ اتنی ساری سہولیات ہم لوگوں کے زمانے میں نہیں تھی، آپ لو گ جدید ٹیکنالوجی سے خوب فائدہ اٹھائیں۔ پھر موجودہ حالات پر بھی باتیں کیں اور سیاست میں ہو رہے اٹھا پٹک پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ تقریبا سوا گھنٹے کی وہ پہلی ملاقات میرے حافظے میں کسی فلم کی طرح قیدہے، شروع ہوتے ہی اس کے سارے مناظر رقص کرنے لگتے ہیں۔ چلتے وقت بہت سارا دعا وپیار دیتے ہوئے کہا : آتے رہنا۔
اس کے بعد مسلسل کلدیپ صاحب کے رابطے میں رہا، ہر دو تین ماہ پر بلا جھجھک ان سے ملاقات کرنے ان کی رہائش گاہ پر چلا جاتا اور فیض پا کر واپس آتا، وہ بھی بہت خوش ہوتے۔اس پہلی ملاقات میں ہی وہ دل کو بھا گئے تھے، جتنا ان کے بارے میں سنا تھا، ا س سے کہیں زیادہ نرم دل، عاجزی وانکساری اور عزیزوں سے شفقت و محبت کرنے والا پایا۔وہ استاذ الاساتذہ تھے، دنیائے صحافت میں کئی نسلوں کی انہوں نے آبیاری کی، جو آج شہرت کے مقام پرہیں۔ میں ان کے سامنے موجودہ نسل کا سب سے چھوٹا طالب علم تھا، جب اتنے عظیم صحافی کی محبت و شفقت ملے ،تو کیوں نہ اپنی قسمت پر رشک کروں،کیوں نہ ان کی محبت کا دم بھروں، اس وقت میرے دل میں بس یہی خیال تھا کہ مجھے بھی ان کی طرح غیر جانب دارصحافی بننا ہے، ان کے جیسا بے باک لکھنا ہے، ان کے نقش قدم پر چل کر صحافت میں نام اونچا کرنا ہے۔
2018ء میں نیوز پورٹل شروع کرنے کا جب خیال آیا، تو سب سے پہلے ان سے ہی مشورہ کرنے ان کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے پوچھانام کیا سوچا ہے؟ جواب دیا:’’دی نیشن‘‘۔ سنتے ہی حامی بھر دی ، کہا اس سے بہتر اوراچھا نام نہیں ہو سکتا۔ اسی نام کو رکھو،اس نام سے تمہاری قومی محبت بھی جھلکتی ہے اور اس سے جڑنے والوں کے اندر قومی خدمت کا بھی جذبہ پیدا ہوگا۔ میں نے اور بھی کئی نام پیش کیے، مگر انہوں نے ’’ دی نیشن ‘‘ رکھنے کا ہی مشورہ دیا۔ تجویز کردہ نام قبول کرتے ہوئے کام شروع کردیا۔ 21جنوری 2018ء کو نیوز پورٹل لانچ کرنے کا وقت قریب آیا ،تو پروگرام کی صدارت کی پیشکش کی، جسے ضعف و نقاہت کے باوجود انہوں نے بخوشی قبول کرلیا اورکچھ ضروری ہدایات اور مفید مشورے دیے اور کہا: میری طبیعت اچھی رہی ،تو میں تمہارے پروگرام میں ضرور شرکت کروں گا۔ مگراس دن سخت علالت اور کمزوری کی وجہ سے وہ پروگرام میں شریک نہیں ہو سکے، تاہم انہو ں نے پروگرام کی تفصیلات فون پر معلوم کی اور کامیابی پر مبارک با د پیش کی۔ اگلے دن ہی ان کی عیادت کے لئے حاضر ہوا اور ان کے اعزاز میں پیش کیا جانے والا مومنٹو انہیں پیش کیا۔ وہ بہت خوش ہوئے اور سر پر ہاتھ رکھ کر ڈھیر ساری دعائیں دیں۔پھر ویب سائٹ کھول کر دکھانے کو کہااور اس کے مشمولات دیکھے ۔ میری خواہش پر از راہِ محبت انہوں نے دوبارہ سے بٹن دبا کر’’ دی نیشن‘‘ کی رونمائی کی اور اس آغاز کو ایک مبارک قدم سے تعبیر کیا۔کلدیپ صاحب’’دی نیشن‘‘ کو پابندی سے اپنی نگارشات بھجتے تھے۔
کلدیپ نیر صاحب ہندوپاک کے درمیان امن و محبت کے سب سے بڑے سفیر تھے،دونوں ملکوں کے درمیان عوامی رشتوں کو مضبوط کرنا ان کا سب سے بڑا مشن تھا، انہوں نے ہمیشہ اس بات کی امید جگائے رکھی کہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک نہ ایک دن رشتے بہتر ہوں گے۔ ہر سال14/15 آگست کی شب واگہہ بارڈر پر امن کا دیپ جلا کر ایک نئی صبح کا پیغام دیتے ۔ وہ جتنے ہندوستان میں مقبول تھے، اتنا ہی پاکستان کے عوام ان سے پیار کرتے تھے، ان کے پاس بیٹھیے، تو دونوں ملکوں کے بے شمار قصے سناتے اور گم ہوجاتے ۔
کلدیپ نیر صاحب بیک وقت کئی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ وہ بے باک صحافی، سیاست داں،سماجی کارکن ،شاعر، مصنف،سفارتکار اور جمہوریت کے سب سے مضبوط محافظ تھے۔ اردو نوازتو تھے ہی ، کھلے دل کے انسان بھی تھے۔ ان کے مزاج میں پیچ و خم نہیں تھا،لوگوں سے خوش دلی سے ملتے ، ان کا یہ مقولہ مشہور تھا’’ میں نے صحافت کا آغاز ہی انجام سے کیا ہے‘‘۔ صاف ستھری بات پر توجہ دیتے ، لایعنی باتوں کی طرف نہیں دیکھتے، اپنی بات پورے وثوق اور بے باکانہ انداز میں رکھتے۔ حقیقی معنوں میں وہ صحافت کی آبرو اور باخبرصحافی تھے۔ کسی کی پرواہ کئے بغیرکانٹے بھر ے سفر میں پوری ایمانداری سے چلتے رہے ، نہ کبھی کسی کے سامنے جھکے اور نہ رکے، جو دیکھا ، بلا خوف لکھا،جبین پر کسی طرح کا نہ کوئی افسوس، نہ کسی چیز کی فکر، زندگی میں آپ نے بہت کچھ پایا ، مگر کسی کے مرہونِ منت نہیں رہے؛ بلکہ اپنی جدوجہد اور ایماندارانہ وصف کی بنیاد پرحاصل کیا؛ اس لیے موجودہ نسل کے صحافیوں کے لیے وہ ایک آئیڈیل تھے۔ بات ہی بات میں ایک بار میں نے عرض کیا : سر! آپ تو سبھی کے آئیڈیل ہیں، اس پیشے میں پوری زندگی آپ سیکولرزم کا سبق دیتے رہے،امن و بھائی چارے کی بات کرتے رہے، دو ملکوں کی سرحدی کھائی کو پاٹنے کی کوشش کرتے رہے۔ صحافت کے اصول و ضوابط کو تا عمر باقی رکھا۔ موجودہ دور میں کون ایسا صحافی ہے، جو آج کے اس پر آشوب اور دہشت زدہ ماحول میں اس وراثت کو آگے بڑھاتا دکھائی دے رہا ہے؟انہوں نے پلک جھپکتے ہی ’’رویش کمار‘‘ کا نام لیا ، پھر کچھ دیر سوچ کر ایک دو اور صحافیوں کا نام لیا۔ جس عظیم اور ایماندارانہ پیشے کو کلدیپ صاحب تا عمر سینچتے رہے ،آج کچھ ضمیر فروش میڈیا ہاوسز اور نفع پسندصحافیوں نے اسے داغدار کر دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں